Ayah 43:41(43:41) فاما نذھبن بل : فاما اصل میں فاء عطف کی۔ ان شرطیہ اور ما زائدہ برائے تاکید سے مرکب ہے اس لئے نذھبن میں نون تاکید ثقیلہ لانا ضروری ہوا۔ جملہ شرط ہے۔ نذھبن مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع متکلم ۔ ذھب ب لے جانا۔ وفات دینا۔ پس اگر ہم آپ کو لے جائیں یعنی آپ کو وفات دیدیں۔
فانا منہم منتقمون۔ جواب شرط۔ تو پھر بھی ہم ان سے بدلہ لیں گے۔ منتقمون اسم فاعل جمع مذکر انتقام (افتعال) مصدر۔ بدلہ میں سزا دینے والے۔ انتقام لینے والے۔
Ayah 43:42(43:42) اونرینک الذی وعدنھم : جملہ شرط ہے ای اوان اردنا ان نریک العذاب الذی وعدنا ہم اور اگر ہمارا ارادہ ہو کہ ہم دکھائیں آپ کو وہ عذاب جن کا ہم نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔ نرین مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع متکلم۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ہم تمہیں ضرور دکھائیں گے۔
فانا علیہم مقتدرون : اسم فاعل جمع مذکر اقتدار (افتعال) مصدر۔ پوری قدرت رکھنے والے۔ تو ہمیں ان پر پوری قدرت حاصل ہے۔ جملہ جواب شرط ہے۔
الکشاف میں ہے وان اردنا ان تجزفی حیاتک ما وعدنا ھم من العذاب النازل بھم فہم تحت ملکتنا وقدرتنا۔ اور اگر ہم چاہیں کہ ہم آپ کی زندگی میں ہی ان کو ان پر آنے والے عذاب کا مزہ چکھائیں تو بھی وہ ہماری ملکیت اور قدرت میں ہیں۔ مطلب آیات 41:42 کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کو ان کے کئے کی سزا بہرحال ملے گی۔ اگر ہم آپ کو پہلے اس دنیا سے لے جائیں تو پھر بھی ہم ان سے بدلہ ضرور لیں گے یعنی ان کو سزا دیں گے۔ اور اگر ہم چاہیں کہ آپ کی حیات میں ہی ان پر عذاب نازل ہو تو اس کی بھی ہمیں قدرت ہے۔
Ayah 43:43(43:43) فاستمسک :محذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے اور شرط مقدرہ کے جواب میں ہے۔ ای اذا کان احدھذین الا مرین واقعا لا محالۃ فاستمسک بالذی اوحینا الیک۔ ان ہر دو صورتوں میں کوئی بھی وقوع پذیر ہو کوئی بات نہیں پس آپ مضبوطی سے پکڑے رہئے اس (قرآن) کو جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے۔
استمسک فعل امر واحد مذکر حاضر استمساک (استفعال) مصدر۔ تو پکڑے رکھ۔ تو پکڑے رہ۔ انک علی صراط مستقیم : بیشک آپ سیدھی راہ پر ہیں۔ یہ جملہ امر بہ (استمسک بالذی اوحی الیک) کی تعلیل ہے۔
Ayah 43:44(43:44) وانہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب سے مراد القرآن ہے۔
لذکر میں لام تاکید کے لئے ہے ذکر شرف عظیم ۔ بیشک یہ تمہارے لئے شرف عظیم ہے۔
سوف تسئلون : سوف مضارع پر آنے سے اس کو مستقبل کے معنی میں خاص کردیتا ہے۔ عنقریب تم سے پوچھا جائے گا (کہ تم نے اس کے حقوق کو کہاں تک قائم رکھا ۔
Ayah 43:45(43:45) اسئل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر سؤال (باب فتح) تو سوال کرلے تو پوچھ لے۔ تو دریافت کرلے۔
من اسم موصول۔ ارسلنا من قلبلک من رسلنا اس کا صلہ۔ اور آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو آپ سے پہلے ہم نے بھیجا تھا پوچھ لیجئے۔ اجعلنا۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے ۔ کیا ہم نے بنایا۔ مقرر کیا۔
الہۃ۔ بہت سے معبود۔ الہ کی جمع ۔ منصوب بوجہ مفعول جعلنا۔
یعبدون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔ عبادۃ (باب نصر) مصدر۔ ان کی پرستش کی جاتی ہے۔ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا اور معبود مقرر کر رکھے ہیں کہ ان کی عبادت کی جاتی ہو۔
Ayah 43:46(43:46) بایتنا : باء تعدیہ کا ہے ایتنا مضاف مضاف الیہ ۔ ہماری آیات۔ ہماری نشانیاں۔ یہاں نشانیوں سے مراد معجزات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خدا نے دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ وہ نشانیاں یہ تھیں۔ عصا۔ یدبیضاء وغیرہ۔
ملائہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے سردار ملأ اسم جمع ہے۔ ملأ اصل میں ملأ یملأ (باب فتح) کا مصدر ہے بمعنی بھر دینا کسی چیز کو کسی چیز سے۔ قوم کے سردار اور اہل الرائے اشخصاص اپنی خوبی اور ذاتی محاسن سے لوگوں کی خواہش کو بھر دیتے ہیں یا آنکھوں میں روشنی اور دلوں میں ہیبت بھر دیتے ہیں اسی لئے ان کو ملأ کہتے ہیں۔ م ل ء مادہ۔
فقال : ای قال موسیٰ لہم۔
رسول رب العلمین : رب العالمین مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف رسول مضاف الیہ۔ رب العالمین کا فرستادہ۔
Ayah 43:47(43:47) اذاہم میں اذا فجائیہ ہے ہم ای فرعون وملائہ، فرعون اور اس کے مصاحب۔
منھا یضحکون : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع ایتنا ہے یضحکون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے ضحک (باب سمع) مصدر۔ تو وہ ان نشانیوں پر ہنسنے لگے۔ مذاق اڑانے لگے۔
Ayah 43:48(43:48) وما ندیہم۔ واؤ عاطفہ ما نافیہ ۔ نری مضارع جمع متکلم اراء ۃ (افعال) مصدر ۔ ہم دکھاتے ہیں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ یعنی فرعون اور اس کے سرداران۔
من ایۃ۔ یعنی عذاب کی نشانی۔ جیسے قحط، طوفان، ٹڈیاں، مینڈک، خون وغیرہ۔ یہ سب موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت کی نشانیاں تھیں
من اختھا : من حرف جر۔ اختھا مضاف مضاف الیہ۔ اخت، بہن ۔ اخ کی تانیث۔ ھا کا مرجع ایۃ ہے اکبر من اختھا۔ اپنی ساتھ والی سابقہ نشانی سے بڑی۔ مطلب یہ کہ ہر معجزہ اعجاز کی چوٹی پر پہنچا ہوا تھا۔ ہر معجزہ کو دیکھنے والا یہی سمجھتا تھا کہ یہ پہلے معجزہ سے بڑا ہے کیونکہ ہر معجزہ انتہائی بڑا تھا۔
لعلہم یرجعون : ای لکی یرجعوا و یتوبوا عما ہم علیہ من الکفر تاکہ وہ باز آجائیں اور توبہ کرلیں اس کفر سے جس پر وہ کاربند تھے۔
Ayah 43:49(43:49) ادع : امر کا صیغہ واحد مذکر غائب دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ تو مانگ ، تو دعا کر۔ ای تدعوا لنا فیکشف عنا العذاب۔ ہمارے لئے دعا کر کہ ہم پر سے عذاب ہٹ جائے۔
بما عھد عندک ب سببیہ ہے ما موصولہ عھد عندک صلہ اللہ نے تمہارے ساتھ عہد کیا ہے۔ یعنی تم نے ہم سے کہا ہے کہ تم اگر دعا کرو گے تو تمہارا رب عذاب دور کر دے گا۔ اس نے تم سے اس کا وعدہ کرلیا ہے۔ اس بہ سبب اس عہد کے تم اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ہمارا عذاب دور کر دے۔
اننا لمھتدون : ای اننا لمؤمنون۔ بیشک ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ ایمان کو ہدایت سے تعبیر کیا ہے اسے علم بیان میں تسمیۃ السبب باسم المسبب کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں اور جگہ ارشاد الٰہی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں :۔
ولما وقع علیہم الرجز قالوا یموسی ادع لنا ربک بما عھد عندک لئن کشفت عنا الرجز لنؤمنن لک ولنرسلن معک بنی اسرائیل (7:134) اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے اے موسیٰ ہمارے لئے اپنے پروردگار سے دعا کرو جیسا کہ اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیدیں گے۔ اس کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے : بیشک ہم ضرور ہدایت یافتہ ہوجائیں گے۔
Ayah 43:50(43:50) فلما کشفنا عنھم العذاب اس سے قبل عبارت مقدرہ ہے تقدیر کلام یوں ہے : فدعانا یکشف العذاب فکشفناہ فلما کشفنا عنھم العذاب پس اس نے ہم سے عذاب کے دور کرنے کی دعا کی اور ہم نے اسے دور کردیا ۔ جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا تو ۔۔
کشفنا ماضی جمع متکلم ہم نے دور کردیا۔ ہم نے ہٹا دیا۔ کشف (باب ضرب) مصدر سے کھولنا۔ ظاہر کرنا۔ باب انفعال سے بھی اسی معنی میں آتا ہے۔ انکشاف کسی پوشیدہ بھید کا ظاہر ہونا۔ اذاہم : اذا مفاجاتیہ ہے۔ لو وہ۔
ینکثون ۔ مضارع جمع مذکر غائب نکث (باب نصر) مصدر۔ وہ توڑتے ہیں ۔ وہ توڑنے لگتے ہیں۔ یعنی پھر جونہی ہم نے ان سے عذاب دور کردیا تب ہی انہوں نے اپنا عہد توڑ دیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ (48:10) پھر جو عہد توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔
Ayah 43:51(43:51) نادی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ نداء (باب مفاعلۃ) مصدر ن د ء مادہ۔ اس نے پکارا۔ یعنی عذاب دور ہوجانے کے بعد فرعون نے اپنی قوم کے مجمع میں پکار کر کہا۔
ملک مصر : ملک مضاف مصر مضاف الیہ غیر منصرف ہونے کی وجہ سے مفتوح ہے۔
وھذہ الانھر : اس کا عطف لک مصر پر ہے اور یہ نہریں (جو دریائے نیل سے نکلتی تھیں جن میں چار بڑی نہریں یہ تھیں۔ نہر الملک۔ نہر طوفان۔ نہر دمیاط اور نہر تینیس۔
تجری من تحتی۔ جملہ حالیہ ہے ھذہ الانھر سے۔ تجری مضارع واحد مؤنث غائب۔ جری وجریان (باب ضرب) مصدر۔ وہ چلتی ہیں ، وہ جاری ہیں۔ من تحتی میرے محلات کے نیچے سے۔ میرے ماتحت۔ میرے زیر حکم یا میرے سامنے باغوں میں۔
افلا تبصرون : ہمزہ استفہامیہ ہے لا تبصرون کا مفول محذوف ہے۔ ای فلا تبصرون ذلک او عظمتی اوقرتی : کیا تم یہ چیزیں نہیں دیکھ رہے ہو یا کیا تم میری عظمت اور قوت کو نہیں دیکھ رہے ہو۔
Ayah 43:52(43:52) ام انا خیر من ھذا۔
(1) ام منقطعہ ہے اس کے اندر ہمزہ استفہامیہ کا معنی ہے اور استفہام تقریری ہے (یعنی مخاطب کو آمادہ کیا گیا ہے کہ وہ اقرار کرے کہ ایسا ہی ہے) یعنی میں بہتر ہوں۔
(2) ام متصلہ ہے اور تقدیر کلام ہے افلا تبصروں، ام تبصرون انا خیر من ھذا الذی ھو مہین (کشاف) کیا تم دیکھتے ہو یا نہیں کہ میں اس حقیر اور ذلیل سے بہتر ہوں۔
(3) ام زائدہ ہے (شوکانی ، لین، لسان اور تقدیر کلام ہے افلا تبصرون انا خیر من ھذا الذی ھو مھین۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں اس شخص سے جو حقیر اور ذلیل ہے بہتر ہوں۔ خیر افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بہتر۔
ھذا الذی۔ یہ شخص یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام۔
مھین : ھون ھوان مھانۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ۔ ذلیل و خوار۔ حقیر۔ بےوقعت۔ ہ و ن مادہ۔
اھان واھانۃ (افعال) مصدر سے بمعنی ذلیل کرنا۔ جیسے دوسری جگہ قرآن مجید می ہے فیقول ربی اھانن (89:16) تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کیا ۔ ھون سکون۔ نرمی۔ وقار اور حیاء کو بھی کہتے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے : وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا (25:63) اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور وقار سے (متواضع ہوکر) چلتے ہیں۔
لایکاد۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب کود (باب سمع کرد یکور جو تحلیل صرفی کے بعد کاد یکاد ہوگیا) کاد یکاد افعال مقاربہ میں سے ہے۔ فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے۔ اگر بصورت اثبات مذکور ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں آنے والا فعل واقع نہیں ہوا۔ قریب الوقوع ضرور تھا۔ مثلا یکاد البرق یخطف ابصارھم (2:20) قریب ہے کہ بجلی کی چمک ان کی آنکھوں کی بصارت کو لیجائے۔ یعنی ابھی بجلی کی چمک نے ان کی بصارت کو اچک نہیں لے گی لیکن قریب تھا کہ وہ اچک لیجائے۔
اور اگر بصورت نفی مذکور ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں آنے والا فعل واقع ہوگیا مگر عدم وقوع کے قریب تھا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے فذبحوھا وما کادوا یفعلون (2:71) غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس بیل کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں۔
آیت ہذا ولا یکاد یبین۔ کا مطلب یہ ہے کہ وہ بات کھول کر بیان تو کرلیتا ہے لیکن معلوم یوں ہوتا ہے کہ بیان نہیں کرسکے گا۔
یبین مضارع واحد واحد مذکر غائب البیان (افعال) مصدر سے۔ وہ کھول کر بیان کرتا ہے۔
Ayah 43:53(43:53) لولا۔ کیوں نہیں۔ (لولا پر تفصیلی نوٹ کے لئے ملاحظہ ہو 2:118 اور 6:43)
القی : ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ القاء (افعال) مصدر۔ وہ ڈالا گیا۔ اسے ڈالا گیا۔
اسورۃ سوار کی جمع بمعنی کنگن۔ پہنچیاں۔
مقترنین : اسم فاعل جمع مذکر۔ الاقتران سے جس کے معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں۔ مطلب یہ کہ یا اس کو سونے کے کنگن پہنائے گنے ہوتے کہ اس کو سردار بنا کر بھیجا گیا ہے یا اس کی معیت میں فرشتے جمع ہوکر ساتھ آتے۔
مجاہد نے کہا ہے کہ اہل مصر کا دستور تھا کہ جب کسی شخص کو اپنا سردار بناتے تھے تو اس کو سونے کے کنگن اور طوق پہناتے تھے۔ سردار ہونے کی یہ علامت تھی۔ اسی لئے فرعون نے کہا کہ موسیٰ کے رب نے جب موسیٰ کو واجب الاطاعت سردار بنایا ہے تو اس کو سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے گئے اور اس کے ساتھ فرشتے کیوں نہیں بھیجے گئے۔ جو اس کی تصدیق بھی کرتے اور یہ جلوہ اس کی شان کے شایان بھی تھا .
Ayah 43:54(43:54) استخف۔ ماضی واحد مذکر غائب استخفاف (استفعال) مصدر۔ بمعنی بیوقوف اور جاہل بنانا۔ اور راہ حق سے ہٹانا۔ ای استجھل غرض اس نے (اپنی قوم کی) عقل مار دی اور لوگوں نے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا اس کو توڑنے پر ان کو آمادہ کرلیا۔ قومہ اس کی قوم یعنی فرعون کی قوم (قبطیوں) کو۔
اطاعوہ : اطاعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اطاعۃ (افعال) مصدر بمعنی حکم ماننا۔ فرمانبرداری کرنا۔ اطاعت کرنا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع فرعون ہے انہوں نے (فرعون کی قوم نے) اس کا کہا مان لیا (اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کئے گئے وعدوں سے پھر گئے
انھم کانوا قوما فسقین : قوما فسقین موصوف و صفت مل کر کانوا کی خبر۔ در حقیقت وہ فاسق لوگ تھے۔ انھم کانوا قوما فسقین علت ہے اطاعوا کی۔ یعنی وہ فاسق لوگ تھے اسی لئے انہوں نے فاسق کی اطاعت کرلی۔
فلذلک سارعوا الی طاعۃ ذلک الفاسق۔
فسقین اسم فاعل جم عمذکر حالت نصب۔ فاسق واحد۔ فسق مصدر باب نصر، ضرب، بدکردار۔ راستی سے نکل جانے والا۔ ہمیشہ اللہ کی نافرمانی کرنے والا۔
Ayah 43:55(43:55) فلما : لما حرف شرط (کلمہ ظرف) پھر جب۔
اسفونا انتقمنا : اسفوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ ایساف (افعال) مصدر نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ انہوں نے ہم کو غصہ دلایا۔ اسف باب سمع سے۔
Ayah 43:56(43:56) فجعلنھم سلفا ومثلا للاخرین :عاطفہ ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ قوم فرعون کی طرف راجع ہے جس کا اوپر ذکر چلا آرہا ہے۔ ترجمہ :۔ اور ہم نے ان کو (قوم فرعون کو) پچھلے آنے والوں کے لئے سلف اور مثل بنادیا۔
سلفا۔ (باب نصر) مصدر۔ بمعنی واقعہ کا گزر جانا ہے۔ لیکن یہاں بطور اسم مفعول کے استعمال ہوا ہے یعنی گزرا ہوا واقعہ۔ یا یہ سالف کی جمع ہے جیسے خدم کی جمع خادم ہے اور اس کے معنی ہیں گزرا ہوا۔ گزشتہ۔ پہلے گزرا ہوا۔ پیش رو۔ یعنی آخرین میں سے جو ان کی روش پر چلتے رہے اور ان کے انجام (غرقابی) سے سبق حاصل نہ کیا ان کے لئے وہ جہنم کی طرف پیش رو ہوگئے۔ (تفہیم القرآن)
مثلا تشبیہی قصہ۔ تمثیل۔ ایسا عجیب واقعہ جو کہاوت کے طور پر بیان کیا جائے ۔ ضرب المثل۔ چناچہ کہا جاتا ہے تمہاری حالت ایسی ہے جیسی قوم فرعون کی ۔ پندو موعظت اور عبرت کے لئے جس کا تذکرہ کیا جائے۔ مثل کے متعلق ملاحظہ ہو 43:8 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 43:57(43:57) ولما۔ واؤ عاطفہ ہے اور لما کلمہ ظرف ہے۔ جب
ضرب ابن مریم مثلا : ضرب بیان کرنا۔ جب ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو بیان کیا گیا بطور مثال کے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ضرب لکم مثلا من انفسکم (30:28) وہ تمہارے لئے تم میں سے ہی ایک مثال بیان کرتا ہے۔
اذا : مفاجائیہ ہے تو یکایک۔ قومک تیری قوم ، اہل قریش، آیت ہذا میں رسول اکرم ﷺ سے خطاب ہے۔
یصدون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ صدید (باب ضرب) مصدر۔ حیرت و تعجب کے باعث ہنسنا۔ (استغرب ضحکا) دوسرا معنی اس کا شور و غل مچانا۔ چیخنا چلانا ہے۔ منہ ای من المثل۔ اس مثال سے۔
Ayah 43:58(43:58) قالواء الھتنا میں ہمزہ استفہامیہ ہے الھتنا مضاف مضاف الیہ ہمارے معبودان۔
ام ھو : ام بمعنی یا۔ ھو ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) (ابن مرین) کی طرف راجع ہے مطلب یہ کہ : آپ کے نزدیک حضرت عیسیٰ بہتر ہیں تو اگر (معاذ اللہ) وہ جہنم میں ہوئے تو ہمارے معبود بھی ہوا کریں۔
فائدہ : جب اہل قریش سے حضرت عیسیٰ کی رسالت اور ان کے محاسن و مکارم کی مثال بیان کی جاتی ہے تو کج بحثی اور کٹ حجتی کے طور پر مختلف لایعنی حجتیں پیش کرتے ہیں۔ مثلا
(1) امام احمد نے صحیح سند سے اور طبرانی نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش سے فرمایا تھا :۔ اللہ کے سوا جس کسی کی بھی پوجا کی جاتی ہے اس میں کوئی خیر نہیں۔ قریش نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نبی اور عبد صالح تھے اور (یہ ظاہر ہے) ان کی پوجا کی جاتی ہے (تو کیا عیسیٰ میں کوئی خیر نہیں تھی)
(2) صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں اس آیت کے تحت :۔ کہ صدر الافاضل (رح) اس مقام پر رقمطراز ہیں :۔ کہ جب سید عالم ﷺ نے قریش کے سامنے یہ آیت پڑھی انکم وما تعبدون من دون اللّٰۃ حصب جھنم (21:98) کافرو ! (اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا پوجا کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے، تو یہ سن کر مشرکین کو بہت غصہ آیا۔ اور ابن الزبعریٰ کہنے لگا کہ یا محمد ﷺ کیا یہ خاص ہمارے اور ہمارے معبودوں کے لئے ہے یا کہ ہر امتر اور گروہ کے لئے ؟ سید عالم ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے لئے بھی ہے اور سب امتوں کے لئے بھی ، اس پر اس نے کہا کہ آپ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم نبی ہیں اور آپ ان کی والدہ کی تعریف کرتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ نصاریٰ ان دونوں کو پوجتے ہیں اور حضرت عزیز اور فرشتے بھی پوجے جاتے ہیں تو اگر یہ حضرات (معاذ اللہ) جہنم میں ہوں تو ہم راضی ہیں کہ ہم اور ہمارے معبود بھی ان کے ساتھ ہوں اور یہ کہہ کر کفار خوب ہنسے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :۔
ان الذین سبقت لہم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون (21:101) جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے۔
اور یہ آیت نازل ہوئی ولما ضرب ابن مریم مثلا ۔۔ یصدون (43:57) جس کا مطلب یہ ہے کہ جب ابن زبعری نے اپنے معبودوں کے لئے حضرت عیسیٰ بن مریم کی مثال پیش کی اور سید عالم ﷺ سے مجادلہ کیا کہ نصاری اسے پوچتے ہیں تو قریش اس کی بات پر خوب ہنسے۔
ما ضربوہ لک الاجدلا : ما نافیہ ہے ضربوہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب مثل کی طرف راجع ہے ای ما ضربوا ھذا المثل : جدلا سخت جھگڑنا باب سمع کا مصدر ہے جس کے معنی شدید خصومت کرنے کے آتے ہیں اور جدل اسم بھی ہے سخت جھگڑنے کے معنی میں آتا ہے، بوجہ مستثنیٰ (منقطع) منصوب ہے۔
فائدہ : آیت کے معنی ہیں : ما ضربوا ھذا المثل الا لاجل الجدل والخصومۃ لا لتمییز الحق من الباطل : انہوں نے یہ مثال محض کج بخشی اور جھگڑے کی خاطر بیان کی نہ کہ حق کو باطل سے تمیز کرنے کے لئے۔ (ورنہ انہیں علم تھا کہ :۔
(1) حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم (علیہما السلام) کی پوجا کے لئے نصاری خود ذمہ دار تھے۔ حضرت عیسیٰ نے تو انہیں پوجا کرنے کے لئے نہیں کہا تھا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے استفسار واذ قال قال اللّٰہ یعیسی ابن مریمء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللّٰہ (5:116) اور جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود ٹھہراؤ۔ تو ان کا جواب ہوگا ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدو اللّٰہ ربی وربکم (5:117) میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے۔
(2) اسی طرح آیت انکم وما تعبدون من دون اللّٰہ حصب جھنم (21:98) میں بت، بےجان معبود اور وہ گمراہ کنندگان مراد ہیں جو دنیا میں لوگوں کو اپنی پوجا پر اکساتے تھے نہ کہ حضرت عیسیٰ و عزیر و ملائکہ وغیرہم جنہوں نے کبھی لوگوں کو ایسی تلقین نہیں کی ۔
(3) بعض کے نزدیک آیت 21:98 میں ما تعبدون کا لفظ اگرچہ عام ہے۔ مگر عام مخصوص البعض ہے اور اس سے مراد حضرت عیسیٰ ، عزیر اور ملائکہ نہیں بلکہ بت اور بےجان معبود ہیں لہٰذا اہل قریش کا اس آیت کی طرف حوالہ خارج از بحث تھا۔
بل ہم قوم خصمون۔ بل حرف اضراب ہے ماقبل کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے مابعد کے حکم کو اس پر اور زیادہ کردیا گیا ہے یعنی یہ لوگ اہل قریش حق کو باطل سے تمیز کرنے کے لئے یہ کج بحثیاں نہیں کر رہے بلکہ وہ ہیں ہی سخت جھگڑالو لوگ۔
خصمون : خصم (باب ضرب) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے خصم کی جمع ہے سخت جھگڑنے والے۔ خصم سے ہی بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ خصیم سخت جھگڑنے والا۔
Ayah 43:59(43:59) ان ھو : ان نافیہ ھو ضمیر واحد مذکر غائب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے ان ھو الا عبد یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بیٹے نہیں تھے بلکہ اس کے بندے تھے۔
انعمنا علیہ : ہم نے اس کو نعمتیں عطا کیں یعنی نبوت اور قرب کی نعمت سے ان کو نوازا تھا یا جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔
واذ قال اللّٰۃ یعیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک اذایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المھد وکھلا واذ علمتک الکتاب والحکمۃ والتورتہ والانجیل واذ تخلق من الطین کھیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیرا باذنی وتبری الاکمہ والابرص باذنی واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذجئتھم بالبینت (5:110) (وہ وقت یاد میں رکھو) جب خدا (عیسیٰ سے) فرمائے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم ۔ میرے ان احسانوں کو یاد کرو۔ جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کئے جب میں نے روح القدس (جبرائیل) سے تمہاری مدد کی تم جھولے میں اور جو ان ہوکر (ایک ہی نسق پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور توراۃ و انجیل سکھائی اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا۔ اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کردیتے تھے۔ اور مردے کو (زندہ کرکے قبر سے) میرے حکم سے نکال کھڑا کرتے تھے اور جب میں نے بنی اسرائیل (کے ہاتھوں) کو روک دیا۔ جب تم ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے۔ وغیرہ ذلک من الایات فی القرآن المجید۔
وجعلنہ مثلا : ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں) ۔ مثلا منصوب بوجہ مفعول ہے۔ یعنی ہم نے ان کو عجیب انسان بنایا کہ دوسری کہاوتوں کی طرف ان کا قصہ بھی عجیب ہوا۔ اور ضرب المثل کے طور پر بیان کیا جانے لگا۔
Ayah 43:60(43:60) ولو نشائ۔ جملہ شرط ہے اور اگر ہم چاہیں لجعلنا منکم ملئکۃ فی الارض یخلفون۔ واجب شرط۔ لام جواب شرط کے لئے ہے یخلفون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب خلف باب نصر مصدر۔ (تمہارے) خلیفہ (ہوکر) رہتے۔
اگر ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں۔ اس کا دوسرا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض کو فرشتہ بنادیں (ہر دو ترجمے تفہیم القرآن سے لئے ہیں) حضرت تھانوی صاحب (رح) اس کا ترجمہ کرتے ہیں : یکے بعد دیگرے رہا کریں۔ (یہ جملہ معترضہ ہے)
Ayah 43:61(43:61) وانہ لعلم للساعۃ ہ ضمیر واحد مذکر غائب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اصل میں وانہ لذوعلم للساعۃ تھا۔ مضاف محذوف ہے اور مضاف الیہ ہی اس کا قائم مقام ہے ای وانہ لصاحب اعلام الناس لقرب مجیئھا۔ تحقیق وہ لوگوں کو قیامت کے عنقریب وقوع پذیر ہونے کی اطلاع دینے ولا ہوگا۔
قیامت کے قریب آنے کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں نیچے اس دنیا میں زمین پر اتریں گے اور شریعت محمدی کے مطابق بقایا زندگی گزاریں گے۔
فلاتمترن بھا : لاتمترن فعل نہی بتاکید نون ثقیلہ جمع مذکر حاضر۔ امتراء (افتعال) مصدر۔ بمعنی ایسی چیز کی بابت حجت کرنا اور جھگڑنا کہ جس میں شک و شبہ اور تردد ہو۔ تم شک و شبہ ہرگز نہ کرو اور ہرگز حجت نہ کرو اور نہ جھگڑو۔
بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الساعۃ کی طرف راجع ہے۔
اتبعون ۔ امر کا سیغہ جمع مذکر حاضر ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف : تم میری اتباع کرو۔ اتباع (افتعال) مصدر۔ یہ اللہ کے کلام ہی کا حصہ ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا کلام ہے اس صورت میں لفظ قل محذوف متصور ہوگا۔
ھذا یہ راستہ جس کی میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں۔
Ayah 43:62(43:62) لایصدنکم : فعل نہی بتاکید نون ثقیلہ صیغہ واحد مذکر غائب۔ صد باب نصر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر تم کو نہ روک دے
عدو مبین : موصوف و صفت، کھلا ہوا دشمن۔ صریح و چٹاننگا دشمن۔ مبین ابانۃ سے باب افعال مصدر۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر : ب ی ن مادہ۔ مادہ ب ی ن سے باب افعال ابانۃ باب تفعیل تبیین باب تفعل تبین اور باب استفعال استبانۃ لازم بھی آتے ہیں اور متعدی بھی۔ ظاہر ہونا ظاہر کرنا اس لئے بین کا معنی ظاہر بھی ہے اور ظاہر کرنے والا بھی ۔
Ayah 43:63(43:63) البینت کھلی دلیلیں۔ بینۃ کی جمع واضح اور کھلی دلیل خواہ دلالت عقلیہ ہو یا محسوسہ۔ یہاں مراد معجزات حضرت عیسیٰ یا انجیل کی آیات یا واضح احکام ہیں۔
جئتکم بالحکمۃ میں تمہارے پاس حکمت و موعظت کی باتیں لے کر آیا ہوں۔
ولابین ای وجئتکم لابین۔ واؤ عاطفہ ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے لام علت کا ہے ابین مضارع واحد متکلم۔ تبین تفعیل مصدر اور (اس لئے آیا ہوں) کہ کھول کر بیان کروں۔
بعض الذی تختلفون فیہ : ای بعض امور الدین تختلفون فیہ ان شرعی و دینی امور کی تصریح جن کی بابت تمہارا آپس میں اختلاف ہے۔
فاتقوا اللّٰہ سو تم اللہ سے ڈرو۔سببیہ ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پر حکمت تعلیم کا لانا حسول تقویٰ کا سبب ہے (مظہری)
واطیعون : اطیعوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر اطاعۃ (افعال) مصدر۔ ن وقایہ ی واحد متکلم محذوف ہے۔ اور تم سب میری اطاعت کرو۔ میرا کہنا مانو۔
Ayah 43:64(43:64) ھذا صراط مستقیم : قد جئتکم بالحکمۃ سے لے کر ھذا صراط مستقیم تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام ہے
Ayah 43:65(43:65) الاحزاب : حزب کی جمع ۔ گروہ۔ ٹولیاں ۔ جماعتیں۔
من بینھم : باہم۔ آپس میں ، یعنی حضرت عیسیٰ کی امت میں سے مختلف گروہوں نے آپس میں اختلاف ڈال لیا۔
ویل : ہلاکت، عذاب، دوزخ کی ایک وادی۔ عذاب کی شدت۔
امام راغب لکھتے ہیں :۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ویل دوزخ کی ایک وادی کا نام ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے جن بدبختوں کیلئے کلمہ ویل استعمال کیا ہے ان کا ٹھکانہ دوزخ میں بن گیا یہ مراد نہیں کہ یہ لفظ وادی دوزخ کیلئے وضع کیا گیا ہے (المفردات)
عذاب یوم الیم۔ موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ عذاب مضاف الیم بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے دردناک ۔ دکھ دینے والا یوم الیم ۔ دردناک دن۔ یوم آخرت۔
للذین ظلموا : ای الذین کفروا۔ ظلموا بمعنی کفروا پر متعدد آیات دال ہیں مثلا والکافرون ہم الظلمون (2:254) ان الشرک لظلم عظیم (31:13) وغیرہ۔
ترجمہ ہوگا :۔ سو جو لوگ کافر یا ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والے دن کے عذاب سے ہلاکت ہے۔
للذین ظلموا کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے۔ ان لوگوں کے لئے جنہوں نے خواہشات کی پیروی کرکے اور کتاب و سنت کو ترک کرکے اپنے اوپر ظلم کیا۔
Ayah 43:66(43:66) ہل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیہم بغتۃ وہم لاتشعرون۔ ہل استفہام انکاری ہے۔ کلام عرب میں ینظرون کا استعمال بمعنی ینظرون معروف ہے۔ مثلا فہل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیہم بغتۃ فقد جاء اشراطھا (47:18) سو یہ لوگ بس قیامت کے ہی انتظار میں ہیں کہ ان پر دفعۃ آپڑے سو اس کے آثار تو پیدا ہی ہوچکے ہیں۔
اور ما ینظرون الا صیحۃ واحدۃ تاخذھم وہم یخصمون (36:49) یہ لوگ بس ایک سخت آواز کے منتظر ہیں وہ انہیں آپکڑے گی اور یہ لوگ آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہوں گے۔ وغیرہ۔
الا الساعۃ میں الساعۃ مستثنیٰ ہے جس کا مستثنیٰ منہ محذوف ہے جو حالت مفعول میں واقع ہے لہٰذا مستثنیٰ کا اعراب اسی کی موافقت میں منصوب ہے ان مصدریہ ہے اور بغتۃ حرف فجائیہ ہے یکایک ، اچانک، ایک دم۔
وہم لا یشعرون ۔ جملہ حالیہ ہے لایشعرون مضارع منفی جمع مذکر غائب ہے۔ شعور باب نصر مصدر۔ وہ شعور نہیں رکھتے۔ وہ سمجھتے ہی نہیں۔ ضمیر فاعل کا مرجع قریش میں یا وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔
ترجمہ : یہ لوگ بس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر دفعتہ آن پڑے اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔
تفسیر ماجدی میں ہے : ذکر منکرین قیامت کا ہے یہ منکرین اپنی غفلتوں میں پڑے ہوئے ہوں گے کہ قیامت یک بیک آواقع ہوگی
Ayah 43:67(43:67) الاخلائ۔ دوست ۔ احاب ۔ خیل کی جمع ہے۔ الاخلا مبتدا ۔ عدو خبر۔ یومئذ یوم اسم ظرف منصوب اذ مضاف الیہ اس روز۔ اس واقعہ کے دن (ای یوم الساعۃ۔ روز قیامت)
بعضہم مضاف مضاف الیہ۔ لبعض۔ لام حرف جار بعض مجرور۔ یومئذ اور بعضھم لبعض متعلق خبر۔ الاخلاء یومئذ بعضہم لبعض عدو مبتداء اپنی خبر اور متعلق خبر کے ساتھ مل کر جملہ اسمیہ ہے۔ اس روز ان میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے۔ یعنی دنیوی دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔
الا المتقین۔ استثناء متصل۔ کلام مثبت تام میں مستثنیٰ منصوب آتا ہے لہٰذا المتقین منصوب آیا ہے اتقاء (افتعال) مصدر سے اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ منصوب ہے تقوی رکھنے والے۔ خدا سے ڈرنے والے۔
Ayah 43:68(43:68) یعباد یا حرف ندا ہے عبادی مضاف مضاف الیہ منادی ی ضمیر واحد متکلم محزوف ہے عباد جمع ہے عبد کی۔ اے میرے بندو۔ یعباد سے کلام مستانفہ شروع ہوتا ہے اس سے قبل عبارت یقول اللّٰہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ یا ینادون فیقال لہم۔ ان کو پکارا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا ۔ محذوف ہے یعنی اللہ تعالیٰ تقویٰ رکھنے والے دوستوں سے فرمائے گا۔
منادی سے مراد المتقین ہیں جو اوپر مذکور ہوئے (ملاحظہ ہو بیضاوی)
تفسیر ماجدی میں ہے :۔ یہ نداء حشر میں مؤمنین کو حق تعالیٰ کی طرف سے دی جائے گی۔
خوف۔ آئندہ کی کسی تکلیف کا اندیشہ کرنا خوف ہے اور ماضی کی تکالیف کو یاد کرکے جو کیفیت غم دل میں پیدا ہوتی ہے حزن کہلاتی ہے۔ لا تحزنون مضارع منفی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ باب سمع سے مصدر نہ تم غمگین ہوگے۔
Ayah 43:69(43:69) الذین امنوا بایتینا وکانوا مسلمین : اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) اللہ تعالیٰ نے یہاں متقین کی صفات بیان فرمائی ہیں جنہیں روز قیامت نہ خوف ہوگا نہ حزن۔ منجملہ دیگر صفات کے ان میں یہ دو صفات ہوں گے۔ (ا) ایمان بایت اللہ (ب) اور اسلام ۔ انہی معنوں میں سورة یونس می ارشاد ہے الا ان اولیاء اللّٰہ لاخوف علیہم ولاھم یحزنون : الذین امنوا وکانوا یتقون ۔ (10:62-63) یا ان کی اور صفت سورة الاحقاف میں یوں آئی ہے :۔ ان الذین قالوا ربنا اللّٰہ ثم استقاموا فل خوف علیہم ولا ہم یحزنون (41:13)
(2) الایمان بآیات اللہ صفت ہے متقین کی اور وکانوا یتقون حال ہے ضمیر امنوا سے۔
Ayah 43:70(43:70) تحبرون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر حبر (باب نصر) مصدر جس کے معنی زینت کرنے اور خوشی و مسرت کے آثار ظاہر ہونے کے ہیں حال ہے ضمیر انتم سے۔ دراں حالیکہ تم خوش کر دئیے جاؤ گے۔ تمہیں مزین کردیا جائے گا۔ خوشی اور مسرت کے آثار تمہارے چہروں پر ظاہر و عیاں ہوں گے۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فہم فی روضۃ یحبرون ۔ (30:15) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ جنت میں اس قدر خوش ہوں گے کہ وہاں کی نعمتوں کی تروتازگی کا اثر ان کے چہروں پر عیاں ہوگا۔ بطور فعل مضارع صرف انہی دو جگہ آیا ہے اور فعل مجہول آیا ہے۔
روشنائی کو بھی حبر کہتے ہیں اسی سے علماء کو بھی احبار کہتے ہیں کہ ان کے نقش لوگوں کے دلوں پر روشنائی کے نقوش کی طرح دیر تک رہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللّٰہ (9:31) انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو اللہ کے سوا خدا بنا لیا ہے۔
صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں :۔ تحبرون۔ یعنی اتنی خوشی پاؤ گے کہ اس کا اثر چہروں سے نمودار ہوگا۔ اس مطلب پر تحبرون حبار سے مشتق ہوگا۔ اور حبار کا معنی ہے اثر، نشان یا تحبرون کا معنی ہے تم آراستہ کئے جاؤ گے۔ اس وقت اس کا مادہ حبر ہوگا۔ اور حبر کا معنی ہے زینت، خوبصورتی یا اس کا ترجمہ ہے تمہاری پوری پوری عزت افزائی کی جائے گی۔ آیت میں خطاب عبادی سے ہے۔
Ayah 43:71(43:71) یطاف علیہم : یطاف مضارع واحد مذکر غائب اطافۃ (افعال) مصدر دور چلایا جائے گا۔
صحاف : جمع ہے صحفۃ کی۔ اتنی بڑی رکابی جس میں پانچ آدمی پیٹ بھر کر کھانا کھالیں۔ صحاف من ذھب سونے کی رکابیاں۔ واکواب واؤ عاطفہ ہے۔ اکواب معطوف ہے جس کا عطف صحاف پر ہے۔ کو ب واحد۔ کوزہ۔ آنجورہ۔ پیالہ۔ ایسا گول برتن جس کا گلا بھی مدور ہو اور قبضہ نہ ہو۔
ان پر بڑی بڑی رکابیوں اور پیالوں کے دور چلائے جائیں گے یعنی ان کو کھانے کی چیزیں اور پینے کے مشروبات سونے کی رکابیوں اور پیالوں میں مہیا کی جائیں گے۔
وفیہا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع (آیت سابقہ ادخلوا الجنۃ ۔۔ میں جنۃ ہے۔
ما تشتھیہ الانفس : ما موصولہ تشتھی مضارع واحد مؤنث غائب۔ اشتھاء (افتعال) مصدر۔ ضمیر فاعل الانفس کی طرف راجع ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب تشتھی کے مفعول کے لئے۔ جس کو جی چاہیں گے یعنی جنت میں وہ سب چیزیں مہیا ہوں گی جن کو جی چاہیں گے۔
وتلذ الاعین : ای وفیہا ما تلذ الاعین اور اس میں ہر وہ چیز ہوگی جس سے آنکھیں لذت اندوز ہوں گے۔ تلذ مضارع واحد مؤنث غائب لذۃ باب سمع مصدر ، بمعنی لذت پانا۔ مزہ لینا۔ جس سے آنکھیں لذت پائیں گی۔
وانتم فیہا خلدون : ای دائمون : اس آیت کا عطف آیت نمبر 70 پر ہے اور تم اس میں (یعنی جنت میں) ہمیشہ رہو گے۔
Ayah 43:72(43:72) وتلک الجنۃ : اسم اشارہ ومشار الیہ، اور یہ جنت وہی ہے جس کی نسبت عباد اللہ سے کہا گیا ہے ادخلوا الجنۃ ۔۔ تحبرون (آیت 70) اور اب حکم ہو رہا ہے کہ یہی جنت ہے جس کے تم وارث بنا دے گئے ہو اپنے اعمال صالحہ کے باعث ۔
التی : اسم موصول واحد مؤنث۔ اور ثتموھا۔ اور ثتموا میں واؤ اشباع کا ہے۔ اصل صیغہ اور ثتم ہے۔ جو ایراث (افعال) مصدر سے ہے اور جس کے معنی وارث بنانا یا میراث میں دینے کے ہیں ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ہے جس کے تم وارث بنا دئیے گئے ہو، یا جو تم کو میراث میں دی گئی ہے۔
بما کنتم تعلمون : میں ب سببیہ ہے ما موصولہ۔ کنتم تعلمون ۔ ماضی استمراری کا سیغہ جمع مذکر حاضر۔ صلہ اپنے موصول کا۔ یہ سبب ان اعمال کے جو تم (دنیا میں) کرتے رہے ہو۔
Ayah 43:73(43:73) فیہا ای فی الجنۃ : منھا میں من تبعیضیہ ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع الجنۃ ہے۔ یعنی جن میں سے تمہارا جی چاہے گا کھاؤ گے۔
فائدہ : آیات 67 تا 73 میں التفات ضمائر ہے بعض جگہ صیغہ جمع مذکر غائب لایا گیا ہے اور بعض جگہ جمع مذکر حاضر کا صیغہ استعمال ہوا ہے اس کی وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے۔
قیامت کے روز دنیاوی دوست جن کی دوستی دنیاوی نفع و نقصان کی خاطر تھی ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے ۔ اور ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے۔ کہ یہ ہمارے انجام بد کے ذمہ دار میں لیکن جن کی روشنی محض تقویٰ اور اللہ کے ڈر کی بنا پر تھی ان کی حالت ایسی نہ ہوگی۔ ان متقیوں سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! (آج) تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غمزدہ ہوگے (صیغہ جمع مذکر حاضر لایا گیا ہے)
متقی لوگوں کی تعریف یہ ہوگی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پکے فرمانبردار تھے (صیغہ جمع مذکر غائب استعمال ہوا) ان سے یعنی متقین سے کہا جائے گا تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی جنت میں داخل ہوجاؤ (صیغہ جمع مذکر حاضر لایا گیا) (وہاں جنت میں) سونے کی رکابیاں اور کوزے ان پر دور میں لائے جائیں گے (علیہم صیغہ جمع مذکر غائب آگیا) اور ان سے یعنی متقیوں سے جن کو بمعہ بیویوں کے جنت میں داخل ہونے کا فرمان ہوا تھا۔ اب ان کو تسلی دی جائے گی۔ کہ یہ نعمتوں کا ملنا وقتی نہیں ہے دائمی ہے لہٰذا ان سے کہا جائے گا کہ تم اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہو گے (صیغہ جمع مذکر حاضر آگیا)
اسی خطاب کو جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ جنت تمہیں تمہارے دنیا کے اعمال صالح کے سبب تم کو وراثت میں دی گئی ہے اس میں کثیر التعداد و کثیر الانواع میوے ہیں ان میں سے جو تمہارا جی چاہے کھاؤ پئو۔
Ayah 43:74(43:74) ان المجرمین ۔۔ الآیۃ۔ متقین کو دی جانیوالی نعمتوں کا ذکر ختم ہوا۔ اب مجرمین اور ان کے اعمال سوء کے نتیجہ میں جو عذاب ان کو ملے گا اس کا احوال شروع ہوتا ہے المجرمین بمعنی الکافرین۔
Ayah 43:75(43:75) لایفتر مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب تفتیر (تفعیل) مصدر کم نہیں کیا جائے گا۔ ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ الفتور کے معنی تیزی کے بعد ٹھہرنے ، سختی کے بعد نرمی اور قوت کے بعد کمزور پڑجانا کے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے یاہل الکتاب قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل (5:19) اے اہل کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو ایک عرصہ تک منقطع رہا تو اب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آگئے ہیں۔
اور جگہ کلام باری تعالیٰ ہے یسبحوں الیل والنھار لایفترون (21:20) وہ سب رات دن (اس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں نہ تھمتے ہیں) ۔
مبلسون : اسم فاعل جمع مذکر مرفوع ۔ مبلس واحد۔ غمگین ، مایوس، پشیمان، متحیر، خاموش، جن کو کوئی بات بن نہ پڑتی ہو۔ اس کا مادہ بلس ہے یہ ثلالثی مجرد سے افعال مستعمل نہیں ۔ ثلاثی مزید میں باب افعال اپنے تمام مشتقات کے ساتھ مستعمل ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ویوم تقوم الساعۃ یبلس المجرمون (30:12) اور جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار (مایوس اور مغموم ہوجائیں گے)
عام طور پر غم اور مایوسی کی وجہ سے انسان خاموش رہتا ہے اور اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ اس لئے ابلس فلان کے معنی خاموش اور دلیل سے عاجز آنے کے ہیں۔ اور ابلس من رحمۃ اللّٰۃ کے معنی ہیں وہ اللہ کی رحمت سے ناامید ہوگیا۔ چونکہ شیطان بھی رحمت حق سے مایوس و ناامید ہے اس لئے اسے ابلیس کہا گیا ہے۔ وہم فیہ : ای فی عذاب جھنم۔
Ayah 43:76(43:76) وما ظلمنہم یہ خدائے اسلام کی صفات میں سے نہیں ہے کہ وہ کسی کو ناحق دوزخ میں ڈال دے۔ یا خواہ مخواہ عذاب میں مبتلا کر دے۔
ولکن کانوا ہم الظلمین۔ بلکہ وہ خود ہی (اپنے حق میں) ظالم رہے ہیں۔ ظلمین اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب بوجہ خبر کانوا۔ ظلمین یہاں کفار کے مرادف ہے ای واضعین الکفر موضع الایمان۔ ایمان کے بجائے کفر کو اپنانے والے ۔
Ayahs 43:77–78(43:77) ناروا۔ ماضی (بمعنی مستقبل) جمع مذکر غائب۔ نداء مصدر (باب مفاعلۃ) وہ پکاریں گے۔ ضمیر فاعل الظلمین کی طرف راجع ہے وہ دوزخی کافر پکاریں گے۔ شدت عذاب سے پکار اٹھیں گے۔ ای من شدۃ العذاب (روح المعانی)
یملک۔ یا حرف نداء مالک منادی۔ اے مالک : مالک ، دوزخ کے داروغہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔
لیقض علینا ربک : لیقض فعل امر واحد مذکر حاضر۔ چاہیے کہ تمہارا رب ہمیں موت دیدے۔ اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دیدے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ (18:5) اور موسیٰ نے اس کا مکا مارا اور اس کو جان سے مار دیا۔ اس کا کام تمام کردیا۔
تفسیر اضواء البیان میں ہے کہ لیقض میں لام ، لام الدعاء ہے اور مالک (خازن النار) سے سوال کرنے سے کفار کی مراد یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کی موت کی دعا کرے اگر ان کا ارادہ ازخود اللہ سے موت مانگنے کا ہوتا تو وہ مالک کو کیوں خطاب کرتے۔ ایسے ہی سورة المؤمن میں اہل النار دوزخ کے کو توالوں سے التجا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے عذاب میں تخفیف کے لئے دعا کریں۔
وقال الذین فی النار لخزنۃ جھنم ادعوا ربکم یخفف عنا یوما من العذاب (40:49) اور جو لوگ آگ میں (جل رہے ) ہوں گے وہ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ایک دن تو ہم سے عذاب ہلکا کر دے۔
تفسیر بیضاوی میں ہے :۔ والمعنی سل ربنا ان یقضی علینا اپنے رب سے کہہ کہ ہمارا خاتمہ کر دے۔
قال : ای قال ملک (مالک داروغہ جہنم کہے گا) اگر قال کی ضمیر مالک کی طرف راجع ہے۔
مکثون۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت رفع مکث (باب نصر و کرم) مصدر ٹھہرے رہنے والے۔ باقی رہنے والے۔ مراد ہمیشہ رہنے والے۔ ٹھہرنے کے معنی میں قرآن مجید میں ہے فقال لاہلہ امکثوا انی الست نارا (20:10) تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا تم یہاں ٹھہرو۔ اور باقی رہنے کے معنی میں ہے۔ فاما الزبد فیذھب جفاء واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض (13:17) سوجھاگ تو سوکھ کر زائل ہوجاتا ہے اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتا ہے۔
Ayah 43:79(43:79) ام ابرموا امرا فانا مبرمون : ابرموا ماضی جمع مذکر غائب۔ ابرام (افعال) مصدر کسی معاملہ کو محکم و مضبوط کرنا۔ پختہ و مضبوط ارادہکرنا۔ مبرمون اسم فاعل جمع مذکر ۔ حالت رفع۔ کسی امر کو پختہ ارادہ اور مضبوط عزم کے ساتھ کرنے والے۔
ام یہاں منقطہ اور بمعنی بل (حرف اضراب) آیا ہے یعنی پہلے حکم یا حالت کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردینے کے لئے۔ پہلے ان کی کراہت کرنے کا تو ذکر ہی کیا بلکہ وہ اس کے رد کرنے میں سینکڑوں مکروتدابیر کیا کرتے تھے۔ اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مضبوط اور محکم اقدام کیا کرتے تھے۔ (یہ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جب کفار نے دار الندوہ میں مجلس مشاورت منعقد کی اور طویل بحث و تمحیص کے بعد حضور ﷺ کو شہید کردینے پر متفق ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (کہ اگر تم نے میرے محبوب کو شہید کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے تو ہم بھی غافل نہیں) ہم نے بھی بہ حتمی فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم اپنے حبیب کی حفاظت کریں گے اور تم ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے۔
فائدہ : آیت 78 میں خطاب کفار مکہ سے بصیغہ جمع مذکر حاضر کیا گیا کہ ہم نے تمہارے پاس دین حق بھیجا لیکن تم نے کراہت و نفرت سے اس سے منہ موڑ لیا۔
اب ان منکرین حق سے نفرت کے اظہار کیلئے آیات 79:80 میں التفات ضمائر بصیغہ جمع مذکر غائب استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 43:80(43:80) ام : منقطعہ ہے بمعنی بل آیا ہے اور آیت 79 کی طرف ماقبل کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردینے کے لئے استعمال ہوا ہے یعنی یہ کفار حضور ﷺ کے خلاف اپنی مذموم تدابیر کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مصمم ارادوں کے علاوہ یہ بھی باور کئے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کے رازوں اور سرگوشیوں کو نہیں سن سکتا۔
خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ صرف ہم ان کو سنتے ہیں بلکہ ہمارے فرشتے لکھ بھی رہے ہوتے ہیں۔
یحسبون۔ مضارع جمع مذکر غائب حسبان (باب سمع) مصدر۔ وہ خیال کرتے ہیں۔
سرہم مضاف مضاف الیہ ۔ ان کے راز ۔ ان کا بھید۔
نجوھم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کی (سرگوشی) نجوی واحد ہے اور نجاوی جمع ہے یہ نجوی واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ النجوی باب نصر مصدر سرگوشیاں کرنا۔ مثلا الم ترالی الذین نھوا عن النجوی (58 ۔۔ ) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ ن ج و مادہ۔
بلی۔ ہاں نفی ماقبل کی تردید کے لئے آیا ہے کفار کے اس گمان کے جواب میں کہ اللہ تعالیٰ ان کے رازوں اور سرگوشیوں کو سن نہیں سکتا۔ ارشاد ہوتا ہے کیوں نہیں سن سکتے ہم ضرور سنتے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس (بیٹھے) لکھتے بھی رہتے ہیں۔
بلی بمعنی بل بھی ہوسکتا ہے، نیز ملاحظہ ہو 3:76 ۔
رسلنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارے رسول ۔ ہمارے فرشتے۔ جو ان کفار پر ان کے اعمال کی نگرانی کے لئے مقرر ہیں۔ ای الذین یحفظون علیہم اعمالہم (روح المعانی)
لدیہم لدی مضاف (بمعنی طرف، پاس) ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ ان کے پاس۔