38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 38:41–64

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کو یاد کیجئے جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور آزار پہنچایا ہے

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ارشاد ہوا) اپنا پاؤں ماریں ، یہ نہانے اور پینے کے لئے ٹھنڈا (پانی) ہے

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ عطا فرمایا اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بھی (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا تیلیوں (جھاڑو) کا لیں پھر اس سے ماریں اور قسم نہ توڑیں بیشک ہم نے ان کو صابر پایا ، اچھے بندے تھے (اور) بہت رجوع ہوتے تھے

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کو یاد کیجئے جو ہاتھوں والے (طاقتور) اور آنکھوں والے (دانشمند) تھے

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے ان کو ایک خاص بات آختر کی یاد سے ممتاز فرمایا تھا

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور بیشک وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے (اور) سب سے اچھے لوگوں میں ہیں

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل (علیہم السلام) کو بھی یاد کیجئے اور سب اچھے لوگوں میں سے تھے

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ ایک نصیحت ہے اور بیشک پرہیزگاروں کے لئے تو عمدہ مقام ہے

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغات جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

وہ ان میں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور وہاں بہت سے پھل اور پینے کی چیزیں منگواتے رہیں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی ہم عمر (عورتیں) ہوں گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے حساب کے دن کے لئے وعدہ کیا جاتا تھا

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

بیشک یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ (بات تو ہوچکی) اور بیشک سرکشوں کے لئے برا ٹھکانہ ہے

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

دوزخ جس میں وہ داخل ہوں گے پس بہت بری جگہ ہے

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ کھولتا ہوا پانی ہے اور پیپ پس وہ لوگ اس کا مزہ چکھیں گے

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اسی طرح کے اور بہت سے (عذاب ہوں گے)

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ ایک جماعت ہے جو آئی ہے تمہارے ساتھ ان پر اللہ کی مار ، یقینا یہ بھی دوزخ میں گھس رہے ہیں

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ کہیں گے بلکہ تم پر ہی اللہ کی مار ہو تم ہی تو یہ (بلا) ہمارے سامنے لائے ہو سو بہت بری جگہ ہے

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

تو وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! جو شخص اس (مصیبت) کو ہمارے سامنے لایا ہے سو اس کو دوزخ میں دو گنا عذاب دیجئے

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے کیا بات ہے کہ ہم کو وہ لوگ نظر نہیں آرہے جن کو ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کا مذاق اڑایا تھا یا (ہماری) آنکھیں ان (کی طرف) سے پھر گئی ہیں

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بیشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا بالکل سچ ہے

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 41 ۔ تا۔ 64: اسرار و معارف : اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرلیجیے کہ جب انہوں نے پروردگار سے دعا کی کہ بار الہا اب تو شیطان بھی مجھے ایذا اور تکلیف پہنچانے لگا ہے کہ بیماری نے اس قدر بےبس کردیا ہے یہاں بہت عجیب و غریب قصے بیان کیے گئے ہیں جن کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کا حاصل ہے کہ ایوب (علیہ السلام) بہت خوشحال تھے کہ اللہ کی آزمائش آئی خاندان تک موت کی وادی میں اتر گیا ، کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ ایک بیوی باقی بچی اور خود بھی بیماری سے کام کرنے کے قابل نہ رہے تو ایک روز شیطان کسی طبیب کے روپ میں ان کی اہلیہ سے ملا اور علاج کے لیے کچھ کلمات سکھانا چاہے۔ انہوں نے آ کر ایوب (علیہ السلام) سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ تو ابلیس تھا اور اس کی یہ جرات کہ اب مجھ پر داؤ آزمانے چلا ہے آپ کو بہت دکھ ہوا خوب الحاح وزاری سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے صحت دے کہ میں اس کی چالوں سے تیرے بندوں کو بچانے کا کام کروں اور بیوی سے ناراض ہو کر قسم کھائی کہ صحت ہوگئی تو تجھے سو کوڑے ماروں گا۔ ارشاد ہوا کہ زمین پر پاؤں مارو جیسے ہی مرا چشمہ پھوٹ پڑا فرمایا اس سے غسل بھی کیجیے اور یہی آپ کے پینے کے لیے بھی ہے چناچہ آپ نے غسل فرمایا اور پانی پیا تو صحت یا ب ہوگئے ہم نے ان کا خاندان پھر سے بڑھا کر انہیں عطا کردیا اور مال و دولت بھی بلکہ پہلے سے دو چند کہ یہ ہماری رحمت و عطا تھی تاکہ دانشمندوں کے لیے باعث نصیحت بن جائے چونکہ ان کی اہلیہ نے ان کی بہت خدمت کی تھی اور وہ بےقصور تھیں چناچہ ہم نے انہیں یہ حیلہ تعلیم فرمایا کہ آپ تیلیوں کا مٹھہ جس میں سو تیلیاں ہوں ہاتھ میں لے کر انہیں ایک ہی بار مار دیں کہ آپ کی قسم بھی پوری ہوجائے اور انہیں تکلیف بھی نہ ہو اور اپنی قسم نہ توڑیں۔ حیلہ اور قسم : یہاں سے علماء نے ثابت فرمایا ہے کہ تکمیل عہد ووغیرہ کے لیے ایسا حیلہ کرنا کہ اس کے الفاظ کی تعمیل ہوجائے درست ہے مگر ایسا حیلہ جو احکام شرعی کو بےاثر کرتا ہو یا روکتا ہو جائز نہیں ہوگا۔ نیز قسم اگر غلط کام پر بھی لی تو ہوگئی اب اگر وہ نہیں کرنا چاہتا تو چھوڑ دے کہ پتہ چل گیا یہ ٹھیک نہیں مگر قسم کا کفارہ دے گا۔ ہم نے ایوب (علیہ السلام) کو بہت صبر کرنے والا پایا کہ دوسرے لوگوں کے لیے مثال بن گئے اور خوب بندے تھے ہمارے کہ ہر حال میں حق بندگی ادا کرتے رہے۔ آپ ابراہیم ، اسحقا اور یعقوب (علیہما السلام) کو یاد کیجیے کہ انہوں نے اپنی ساری توانائیاں عملی عقلی مالی بصری اللہ کی راہ میں صرف کردیں اور ہم نے انہیں یہ امتیاز بخشا کہ ہر کام ہی انہوں نے اپنے اصلی گھر یعنی آخرت کے گھر کے لیے کیا اور کبھی اسے بھولے نہیں یہ وہ لوگ تھے جو ہماری بارگاہ کے پسندیدہ اور منتخب تھے۔ اسی طرح اسمعیل (علیہ السلام) اور الیسع اور ذالکفل یہ کہ سب اللہ کے محبوب بندے تھے ان سب کے واقعات کا حاصل یہ ہے کہ واقعی اللہ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے بالآخربہترین ٹھکانہ ہے یعنی ہمیشہ اور دائم آباد رہنے ولای جنت کہ جو ان کی راہ دیکھ رہی ہے جہاں وہ گاؤ تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے پھل اور شاندار مشروب انہیں پیش کیے جا رہے ہوں گے نیز حد درجہ حسین با حیا اور نوعمر بیویاں ان کے پاس ہوں گی اور ارشاد ہوگا لو یہ وہ انعامات ہیں جن کا وعدہ روز حشر کا کیا گیا تھا اور یہ ہماری عطا ہے اب یہ کبھی کم نہ ہوگی نعمتیں بڑھیں گی کمی کا اندیشہ نہ رہے گا یہ حال تو ان لوگوں کا ہے مگر سرکشی اور نافرمانی کرنے والوں کا بھی سن لیں کہ بہت برا حال ہوگا ان کو دوزخ میں پھینکا جائے گا جو بہت ہی تکلیف دہ جگہ ہے اور کہا جائے گا کہ موج کرو اب کھولتا ہوا جہنم کا پانی اور دوزخیوں کے زخموں کی پیپ تمہاری غذا ہے یا اسی طرح کی دوسری اشیا۔ پھر پہلے والے پیچھے آنے والوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے لو اور ادیکھو ان پر اللہ کی مار ہو یہ اور ایک لشکر گھسا آ رہا ہے وہ کہیں گے اللہ کی مار ہو تم پر کہ تم ہی آگے چلے اور ہمیں بھی اس حال کو پہنچایا کہ تباہ کردیا یہ بہت ہی بری جگہ ہے پھر بعد والے دعا کریں گے کہ یا اللہ جو ہماری گمراہی کا سبب بنے اور ہمیں جہنم میں لے آئے انہیں دو گنا عذاب فرما۔ پھر سب کہیں گے یار وہ مسلمان جنہیں ہم دنیا میں بہت برا اور آج کی زبان میں دہشت گرد کہا کرتے تھے وہ کہیں نظر نہیں آ رہے کیا ہماری آنکھیں انہیں دیکھنے سے چکرا رہی ہیں یا پھر ہم مذاق اڑاتے رہے اور وہ اس مصیبت سے بچ گئے اور اہل دوزخ کے لیے دوزخ کے عذابوں کے علاوہ یہ بھی بہت بڑا عذاب ہوگا کہ مسلمانوں کے بچ جانے کا رنج اور ایک دوسرے پر الزام تراشی اور جھگڑا۔