28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا وہ (لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن انکی مدد نہیں کی جائے گی

41۔ وجعلنا ھم ائمہ، ان کے پیشوا اور رئیس، یدعون الی النار ویوم القیامۃ لاینصرون، ، ان سے عذاب کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور وہ قیامت کے روز بھی بدحالوں میں ہوں گے

42۔ واتبعنا ھم فی ھذہ الدنیا لعنہ، رسوائی اور عذاب۔ ویوم القیامۃ من المقبوحین، ملعونین سے دور، ، ابوعبیدہ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے ہلاکت والے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انکے چہرے کالے ہوں گے آنکھیں ان کی نیلی ہوں گی ، عرب کہتے ہیں کہ قبحہ اللہ ، اللہ نے اس کی صورت بگاڑ دی اور ہر بھلائی سے اگر کسی کو دور کردیا گیا اور عرب کہتے ہیں کہ ، قبحہ، قبحا، وقبوحا، جب وہ ہر بھلائی سے اور خیر سے دور ہو۔
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور ہم نے پہلی امتوں کے ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

43۔ ولقد اتیناموسی الکتاب من مااھلکناالقرون الاولی، ، اس سے مراد قوم نوح ، قوم عاد، قوم ثمود اور اس کے علاوہ جو موسیٰ سے پہلے آئیں۔ بصائر للناس، تاکہ وہ اس کتاب کو دیکھیں اور اس سے ہدایت حاصل کریں۔ وھدی ، گمراہی سے ہدایت جو اس پر عمل کرے۔ ورحمہ، جو اس پر عمل کرے گا، اور اس پر ایمان لائے گا۔ لعلھم یتذکرون، ، جو کچھ اس میں نصائح ہیں ان پر خوب غور و فکر کر۔
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور جب تم نے موسیٰ کی طرف حکم بھیجا تو تم (طور کی) غرب کی طرف نہیں تھے اور نہ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں تھے

44۔ وماکنت، اے محمد، ، بجانب الغربی، مغرب کی جانب پہاڑ، یہی قتادہ اور سدی کا قول ہے۔ کلبی کا بیان ہے غرب کی جانب وادی میں ، ابن عباس کا بیان ہے کہ اس سے مراد موسیٰ کا اپنے رب سے مناجات کرنا ہے، اذقضیناالی موسیٰ الامر، یعنی ہم نے ان کی طرف عہد کیا اور ہم نے انکوفرعون کی طرف رسالت کا پیغام دے کر بھیجا اور اس کی قوم کی طرف۔ وماکنت من الشاھدین۔
Ayah 28:45

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم نے (موسی کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی اور نہ تم مدین کے رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

45۔ ولکناانشاء نا، قرونا، ، ہم نے موسیٰ کے بعد امم کو پیدا کیا۔ فتطاول علیھم العمر، اس پر بہت طویل ہوگئی، اللہ تعالیٰ کے عہد کو بھول گئے اور اس کو پورا کرنے سے ہٹ گئے۔ وماکنت ثاویا ، اور وہ قیام کرنے والے نہیں تھے۔ فی اھل مدین ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ملک میں تھے کہ وہاں آپ ہماری آیات کو پڑھ پڑھ کر سنا رہے تھے۔ تتلوا علیھم آیاتنا، تمہیں وعد اور وعید یاد دلاتے تھے۔ مقاتل نے کہا کہ تم اہل مدین میں موجود نہ تھے کہ ان کی خبر اہل مکہ کو پڑھا کر سنا رہے ہو۔ ” ولکنا کنامرسلین، ، ہم نے آپ کی طرف رسول بناکربھیجا اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جس میں پہلی قوموں کی خبریں موجود تھیں تو آپ ان پر پڑھیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو تم ان کے واقعات ان لوگون کونہ سناسکتے۔
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور نہ تم اس وقت جبکہ ہم نے (موسی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

تفسیر۔ 46۔ وماکنت بجانب الطور، ،، اور نہ ہی آپ اس وقت کوہ طور پر موجود تھے ۔ کہ آپ نے ان کا کلام سنا ہے۔ اذ نادیناہ ، کہا گیا ہے کہ جب ان کو آواز دی کہ کتاب کو مضبوطی سے تھام لو ، وہب کا بیان ہے کہ موسیٰ نے کہا اے میرے رب ، مجھے محمد ﷺ کا دیدار کرادے۔ اگر تم چاہو تو میں ان کی امت کو پکاروں اور ان کی آواز تم کوسنادوں، موسیٰ نے کہابہت خوب، اللہ نے فرمایا، اے امت محمد ! امت محمد والوں نے اپنے باپون کی پشت میں لبیک کہا۔ ابوزرعہ ، عمرو بن جریر کا قول ہے کہ اللہ نے ندادی، اے امت محمد، اس کے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اور مانگنے سے پہلے تم کودے دیا۔ حضرتابن عباس ؓ عنہمانے کہا کہ اللہ نے فرمایا، امت محمد، لوگوں نے باپوں کی پشتوں میں اور ماؤں کے رحموں سے جواب دیا ، لبیک اللھم لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک لک لاشریک لک، ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے امت محمد، میری رحمت میرے غضب سے اور میری معافی میرے عذاب سے آگے ہے۔ میں نے مانگنے سے پہلے تم کودے دیا، اور دعا کرنے سے پہلے تمہاری دعا قبول کرلی اور گناہ کرنے سے پہلے تمہاری مغفرت کردی جو شخص قیامت کے دن یہ گواہی لے کر آئے گا، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد میرے بندے ہیں اور رسول ہیں۔ اور وہ جنت میں داخل ہوجائے گا خواہ اس کے گناہ سمندر کے جھاگوں سے بھی زیادہ ہوں۔ ولکن رحمۃ من ربک، ، لیکن ہم نے تمہارے اوپر رحمت کی، تجھے اپنا محبوب بندہ بناکر اور تجھ پر وحی بھیج کر اور تجھ پر ماقبل انبیاء کی خبریں نازل کرکے۔ لتنذر قوما مااتاھم من نذیر من قبلک، ، اس سے مراد اہل مکہ ہیں۔ لعلھم یتذکرون، ،۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ہم نے تم کو اس لئے بھیجا ہے کہ) ایسا نہ ہو کہ اگر ان (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت واقع ہو تو یہ کہنے لگیں کہ اے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں ہوتے ؟

47۔ ولولاان تصیبھم مصیبۃ، ، یعنی عذاب اور سزا، بماقدمت ایدیھم ، کفر اور نافرمانی کے بسبب، فیقولوا ربنالولا، ، بمعنی ھلا کے ہے۔ ارسلت الینا رسوال فنتبع آیاتک ونکون من المومنین، جواب لولامحذوف ہے۔ ای لعاجلنا بالعقوبۃ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ بدکاری کی وجہ سے نازل ہونے والی مصیبت کے وقت یہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا گیا کہ ہم ایمان لاتے اور احکام کا اتباع کرتے توہم کوئی پیغمبر نہ بھیجتے ۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے آپ کی طرف رسول نہ بھیجے ہوتے توپھرتم عذاخواہی کرتے لیکن پھر ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجے تاکہ ان پیغمبروں کی بعثت کے بعد لوگوں کو کفر و معصیت کا کوئی عذر پیش کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہنے لگے کہ جیسی (نشانیاں) موسیٰ کو ملیں تھیں ویسی اس کو کیوں نہیں ملیں ؟ کیا جو (نشانیاں) پہلے موسیٰ کو دی گئی تھیں انہوں نے ان سے کفر نہیں کیا ؟ کہنے لگے کہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق اور بولے کہ ہم سب سے منکر ہیں

48۔ فلماجاء ھم الحق، ، من عندنا، ، یعنی محمد ﷺ ، قالوا، کفار مکہ کہنے لگے، لولا، بمعنی ھلا کے ہے۔ اوتی، محمد کو کیوں نہیں دیے گئے، مثل مااوتی، جس طرح حضرت موسیٰ کویدبیضا، اور عصا کا معجزہ دیا گیا، اسی طرح محمد ﷺ کو معجزات کیوں نہ دیے گئے اور کفار مکہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک ہی بار کتاب عطا کی گئی اسی طرح آپ پر ایک بار کیوں نازل نہیں کی گئی۔ اولم یکفروا، بمااوتی موسیٰ من قبل، ،، انہوں نے حضرت موسیٰ کے معجزات کا انکار کیا تھا جس طرح آپ کے معجزات کا انکار کررہے ہیں ، قالواسحران تظاھرا، ، اہل کوفہ نے (سحران) پڑھا ہے۔ اس سے مراد توریت اور قرآن لیا ہے۔ تظاھرا، یعنی محمد اور موسیٰ دونوں متفق ہوگئے ہیں۔ ایک کی کتاب دوسرے کی کتاب کی تائید کررہی ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ نے مکہ والوں کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے مدینہ کے علماء یہود کے پاس کچھ آدمی بھیجے۔ تاکہ وہ آپ کے صدق اور کذب ہونے کو پہچان سکیں۔ یہودیوں نے بتایا کہ پیغمبرآخرالزمان یعنی محمد ﷺ کے اوصاف توریت میں موجود ہیں، قاصدوں نے واپس آکرم کہ والوں سے یہودیوں کا جواب نقل کردیا، لیکن انہوں نے اس جواب کو بھی نہیں مانا، اور جو کتاب موسیٰ کو دی گئی تھی اس کا بھی انکار کردیا اور کہنے لگے ، سحران تظاھرا، ، اور دوسرے قراء نے ساحران، پڑھا ہے۔ اس سے مراد حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ دونوں ہیں۔ وقالوا انابکل کافرون، ،،
Ayah 28:49

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم خدا کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں (کتابوں) سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں

49۔ قل، ،، کہہ دیجئے اے محمد، فاتواب کتاب من عنداللہ ھواھدی منھما، ، یعنی توریت، اور قرآن، اتبعہ ان کنتم صادقین۔
Ayah 28:50

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ؟ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

50۔ فان لم یستجیبوا لک، ،، آپ جوان سے ایسی کتاب پیش کرنے کی کہہ رہی ہیں وہ یہ کتاب ہرگز نہیں لاسکتے۔ فاعلم انما یتبعون اھواء ھم ، ومن اضل، ،، ،، ،، تا۔۔۔۔۔۔۔ القو م الظالمین۔
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم پے درپے ان لوگوں کے پاس (ہدایت کی) باتیں بھیجتے رہے ہیں تاکہ نصیحت پکڑیں

آیت ولقد وصلنالھم القول کی تفسیر۔ 51۔ ولقد وصلنا لھم القول، ،، ابن عباس نے وصلنا ، کا ترجمہ ، بینا ، سے کیا ہے، ہم نے اس کو کھول کر بیان کردیا، یعنی بعض آیات دوسری آیت کے مضمون کو کھول کر بیان کرنے والی ہیں۔ فراء نے کہا کہ یعنی ہم نے قران کی آیات یکے بعد دیگرے اتاریں، قتادہ نے کہا کہ اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے باربار بیان کیا ہے کہ گزشتہ لوگوں سے کیا سلوک کیا گیا، مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ ہم نے کفار مکہ کے لیے قرآن میں گزشتہ امتوں کے واقعات بیان کیے اور بتادیا کہ تکذیب وکفر کی وجہ سے ان پر کی سے عذاب آئے گا، ابن زید نے کہا کہ ہم نے خبر دنیا کے ساتھ خبر آخرت کو ملا لیا، اس قدر کہ گویا انہوں نے دنیا میں آخرت کا معائنہ کرلیا، لعلھم یتذکرون۔
Ayah 28:52

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں

آیت کا شان نزول۔ 52۔ الذین اتیناھم الکتاب من قبلہ، ،، یعنی محمد ﷺ سے پہلے ، بعض نے کہا کہ قرآن سے پہلے۔ ھم بہ یومنون، ، یہ آیت اہل کتاب کے مومنوں پر نازل ہوئی، اس سے مراد عبداللہ بن سلام اور اس کے ساتھی ہیں۔ مقاتل کا بیان ہے کہ بلکہ اس سے اہل انجیل مراد ہیں جو حبشہ سے آئے تھے، اور آپ پر ایمان لائے۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ حبشہ ہجرت کرکے آنے والے چالیس افراد تھے۔ وہ جعفر کے ساتھ حبشہ سے آپ کے پاس آئے تو انہوں نے مسلمانوں کی حالت زار دیکھی تو کہنے لگے کہ آپ ہمیں اجازت دیں ہم انکواپنامال لاکر مسلمانوں کی مالی ہمدردی کریں۔ آپ ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ وہ اپنامال لے کر آگئے اور ان کودے دیا، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ الذین اتیناھم الکتاب، ، سے لے کر، ممارزقناھم ینفقون، ، تک ۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ یہ آیت اسی (80) اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئی ۔ بیس نجران تھے، بتیس حبشی اور آٹھ شامی تھے۔ اس کے بعداللہ تعالیٰ نے مومنین کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔
Ayah 28:53

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب (قرآن) انکو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک ہمارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے (اور) ہم تو اس سے پہلے کے حکم بردار ہیں

53۔ واذایتلی علیھم، ،، اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے قالوا امنا بہ انہ الحق من ربنا، یہ اس وجہ سے تھا کہ نبی کریم کی صفات توریت اور انجیل میں موجود تھیں، اناکنا من قبلہ مسلمین، ، قرآن سے پہلے بھی مخلصین مومنین تھے کہ اللہ کا ایک ہونا اور محمد کا سچا پیغمبر ہونا برحق ہونے پر ایمان رکھتے تھے۔
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

تفسیر۔ دوہرا اجر ملنے والے افراد۔ 54۔ اولئک یوتون اجرھم مرتین، ، پہلے نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لائے اور قران پر بھی ایمان لائے۔ بماصبروا، ، اپنے دین پر ثابت قدمی کے ساتھ رہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ آیات اہل کتاب کے ان افراد کے بارے میں نازل ہوئیں جو ایمان لائے پھر ان کو اذیت دی گئی۔ حضرت ابوموسی اشعری سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، تین اشخاص وہ ہیں جن کو دہرا اجر دیاجاتا ہے ، ایک وہ شخص جس کے پاس باندی ہو تو اس کی تادیب کرے اور اچھی تادیب سکھائے پھر اس کو آزاد کرکے اس کی شادی کروادے۔ دوسرا وہ شخص جو اہل کتاب میں ہو، وہ اپنے نبی کی کتاب پر بھی ایمان لایاہو، اور پھر محمد پر بھی ایمان لایا ہوں، تیسرا وہ غلام جس نے اللہ کی خوب عبادت کی اور اپنے آقا کو نصائح بھی کیے ، اس کا کہنا بھی مانا۔ ویدرون بالحسنۃ السیہ، ابن عباس نے فرمایا لاالہ الا اللہ کی شہادت دے کر شرک کو دفع کرتے ہیں۔ مقاتل کا بیان ہے کہ مشرکوں کی طرف سے گالیاں اور برابھلا سن کر عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔ وممارزقنھم ینفقون، اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں خرچ کرتے ہیں۔
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب بےہودہ باتیں سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال تم کو سلام ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں

55۔ واذاسمعواللغو، ، اس سے مراد بےہودہ بات ہے۔ اعرضواعنہ، مشرکین مومنین اہل کتاب کو گالیاں دیتے ہیں اور کہتے تھے کہ تم مرد کہ تم نے اپنامذہب چھوڑ دیا، مومن ان سے منہ پھیرلیتے، ان کو کوئی جواب نہیں دیتے تھے، وقالوالنابل کہ اس سے سلام متارکہ مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم گالیاں نہیں دیں گے برا نہیں کہیں گے تم کو جواب نہیں دیں گے۔ لانبتغی الجاھلین، ، یعنی ہم جاہلوں کے دین کو نہیں چاہتے، جس دین پر تم ہو اس دین کو ہم پسند نہیں کرتے۔ بعض حضرات نے کہا کہ ہم جاہلوں کے ساتھ نہیں رہناچاہتے، یہ مسلمانوں کو قتال کرنے سے پہلے کا حکم تھا۔
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

(اے محمد) تم جس کو دوست رکھتے ہو اسے ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے

56۔ انک لاتھدی من احببت، جس کو ہدایت یاب کرنا آپ پسند کریں جن کی قرابت داری کی وجہ سے آپ کو محبت ہو۔ ولکن اللہ یھدی من یشاء وھواعلم بالمھتدین، ، مجاہد اور مقاتل کا بیان ہے یعنی ان لوگوں کو اللہ خوب جانتا ہے جن کے لیے ہدایت مقرر کردی گئی، یہ آیت ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی ، ان کو نبی کریم نے فرمایا کہ آپ لاالہ الا اللہ کہہ دیں تاکہ میں قیامت کے دن آپ کے لیے گواہی دے سکوں، ابوطالب نے کہا اگر قریش مجھے عار نہ دلاتے کہ کہیں خوف سے ابوطالب نے کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھ ٹھنڈی کردی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اچک لئے جائیں کیا ہم نے ان کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے ؟ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

57۔ وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا، ، اس سے ارض مکہ ہے۔ یہ حارث بن عثمان بن نوفل عبدمناف ک بارے میں نازل ہوئی۔ یہ اس وجہ سے حارث نے کہا کہ نبی کریم جو کچھ بھی لائے ہیں ہم جانتے ہیں وہ جو کچھ آپ لائے ہیں یہ حق ہے لیکن اگر ہم آپ کے کہنے پرچلیں گے توہم کو اندیشہ ہے کہ عرب ہم کو مکہ کی سرزمین سے نکال دیں گے ، نتخطف من ارضنا، کا یہی مطلب ہے۔ اختطاف ، جلدی سے چھیننا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اولم نمکن لھم حرما امنا، دور جاہلیت میں عرب باہم قتل و غارت کیا کرتے تھے، لوٹ مار کا عام دستور تھا، کسی جگہ امن نہ تھا، لیکن مکہ والے حرمت کی وجہ سے امن وچین سے رہتے تھے۔ مشہور بات ہے کہ ہرن بھیڑیوں سے اور کبوتر شکاری چیلوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ حرم کے اندر کوئی جانور بھی کسی جانور کا شکار نہیں کرتا۔ یجبی ، قراء اہل مدینہ اور یعقوب نے ، تجیی، تاء کے ساتھ پڑھا ہے کثرت پھلوں کی وجہ سے۔ دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ الیہ کہاجاتا ہے ، جیت الماء فی الحوض ای جمعتہ، کہ پانی کھینچا گیا حوض میں یہاں تک کہ اس میں جمع ہوگیا، اس کو حرم کے لیے لادا جاتا ہے۔ ثمرات کل شی رزقا من لدنا ولکن اکثرھم لایعلمون، ، جو وہ کہتے ہیں وہ حق ہے۔
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنی (فراخی) معیشیت میں اترا رہے تھے سو یہ ان کے مکانات ہیں جو انکے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم اور ان کے پیچھے ہم ہی ان کے وارث ہوئے

تفسیر۔ 58۔ وکم اھلکنا من قریہ، اس بستی والوں کو، بطرت معیشتھا، ان کی معیشت میں عطا کا قول ہے کہ ان کو خوب عیش و عشرت حاصل ہوئی اللہ کا رزق کھایا اور بتوں کی پوجا کی۔ فتلک مساکنھم لم تسکن من یعدھم الاقلیلا، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا ان کھنڈروں میں ایک دن یا ایک گھنٹہ کے لیے مسافر اور راہ گیر ٹھہرے اور کوئی ان میں نہ رہا، بعض نے کہا کہ کوئی شخص بھی سوائے تھوڑے سے لوگوں میں وہاں نہیں رہا اور یہ ان کے گناہوں کو نحوست کا نتیجہ ان میں رہا، وکنا نحن الوارثین، یہ آیت اس آیت کی طرح ہے ، انانحن نرث الارض ومن علیھا، ،
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک ان کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو انکو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں

59۔ وماکان ربک مھلک القری، ،، کافروں کی بستی اور اس کے رہنے والے۔ حتی یبعث فی امھا رسولا، یعنی ان کی بستی بڑی تھی اور بڑے پیغمبر تھے اس کو اعظم اس لیے کہا کیونکہ اس میں نبی کو مبعوث کیا گیا چون کہ انبیاء کرام بھی اشراف لوگوں کی طرف بھیجے جاتے ہیں اور اشراف لوگا ی سے ہی شہروں میں سکونت اختیار کرتے ہیں اور سردار لوگ عام طور پر بڑے شہروں میں ہی رہتے ہیں اور مرکزی مکانات ہی ان کے مکان ہوتے ہیں۔ یتلواعلیھم ایاتنا، مقاتل اور محمد بن کعب قرظی کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت حمزہ اور ابوجہل یا حضرت علی یا ابوجہل کے حق میں ہوا۔ بعض نے کہا کہ حضرت عمار اور ولید بن مغیرہ کے متعلق اس کا نزول ہوا۔ وماکنا مھل کی القری الاواھلھا، ظالمون، ظالم سے مراد مشرکین ہیں انکوان کے ظلم کے بسبب ہلاک کردیا گیا۔
Ayah 28:60

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو چیز تم کو دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے کیا تم سمجھتے نہیں ؟

60۔ ومااوتیتم من شئی فمتاع الحیوۃ الدنیا وزینتھا، ، یعنی دنیاوی سامان ہے جس کو تم برتتے ہو، اور دنیاوی سجاوٹ ہے جس سے زندگی بھرزینت حاصل کرتے ہو۔ وماعنداللہ خیر وابقی افلاتعقلون، ، جو باقی رہنے والا ہے وہ فنا ہونے والے سے بہتر ہے ، عام قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابوعمرو تاء اور یاء کے درمیان اختیار دیتے ہیں۔
Ayah 28:61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اس نے اسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص کا سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا ؟ پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہو جو (ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے

61۔ افمن وعدناہ وعداحسنا، ،، اس سے مراد جنت ہے۔ فھولاقیہ، وہ مصیبت کے مطابق اس کو پائے گا، کمن متعناہ متاع الحیوۃ الدنیا، ، اور وہ عنقریب زائل ہونے والا ہے۔ ثم ھوا یوم القیامۃ من المحضرین، ، اس سے مراد آگ ہے قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد مومن اور کافر ہے، مجاہد کا قول ہے کہ اس کا نزول نبی کریم کے حق میں اور ابوجہل کے حق میں ہوا۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول حمزہ اور ابوجہل کے متعلق ہوا۔ سدی کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول عمار اور ولید بن مغیرہ کے بارے میں ہوا۔
Ayah 28:62

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس روز خدا انکو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تم کو دعوی تھا ؟

62۔ ویوم ینادیھم فقول این شرکاء ی الذی کنتم تزعمون۔ دنیا میں کہ وہ ان کے شریک ہیں۔
Ayah 28:63

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

تو جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا (اور) جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح انکو گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہو کر) ان سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے

63۔ قال الذین حق علیھم القول، ، ان پر عذاب واجب ہوچکا اور وہ گمراہوں کے سردار ہیں۔ ربناھوالاء الذین اغوینا، یعنی ان کو ہم غنی کی طرف بلائیں گے۔ اور وہ ان کے تابع داروں میں سے ہوں گے۔ اغویناھم کماغوینا، ، یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکادیا تھا، کماغوینا جس طرح ہم بہک گئے تھے خو د اپنے اختیار سے گمراہی میں پڑگئے تھے۔ تبراناالیک ، وہ ان میں سے ، ماکانوا ایانا یعبدون، ، وہ اس وقت بعض بعض سے برات اختیار کریں گے اور وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے ، الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدو، ،۔
Ayah 28:64

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ تو وہ انکو پکاریں گے اور وہ ان کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے

64۔ وقیل ، کفار کے لیے کہا، ادعوکم شرکاء کم ، وہ بتوں کو پکاریں گے تاکہ ان کو عذاب سے چھٹکارا حاصل کرائیں، فدعوھم فلم یستجیبوالھم، وہ ان کو جواب نہیں دیں گے۔ وراوالعذاب ، لوانھم کانوایھتدون، ، جواب، لومحذوف ہے۔ تقدیری عبارت یوں ہوگی، لوانھم کانوایھتدون، ، فی الدنیا ماراو العذاب، ، یعنی اگر یہ لوگ آپ کا دنیا میں ہدایت دے سکتے تو اس وقت وہ عذب کونہ دیکھتے۔
Ayahs 28:65–66

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس روز (خدا) ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا ؟

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

تو وہ اس روز خبروں سے اندھے ہوجائیں گے اور آپس میں کچھ بھی نہ پوچھ سکیں گے

66۔ فعمیت ، جواب دینے میں وہ اندھوں کی طرح ہوجائیں۔ علیھم الانبیائ، ، اس سے مراد اخبار اور ان مشرکین و کفار کا ایمان نہ لانے کے اعذار، ، مجاہد نے کہا کہ ان کے پاس دلائل نہیں ہوں گے مطلب یہ کہ وہ کچھ بھی نہ کرسکیں گے اور نہ کوئی دلیل پیش کرسکیں گے کیونہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔ یومئذ، اس دن ان کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا، اور نہ ہی کوئی دلیل، فھم لایتساء لون، ، ان کو جواب نہیں دیں گے ، قتادہ کا بیان ہے کہ وہ دلائل نہیں دے سکیں گے۔ بعض نے کہا کہ وہ خاموش رہیں گے اور وہ ایک دوسرے سے سوال نہیں کرسکیں گے۔
Ayah 28:67

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

لیکن جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کیے تو امید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں ہو

67۔ فاما من تاب وامن وعمل صالحا، فعسی ان یکون من المفلحین، ،، نیک بخت، نجات یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے۔
Ayah 28:68

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ کرلیتا ہے انکو اس کا اختیار نہیں ہے یہ جو شرک کرتے ہیں خدا اس سے پاک و بالاتر ہے

68۔ وربک یخلق مایشاء ویختار، ، یہ آیت مشرکین کے جواب میں نازل ہوئی ، جب انہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ قرآن دوبستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل کیوں نہیں ہوا، یعنی ولید بن مغیرہ، پر یاعروہ بن مسعود ثقفی، پر اس پر اللہ نے ان کو جواب دیا کہ تمہارے اختیار سے اللہ تعالیٰ رسول نہیں بھیجتے۔ ماکان لھم الخیرہ، ، بعض نے کہا کہ مااثبات کے لیے ہے اس کا معنی یہ ہے کہ بندوں کے لیے جس چیز میں بہتری ہوتی ہے اللہ اس کو اختیار کرتا ہے۔ بعض نے کہا کہ مانفی کے لیے ہے، یعنی ان پر اختیار نہیں یا ان کو اللہ تعالیٰ پر کوئی اختیار نہیں یہ لوگ جو چاہیں کروائیں جیسا کہ ارشاد باری ہے ، وماکان لمومن ولامومنہ، اذاقضی اللہ رسولہ امنا، ان یکون لھم الخیر، ، خیرہ اسم ہے اختیار سے ، اور یہ مصدر کے قائم مقام ہے۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے ، محمد، خیرۃ اللہ من خلقہ، ، اللہ کی مخلوق میں اللہ کی طرف سے برگزیدہ کیے ہوئے محمد ﷺ ہیں پھر اپنی ذات کو ان سب چیزوں سے پاک کیا، اور ارشاد فرمایا، سبحان اللہ وتعالی عمایشرکون، ،،۔
Ayah 28:69

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور ان کے سینے جو کچھ مخفی کرتے ہیں اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار اس کو جانتا ہے

تفسیر۔ 69۔ وربک یعلم ماتکن صدورھم ومایعلنون، ، وہ ظاہر ہیں۔
Ayah 28:70

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور اسی کا حکم اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

70۔ وھواللہ لاالہ الاھو، ،، ، مومن دنیا میں بھی اس کی حمد کرتے ہیں اور آخرت میں بھی کریں گے۔ ولہ الحکم، ، مخلوقات کے درمیان وہ فیصلہ کرنے والا ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اہل طاعت کے لیے اس کا حکم مغفرت اور گناہ گاروں کے لیے فیصلہ بدبختی نافذ ہے۔ والیہ ترجعون۔۔
Ayah 28:71

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات (کی تاریکی) کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے جو تم کو روشنی لادے ؟ تو کیا تم سنتے نہیں

71۔ قل ارایتم، ،، اے اہل مکہ خبردیں۔ ان جعل اللہ علیکم اللیل سرمدا، ، ہمیشہ، الی یوم القیامہ، قیامت تک سورج نہیں نکلے گا، دن نہ آے بلکہ رات ہی رات آئے، من الہ غیر اللہ یاتیکم بضیائ، ، کون ہے جو روشنی کو واپس لاسکے جس میں وہ اپنی معیشت روزگار تلاش کریں، افلاتسمعون، ، ایساسننا جو اس کے لیے سننا اور قبول کرنا بھی ہو۔
Ayah 28:72

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

کہو تو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ روز قیامت تک دن کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے کہ تم کو رات لادے جس میں تم آرام کرو ؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

72۔ قل ارایتم ، خبر دیجئے ، اے اہل مکہ، ان جعل اللہ علیکم النھار سرمدا الی یوم القیامۃ، ان کے پاس قیامت کے دن کوئی دلیل نہیں ہوگی، من الہ غیر اللہ یاتیکم بلیل تسکنون فیہ افلاتبصرون، ، تم خطا پر ہی ہو تمہیں کچھ بھی سمجھ نہیں آتی۔
Ayah 28:73

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور (اس میں) اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

73۔ ومن رحمتہ، جعل الکم الیل والنھار لتسکنوافیہ، رات میں ، ولتبتغوا من فضلہ، اور دن میں اپنافضل تلاش کرو، ولعلکم تشکرون، ،،۔
Ayah 28:74

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک جن کا تمہیں دعوی تھا کہاں گئے ؟

74۔ ویوم ینادیھم فقول این شرکاء الذین کنتم تزعمون، ، یہاں پر مشرکین کو بار بار ندا کی گئی۔ ان کی توبیخ ارتفریع کے لیے۔
Ayah 28:75

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر ایک امت میں سے گواہ نکالیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا کی ہے اور جو وہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا

75۔ ونزعنا، ہم نکال کرلائیں گے۔ من کل امۃ شھیدا، ، ہر امت سے ایک ایک گواہ یعنی پیغبر جو ان کے خلاف شہادت دیں گے، فقلناھاتوا برھانکم، تمہارے لیے کوئی دلیل کہ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں توپھرتم کیوں شریک کرتے تھے اگر ہے دلیل تو پیش کرو، فعلموا ان الحق، ، توحید حق ہے۔ للہ وضل عنھم ماکانوایفترون، دنیا میں ۔
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدی کرتا تھا اور ہم نے اسکو اتنے خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا

تفسیر۔ قارون کا مختصر تعارف۔ 76۔ ان قارون کان من قوم موسی، ، قارون حضرت موسیٰ کے چچا کا بیٹا تھا، حضرت موسیٰ کے باپ کا نام عمران تھا اور قارون کے باپ کا نام یصہر تھا، عمران ویصہر دونوں قاہت بن لاوی بن یعقوب کے بیٹے تھے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچ اور عمران کا بھائی تھا اور قارون و عمران دونوں یصہر بن قاہت کے بیٹے تھے اور بنی اسرائیل میں کوئی بھی قارون سے زیادہ توریت کا قاری نہ تھا، مگر سامری کی طرح یہ بھی منافق ہوگیا۔ فبغی علیھم ، بعض نے کہا کہ یہ فرعون کی طرف قوم بنی اسرائیل پر عامل تھا اور وہ ان پر سرکشی اور ظلم کرتا تھا، قتادہ کا بیان ہے کہ یہ کثر مال کی وجہ سے ان پر ظلم کرتا تھا، ضحاک کا بیان ہے کہ قارون نے شرک کرکے قوم کے خلاف بغاوت کی۔ شھر بن حوشب کا بیان ہے کہ غرورتکبر کا مظاہرہ کرنے ک لیے قارون نے اپنے کپڑوں کی لمبائی (دوسرے لوگوں کے مقابلے) میں ایک بالشت لمبی رکھی تھی۔ حضرت ابن عمر راوی ہیں، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، جو شخص اپنا تکبر کپڑاکو کھینچ کر چلتا ہے اللہ اس کی طرف نظر نہیں کرے گا، بعض نے کہا کہ اس سے سرکشی تکبر کیا بلندی کے باعث، واتیناہ من الکنوز ما ان مفاتحہہ، یہ مفتح کی جمع ہے یہ وہ ہے جس کے ذریعے سے دروزہ کھولاجاتا ہے ، یہ قول قتادہ اور مجاہد کا اور ایک جماعت کا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کے خزانوں کی کنجیاں مراد ہیں۔ جیسا کہ کہا گیا وعندہ مفاتیح الغیب، ، اس کے خزانے، لتوء بالعصبۃ اولی القوۃ، ان کے ثقل کے باعث اور اس کی طرف مائل ہونے کے سبب، ابوعبیدہ کا قول ہے کہ یہ آیت میں ترکیب مقلوب ہے۔ اصل عبارت یوں تھی، ان العصبۃ لتنوء لھا، جیسا کہ عرب کہتے ہیں ، فاء فلان بکذا، ، فلاں شخص اس بھاری بوجھ لے کراٹھا۔ عصبہ کی تعیین میں مختلف اقوال۔ عصبہ کی عددی تعیین میں علماء کے مختلف اقوال ہیں ، مجاہد کا قول ہے کہ دس سے پندرہ تک کی جماعت کو عصبہ کہتے ہیں، ضحاک کا قول ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول بیان کیا کہ تین سے دس تک عصبہ ہوتا ہے اور قتادہ کا قول ہے کہ دس سے چالیس تک کی جماعت عصبہ ہے۔ اور بعض نے کہا کہ چالیس افراد پر اس کا اطلاق ہوتا ہے بعض نے ستر افراد تک مراد لیے ہیں۔ قارون کے خزانے کی کنجیاں اٹھانے والے۔ حضرتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس کی کنجیاں چالیس قوی ترین آدمی اٹھایا کرتے تھے۔ جریر بن منصور خیثمہ کا قول ہے کہ خیثمہ نے کہا کہ میں نے انجیل میں دیکھا تھا کہ قارون کے خزانوں کی کنجیاں سات خچروں کا بوجھ ہوتی تھیں کوئی کنجی ایک انگلی سے بری نہ تھی، اور ہر کنجی ایک خزانے کی تھی۔ یہ بھی کہاجاتا ہے قارون جہاں بھی جاتا تھا اپنے خزانوں کی کنجیاں اپنے ساتھ اٹھا کرلے جاتا تھا اور وہ کنجیاں لوہے کی تھیں۔ جب زیادہ بوجھ ہونے لگا تو اس نے لکڑی کی کنجیابنوالیں، پھر ان کنجیوں کا بار بھی زیادہ ہونے لگاتوگائے کی چمڑے کی کنجیاں ایک ایک انگلی کے برابر تیار کرلیں۔ یہ کنجیاں بھی بھاری ہوگئیں تو اس کے ساتھ چالیس خچروں پر لاد کرجاتی تھیں۔ اذقال لہ قومہ، ، قارون نے ان کی قوم بنی اسرائیل سے کہا، لاتفرح، نہ اتنااکڑ اور نہ ہی اتنا پھول اور نہ ہی اتنا تکبر کر۔ ان الہ لایحب الفرحین، جو دنیا کی پرفریب لذتوں سے خوش ہوتے ہیں اور غرور تکبر کرتے ہیں اور اللہ کا شکرادا نہیں کرتے اللہ ان کو پسند نہیں کرتا۔
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت (کی بھلائی) طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو اور ملک میں طالب فساد نہ ہو کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

77۔ وابتغ فیمااتاک اللہ الدارالاخرہ، ، اللہ نے جو دنیاوی نعمتیں تجھے عطا فرمائی ہیں ان خدادا نعمتوں کا شکر کرو، اور ان کو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے راستے میں خرچ کرو۔ ولاتنس نصیبک من الدنیا، مجاہد اور ابن زید کا قول ہے کہ دنیا کے اندر آخرت کے لیے اعمال کرنے کو مت چھوڑنا تاکہ تم آخرت کے عذاب سے بچ جاؤ، انسان کو دنیا مین کچھ حصہ اس لیے ملا کہ وہ آخرت کے لیے عمل کرے۔ سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد خیرات دینا کنبہ پروری کرنا ۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا اپنی صحت، قوت جوانی اور مال داری کو آخر ت کے حصول کے لیے صرف کرنے کو ترک نہ کرو۔ عمرو بن میمون ازدی سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو، اپنی زندگی کو مرنے سے پہلے اپنی صحت کو بیماری سے پہلے اپنی فرصت کو مشغولیت سے پہلے، اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے اور اپنی مال داری کو افلاس سے پہلے۔ حسن کا قول ہے کہ حکم دیا گیا تھا کہ ضرورت سے زائد چیز ہے اس کو راہ خدا میں پیش کردے اور بقدر کفالت روک لے۔ واحسن کمااحسن اللہ الیک، اللہ کی اطاعت اچھی طرح کر جی سے کہ اس نے تیرے اوپر اچھی نعمت کی۔ بعض نے کہا کہ اسکا معنی یہ ہے کہ تم لوگوں کے ساتھ اچھائی کرو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ اچھائی کی۔ ولاتبغ ، اور نہ تلاش کر، الفساد فی الارض، جس نے اللہ کی نافرمانی کی وہ زمین کا فاسد ہوا اور فساد طلب کرنے والاہوا۔ ان اللہ لایحب المفسدین ۔
Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی امتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی تھیں ؟ اور گنہگاروں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا

تفسیر۔ 78۔ قال، ، قارون نے کہا، انما اوتیتہ علی علم عندی، ، قارون نے اپنی قوم والوں کی طرف سے تردیدی جواب دیا کہ یہ جو مجھے ملا ہے یہ میرے علم وفضل کی وجہ سے ملا ہے۔ یعنی مجھے بھی ایسے ہی مال ملا ہے جیسے تمہیں مال ملا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ نے میرے ساتھ کوئی احسان نہیں کیا، مجھے اس کا استحقاق تھا، اس کی کوئی مہربانی نہیں، بعض علماء نے کہا کہ علم سے مراد ہے کیمیاگری۔ سعید بن المسیب کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ کیمیابناناجانتے تھے۔ آپ نے علم کیمیا کا ایک حصہ یوشع بن نون کو سکھادیا اور ایک تہائی حصہ کالب بن یوقنا کو اور ایک تہائی قارون کو، قارون نے یوشع اور کالب کو فریب دے کر وہ حصہ بھی معلوم کرلیا، جو انہوں نے سیکھا تھا، اس طرح پوراعلم کیمیا اس کو حاصل ہوگیا۔ اس کی مالداری کا یہی گر تھا بعض کہا کہ قارون نے جو علم کا لفظ بولا تھا، اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ میں تجارت کے گرجانتا ہوں ، کاشتکاری کے فن سے خوب ماہر ہوں اور کمائی کے دوسرے راستے مجھے معلوم ہیں۔ ” اولم یعلم ان اللہ قداھلک من قبلہ من القرون، کافر قوموں کو ہلاک کردیا، من ھو اشد منہ قوۃ اکثر جمعا، ،، اس سے مراد اموال ہیں ولایسئل عن ذنوبھم المجرمون، ، قتادہ کا قول ہے کہ ان کو دوزخ میں بغیر حساب کے اور بغیر سوال کے داخل کیا جائے گا، مجاہد کا قول ہے کہ ان سے فرشتے سوال نہیں کریں گے کیونکہ وہ ان کی علامات سے پہچانتے ہوں گے ، حسن کا قول ہے کہ دریافت حال اور تحقیق کے لیے ان سے نہیں پوچھا جائے گا بل کہ توبیخ اور زجر کی غرض سے باز پرس کی جائے گی۔
Ayah 28:79

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال و متاع) قارون کو ملا ہے کاش (ایسا ہی) ہمیں بھی ملے وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے

79۔ فخرج علی قومہ فی زینتہ، ،، ابراہیم نخعی نے کہا کہ قارون اور اس کی قوم والے سبز اور سرخ لباس پہن کرنکلے ۔ ابن زید نے کہا کہ قارون سترہزار آدمیوں کو جوزعفرانی لباسوں میں تھے ، ساتھ لے کرنکلا۔ مجاہد کا قول ہے کہ قاروں اپنے ساتھیوں کو جو زعفرانی لباسوں اور سفید خچروں پر سوار تھے جن پر ارغوانی رنگ کی زینیں کسی ہوئی تھیں ساتھ لے کرنکلا، مقاتل کا بیان ہے کہ قارون سفید خچر پر نکلا چار ہزار سوار تھے اور اسن سواروں کے گھوڑے ارغوانی تھے تین سوباندیاں بھی سفید خچروں پر ساتھ سوار تھیں، باندیاں گوری گوری، زیور اور سرخ لباس سے آراستہ ، تھیں، قال الذین یریدون الحیوۃ الدنیا یلیت لنا، ،، ،، عظیم، ، یعنی قارون کے مال کی طرح ہم کو بھی دولت مل جاتی وہ لوگ اس بات کی خواہش رکھتے تھے۔
Ayah 28:80

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں کو ہی ملے گا

80۔ وقال الذین اوتوالعلم، ، ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے بنی اسرائیلیوں کے بڑے بڑے علماء مراد ہیں مقاتل کا بیان ہے کہ اوتوالعلم سے مراد وہ ہے جس کا وعدہ اللہ نے آخرت میں کیا ہے وہ ان لوگوں کے سامنے یہ تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں بھی قارون کی طرح مال دیاجاتا جس طرح دنیا میں قارون کو دیا گیا، ویلکم ثواب اللہ خیر، اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو ثواب واجر پا گیا وہ خیر ہے۔ لمن امن ، اور اللہ کی توحید کو سچاجانا۔ وعمل صالحا، جتناقارون کو دنیا میں دیا گیا۔ ” ولایلقاھا ، الالصابرون۔ ،، مقاتل کا بیان ہے کہ ان کو نہیں عطا کیا گیا نیک اعمال کی توفیق ان کو نہیں دی گئی، کلبی نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ ان کو آخرت کے دن نہیں دیاجائے گا، بعض نے کہا کہ ان کو یہ کلمہ نہیں دیا گیا، اور وہ کلمہ یہ ہے کہ ، ویلکم ثواب اللہ خیرالالصابرون، ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اور دنیاوی زندگی کی زینت سے۔