25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 25:35–44

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی اور ہم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو (ان کا) معاون بنایا تھا

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

پھر ہم نے (ان دونوں کو) حکم دیا کہ دونوں ان لوگوں کے پاس جائیں جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا سو ہم نے ان کو بالکل ہی تباہ کردیا

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور قوم نوح (علیہ السلام) کو جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں غرق کردیا اور ان کو لوگوں کے لئے نشانی (نشان عبرت) بنا دیا اور ظالموں کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کررکھا ہے

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود اور کنویں والے اور ان کے درمیان بہت سی امتوں کو بھی (ہم نے ہلاک کردیا)

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور سب کو (سمجھانے کے لئے) ہم نے مثالیں بیان فرمائیں اور (نہ ماننے پر) ہم نے سب کو تہس نہس کردیا

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ (کفار مکہ) اس بستی پر ہو کر گزرے ہیں جس پر پتھر برسائے گئے تو کیا وہ اس کو دیکھتے نہ ہوں گے بلکہ ان کو (مرنے کے بعد) جی اٹھنے کی امید ہی نہیں

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑراتے ہیں (اور کہتے ہیں) کیا یہی شخص ہے جس کو اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اس شخص نے تو ہم کو ہمارے معبودوں سے ہٹا ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر (مضبوطی سے) قائم نہ رہتے اور جلد ہی ان کو معلوم ہوجائے گا جب عذاب کو دیکھیں گے کہ کون گمراہ تھا ؟

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

بھلا آپ نے اس شخص کا حال دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنارکھا ہے تو کیا آپ اس کی نگرانی کرسکتے ہیں ؟

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

یا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور اگر ان کی یہی دلیل ہو کہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ ہوا تو قبل ازیں موسیٰ (علیہ السلام) کو تو یکبارگی کتاب عطا ہوئی تھی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی معاون بنا دیا گیا اور دونوں کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا یعنی فرعون اور آل فرعون کی طرف جنہوں نے ہماری آیات اور عظمت کے دلائل کو ماننے اور سمجھنے سے انکار کر رکھا تھا مگر انہوں نے کب مان کردیا تھا حتی کہ معجزات تک کا انکار کیا اور اپنے کفر پر قائم رہے تاآنکہ قہر الہی نے انہیں برباد کر کے نام ونشان مٹا دیا یعنی غرق دریا ہوگئے اگرچہ فرعون نزول کتاب سے قبل ہلاک ہوا مگر بعد کے کفار نے بھی تسلیم تو نہ کیا اور یہ دلیل نہ مانی کہ یکبارگی نازل ہونے والی کتاب کو مانا جائے اور یہ ایک مثال ہی تو نہیں نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ جل جلالہ کے رسولوں کی تعلیمات کو ماننے سے انکار کردیا کہ عقائد تو سارے نبی وہی بیان فرماتے ہیں لہذا ایک کا انکار تمام انبیاء کرام ﷺ کی تعلیم کا انکار ہے ، چناچہ اس انکار کے نتیجہ میں یوں غرق ہو کر تباہ ہوئے کہ درس عبرت بن گئے یہ سزا اور برائی کا انجام تو دنیا کی زندگی میں تھا آخرت میں ایسے منکرین کے لیے ہم نے بہت درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے یہی حال عاد قوم ثمود اور اصحاب الرس یعنی کچے کنوؤں پر آباد قوم کا بھی ہوا اور بھی بہت سی اقوام جنہوں نے انبیاء کرام ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلایا اسی بربادی ہی سے دو چار ہوئیں ، ان سب کے لیے اللہ کریم نے بڑے موثر انداز میں اور مثالیں دے کر تعلیمات نازل فرمائیں مگر وہ نہ مانے اور یوں سب کے سب تباہی و بربادی ہی سے دو چار ہوئے اور یہ کفار جو آپ ﷺ کی تعلیمات کا انکار کر رہے ہیں اپنے تجارتی سفروں میں قوم لوط (علیہ السلام) کے تباہ شدہ کھنڈروں پر سے ہو کر گذرتے ہیں جن پر پتھر برسائے گئے تھے تو کیا یہ عبرت کے لیے کافی نہیں مگر انکی گمراہی کا سبب ان کا آخرت سے اور مرنے کے بعد زندہ ہونے سے انکار پر ہے انہیں یہ یقین ہی نہیں کہ پھر زندہ ہو کر جواب دینا ہے لہذا اس تباہی کو حادثات اور اتفاقات سمجھتے ہیں کفر و انکار کا وبال نہیں سمجھتے اور ان کے اندھے پن کا یہ حال ہے کہ آپ ﷺ کو دیکھ کر مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ذرا دیکھو تو انہیں اللہ جل جلالہ نے رسول مبعوث کردیا ہے یعنی دل کے اندھے ہیں آپ کا حسن و جمال نظر آتا ہے نہ آپ کے کمالات کی طرف دھیان جاتا ہے بلکہ اپنے معیار کے مطابق بڑے بڑے دنیا داروں ہی کی عزت کرتے ہیں ، ان کا خیال ہے کہ ان کے روساء میں سے کسی کو رسول ہونا چاہیے تھا اور کہتے ہیں کہ انہوں نے تو حد کردی اگر ہم ڈٹ کر نہ رہتے تو یہ ہمیں ہمارے بتوں سے ہٹا کر گمراہ کردیتے گویا خود کو ہدایت پر اور اللہ کے رسول ﷺ کو معاذ اللہ گمراہ سمجھتے ہیں ، ان کی یہ کج فہمی بہت جلد درست ہوجائے گی ، جب اللہ جل جلالہ کا عذاب ان کے روبرو ہوگا عذاب الموت بھی اور روز حشر بھی انہیں پتہ چل جائے گا کہ واقعی گمراہ کون ہے آپ ﷺ نے ان لوگوں کی زندگی کو مشاہدہ فرما لیا یہ سب اپنی خواہشات کے بندے ہیں اور کافرانہ رسومات جو مذہب کے نام پر گھڑی جاتی ہیں ان کا فلسفہ ہی یہی ہے کہ لوگوں کی خواہشات کو ان سے متعلق بنایا جاتا ہے اس بت کو پوجا کرو دولت مند ہوجاؤ گے یا فلاں رسم سے صحت ملے گی وغیرہ لہذا یہ دراصل اپنی خواہشات کے پجاری ہیں اور اپنی آرزوؤں کو معبود بنا رکھا ہے ، ایسے لوگوں کو ہدایت پر لانے کے آپ ﷺ ذمہ دار نہیں ہیں آپ ﷺ کا کام اللہ کا پیغام دینا ہے جسے سمجھنے کے لیے عقل و شعور کی ضرورت ہے جو یہ اپنے گناہوں کے باعث گم کرچکے اب نہ انہیں کوئی دلیل سنائی ہی دیتی ہے نہ ان میں غور وفکر کی استعداد باقی ہے بس چوپایوں کی زندگی گذار رہے ہیں کہ پیٹ بھر لیا رہنے کا ٹھکانہ مل گیا بچے پیدا کیے اور مر گئے یہ چوپایوں سے بھی بدتر ہیں کہ انسانی اوصاف عطا ہوئے تھے جنہیں گناہوں کی دلدل میں گم کر کے حیوانی زندگی کی سطح پر آگئے جیسے مغرب کا معاشرہ کہ انسانی رشتے تک قدر کھو چکے ہیں اور محض مال یا جنس کا رشتہ رہ گیا ہے اور حقیقی رشتے تک ان سے چھوٹ گئے جو زندگی کی راحتوں کا باعث تھے ۔
Ayahs 25:45–60

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) بھلا تو نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کیسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر وہ چاہتے تو اس کو ایک حالت پر ٹھہرا دیتے پھر ہم نے سورج کو اس (درازی وکوتاہی) پر ملامت مقرر فرمایا

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیا

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہی ذات ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پردہ اور نیندکو آرام بنایا اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت بنایا

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی ذات ہے کہ اپنی رحمت کی بارش سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتی ہے اور ہم آسمان سے پاک (نتھرا ہوا) پانی برساتے ہیں

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ ہم اس سے مردہ زمین میں جان ڈال دیں اور اپنی مخلوقات میں سے چارپایوں اور بہت سے آدمیوں کو سیراب کریں

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور ہم نے اس (قرآن) کو ان میں طرح طرح سے بیان فرمایا تاکہ نصیحت حاصل کریں سو بہت سے لوگ ناشکری کیے بغیر نہ رہ سکے

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں (انجام بد سے) ڈرانے والا بھیج دیتے

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

تو آپ کافروں کی بات نہ مانیں اور اس (قرآن) کے مطابق ان سے پوری قوت سے جہاد کیجئے

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی ذات ہے جس نے دو دریاؤں (کے پانی) کو (صورۃ) ملادیا۔ ایک (کاپانی) میٹھا ہے پیاس بجھانے والا اور ایک (کا) شور (اور) تلخ ہے اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی ذات ہے جس نے پانی (نطفہ) سے آدمی کو پیدا فرمایا پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا اور (اے مخاطب ! ) تیرا پروردگار بڑی قدرت والا ہے

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور (باوجود اس کے) یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ ان کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور کافر اپنے پروردگار کی مخالفت میں بہت زور مارتا ہے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کو صرف خوشی اور عذاب کی خبر سنانے کو بھیجا ہے

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف (جانے کا) راستہ اختیار کرے

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور اس (اللہ) زندہ پر بھروسہ رکھیں جو (کبھی) نہیں مرے گا اور اسکی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہیے اور وہ اپنے بندے کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس ذات نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے ، (سب کو) چھ دن میں پیدا فرمایا پھر عرش پر قائم ہوا ، وہ بڑا مہربان ہے پس اس کی شان کسی جاننے والے سے پوچھنا چاہیے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس بڑے مہربان (رحمن) کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ بڑا مہربان (رحمن) کیا چیز ہے۔ کیا ہم اس کو سجدہ کرنے لگیں جس (کو سجدہ کرنے) کو تم ہم کو کہتے ہو۔ اور ان کو اور زیادہ نفرت بڑھتی ہے

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے ہیں اگر چاہتا تو انہیں وجود ہی نہ بخشتا کہ وہ ایسا کرنے پر مجبور نہیں بلکہ اس کی صنعت کا کمال ہے اور وہ ایسا قادر ہے کہ اس نے رات بنا دی جو سارے نظام پر چھا جاتی ہے اور اس میں نیند کا موقع بخشا خود نیند کو پیدا فرمایا جو انسان کو آرام بخشتی ہے اور اس کے بدن کی کھوئی ہوئی توانائیاں دوبارہ بحال ہوجاتی ہیں اور ہمیشہ رات بھی نہیں رہتی اس کے بعد طلوع ہوتا ہے جو جاگ اٹھنے اور کام کاج کی دعوت دیتا ہے ، یوں ہر کوئی تازہ دم اٹھ کر کاروبارحیات پھر سے شروع کرتا ہے اگر یہ رشتے مجروح ہوں کہ رات دن کا آنا جانا درست نہ رہے بلکہ جو بھی مسلط ہوجائے جانے کا نام نہ لے کبھی برسوں رات مسلط رہے اور کبھی صدیوں دن ٹلنے کا نام لے تو انسانی زندگی کس قدر دشوار ہوجائے پھر ان بادلوں اور ہواؤں میں خشکی اور بارش میں ایک خوبصورت رشتہ اور تعلق پیدا فرما دیا اور وہ اتنا مضبوط رشتہ ہے کہ ایک خاص ہوا سے لوگ بارش کی نوید پاتے ہیں اور سمجھ جاتے ہیں کہ بارش ہونے والی ہے اور پھر واقعی بارش برستی ہے اور خوبصورت پاکیزہ صحت مند اور میٹھا پانی کتنی بلندیوں سے برسایا جاتا ہے جو سراپا حیات اور حیات آفریں ہوتا ہے کہ ہم اس سے مرادہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور اس میں سے سبزہ وگل اگلتے اور فصلیں اور پھل پیدا ہوتے ہیں اور جانداروں کے پینے کے کام آتا ہے اور بیشمار انسان بھی محض بارشی پانی پر گذارہ کرتے ہیں جہاں کوئی دریا وچشمہ نہیں ہوتا بارش وہاں بھی پانی پہنچانے کا سبب بن جاتی ہے یہ سارے کام رشتوں ہی کی وجہ سے خوبصورتی اور آرام سے انجام پاتے ہیں جو اللہ جل جلالہ نے عالم اسباب میں سبب اور نتیجے میں رکھ دئیے ہیں اور انہیں قائم رکھے ہوئے ہے جہاں کہیں اور جب کبھی اس نے ان میں ذرا سی تبدیلی فرمائی تو لوگوں پر تباہی آئی اور عذاب نازل ہوا ، کبھی طوفان میں غرق ہوئے تو کبھی بادلوں سے آگ برسی ، یہ سب رشتے اس بات کی کھلی دعوت دیتے ہیں اور بہت بڑی نصیحت ہیں کہ مالک اور بندے ہیں جو رشتہ ہے وہ بھی کس قدر اہم اور ضروری ہے پھر جبکہ مالک اپنی طرف سے بہت خوبصورتی سے نبھاتا ہے پیدا کرنے وجود اور قوتیں عطا کرنے میں جوانی طاقت مال و دولت دینے میں تو بندے کو بھی اپنا بندہ ہونے کا رشتہ نبھانا ضروری ہے اگر یہ توڑے گا تو انسانی حیات کس قدر پریشان اور تباہ کن ہوگی اور اکثر لوگوں نے انکار ، کفر اور اللہ کی ناشکری کرکے اس کو تباہ کردیا ہوا ہے اور حیات انسانی کو مصیبت و پریشانی میں ڈال رکھا ہے اب یہ کفر وناشکری دنیا میں بہت ہے اور اس کے نتیجے میں انسانی معاشرے میں بیشمار خرابیاں بھی ہیں جو بہت زیادہ کام ہے اگر ہم چاہتے تو ہر آبادی میں ایک نبی معبوث فرما دیتے جو ان لوگوں کو نافرمانی کے اثرات بد اور تکلیف دہ نتائج سے خبردار کرتا ، مگر اے حبیب ﷺ یہ سارا کام آپ ﷺ ہی کو کرنا ہے گویا نبی اکرم ﷺ کو وہ قوت عطا ہوئی علوم کا وہ بےبہا خزانہ عطا ہوا کہ ساری کائنات اور ساری انسانیت کی تمام خرابیوں کا حل اور سارے سوالوں کا جواب آپ ﷺ ہی کی ذات ہے چناچہ ارشاد ہوا کہ آپ کفار کی بات کو ذرا اہمیت نہ دیجئے کہ ان کا خیال ہے روئے زمین پہ تو کفر قابض ہے بھلا ایک بندہ اس کا کیا مقابلہ کرسکے گا بلکہ آپ ﷺ اپنے اللہ جل جلالہ کے ارشادات پورے زور شور سے اور پوری محنت سے بیان کرتے رہیے مفسرین کرام کے مطابق اس وقت تک جہاد کا حکم نازل نہ ہوا تھا لہذا اس کا معنی احکام الہی کو پہنچانے اور تبلیغ میں سخت محنت سے کیا گیا اور یہ بھی جہاد ہی کی ایک صورت ہے مگر آج جبکہ جہاد بالسیف کا حکم موجود ہے اسے چھوڑ کر صرف تبلیغ پہ قناعت کرنا ہرگز صحیح نہیں ہو سکتا وہ ایسا قادر ہے کہ اس نے دو طرح کے پانی بنا دیئے کڑوا اور میٹھا اور دونوں اسی دنیا میں اپنی اپنی خصوصیات کے ساتھ موجود ہیں کبھی ایک دوسرے کو مغلوب نہیں کرسکے کہ سب کڑوا ہوجائے بلکہ درمیان میں حد فاصل ہے جو انسان کو نظر نہ آئے مگر اپنا کام کر رہی ہے کہ تین حصے زمین پر گہرے سیاہ سمندر چھائے ہوئے ہیں جن کا پانی سخت تلخ اور کڑوا ہے مگر جب اللہ جل جلالہ چاہتا ہے تو بادل اٹھاتا ہے بارش برساتا ہے اور ٹھنڈے میٹھے پانی کے خوبصورت چشمے ندیاں ، نہریں جاری کردیتا ہے ، دریا بہا دیتا ہے چوٹیوں پر برف کے خزانے جمع کردیتا ہے کیا سمندر کی کڑواہٹ اس کی سیاہی یا اس کی کثرت اس عمل کو روک سکتی ہے ہرگز نہیں آپ ﷺ بھی اپنا کام جاری رکھیے جو قبول کریں گے اللہ جل جلالہ انہیں کفر کے سمندر سے نکال کر میٹھا چشمہ بنانے پر قادر ہے ، مفسرین کرام نے یہاں خوبصورت بحث لکھی ہے جو اپنی جگہ درست بھی ہے اور بہت مفید بھی کہ سمندر کی کڑواہٹ بھی اسی کی بنائی ہوئی اور دنیا کی آبادی کا سبب ہے مگر یہاں اس تفصیل کی گنجائش نہیں ہاں مفہوم عرض کیا جا رہا ہے ، اب کلام کا رخ انسان کی طرف ہوا کہ ایسے ہی اسباب وعلل سے انسانوں میں رشتے پیدا کردیے کہ نطفے سے وجود بخشا مگر ذرات کو نطفہ بننے تک اور نطفے سے انسان بننے تک کتنے انسانی رشتے قائم فرما دیئے کہیں والدین کی طرف سے اور کہیں پھر آگے سسرال اور اولاد کے باعث کہ اللہ جل جلالہ بہت بڑی قدرت کاملہ کا مالک ہے تو یہ سب رشتے اپنی اہمیت کے حامل ہیں جہاں یہ ٹوٹتے ہیں تو کس قدر تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں ایسے ہی خالق و مخلوق ، رب اور مربوب اللہ اور اس کے بندے کا رشتہ ہے یہ کیسے اللہ کو چھوڑ کر رشتہ عبدیت توڑ کر غیر اللہ کی عبادت کرنے لگتے ہیں جو اس رشتے کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والے نقصانات کا مداوا بھی نہیں کرسکتے اور اگر ان کی پوجا نہ کی جائے تو کچھ بگڑتا ہی نہیں کوئی رشتہ ہی نہیں ٹوٹتا کہ وہ اس کا حق ہی نہیں رکھتے ہاں یہ کفار بےنصیب ہیں اور انہوں نے اللہ کی طرف سے منہ ہی موڑ لیا ہوا ہے کہ اس کے ارشادات بھی نہیں سنتے نہ اس کی تخلیق اور نظام تخلیق میں فکر کرتے ہیں ۔ اور آپ ﷺ کا منصب جلیلہ تو یہ ہے کہ آپ ان بندوں کو بشارت دیں جو آپ ﷺ کی اطاعت کریں ایمان لائیں اور رشتہ بندگی بنائیں اور جو ان رشتوں کو توڑنے پہ تل گئے ہیں انہیں ان کے اس خطرناک کام کے انجام بد سے خبردار کریں اور آپ ﷺ ان سے فرما دیجئے کہ آپ ﷺ کو ان سے کوئی مال و دولت یا اقتدار وغیرہ کی خواہش نہیں ہے نہ ان سے کوئی اجرت لینا ہے بلکہ آپ ﷺ اللہ جل جلالہ کے رسول ہیں اسی کا کام آپ ﷺ کو کرنا ہے اسی سے آپ ﷺ کو بدلہ اور انعام لینا ہے لہذا آپ ﷺ کی خوشی تو اس میں ہے کہ ان میں سے بھی جو چاہے آپ ﷺ کی بات قبول کرکے اپنے رب سے رشتہ استوار کرلے جو اسی کے لیے فائدہ مند بھی ہے اور اس کی ضرورت بھی ، اگر کوئی آپ ﷺ کے ارشادات ماننے کو تیار نہیں تو آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑ رہا خود اپنا ہی نقصان کر رہا ہے ۔ آپ ﷺ صرف اللہ جل جلالہ پر بھروسہ کیجئے جو ہمیشہ زندہ ہے اور جس پر کبھی موت نہیں یعنی جس کی ذات پہ کوئی تبدیلی نہیں آسکتی جس کو کوئی سبب متاثر نہیں کرسکتا جو ہمیشہ سے قدرت کاملہ کا مالک ہے اور ہمیشہ کے لیے قادر ہے وہی ایک ذات بھروسے کے لائق بھی ہے اور جو ذوات خود تغیر پذیر ہیں وہ بھلا بھروسے کے قابل کیسے ہو سکتی ہیں آپ اسی کی عظمت بیان کیجئے اسی کے کمالات بیان کیجئے اور جو آپ ﷺ کی بات نہیں سننا چاہتے اور بدستور برائی کفر اور گناہ کا ارتکاب کیے جا رہے ہیں اللہ جل جلالہ ان سے خوب واقف ہے یہ حقیر بندے بھلا کہاں جائیں گے کہ سارا وسیع تر نظام ارض وسما اور ان کا سارا نظام اس نے چھ دن میں پیدا فرمایا ایسا قادر کہ جب چاہتا بغیر کسی دیر کے سب کچھ بن جاتا مگر اس نظام کی تخلیق تک میں ترتیب رکھی ، اوقات اور تبدیلیوں کا رشتہ قائم رکھا پھر عرش کو مرکز قرار دے دیا کہ سارے نظام کی ڈور وہاں سے ہلتی ہے ساری دعائیں ، آرزؤئیں تمنائیں ادھر کو اٹھتی ہی اور سارے احکام وہاں سے ملتے ہیں ، وہ بہت ہی بڑا رحمت کرنے والے ہے ، اے مخاطب ذرا جاننے والوں سے پوچھ پہلی کتابوں کے علماء سے اس کی عظمت شان کا پتہ لے مگر یہ تو ایسے بدک گئے ہیں کہ اگر انہیں اس عظیم اور بہت بڑی رحمت والی ذات کو سجدہ کرنے کا کہا جائے تو کہتے ہیں بھلا رحمن ہے کیا کس کی بات کرتے ہو اور کیا ہم ایسے گئے گذرے ہیں کہ آپ ﷺ جس کو کہیں ہم سجدہ کریں گے ہرگز نہیں اور یوں ان کے دلوں میں مزید کدورت بڑھتی ہے اور حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں ۔