Ayah 40:34(40:34) ما زلتم۔ ماضی منفی جمع مذکر حاضر ما زال افعال ناقصہ سے ہے۔ فاعل کے ساتھ مل کر استمرار فعل کے معنی ہوں گے۔ تم ہمیشہ یہی رہے۔ ایسے ہی رہے۔ یا متواتر ایسے ہی رہے۔ ما زلتم فی شک تم برابر شک میں ہی پڑے رہے۔
مما۔ من اور ما سے مرکب ہے من حرف جار اور ما موصولہ ہے۔
مما جاء کم بہ : جاء کم اسم موصول ما کا صلہ ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب ہے جس کا مرجع ما اسم موصول ہے سو تم ان امور میں جو کہ یوسف تمہارے پاس لے آئے تھے برابر شک میں پڑے رہے۔
ہلک : ای مات۔
لن یبعث اللّٰہ۔ فعل مضارع نفی تاکید بلن۔ منصوب بوجہ عمل لن ہے۔ اللہ نہیں بھیجے گا۔ رسولا لن یبعث کا مفعول ہے ، یعنی اس کے بعد اللہ رسول کوئی نہیں بھیجے گا۔
قلتم لن یبعث اللّٰہ من بعدہ رسولا : یعنی تم لوگ کفر پر قائم رہے اور تم نے خیال کرلیا کہ اب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو بھیج کر تمہارے خلاف اتمام حجت نہیں کریگا۔ (مظہری)
کذلک : ک حرف تشبیہ کا ہے ذلک میں ذا اسم اشارہ ہے اور ک حرف خطاب ہے۔ ذلک یہ ، یہی کذلک ایسے ہی
مطلب یہ کہ جس طرح عہد یوسف (علیہ السلام) کی فرعونی قوم گمراہ ہوئی اسی طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو گمراہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے جو دین حق میں حد سے گزرجانے والے۔ اور شک کرنے والے ہوتے ہیں۔
فائدہ : یہاں یوسف سے مراد کون ہیں ؟ اس کے بارے میں دو قول ہیں :۔
(1) یوسف سے یہاں یوسف بن حضرت یعقوب (علیہما السلام) ہیں۔ جن کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے قریبا چار سو سال قبل کا ہے
(2) یوسف سے یہاں مراد حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پوتے ہیں جن کا نسب یوں ہے۔ یوسف بن ابراہیم بن یوسف بن یعقوب علیہم السلام۔ لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک اول الذکر ہی مراد ہیں۔
مسرف : اسم فاعل واحد مذکر (نیز ملاحظہ ہو آیت 40:28 متذکرۃ الصدر۔
مرتاب اسم فاعل واحد مذکر۔ ارتیاب (افتعال) مصدر۔ ارتیاب وارتاب کے معنی ہیں کسی چیز میں شک کرنا۔ آدمی کا (ایمان کے بارے میں) متہم ہونا۔ یعنی میں میخ نکالنا۔
مرتاب اصل میں مفتعل کے وزن پر مرتیب تھا یا مکسورہ کا ماقبل مفتوح یاء کے کسرہ کو فتحہ سے بدلا۔ پھر یا کو ما قبل مفتوح کی رعایت سے الف سے بدلا مرتاب ہوگیا۔ شک کرنے والا۔ ریب مادہ۔
Ayah 40:35(40:35) الذین یجادلون : یہ من ھو مسرف سے بدل ہے کیونکہ مسرف جمع کے حکم میں ہے۔ لانہ لایرید مسرفا واحدا بل کل مسرف جو جھگڑے نکالتے ہیں جھگڑتے ہیں جھگڑا کرتے رہتے ہیں۔ یجادلون مضارع جمع مذکر غائب مجادلۃ (مفاعلۃ) سے۔ جدال جھگڑا۔ آیات اللہ میں جدال کی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہیں :۔
(1) آیات کی بےجا تاویل کرنا۔
(2) ان میں عیب نکالنا۔
(3) ان میں تضاد پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔
سلطن۔ برہان، حجت، دلیل، سند وغیرہ ۔
اتھم : اتی ۔ ایتاء (افعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو دیا۔ یا۔ دی۔ بغیر سلطن اتھم : بغیر کسی سند یا دلیل کے جو اس نے ان کو دی ہو۔ اتی میں ضمیر فاعل کا مرجع اللہ ہے۔
کبرمقتا : کبر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ کبر وکبر (باب کرم) مصدر بڑا ہونا مرتبہ میں۔ دشوار ہونا معاملہ کا اہم ہونا وغیرہ۔
عربی زبان میں جس لفظ کا مادہ ک، ب، ر سے مرکب ہو اس کے مفہوم میں بڑائی کے معنی ضرور پائے جاتے ہیں گو بڑائی کی نوعیت ہی جدا جدا ہوسکتی ہے۔ کبر میں ضمیر فاعل کا مرجع کون ہے اس کے متعلق مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔
(1) اس کا مرجع من ھو مسرف (مذکورہ بالا) ہے جو اگرچہ معنی جمع ہے لیکن لفظا مفرد ہے (ملاحظہ ہو الذین یجادلون کے محاذ) ایسا مسرف اللہ اور مومنوں کے نزدیک بڑا ہی مبغوض ہے۔
(2) الذین یجادلون سے پہلے مضاف محذوف ہے ای جدال الذین یجادلون۔ اور کبر کی ضمیر اسی محذوف کی طرف راجع ہے
اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ ایسے مسرف جو بغیر حق کے یا کسی واضح دلیل کے خدا کی آیات میں جھگڑا کھڑا کرتے رہتے ہیں ان کا یہ جھگڑا یا روش یا طریقہ اللہ اور مؤمنوں کے نزدیک بہت بڑی بیزاری اور فطرت کا سبب ہے۔
مقتا : مصدر۔ منصوب بوجہ تاکید۔ سخت بیزاری ۔ بغض شدید۔
مقت یمقت (نصر) مقت مصدر۔ ناپسند کرنا۔ نفرت کرنا۔ امقات (افعال) اور تمقیت (تفعیل) کا بھی یہی معنی ہے۔
کذلک : اسی طرح ، ایسے ہی۔ یعنی جس طرح ان لوگوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعوت توحید قبول نہ کی۔ اور ان کے بعد سلسلہ رسالت کا بھی انقطاع کر بیٹھے اور اس طرح اپنے دلوں کو حق کے لئے ہمیشہ بند کردیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر متکبر اور سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے کہ پھر ان کے دلوں میں حق بات جاتی ہی نہیں۔
یطبع۔ مضارع واحد مذکر غائب طبع مصدر (باب فتح) وہ مہر لگا دیتا ہے۔
علی کل قلب متکبر جبار : علی حرف جار کل مجرور مضاف ۔ قلب مضاف الیہ۔ مضاف متکبر مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر کل کا مضاف الیہ۔ ہر متکبر کا دل۔ اسی طرح ہر جبار کا دل۔ اب جملہ کا ترجمہ ہوگا؛۔ اسی طرح اللہ مہر لگا دیتا ہے ہر مغرور اور جابر کے دل پر۔
Ayah 40:36(40:36) ھامان : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کے فرعون کا وزیر تھا جو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سخت دشمن تھا اور فرعون کا بڑا معتمد تھا۔ ابن : فعل امر واحد مذکر حاضر کا صیغہ بناء (باب ضرب) مصدر سے۔ تو بنا۔ تو تعمیر کر۔
صرحا : ایک عالیشان عمارت یا محل جس میں نقش و نگار ہوں۔ ایسی اونچی عمارت (منارہ وغیرہ) جو دور سے دیکھنے والوں کو بھی دکھائی دے۔ اسی مناسبت سے تصریح کا لفظ بمعنی اظہار آتا ہے۔
اور جگہ قرآن مجید میں آتا ہے قال انہ صرح ممرد من قواریر (27:44) (حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا) یہ ایسا محل ہے جس میں شیشے جڑے ہوئے ہیں ۔
لعلی ابلغ الاسباب ، لعی ، لعل حرف مشبہ بالفعل۔ ی ضمیر واحد متکلم۔ شاید میں۔ ابلغ مضارع واحد متکلم۔ بلوغ (باب نصر) مصدر میں پہنچ جاؤں۔ الاسباب سبب کی جمع کسی چیز تک پہنچنے کے ذریعہ کو سبب کہتے ہیں جیسے رسی اور ڈول کو سبب اسی لئے کہتے ہیں کہ یہ پانی تک پہنچنے کے ذریعے ہیں یہاں مراد آسمانوں کی راہیں یا دروازے یعنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پہنچنے کے راستے۔ ترجمہ :۔ شاید (اس سے چڑھ کر) میں (آسمان کی) راہوں تک پہنچ جاؤں۔
اسباب السموت۔ مضاف مضاف الیہ۔ آسمانوں کے راستے۔ یہ الاسباب سے بدل ہے یعنی وہ راستے جو ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک جاتے ہیں۔
Ayah 40:37(40:37) فاطلع۔ مضارع واحد متکلم اطلاع افتعال مصدر ، میں جھانکوں ۔ میں مطلع ہوں۔ میں اطلاع پاسکوں۔ میں معلوم کرسکوں۔ مضارع منصوب بوجہ جواب امر ہے۔ اگر رفع کے ساتھ ہو تو ابلغ کا معطوف ہوگا۔
لاظنہ لام تاکید کا ہے اظن مضارع کا صیغہ واحد متکلم ظن باب نصر سے مصدر جس کے معنی اس اعتقاد راجح کے ہیں جس میں اس کے خلاف ظہور پذیر ہونے کا بھی احتمال ہو یہ کبھی شک اور کبھی یقین کے معنی بھی دیتا ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے جو حضرت موسیٰ کے لئے آیا ہے۔ میں تو اس (حضرت موسیٰ ) کو جھوٹا ہی سمجھتا ہو مجھے تو یقین ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔
کذلک۔ اسی طرح (یعنی جس طرح رب السموت کو دیکھنے کے لئے اونچی عمارت کی تعمیر کو فرون کی نظر میں زینت آگین بنادیا گیا اسی طرح اس کی ہر بدکاری اس کے خیال میں زینت آفریں بنادی گئی۔
سوء عملہ۔ اس کے کام کی برائی۔
صد ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب صد (باب نصر) مصدر جس کے معنی رک جانے یا روک دینے کے ہیں۔ پہلے اعتبار سے یہ لازم ہے اور دوسرے معنی کے اعتبار سے متعدی ۔
السبیل۔ بمعنی سیدھا راستہ۔ راہ راست۔
کید۔ تدبیر۔ چال۔ واؤ۔ (ہر دو مذموم و محمود حالت کے لئے استعمال ہوتا ہے) ۔
تباب۔ ٹوٹے میں رہنا۔ کھپاوا۔ مسلسل خسارہ میں رہنا۔ ٹوٹنا۔ تب یتب (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے تبت ید ابی لہب وتب (111:1) ابو لہب کے ساتھ ٹوٹیں۔ یعنی وہ ہمیشہ خسارہ میں رہے۔
Ayah 40:38(40:38) اتبعون : ای اتبعونی : تم میری اتباع کرو۔ اتبعوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم (محذوف)
اھدکم۔ جواب امر۔ میں تم کو (راہ راست) دکھاؤں گا۔
سبیل الرشاد۔ مضاف مضاف الیہ۔ رشاد۔ رشد یرشد (باب نصر) سے مصدر ہے۔ بمعنی نیکی، راستی، بھلائی۔ راہ راستگی۔ سبیل راستہ۔
Ayah 40:39(40:39) متاع اسم مفرد امتعۃ جمع۔ معین و ممتد وقت تک فائدہ اٹھانا ۔ (یعنی دنیا کی زندگی ایک محدود وقت تک لطف اندوزی ہے) ۔
دار القرار ہمیشہ ٹھہرنے کی جگہ (آخرت کی زندگی کو متاع کی ضد کے طور پر لایا گیا جہاں تک ان کی طوالت کو سوال ہے)
Ayah 40:40(40:40) مثلہا مضاف مضاف الیہ۔ اس کی طرح۔
Ayah 40:41(40:41) مالی۔ (1) میرا بھی عجب حال ہے۔ (ضیاء القرآن، حقانی)
(2) مجھے بتاؤ یہ کیا بات ہے۔ عقل و دانش کے خلاف تمہاری یہ عادت کیوں ہے ؟ (مظہری)
(3) میرے لئے کتنا عجیب ہے۔ (عبد اللہ یوسف علی)
(4) یہ کیا ماجرا ہے ؟ میں بھی عجیب ہوں۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق (25:7) اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔
اور مال ھذا الکتب لایغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا (18:49) یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ جھوٹی بات کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑی کو (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھ ہے۔
Ayah 40:42(40:42) مالیس لی بہ علم۔ جس کا مجھے کوئی علم نہیں، علم کی نفی معلوم کی نفی ہے یعنی جس کے شریک ہونے کا مجھے کوئی علم نہیں۔ ما موصولہ ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر حاضر اس کی طرف راجع ہے۔
الغفار۔ بہت بڑا معاف کرنے والا۔ صیغہ مبالغہ ہے۔
Ayah 40:43(40:43) لاجرم : بےشک۔ یقینا : حق و صحیح بات یہی ہے ۔ سچ بات تو یہ ہے ۔ لاجرم کی لغوی تحقیق میں کئی اقوال منقول ہیں۔ لیکن بقول امام راغب (رح) ان میں سے اکثر تحقیق کی رو سے صحیح نہیں ہیں۔ المنجد میں ہے لا جرم ولا جرم۔ یعنی ضروری، یقین ، ناگزیر، سبھی قسم کے معنی دیتا ہے۔ قرآن مجید میں تقریبا انہی معنوں میں مستعمل ہے :۔ مثلا
(1) لاجرم انھم فی الاخرۃ ہم الاخسرون (11:22) بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سے سب زیادہ نقصان پانے والے ہیں۔
(2) لاجرم انھم فی الاخرۃ ہم الخسرون (16:109) کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔
(3) لاجم انما تدعوننی الیہ لیس لہ دعوۃ فی الدنیا ولا فی الاخرۃ (40:43 آیت ہذا) سچی بات تو یہ ہے کہ (سچ تو یہ ہے کہ) جس کی (بندگی کی) طرف تو مجھے بلاتے ہو وہ پکارے جانے کے قابل نہ دنیا میں ہے نہ آخرت میں۔ (الخازن، بیضاوی، کشاف نے بھی لاجرم بمعنی حق ہی لیا ہے) ۔
مردنا : مضاف مضاف الیہ۔ مرد : ردیرد (باب نصر) سے مصدر میمی ہے ۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ ہمارا لوٹ جانا۔ پھرجانا۔ پھرنا۔ یعنی مرنے کے بعد ہم سب کا اللہ کے پاس لوٹ جانا ہے۔
المسرفین : اسم فاعل جمع مذکر مسرف واحد۔ نیز ملاحظہ ہو 40:28 متذکرۃ الصدر۔ ح سے گذرنے والے۔
لاجرم ۔۔ اصحب النار : میں ان مرددنا اور ان المسرفین کا عطف انما تدعوننی پر ہے ۔ یعنی سچی بات تو یہ ہے کہ
(1) جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو وہ پکارے جانے کے قابل نہ دنیا میں ہے نہ آخرت میں ۔
(2) اور یہ کہ ہم سب کو اللہ کی طرف ہی لوٹنا ہے۔
(3) اور یہ کہ مسرفین سب ہی دوزخی ہوں گے۔
Ayah 40:44(40:44) فستذکرون : سین مضارع قریب کے لئے ہے تذکرون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ عنقریب ہی تم یاد کرو گے ما اقول لکم (جو میں تم کو کہہ رہا ہوں) کا مفعول ہے۔
افوض : مضارع واحد متکلم ، تفویض (تفعیل) میں سونپتا ہوں۔
بصیر : جاننے والا۔ دیکھنے والا۔ نگران : فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل ہے۔ افوض ۔۔ بالعباد : جملہ حالیہ ہے اقول کی ضمیر فاعل واحد متکلم سے۔ اور حال یہ ہے کہ میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں جو اپنے بندوں کا بلاشبہ خوب نگران ہے۔
Ayah 40:45(40:45) فوقہ :تعلیل کا ہے۔ یعنی اپنے جملہ امور کو اللہ کی سپردگی میں دے دینے سے فرعون کی ہرگز ند سے بچنے کا سبب بن گئی۔ چناچہ عربی میں کہتے ہیں سھا فسجد اس سے سہو ہوئی۔ پس اس نے سجدہ کیا۔ یعنی اس کی سہو سجدہ کا سبب بن گئی۔
وقی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ وقایہ مصدر باب ضرب : و ق ی مادہ۔ (لفیف مفروق) بچانا۔ حفاظت کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اس نے اس کو حفاظت میں رکھا۔ بچا لیا۔ بچائے رکھا۔
سیئات ما مکروا : سیئات جمع سیئۃ واحد۔ برائیں۔ اعمال بد۔ مضاف ۔ ما موصولہ مکروا ماضی جمع مذکر غائب ۔ مضاف الیہ۔ ان کی تدابیر مذموم کے مال بد سے۔ یعنی فرعونیوں کی ضرررساں تدبیروں کے شر سے اس کو محفوظ رکھا۔
علامہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔ فوقہ سے پہلے چند جملے محذوف ہیں۔ پوری عبارت اس طرح تھی۔ فرعونیوں نے اس (مرد مومن) کو قتل کرنا چاہا مگر وہ بھاگ گیا۔ فرعون نے اس کو پکڑنے کے لئے اپنے آدمیوں کو بھیجا لیکن اللہ نے اسے محفوظ رکھا۔
حاق : ماضی واحد مذکر غائب۔ حیق (باب ضرب) مصدر۔ الحیوق و الحیقان (باب ضرب کے معنی کسی چیز کو گھیرے میں لے لینا۔ اور اس پر نازل ہونا کے ہیں۔ یہ باء کے ساتھ متعدی ہوتا ہے : وحاق بال فرعون : اور اس نے آل فرعون کو (یعنی فرعونیوں کو) چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولا یحیق المکر السیء الا باہلہ (35:43) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی ہوتا ہے۔
بال فرعون : میں فرعون از خود شامل ہے۔
سوء العذاب : ترکیب اضافی ہے۔ سوء اسم ہے بمعنی برائی ، آفت۔ عذاب کی برائی۔ عذاب کی شدت۔ عذاب کی سختی۔ بمعنی شدید عذاب یا سخت عذاب ۔
اسی طرح سوء الدار بمعنی برا گھر۔ جیسے قرآن مجید میں دوسری جگہ آیا ہے ولہم سوء الدار (13:25) اور ان کے لئے برا گھر ہے۔ اولئک لہم سوء الحساب (13:18) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ یہاں سب جگہ سوء بمعنی بئس آیا ہے۔ بمعنی برا۔
Ayah 40:46(40:46) النار۔ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) یہ سوء العذاب سے بدل ہے یعنی وہ سخت عذاب جہنم کی آگ ہوگی۔
(2) یہ خبر ہے جس کا مبتداء محذوف ہے کانہ قیل ما سوء العذاب فقیل ھو النار۔ یعنی کوئی پوچھے وہ سخت عذاب کیا ہوگا اور خواب میں کہا جائے وہ عذاب دوزخ یا دوزخ کی آگ ہوگا۔
(3) مبتدا ہے اور اس کی خبر اگلا جملہ یعرضون علیہا ہے۔
یعرضون علیہا : یعرضوں مضارع مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ عرض (باب ضرب) مصدر پیش کرنا۔ عرض علی کسی کے سامنے پیش کرنا۔ جیسے عرض المتاع للبیع : سامان کو فروخت کے لئے خریداروں کے سامنے پیش کرنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع النار ہے۔ یعنی ان کو دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ (جلانے کے لئے) ۔
غدوا : ای فی الغدو صبح کے وقت عشیا رات کے وقت۔ دونوں بوجہ مفعول فیہ ہونے کے منصوب ہیں۔
یہاں صبح و شام سے مراد اس دنیا کے صبح و شام نہیں بلکہ اس عالم آخرت میں وقت کے تعین کی جو بھی صورت ہوگی اس کے مطابق ۔ صبح کو بھی پیش کئے جائیں گے اور شام کو بھی یا صبح و شام سے مراد ہمیشگی ہے جیسے اس دنیا میں ہم کہتے ہیں کہ کام صبح و شام ہوتارہتا ہے۔ یعنی ہمیشہ ہوتا ہی رہتا ہے۔ جب تک کہ یہ صبح و شام کا سلسلہ جاری ہے۔
فائدہ : علمائے اہل سنت نے اس آیت سے عذاب قبر کا اثبات کیا ہے اور علمائے معتزلہ عالم برزخ میں عذاب کے قائل نہیں ہیں۔
ویوم ۔۔ اشد العذاب : ای یوم تقوم الساعۃ یقال لخزنۃ جھنم ادخلوا ال فرعون اشد العذاب۔ اور جس روز قیامت قائم ہوگی تو دوزخ کے پہرہ داروں کو کہا جائے گا کہ فرعونیوں کو سخت عذاب میں داخل کر دو ۔
Ayah 40:47(40:47) اذ : ای اذکر وقت اذ۔ اور یاد کرو وہ وقت جب ۔۔
یتحاجون مضارع جمع مذکر غائب تحاجج (تفاعل) مصدر کا صیغہ ہے۔ مادہ ض ع ف۔
(1) الضعفوا دوگنا۔ دو چند۔ الفاظ متضائفہ میں سے ہے۔ کہ ان میں سے ایک کا وجود دوسرے کے وجود کا مقتضی ہے اور یہ عدد کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے۔
(2) ضعف کمزور ہونا۔ سستی یا کمزوری۔ سست یا کمزور ہونا۔ ضعف اس کمزوری کو کہتے ہیں جو عقل اور رائے میں ہو۔ اور ضعف وہ کمزوری جو بدن میں ہو۔ ضعف ضعف دونوں کا فعل باب کرم سے آتا ہے۔
ضعف و ضعیف کی مثال :۔ فان کان الذی علیہ الحق سفیہا او ضعیفا (2:282) پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بےعقل یا ضعف (یعنی کم سمجھ) ہے۔
ضعیف کی جمع ضعفاء یا ضعاف ہے :۔ اور ضعف کی مثال (یعنی بدنی و جسمانی کمزوری ) کی مثال :۔ اللّٰہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ (30:54) خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتداء میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت دی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا۔ الضعفؤ۔ کمزور لوگ۔ ضعیف لوگ۔
استکبروا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ استکبار (استفعال) مصدر۔ انہوں نے گھمنڈ کیا۔ تکبر کیا۔
تبعا : تابع کی جمع ہے منصوب بوجہ خبر کنا ہے ہم تمہارے تابع یعنی پیروی کرنے والے تھے۔ اس کی مثال صاحب واحد۔ صحف جمع۔
مغنون۔ اسم فاعل جمع مذکر اصل میں مغنیون تھا۔ ی مضموم سے قبل کسرہ دشوار تھا ضمہ کو ماقبل پر تبدیل کیا ی اجتماع ساکنین (ی : و) سے گرگئی۔ مغنون ہوگیا۔ غنی کرنے والے۔ بےنیاز کرنے والے۔ دور کرنے والے۔ دفع کرنے والے۔ عنا : عن اور نا سے مرکب ہے۔ ہم سے۔
نصیبا : حصہ ۔ یہاں مراد دوزخ کے عذاب اور دکھ کا ایک حصہ مغنون کا مفعول ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تم ہم پر سے دوزخ کے عذاب کا کچھ حصہ ہٹا سکتے ہو ؟
Ayah 40:48(40:48) انا کل فیہا۔ ہم سب ہی اس جہنم (کی آگ میں) پڑے ہوئے ہیں۔
حکم ماضی واحد مذکر غائب حکم (باب نصر) سے مصدر۔ فیصلہ کرنا۔ حکم دینا ۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ نے قطعی فیصلہ کردیا ہے اب کیا ہوسکتا ہے۔
Ayah 40:49(40:49) یخفف۔ مضارع واحد مذکر غائب مجزوم بوجہ جواب امر تخفیف (تفعیل) سے مصدر۔ ہلکا کر دے۔ کم کر دے۔ اس میں تخفیف کر دے۔ یوما۔ کسی دن۔
Ayah 40:50(40:50) اولم تک تاتیکم رسلکم بالبینت : ہمرزہ استفہامیہ۔ واؤ کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے لم تک مضارع نفی جحد بلم۔ (لم کے عمل سے مضارع تکون۔ تک ہوگیا) ۔ اولم تک قصہ ہے تاتیکم تفسیر قصہ ہے۔ رسلکم ضمیر قصہ کا مرجع بالبینت باء تعدیہ کا ہے۔ بینات ، معجزات، روشن دلائل۔ ترجمہ :۔ کیا تمہارے (یعنی اللہ کی طرف سے تمہاری طرف بھیجے گئے پیغمبر) تمہارے پاس واضح احکام لے کر نہیں آئے تھے ؟
یہ استفہام انکاری ہے اور زجرو توبیخ کے لئے ہے یعنی پیغمبر تو آئے تھے لیکن تم نے دعا کا وقت اور قبولیت کے اسباب کو کھو دیا۔
فادعوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر کا صیغہ دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ پس پھر تم خود ہی پکارو۔ یعنی دعا کرو۔ تم خود ہی پکار دیکھو۔ یہ بطور استہزاء فرشتے دوزخیوں سے کہیں گے۔
وما دعؤا الکفرین الا فی ضلل اور کافروں کی دعا تو بس بےاثر اور بیکار ہی ہے (کافروں کی دعا اور وہ بھی روز قیامت جب دنیا میں وہ تمام مواقع قبولیت کے کھوچکے تھے اب بےاثر اور بےکار نہ ہوگی تو اور کیا ہوگی) یہ جملہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوزخ کے پہرہ داروں کے کلام کا جزء ہو۔ ضلل، بیکار۔ ضائع۔ لاحاصل۔
Ayah 40:51(40:51) لننصر۔ لام تاکید کا ہے۔ ننصر مضارع جمع متکلم۔ نصر مصدر (فعل یفعل) ہم یقینی مدد کرتے ہیں۔
ویوم یقوم الاشھاد۔ واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ یوم بوجہ ظرفیت کے منصوب ہے یہ فی الحیوۃ الدنیا کا معطوف ہے۔ یعنی ہم مدد کرتے رہتے ہیں اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی اور اس روز بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے (یعنی روز قیامت)
الاشھاد یا شاھد کی جمع ہے جیسے صاحب کی جمع اصحاب ہے۔ یا یہ شھید کی جمع ہے جیسے شریف کی جمع اشراف ہے۔ الاشھاد گواہ۔ گواہی دینے والے۔ جمہور مفسرین نے اس سے مراد نامہ اعمال لکھنے والے فرشتے لئے ہیں جو قیامت کے دن اس کی بھی گواہی دیں گے کہ رسولوں نے تبلیغ کی اور کافروں نے ان کی تکذیب کی۔
Ayah 40:52(40:52) یوم لا ینفع الظلمین معذرتھم : یہ یوم، یوم اول (الیوم یقوم الاشھاد) سے بدل ہے یعنی وہ دن جب ظالموں کو ان کی معذرت (عذر خواہی) کچھ نفع نہ دے گی۔ ظلمین سے مراد کافر ہیں۔
الہم اللعنۃ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع ظلمین ہے یہ جملہ اسمیہ ہے اس کا عطف جملہ ماقبل لا ینفع الظلمین معذرتھم پر ہے اور ان کے لئے لعنت ہوگی۔
ولہم سوء الدار۔ اور ان کے لئے گھر کی سختی یا برائی ہوگی یعنی ایسا گھر جس میں غم والم اور سختی و ناگواری ہوگی۔ یعنی بہت برا گھر۔
الدار کو اگر عالم آخرت لیا جائے تو معنی ہوں گے : ان کے لئے اس عالم آخرت میں خرابی ہی خرابی ہوگی۔
المدارک میں ہے ولم سوء دار الاخرۃ ھو عذابھا۔ یہ بھی جملہ اسمیہ ہے اور یہ بھی جملہ لاینفع کا معطوف ہے۔
Ayah 40:53(40:53) الھدی : اسم ومصدر۔ ہدایت۔ ہدایت کرنا۔ انبیاء (کیونکہ وہ بھی مجمہ ہدایت بنا کر بھیجے جاتے ہیں) یا اللہ کی طرف سے کتابیں و صحیفے وغیرہ۔ جو سب بجائے خود ہدایت بھی ہیں اور ہدایت کرنے والی بھی۔ یہاں مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ توریت۔ معجزات وغیرہ ہیں۔
الکتب۔ اسم جنس ہے یہاں الکتب سے مراد وہ کتابیں جو بنی اسرائیل پر نازل کی گئی تھیں مثلا تورات، انجیل، زبور، و دیگر صحائف وغیرہ۔
Ayah 40:54(40:54) ھدی۔ اور الھدی ہم معنی ہیں۔ ہدایت یا ہدایت کرنا۔ ذکری ذکر کرنا نصیحت کرنا۔ پندو نصیحت ، موعظت، ذکر یذکر (باب نصر کا مصدر ہے۔ ھدی اور ذکری بوجہ مفعول لہ یا بوجہ حال منصوب ہیں۔
لاولی الالباب : لام ملک (مالک ہونا) کے لئے ہے۔ اولی الالباب مضاف مضاف الیہ۔ صاحب عقل۔ عقل والے۔ لاولی الالباب عقل والوں کے لئے۔ عقلمند لوگوں کے لئے۔
Ayah 40:55(40:55) فاصبر : ای فاصبع یا محمد ﷺ اس میں فاء ترتیب کا ہے۔ م ترتیب علی قولہ تعالیٰ : انا لننصر رسلنا وقولہ تعالیٰ واتینا ۔۔ الخ۔
ان وعد اللّٰہ حق۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ سے نصرت کا وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔ اس ثبوت کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا۔
واستغفر لذنبک۔ اور معافی مانگتے رہئے اپنی کوتاہی کی۔ انبیاء جو گناہ سے معصوم و محفوظ ہوتے ہیں۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں :۔
ھذا اتعبد للنبی ﷺ بالدعاء والفائدۃ زیادۃ الدرجات وان یصبر الدعا سنۃ لمن بعدہ : یعنی یہ محض ارشاد الٰہی ہے تاکہ حضور دعا مانگا کریں اور اس میں حکمت یہ ہے کہ استغفار سے حضور ﷺ کے درجات بلند سے بلند تر ہوتے جائیں گے۔
اور بعض کے نزدیک لذنبک سے مراد لذنب امتک ہے اپنی امت کے گناہوں کی مغفرت کی دعا کرتے رہا کریں۔
بالعشی والابکار : شام کے وقت اور صبح کے وقت۔ حضرت حسن (رح) نے کہا ہے کہ اس سے مراد عصر اور فجر کی نمازیں ہیں : حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک پانچوں نمازیں مراد ہیں۔ اس سے مراد ہمیشگی بھی ہوسکتی ہے یعنی مداومت سے اپنے رب کی تسبیح و تحمید کیا کریں۔
Ayahs 40:56–57(40:56) ان الذین ۔۔ اتھم : ملاحظہ ہو 40:35 متذکرہ الصدر۔ ان فی صدورھم میں ان نافیہ ہے۔
کبر۔ اسم مصدر۔ غرور، باوجود بڑا نہ ہونے کے اپنے کو بڑا سمجھنا۔
ما ہم ببالغیہ : ما نافیہ ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الذین یجادلون ہے۔ بالغی اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ بلغ یبلغ (باب نصر) بلوغ مصدر سے۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اس کا مرجع کبر ہے۔ بوجہ اضافت نون حذف ہوگیا۔ جس تک وہ کبھی پہنچنے والے ہی نہیں ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں تکبر ہے اور رسول کریم ﷺ پر غالب آنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن وہ بڑائی تک کبھی بھی پہنچ نہیں سکیں گے۔
فاستعذ باللّٰہ : پس آپ (ان کی شرارتوں سے) اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے۔ العوذ : (باب نصر) کے معنی ہیں کسی کی پناہ لینا اور اس سے چمٹے رہنا۔ العوذۃ اصل میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے کسی چیز سے بچاؤ حاصل کیا جائے۔ اسی سے تعویذ (باب تفعیل) ہے۔ استعذ اصل میں استعوذ تھا۔ واؤ کا کسرہ ما قبل کو دیا اور واؤ حذف کردی۔ استعذ ہوگیا۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ استعاذۃ مصدر جس کے معنی پناہ مانگنا کے ہیں۔ تو پناہ مانگ۔
Ayahs 40:58–60(40:58) یستوی : مضارع واحد مذکر غائب ۔ استواء (افتعال) مصدر برابر ہونا۔ ما یستوی براب نہیں ہے۔ یکساں نہیں ہے۔
اعمی۔ اندھا۔ یعنی جاہل۔ بصیر بینا۔ دیکھنے والا۔ مراد ہے عالم ، دانا۔
الذین امنوا وعملوا الصلحت : وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔
المسیئ : اسم فاعل واحد مذکر اساء ۃ (افعال) مصدر۔ سوء مادہ : بدی کرنے والا۔ مراد کافر المسیء سے پہلے لام زائد ہے
مطلب یہ کہ جس طرح ایک جاہل اور ایک عالم برابر نہیں ہیں اسی طرح مومن نیکوکار اور کافر بدکار بھی آپس میں برابر نہیں ہیں۔
قلیلا ما تتذکرون : قلیلا مصدر محذوف کی صفت ہے۔ ای تذکرا قلیلا۔ تتذکرون : اس صورت میں ما صلہ زائدہ ہے۔ تم کم نصیحت پکڑتے ہو۔ تم کم دھیان کرتے ہو۔ تم کم سمجھتے ہو۔
علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) تحریر فرماتے ہیں :۔ قلیلا ما۔ یعنی تم بہت کم سمجھتے ہو۔
تتذکروں مضارع جمع مذکر حاضر۔ تذکر (تفعل) مصدر۔ تم نصیحت پکڑتے ہو۔ تم دھیان کرتے ہو۔
Ayah 40:61(40:61) مبصرا۔ اسم فاعل واحد مذکر (حالت نصب) ابصار (افعال) مصدر سے۔ دیکھنے والا۔ دکھانے والا۔ جو خود روشن ہو اور دوسروں کو بھی روشن کر دے۔
Ayah 40:62(40:62) انی : کیونکر۔ اسم ظر زمان و اسم ظرف مکان ہے ظرف زمان ہو تو بمعنی متی (جب، جس وقت) اور ظرف مکان ہو تو بمعنی این (جہاں۔ کہاں) اور اگر استفہامیہ ہو تو بمعنی کیف (کیسے ، کیونکر) ہوتا ہے۔
تؤفکون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ افک (باب ضرب) مصدر سے۔ جس کے معنی کسی شے کے اپنے اصلی رخ سے پھرنے کے ہیں۔ یہاں اعتقاد میں حق سے باطل کی طرف۔ قول میں راستی سے دروغ بیانی کی طرف اور فعل میں نیکوکاری سے بدکاری کی طرف پھیرا جانا مراد ہے ۔ تم پھیرے جاتے ہو تم پلٹائے جاتے ہو۔ (تم کدھر کو بھٹکائے جا رہے ہو یعنی پھر اللہ کی عبادت سے دوسروں کی عبادت کی طرف کہاں پھرے جاتے ہو)
Ayah 40:63(40:63) کذلک۔ اسی طرح : (یعنی کفار مکہ کی طرح)
یجدون : مضارع جمع مذکر غائب جحد وجحود مصدر (باب فتح) وہ انکار کرتے ہیں۔
Ayah 40:64(40:64) قرارا۔ آرام گاہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔ مصدر و اسم مصدر۔
بنائ : چھت۔ عمارت۔ جو چیز بنائی جائے عمارت کہلاتی ہے۔
صورکم : تمہاری صورت گری کی۔ تمہاری صورت بنائی۔ صور (باب تفعیل سے ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ احسن ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے اچھا کیا۔ اس نے اچھا بنایا۔ احسان (افعال) مصدر۔ صورکم تمہاری صورتیں۔ صور تصویر کی جمع۔
تبارک : وہ بہت برکت والا ہے۔ تبارک مصدر جس کے معنی بابرکت ہونے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے اس کی گردان نہیں آتی صرف ماضی کا صیغہ (تبارک) مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔
Ayah 40:65(40:65) الحی۔ زندہ۔ حیاۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی سے ہے اللہ کی صفت میں جب حی کہا جائے تو اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ذات اقدس ایسی ہے کہ جس کے لئے موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔
مخلصین لہ الدین دین کو اس کے لئے خالص کرتے ہوئے (نیز ملاحظہ ہو 40:14)
Ayah 40:66(40:66) نھیت : ماضی مجہول واحد متکلم۔ نہی مصدر (باب فتح) سے، مجھے ممانعت کردی گئی ہے، میں منع کیا گیا ہوں، مجھے روکا گیا ہے
تدعون : مضارع جمع مذکر حاضر دعاء (باب نصر) مصدر سے (جسے) تم پکارتے ہو۔ یعنی (جس کی) تم عبادت کرتے ہو۔
اسلم : مضارع واحد متکلم اسلام (افعال) مصدر۔ میں تابعدار ہوجاؤں میں سرتسلیم خم کر دوں۔ میں گردن جھکاؤں۔ مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) ہے۔ (ان مصدریہ ہے)
Ayah 40:67(40:67) نطفۃ : اسم مفرد۔ صاف پانی۔ یہاں مراد نطفۂ انسانی ہے انسان کی منی اس کے اور بھی کئی مشتقات دوسرے معنی میں آتے ہیں۔ نطف عیب یا عیب میں آلودہ ہونا۔ نطفۃ چھوٹے موتی۔ ناطف ہر سیال چیز۔ وغیرہ۔
علقۃ : جمے ہوئے خون کی ایک پھٹکی ، خون کی وہ پھٹکی جو منی انسانی سے پیدا ہوتی ہے یہاں یہی مراد ہے۔ اس کو علقہ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ خون کی پھٹکی اپنی اس رطوبت میں جو اس کے ساتھ لگی رہتی ہے معلق ہوتی ہے جب یہ رطوبت خشک ہوجائے تو پھر اس کو علقہ نہیں کہتے۔ ثم لتبلغوا : لتبلغوا سے قبل عبارت محذوف ہے ای ثم یبقیکم لتبلغوا۔ پھر تمہیں زندہ رکھا یا پرورش کی کہ تم (اپنی جوانی کو) پہنچو۔ لام تعلیل کا ہے تبلغوا مضارع جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے ۔ نون اعرابی بوجہ عمل لام ساقط ہوگیا۔ تاکہ تم پہنچو۔ بلوغ باب نصر سے مصدر۔
اشدکم : مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا زور جوانی۔ تمہاری جوانی۔ اشد کے اصل معنی ہیں عقل وتمیز کی قوت۔ اور جگہ قرآن مجید میں انہی (جوانی کے) معنوں میں آیا ہے۔ حتی اذا بلغ اشدہ (46:15) یہاں تک کہ جب جواب ہوتا ہے۔
ثم لتکونوا شیوخا۔ یہاں بھی لتکونوا سے قبل یبقیکم محذوف ہے۔ ای ثم یبقیکم لتکونوا شیوخا پھر تمہیں زندہ رکھا تاآنکہ تم بوڑھے ہوجاؤ۔
من قبل اس سے پہلے یعنی بڑھاپے یا جوانی سے قبل۔
ولتبلغوا : ای ویفعل ذلک لتبلغوا۔ اور یہ سب وہ اس لئے کرتا ہے کہ تم پہنچ جاؤ۔
اجل مسمی۔ وقت مقررہ۔ یعنی موت۔ خواہ وہ پڑھاپے میں آئے یا جوانی میں یا اس سے قبل اس کا وقت مقررہ ہے۔
ولعلکم تفعلون ۔ تاکہ اس کے اندر قدرت کی جو نشانیاں ہیں یا جو عبرتیں یا جو حکمتیں ہیں ان کو تم سمجھو۔
Ayah 40:68(40:68) فاذا قضی امرا۔ پس جب وہ کسی امر کا فیصلہ کرلیتا ہے۔ ارادہ کرلیتا ہے یعنی اس کے ہوجانے کا فیصلہ یا ارادہ کرلیتا ہے۔
اس میںدلالت کر رہا ہے کہ یہ کلام سابق کا نتیجہ ہے۔ سابق کلام بتارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ذاتی ہے۔ کسی مراد کی یا سامان کی اس کو کوئی حاجت نہیں۔
Ayah 40:69(40:69) انی۔ کیسے ۔ کیونکر۔ نیز ملاحظہ ہو 40:62 متذکرۃ الصدر۔ یصرفون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب صرف مصدر باب ضرب وہ پھیرے جاتے ہیں۔ (یہ کہاں یا کیسے حق سے پھیرے جا رہے ہیں)
Ayah 40:70(40:70) الذین کذبوا بالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا : اس میں الکتب سے مراد قرآن کریم ہے۔ اور بما ارسلنا بہ رسلنا۔ سے مراد وہ کتابیں ، صحیفے و احکام شرائع ہیں جو دوسرے پیغمبروں پر نازل کئے گئے۔ بما میں ما موصولہ ہے اس جملہ میں معانقہ ہے۔ اگر وقف رسلنا پر کریں تو یہ جملہ الذین یجادلون فی ایت اللہ کی توضیح و تعریف میں ہے یعنی اللہ کی کتاب و آیات میں جھگڑے نکالنے والے یہی لوگ ہیں جنہوں نے (اللہ کی) کتاب (یعنی قرآن) کی اور ان کی کتابوں، صحائف، شرائع کی تکذیب کی جو اللہ نے اپنے پیغمبروں کو دے کر بھیجا تھا۔ (پس جلدی ہی یہ اپنے انجام کو جان لیں گے)
اور اگر وقف یصرفون (آیت 69) پر کیا جائے تو یہ ایک نیا جملہ ہے اس صورت میں الذین کذبوا ۔۔ رسلنا مبتدا ہوگا۔ اور فسوف یعلمون اس کی خبر۔ اور ترجمہ ہوگا :۔ جن لوگوں نے اس کتاب (یعنی قرآن مجید) کو جھٹلایا اور اس کو بھی جھٹلایا جو ہم نے اپنے پیغمبروں کو دے کر بھیجا تھا۔ (انہیں اپنی تکذیب کا انجام) عنقریب معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 40:71(40:71) آیات 71 و 72 میں وہ انجام و عاقبت کا بیان ہے جو مجادلت کرنے والوں اور تکذیب کرنے والوں کی ہوگی۔
اذ : اسم ظرف زمان ہے : اذ اصل واقعہ کے اعتبار سے تو زبان ماضی کا اور اذا زمان مستقبل کا ظرف ہے ۔ لیکن کبھی دوسرے زمانے کی نسبت بھی ان کی طرف واقع ہوجاتی ہے۔ یعنی اذ زمان مستقبل کے لئے اور اذا زمان ماضی کے لئے۔ یہاں اذ زمان مستقبل کا ظرف ہے۔ جب، جس وقت۔
الاغلال : غل کی جمع طوق، قیدیں، ہتھکڑیاں، بندھن، غل اس شئے کے ساتھ مخصوص ہے جس سے قید کیا جائے اور اس میں اعضاء باندھ دئیے جائیں۔ اذ الاغلال مبتدا ہے اور فی اعناقھم خبر ہے۔
والسلاسل واؤ عاطفہ ہے اور اس کا عطف الاغلال پر ہے۔ اور فی اعناقھم اس کی خبر ہے : ای الاغلال والسلاسل فی اعناقھم بندھن اور زنجیریں ان کی گردنوں میں ہونگی السلسلۃ زنجیر۔
یسبحون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب سحب (باب فتح) مصدر۔ زمین پر گھسیٹنا۔ السحب کے اصل معنی کھینچنے کے ہیں چناچہ دامن زمین پر گھسیٹ کر چلنے یا کسی کو منہ کے بل گھسیٹنے پر سحب کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اسی سے بال کو سحاب کہا جاتا ہے یا تو اسلئے کہ ہوا اسے کھینچ کرلے جاتی ہے۔ یا اسلئے کہ وہ خود پانی کو کھینچ کر لاتا ہے اور یا اس بناء پر کہ وہ چلنے میں ایسا معلوم ہونا ہے کہ گھسٹتا ہوا چل رہا ہے
یسبحون وہ گھسیٹے جائیں گے (فی الحمیم : کھولتے ہوئے پانی میں) ۔
Ayah 40:72(40:72) الحمیم : ح م م مادہ۔ حمیم کے معنی سخت گرم پانی کے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وسقوا ماء حمیما (47:15) اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ تشبیہ کے طور پر پسینہ کو بھی حمیم کہا جاتا ہے اور حمام کو حمام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں گرم پانی موجود ہوتا ہے یا یہ کہ وہ پسینہ آور ہوتا ہے۔ مجازا قریبی رشتہ دار اور گہرے درست کو بھی حمیم کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں یا اپنے دوست کی حمایت میں گرم ہوجاتا ہے۔
فی النار : ای فی نار جھنم دوزخ کی آگ میں۔
سیجرون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ سجر (باب نصر) مصدر۔ تپائے جائیں گے۔ جھونکے جائیں گے۔
السجر کے اصل معنی زور سے آگ بھڑ کانے کے ہیں اور سجرت التنور کے معنی ہیں۔ میں نے تنور جلایا۔ یا تنور کو ایندھن سے بھر دیا (جلانے کے لئے) ۔ یہاں بھی یسجرون کے معنی ہیں ای یطرحون فیہا ویکونون وقودا لہا۔ وہ دوزخ میں پھینکے جائیں گے اور اس کا ایندھن بن جائیں گے۔ اسی سے ہے واذا البحار سجرت (81:6) جب دریا آگ سے بھڑکا دئیے جائیں گے
Ayah 40:73(40:73) این ما کنتم تشرکون من دون اللّٰہ کہاں ہیں وہ غیر اللہ جن کو تم شریک خدائی ٹھہرایا کرتے تھے۔ این ظرف مکان۔ کہاں۔ جس طرح : متی سے زبان کے متعلق سوال کیا جاتا ہے اسی طرح این سے مکان دریافت کیا جاتا ہے ما موصولہ ہے۔
کنتم تشرکون : ماضی استمراری جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔ اشراک مصدر (باب افعال) دون ورے، سوائے، غیر۔