8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 8:38–41

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

آپ کافروں سے فرما دیجئے اگر وہ باز آجائیں تو ان کے پہلے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور اگر پھر وہی (حرکات) کریں گے تو یقینا پہلے (کافروں) کے حق میں قانون نافذ ہوچکا

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور آپ ان سے اس حد تک لڑیں کہ فساد (عقیدہ وعمل) نہ رہے اور دین (خالص) سب اللہ ہی کا ہوجائے پھر اگر یہ باز آجائیں تو یقینا اللہ ان کے اعمال کو دیکھتے ہیں

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر یہ روگردانی کریں تو جان لو کہ اللہ تمہارے دوست ہیں (اور) کیا ہی اچھے دوست ہیں اور کیا ہی اچھے مدد دینے والے ہیں

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور جان لو کہ جو چیز بطور غنیمت تم کو حاصل ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کا ہے اور (اس کے) پیغمبر کا ہے اور قرابت داروں کے لئے اور یتیموں کے لئے اور مسکینوں کے لئے اور مسافروں کے لئے ہے اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر (حق و باطل میں) فرق کرنے کے دن نازل فرمایا جس دن کہ دونوں جماعتیں (مومن اور کفار) مقابل ہوئی تھیں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہیں

آیات 38 تا 41 اسرار و معارف مکر اللہ کے کرم کی تو انتہا نہیں آپ کفار سے بھی کہد دیجئے کہ اگر وہ اب بھی باز آجائیں تو جو ہوچکا اللہ کریم وہ معارف کردیں گے کافر اگر اللہ کا دین قبول کرلے تو سلام می داخل ہونا گذشتہ تمام جرائم کو مٹا دیتا ہے مگر اسلام کا داخلہ یہ ہے کہ کفر کو چھوڑ بھی دے یہ اسلام نہ ہوگا کہ کہہ دے آپ کی بات قبول کرتا ہوں اور پھر بتوں کو سجدے بھی کرتا رہے لہٰذا فرمایا کہ وہ باز آجائیں کفر اور اس کے کردارواعمال کو چھوڑدیں تو اگر کافربازآکر بچ سکتا ہے ۔ توبہ تو مومن کی توبہ تو بدرجہ اولی قبول ہوتی ہے مگر حقیقی تو بہ یہی ہے کہ کردار کی اصلاح کی جائے اور گناہ کو ترک کرکے اللہ سے مغفرت طلب کی جائے لیکن اگر عملی زندگی یاکردار وہی سابقہ رہے تو پہلے لوگوں کو جو نتائج بھگتنے پڑے وہ قانون قدرت لی وضاحت کے لیے کافی ہیں اگر کفار اپنی عادات سے رکنے والے نہیں تو مومن کو بھی مقابلہ سے ہٹ جانا زیب نہیں دیتا بلکہ اگر وہ قتل و غارت سے دین حق اور دینداروں کو مٹاناچا ہیں تو مومنین بھی کے مقابل قتال جاری رکھیں تا وقت کہ انکی شوکت ٹوٹ جاتے اور اللہ کے دین کو غلبہ نصیب ہو۔ جہاد کا حکم علمائے تفسیر نے یہاں لکھا کہ جہاد ہمیشہ کے لیے فرض ہے اگر کفار قتال کریں ۔ یا مسلمانوں کو ایذادیں تو مقابلہ بھی قتال سے اور میدان میں ہوگا اسی طرح تحریر وتقریرہر میدان میں مومن پہ اللہ کے دین کی نصرت فرض ہے اور کفار سے مقابلہ ضروری اور ہر میدان میں اسلام کو غالب رکھنے کی کوشش مسلمانوں پہ ہمیشہ فرض ہے چہ جائیکہ یہ خود کفار سے مرعوب ہو کر شکل و صورت رہائش خوراک اور علمی وفکر ی میدان میں اسے اپنا لیں کہ جو محض کفار کی تقلید ہو تو یہ سب حرام ہے ہاں جدید علوم کو مسلمان معاشرے کے غلبہ کے لیے حاصل کرنا اور ہر میدان میں خواہ وہ تحقیق کا ہو یا اسلام کی مخالفت سے رک جائیں تو محض انہیں تنگ کرنا مسلمانوں کا نہ تو مقصد ہے نہ شیوئہ اسلام اور اگر وہ اس طرح کوئی منافقانہ روش اپنانا چاہتے ہیں تو اللہ کریم ان کے کردار سے واقف ہے یعنی انسان کو یا مسلمان کو تو دھوکادیاجا سکتا ہے مگر وہ اللہ کو دھوکا نہیں دے سکتے ۔ لہٰذا اگر وہ بظاہر امن کی کوشش کرتے رہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دے کر تباہ کرنا چاہیں اور اپنے صلح ناموں سے پھرجائیں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں کہ مسلمانوں کو یہ پختہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ ان کا مدد گار ہے اور ان کی مددوحفاظت کرنے والا ہے اور بہترین مددگار اور معاون اللہ ہی تو ہے اگر کفار سازشیں بھی کریں انکے پاس اسباب وغیرہ بھی ہوں بیشک ہوا کریں مسلمان اللہ کے بھروسے پر جس میدان میں قدم رکھیں گے اللہ کی مدد ساتھ ہوگی جو کامیابی کی ضمانت ہے۔
Ayahs 8:42–44

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

جب تم (میدان کے) ادھر والے کنارے پر تھے اور وہ لوگ (کفار ، میدان کے) ادھر والے کنارے پر تھے اور قافلے والے تم سے نیچے تھے اور اگر تم کوئی بات طے کرتے تو وقت مقررہ پر ضرور آگے پیچھے ہوجاتا و لیکن جو کام اللہ کو کرنا منظور تھا اس کو کر ہی ڈالے تاکہ جسے برباد ہونا ہے وہ واضح دلیل کے بعد برباد ہو اور جسے زندہ رہنا ہے (ہدایت پانا ہے) وہ بھی واضح دلیل سے (ہدایت پائے) اور بیشک اللہ خوب سننے والے ، جاننے والے ہیں

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

جب اللہ نے آپ کے خواب میں آپ کو وہ لوگ کم دکھلائے اور اگر اللہ آپ کو وہ زیادہ دکھا دیتے تو تم ہمت ہار دیتے اور کام میں باہم جھگڑنے لگتے۔ و لیکن اللہ نے (اس سے) تم کو بچا لیا یقینا وہ دلوں کی بات جانتے ہیں

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور اس وقت جب تم مقابل ہوئے تو ان (کافروں) کو تمہاری نظر میں تھوڑا کرکے دکھاتے تھے اور تمہیں ان کی نظروں میں تھوڑا کرکے دکھاتے تھے تاکہ اللہ کو جو کام کرنا منظور تھا اس کو کرڈالیں اور تمام کام اللہ کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں

آیات 42 تا 44 اسرار و معارف جب جہاد کے میدان کی بات ہوئی تو غنیمت کا مسئلہ ارشاد فرمادیا گیا غنیمت وہ مال ہوتا ہے جو فتح کے نتیجہ میں کفار سے ہاتھ آئے یہ تو فطری بات ہے کہ شکست کھانے والا لشکر مال ومنال بہت کچھ کھو بیٹھتا ہے ۔ اور فاتح اسے اپنا حق سمجھتے ہیں مگر انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام نے جب کبھی جہاد کیا اور کفار کا مال ہاتھ لگاتو اسے میدان میں جمع کردیا جاتا تھا آسمان سے آگ آتی شعلہ لپکتا اور وہ مال راکھ ہوجاتا یہ بات قبولیت جہاد اور خلوص کی دلیل بھی تھی اگر لوگوں نے جہاد کا حق ادانہ کیا ہوتا یا زیادتی کی ہوتی تو یہ مال جلانے آسمان سے آگ یا بجلی نہ آتی تھی غزوئہ بدروہ پہلا جہاد تھا جو باقاعدہ ایک فوج کی صورت میں امت مرحومہ نے اللہ پاک کی اجازت سے کیا اور اس میں بیشمار فضیلتوں کے ساتھ یہ خصوصیت بھی آپ ﷺ کو عطاہوئی کہ مال غنیمت جلائے جلائے جانے کی بجائے مجاہدین پر حلال کردیا گیا وہ کیسے تقسیم ہوگا تو فرمایا سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مال غنیمت خالص اللہ کی طرف سے بطور انعام عطا ہوا ہے آپ ﷺ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے یوں تو ساری کاتنات اسی کی ہے مگر کچھ عارضی قوانین ملکیت اسی کے رانج کردہ ہیں کوئی چھوٹی ہو یا بڑی چیز تو اس کی تقسیم یوں ہوگی کہ پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے چار حصے مجاہدین پر تقسیم ہوں گے ۔ اور پانچواں حصہ خالص اللہ کے لیے پھر اللہ کے رسول کے لیے اور ان کے قرابت داروں کے لیے یتیم ، مساکین اور مسافروں کے لیے ہوں گے یعنی مال خاص اللہ کا ہوگا جس میں سے خرچ کرنا یہ اللہ کے رسول کا کام ہے اپنی ضرورت پر اپنے اقارب کی ضرورت پر یا یتیموں مساکین اور مسافروں پر منسرین کرام کے مطابق رب جلیل نے غنیمت کے مال سے پانچواں حصہ اپنے نام یعنی بیت المال میں لیکر اس کی تقسیم رسو ل اللہ ﷺ کی صوابدید پر چھوڑدی اور مصارف مقررفرمادیئے کہ ان قسموں کے اندر اسے اللہ کی راہ میں یعنی ریاست کی ضرورت پر خود نبی کریم کے ذاتی مصارف یا آپ کے اقربا کی ضروریات پر چونکہ زکوۃ کے مال سے نبی رحمت اور آپ کے اقارب کو منع فرمادیا گیا اس لیے کہ اس مال کو اوساخ الناس یعنی میل کچیل کہا گیا ہے جو شان نبوت اور آپ کے اقربا کی شان کے لائق نہ تھا اس کے مقابل غنیمت کو اطیب الا موال سب سے پاکیزہ مال فرمایا کہ براہ راست ذات باری سے نصیب ہوتا ہے تو اس میں ان ضروریات کو مقدم رکھا نیز یتیم مساکین اور مسافر بھی مستحقین میں شمارفرمائے یہ ضروری نہیں کہ سب میں برابرتقسیم ہو یہ آپ کی عطاپر ہے کہ ان کی ضروریات ملا خطہ فرما کر جو عطافرمادیں اسی لیے حضرت فاطمہ ؓ نے جب ایک خادم کے لیے عرض کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اہل صفہ زیادہ ضرورتمند ہیں انہیں کی ضروریات پوری کی جائیں گی ان سے زیادہ اقارب میں کون تھا مگر آپ کی رائے عالی کا فیصلہ ہی اللہ کو پسند ہے اور یہ اختیار آپ کو بخشا ہے یاد رہے خمس مال غنیمت میں یعنی جو مال کفار سے جہاد کے ذریعے حاصل ہو اسمیں ہے شیعہ نے اسے تمام مال میں زکٰوۃ کا قائم مقام قرار دے کر غلط کیا ہے آپ کے بعد خلفاء راشد ین ضرورت مند ذوی القربی میں تقسیم فرمایا کرتے تھے بلکہ سیدنافاروق اعظم ؓ تو حضرت علی ؓ کو متولی بناکر ان سے تقسیم کرواتے تھے مگر اکثر ذوی القربی بھی باقی چارحصے جو مجاہدین میں تقسیم ہوتے تھے ان کی وجہ سے محتاج نہ رہے تھے بلکہ محتاج کیا بہت زیادہ امیر ہوگئے تھے ۔ فرمایا اگر تمہیں اللہ کے ساتھ ایمان نصیب ہے اور اس غیبی امداد پر جو اللہ کریم نے اپنے بندے پر اس دن اتاری تھی جو فیصلہ کا دن تھا یوم الفرقان جس نے حق و باطل میں ہر طرح سے فرق ظاہر کردیا کہ حق غالب رہا اور باطل نے منہ کی کھائی اور معرکہ بدر اس روز سے لیکر قیامت تک اعلائے کلمۃ اللہ کی بنیاد بن گیا اور یہی دن تھا جس سے دائمی ابدی حقیقی انقلاب کی بنیاد علی الا علان استوارہوئی اور انشاء اللہ ہمیشہ قائم رہے گی وہ فیصلے کا دن جب حق والے ایک طرف تھے اور باطل دوسری طرف تھا سرمیدان دونوں نے ارمان نکالے اور نصرت الہیہ کا پتہ چل گیا کہ اللہ کس کے ساتھ ہے یہ اتنا بڑا انقلاب تھا کہ صرف اللہ ہی کی مدد سے یہ ہوسکا کہ وہ ہرچیز پر قادر ہے جو چاہے کرسکتا ہے ورنہ محض مادی وسائل یا انسانی تدابیر سے یہ سب کچھ ہرگز ممکن نہ تھا مال غنیمت اسی کی عطا ہے گویا یہ سبق بھی ہے کہ اگر مال غنیمت میں کوئی بددیانتی کی گئی تو اللہ کی مدد سے محرومی کا خطرہ موجود ہے ۔ تائیدباری مال غنیمت اور خلاف راشدہ میں روئے زمین اور اقوام عالم کا مسخر ہوجانا تائیدباری کی واضح دلیل ہونے کے ساتھ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کی پسند کے مطابق خرچ فرماتے رہے ورنہ اللہ کی حمایت حاصل نہ کرسکتے ۔ شیعہ حضرات جو اہل بیت کے حقوق کا روناروتے ہیں یہ محض ان کی افسانہ تراشی ہے خود تو سارا اسلا م بدل کرنئے ارکان ایجاد کرلیے اور دوسری طرف مسلمان ہونے کا دعوی بھی ہے اور عتراض صحابہ ؓ پر کرتے ہیں بہرحال یہاں عزوئہ بدرکاپورانقشہ بیان فرمایا اور وہ معجزات جو بظاہرنظر نہیں آتے ارشاد فرما کر وہ بہت بڑا نتیجہ جو اس کا حاصل تھا ارشاد فرمادیا کہ جب تم لوگ یعنی مسلمان اس کنارے پر تھے اور مشرکین مکہ میدان کی پرلی طرف کے کنارے پ ر اور قافلہ تم لوگوں سے نیچے ہو کر تقریبا تین میل کے فاصلہ سے ساحل سمندر سے گذررہا تھا تو یہ صورت حال ایسی تھی کہ کوئی فوج بھی لڑنے کی پوزیشن میں نہ تھی مسلمان تعداد میں کم تھے اسلحہ نہ ہونے کے برابر کھانے کو کچھ نہیں میدان بدر کا جو حصہ مسلمانوں کے پاس تھا وہاں پانی بھی نہ تھا بلکہ دور تھا اور زمین بہت زیادہ ریتلی جس میں قدم اٹھا نا دشوار نیز قافلہ بھی بچ کر گذر گیا تو بظاہر کوئی صورت جنگ کرنے کی نہ تھی دوسری طرف مشرکین تعداد اسلحہ اور راشن وغیرہ کی کمی سے تو دوچار نہ تھے مگر جس قافلے کی مدد کو نکلے تھے وہ تو بچ کر گذر گیا اور انہیں اس کی خبر بھی گئی کس کس طرح ناکام ہوئیں شب ہجرت کیسے ذلیل ہوئے پھر راستے میں تلاش کرنے کی ساری کوشش کیسے نامرادی سے دوچار ہوئی تو اب انہیں یوں لڑنے کی ضرورت نہ تھی البتہ اگر واپس جاتے منصوبہ بندی کرتے تو بات اور ہوتی یہ سب صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی کہ اگر تم دونوں فریق وعدہ کرکے بھی آتے تو یہاں آکر ارادے بدل دیتے اور وعدئہ جنگ پورانہ کرتے کہ بظاہر کسی کو اپنا نفع نظر نہیں آرہا تھا ۔ الٹا ہلاکت کا خطرہ موجود۔ اللہ کریم جو کام کرنا چاہیں اس کے لیے اسباب مہیافرمادیتے ہیں لیکن اللہ کریم اس کام کو کرنا چاہتے تھے ایسی حالت میں کہ حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے لہٰذا مادی اسباب میں سے کوئی ایساسبب مسلمانوں کی طرف نہ ہو جس کو فتح کا باعث قراردیا جاسکے اور مادی اعتبار سے کوئی کمی لشکر کفار میں بھی نہ ہو جو شکست کا سبب قرار پائے بلکہ یہ واضح ہوجائے کہ فتح صرف اور صرف اللہ کی مدد اور تائیدغیبی کے باعث ہوئی جو آپ کی نبوت کی صداقت اور اسلام کے حق ہونے کی دلیل ہے اور راہل مکہ کو شکست صرف اللہ کے غضب اور ناراضگی کی وجہ سے ہوئی جو ان کے باطل پر ہونے کی دلیل ہے اور اہل مکہ ہلاک ہونا ہو یعنی گمراہ ہی رہنا ہو اسے بھی غلط فہمی نہ رہے ۔ واضح دلائل کے بعد اگر موت بھی قبول کرتا ہے تو اس کی اپنی پسند یہاں موت سے مراد کفر اور حیات درون یعنی قلب کی زندگی سے محرومی ہے اور قرآن حکیم نے متعدومقامات پر ایسی حالت کو موت ہی کہا ہے اور جسے زندگی نصیب ہو یا جو حیات کو پاناچا ہے تو اس کے پاس بھی دلیل ہو ۔ یہاں حیات اور زندگی سے مراد بی نور ایمان اور کیفیات قلب ہیں کہ جو پاناچا ہے اسے تلاش میں کوئی دشواری نہ ہو اہل حق ستاروں کی مانندروشن ہو کر سامنے آجائیں ۔ وار دنیا میں اہل اللہ کی مددکیلے بھی اسباب مہیاترک سبب درست نہیں اللہ کریم تو سب کی سنتے بھی ہیں کہ کوئی کیا مشورہ کررہا ہے یا کیا ارادے باندھتا ہے بلکہ جانتے ہیں کہ کس کے اندرون دل کیا جھپا ہے اس کے مطابق ہی نتائج پیدافرماتے ہیں ۔ اہل مکہ کا باطن بھی عیاں تھا اور مسلمانوں کے دلوں کی خواہشات بھی روشن چناچہ اہل حق کی مدد فرمائی اور ایسے اسباب پیدافرمادیئے کہ ان کی عظمت سارے عالم اسلام پہ واضح ہوجائے ۔ مثلا قافلے کی اطلاع ۔ مسلمانوں کا اسے روکنے کا فیصلہ پھر اس کی خبراہل مکہ کو ان کا اس کی حفاظت کے لیے نکلنا اور پھر قافلے کا بچانا اور دونوں لشکروں کو آمنے سامنے پہنچا دینا اور پھر آپ کو خواب میں کفار کی تعدادبہت کم کرکے دکھانا جس کی تعبیر آپ نے کفار کی ناکامی سے لی اور صحابہ ؓ بہت خوش ہوئے اور حوصلہ پایا کہ اگر آپ کفار کو شان و شوکت میں ملا خطہ فرماتے تو جب آپ خدام سے بیان فرماتے تو فطرتایہ بات ایسی تھی کہ جہاد اور مقابلے پہ اتفاق نہ ہوپاتا بلکہ کچھ لوگ جوش میں کہتے کہ لڑنا چاہیئے کچھ ہوش استعمال کرتے کہ لڑنامناسب نہیں اس طرح اختلاف کمزوری کا باعث بنتا۔ اہل اللہ میں بھی فطرت انسانی کے تقاضے بدستورہوتے ہیں لیکن اللہ نے آپ کے خواب مبارک کو ہی اس سب خطرے سے سلامتی کا سبب بنادیا اور مسلمانوں کو ایسی آزمائش سے بچالیا اس لیے کہ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے ۔ تہ دل میں جو خلوص تھا اس کو قبول فرمایا اور ایسے اسباب پیدافرمائے کہ مسلمانوں کو ابتل اسے سلامتی نصیب ہوئی ۔ اس سے ثابت ہوا کہ اہل اللہ کوئی مافوق الفطرت لوگ نہیں ہوتے ۔ ان کے احساسات وجذبات بھی بالکل انسانی جذبات ہی ہوتے ہیں ہاں اللہ کریم کبھی اسباب کو ان کے مزاج کے مطابق بنادیتے ہیں یا پھر انہیں قوت برداشت عطا کردیتے ہیں اور کبھی دونوں صورتیں مہیا فرمادیتے ہیں جیسے یہاں میدان بدر میں دونوں صورتیں عطافرمادیں اور یہ انعام خلوص قلبی پہ مرتب ہوتے ہیں۔ آپ کے خواب کے بعد سب دونوں لشکر آمنے سامنے تھے تو پھر یہ اہتمام فرمایا کہ مسلمانوں کو کفار کی تعداد کم کرکے دکھائی حتی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں میں نے اپنے ساتھی ہے کہا کہ اہل مکہ کی تعداد 90 ہوگی تو اس نے کہاغالبا 100 سوہونگے حالانکہ ان کی تعدادایک ہزار تھی اسی طرح تمہاری تعدا اگر چہ کفار کے مقابلہ میں بہت کم تھی مگر پھر مزید کم کرکے کفار کو دکھائی گئی جیسا کہ روایت میں ہے کہ ابو جہل نے مسلمانوں کو دیکھ کر کہا کہ اتنے آدمی ہونگے جن کی خوراک ایک اونٹ ہو اور عرب ایک اونٹ سو آدمی کی خوراک شمار کرتے تھے ۔ اللہ کریم کی قدرت دیکھئے بغیر کسی سبب کے سب کچھ کرسکتا ہے مگر کتنے اسباب مہیافرمانے فرشتوں کا نزول مقابل لانے کے اسباب میدان میں اترنے کے اسباب گویا سنت اللہ ہے کہ عالم اسباب میں ترک سبب بلاضرورت شرعی نہ لیا جائے ۔ اللہ نے یہ سب اسباب اس لیے جمع فرمادیئے کہ اللہ جو کرنا چاہتے ہیں یعنی اسلام اور مسلمانوں کا عنداللہ محبوب ہونا اور کفار اور صحابہ ؓ کے مخالفین کا اللہ کے غضب کی زد میں ہونا ان امور کی وضاحت کردی جائے کہ تا قیامت اہل حق اس فریق کے نقوش کف پا اپنا لیں جو حق پر تھے اور تباہ ہونے والے یہ نہ کہہ سکیں کہ بظاہر کوئی دلیل نظر نہیں آئی اور سب چیزوں اور تمام امور کو اللہ کی بارگاہ میں ہی لوٹ کرجانا ہے یعنی چیزیں ہوں یا اسباب و کیفیات سب اسی کے ارادے اور اسی کے حکم کے تابع ہیں ۔
Ayahs 8:45–48

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے (بہت زیادہ) کرو تاکہ تم کامیاب رہو

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے پیغمبروں کی فرمانبرداری کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ کم ہمت ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر سے کام لو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے مشابہ مت ہونا جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھاوے کے لئے نکلے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور جو اعمال یہ کرتے ہیں اللہ ان کا احاطہ کیے ہوئے ہیں

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور جب شیطان نے ان (کفار) کو ان کے اعمال خوشنما کرکے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہ آئے گا اور میں یقینا تمہارے ساتھ ہوں پھر جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں تو الٹے پاؤں بھگا اور کہا بیشک میرا تم سے کوئی تعلق نہیں بیشک میں ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے بیشک میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت سزا دینے والے ہیں

آیات 45 تا 48 اسرار و معارف جنگ اور جہاد اسلام نے جنگ کو بھی جہاد میں بدل دیا اور ایک بالکل نیا فلسفہ عطا فرمایا جنگ تو اقوام عالم میں پہلے سے عام تھی اسلام نے اس میں ایک بہت بڑی تبدیلی یہ کردی کہ جنگ میں مخالف کو تباہ کرنا اس کی طاقت کو ختم کرنا اور اسے ذلیل ورسوا کرنا لوٹ مار آگ لگا دنیا وغیرہ سب امور ہوتے تھے ۔ اسلام نے جہاد کا لفظ دیا جو جہد یعنی کوشش اور محنت سے بنا ہے اور جہاد سے مرادمخالف کی اصلاح اور اس کی بھی بہتری چاہتا ہے ۔ اسی لیے آپ اسلامی افواج کو دی گئی ہدایات کا مطالعہ کریں تو یہ ملے گا کہ کسی نہتے آدمی پر تلوارنہ اٹھائی جائے فصل خراب نہ کئے جائیں درخت نہ کاٹے جائیں عبادت خانوں اور عابدوں کو نہ چھیڑاجائے ۔ مخالف اسلام قبول کرلے تو تمام اسلامی حقوق فورا دیئے جائیں یا اللہ کی عظمت قبول کرکے جزیہ اداکرے تو اپنے ہذہب پر امن سے رہ سکتا ہے یعنی محض کسی قوم ملک یافرد کو نیچادکھانایا اس کا ماں اور ملک چھین لینا تو جنگ تھی اور اسی کی بہتری کے لیے یا اس کے شر سے اللہ کے بندوں اور اس کے دین کو بچانے کے لیے ضروری حدتک تلوار چلانا جہاد کہ لایا وریہ ایک عظیم عبادت قرار پایا ۔ نیز یہ ایسی ضرورت ہے کہ جس کے بارے یہ کہنا کہ اب جہاد منسوخ ہوگیا خود جہاد سے ناواقفیت کی دلیل ہے ۔ یہاں جہاد کے قواعد ارشاد ہو رہے ہیں کہ اگر کسی جماعت سے مقابلہ آجائے بغیرلڑائی کے کوئی چارہ نہ ہو تو میدان میں اترنے کے بعد جم جاؤاور ثابت قدم رہو۔ یہ وہ بات ہے جو ہر قوم اپنے جنگی دستوں سے کہتی ہے اور اس کی امید بھی رکھتی ہے کہ یہی صل قوت ہے ، اسلحہ اور ہتھیار تو بعد میں آتے ہیں ۔ ثبات قدم کا ذریعہ مگر اس کا سب ہر قوم گرما گرم تقریروں ، اسلحہ اور افرادی قوت قومی تفاخر وغیرہ کو بناتی ہے جبکہ کہ قرآن حکیم نے اس کے لیے کثرت ذکر کا حکم دیا ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ ذکر سے مراد ہر وہ کام ہے جو شریعت کے مطابق کیا جائے یہ عملی ذکر ہے۔ زبان سے حق کی دعوت حق پر ثابت قدم رہنے کی تلقین اور نعرہ ہائے تکبر جو میدان جنگ کا حصہ ہیں یہ ذکر لسانی ہے اور یہ سب کچھ تو ہر حال ہوتا ہے ۔ تمام ظاہری اعمال میں میدان جہاد میں جان کا نذرانہ لے کے صف آرا ہونابہترین عمل ہے اور جہاد کی تلقین جو ش وجذہ کی تائید اور صفوں ترتیب کے احکام بہترین ذکر لسانی ہے پھر اس کے ساتھ کثرت ذ کرلے لیے قلبی طور ثابت رہنے کا بہترین سبب ہے جب دل ثابت ہوگا نوقدم بھی ثابت رہ سکیں اور دوسری طرف حصول فلاح یعنی کامیابی تک پہنچنے کا زینہ بھی ہے لہذا اس کی کثرت کا حکم دیا گیا ۔ ذکرقلبی عمل کی بنیاد فراہم کرتا ہے دراصل قلبی ذکرہی خالص عمل کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور ذاکرین میں دوسروں کی نسبت کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے مگر افسوس کہ مسلمانوں نے یا تو ذکر قلبی کھودیا اور اسے چھوڑبیٹھے یا نام نہاد صوفیوں اور فعلی پیروں سے اس نام پر لٹتے اور وقت اور قوت کو ضائع کرتے رہے کم خوش نصیب ہونگے جنہیں یہ نعمت اصل صورت میں نصیب ہوئی ۔ اللہ کریم اسے مسلمانوں میں پھر سے عام کرے ۔ اٰمین ۔ اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو کہ جہاد ہو یا عبادت ذکر ہو یا مجاہدہ سب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی توفیق اور اطاقت نصیب ہو لہٰذاہر وہ محنت ہر وہ کام اور ہر وہ جہاد نیز ہر وہ ذکر بھی درست نہ رہے گا ۔ جو اطاعت کے دائرے سے باہر لے جاتے کہ مقصد اطاعت الٰہی کے درجہ کمال کو حاصل کرنا ہے جو اطاعت رسول پر مخصر ہے ۔ لہٰذ اجنگ کا مقصد اور ہوتا اور جہاد کا اور یعنی کمال اطاعت کا حصول نیز جھگڑانہ کرو اس سے مراد ہے کہ جہاں مختلف افراد جمع ہوں گے۔ اختلاف رائے یقینا مختلف آراء بھی ہوں گی مگر اپنی رائے کو دوسرے پر ٹھونسنے کی کوشش نہ کرو کہ یہ جھگڑا ہے یعنی اختلاف رائے تو ہوسکتا ہے ۔ مگر رائے دینے کے بعد جو فیصلہ یا حکم امیردے اس کی تعمیل ہو نہ کہ پنی رائے مسلط کرنے کے لیے جھگڑاشروع کردیا جائے کہ جھگڑے سے تو تم لوگ بکھر جاؤگے جب آپس میں اعتماد نہ رہے تو کمزوری پیدا ہوگی اور رعب ودبدبہ جاتا رہے گا کفار بھی تمہاری آپس کی حالت سن کردلیرہوجائیں گے لہٰذا اگر کوئی رائے یا بات خلاف مزاج ہو یا کوئی واقعہ خلاف مزاج ہو ہے کہ صبر کرنے والے کو اللہ کی ذاتی معیت نصیب ہوتی ہے ظاہر ہے کہ جس کے ساتھ اللہ ہوگا وہ ہر حال میں کامیاب ہے ۔ اور نیت و ارادہ کو اللہ لے لیے خا (رح) (رح) لص اور کھرارکھو کہ قریش مکہ جیسا ناپسند دیدہ رویہ کبھی نہ اپناؤکہ جو محض لوگوں کو دکھانے کے لیے اور دینی لڑائی ثابت کرنے کیلئے میدان میں اتراتے ہوئے کود پڑے حالانکہ ویسے بھی وہ بہت ظلم کرتے تھے اور اللہ کے دین کا راستہ رولنے کی بھرپور سعی کرنے والے تھے ۔ مکہ سے تو اطلاع پاکر نکلے مگر جب قافلہ بچ کہ نکل گیا اور انہیں اس کی خبر بھی ہوگئی تو اب جنگ میں کود نادانشمندی ۔ تھی بلکہ قریشی سرداروں نے بھی مشورہ کیا کہ اب جنگ کی ضرورت نہیں مگر ابوجہل اس پر اڑگیا اور اس نے کہا یہ جنگ ضرور ہوگی اس کا خیال تھا کہ اللہ والوں کا خاتمہ کردیں گے مگر ع وہ جو کچھ بھی کرتے اللہ کی قدرت سب پر غالب تھی اور اس کی قدرت کا ملہ ہر حال میں میط ہے ۔ شیطان کے حیکے اس کے بعد شیطانی چالوں کا ذکر فرمایا کہ جب ریاء اور تکبر آجائے تو ایسا آدمی خلاف حق کے لیے کوشش کرتا ہے اور اس پر شیطان ایسے حیلے کرتا ہے کہ اسے برائی بھی بھلی لگتی ہے اور اپنی نیکیوں میں شمار کرتا ہے جیسے اہل مکہ آپ اور اللہ کے دین کا راستہ روکنا ہی نیکی سمجھ رہے تھے حتی کہ بیت اللہ شریف سے دعا کرکے نکلے کہ اے اللہ جو جماعت حق پر ہے اسے فتح عطا کر دوسرے یہ کہ ابلیس نہ صرف کشف میں دھوکا دیتا ہے بلکہ انسانی صورت بن کر بھی فریب کرتا ہے جیسے قریش قافلے کی فریاد پر نکل تو پڑے جب قافلہ بچ جانے کا پتہ چلاتو انہیں واپسی کی فکر بھی تھی کہ بنوبکرجو دشمن قبیلہ تھا وہ مکہ پر حملہ نہ کردے مگر عین میدان میں دیکھا کہ نبوبکرکا سردار سراقہ بن مالک جوانوں کا وستہ ساتھ لیے میدان جنگ میں قریش کی مدد کو آراہا ہے اور اس نے آتے ہی کہا کہ آپس کی ناراضگی الگ بات ہے ۔ پڑوسی بھائی ہیں اور اس مذہبی جنگ میں تو آپ کا پورا پورا ساتھ دوں گا نیز مجھے مسلمانوں کی طاقت کا بھی پتہ ہے بھلا وہ تمہارے سامنے کیا ٹھہرسکیں گے اور اس طرح انہیں جنگ میں دھکیل دی امگر عین میدان جنگ میں جب انوارات و تجلیات کی بارش میں فرشتوں کے پرے اترتے دیکھے تو بھاگا تو قریش نے پکارا کہ ابھی ساتھ دینے کا عہد کر رہے تھے ابھی بھاگ رہے ہو تو کہنے لگا میں اس عہد سے بری ہوتا ہوں اس لیے کہ جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تمہیں نظر نہیں آرہا یعنی خدام رسالت کی مدد کو جو فرشتوں کے لشکر اتر رہے ہیں وہ تمہیں ظاہری آنکھوں دکھائی نہیں دے رہے اور میں اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے ڈرکر بھاگ رہا ہوں جس کی صورت سامنے ہے اور جو بہت سخت ہوتے ہیں کہ اللہ کا عذاب تباہ کردینے والا ہوتا ہے چناچہ وہ بھاگ گیا اور قریش آخرتک سراقہ ہی سمجھاکئے حتی کہ بعد میں کسی موقع پر انہوں نے سراقہ بن مالک سے شکوہ بھی کیا کہ اتنے عظیم سردارہوکرہ میں دھوکا دی اور ہمارے جو انوں کی ہمت تو ڑدی ہماری شکست کے ذمہ دارتم ہو تو اس نے کہا میں تو کبھی ادھرگیا ہی نہیں بلکہ جنگ اور تمہاری شکست کا پتہ بھی تب چلاجب تم واپس مکہ پہنچ چکے تھے ۔
Ayahs 8:49–58

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

جب منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یوں کہتے تھے ان لوگوں (مسلمانوں) کو ان کے دین نے بھول میں ڈال رکھا ہے اور جو اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے تو بیشک اللہ غالب اور حکمت والے ہیں

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور اگر آپ (اس وقت) دیکھیں جب فرشتے کافروں کی جان قبض کرتے جاتے ہیں تو ان کے مونہوں پر اور ان ک پشتوں پر مارتے جاتے ہیں اور (کہتے ہیں اب) تم جلنے کے عذاب کا مزہ چکھو

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ وہ (اعمال کفریہ) ہیں جو تم نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجے اور یہ کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

جو حال فرعونیوں کا اور ان سے پہلے لوگوں (کافروں) کا ہوا (ویسا ان کا ہوا) انہوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں پر پکڑ لیا بیشک اللہ زبردست ہیں سخت عذاب دینے والے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ اس لئے ہے کہ اللہ کسی ایسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو تب تک نہیں بدلتے جب تک کہ وہ لوگ اپنے اعمال نہیں بدل ڈالتے اور یہ کہ اللہ سننے والے جاننے والے ہیں

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

ان کی حالت فرعونیوں اور ان سے پہلے والوں جیسی ہے جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیات کو جھٹلایا سو (اس پر) ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور فرعونیوں کو غرق کردیا اور وہ سب ظالم تھے

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

بلا شبہ اللہ کے نزدیک بدترین خلائق یہ کافر لوگ ہیں پس وہ ایمان نہیں لاتے

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

وہ لوگ کہ ان میں سے جن سے آپ (صلح کا) وعدہ کرتے ہیں پھر وہ ہر بار اپنا وعدہ توڑ دیتے ہیں اور (اللہ سے) نہیں ڈرتے

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

سو اگر آپ ان کو میدان جنگ میں پائیں تو ان کو ایسی سزا دیں کہ جو ان کے پس پشت ہیں وہ بھی بھاگ جائیں ہوسکتا ہے کہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت (عہد شکنی) کا اندیشہ ہو تو (ان کا عہد) ان کو واپس کردیں برابر پر (اسی طرح جس طرح انہوں نے پھینکا) بلا شبہ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے

آیات 49 تا 58 اسرار و معارف بدرکاموقع ایساتھا کہ جتنے دل بھی نور ایمان سے خالی تھے اور محض مادی وسائل تک ہی نظرتھی قدرت باری پہ تو یقین ہی نہ تھا اگرچہ بظاہر اپنے مسلمان ہونے کے بھی مدعی تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ خود کو مسلمان بھی کہتے تھے اور قدرت باری پہ نگاہ تھی نہ یقین اس لیے کہ ان کے قلوب بیمار تھے۔ دل کامرض گویا جب تک قلبی صحت نصیب نہ ہودعوے ایمان بھی محض دنیا کے مفادات کی خاطر ہوتا ہے اور یہی نفاق ہے لہٰذا دل کی اصلاح اہم امور میں سے ہے اور ایمان کی بنیاد ہے ورنہ مسلمان کہلانے کے باوجود ذہن کی رسائی کفار سے مختلف نہیں ہوتی کہ یہاں جو اندازہ کفار کا تھا وہی منافقین کا بھی تھا اور وہ تھا کہ مسلمانوں کو ان کے مذہب نے خوش فہمی میں مبتلا کررکھا ہے کہ اتنے بڑے کا تھا وہی منافقین کا بھی تھا اور وہ تھا کہ مسلمانوں کو ان کے مذۃ ب نے خوش فہمی میں مبتلا کررکھا ہے کہ اتنے بڑے لشکر اور اہل مکہ کے ساتھ مقابلے کے لیے نکل پڑے ہیں حالانکہ اس میں سوائے ان کی بربادی کے اور کچھ بھی نہ ہوگا یہ دانشورانہ رائے تھی جس کانمونہ آج بھی نظرآتا ہے مگر وہ یہ بات بھول رہے تھے کہ جو اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ غالب ہے اسے جہان پہ غلبہ دے دیتا ہے اور حکیم بھی ہے کہ بظاہر اگر ان میں سے کوئی کٹ جاتا ہے تو حکمت باری اسے شہادت سے نوازناچاہتی ہے یعنی بظاہر اگر شکست بھی نظرآئے تو اس میں ہزاروں حکمتیں ہوتی ہیں ۔ مرگ کفار موت تو ہر ایک کے لیے ہے مگر اس کے مقابل اگر آپ کافرکو موت کے وقت دیکھیں تو حال یہ ہوتا ہے کہ فرشتے جب روح قبض کرنے آتے ہیں تو منہ پر مارتے ہیں پیٹھ پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں ابھی کہاں ابھی تو آگ میں مزے کروگے یعنی رزخ کے عذاب میں داخل ہونا ہے پھر بعد حشرہمیشہ کے لیے جہنم میں ۔ اور یہی حال مشرکین کا بدر میں ہوا کہ جس جس کی موت آتی تھی اسے ان سزاؤں سے بھی سابقہ پڑا اور پھر قلیب بدر میں ڈالے گئے جس پر آپ نے کھڑے ہو کر اور نام لے لے کر پوچھا تھا کہ ہم نے اللہ کا وعدہ سچا پایاتم سناؤتم نے بھی اللہ کا وعدہ سچ پایا ؟ تو سید ناعمرفاروق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا یہ سن رہے ہیں ۔ سماع موتی جبکہ ان کے اجسام تو مردار ہوچکے فرمایا اللہ کی قسم جس کے قضہ قدرت میں میری جان ہے تم ان سے بہتر نہیں سن رہے ہاں جواب نہیں سکتے ۔ مراد ہے کہ معروف طریقے سے جواب نہیں دے سکتے جس طرح آپ کے سوال کو سب لوگ ظاہراسن رہے تھے مردے بھی سن رہے تھے اگر چہ مشرکین کے تھے مگر اسی طرح جواب نہ دے سکتے تھے ۔ اگر چہ کشفاجواب کا پانا یہاں منع نہیں تفسیر کشف الا اسرار میں ہے کہ مردہ بات سنتا ہے آدمی کو پہچانتا ہے اور گھر کے حالات ہے اس قدرباخبرہوتا ہے یہاں تک جانتا ہے کہ اس کی بیوی نے اس کے بعد نکاح کرلیا ہے یا نہیں ۔ اور یہ مارپیٹ تو ابتدا ہے آگے صعوبتوں میں اضافہ ہی ہوتا چلاجائے گا ۔ مگر یہ سب کچھ لوگوں کی اپنی کمائی ہے ۔ خود انہوں نے اپنے عقائد اور اعمال سے اخروی اور ابدی زندگی کے لیے جو کچھ کیا اسے بھگتیں گے ۔ اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ عاجزومحتاج اور بےکس وبے نوابندے کو جو بظاہر خواہ شہنشاہ کہلاتا ہو اس کی بارگاہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں خواہ مخواہ عذاب دے اور اس سے زیادتی کرے لوگ خود اپنے ساتھ ظلم کرتے ہیں اور سنت اللہ اور عادت الٰہیہ یہ ہے کہ جو عمل ہو اس کامنطقی نتیجہ پہنچادیتے ہیں جیسے فرعون اور اس کی قوم یا ان سے پہلے کفار کہ اللہ نے کتنی نعمتیں دیں اقتدار و وقار بخشا مگر جب اللہ کا حکم اور اس کی آیات ان کے پاس پہنچیں تو ان کا انکار کردیا ۔ اللہ کریم نے اس جرم کی سزا میں انہیں پکڑلیا اور اپنے کئے کا نتیجہ انہیں بھگتنا پڑا۔ اس لیے کہ اللہ بہت زبردست طاقت کا مالک ہے اور اس کے عذاب بھی بہت ہی سخت ہیں ۔ زوال نعمت کا سبب وہ ایسا کریم ہے کہ مفت میں نعمتیں بانٹتا ہے یہ ضروری نہیں کہ انسان انعام کا مستحق ہو تو دیا جائے ۔ محض کرم سے وجود ، عقل ، صحت ، مال و دولت اولاد اور حکومت وغیرہ ذالک بیشمار انعامات عطا کردیتا ہے۔ ظاہر ہے وہ یہ سب کچھ چھین کر ذلیل کرنے کے لیے نہیں دیتا لیکن جب لوگ ہی اپنا رویہ بدل ڈالتے ہیں یعنی شکرتو کیا کرتے پہلی حالت پہ بھی نہیں رہتے مزیدگمراہ ہوجاتے ہیں یا ظالم اور سرکش ہوجاتے ہیں یعنی شکر تو کیا کرتے پہلی حالت پہ بھی نہیں رہتے مزیدگمراہ ہوجاتے ہیں یا ظالم اور سرکش ہوجاتے ہیں تو پھر اللہ کا عذاب آجاتا ہے جیسے پہلے کفار پر بحالت کفر بھی دنیا کے انعامات تو تھے مگر جب اللہ کے نبی آئے تو بجائے قبول کرنے کے ان سے ٹ کرلی اور تباہ ہوگئے ۔ اہل مکہ کے پاس پورے عرب کی امارت اور سرداری تھی مگر بجائے آپ پر ایمان لانے کے ایذادینے لگے اور مقابلے میں آگئے تو تباہ ہوگئے اس لیے کہ اللہ کریم ہر ایک کی حرکت اور ارادے تک سے واقف ہے۔ جیسے آل فرعون یا ان سے پہلے کفار کہ اپنے خالق اور رب کے ارشادات کو جھٹلادیا یعنی ایسا کریم جو بحالت کفر بھی انہیں پال رہا تھا اور اس کا کام یہ کہ نبی مبعوث فرمائے انہیں معجزات عطاکئے دلائل عطافرمائے مگر یہ لوگ اپنے پالنے والے کو فراموش کربیٹھے تو اس جرم کے بدلے میں ہلاک کردیئے گئے اور قوموں پہ یکبار گی خدا ب ٹوٹ پڑے جیسے فرعونی کہ غرق ہوکرتباہ ہوے ایسے ہی کسی پر آگ برسی اور کسی پر پتھر کوئی قوم زمین میں دھنس گئی اور کسی پر ہوا کا طوفان مسلط ہوا اور یہ عذاب میں گرفتار ہونے والے سب ظالم تھے اپنے کئے کے باعث گرفتار بلا ہوئے ۔ شرالدو آپ کہ زمین پہ حرکت والے حیوانات میں سب سے برا اور ذ(رح) لیل حیوان وہ انسان ہے جس کا دل نور ایمان سے خالی ہو اور جو ایسی غلط راہ اپنالے کہ کبھی ایمان کو پانے والا نہ بن سکے ۔ جیسے یہود کہ آپ سے عہد کیا مدینہ منورہ میں آپ سے یہود کا معاہدہ ہواتھا کہ مسلمان اور یہودی شہرکامشتر کہ دفاع کریں گے اس کی اور بھی شقیں تھیں مگر یہی شق وہبرقرار نہ رکھ سکے ۔ آپ سے عہد شکنی اور بدر میں اہل مکہ کی مدد کی تو اس طرح جو لوگ وعدہ کرکے توڑتے ہیں اور باربار ایسا کرتے ہی پھر انہوں نے فتح کے بعد معافی مانگی مگر احد میں وہی بلکہ پہلے سے بڑھ کر کردار ادا کیا تو ایسے لوگوں کو کبھی اللہ کے عذاب سے بھی ڈر نہیں آتا یعنی ان کے دل سیاہ ہوجاتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ کوئی تعلق نہی رکھ سکتے ایمان کا اقرار بھی عہداطاعت ہے اس کے بعد اطاعت تو خواہش نفس کی کرے اور حکم دہراتا رہے اور یہ بھی جرم عظیم ہے اس کی فکربہت ضروری ہے کہ اللہ فرماتے ہیں ایسے لوگ جب قابو چڑھیں تو انہیں مثالی سزادی جائے اور پوری قوت سے کچل دیاجائے تا کہ دوسروں کے لیے درس عبرت بن جائیں ۔ سزاکا ایک مقصد یہ تو خود کو سزا کا مستحق ثابت کرچکے اب ان کے ساتھ نرمی دوسروں کو بھی گناہ میں ملوث ہونے پہ ابھارنے کا سبب بن سکتی ہے لہٰذا انہیں ایسی مثالی سزادی جائے کہ دوسروں کی آنکھیں کھل جائیں اور لوگ ارتکاب جرم سے ما زرہیں ۔ اسی لیے حدود میں بھی مثالی سزائیں رکھ کر دوسروں کو ارتکاب جرم سے بچانے کی سعی ان کے ساتھ شفقت ہے نہ یہ کہ کہاجائے اسلام کی سزائیں وحشیانہ ہیں اور اس صریح کفر کے کہنے کے ساتھ اسلام کا دعوی بھی وہاخلعجب۔ اسلام کے اصول حکمرانی ہاں اگر کسی قوم کے ساتھ معاہدہ ہو اور پھر ان سے عہد شکنی اندیشی حملہ کرنا درست نہیں بلکہ ان کو عہد لوٹا دیا جائے اور بتادیاجائے کہ تم سے امیدوفا نہیں لہٰذ اہم وہ عہد ختم کرتے ہیں ۔ اب اگر زیادتی کرو گے تو سزاپاؤگے کیونکہ کافر سے بھی خیانت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی سرے سے اللہ کریم خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے اور اگر کافر سے خیانت درست نہیں تو پھر اللہ کی عظمت کا اقرار اور امیدیں غیروں سے آپ کی نبوت کا اقرار مگر اطاعت نہ کرنا پھر درجہ بدرجہ آپس میں مال جان ابرو اور اسی طرح معاملات میں خیانت کرنے والے کیا بھلائی پاسکیں گے کہ اللہ کریم تو کفار سے جو بدترین خلائق ہیں ۔ خیانت کی اجازت نہیں دیتے بلکہ قانون ارشاد فرمادیا کہ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسندی نہیں کرتا ۔
Ayahs 8:59–64

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر لوگ یہ خیال نہ کریں کہ وہ بچ گئے یقینا وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور جہاں تک تم سے ہوسکے ان کے لئے (فوجی) قوت اور پلے ہوئے گھوڑوں (سامان جنگ) سے تیار رہوکہجو اللہ کے دشمن ہیں اور تمہارے دشمن ہیں اس سے ان پر رعب جمائے رکھو اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے اللہ ان کو جانتے اور تم اللہ کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہوگی

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی اس طرف مائل ہوجائیے اور اللہ پر بھروسہ رکھئے بیشک وہ سننے والے جاننے والے ہیں

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ آپ دھوکا دینا چاہیں تو یقینا آپ کے لئے اللہ کافی ہے۔ وہ وہی ہے جس نے آپ کو اپنی (غیبی) مدد سے اور مسلمانوں سے قوت دی

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں محبت پیدا کردی اگر آپ روئے زمین کی ہر چیز خرچ کر ڈالتے تو کبھی ان کے دلوں میں (ایسی) محبت پیدا نہ فرماسکتے و لیکن اللہ نے ان میں محبت پیدا فرمادی بیشک وہ غالب ہیں حکمت والے ہیں

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ کے لئے اللہ کافی ہیں اور وہ مسلمان جنہوں نے آپ کی پیروی کی

آیات 59 تا 64 اسرار و معارف اور کو کفار ابھی تک عذاب سے دوچار نہیں ہوئے یابدر کی شکست کے اثرات سے بچ رہے ہیں وہ بھی یہ نہ سمجھیں کہ وہ اللہ کی گرفت سے باہر ہیں انہیں بھی نہ دنیا کے عذاب ہے اب تک روے زمین پر بیشمار جدید ایجادات کے باو جود کفار ہر طرح سے عجیب و غریب عذابوں میں گرفتار ہیں مغربی معاشرہ جس پر ہمارے لوگ فدا ہیں اس کی اخلاقی حالت جنسی بےراہ روی اور ان پر آسمانی آفتیں زلزلے طوفان اور خطرناک ترین اور رذیل ترین بیماریاں یہ سب عذاب الٰہی کی مختلف صورتیں ہیں یہی حال مشرق کے کفار کا ہے ان کا کھانا تک عذاب کی صورت ہے ۔ کتے بندر چوہے مینڈ اور سانپ کھانا کیا بجائے خودعذاب کی صورت نہیں پھر اخلاقی دیوالیہ پن اور آفات سماوی ان سے امور پر نگاہ کی جائے ۔ جائے پناہ تو دوعالم میں جائے پناہ صرف ایک ہے اور وہ ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی خلوص دل سے غلامی اور بس ۔ ورنہ بجالت کفر کوئی بھی اللہ کے عذاب کی گرفت سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا ۔ جہاد کے لیے تیار رہنے کا حکم نیز مسلمانوں کے لیے ارشاد ہوا کہ جہاد کے لیے اور کفر کو جارحیت سے روکنے کے لیے جس قدرممکن ہواسقدرتیاری کرکے رکھو یہاں ما استطعتم فرما کر یہ فرمایا کہ ایسی تیاری ضروری ہے جو تمہارے اختیار میں ہو اور کسی ایسے سامان کی ضرورت نہیں جو تمہارے بس میں ہی نہ ہو لہٰذا مسلم حکومتوں کی اسلحہ کے لیے گٹھیا اور نقصان دہ شرائط کفار سے مدد لینا جائز نہیں ہاں جو کچھ بس میں ہو وہ ضرور کیا جائے اس کے بعد اللہ مالک ہے خود اسباب پیدافرمادے گا وہ عہد تو تھا ہی برکات کا عہد اب کے زمانہ میں افغان مجاہدین نے خالی ہاتھ کفر کی بہت بڑی طاقت کے دانت توڑ کر یہ ثابت کردیا ہے کہ ایمان اور عمل جیسے بہترین ہتھیار اور کوئی نہیں ۔ ہاں جس قدرہوسکے خوبصورت پلے ہوئے گھوڑے یعنی سامن حرب کہ اس دور کا بہترین جنگی ساتھی گھوڑاہی تھا ۔ وقت ملک اور حالات کے اسباب تو بدل سکتے ہیں اصول نہیں اگر اس وقت گھوڑے تھے اب ان کی جگہ ٹینک آگئے ہیں اسی طرح ہوائی افواج میں جدید طیارے وغیرہ تو یہ سب چیزیں اسی حکم میں ہیں ۔ یعنی سامان حرب بھی ہو جنگی مشقیں بھی کی جائیں اور افواج اسلامی ہمیشہ شان و شوکت کے ساتھ بہترین تیاری میں رہیں اسی لے حدیث شریف میں جہاد کی تیاری خواہ نشانہ ہازی ہو یا ورزش جنگی مشقیں ہوں یا سامان جنگ کی دیکھ بھال سب سے اعلیٰ عبادت قراردی گئی ہے کہ وقت ضرورت کام تو آئے گی ہی دشمنوں پر اسی کی ہیبت اور رعب بھی تو ہوگا کہ صرف یہی دشمن نہیں جو آپ کے سامنے ہیں ابھی تو دنیا میں ایسی اقوام باقی ہیں جن سے آپ لوگ واقف بھی نہیں مگر راہ حق میں ان سے مقابلہ ہوگا اور اللہ کریم انہیں خوب جانتے ہیں ۔ چناچہ خلفاء راشددین کے زمانے میں ۔ وم وفارس کے علاوہ چین سے افریقہ اور سپانیہ تک مختلف اقوام عالم سے مقابلہ کرنا پڑا اور ہر جاتا ئیدباری نے فتح سے ہمکنار فرمایا ۔ نیز اللہ کے راہ میں محنت کوشش یا مال و دولت جو بھی صرف ہوتا ہے کبھی رائیگاں نہیں جاتا اور جہاد اور ترویح حق تو بہترین عمل ہے اس میں جو خرچ ہوگا وہ بھی بہترین طریقے پہ واپس وصول ہوگا اللہ کریم تو کسی کا حساب نہیں مارتے اور زیادتی نہیں کرتے ۔ اسلام اور جنگ نیز اگر کفار صلح کے لیے کہیں اور مناسب شرائط پر صلح کریں اسلام جنگ چاہئیے اگر کفار سرکشی اور زیادتی سے بازآجائیں تو آپ ان سے ضرورصلح کرلیں ہاں یہ نہ ہوگا کہ وہ سرکشی پہ آمادہ ہوں اور مسلمان صلح تلاش کریں اس طرح تو وہ کمزور جان کر ظلم پر اور دلیر ہوں گے اگر وہ باز آئیں تو ضرور صلح کرلی جائے اور اندر کی بات کہ دھوکہ نہ دیں اس کے لیے اللہ پر بھروسہ کریں کہ وہ سب کچھ سنتا ہے جو وہ مشورے کرتے ہیں اور جو ان کے دلوں میں ہے جانتا ہے ۔ محض کمزور احتمالات پہ مومن کو ڈرنا نہ چاہیئے کہ اگر کفار نے آپ کو دھوکا بھی دینا جاہا تو ان کے مقابل آپ کو اللہ کافی ہے جس نے پہلے بھی مدد فرمائی کہ اپنی تائید ونصرت سے نواز فرشتوں کو نازل فرمایا اور بہترین خدام عطافرمائے ۔ شا صحابہ ؓ صحابہ کرام ؓ ایسے جان نثار تھے کہ اللہ کریم ان غلاموں کو اپنی طرف سے بطور تحفہ شمار کرتے ہیں کہ دیکھئے فرشتے بھی نازل فرمائے اور یہ غلام بھی بخشے سبحان اللہ برکات رسالت میں سے ایک کا ذکر اور پھر آپ سب کے دلوں میں الفت ڈال دی اور یہ آپ ﷺ کی برکات میں سے عظیم برکت تھی کہ دلوں سے کدورتیں اور نفرتیں مٹ گئیں اور محبت والفت نے جگہ پائی حالانکہ وہ معاشرہ ایسا تھا جہاں نفرت جنگ اور قتال ہی کی بات ہوتی تھی اور اگر کوئی چاہتا کہ روئے ذمین کی ساری دولت لٹاکر انہیں اس طرح ایک دوسرے کی محبت کا اسیر کردے تو بھی ممکن نہ تھا لیکن رب جلیل نے یہ کردیا کہ آپ کے وجود باجود میں وہ برکت رکھ دی وہ کمال پیدا فرمایا کہ جو بھی منسلک ہوتا گیا اس کے دل میں اللہ کی محبت آپ کی محبت اسلام کی محبت مسلمان سے محبت اور آخرت سے محبت یعنی محبتوں کے چشمے جاری ہوگئے ۔ خلافت شیخین اور یہ کمال حلافت صدیقی اور فاروقی میں بھی ایسے کمی قائم رہا اس لیے علماء حق نے شیخین کی خلافت کو علی منہاج النبوۃ قراردیا ہے کہ ان دونوں زمانوں میں برکات نبوت کا ظہور پوری طرح سے تھا پھر اختلافات درآنے لگے اور یہ محبت ہی آج بھی معیارحق ہے کسی شیخ کی نسبت اور تعلق سے یہ محبت ملے تو یہ مقصود ہے ورنہ نفرتیں اور محض فرقہ بندیاں کمال کی دلیل نہیں ۔ اور اے حبیب آپ کے لیے اللہ ہی کافی ہے اور ظاہر اجوجماعت خدام کی اللہ نے بخشی ہے وہی کافی ہے یعنی حقیقی اعتبار سے تو اللہ ہی بس ہے ۔ اب بظاہر مقابلے میں کثرت وقلت یا اسباب ظاہری کی پروانہ کی جائے اور یہی قانون مومنین کے لیے ہمیشہ کا ہے کہ اللہ اور اس کے حبیب کے ساتھ خالص اور کھری محبت رکھیں تو آپس کی محبت نصیب ہو اور کفر کے مقابلہ میں آج بھی اگر مسلمان ریاستیں متحد ہوجائیں تو دنیا کی عظیم عسکری قوت بن سکتی ہیں اور اتفاق انفرادی آراء پر نہیں ہوا کرتا صرف اللہ کی بات اور آپ کی اطاعت پہ ہوسکتا ہے اور پھر یہ قوت کفر کے تمام ترفتنوں کو فرد کرنے کے لیے بس ہے۔
Ayahs 8:65–69

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ مومنین کو لڑائی کی ترغیب دیجئے۔ اگر آپ میں سے بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر آپ کے سو آدمی ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب آجائیں گے اس لئے کہ یہ (کافر) ایسے لوگ ہیں کہ کچھ سمجھ نہیں رکھتے

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب اللہ نے تم پر بوجھ کم کردیا اور جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے پس اگر تم میں سے سو (آدمی) ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے ہزار ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہیں

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

پیغمبر کو شایان نہیں کہ ان کے قبضے میں قیدی رہیں (بلکہ قتل کیے جائیں) جب تک وہ زمین میں (کفار کی) اچھی طرح خوں ریزی نہ کرلیں تم لوگ دنیا کا مال اسباب چاہتے ہو اور اللہ آخرت (کی مصلحت) کو چاہتے ہیں اور اللہ زبردست ہیں حکمت والے

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر اللہ کا لکھا پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا اس کے بدلے تم پر بڑی سزا واقع ہوتی

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

جو مال غنیمت تم کو ملا ہے سو اسے کھاؤ وہ حلال اور پاکیزہ ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

آیات 65 تا 69 اسرار و معارف نیزاے نبی (ﷺ ) مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں اس کے فضائل کے ساتھ اس کی ضرورت اور فوائد بھی بیان فرمائیں کہ اسلام بنیادی طور پر امن کا علمبردار ہے اور نہ صرف دنیا بلکہ آخروی امن و سکون کا ضامن ہے مگر ایسے عناصر جو اس امن ہی کے لیے خطرہ پیدا کردیں اور نہ صرف معاشرے کے ظاہری امن کو تباہ کرنے کے درپے ہوں بلکہ اخروی اور دائمی امن و سکون بھی لوٹناچا ہیں تو ان سے قتال ہی دوسروں کے لیے امن کی ضمانت ہے اور اللہ کریم کے نزدیک یہ اتنا پسند دیدہ عمل ہے کہ مسلمان جب بھی اس غرض سے میدان میں نکلیں گے اپنے سے دس گنابڑے دشمن پر غالب آئیں گے یعنی مسلمان جم کر لڑنے والے دوصدکفار پہ بھاری ہونگے اور ایک صد مسلمان ایک ہزار کے جرار کا منہ پھیردیگا۔ اس لے کہ کفار تو عظمت الٰہی سے بیگانہ ہیں اور اللہ کی معرفت کا ہی شعور نہیں پھر اسکی مدد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کی اس سے کوئی غرض نہیں محض اللہ کے حکم کی تعمیل میں سربکف ہیں تو نہیں اللہ کی نصرت بھی تو حاصل ہوگی ۔ توکل کا مدار اس ارشاد سے تو یہ لازم ہوگیا کہ ایک مسلمان دس کفار کے مقابلہ میں ضرور لڑے مگر یہ قوت ہمیشہ تو نہ رہے گی ۔ کہ درجات معرفت پہ مدار توکل بھی ہوا کرتا ہے جس کسی کو جس درجہ کی معرفت اور قرب الٰہی کا جو مقام نصیب ہوگا اسی درجہ کی نسبت سے توکل بھی ہوا کرتا ہے جس کسی کو جس درجہ کی معرفت اور قرب الٰہی کا جو مقام نصیب ہوگا اسی درجہ کی نسبت سے توکل بھی کرسکے گا اور اسی حساب سے مدد بھی حاصل کرسکے گا چناچہ پھر بعد میں تو یہ فضانہ رہے گی نہ کوئی اس مقام کو پاسکے گا۔ لہٰذ اللہ نے بوجھ کم کردیا ۔ اس لیے ہمتیں بھی تو وہ نہ رہیں گی یقینا کمی آئے گی تو اب ایک مسلمان دو کافروں پہ ایک صددوصدپہ اور ایک ہزار دوہزار کفار پر غلبہ حاصل کرلے گا صرف ایک شرط پر کہ وہ ثابت قدم رہے یعنی صبرکا مظاہرہ کرے ۔ عام زندگی میں بھی کہ احکام الٰہی کی تعمیل کرنا اور نافرمانی سے رک جانا صبر ہے اور میدان کارزار میں بھی جنگ کی سختیاں جھیلنا اور ثابت قدم رہنا اعلیٰ درجہ کا صبر ہے اس لیے اب یہ ہمیشہ کا قانون دیا جاتا ہے کہ مسلمان دوچندد شمن پہ غالب ہوں گے اس لیے کہ انہیں اللہ کی ذاتی مدد حاصل ہوگی بلکہ صبر وصف ہی ایسا ہے جو اللہ کی معیت کو پالیتا ہے اور جسے اللہ کی معیت حاصل ہو ایک جہان مل کر بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ دوسری بات بدر کے قیدیوں کے بارے جو رائے صحابہ ؓ نے دی وہ مناسب نہ تھی اس لیے کہپ بدر میں قیدہونے والوں میں اہل مکہ کے رؤساکی کثرت تھی سترقتل ہوئے دوسرے قید ہوگئے اگر یہ بھی قتل ہوجاتے تو یہ فتنہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا کہ مشرکین کے پاس قیادت ہی نہ رہتی اور یہ بہت عجیب بات ہے ۔ قیادت ہی اقوام کی تقدیر ہوا کرتی ہے کہ ہمیشہ قیادت ہی اقوام کی تقدیر ہوا کرتی ہے۔ میں لندن میں برطانوی پارلمنٹ ہاؤس کے پاس کھڑایہ سوچ رہا تھا کہ یہ چھوٹا ساجزیرہ ہے جو برطانیہ کہلاتا ہے ۔ چند لاکھ کی آبادی تھی جب انہوں نے روئے زمین پر اقوام کو غلام بنا کر حکومت کی اور یہ پارلیمنٹ ہاؤس ملکوں اور قوموں کی تقدیروں کے فیصلے کیا کرتا تھا مادی ترقی کے اعتبار سے بھی اور دولت کے اعتبار سے بھی یہ لوگ بہت آگے ہیں۔ افراد کی تعداد کئی گنا زیادہ ہوگئی ہے مگر حکومت سمٹ کر پھر صرف جزیرے پر رہ گئی ہے آخر اس کی کوئی وجہ ؟ تو ایک دوست نے میری تشویش سن کر کہا یہ صرف قیادت کا فرق ہے لوگ وہی ہیں میں قیامت وہ نہیں اور اس کی بات بالکل درست تھی میں برطانوی قیادت کا کبھی مداح نہیں رہا کہ انہوں نے کبھی صحیح کھیل پیش نہیں کیا ہمیشہ عیاری اور ظلم ہی سے اپنی تاریخ لکھی ہے یہ الگ بحث ہے مگر انہوں نے اقوام عالم سے اپنا لوہا تو منوایا اب موجو دہ قیادت تو عیاری سے بھی وہ کچھ نہی کرسکتی ۔ یہی حال عرب اقوام کا ہے کہ ہمیشہ یہ دکھ رہتا تھا افسوس عرب ختم ہوگئے چندلاکھ یہودی ان کے سینہ پر ہونگ دل رہے ہیں اور عرب بےبس مگر جہاد افغانستان میں عرب مجاہدین کے کارناموں نے صحابہ کرام ؓ کی یاد تازہ کردی ہے اور بات پھر وہیں پہنچی کہ عرب نہیں بگڑے ان کی قیادت وہ نہ رہی یہی حال اپنے ملک کا ہے اور تمام طبقوں پہ نظر کرلیں کہ اہل قیادت کا فرق طبقوں کے حالات سے سامنے آجائے گا یہی بات یہاں ارشاد فرمائی کہ نبی کی شان یہ ہے کہ کفر کی سطوت تو ڑدے اور ایسے لوگ جن سے امید اصلاح نہ رہے اگر ہاتھ آجائیں تو انہیں قتل کردیا جائے کہ یہ چند افراد کا قتل سینکڑوں اور ہزاروں جانوں کے بچ جانے کا سبب بنے گا ورنہ تو ایسے لوگ پھر جنگ کی آگ بھڑکائیں گے۔ انسانی نگاہ اگر چہ فوری منافع تک ہی پہنچ سکتی ہے مگر اللہ کریم تو ایسی بات پسند فرماتے ہیں جو اخروی اور دائمی زندگی میں ان کی مخلوق کو نفع دے اس لیے کہ اللہ غالب بھی ہیں اور حکمت بھی نیز تم پر غنیمت حلال ہوچکی اور فدیہ لے کررہا کرنے سے جو مال ہاتھ آیایہ بھی غنیمت ہی ہے لہٰذا کوئی مواخذہ نہ ہو اور نہ تو مال لے کر کافر قیدی کو رہا کرنے پر تم لوگ بہت بڑے عذاب میں گرفتار ہوجاتے ۔ دراصل بدرپہلی باقاعدہ جنگ تھی اور اسی معرکے میں آئندہ جنگ اور مابعد جنگ کے اصول بھی مقررفرمائے گئے اور اسی میں پہلی بار غنیمت بھی حلال ہوئی جب مشرکین مکہ کے قیدیوں کے بارے آپ نے مسلمان کا رشتہ دار ہے وہ اسے قتل کرے دوسرے تمام صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ ان سب کو قتل کردیا جائے اور جو آدمی جس مسلمان کا رشتہ دار ہے وہ اسے قتل کرے دوسرے تمام صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ ان سے فدیہ لیا جائے اور چھوڑ دیا جائے کہ مسلمانوں کو مالی فائدہ پہنچے گا نیز ممکن ہے یہ بھی اسلام قبول کرلیں ۔ اگر دوبارہ شرارت کریں گے تو پھر مقابلہ کریں گے اللہ کی مدد تو ہمارے ساتھ ہے ۔ آپ نے دوسرا مشورہ قبول فرمایا اور جن کے پاس مال نہ تھا انہیں چند مسلمانوں کو پڑھا نے کا کام بطورفدیہ دیا اس پر یہ احکام نازل ہوئے کہ نبی کو زیب نہیں دیتا کہ فساد اور فتنہ کا بانی اور باعث شخص اس کے قابو آکر بچ جائے بلکہ اسے کچل دینا ہی مناسب ہے مگر چونکہ غنیمت حلال ہوچکی اور چھوڑ دینے میں وقتی فائدہ بھی تھا اس لیے مشورہ دینے والے کبھی بچ گئے ورنہ سخت گرفت میں آچکے ہوتے ۔ اب جو مال حاصل کرلیا ہے کھاؤپیوکہ غنیمت حلال بھی ہے اور طیب بھی اور اللہ سے ڈرتے رہو ہمیشہ اس کی رضا کے طلب گار رہو وہی بخشنے والا ہے اور بہت رحم کرنے والا بھی ۔