14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 14:35–41

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار ! اس شہر کو امن کی جگہ بنادیجئے اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھیے

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ! بیشک انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے پھر جو شخص میرا کہا مانے سو یقینا وہ میرا ہے اور جس نے میری بات نہ مانی تو یقینا آپ بخشنے والے مہربان ہیں

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! بیشک میں نے اپنی اولاد کو آپ کے عزت والے گھر کے پاس (کف دست) میدان (مکہ) میں آباد کیا جہاں کھیتی بھی نہیں ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! تاکہ وہ لوگ نماز کا اہتمام رکھیں تو آپ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردیجئے اور ان کو پھل کھانے دیجئے تاکہ وہ (آپ کا) شکرکریں

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! بیشک آپ سب جانتے ہیں جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں۔ اور اللہ تے تو کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں (نہ) زمین میں اور نہ آسمان میں

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

اللہ کی تمام حمد (وثنا) سزاوار ہے جب نے مجھ کو بڑی عمر (بڑھاپے) میں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) (دو بیٹے) عطا فرمائے بیشک میرا پروردگار ! دعا کا بہت سننے والا ہے

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ! مجھ کو نماز قائم کرنے والا بنائیے اور میری اولاد میں سے بھی۔ اے ہمارے پروردگار ! اور میری دعا قبول فرمائیے

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! مجھ کو بخش دیجئے اور میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو جس دن حساب قائم ہوگا

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اہل مکہ اپنے کو اپنے آباؤ اجداد کا پیرو کہتے ہیں تو سب سے محترم ہستی ان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تھی اور اہل مکہ کو بھی انہی کی پیروی کا دعوی تھا تو ان کا حال تو یہ تھا کہ مکہ مکرمہ کا وجود نہ تھا جب اس بیابان ویرانے میں انہوں نے اپنے ننھے منے لخت جگر اور عمر بھر کی وفا شعار بیوی کو یہاں چھوڑا تھا تو دعا کی تھی کہ اے اللہ اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے بچا کر رکھئے ۔ (دعا کا طریقہ) حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں مقدم دنیا کا حال ہے اور وہ بھی بہت عجیب انداز ہے کہ پہلے تو اس ویرانے کی نہ صرف آبادی کی دعا کی بلکہ انداز یہ تھا کہ جیسے یہ شہر بس گیا ہو یہ آپ کی نگاہ نبوت دیکھ رہی تھی کہ اس عفیفہ اور ننھے اسمعیل کا قیام یقینا ایک بہت بڑے شہر کی بنیاد ہے تو دعا کی کہ اے پروردگار اس شہر کو شہر امن بنا دے کہ انسانی ضروریات میں سب سے مقدم امن ہے ، اسی کے حصول کی خاطر حکومت تشکیل پاتی ہے اور اسی کے لیے مجرم کو سزا دی جاتی ہے یا قصاص اور بدلہ دلوایا جاتا ہے کہ امن قائم رہے ، یہی صورت حال اطمینان سے زندگی بسر کرنے کے لیے بھی ضروری ہے اور اتنی ہی اس کی ضرورت میں سب سے مقدم امن ہے اسی کے حصول کی خاطر حکومت تشکیل پاتی ہے اور اسی کے لیے مجرم کو سزا دی جاتی ہے یا قصاص اور بدلہ دلوایا جاتا ہے کہ امن قائم رہے ، یہی صورت حال اطمینان سے زندگی بسر کرنے کے لیے بھی ضروری ہے اور اتنی ہی اس کی ضرورت دین کے قیام کے لیے ہے کہ جہاں سے امن اٹھ جائے وہاں دین کا قیام بھی ممکن نہیں رہتا ، لہذا کسی شہر یا ملک یا قوم یا معاشرے کی دینی اور دنیوی خوشحالی کا ضامن امن ہے جب تک امن قائم نہ ہو کوئی بھی اصلاحی اور فلاحی کام ہونا ممکن نہیں رہتا لہذا ایک شے طلب فرمائی اور وہ امن تھا دوسری شے سے بچنے کی دعا کی وہ بھی بہت جامع کہ مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے بچا اور محفوظ رکھ یہ دعا فرما کر ہر طرح کی گمراہی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی سے اور اس کی بنیادی سبب سے بچنے کی استدعا فرمائی ، ظاہر ہے کہ نبی تو معصوم ہوتا ہے لہذا آپ کو اپنے سے تو بتوں کی پوجا کا ڈر نہ تھا ، مگر دعا کا یہ قاعدہ بھی ارشاد فرما دیا کہ نیک لوگوں کو دعا میں شامل کرلینا اس کی قبولیت کا باعث ہوتا ہے اللہ کریم کی عظمت سے یہ بعید ہے کہ آدھی بات مان لیں اور باقی رد کردیں ، دوسری حکمت اس میں یہ بھی ہے کہ اہل اللہ کے نزدیک ہر وہ شے بت ہے جو اللہ جل جلالہ کی اطاعت سے روک دے جیسا کہ مولانا رومی (رح) کا ارشاد ہے ” ہر خیال شہوتے در رہ بتے ست “ کہ ہر ہو شہوانی خیال جو اللہ جل جلالہ کی راہ سے روکے بت ہے تو آپ نے ہر طرح کے بتوں کا اہتمام کرنے کا ذمہ دار بھی ہے ارشاد ہوا کہ بتوں سے بچنے کی استدعا اس لیے کر رہا ہوں کہ بیشتر انسانوں کو انہوں نے گمراہ کردیا آپ نے اپنی قوم کا حال بھی دیکھ رکھا تھا تو بت پرستی کے باعث گمراہی کا شکار ہوئی تھی نیز شرک اور غیر اللہ سے امید باندھنا ہی بخشش سے محرومی کا سبب بھی ہیں ورنہ بھول چوک یا چھوٹی موٹی خطا کا صدور تو انسان سے ہوجانا عجیب بات نہیں کہ انسان کبھی بھی فرشتہ نہیں ہوتا اور اگر اس کا رشتہ اپنے مالک سے قائم رہے تو غلطی پر نادم بھی ہوتا ہے اور اس کی اصلاح کے لیے کوشش بھی کرتا ہے ، لہذا آپ نے دو مختصر جملوں میں دنیا وآخرت کی ہر نعمت نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنی اولاد تک کے لیے اور شہر مکہ کے لیے طلب فرما لی مگر اس سب کے باوجود چونکہ انسان راستہ اختیار کرنے میں اپنی پسند کا مالک ہے ، لہذا یہ امکان تو اپنی جگہ پر تھا کہ کچھ لوگ میرا راستہ چھوڑ بھی دیں گے تو عرض کیا کہ جو لوگ تو میری پیروی کریں گے بارالہ وہ تو میرے ہی ہوئے مگر وہ بھی جو میری پیروی چھوڑ دیں تیرے بندے تو ہیں اور تو بخشنے والا بھی ہے اور مہربان بھی ، اگرچہ کافر کے لیے بخشش کی دعا کرنے کی اجازت نہیں مگر پیغمبرانہ شفقت کا کمال دیکھئے کہ اگرچہ بخشش کی دعا نہ کی مگر یہ ضرور عرض کردیا کہ اللہ تیری رحمت بھی تو ناپیدا کنار ہے لہذا طریق نبوت انسانیت سے شفقت اور ہمدردی ہے ۔ (دعا کو بار بار پیش کرنا چاہیے) آپ نے پھر سے وہی دعا دہرائی اور اسی حکیمانہ انداز میں پیش فرمائی کہ دعا کا سب سے پہلا قدم اطاعت الہی ہے یہ وطیرہ درست نہیں کہ آجکل کی طرح آدمی عملا تو نافرمانی کر رہا ہو اور دعائیں بڑے لمبی لمبی کرے بلکہ مقدم یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کرے جیسا کہ آپ نے زوجہ محترمہ اور بچے کو اس لق ودق صحرا میں چھوڑا اور واپس چل دیئے ، حدیث شریف کے مطابق جب وہ نظروں سے اوجھل ہوئے تو دعا کی کہ اے ہمارے رب اے ہماری سب ضروریات کے جاننے اور پورا کرنے والے میں نے تیرے ارشاد کی تعمیل میں اپنی اولاد کو ایک ویرانے میں چھوڑ دیا ہے ، تیرے حرمت و عظمت والے گھر کے پاس کہ بیت اللہ تو پہلے سے تھا حضرت آدم (علیہ السلام) نے تعمیر فرمایا تھا ، مدتوں اس کا طواف ہوتا رہا ، طوفان نوح (علیہ السلام) میں اٹھا لیا گیا مگر بنیادیں باقی رہیں اور جن قوموں میں پر عذاب آتا تھا ان کے بیشتر نبی بھی یہاں پہنچتے اور اس ٹیکری کا طواف کرتے رہے جن میں بیت اللہ کی بنیادیں تھیں ، اکثر کا وصال یہاں ہوا اور مرور زمانہ سے زمین میں دفن ہوگئے ، حضرت شیخنا المکرم (رح) فرمایا کرتے تھے کہ مطاف کے نیچے کم وبیش ننانوے انبیاء کشفا نظر آتے ہیں جو اسی طرح دفن ہوئے ، بہرحال اسی ٹیکری کے پاس آپ نے چھوڑا تھا ، لہذا عرض گذار ہوئے کہ میں اپنی اولاد کو تیرے گھر کے پاس تیری عبادت کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں لہذا تو اس ویرانے کو یوں آباد فرما کر اپنے بندوں میں سے کچھ کے قلوب اس کی طرف پھیر دے کہ یہ جگہ ہمیشہ آباد رہے اور ان کو پھلوں سے رزق دے کہ وہ تیرا شکر کریں ، اب دیکھئے دعا اور اس کے انداز میں کس قدر حکمتیں ہیں اول تو اللہ کے حکم کی تعمیل فرمائی اور تب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے پھر اللہ جل جلالہ سے تعلق اور بتوں سے اجتناب طلب فرمایا اللہ جل جلالہ کی عبادت پر قائم رہنے کی دعا کی تو ان کی دنیا کو نہ بھولے آبادی کے لیے سب انسانوں کے آنے کی دعا نہ کی ورنہ تو اچھا برا ، مومن کافر سب لوگ وہاں ٹوٹ پڑتے ، فرمایا من الناس یعنی کچھ لوگوں کے قلوب پھیر دے کہ کچھ سے مراد ہے اللہ جل جلالہ جن کو چاہے گا یقینا نہ چاہے جانے والوں کی نسبت بہتر ہوں گے تو یوں یہاں اچھے لوگ جمع ہوں گے پھر کوئی انہیں زبردستی نہ لائے گا بلکہ ان کے قلوب پھیر دیئے جائیں گے تو ان کا یہاں آنا اس شہر اور بیت اللہ سے محبت کا ہوگا جس میں فساد کا اندیشہ نہ ہوگا اور ان کے لیے رزق کی دعا کی تو پھل مانگے چشمہ یا زراعت نہ مانگی ورنہ تو اللہ قادر تھا ان پہاڑوں کو سر سبز کردیتا وہاں کھیتی باڑی ذرائع پیدا کردیتا مگر آپ نے تیار پھل مانگے کہ اب تک دنیا کا ہر پھل ہر موسم میں دستیاب ہے اور پھل ایسی جنس ہے کہ جس جگہ پر پھل تک دستیاب ہوں اور باہر سے آتے ہوں وہاں ضرورت زندگی کی دوسری چیزوں کی فراوانی ہوتی ہے اور ظاہر ہے جہاں اللہ جل جلالہ نعمتیں اس طرح آسانی سے اور فراوانی سے نصیب ہوں وہاں شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے تو شاید وہ شکر ادا کرسکیں ۔ سوائے ہمارے پروردگار تو خود بہتر جانتا ہے نہ صرف ان امور کو جو ہم عرض کرتے ہیں بلکہ ان کیفیات سے بھی خوب واقف ہے جو ہمارے دلوں پر وارد ہوتی ہیں وہ فطری غم واندوہ جو ایک ننھے منے لخت جگر اور وفا شعار صابر وشاکر اہلیہ کو اس لق ودق صحرا اور سنگلاخ پہاڑوں میں چھوڑنے اور ان کی جدائی سے جو دل پہ طاری ہے وہ تیرے علم میں ہے اور جو کلمات عرض کر رہا ہوں یا حضرت ہاجرہ ؓ نے عرض کیا کہ ” پھر وہ ہمیں ضائع نہ کرے گا “ ۔ تو سب سے واقف ہے یہ عرض معروض تو تجھ سے شرف ہمکلامی کا باعث ہے ورنہ ہمیں کیا چاہئے اور ہم کس حال میں ہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے نہ صرف ہماری ذوات و کیفیات کو بلکہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ سب تیرے علم میں ہے اور میں تو تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے بڑھاپے میں اور ایسی عمر میں جب اولاد کی بظاہر کوئی امید نہ تھی ، مجھے اسمعیل اور اسحاق جیسے فرزندوں سے نوازا بیشک میرا پروردگار دعائیں قبول فرماتا ہے یعنی آداب دعا میں سے ہے کہ اللہ جل جلالہ کی حمد بیان کی جائے پھر اپنی ضرورت عرض کی جائے اور پھر اس کے احسانات کا تذکرہ کیا جائے کہ پہلے سے حاصل شدہ نعمت کا تذکرہ کرنا شکر ادا کرنا ہوتا ہے جو قبولیت دعا کا باعث ہے ۔ اور پھر انجام کی طرف متوجہ ہوگئے گویا صرف دنیا ہی کے لیے دعا نہ کی جائے بلکہ ہر دعا میں اخروی فلاح اور نجات ضرور مانگنا چاہیے اور اس کا مدار چونکہ دنیا کی زندگی میں اطاعت پر ہے ، لہذا عرض کیا کہ اے مالک مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی اپنی عبادت پہ کار بند رہنے کی توفیق عطا فرما کہ یہ کام بھی تیری عطا کردہ توفیق ہی سے ممکن ہے اور اس دعا کو ضرور شرف قبولیت عطا کر نیز مجھے بخش دے میرے والدین کو اور ہر اس فرد کو جیسے ایمان نصیب ہوا محشر کی گھڑی میں اپنی بخشش سے ڈھانپ لے ، یہاں نجات طلب فرمائی تو ساتھ ایمان کی شرط بڑھا دی کہ جن لوگوں کا خاتمہ ایمان پر نہ ہو ان کے لیے نجات طلب کرنا جائز نہ تھا ۔
Ayahs 14:42–52

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور یہ خیال نہ کرو کہ یہ ظالم جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس سے باخبر نہیں۔ بیشک ان کو صرف اس روزتک مہلت دے رکھی ہے جس روز (ان کی) نگاہیں پھٹی رہ جائیں گی

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

اپنے سر اٹھائے ہوئے (میدان کی حشر کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نظریں خود ان کی طرف نہ لوٹیں گی (کہ اپنے حال کی خبر ہو) اور ان کے دل (مارے ڈر کے) ہوا ہو رہے ہوں گے

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور لوگوں کو اس دن سے ڈرائیے جب ان پر عذاب آئے گا تب ظالم لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہم کو تھوڑی سی مدت تک مہلت عطا فرمائیے تاکہ ہم آپ کا ارشاد (دعوت توحید) مان لیں اور پیغمبروں کی پیروی کریں (ارشاد ہوگا) تو کیا تم اس سے پہلے قسمیں نہ کھاتے تھے کہ تم کو کبھی زوال نہ ہوگا

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

اور تم ان (پہلے) لوگوں کی جگہوں میں رہے جنہوں نے اپنی جانوں پہ ظلم کیا اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا اور ہم نے تم سے مثالیں بیان فرمائیں

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور یقینا لوگوں نے اپنی بہت سی تدبیریں کیں اور ان کی تدبیریں اللہ کے سامنے تھیں اور وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

پس تم یہ گمان نہ کرنا کہ اللہ نے اپنے پیغمبروں سے جو وعدہ فرمایا ہے اس کے خلاف کریں گے بیشک اللہ زبردست (اور) بدلہ لینے والے ہیں

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان (بھی) اور سب لوگ اللہ واحد (اور) زبردست کے روبرو پیش ہوں گے

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور اس دن تم گنہگاروں کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھو گے

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے چہروں پر آگ لپٹی ہوگی

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

تاکہ اللہ ہر (مجرم) شخص کو اس کے کیے کی سزادیں بیشک اللہ بڑی جلدی حساب لینے والے ہیں

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے نام پیغام ہے تاکہ اس سے انہیں (انجام بد سے) ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہ اکیلا ہی معبود ہے اور تاکہ دانشمند لوگ نصیحت حاصل کریں

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف یہ نہ سمجھا جائے کہ جو لوگ کفر وشرک میں مبتلا ہیں آخر ان کا وقت بھی تو بسر ہو رہا ہے پھر اطاعت کرنے یا اطاعت کی توفیق طلب کرنے کی کیا ضرورت بلکہ یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جو لوگ ظلم میں مبتلا ہیں اللہ جل جلالہ ان کے حال سے بھی خوب واقف ہے ، انہیں صرف چند روزہ زندگی کی مہلت نصیب ہے جو اطاعت کے لیے بخشی گئی مگر وہ نافرمانی پہ ضائع کر رہے ہیں انہیں تب خبر ہوگی جب قیامت کا دن آجائے گا جو اتنا ہیبت ناک ہوگا کہ کفار کی آنکھیں پتھرا جائیں گی ، پلکیں تک جھپکنے سے رک جائیں گی اور سر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے حساب کتاب کی طرف جبکہ حیرت اور خوف سے آنکھ تک نہ جھپک سکیں گے اور دل سے ہول اٹھتے ہوں گے گویا دل میں دھواں بن کر اڑے جا رہے ہوں ، دنیا میں اگرچہ یہ لوگ خود کو بڑی عیش میں محسوس کرتے ہیں مگر حقیقتا یہ اپنے آپ کو بہت ہی ہیبت ناک عذاب کی طرف لے جا رہے ہیں ، آپ ان لوگوں کو اس دن کی سختی سے ضرور متنبہ فرمائے کہ جس روز یہ کہہ اٹھیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں ایک بار دنیا میں لوٹا دے اور دیکھ ہم کس طرح تیری دعوت قبول کرتے ہیں ، ہم تیرے رسولوں کی غلامی کا حق ادا کردیں گے تو ارشاد ہوگا تم دنیا سے گذر چکے تمہیں مہلت دی گئی تمہارے پاس اللہ جل جلالہ کے رسول آئے مگر تم اسی بات پہ اصرار کرتے رہے کہ ہمارا کچھ نہ بگڑے گا اور ہم مال و دولت اور دنیا میں مگن عیش ہی کرتے رہیں گے ، تمہیں یہ بھی خیال نہ گذرا کہ آخر جن بسیتوں میں تم بستے ہو یا جس دنیا میں تم رہتے ہو اس میں تم پہلے لوگ تو نہیں ہو تم سے پہلے یہاں لوگ آباد رہے اور ان میں بھی بڑے بڑے طاقتور اور نافرمان تھے پھر تم خوب جانتے ہو کہ ان کا انجام کیا ہوا اور اللہ جل جلالہ کے عذاب نے انہیں کس طرح نابود کردیا بلکہ تمہارے لیے مثال اور عبرت کا سبب بنا دیا ۔ یہ نہ سمجھو کہ انہوں نے کوئی تدبیر نہ کی وہ گی بلکہ انہوں نے بہت تدبیریں کیں ، حتی کہ پہاڑ تک اپنی جگہ سے ٹل جاتے مگر اللہ جل جلالہ کے سامنے ان کی نہ چل سکی یا یہ کہ تم اے کفار کیسی کیسی چالیں اسلام کو روکنے اور مسلمانوں کو ستانے کے لیے کرتے ہو کہ پہاڑ تک اپنی جگہ سے ٹل جائیں مگر جن قلوب میں اللہ جل جلالہ کا نام سما گیا ہے ان پر کوئی حیلہ کارگر نہیں ہوتا کہ اللہ جل جلالہ تمہیں ناکام کرنے پر قادر ہے ۔ اس غلط فہمی میں بھی نہ رہو کہ اللہ جل جلالہ نے جو وعدہ اپنے رسولوں سے کیا ہے کہ قیامت قائم کروں گا اور کفر کا انجام بہت برا ہوگا شاید اس طرح نہ ہو بلکہ ضرور ایسا ہی ہوگا کہ اللہ جل جلالہ بہت طاقت والا اور غالب ہے اور بدلہ لینے والا ہے بلکہ اس روز زمین وآسمان تک بدل دیئے جائیں گے یہ زمین ایسی نہ رہے گی کہ انسان کے لیے آرام ، پناہ یا غذا مہیا کرے بلکہ حدیث شریف کے مطابق اسے کھینچ کر برابر کردیا جائے گا جیسے ایک چٹیل میدان نہ آسمان اس طرح روشنیاں بکھیرنے والے یا بارش برسانے والے ہوں گے بلکہ دونوں کے اوصاف ایسے بدلیں گے کہ کفار کے لیے باعث عذاب اور مومنین کے لیے باعث راحت بن جائیں گے اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ ان کی ذات ہی بدل دی جائے اور نئی زمین پیدا کردی جائے جس میں یہ نئی خصوصیات ہوں اور لوگ صرف اور صرف اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے نکل کھڑے ہوں گے جو واحد ہے اور بہت زبردست ہے ۔ اے مخاطب تم اس روز مجرموں کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھو گے کہ جن اطوار کا مجرم ہوگا اس طرح کے دوسرے مجرموں کے ساتھ زنجیروں میں بندھا ہوگا ان کے لباس ایک آتش گیر مادے سے بنے ہوں گے اور آگ کے شعلوں نے ان کے چہروں تک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہوگا (العیاذا باللہ) ۔ یہ سب مجمع اس لیے ہوگا کہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے بلاشبہ اللہ جل جلالہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے ۔ یہ سب حالات جو پیش آنے والے ہیں لوگوں کو سنا دیجئے کہ ان کی آنکھیں کھل جائیں اور وہ جان لیں وہ اکیلا ہی معبود برحق ہے اور اسی کی اطاعت میں بہتری ہے تاکہ عقلمند لوگ ان حالات کو سن کر نصیحت حاصل کریں ۔