56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsانوار البیان

Ayah 56:41

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں

(56:41) واصحب الشمال ما اصحب الشمال۔ شمال ، جانب شمال، بائیں طرف اسم ہے۔ اشمل وشمل اس کی جمع ہے۔ آیت ہذا کا عطف آیت 27 پر ہے۔ اور جو بائیں طرف والے ہیں۔ ما اصحاب الشمال : میں ما استفہامیہ ہے یا استفہامیہ برائے تعجب ہے (ملاحظہ ہو آیت 8) مذکورہ بالا۔ اصحب الیمین کے متعلق آیت 27 کے تحت مختلف اقوال درج کئے گئے ہیں کہ ان کو اصحاب الیمین کیوں کہا گیا ہے۔ شمال : یمین کی ضد ہے۔ لہٰذا اصحاب الیمین کے خلاف صفات رکھنے والے اصحاب الشمال ہوں گے۔
Ayah 56:42

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

(یعنی دوزخ کی) لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں

(56:42) فی سموم وحمیم : یہ ھم (مبتداء محذوف) کی خبر ہے۔ سموم لو۔ تیز بھاپ ، وہ گرم ہوا جو زہر کا سا اثر کرے۔ سم بمعنی زہر۔ سموم مؤنث ہے : اس کی جمع سمائم ہے۔ حمیم نہایت کرم پانی ، گہرا دوست۔ دوست کو جو حمیم کہتے ہیں وہ اس لئے کہ وہ بھی دوست کی حمایت میں گرم ہوجاتا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ وہ جھلستی ہوئی لو اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔
Ayah 56:43

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں

(56:43) وظل من یحموم۔ اس آیت کا عطف آیت سابقہ پر ہے۔ یحموم : اسم ہے۔ بہت کالا دھواں ۔ یحموم برزن یفعول۔ حمم سے مشتق ہے ابن کیسان نے کہا ہے یہ دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ ترجمہ : ۔ وہ نہایت سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے۔
Ayah 56:44

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

(جو) نہ ٹھنڈا (ہے) اور نہ خوشنما

(56:44) لاباردو لاکریم۔ یہ ظل کی صفتیں ہیں۔ بارد، برد سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ ٹھنڈا۔ نہ (دوسرے سایوں کی طرح) ٹھنڈا۔ کریم خوش منظر۔ (الیسر التفاسیر) مرضی کے مطابق ٹھنڈی و کشادہ (روح المعانی) آرام دہ (ضیاء القرآن) ۔ جو سود مند نہ ہو اور نہ دیکھنے میں اچھا ہو۔ (تفسیر مظہری) دونوں ظل کی صفت ہیں۔ کرم اللہ کی صفت بھی ہے۔ انسان کی بھی ۔ فرشتے کی بھی قرآن کی بھی اور دوسری چیزوں کی بھی، اور سب کے معانی اختلاف ہے کریم : الکرم (باب کرم) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ لغات القرآن میں ہے :۔ امام راغب نے لکھا ہے :۔ کرم اللہ کی صفت بھی ہے، انسان کی بھی، فرشتے کی بھی، قرآن کی بھی اور دوسری چیزوں کی بھی، اور سب کے معانی میں اختلاف ہے :۔ (1) اللہ کے کرم سے مراد ہے مخلوق پر اس کا احسان و انعام ، مخلوق پر احسان کرتا ہے پیہم نعمتوں سے نوازتا ہے۔ (2) آدمی کے کرم سے مراد ہے اخلاق پسندیدہ ۔ خصائل حمیدہ، کردار کی خوبی اور ہر ذاتی شرف، آدمی کریم ہے یعنی اچھے کردار کا مالک ہے اس کے اندر محاسن ہیں، شرف ہے۔ ، بزرگی ہے۔ (3) ملائکہ کے کریم ہونے کے معنی ہیں دربار الٰہی میں ان کی عزت حرمت، و بزرگی، جیسے کراما کاتبین : عزت والے فرشتے جو انسانوں کے اعمال نامے لکھتے ہیں۔ (4) قرآن کریم، یا کتاب کریم، عزت و شرف والا قرآن یا کتاب۔ (5) رسول کریم، بزرگی والا پیغام بر۔ (جبرائیل) (6) قول کریم، نرم، اچھی بات، عاجزانہ کلام۔ (7) باقی اشیاء میں سے جس چیز کی صفت کریم ہوگی اس سے مراد ہوگا اس چیز کا اچھی صفات سے متصف ہونا۔ جیسے زوج کریم ہر عمدہ قسم، مقام کریم، عمدہ مقام۔
Ayah 56:45

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

یہ لوگ اس سے پہلے عیش نعیم میں پڑے ہوئے تھے

(56:45) قبل ذلک : اس سے قبل، دنیا میں۔ مترفین : اتراف (افتعال) مصدر سے اسم مفعول جمع مذکر بحالت نصب مترف واحد۔ ناز پروردہ، آسودہ حال لوگ۔
Ayah 56:46

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے

(56:46) کانوا یصرون ماضی استمراری، صیغہ جمع مذکر غائب۔ اصرار افعال مصدر۔ وہ اصرار کیا کرتے تھے۔ وہ اڑے رہتے تھے الحنث العظیم : موصوف و صفت۔ حنث گناہ، جھوٹی قسم، گناہ عظیم یعنی شرک، جھوٹی قسمیں، یعنی چھوٹی قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ ان کو دوبارہ زندہ کرکے نہ اٹھایا جائے گا۔ (آیات 47، 48 میں ان کی بعض قسمیں مذکور ہیں)
Ayah 56:47

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اٹھنا ہوگا

(56:47) وکانوا یقولون : ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب جس کا مرجع اصحب الشمال ہے۔ جیسا کہ اوپر ان کا بیان چلا آرہا ہے ائذا متنا وکنا تراباء انا لمبعوثون۔ ائذا : میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے اذا ظرف زمان ہے۔ ترابا وعظاما منصوب بوجہ خبر کنا۔ تراب خاک ، مٹی، اصل میں تراب خود زمین کا نام ہے۔ عظام عظیم کی جمع، ہڈیاں ء استفہام انکاری، لمبعوثون۔ لام تاکید کا مبعثونون اسم مفعول جمع مذکر، دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے ہوئے۔ بعث (باب فتح) مصدر بمعنی دوبارہ زندہ کرکے اٹھانا، بھیجنا۔
Ayah 56:48

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی ؟

(56:48) او اباء نا الاولون : أ ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے واؤ عاطفہ ہے۔ جس کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ ایء انا لمبعوثون واباء نا الاولون۔ کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ہمارے اولین باپ دادا بھی۔ جملہ استفہام انکاریہ ہے۔ اباء نا مضاف مضاف الیہ ہمارے آباء و اجداد۔ باپ دادے، الاولون ہم سے پہلے ، ہمارے اگلے، اسلاف۔ آیت 47 میں ائذا متنا اورء انا میں ہمزہ استفہامیہ کے تکرار کے متعلق اور آیت 48 میں واؤ عاطفہ پر ہمزہ استفہامیہ داخل کرنے کے متعلق بیضاوی میں ہے۔ ہمزہ کا تکرار بعث سے مطلقاً انکار کی دلیل ہے یعنی اگر ہمزہ کو دوبارہ نہ لایا جاتا تو انکار بعث محض مٹی اور ہڈیاں کے دوبارہ جی اٹھنے پر محدود رہ جاتا ہے یا میت کے مٹی اور ہڈیاں ہونے تک۔ بعث کے متعلق انکار کے لئے ہمزہ استفہامیہ انکاریہ کو دوبارہ لایا گیا ہے۔ ایسے ہی اواباء نا میں ہمزہ کو واؤ عاطفہ سے قبل لایا گیا۔ گویا کہ انہوں (منکرین بعث) نے کہا ہو کہ ہمیں اس سے انکار ہے کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جاویں گے۔ اور ہمارے باپ دادا کا دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جانا تو اس سے بھی زیادہ قابل انکار ہے۔
Ayah 56:49

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ بیشک پہلے اور پچھلے

(56:49) قل : (یعنی ان کے انکار کی تردید میں اور حق کی صداقت میں ان منکرین سے) کہئے (اے محمد ﷺ ) ان الاولین والاخرین۔ منصوب بوجہ عمل ان اگلے ، پچھلے۔
Ayah 56:50

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

(سب) ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے

(56:50) لمجموعون لام تاکید کا مجموعون اسم مفعول جمع مذکر۔ جمع (باب فتح) مصدر۔ اکٹھے کئے گئے (اکٹھے کے جائیں گے) اس کا تعلق آیت 49، سے ہے : ای ان الاولین والاخرین لمجموعون۔ بیشک پہلے اور پچھلے (سب) اکٹھے کئے جائیں گے۔ الی میقات یوم معلوم : ای لوقت یوم معلوم : ایک یوم معلوم کے وقت مقررہ پر۔ الی بمعنی لام ہے۔ میقات کسی کام کے لئے مقرر شدہ وقت یا جگہ۔ مثلاً میقات احرام یعنی احرام کے شروع ہونے کی مقررہ حد (یا جگہ) کہ اس حد سے آگے بغیر احرام کے جانا جائز نہیں میقات یوم میں اضافہ بحذف من ہے۔ جیسے خاتم فضۃ (خاتم من فضۃ) چاندی کی انگوٹھی۔ یوم معلوم موصوف و صفت ہے۔ مراد قیامت کا دن ہے۔
Ayah 56:51

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

پھر تم اے جھٹلانے والے گمراہو !

(56:51) ثم۔ حرف عطف ہے ماقبل سے مابعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ پھر۔ انکم : ان حرف مشبہ بالفعل۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر، بیشک تم، یہاں خطاب اہل مکہ سے ہے۔ یا خطاب عام ہے ہر گمراہ اور جھٹلانے والے سے۔ الضالون : ای الضالون عن الھدی۔ راہ ہدایت سے بھٹکے ہوئے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ ضلال (باب ضرب، مضاعف) مصدر بمعنی گمراہ ہوجانا۔ بہکنا۔ راہ سے دور ہوجا پڑنا۔ گم ہونا۔ ہلاک ہونا۔ ضائع ہونا۔ المکذبون : اسم فاعل جمع مذکر۔ تکذیب (تفعیل) مصدر۔ جھٹلانے والے ۔ تکذیب کرنے والے۔ مراد مکذبون بالبعث : دوبارہ جی اٹھنے کو جھٹلانے والے۔
Ayah 56:52

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

تھوہر کے درخت کھاؤ گے

(56:52) لاکلون : لام تاکید کا ہے۔ اکلون اسم فاعل جمع مذکر۔ اکل باب نصر۔ مصدر۔ کھانے والے۔ من شجر من رقوم : پہلا من ابتدائیہ ہے دوسرا من بیانیہ ہے (بیضاوی) من شجرۃ الزقوم کی بجائے من شجر من زقوم کہہ کر عبادت میں زور پیدا کیا گیا ہے۔ اور شجر کو نکرہ لاکر اس کی تنقیص کی ہے۔ ترجمہ آیات 51-52:۔ پھر تم اے گمراہ ہونے والو ! اے جھٹلانے والو (ضرور بالضرور حکما) تھوہر کے درخت کو کھاؤ گے۔
Ayahs 56:53–54

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

پھر اسی سے پیٹ بھرو گے

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے

(56:53) فما لئون :عاطفہ ہے۔ مالئون اسم فاعل جمع مذکر۔ ملأ (باب فتح) مصدر۔ م ل ء حروف مادہ ۔ بمعنی بھرنا۔ الملأ: اس جماعت کو کہتے ہیں جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حسن و جمال سے اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھر دے۔ سردار۔ مالئون تم بھرنے والے ہوگے۔ تم بھرو گے (اس کو کھاکر) ۔ منھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب شجر کے لئے ہے جو اسم جنس ہے اور مذکر و مؤنث ہر دو طرح استعمال ہوتا ہے۔ جیسے کہ اگلی آیت میں علیہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائبشجر کی طرف راجع ہے۔ البطون : بطن کی جمع ۔ پیٹ، بطن، منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔
Ayah 56:55

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

اور پیو گے بھی تو اس طرح جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں

(56:55) فشربون :عاطفہ، شربون اسم فاعل جمع مذکر۔ شرب (باب سمع) مصدر۔ پینے والے (بنوگے) یا پئو گے۔ شرب الیہم : شرب مفعول۔ اسم مصدر۔ مضاف، الیہم مضاف الیہ جمع اھیہم واحد مذکر۔ اور ھیماء واحد مؤنث کی، ھیام۔ اونٹ کا مرض استسقاء جس سے وہ پانی پی پی کر مرجاتا ہے۔ الہیم : ان اونٹوں کو کہتے ہیں جن کو استسقاء کا مرض لگا ہوا ہو، فشربون شرب الہیم : تم اس طرح (پیٹ بھر بھر کر) پئو گے جیسا کہ استسقاء کے مریض اونٹ پیتے ہیں۔
Ayah 56:56

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہوگی

(56:56) ھذا یہ۔ بمعنی زہریلی لو۔ کھولتا ہوا پانی (آیت 42) سیاہ دھوئیں کا سایہ (آیت 43) زقوم کا درخت کھانے کو (آیت 52) اس پر کھولتا ہوا پانی (آیت 54) نزلہم : مضاف مضاف الیہ۔ جزاو سزا کا دن۔ ضیافت کا طعام۔ نزلہم ان کی مہمانی کا کھانا۔ یوم الدین : مضاف مضاف الیہ ۔ جزا و سزا کا دن۔ یعنی قیامت۔ یوم بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ یہاں اصحب الشمال کے عذاب کا بیان ختم ہوا۔
Ayah 56:57

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ Open ayah 56:57 in the Quran reader

ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے، تو تم (دوبارہ اٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے ؟

(56:57) لولاکیوں نہیں۔ ای ہلا۔ جب لولا اس معنی میں آئے تو اسکے بعد متصلاً فعل کا آنا ضروری ہے۔ جیسے آیت ہذا۔ یا۔ لولا ارسلت الینا رسولا (27:47) تو نے ہماری طرف پیغمبر کیوں نہ بھیجا۔ یا ۔ لولا یکلمنا اللہ (2:118) خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا تصدقون۔ مضارع جمع مذکر حاضر تصدیق (تفعیل) مصدر، تم تصدیق کرتے ہو۔ تم سچ مانتے ہو۔ فلولا تصدقون : پھر تم کیوں سچ نہیں مانتے ہو۔ یعنی جب تم کچھ نہ تھے تو تم کو اس نے پیدا کیا۔ پھر تم دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنے کی تصدیق کیوں نہیں کرتے۔
Ayah 56:58

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ Open ayah 56:58 in the Quran reader

دیکھو تو کہ جس (نطفے) کو تم (عورتوں کے رحم میں) ڈالتے ہو

(56:58) افرأیتم : ہمزہ استفہامیہ ہےعاطفہ اس کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ رائیتم بمعنی علمتم : مطلب ہے کیا بھلا تم جانتے ہو ؟ کیا تمہیں معلوم ہے ؟ بھلا بتاؤ تو۔ بھلا دیکھو تو۔ بھلا تم نے غور سے دیکھا ہے ؟ ما تمنون : ما موصولہ، تمنون جملہ فعلیہ۔ صلہ اپنے موصول کا ۔ موصول و صلہ مل کر ارائیتم کا مفعول ۔ تمنون مضارع جمع مذکر حاضر، امناء (افعال) مصدر بمعنی منی ٹپکانا۔ نطفہ ڈالنا۔ بھلا دیکھو تو جو تم (جماع کے وقت عورتوں کے رحم میں) منی ٹپکاتے ہو یا نطفہ ڈالتے ہو۔
Ayah 56:59

ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ Open ayah 56:59 in the Quran reader

کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں ؟

(56:59) ء انتم تخلقونہ : ء استفہامیہ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جو ما موصولہ آیت 58 کی طرف راجع ہے۔ تخلقون مضارع جمع مذکر حاضر۔ خلق (باب نصر) مصدر۔ تم پیدا کرتے ہو ؟ کیا تم اس کو (انسان کی صورت میں) پیدا کرتے ہو۔ ام : یا (ہم پیدا کرنے والے ہیں) ۔ یقینا تم تخلیق بشر نہیں کرتے ہم ہی کرتے ہیں۔
Ayah 56:60

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ Open ayah 56:60 in the Quran reader

ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں

(56:60) قدرنا ماضی جمع متکلم۔ تقدیر (تفعیل) مصدر سوچ سمجھ کر غور کرکے اندازہ کیا۔ ہم نے مرنے کو تمہارے درمیان اندازہ کر دہا۔ ٹہرا دیا موت تمہارے درمیان حساب کے ساتھ مقرر کردی کوئی اس کو کم و بیش نہیں کرسکتا۔ مسبوقین : اسم مفعول جمع مذکر سبق (باب نصر) مصدر پیچھے چھوڑے گئے یعنی جن کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے آگے بڑھ جائیں سبقت لے جائیں۔ مراد عاجز۔ نحن کو قدرنا سے پہلے لانا مفید حصر ہے اور مفید اختصاص ہے یعنی موت کی تقدیر و توقیت ہمارا ہی کام ہے جیسے تخلیق صرف ہمار ہی فعل ہے اور کوئی اسے نہیں کرسکتا ۔ وما نحن بمسوقین جملہ حالیہ ہے۔ بحالیکہ کوئی ہم سے موت کے معاملہ میں سبقت نہیں رکھتا۔ اور ہم مغلوب نہیں ہیں۔ کوئی ہم پر غالب نہیں ہے یا یہ جملہ معترضہ ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا۔ کہ کوئی ہم کو عاجز نہیں کرسکتا کہ موت سے بھاگ جائے یا وقت موت کر بدل دے ۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 56:61

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 56:61 in the Quran reader

کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کردیں

(56:61) علی ان تبدل امثالکم : ان مصدریہ ہے نبدل مضارع معروف جمع متکلم۔ تبدیل (تفعیل) تمہارے عوض میں لے آئیں۔ یعنی تمہاری جگہ اور تم جیسے آدمی پیدا کردیں۔ امثالکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری طرح کے۔ تم جیسے ، تمہاری مثل۔ علامہ پانی پتی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں :۔ یہ قدرنا کے فاعل سے حال ہے یعنی ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقدر کردیا ہے۔ اور ہم اس امر پر قادر ہیں کہ تمہاری جگہ تمہارے عوض دوسروں کو لے آویں۔ یا قدرنا سے اس کا تعلق ہے اور علی بمعنی لام (یعنی لام علت) کے ہے اور علی علت ہے ان قدرنا کی۔ یعنی ہم نے موت کو تمہارے لئے مقدر کردیا ہے اس لئے کہ تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئیں۔ یا مسبوقین سے اس کا تعلق ہے یعنی ہم مغلوب نہیں ہیں کہ تمہارے عوض تمہاری جگہ دوسروں کو لانے کی ہم کو قدرت نہ ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امثال بمعنی مقام و مکان نہ ہو بلکہ اس کا معنی ہو صفت و حالت یعنی ہم اس امر سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری حالت اور صفت کو بدل دیں۔ اور مرنے کے بعد تم کو ان احوال میں پیدا کریں جن کو تم نہیں جانتے۔ یعنی ثواب و عذاب۔ مثل بمعنی صفت۔ دوسری آیت میں آیا ہے فرمایا : مثل الجنۃ التی وعد المتقون (13:35) جس باغ کا جنتیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ ۔۔ الخ۔ وننشئکم فی مالا تعلمون : واؤ عاطفہ ننشئکم، ننشئی مضارع جمع متکلم انشاء (افعال) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ہم تم کو پیدا کردیں یا ہم تم کو پیدا کردیں گے۔ فی ای فی الھیئۃ والحالۃ ما موصولہ لا تعلمون صلہ۔ یعنی ہم تم کو ایسی ہیئت و حالت میں پیدا کردیں کہ جن کو تم جانتے بھی نہیں ہو۔
Ayah 56:62

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 56:62 in the Quran reader

اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟

(56:62) النشاۃ الاولی موصوف و صفت، پیدائش اول (یعنی کس طرح ایک جرثومہ حقر سے تمہارا آغاز ہوا اور کن مختلف مدارج سے گزر کر تمہیں ایک مکمل انسان بہمہ صفت موصوف بنایا۔ فلولا تذکرون ۔ ۔ لولا۔ ہلا کیوں نہیں۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 57 متذکرہ بالا۔ تذکرون ۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تذکر (تفعل) مصدر۔ تم نصیحت پکڑتے ہو۔ تم دھیان رکھتے ہو۔ پھر تم کیوں نہیں نصیحت پکڑتے۔ پھر کیوں تم سبق نہیں لیتے (کہ جو ذات تمہاری نشاۃ اولیٰ پر قادر ہے وہ تمہارے مرنے کے بعد نشاۃ اخری پر بھی قدرت رکھتا ہے
Ayah 56:63

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ Open ayah 56:63 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو کچھ تم بوتے ہو

(56:23) افرائیتم ملاحظہ ہو آیت 58 متذکرۃ الصدر۔ و آیت (2:44) بھلا دیکھو تو ۔ بھلا تم نے (غور) سے دیکھا ہے۔ ما تحرثون : ما موصولہ تحرثون جمع مذکر حاضر۔ حرث (باب نصر) مصدر بمعنی بونا۔ صلہ۔ جو تم بولتے ہو۔ حرث کھیتی، حاصل مصدر۔ فائدہ : آیت 57 سے لے کر آیت 74 تک دلائل حشر و توحید بیان فرمائے ہیں۔ آیت 57 سے 62 تک انسان کی پیدائش کے متعلق بیان ہے۔ فرمایا : انسان کی تخلیق و تصویر میں مطلقاً خدا تعالیٰ ہی کو قدرت ہے۔ پھر فرمایا : وہ اگر نشاۃ اولیٰ پر قادر ہے تو نشاۃ ثانیہ اس ہی کے ہاتھ میں ہے آیت 63 سے لے کر 67 تک کھیتی اور نباتات کے اگانے اور اس کو پھول و پھل سے بار آور کرنے کے متعلق ہے۔ آیت 68 سے 70 تک پانی کے متعلق آیت 71 سے 74 تک آگ کے متعلق بیان کرکے فرمایا فسبح باسم ربک العظیم۔
Ayah 56:64

ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ Open ayah 56:64 in the Quran reader

تو کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اسے اگاتے ہیں ؟

(56:64) ء انتم تزرعونہ جملہ استفہامیہ انکاری ہے تزرعون مضارع جمع مذکر حاضر زرع (باب فتح) مصدر سے (تم اگاتے ہو) ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ما موصولہ کے لئے ہے۔ حرث دانہ کو زمین میں بکھیرنا۔ بونا ۔ زرع : زمین میں بکھرے ہوئے یا بوئے ہوئے دانہ کا اگانا۔ اس کی پرورش کرکے اس کو بڑھانا۔ اور اس کی غایت تک اس کو پہنچانا۔ آدمی کا کام محض بونا ہے اور اس کو اگانا۔ اس کی پرورش کرنا خدا تعالیٰ کے اختیار و قدرت میں ہے ام بمعنی بل یعنی بوئے ہوئے دانہ کو اگانا۔ پرورش کرکے اس کی غایت تک لے جانا ہماری قدرت میں ہے اس کی زراعت تم نہیں کرتے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فلینظر الانسان الی طعامہ انا صببنا الماء صبا : ثم شققنا الارض شقا فانبتنا فیہا حبا وعنبا وقضبا وزیتونا ونخلا وحدائق غلبا وفاکھۃ وابا متاعا لکم ولانعامکم (80:24-32) انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے۔ بیشک ہم ہی نے پانی برسایا۔ پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا۔ اور انگور اور ترکاری اور زیتون اور کھجوریں اور گھنے گھنے باغ۔ اور میوے اور چارہ (یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لئے بنایا۔ الزارعون : اسم فاعل جمع مذکر زرع (باب فتح) مصدر سے ۔ کھیتی کرنے والے۔
Ayah 56:65

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ Open ayah 56:65 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ

(56:65) لونشاء لجعلنہ حطاما : لو حرف شرط نشاء مضارع جمع متکلم مشیۃ (باب فتح) مصدر۔ ہم چاہیں۔ نشاء کا مفعول محذوف ہے ای لو نشاء تحطیم ذلک الزرع اگر ہم اس کھیتی کو چورا چورا کرنا چاہیں ۔ یہ جملہ شرطیہ ہے لجعلنہ حطاما جواب شرط ہے۔ لام جواب شرط کے لئے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر الزرع کے لئے ہے۔ حطاما ریزہ ریزہ ، چورا چورا۔ روندن۔ جو چیز چورا چورا ہوکر ریزہ ریزہ ہوجائے اور روندی جانے لگے اسے حطام کہتے ہیں ۔ یہ حطم باب ضرب سے مشتق ہے۔ حطہ روندنا۔ توڑنا۔ ریزہ ریزہ کرنا۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ادخلوا مسکنکم لا یحطمنکم سلیمن و جنودہ (27:18) اپنے اپنے بلوں میں داخل ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ (حضرت) سلیمان (علیہ السلام) اور اس کا لشکر تم کو روند ڈالے۔ اور جگہ بمعنی بھڑکائی ہوئی آگ آیا ہے جیسے :۔ وما ادرک ما الحطمۃ نار اللہ الموقدۃ التی (104:5-6) اور آپ کو کیا سمجھائے کہ الحطمۃ کیا ہے وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ ھطاما مفعول ثانی ہے جعلنا کا۔ فظلتم : اصل ظللتم تھا۔ چونکہ دو لاموں کا اکٹھا ہونا طقیل تھا اور پھر کسرہ میں اور بھی ثقل تھا۔ تو لام اول کو ساقط کعر دیا گیا اور ظاء اپنے فتحہ پر باقی رہا۔ ظل بمعنی صرتم۔ تم ہوگئے۔ تم سارا دن لگے رہو۔ تم برابر لگے رہو۔ ظل میں اکثر دن کا مفہوم پایا جاتا ہے جیسے کہ بات میں رات کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ ظلتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ ظل و ظلول (باب سمع) مصدر سے۔ تفکھون : مضارع جمع مذکر حاضر۔ تفکہ (تفعل) مصدر۔ مختلف علماء نے اس کے مختلف معانی کئے ہیں :۔ (1) بیضاوی کہتے ہیں کہ تفکہ طرح طرح کے میووں سے نقل کرنے کو کہتے ہیں۔ اور بطور استعارہ نقل مجلس کے لئے باتیں بنانے کو بھی تفکہ کہتے ہیں۔ (2) عطاء کلبی، مقاتل اور فرار نے یہاں تعجب کے معنی کئے ہیں۔ (3) مجاہد، حسن بصری، قتادہ نے اس کا ترجمہ تندمون کیا ہے یعنی تم نادم ہونے لگو۔ (4) عکرمہ نے باہم ملامت کرنے اور الاہنا دینے کے معنی کئے ہیں۔ (5) کسائی نے تصریح کی ہے کہ تفکہ مافات پر افسوس کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ لغت اضداد میں سے ہے۔ اہل عرب تفکہ کا استعمال تنعم اور عیش کوشی کے لئے بھی کرتے ہیں۔ غم اور تاسف کے لئے بھی۔ (6) حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ تفکہ بروزن تفعل ہے یہ تاثم کی طرح ہے جس کے معنی اثم کو دور کردینے یعنی گناہ سے علیحدہ ہوجانے کے ہیں۔ پس تفکہ کے معنی ہوئے اس نے ” فاکہ “ کو دور کردیا یعنی وہ میووں کے مزہ سے جدا ہوگیا۔ اور جو شخص کہ نادم و غمگین ہوتا ہے اس کا بھی ہی حال ہوتا ہے کہ وہ مزوں سے دور رہتا ہے۔ تفکھون اصل میں تتفکھون تھا ایک تاء حذف ہوگئی۔ آیت کا مطلب یہ ہے :۔ اگر ہم چاہیں کہ کھیتی کو چورا چورا بنادیں وہ نہ تمہاری خوراک بن سکے نہ تمہارے چوپایوں کا چارہ پھر تم کف افسوس ملتے رہ جاؤ۔ وقال بعض العلمائ : تفکھون بعمنی تندمون علی ما خسرتم من الانفاق علیہ کقولہ تعالیٰ فاصبح یقلب کفیہ علی ما انفق فیہا (18:42) ۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ :۔ تفکھون کے معنی ہیں جو کچھ اس نے اس کھیتی پر خرچ کیا تھا اور اس کے چورا چورا ہونے پر جو وہ خرچ ضائع ہوگیا اس پر نادم ہونا اور کف افسوس ملنا۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے الآیۃ (18:42) ۔ ترجمہ :۔ جو کچھ اس نے (اپنے باغ پر) خرچ کیا تھا (اس کے ضائع ہونے پر) کف افسوس ملتا رہ گیا۔
Ayah 56:66

اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ Open ayah 56:66 in the Quran reader

(کہ ہائے) ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئے

(56:66) انا لمغرمون : یہ جملہ اور اگلا جملہ تفکھون کے فاعل سے حال ہے۔ ای قائلین انا لمغرمون۔ لام تاکید کا ہے مغرمون اسم مفعول جمع مذکر اغرام (افعال) مصدر۔ غرم مادہ۔ تاوان زدہ۔ الغرم (مفت کا تاوان یا جرمانہ) وہ مالی نقصان جو کسی جرم یا خیانت کا ارتکاب کئے بغیر انسان کو اٹھانا پڑے۔ انا لمغرمون (ہائے) ہم صفت کے تاوان میں پھنس گئے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ فھو من مغرم مثقلون (52: 40) کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ جو تکلیف یا مصیبت انسان کو پہنچتی ہے اسے غرام کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے ان عذابھا کان غراما (25:65) کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔
Ayah 56:67

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 56:67 in the Quran reader

بلکہ ہم ہیں ہی بدنصیب

(56:67) بل نحن مخرومون : بل حرف اضراب ہے ما قبل کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کرنے کیلئے آیا ہے۔ یعنی (ہائے) ہم مفت میں تاوان میں پھنس گئے اور نہ صرف اپنے خرچ کردہ مال پر بھی گھاٹے میں رہ گئے بلکہ بالکل ہی محروم ہوگئے۔
Ayah 56:68

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ Open ayah 56:68 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو پانی تم پیتے ہو

(56:68) افرائیتم ۔۔ الخ ملاحظہ ہو آیت نمبر 58 متذکرہ الصدر۔
Ayah 56:69

ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ Open ayah 56:69 in the Quran reader

کیا تم نے اسکو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں ؟

(56:69) ء انتم : ہمزہ استفہامیہ۔ ام بمعنی یا ہے کیا تم ۔۔ یا ہم نازل کرنے والے ہیں ۔
Ayah 56:70

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 56:70 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے ؟

(56:70) لو نشاء جملہ شرطیہ ہے۔ جعلنہ اجاجا جواب شرط۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب المزن کی طرف راجع ہے۔ اجاجا مفعول ثانی جعلنا کا سخت گرم اور سخت کھاری پانی ۔ اج ج مادہ۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج (25:53) ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا۔ اور دوسرے کا کھاری چھاتی جلانے والا۔ یہ اجاج : اجیج النار (شعلہ نار یا اس کی شدید تپش اور حرارت) واج تھا وقد اجت (میں نے آگ بھڑکائی اور ہو بھڑک اٹھی) وغیرہ محاورات سے ماخوذ ہے۔ فلولا : فہلا پھر کیوں نہیں ۔سببیہ ہے ۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 57 متذکرہ الصدر۔ تشکرون : مضارع جمع مذکر حاضر۔ شکر (باب نصر) مصدر سے۔ تم شکر کرتے ہو۔ تم احسان مانتے ہو۔
Ayah 56:71

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ Open ayah 56:71 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو

(56:71) افرأیتم : ملاحظہ ہو آیت 58 متذکرۃ الصدر۔ التی تورون : التی اسم موصول واحد مؤنث، تورون صلہ۔ مضارع صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایراء (افعال) مصدر سے۔ تم سلگاتے ہو۔ تم روشن کرتے ہو۔ ابراء کے معنی چقماق سے آگ نکلانے کے ہیں۔ واریت کذا۔ کے معنی کسی شے کو چھپانے کے ہیں۔ جیسے کہ کلام پاک میں آیا ہے :۔ قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم (7:26) ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے۔ بطور فعل لازم تواری بمعنی چھپ جانا ہے۔ جیسے کہ آیت حتی توارت بالحجاب (38:32) یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا۔ اور وری یری وری۔ چقماق کا آگ دینا۔ گویا اس میں آگ کے پوشیدہ ہونے کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ وری حروف مادہ۔
Ayah 56:72

ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ Open ayah 56:72 in the Quran reader

کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟

(56:72) ء انتم میں ہمزہ استفہامیہ ہے۔ کیا ؟ انشاتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ انشاء (افعال) بمعنی پرورش کرنا۔ پیدا کرنا۔ (کیا) تم نے پیدا کیا۔ شجر تھا : مضاف مضاف الیہ۔ شجرۃ درخت ۔ واحد مؤنث ہے۔ اس کی جمع شجرت آتی ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اس کا درخت ۔ یعنی وہ آگ جس کو تم سلگاتے ہو اس کا درخت۔ (عرب دو لکڑیوں کو رگڑ کر آگ سلگاتے تھے ایک لکڑی کو دوسری لکڑی کے اوپر رکھتے تھے اور اس طرح رگڑ کر آگ برآمد کرتے تھے اوپر والی لکڑی کو زند اور نیچے والی کو زندہ کہتے تھے۔ شجر تھا : اس آگ کا درخت یعنی مرخ اور عقار۔ مرخ کو اوپر سے رگڑتے تھے دونوں لکڑیاں ہری ہوتی تھیں۔ دونوں کے رگڑنے سے پانی نکل آتا تھا اور آگ روشن ہوجاتی تھی۔ ام۔ بمعنی یائ۔ المنشئون : اسم فاعل جمع مذکر۔ انشاء (افعال) مصدر سے پیدا کرنے والے پرورش کرنے والے۔
Ayah 56:73

نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ Open ayah 56:73 in the Quran reader

ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے

(56:73) جعلناھا۔ میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب النار کے لئے ہے۔ تذکرۃ : یاد دہانی۔ نصیحت ، یاد کرنے کی چیز، بروزن تفعلۃ (باب تفعیل) کا مصدر ہے ۔ جعلنا کا مفعول ثانی۔ ومتاعا فائدہ اور تمتع کی چیز۔ اسباب خانہ۔ جمع امتعۃ۔ کلام کے وزن پر۔ باب تفعیل سے مصدر ہے۔ جعلنا کا مفعول ثالث۔ المقوین : اسم فاعل جمع مذکر۔ مجرور۔ المقوی واحد۔ اقواء (افعال) مصدر قواء یاقوۃ ماخذ۔ اس لفظ کے ترجمہ میں اہل تفسیر کا اختلاف ہے :۔ حضرت علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں :۔ مقوین کا ترجمہ کیا گیا ہے مسافر۔ یہ لفظ قواء سے مشتق ہے قواء کا معنی ہے ویران، بیابان۔ جہاں کوئی عمارت نہ ہو۔ آبادی سے دور۔ سو مسافروں کو بہ نسبت اہل اقامت آگ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ درندوں اور جنگلی جانوروں سے حفاظت کے لئے وہ اکثر اوقات رات کو آگ روشن رکھتے ہیں (کہیں ٹیلے یا پہاڑی پر) آگ جل رہی ہو تو مسافروں کو راستہ مل جاتا ہے ۔ پھر سردی کی وجہ سے ان کو تانبے کی اور جسم کو سینکنے کی بھی زیادہ ضرورت پڑتی ہے اسی لئے مسافروں کے لئے فائدہ رساں ہونے کا ذکر کیا۔ اکثر اہل تفسیر نے مقوین کا یہی ترجمہ کیا ہے۔ ترجمہ :۔ ہم نے ہی اس کو مسافروں کے لئے نصیحت اور فائدہ مند چیز بنایا۔
Ayah 56:74

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:74 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرو

(56:74) فسبح اس میںسببیہ ہے سبح فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تسبیح (تفعیل) مصدر ۔ پس تو تسبیح پڑھ۔ تو پاکی بیان کر۔ تو عبادت کر۔ باسم ربک : اس میں لفظ اسم زائد ہے۔ اور مراد ہے ذات ، یعنی اپنے رب کی پاکی بیان کر۔ ب بھی زائدہ ہے کیونکہ فعل تسبیح بغیر ب کے متعدی ہے۔
Ayah 56:75

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ Open ayah 56:75 in the Quran reader

مجھے تاروں کی منزلوں کی قسم

(56:75) فلا اقسم :تعقیب کا ہے۔ سو، پس، لا اقسم اس میں متعدد اقوال ہیں :۔ (1) لا مزیدہ تاکید کے لئے ہے۔ کلام کو پرزور بنانے کے لئے اس کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی میں پختہ قسم کھاتا ہوں۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ لئلا یعلم اہل الکتاب الا یقدرون علی شئی من فضل اللہ (57:29) تاکہ اچھی جان لیں اہل کتاب کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے۔ (2) بعض عالموں کا کہنا ہے کہ : لا اقسم سے علیحدہ ہے۔ اس سے کافروں کی نفی مراد ہے۔ کافر قرآن کو جادو۔ شعر، کہانت کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہے میں قسم کھا کر کہتا ہوں ۔۔ (3) بعض کے نزدیک لا نفی کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب حقیقت الامر واضح ہے قسم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں فلا اقسم پس میں قسم نہیں کھاتا۔ مجھے قسم کھانے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ بمواقع النجوم : ب حرف جر۔ مواقع النجوم مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ مواقع اترنے کی جگہیں، ڈوبنے کی جگہیں اسم ظرف جمع (موقع واحد) وقوع (باب فتح) مصدر سے۔ قسم ہمیشہ کسی اہم چیز کی کھایء جاتی ہے۔ اہمیت و عظمت جلال کی ہو یا قدر و قیمت کی ہو یہاں آیت ہذا میں یا تو ان اوقات کی قسم کھائی گئی ہے جب پچھلی رات ستارے گوشہ مغرب میں اترتے ہیں۔ کہ یہ وقت عبادت گزاروں کے لئے ایک خاص لذت و کیفیت کا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت و برکت کا خصوصی نزول ہوتا ہے۔ یا ستاروں کی منزلوں کی قسم کھائی ہے (یہاں مصطلحہ منزلیں مراد یعنی ضروری ہیں کہ ان سے بھی اللہ تعالیٰ کی تدبیر کامل اور قدرت عظیمہ کا اظہار ہوتا ہے۔ اور اگر نجوم سے مراد آیات اللہ لی جائیں تو بمواقع النجوم سے مراد انبیاء (علیہم السلام) کے قلوب صافیہ ہوں گے۔ یا ان کے قلوب پر آیات کلام الٰہی کا اترنا مراد ہوگا۔ (قاموس القرآن)
Ayah 56:76

وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ Open ayah 56:76 in the Quran reader

اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے

(56:76) وانہ لقسم لو تعلمون عظیم : ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر شان لام تاکید کا قسم موصوف ۔ عظیم صفت ۔ مل کر انہ کی خبر، لو تعلمون جملہ معترضہ ہے۔ اور اگر تم سمجھو تو بیشک یہ ایک بہت بڑی قسم ہے۔ وانہ لقسم لو تعلمون عظیم واؤ عاطفہ، انہ میں ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر واحد مذکر غائب (ضمیر شان) لام تاکید کے لئے لو حرف شرط۔ لو تعلمون جملہ شرطیہ انہ لقسم عظیم جواب شرط۔ یہاں کلام یوں ہوگا : فلا اقسم بمواقع النجوم انہ لقران کریم میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ ایک بہت ہی بابرکت قرآن ہے
Ayah 56:77

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 56:77 in the Quran reader

کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے

(56:77) انہ لقران کریم : انہ (ملاحظہ ہو آیت 76 متذکرہ الصدر) لام تاکید کا ہے۔ کریم بزرگ ۔ بڑا۔ عزت والا۔ کرم (باب کرم) سے صفت مسبہ کا صیغہ واحد مذکر۔
Ayah 56:78

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ Open ayah 56:78 in the Quran reader

(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا) ہوا ہے

(56:78) فی کتب مکنون : کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے جو کتاب محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اس کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ کتب مکنون سے مراد لوح محفوظ ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد قرآن کا عند اللہ محفوظ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا وانا لہ لحافظون (15:9) اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔ (المفردات راغب) مکنون اسم مفعول ۔ واحد مذکر۔ کن (باب فتح) مصدر سے بمعنی چھپانا۔ جسم کو دھوپ سے۔ لڑکی کو نظر سے ۔ راز کو دل میں۔ قرآن مجید میں ہے بیض مکنون (37:49) محفوظ انڈے۔ لؤلؤ مکنون (52:24) چھپائے ہوئے موتی ۔ الکن ہر وہ چیز جس میں کسی چیز کو محفوظ رکھا جائے۔ کننت الشیء وکنا کسی شی کو کن میں محفوظ کردینا۔ کن کی جمع اکنان ہے۔ یہ قرآن کریم کی صفت دوم ہے (پہلی صفت کریم اوپر مذکور ہوچکی)
Ayah 56:79

لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ Open ayah 56:79 in the Quran reader

اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں

(56:79) لایمسہ الا المطھرون : لا یمس فعل مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ نہیں چھوتا۔ مس (باب فتح) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع القران ہے۔ المطھرون : اسم فاعل جمع مذکر۔ تطھر (تفعل) مصدر ۔ خوب پاک و صاف رہنے والے۔ اصل میں متطھرون تھا۔ ت کو ط سے بدل کر ادغام کردیا گیا۔ ترجمہ :۔ اس کو بغیر پاک و صاف لوگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔ یہ تیسری صفت ہے قرآن کریم کی۔
Ayah 56:80

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 56:80 in the Quran reader

پروردگار عالم کی طرف سے اتارا گیا ہے

(56:80) تنزیل : بروزن تفعیل مصدر ہے : اتارنا۔ تنزیل اور انزال میں یہ فرق ہے کہ تنزل میں ترتیب وار اور یکے بعد دیگرے تفریق کے ساتھ اتارنا ملحوظ ہوتا ہے ۔ اور انزال عام ہے ایک دم کسی شے کے اتارنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور یکے بعد دیگرے ترتیب سے اتارنے کے لئے بھی۔ تنزیل من رب العلمین : رب العالمین کی طرف سے ترتیب وار نازل ہوا ہے۔ یہ قرآن مجید کی چوتھی صفت ہے۔ جملہ انہ لقران کریم معہ اگلی تین صفات کے جواب قسم ہے۔