Ayah 39:36(39:36) الیس اللّٰہ۔ استفہام انکاری ہے۔ اور انکار نفی پر زور ثبوت پر دلالت کرتا ہے۔ الیس اللّٰہ بکاف عبدہ یعنی اللہ اپنے بندے کے لئے (اس کی حفاظت اور نصرت کے لئے) ضرور کافی ہے۔
کاف۔ کفایۃ سے اسم فاعل واحد مذکر کافی۔ کفایت کرنے والا۔ کف مادہ۔
عبدہ میں ہ ضمیر کا مرجع اللّٰہ ہے۔ اس کا بندہ۔ یہاں عبد سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ جیسا کہ آگے یخرفونک سے ظاہر ہے۔ اہل قریش و دیگر بت پرست رسول اللہ ﷺ کو بتوں کی ناراضگی سے ڈراتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ تم ان کو برا کہنے سے اپنی زبان کو روک لو ورنہ تمہیں بدحواس اور پاگل بنادیں گے۔
ویخوفونک یخوفون مضارع جمع مذکر غائب۔ تخویف (تفعیل) مصدر سے خوف مادہ۔ وہ ڈراتے ہیں آپ کو ک ضمیر واحد مذکر مفعول۔
منم دونہ۔ اس کے سوا۔ ای من الاوثان التی اتخذوھا الہۃ وہ آپ کو ڈراتے ہیں ان جھوٹے معبودوں (بتوں) سے جو اللہ کے سوا انہوں نے بنا رکھے ہیں۔
یضلل۔ مضارع مجزوم بوجہ شرط۔ واحد مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر (جسے) وہ گمراہ کر دے (جس کو) وہ گمراہ چھوڑ دے
یہاں گمراہی سے مراد یہ ہے :۔ (1) بےمدد چھوڑ دے۔ (2) بندہ اس امر سے غافل ہوجائے کہ اللہ ہی اپنے بندے کی حفاظت کے لئے کافی ہے۔ (3) بندہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں سے ڈرنے لگے جو کہ نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ فائدہ۔
ھاد۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ہدایت دینے والا سیدھا راستہ بتانے والا۔ راہ راست پر لانے والا۔ ھدایۃ باب ضرب سے مصدر۔
ھاد اصل میں ھادی تھا۔ ضمہ ی پر دشوار تھا اس کو ساکن کیا اب ی اور تنوین دو ساکن اکٹھے ہوئے تو اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگئی اور تنوین اب دال پر آگئی ھاد ہوگیا۔
فما لہ فاء جواب شرط کے لئے ہے لام استحقاق کا ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے۔ (جسے اللہ نے گمراہ کردیا) ۔
Ayah 39:37(39:37) من مضل۔ اسم فاعل واحد مذکر اضلال (افعال) مصدر۔ گمراہ کرنے والا۔
صاحب تفسیر الماجدی (رح) اس آیۃ کی تشریح میں لکھتے ہیں :۔
ہدایت اور ضلالت اپنے اسباب قریب و ظاہری کے لحاظ سے بندہ کے افعال اختیاری میں ہیں اور اسی لئے ان پر ثواب و عذاب مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن اپنے اسباب بعید اور حقیقی کے لحاظ سے تمام تر مشیت تکوینی الٰہی کے ماتحت ہوتے ہیں ۔ اور اسی لئے ان کا انتساب مسبب الاسباب اور علت العلل کی حیثیت سے حق تعالیٰ کی جانب بھی درست ہے۔
الیس اللّٰہ بعزیز ذی انتقام۔ الیس اللّٰہ ملاحظہ ہو 39:36 ۔ متذکرہ بالا۔ عزیز ۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے (بحالت جر) بمعنی فاعل۔ غالب ، زبردست ذی۔ صاحب۔ والا۔ ذی انتقام۔ صاحب انتقام۔ انتقام لینے والا ۔ انتقام لینے پر قادر۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ اللہ تعالیٰ یقینا غالب ہے (اور اپنے فرمانبرداروں کو نفع بخشتا ہے) اور انتقام لینے پر قادر ہے (اپنے دشمنوں سے انتقام لیتا ہے اور ان کو سزا دیتا ہے)
Ayah 39:38(39:38) سالتھم : میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔
لیقولن : لام تاکید کے لئے ہے یقولن مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر غائب وہ ضرور کہیں گے۔
اللّٰہ فعل محذوف کا فاعل ہے ای خلقہن اللّٰہ اللہ تعالیٰ نے ان (ارض و سماوات) کو پیدا کیا ہے۔
قل۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ای قل یا محمد ﷺ
افرایتم۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔ جب یہ رایتم پر داخل ہوتا ہے تو اخبرونی (مجھے خبر دو ) کے معنی دیتا ہے۔ الفاء شرط مقدر کے جواب میں ہے۔ ای اذا کان خالق العالم العلوی واسفلی ھو اللّٰہ عزوجل کما اقررتم فاخبرونی۔ جب جیسا کہ تم نے اقرار کرلیا ہے کہ عالم بالا اور عالم زیریں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو پھر مجھے (یہ) بتاؤ۔
ما تدعون : ما موصولہ ہے ۔ تدعون مضارع جمع مزکر حاضر۔ دعاء (باب نصر) سے جن کو تم پکارتے ہو۔ جن کی تم پوجا کرتے ہو۔ ہل ہن۔ استفہام انکاری مراد ہے کیا وہ معبود ان باطل ۔ کیا وہ بت۔
کشفت ضرہ : ضرہ مضاف مضاف الیہ ۔ دونوں مل کر مضاف الیہ۔ کشفت اسم فاعل جمع مؤنث مضاف۔ اس کی (دی ہوئی) تکلیف کو دور کرنے والیاں۔ (یا دور کرنے والے بمعنی مذکر) کشف کھولنا۔ ظاہر کرنا۔ ننگا کرنا۔ ضرر کو رفع کرنا۔
ہل ہن کشفت ضرہ۔ (اگر اللہ تعالیٰ مجھے تکلیف پہنچانا چاہیے) تو کیا (تمہارے) یہ (معبودان باطل یا بت) اس کی دی ہوئی تکلیف کو رفع کرسکتے ہیں ؟ یعنی نہیں کرسکتے۔
او ارادنی۔ ای اوان ارادنی۔ جملہ کا عطف سابقہ جملہ پر ہے۔ یا (اگر) وہ مجھ پر (رحمت) کرنا چاہے۔
ہل ہن۔ جیسا کہ اوپر گزرا ہے۔
ممسکت۔ اسم فاعل جمع مؤنث ممسکۃ واحد مؤنث۔ ممسک واحد مذکر۔ امساک (افعال) مصدر۔ روکنے والیاں۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا تمہارے یہ بت جن کی تم پوجا کرتے ہو اس کی عطا کردہ رحمت کو روک سکتے ہیں۔ (مراد نہیں روک سکتے) ۔
حسبی۔ مضاف مضاف الیہ۔ حسب حسب یحسب کا مصدر ہے۔ بمعنی کافر ہونا۔ ی ضمیر واحد متکلم ہے۔ مجھ کو کافی ہے
یتوکل۔ مضارع واحد مذکر توکل (تفعل) مصدر۔ وہ بھروسہ کرتا ہے اس سے متوکل اسم فاعل واحد مذکر۔ بھروسہ کرنے والا۔ متوکلون جمع توکل کرنے والے ۔ یعنی خیر کے ملنے اور تکلیف سے بچاؤ کے لئے اللہ پر توکل رکھنے والے۔
Ayah 39:39(39:39) علی مکانتکم تمہاری جگہ پر۔ یعنی تم اپنی جگہ پر۔ مکانۃ۔ اسم ظرف مکان ہے۔ یعنی جگہ۔ یہاں جگہ سے مراد مجازا حالت ہے۔ جیسے حیث اور ھنا ظرف زمان ہیں لیکن کبھی مجازا ان سے مراد مکان لیا جاتا ہے۔ اعملوا علی مکانتکم تم اپنی حالت پر کام کئے جاؤ۔ یعنی اپنی طاقت اور استطاعت کی حد تک میری مخالفت میں میرے پیغام رسالت کی تکذیب میں اپنا کام کرتے جاؤ۔
انی عامل۔ ای انی عامل علی مکانتی (مکانتی کو اختصارا حذف کردیا گیا ہے) یعنی میں اپنی حالت پر کام کر رہا ہوں یا کرتا رہوں گا۔ یعنی پیغام الٰہی کی تبلیغ کرتا رہوں گا۔
Ayah 39:40(39:40) من۔ موصولہ ہے بمعنی کسی کو۔ کس پر۔ من استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے۔
یخزیہ۔ یخزی مضارع واحد مذکر غائب۔ اخزاء (افعال) مصدر سے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب (عذاب جو) اس کو رسوا کرے گا۔ اور اس سے عذاب دینا ہے۔ بدر کی لڑائی میں اللہ نے کفار مکہ کو رسوا کر بھی دیا۔
یحل علیہ : یحل فعل مضارع واحد مذکر غائب ۔ حلول (باب ضرب) مصدر سے نازل ہونا۔ اس پر نازل ہوگا۔
عذاب مقیم دوامی عذاب۔ یعنی دوزخ کا عذاب۔ یہ آخرت کا عذاب ہوگا۔
Ayah 39:41(39:41) بالحق۔ حق و حکمت کے ساتھ ۔ دلائل و شواہد اور مقصد صحیح کے ساتھ۔
فمن۔ موصولہ ہے یا استفہامیہ ۔
فانما یضل علیہا۔ ای وبال ضلالہ علیہا۔ تو اس کے بےراہ ہونے کا (اس کی ضلالت کا) وبال اسی کی جان پر ہوگا۔ ھا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع نفس ہے۔
وکیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے وکل مصدر باب ضرب۔ ذمہ دار۔
Ayah 39:42(39:42) یتوفی الانفس : یتوفی مضارع واحد مذکر غائب توفی (تفعل) مصدر سے۔ لے لیتا ہے قبض کرلیتا ہے۔ وفی مادہ۔ اسی سے ایفاء (افعال) وعدہ۔ عہد یا نزرانہ نہ پورا کرنا۔ جیسے اوفوا بعھدی اوف بعھدکم (2:40) اور اس عہد کو پورا کرو۔ جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔ میں بھی اس عہد کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا۔
الانفس۔ مفعول ہے یتوفی کا۔ جانیں۔ یعنی (اللہ قبض کرلیتا ہے جانوں کو)
لم تمت۔ مضارع نفی جحد بلم۔ مجزوم بوجہ عمل لم ۔ تمت اصل میں تموت تھا۔ ت بوجہ عمل لم ساکن ہوگیا۔ پھر واؤ بوجہ اجتماع ساکنین کے گرگئی۔ لم تمت ہوگیا۔ اور معنی ماضی منفی کے دینے لگا۔ یعنی جو ابھی نہیں مری۔ جس کی موت کا ابھی وقت نہیں آیا۔ موت کے وقت قبض روح من کل الوجوہ ہوتا ہے۔ جس کے بعد نہ حیات جسمانی باقی رہتی ہے نہ شعور ادراک : لیکن نیند کی حالت میں یہ سلب روح صرف جزئی حیثیت سے ہوتا ہے۔ جس سے حیات جسمانی جوں کی توں رہتی ہے لیکن شعور و ادراک باقی نہیں رہتا۔ نیند کے وقت سلب صرف حیات شعوری کا ہوتا ہے۔
یمسک۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ امساک مصدر افعال سے وہ روک لیتا ہے۔
التی : ای الانفس التی۔ وہ جانیں جو۔
قضی علیہا : قضی علی۔ کسی کے لئے کسی چیز کا حکم دینا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الانفس ہے۔ قضی علیھا الموت اس نے ان جانوں کی موت کا حکم دیا۔
فیمسک التی قضی علیہا الموت۔ پھر وہ روک لیتا ہے ان جانوں کو جن کی موت کا وہ فیصلہ کردیتا ہے ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فلما قضینا علیہ الموت (34:14) پھر جب ہم نے اس کے لئے موت کا حکم دیا۔
ویرسل الاخری الی اجل مسمی : یرسل مضارع واحد مذکر غائب ارسال افعال مصدر وہ (واپس) بھیج دیتا ہے الاخری سے مراد وہ جانیں جو نیند کی حالت میں قبض کی گئی تھیں۔ اور جن کی موت کا ابھی حکم نہیں ہوا تھا۔ اجل مسمی موصوف و صفت مقررہ میعاد۔ الی اجل مسمی مقررہ میعاد تک کے لئے۔
یتفکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب تفکر (تفعیل) مصدر۔ وہ فکرو غور کرتے ہیں ۔ یہ آیت علت ہے آیت علیہ یتوکل المتوکلون (آیت 38: متذکرہ بالا کی)
Ayah 39:43(39:43) (1) ہمزہ انکار کے معنی میں ہے اور ابتدائیہ ہے۔ کیا انہوں نے اللہ کے اذن کے بغیر شفیع بنا رکھے ہیں۔ حالانکہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو سفارش کرنے کی مجال نہیں۔ جیسا کہ فرمایا : ۔ من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ (2:255) کون ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کرسکے۔
من دون اللّٰہ : ای من دون اذنہ (اس کے اذن کے بغیر اس کی اجازت کے بغیر) ۔ (روح المعانی۔ کشاف)
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور سفارشی بنا رکھے ہیں۔ حالانکہ سب سفارش اللہ کے اختیار میں ہے۔ جیسا کہ اگلی آیت میں اشارہ ہے۔ قل للّٰہ الشفاعۃ جمیعا۔ (39:44)
مطلب یہ ہے کہ ان کے مزعومہ سفارشی بےبس و بےاختیار ہیں سفارش تمام تر اللہ ہء کے اختیار میں ہے۔
(2) ام منقطعہ ہے اور بمعنی بل (حرف اضراب) آیا ہے اور مقصود اس سے ماقبل کی تصحیح اور مابعد کا ابطال ہے۔ یعنی سکھ دینے اور دکھ کو کرنے کیلئے اللہ ہی کافی ہے اور متوکلین اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اس کے سوا کسی کی امداد یا کسی کی سفارش پر بھروسہ رکھنا قطعا لا حاصل ہے۔
اولو کانوا میں ہمزہ استفہام انکاری کا ہے۔ اس کا ادخال فعل محذوف پر ہے۔ ای ایشفعون واؤ حالیہ ہے۔ اس سے اگلا جملہ حالیہ ہے ای ایشفعون ولو کانوا ۔۔ الخ کیا وہ تمہاری شفاعت کریں گے اگرچہ ان کی یہ حالت ہے کہ یہ نہ کوئی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ان کو کچھ علم ہے (یعنی ان کو نہ کوئی عقل و شعور ہے یا سوجھ بوجھ ہے)
Ayah 39:44(39:44) قل للّٰہ الشفاعۃ جمیعا۔ فرما دیجئے ان کو کہ سفارش تمام تر تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے یہ علت ہے لا یملکون کی۔ یعنی جب تمام تر سفارش اللہ ہی کے اختیار میں ہے تو ان کو اس بابت اختیار کہاں سے آیا۔ لہ ملک السموت والارض۔ یہ استیناف تعلیلی ہے ایک دوسری علت یا وجہ کہ کیوں سب سفارش صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے یہ اس لئے کہ ارض و سماوات کا کلی مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر کسی دوسرے کے اختیار میں کیا رہا ؟
Ayah 39:45(39:45) اشمازت ماضی واحد مؤنث غائب اشمیزاز (افعیلال) مصدر سے منقبض یا گرفتہ ہوجانا۔ غم و غصہ سے اس طرح بھر جانا کہ چہرے سے رکاوٹ اور نفرت کا اظہار ہونے لگے۔ ش م ء ز مادہ۔ (ان کے دل کڑھنے لگتے ہیں)
ذکر۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ذکر سے (باب نصر) ذکر کیا گیا ۔ ذکر کیا جاتا ہے۔ ذکر کیا جائے۔
اذا ہم یستبشرون : اذا مفاجاتیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب الذین لایؤمنون بالاخرۃ کی طرف راجع ہے۔ یستبشرون مضارع جمع مذکر غائب استبشار (استفعال) مصدر وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ اذا ہم یستبشرون تو فورا اسی وقت وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں ۔
Ayah 39:46(39:46) قل۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ یہ امر دعا کے لئے ہے جیسا کہ اگلی عبارت سے ظاہر ہے۔
اللّٰہم۔ اے اللہ۔ یا اللہ۔
فاطر السموت۔ علم الغیب۔ میں فاطر اور علم منادی ہیں اور اضافت کی وجہ سے منصوب ہیں۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ۔ اور اے غیب و شہادت کے جاننے والے۔
تحکم۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو حکم کرے گا، تو فیصلہ کرے گا۔ یہاں آخریہ معنی مراد ہیں اسی معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل (4:58) اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو۔ آیت ہذا میں انت تحکم بمعنی انت وحدک تقدر ان تحکم (واحد تو ہی فیصلہ کی طاقت رکھتا ہے) آیا ہے۔
ما کانوا میں ما موصولہ ہے اور فیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے۔
Ayah 39:47(39:47) ما فی الارض : ما موصولہ ہے یعنی دنیا میں جو کچھ ہے از قسم اموال و ذخائر۔
جمیعا سارے کا سارا۔ یعنی اگر ظالموں (مشرکین) کے پاس دنیا کے سب کے سب اموال و ذخائر ہوں۔
مثلہ معہ۔ (اور) اس کے ساتھ اتنا اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اسم موصول ما ہے۔
لافتدوا۔ لام جواب شرط کے لئے ہے (لو کے جواب میں) افتدوا ماضی جمع مذکر غائب افتداء (افتعال) مصدر سے تو وہ عذاب کی سختی سے اپنے آپ کو چھڑانے کے لئے بطور فدیہ (یہ اموال و ذخائر) دینے کو تیار ہوجاتے۔
سوء العذاب۔ عذاب کی سختی۔
یوم القیمۃ۔ یوم بوجہ ظرف منصوب ہے۔
بدا۔ ماضی واحد مذکر غائب بدا یبدوا (نصر) بداء وبداء ۃ وبدو۔ مصدر ۔ ظاہر ہونا۔ باد صفت واحد بادون جمع ۔ بدا کھلم کھلا ظاہر ہوگیا۔ یہاں بمعنی مستقبل آیا ہے۔ یعنی کھلے طور پر ظاہر ہوجائے گا۔
مالم یکونوا یحتسبون ۔ ما اسم موصول ہے یکونوا یحتسبون مجارع نفی جحد بلم بمعنی ماضی۔ احتساب (افتعال) مصدر۔ انہوں نے گمان بھی نہیں کیا تھا۔
وبدالہم ۔۔ یحتسبون : ای ظھر لہم من سخط اللّٰہ وعذابہ مالم یکن قط فی حسبانھم وہ اللہ تعالیٰ کے اس غصہ اور عذاب کو دیکھیں گے جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
Ayah 39:48(39:48) وبدالہم سیئات ماکسبوا : ای ظھر لہم ان پر ظاہر ہوں گے۔ سیئات برائیاں ، بدیاں۔ برے اعمال۔
کسبوا ماضی جمع مذکر۔ کسب مصدر (باب ضرب) کمائی کرنا۔ نفع کے لئے کوئی کام کرنا۔ خواہ نتیجہ اچھا نکلے یا برا۔ کسب کا استعمال قرآن مجید میں مندرجہ ذیل معنوں میں کیا گیا ہے :۔
(1) قلبی ارادہ اور نیت کی پختگی۔ جیسے ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم (2:225) لیکن جو (قسمیں) تم دلی ارادہ سے کھاؤ گے ان پر وہ (یعنی اللہ) مؤاخذہ کریگا۔
(2) اچھا برا قول یا فعل جیسے ثم توفی کل نفس ما کسبت (2:281) پھر ہر شخص اپنے اعمال کا (اچھا ہو یا برا) پورا پورا بدلہ پائے گا
(3) نیک کام کرنا۔ جیسے لہا ما کسبت (2:286) اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا۔
(4) برے کام کرنا۔ جیسے اولئک الذین ابسلوا بما کسبوا (6:70) یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال (بد) کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے۔
(5) مال کمانا۔ جیسے انفقوا من طیبت ما کسبتم (2:267) جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہو اس میں سے (خدا کی راہ میں) خرچ کرو۔ اس جملہ میں ما کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) ما موصولہ ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور ظاہر ہوجائیں گی ان پر بدیاں جو انہوں نے کمائی تھیں۔
(2) ما مصدریہ ہے ۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ ان پر ان کے اعمال بدظاہر ہوجائیں گے۔
وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزء ون : حاق یحیق (باب ضرب) حیق وحیوق وحیقان مصدر۔ جس کے معنی کسی چیز کو گھیرنے اور اس پر نازل ہونے کے ہیں۔ یہ باء کے ساتھ متعدی ہوتا ہے۔ حاق بھم اس نے ان کو گھیر لیا۔ وہ ان پر نازل ہوا۔
یستھزء ون۔ مضارع جمع مذکر غائب استھزاء (استفعال) مصدر۔ وہ مذاق بناتے تھے۔ ہلکا سمجھ کر ہنسی اڑاتے تھے۔
ما کی یہاں بھی دو صورتیں ہیں جو جملہ ماقبل میں ہے یعنی یہ موصولہ بھی ہوسکتا ہے اور مصدریہ بھی۔
موصولہ کی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور ان کو وہ عذاب گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
دوسری صورت میں ترجمہ یہ ہوگا :۔ اور استہزاء کرنے کی سزا ان کو گھیرلے گی۔
Ayah 39:49(39:49) مس۔ ماضی واحد مذکر غائب مس (باب نصر) مصدر۔ جس کے معنی چھونا۔ دکھ پہنچانا۔ اسی باب سے قربت صنفی یعنی جماع کے معنی میں آتا ہے مثلا وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن (2:237) اور اگر تم عورتوں کو انکے پاس جانے سے پہلے طلاق دیدو۔
الانسان۔ اس میں لاف لام عہد کا ہے اس سے مراد کافر انسان ہیں۔ اور بعض کے نزدیک ال جنسی ہے اور اس سے جنس انسان مراد ہے لیکن چونکہ کافروں کی کثرت کی وجہ سے جنس انسان سے کافر انسان مراد ہیں۔
ضر۔ تکلیف، ضرر، ایذائ۔
دعانا : دعا ماضی واحد مذکر غائب ضمیر فاعل الانسان کی طرف راجع ہے۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ اس نے ہمیں پکارا۔ بمعنی حال۔ وہ ہمیں پکارتا ہے۔
خولنہ : خولنا ماضی جمع متکلم۔ تخویل (تفعیل) مصدر بمعنی عطا کرنا۔ دینا ۔ بخشنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع الانسان ہے۔ جب ہم اس کو عطا کردیتے ہیں (بمعنی حال) (جب) ہم نے اس کو عطا کردی (بمعنی ماضی) ۔
تخویل کا لفظ ازراہ مہربانی عطا کردینے کے لئے مخصوص ہے۔
اوتیتہ : اوتیت ماضی مجہول واحد متکلم ایتاء (افعال) مصدر بمعنی دینا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع نعمۃ ہے میں دیا گیا ہوں یہ نعمت۔ مجھے یہ نعمت دی گئی ہے۔ نعمۃ بمعنی شی من النعم ہے یعنی نعمتوں میں سے کوئی شے۔ اسی بنا پر ہ بصیغہ واحد مذکر استعمال ہوا ہے۔
علی علم۔ میرے علم نے باعث۔ میری تدبیر و حکمت کی وجہ سے ۔ لاجل علم علم کی وجہ سے۔
بل ہی فتنۃ : بل حرف اضراب ہے۔ بلکہ۔ یعنی حقیقت یہ نہیں ہے کیہ یہ نعمت اسے اس کے علم کے باعث یا استحقاق پر دی گئی ہے بلکہ اس کے امتحان کے لئے ہے کہ شکر بجا لاتا ہے یا ناشکری کا مرتکب ہوتا ہے۔
ہی ضمیر واحد مؤنث غائب نعمۃ کے لئے ہے باعتبار لفظ پہلے ہ ضمیر مذکر باعتبار معنی لائی گئی تھی۔ فتنۃ آزمائش اس کے علاوہ کئی دیگر معانی میں بھی اس کا استعمال ہوا ہے۔
اکثرھم ان میں سے اکثر۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ :۔ ذلک وھو دلیل علی ان الانسان للجنس۔ یہ جملہ دلالت کر رہا ہے کہ الانسان سے مراد جنس انسان ہے۔
Ayah 39:50(39:50) قالہا۔ اس میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع قول انما اوتیتہ علی علم ہے یعنی اس سے پہلے بھی لوگ ایسی بڑ مارتے رہے ہیں۔ ضمیر مؤنث بدیں وجہ سے ہے کہ یہ ایک جملہ یا کلمہ ہے۔
فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون : ما اغنی ماضی منفی واحد مذکر غائب۔ اغناء (افعال) مصدر غنی کرنا۔ غنی بنانا۔ دولت دینا۔ مالدار کرنا۔ اغنی عنہ کافی ہونا ھذا ما یغنی عنک شیئا۔ یہ تجھے کوئی فائدہ نہ دے گا۔
ما کانوا یکسبون ۔ ما موصولہ یا مصدریہ ہے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ جو (دولت) وہ کمایا کرتے تھے اس نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ دوسری صورت میں : ان کی کمائی ان کے کسی کام نہ آئی۔
Ayah 39:51(39:51) اصابھم : ماضی واحد مذکر غائب اصابۃ (افعال) مصدر ۔ جس کے معنی پالینے کے ہیں۔ اصاب وہ آپہنچا۔ وہ آپڑا۔ اس نے پالیا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الذین من قبلہم۔ میں ۔ وہ ان پر آپڑیں۔
سیئات ماکسبوا۔ بدیاں جو انہوں نے کمائی تھیں (بصورت ما موصولہ) ۔ اعمال بد۔ (بصورت ما مصدریہ) نیز ملاحظہ ہو 39:48 ۔
اصابھم سیئات ما کسبوا۔ ان کے بد اعمال ان کو آلیں گے۔ بد اعمال سے مرادان کی سزا ہے۔ یعنی ان کے بد اعمال کی سزا ان پر آپڑے گی۔ سیئات کی سزا کو سیئات صرف تقابل کی وجہ سے قرار دیا۔ سمی جزاء السیئۃ سیئۃ للازدواج کقولہ تعالیٰ وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا (42:40)
والذین ظلموا من ھؤلائ : الذین ظلموا سے مراد مشرکین ہیں جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے ان الشرک لظلم عظیم (31:13) بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے ۔ من بیانیہ ہے۔ ومن للبیان فانھم کلہم کانوا ظلمین (روح المعانی) من بیانیہ ہے۔ کیونکہ وہ سب کے سب ہی ظالم تھے۔
ھؤلائ۔ اسم اشارہ ۔ جمع یہ سب ۔ من ھؤلاء سے مراد مشرکین مکہ ہیں اور یہ ظالم لوگ بھی ۔۔
بعض کے نزدیک من تبعیحیہ ہے اور اس صورت میں والذین ظلموا من ھؤلاء کا ترجمہ ہوگا :۔ اور ان میں سے جو شرک پر مصر رہے (اخیر دم تک) ۔
سیصیبھم : س مستقبل قریب کے لئے ہے یصیب صیغہ واحد مذکر غائب مضارع معروف۔ اصابۃ (افعال) سے بمعنی پہنچنا۔ آجانا۔ آپڑنا۔ یہ اصاب السہم سے ہے۔ جس کا مطلب ہے تیر ٹھیک نشانہ پر جالگا۔ مصیبۃ اصل میں اس تیر کو کہتے ہیں جو ٹھیک نشانہ پر جاکر بیٹھ جائے۔ اس کے بعد (عرف عام میں) ہر حادثہ اور واقعہ کے ساتھ یہ لفظ مخصوص ہوگیا ہے۔
سیئات ما کسبوا۔ ان کے اعمال بد کی جزائ۔ یعنی عنقریب ان کی بد اعمالیوں کی سزا اب پر آپڑے گی (چنانچہ کفار مکہ سات سال تک قحط میں مبتلا رہے۔ پھر بدر میں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے ۔ اور واصل جہنم ہوئے صرف وہ لوگ محفوظ رہے جنہوں نے توبہ کرلی۔ اور مسلمان ہوگئے)
وما ہم بمعجزین : ما نافیہ ہے معجزین اسم فاعل جمع مذکر۔ عاجز بنا دینے والے۔ ہرا دینے والے۔ اور یہ اللہ کو ہرا نہیں سکتے۔ یعنی اللہ کی گرفت سے چھوٹ نہیں سکتے۔
Ayah 39:52(39:52) اولم یعلموا۔ ہمزہ استفہام انکای ہے واؤ کا عطف فعل محذوف پر ہے لم یعلموا مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ کیا وہ نہیں جانتے۔
یبسط مضارع واحد مذکر غائب بسط (باب نصر) مصدر، وہ کشادہ کرتا ہے۔ وہ مراخ کرتا ہے۔ وہ وسیع کرتا ہے۔ بسطۃ وبسطۃ فضیلت، قدرت، جسم کی بڑائی۔ علم کی وسعت۔ کمال کی افزونی، بسط کبھی بمقابلہ قدر آتا ہے (تنگ کردینا) جیسا کہ آیت ہذا میں اور کبھی بمقابلہ قبض آتا ہے (تنگ کردینا) جیسے واللّٰہ یقبض ویبسط (2:245) اللہ ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔
یقدر۔ مضارع واحد مذکر غائب قدر (باب ضرب) مصدر سے وہ تنگ کرتا ہے۔ قدر وقدرۃ بمعنی طاقت رکھنا اور قادر ہونا بھی ہے۔ باب نصر سے بھی انہی معنوں میں مستعمل ہے۔
Ayah 39:53(39:53) قل : ای قل یا محمد۔ خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے۔
عبادی۔ مضاف مضاف الیہ۔ عبد کی جمع ہے اور ی ضمیر واحد متکلم کی ہے : میرے بندو۔ اس میں اضافت عہد کی ہے یعنی اس سے مراد اللہ کے بندے ہیں۔ ناکہ امر قل کے مخاطب کے۔ کیونکہ یہ اضافت بلاشک و شبہ ہر ایک کے علم میں موجود ہے۔ قرآن کریم میں عبادی 17 جگہ آیا ہے اور ہر جگہ اجافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہے۔
قل یعبادی فرما دیجئے : اے اللہ کے بندو ! یہاں اللہ کے بندوں سے مراد المؤمنون المذنبون ہے وہ مومن جن سے گناہ سرزد ہوگئے ہوں۔ یا وہ جنہوں نے اسلام لانے سے قبل گناہ کا ارتکاب کیا ہو۔
الذین اسرفوا علی انفسھم یہ جملہ عبادی کی صفت ہے بمعنی جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں۔
اسرفوا ماضی جمع مذکر غائب اسراف (افعال) مصدر۔ اسراف اصل میں ہر کام میں انسان کے حد سے تجاوز کرنے کا نام ہے مگر اس کا استعمال خرچ کے بارے میں زیادہ مشہور ہے قرآن مجید میں اپنے اپنے موقع اور محل کے لحاظ سے دونوں معنی میں مستعمل ہے۔ آیت ہذا میں کفر و معاصی میں افراط مراد ہے۔ یعنی جنہوں نے کفر و شرک کرکے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں۔ یعنی اس کا ارتکاب کرکے اپنے آپ کو حد سے بڑھ کر مجرم بنا لیا ہے۔
لا تقنطوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر قنوط (باب فتح) مصدر سے۔ تم مایوس مت ہو ۔ تم آس مت توڑو۔
Ayah 39:54(39:54) وانیبوا۔ میں واؤ عاطفہ ہے جملہ ہذا کا عطف جملہ ماقبل لاتقنطوا پر ہے۔ انیبوا فعل امر، جمع مذکر حاضر انایۃ (افعال) مصدر سے۔ تم رجوع ہوجاؤ اس کا مادہ نوب ہے۔ النوب کی چیز کا بار بار لوٹ کر آنا۔ شہد کی مکھی کو توب بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی قرار گاہ کی طرف لوٹ لوٹ کر جاتی ہے الانابۃ الی اللّٰہ توبہ اور اخلاص عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا۔
اسلموالہ : اسلموا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اسلام (افعال) مصدر تم اس کے تابع فرماں رہو۔ تم اس کے فرمانبردار رہو۔
ان یاتیکم میں ان مصدریہ ہے یاتی مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر من قبل ان یاتیکم العذاب پیشتر اس کے کہ تم پر عذاب آجائے یا تم پر عذاب آنے سے پیشتر۔
لا تنصرون مضارع نہی مجہول ، جمع مذکر حاضر۔ تمہاری مدد نہیں کی جائیگی۔ تم مدد نہیں دئیے جاؤ گے ۔
Ayah 39:55(39ـ:55) واتبعوا، جملہ ہذا معطوف ہے۔ جس کا عطف یا لاتقنطوا پر ہے یا و انیبوا پر ہے۔ اور تم پیروی کرو۔ اتبعوا فعل امر، جمع مذکر حاضر اتباع (افتعال) مصدر پیروی کرنا ۔ اتباع کرنا۔
احسن ما انزل الیکم من ربکم۔ احسن مضاف۔ ما انزل الیکم من ربکم مضاف الیہ جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کا بہتر ۔ یعنی اس کے بہترین پہلو۔ اور اس سے مراد صریحا القرآن ہے اور قرآن کے بہترین پہلو کی پیروی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اوامر کی تعمیل کرے اور نواہی سے بچتا رہے احکام کی پیروی کرے اور خصتوں کی طرف نہ جکھے۔
بعض نے اسے صفت و موصوف کے معنی میں لیا ہے اور جملہ کا ترجمہ کیا ہے کہ :۔ ” بہترین کلام جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے “ اور بہترین کلام القرآن ہے ۔
بغتۃ اچانک، یک دم ۔ یکایک۔ ناگہاں ۔ بغت یبغت (فتح) سے جس کے معنی کسی چیز کے یکبارگی ایسی جگہ سے ظاہر ہوجانے کے ہیں جہاں سے اس کے ظہور کا گمان تک بھی نہ ہو۔
وانتم لا تشعرون ۔ واؤ حالیہ ہے۔ لا تشعرون مضارع منفی جمع مذکر حاضر دراں حالیکہ تم کو اس کا خیال تک نہ ہو۔ تم کو (اس کی) خبر تک نہ ہونے پائے۔
Ayah 39:56(39:56) ان تقول : (ان مصدریہ ناصبہ) بمعنی لئلا (ل تعلیلہ ، لا نافیہ) تاکہ نہ کہے۔ تاکہ نہ کہہ سکے۔ ان تقول سے قبل فعل محذوف ہے۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم لئلا نقول نفس الخ۔ اور تم پیروی کرو اس عمدہ کلام کی جو اتارا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے تاکہ (کل کوئی نفس (یہ) نہ کہہ کسے کہ ۔۔ الخ۔
(2) انذرکم وامرکم باحسن ما انزل الیکم من ربکم لئلا تقول نفس ۔۔ الخ وہ ڈراتا ہے تم کو اور حکم دیتا ہے تم کو پیروی کرنے کا عمدہ کلام کی جو اتارا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے تاکہ (کل) کوئی نفس یہ نہ کہہ سکے کہ ۔۔
نفس میں تنوین تکثیر کے لئے یا یہ تقلیل کے لئے بھی ہوسکتی ہے کیونکہ قیامت کے دن ایسا کہنے والے کچھ ہی لوگ ہوں گے۔
یحسرتی۔ یا غرف ندائ۔ حسرۃ (افسوس، پشیمانی، پچھتاوا) حسر یحسر سمع کا مصدر ہے ی اضافت واحد متکلم کی ہے۔ یائے اضافت کو الف سے بدلا گیا ہے۔ اے میری بدقسمتی۔ اسے میری پشیمانی۔ صد حیف مجھ پر۔
علی ما فرطت علی تعلیلہ ما مصدریہ ہے فرطت ماضی واحد متکلم ۔ تفریط (تفعیل) مصدر۔ فرط مادہ۔ میں نے کمی کی، میں نے کوتاہی کی۔ یہ افراط کی ضد ہے۔ علی ما فرطت ای بسبب تفریطی میری کوتاہی پر۔ میری کوتاہی کے سبب سے۔ ملاحظہ ہو ولتکبروا اللّٰہ علی ما ھدکم (2:185) کہ تم اللہ کی بڑائی کیا کرو بسبب اس کے تمہیں ہدایت دینے کے۔
فی جنب اللّٰہ۔ علماء نے اس کے متعدد معانی لکھے ہیں :۔
(1) اللہ کی اطاعت میں۔ (حسن)
(2) اللہ کے معاملہ میں (مجاہد)
(3) اللہ کے حق میں (سعید بن جبیر)
بعض کے نزدیک ذات خدا مراد ہے اور مضاف محذوف ہے یعنی ذات الٰہی کی اطاعت میں یا اس کا قرب حاصل کرنے میں۔
بعض نے جنب کا معنی جانب بیان کیا ہے یعنی اس جانب میں کوتاہی کی جو مجھے اللہ کی جانب پہنچا دیتی۔
وان کنت لمن الساخرین۔ اس میں ان مخففہ ہے ان ثقیلہ سے یعنی بلاشبہ۔ بےشک۔ الساخرین۔ اسم فاعل جمع مذکر، سخر یسخر (سمع) سخر وسخر ومسخر مصدر۔ ٹھٹھا کرنا۔ مذاق کرنا۔ ہنسی اڑنا۔ السخرۃ جس سے ٹھٹھا کیا جائے۔ ہنسی اڑانے والے کے اس فعل کو سخر یۃ و سخریۃ کہتے ہیں۔ لمن میں لام فارقہ ہے۔
Ayah 39:57(39:57) او تقول : او حرف عطف ، تقول مضارع منصوب واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے جو یہاں محذوف ہے۔ فعل مضارع سے قبل عامل ان (مصدریہ، ناصبہ) محذوف ہے۔ عبارت یوں ہوگی :۔ او ان تقول نفس ۔۔ الخ نحوی تشریح کے لئے آیت 56 متذکرہ بالا ملاحظہ فرمائیں۔
لو ان اللّٰہ ھدنی۔ جملہ شرطیہ ہے لکنت من المتقین۔ اس کی جزاء (یا کوئی جان یا نفس یا شخص یہ کہے کہ) اگر (دنیا میں) اللہ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں سے ہوتا ۔ یعنی شرک اور معاصی سے بچا رہتا۔
Ayah 39:58(39:58) او تقول۔ اس کی تشریح آیات 56:57 متذکرہ بالا۔ میں دیکھیں۔
تری مضارع واحد مؤنث غائب۔ ر أ ی مادہ رؤیۃ مصدر۔ وہ دیکھتی ہے وہ دیکھے گی۔
لو ان لی کرۃ۔ جملہ تمنائی ہے فاکون من المحسنین اس کا جواب ہے لو کاش کرۃ (منصوب بوجہ عمل ان) ۔
الکر : کر یکر (باب نصر) سے مصدر ہے مگر بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ مصدر بمعنی مڑنا۔ لوٹنا۔ جیسے انھزم عنہ ثم کر علیہ۔ اس نے اس سے شکست کھائی اور پھر حملہ کے لئے لوٹ پڑا۔ یعنی پینترا بدلنے کے لئے وہ بھاگا پھر اس نے دوبارہ حملہ کیا۔ کرار اسم صفت ہے پھر پھر کر حملہ کرنے والا۔ اور تکرار کسی شے کو بار بار کرنا۔
کرۃ میں تا وحدت کی ہے یعنی ایک بار۔ گویا کرۃ کے معنی ہوئے ایک بار لوٹنا۔ ایک پھیرا۔ ایک مرتبہ واپسی۔
فاکون میں نصب بوجہ جواب تمنا ہے محسنین اسم فاعل جمع مذکر ۔ نیکوکار۔ نیکی کرنے والے۔ احسان سے۔
جملہ کا ترجمہ یوں ہوگا :۔ اے کاش میرا (دنیا میں) پھرجانا ہوجائے پھر میں نیک بندوں میں ہوجاؤں۔
لو تمنائیہ کی اور مثال :۔ فلو ان لنا کرۃ فنکون من المؤمنین (26:102) کاش ہمیں (دنیا میں) پھرجانا ہو تو ہم مومنوں میں ہوجائیں۔
لو ان لی کرۃ جملہ شرطیہ بھی ہوسکتا ہے بمعنی اگر مجھے (دنیا میں) پھر ایک بار جانا نصیب ہوجائے۔
Ayah 39:59(39:59) بلی۔ حرف اضراب ہے۔ یہاں شرک و معاصی کا ارتکاب کرنے والے کے اس قول کی تردید ہے جس کی طرف آیۃ مذکورہ لو ان اللّٰہ ھدنی لکنت من المتقین میں اشارہ ہے علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔
یہ آیت گزشتہ آیت لو ان اللّٰہ ۔۔ کی مکمل تردید ہے کیونکہ سابق آیت میں اگر رہنمائی مراد ہے تو اس آیت کا مطلب ہوگا کہ پیغمبر اور کتاب کے ذریعہ سے اللہ نے رہنمائی تو کردی تھی مگر تو نے سب کی تکذیب کی تو اس صورت میں آیت لو ان اللّٰہ ھدنی کا یہ مطلب یہ ہوگا کہ میرے پاس پیغمبر آیا ہی نہیں نہ کسی پیغمبر نے مجھے اللہ کا پیغام پہنچایا ۔۔ اور اگر ہدایت سے تخلیق ہدایت اور منزل مقصود تک پہنچانا مراد ہو تو اس صورت میں لو ان اللّٰۃ ھدنی کا یہ مطلب ہوگا کہ میں مجبور تھا اللہ ہی نے مجھے ہدایت نصیب نہیں کی۔ ایمان و اطاعت کو اختیار کرنے کی میرے اندر طاقت ہی نہ تھی کیونکہ اللہ نے مجھے اس کی قدرت دی ہی نہ تھی۔
بلی قد جاء تک ایتی ۔۔ الخ۔ میں اس قول کی تردید کردی اور فرمایا کیوں نہیں ہم نے تو تجھے قدرت دی تھی کہ جس راستہ کو اختیار کرنا چاہے کرلے۔ اسی پر عذاب و ثواب کی عمارت کی بناء ہے لیکن جب میری آیات تیرے پاس پہنچیں تو تو نے اپنے اختیار سے ان کی تکذیب کی اور غرور کیا اور تو کافروں میں شامل ہو رہا۔
استکبرت ماضی واحد مذکر حاضر۔ استکبار (استفعال) مصدر۔ تو نے غرور کیا۔
Ayah 39:60(39:60) یوم القیمۃ مسودۃ : یوم بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ الذین اسم موصول جمع مذکر کذبوا علی اللّٰہ بدل ہے الذین سے
وجوہہم مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا ۔ مسودۃ اسم فاعل واحد مؤنث اسوداد افعلال مصدر سے ۔ سیاہ ۔ خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ یہ جملہ موضع حال میں ہے لہٰذا محل نصب میں ہے۔ یعنی قیامت کے دن تو دیکھے گا۔ ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ پر دروغ گوئی کی درآں حالیکہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔
اللہ پر دروغ گوئی سے مراد اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اسے صاحب اولاد ماننا۔ یا ان صفات کی اس کی طرف نسبت کرنا جو اس کی شان کے شایان نہیں ہیں۔
الیس۔ الف استفہام انکاری کے لئے ہے لیس فعل ناقص ماضی واحد مذکر غائب نہیں ہے۔ نفی کا انکار۔ مثبت کا اقرار ہے۔ یعنی ضرور ہے۔
مثوی۔ ظرف مکان مفرد مثاوی جمع ٹھکانہ۔ فرودگاہ ۔ اترنے کا مقام۔ دراز مدت تک ٹھہرنے کی جگہ۔ مطلب : متکبرین کا ٹھکانا ضرور بالضرور جہنم میں ہوگا۔ متکبرین۔ اسم فاعل جمع مذکر تکبر کرنے والے۔ اللہ کو ماننے اور اس کی اطاعت کرنے سے سرتابی کرنیوالے
Ayah 39:61(39:61) ینجی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تنجیۃ (تفعیل) مصدر نجو مادہ وہ بچا لے گا۔ وہ نجات دیگا۔
اتقوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ ڈرے۔ انہوں نے پرہیزگاری اختیار کی۔ اتقاء افتعال مصدر وقی مادہ۔ وقیت الشی (باب ضرب) وقایہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں۔ جیسے ووقہم عذاب الجحیم (44:56) اور (خدا) ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالیگا۔ اسی سے تقوی ہے نفس کو ہراس چیز سے بچانا جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
کبھی کبھی تقوی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلا فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون (7:35) جو شخص (ان پر ایمان لاکر) خدا سے ڈرتا رہیگا۔ اور اپنی حالت درست رکھیگا تو اسیے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔ پھر تقوی کے مختلف مدارج ہیں اس لئے ہر جگہ تقویٰ کا ایک خاص معنی مراد ہے۔
بمفازتھم۔ ب سببیہ ہے مفازتھم مضاف مضاف الیہ ان کی کامیابی ان کی فلاح۔ جملہ کا مطلب یہ ہے اور جو پرہیزگار ہیں ان کی کامیابی کے سبب خدا ان کو نجات دیگا۔ مفازۃ : فازیفوز (باب نصر) سے مصدر ہے اور فوز ومفاز بھی مصدر ہے۔
لایمسھم۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ان کو نہیں چھوئے فا۔ ان کو نہیں پہنچے گا۔ مس یمس (باب سمع) ۔ السوئ۔ تکلیف ، دکھ۔ آفت۔ سوء سے اسم ہے۔
Ayah 39:62(39:62) وکیل۔ صفت مشبہ، وکل مصدر سے۔ نگہبان ، نگران ، کارساز۔ التوکیل کے معنی کسی پر اعتماد کرکے اسے اپنا نائب مقرر کرنے کے ہیں۔ اور وکیل بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے جس پر اعتماد کرکے اپنا کام اس کے سپرد کردیا جائے اور جگہ قرآن مجید میں ہے وکفی باللّٰۃ وکیلا (4:81) اور خدا ہی کافی کارساز ہے یعنی اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دیجئے اور کارسازی کے لئے اسی کو کافی سمجھئے
Ayah 39:63(39:63) لہ میں لام ملک کے معنی میں آیا ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے وہی مالک ہے یعنی اللہ ہی مالک ہے۔ جیسے اور جگہ آیا ہے لہ ما فی السموت وما فی الارض (2:255) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا وہی مالک ہے۔
مقالید : مقلاد یا مقلید کی جمع ہے جیسے مفتاح کی جمع مفاتیح اور مندیل کی جمع منادیل ہے۔ کنجیاں۔ لہ مقالید السموت والارض یعنی آسمانوں کے اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ سارا جہاں اسی کی ملک ہے کوئی بھی اس کے سوا ان خزانوں میں تصرف نہیں کرسکتا۔
ایت اللّٰہ سے مراد کلمات تمجید، و توحید یا قرآن مجید یا اللہ کی قدرت مستقلہ کے نشانات و علامات۔
ہم الخسرون۔ اسم فاعل جمع مذکر خسرو خسران مصدر سے ۔ ٹوٹا پانے والے۔ نقصان اٹھانے والے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب حصر کے لئے ہے۔ یعنی وہی خسارہ پانے والے ہیں۔
Ayah 39:64(39:64) قل : ای قل للقریش یا محمد ﷺ اے محمد ﷺ قریش مکہ سے کہہ دیجئے۔
افغیر اللّٰہ تامرونی اعبد ایھا الجھلون : ای ایھا الجھلون افغیر اللّٰہ تامرونی اعبد۔ افغیر میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔حرف عطف ہے اور اس کا عطف محذوف پر ہے۔ ایء اکفر وغیر اللّٰہ اعبد پر غیر مفعول ہے اعبد کا۔ تامرونی جملہ معترضہ ہے محل انکار غیر اللہ کا لفظ ہے اس لئے فعل پر اس کو مقدم کردیا گیا (یعنی اہمیت کی وجہ سے مفعول کو فعل سے پہلے ذکر کردیا) ۔ مطلب اس طرح ہوگا :۔
اے جاہلو ! کیا میں کفر کروں اور غیر اللہ کی عبادت کروں۔ تم مجھے اس کام کا مشورہ دے رہے ہو۔
تامرونی۔ اصل میں تامروننی تھا۔ ی ضمیر واحد متکلم کا ہے اور نون پر تشدید ن کو ن میں مدغم کرنے کی وجہ سے ہے۔ تم مجھے حکم دیتے ہو۔ تم مجھے مشورہ دیتے ہو۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے امر مصدر سے باب نصر۔
Ayah 39:65(39:65) ولقد واؤ حالیہ ہے لقد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ۔۔
الذین من قبلک سے مراد وہ پیغمبر و رسول جو آپ ﷺ سے پہلے مبعوث ہوئے تھے۔ والی الذین ای واوحی الی الدین۔
لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین ۔ میں لام اول (لئن کی لام) کو اللام الموطئۃ للقسم کہتے ہیں۔ (وہ لام جو قسم کے لئے راہ ہموار کرے) اس سے قبل قسم محذوف ہے ای واللّٰہ لئن ۔۔ الخ لام دوم۔ لام سوم لیحبطن اور لتکونن کی لام جواب قسم کی لام ہیں۔ اور جواب قسم لیحبطن ۔۔ الخ قائم مقام دو جواب کے ہے۔ جواب قسم و جواب شرط۔ (لئن میں ان شرطیہ ہے اور ان اشرکت جملہ شرطیہ ہے اور لیحبطن ۔۔ الخ جواب شرط ہے) ۔
اشرکت۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ اشراک مصدر (افعال) تو نے شرک کیا ان اشرکت اگر تو نے شرک کیا۔
یغبطن۔ مضارع بانون تاکید ثقیلہ۔ واحد مذکر غائب حبط مصدر ۔ (باب سمع) ضرور بےکار جائے گا۔ ضائع ہوجائے گا۔ حبط دم القتیل مقتول کا خون رائیگاں گیا الحبط کے معنی کسی کام کا ضائع اور اکارت ہوجانا کے ہیں۔
تکونن۔ مضارع بانون تاکید ثقیلہ واحد مذکر حاضر۔ تو ضرور ہوجائے گا۔ کون مصدر (باب نصر)
الخسرین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ خسر و خسران مصدر۔ نقصان اٹھانے والے۔ گھاٹا پانے والے۔ زیاں کار۔
اشرکت ، عملک ، تکونن میں ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع کون ہے۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) اس کا مرجع عام مخاطب امت میں سے کا ہر ایک شخص ہے۔ یعنی آپ کی طرف اور دیگر پیغمبران کی طرف یہ وحی بھیج دی گئی ہے کہ تمہارا اپنی قوم کے ہر فرد سے یہ خطاب ہو۔ اے مخاطب اگر تو نے شرک کیا تو تیرے سب اعمال اکارت جائیں گے۔ اور تو ضرور گھاٹا پانے والوں سے ہوجائے گا۔
(2) اس کا مرجع لقد اوحی الیک اور من قبلک کے قرینہ سے نبی کریم ﷺ ہیں مگر اس پر اکثر علماء نے اعتراض کیا ہے کہ انبیاء کی شان میں شرک کا تصور بھی محال ہے ۔ لیکن اس بارے میں تفسیر حقانی کے مصنف کی تشریح قابل غور ہے۔ فرماتے ہیں :۔ ” ولقد اوحی الیک والی الذی من قبلک ۔۔ الخ کہ اے محمد ﷺ تیری طرف اور تجھ سے پہلے انبیاء کی طرف ہم یہ حکم بھیج چکے ہیں کہ اگر تو اے محمد ﷺ بالفرض یا تجھ سے پہلے انبیاء (فرضا) شرک کریں۔ تو ان کے نیک کام اکارت ہوجائیں ۔ اور بڑی بربادی میں پڑیں۔ یہ کلام شہنشاہی اور جلالی رعب کے قاعدہ پر ہے۔
آنحضرت ﷺ اور اگلے انبیاء سے شرک سرزد ہونا محال تھا کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہیں مگر مخاطب کے سنانے کو ایسا پر زور حکم سنا دیا کہ یہ نکوہیدہ کا مکسی کو بھی معاف نہیں “۔
مولانا تھانوی (رح) آیت ولا تکونن من المشرکین (6:14) کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :۔ تکالیف شرعیہ کسی سے بھی ساقط نہیں ہوتیں یہاں تک کہ انبیاء سے بھی۔
Ayah 39:66(39:66) بل اللّٰہ فاعبد : بل حرف اضراب ہے۔ جس کی عبادت (ماسوی اللہ) کافرین چاہتے تھے اس کی تردید میں ارشاد ہوتا ہے۔ بل اللّٰۃ فاعبد : کانہ قال لاتعبد ما امروک بعبادتہ بل ان عبدت فاعبد اللّٰہ۔ یعنی جو وہ چاہتے ہیں اس کی عبادت نہ کرو بلکہ اگر عبادت کرنا ہو تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ شرط کو حذف کرکے اس کے عوض مفعول کو لایا گیا ہے۔
شکرین۔ اسم فاعل جمع مذکر شکر مصدر سے ۔ شکر گزار۔ احسان ماننے والا۔
Ayah 39:67(39:67) ما قدروا اللّٰہ : ما قدروا ماضی منفی جمع مذکر غائب انہوں نے تعظیم نہیں کی۔ انہوں نے نہیں پہچانا۔ انہوں نے قدر نہیں پہچانی، انہوں نے قدردانی نہیں کی ۔
والارض جمیعا یعنی زمین اپنی تمام اندورونی و بیرونی اجزاء کے ساتھ۔
قبضتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا قبضہ ، اس کی مٹھی میں ہونا۔ اس کا تصرف، اس کا اختیار کامل۔ القبض کے معنی کسی چیز کو پانچوں انگلیوں سے مٹھی بھر کر پکڑنا۔ جیسے قبض السیف تلوار کو پکڑنا ۔ قبض علی کسی چیز کو بھرپور پکڑنا۔ قبض عن کسی چیز کی طرف سے ہاتھ کو کھینچ لینا۔ اسی مفہوم کے لحاظ سے خرچ سے ہاتھ روکنے کو قبض کہا جاتا ہے مثلاً ویقبضون ایدیہم (9:67) اور خرچ کرنے سے ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ وقبض الی اپنی طرف سمیٹنا۔ مثلا ثم قبضنہ الینا قبضا یسیرا (25:46) پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ قبضۃ مٹھی بھر چیز۔ یعنی مکمل طور پر اس کے اختیار میں ہوگی۔
مطویت۔ اسم فعول جمع مؤنث۔ مطویۃ واحد۔ طی مصدر (باب ضرب) لپیٹے ہوئے۔ طے کرنا کے دو معنی ہیں۔
(1) لپیٹنا جیسے کاغذ یا کپڑے کو تہہ کرنا۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب (21:104) جس دن ہم آسمان کو اسی طرح لپیٹ لیں گے جیسے کاغذات کا طومار لپیٹ لیا جاتا ہے۔
(2) مسافت کو قطع کرنا۔ عمر کو گزارنا۔
بقول امام راغب (رح) آیت میں دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ کاغذ کی طرح آسمانوں کا لپیٹ دیا جانا بھی ۔ اور فنا کردینا اور تباہ کردینا بھی۔ قیامت کے دن آسمان بہرحال فنا کر دئیے جائیں گے۔
Ayah 39:68(39:68) نفخ ماضی مجہول واحد مذکر غائب نفخ (باب نصر) مصدر۔ وہ پھونکا جائے گا۔ صور پھونکا جائے گا۔ یہاں مراد نفخہ اول ہے۔
الصور۔ صور۔ نرسنگا۔ وہ چیز کو حضرت اسرافیل خلق کو مارنے اور جلانے کے لئے ارشاد الٰہی سے پھونکیں گے۔
فصعقسببیہ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی اس (صور پھونکے جانے) کے سبب اور فجائیہ بھی۔ یعنی صور پھونکا جائے گا اور فورا ۔۔ صعق ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب صعق مصدر باب سمع سے۔ جس کے معنی گرج کے صدمہ سے بیہوش ہونے اور مرجانے کے آتے ہیں۔ صعق وہ بیہوش ہو کر گرپڑا۔ وہ مرگیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وخر موسیٰ صعقا (7:143) اور (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہوکر گرپڑے۔
ثم نفخ فیہ اخری پھر اسے دوبارہ پھونکا جائے گا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الصور ہے۔
فاذا۔ میں فاء تعقیب کا ہے۔ اذا مفاجاتیہ۔ فاذاہم قیام تو دفعتہ سب کے سب اٹھ کھڑے ہوں گے۔
ینظرون : مضارع جمع مذکر غائب نظر (باب نصر) مصدر سے۔ وہ دیکھتے ہوں گے۔ وہ دیکھیں گے۔ وہ دیکھنے لگیں گے۔
مطلب یہ ہے کہ دوسرے نفخہ پر لوگ یکدم قبروں سے نکل کر کھڑے ہوجائیں گے اور حیرانی سے ادھر ادھر نظریں گھما کر دیکھیں گے۔ یا یہ کہ انتظار کریں گے کہ آئندہ ان کے متعلق کیا حکم صادر ہوتا ہے۔ ای یقلبون ابصارھم فی الجھات نظر المبھوت او ینظرون امر اللہ فیہم۔
Ayah 39:69(39:69) اشرقت : ماضی بمعنی مستقبل واحد مؤنث غائب وہ چمک اٹھے گی۔ اشراق مصدر (افعال) سے یعنی میدان قیامت کی زمین روشن ہوجائے گی۔
وضع الکتب : وضع ماضی مجہول واحد مذکر غائب وضع مصدر (باب فتح) ۔ الوضع نیچے رکھ دینا۔ اسی سے ہے موضع (جمع مواضع) بمعنی جگہیں یا موقعے۔ جیسے یحرفون الکلم عن مواضعہ۔ (5:13) یہ لوگ کلمات کتاب کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔
الکتب سے مراد جمہور نے اعمال نامے لیا ہے ال جنس کے لئے ہے ابن عباس ؓ نے اس سے مراد لوح محفوظ لیا ہے۔ کہ ہر ایک اپنے اعمال نامہ کا مقابلہ اس سے کرلے۔ اس میں الف لام عہد کا مراد لیا گیا ہے۔ ابو حیان نے اسے دورانہ حقیقت لیا ہے اور کہا ہے کہ شاید ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت صحیح نہی ہے۔
جائ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ جاء یجی (باب ضرب) مصدر مجی آنا۔ ب تعدیہ کے لئے ہے جاء ب وہ لایا۔ ج ی ء مادہ۔ جاء بالنبیین والشھداء پیغمبر اور دوسرے گواہ لائے جائیں گے۔ حاضر کئے جائیں گے۔
الشھداء گواہ شھد کی جمع ہے بمعنی حق کی شہادت دینے والا۔ گواہ۔ شاہد۔ (شھید بروزن فعیل بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے) شہید اصلاح میں اس شحص کو کہتے ہیں جس نے راہ خدا میں کافروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان دیدی ہو۔
عطاء نے کہا ہے کہ الشھداء سے مراد اعمال لکھنے والے فرشتے ہیں اور اسی پر دلالت کر رہی ہے یہ آیت وجاءت کل نفس معھا سائق وشھید (50:21) اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ ایک (فرشتہ) تو اس کے ساتھ ہمراہ لانے والا ہوگا۔ اور ایک (فرشتہ) گواہ ہوگا۔ (یہ دونوں فرشتے وہی کاتب اعمال ہوں گے۔ عرف عام میں انہی کو کراما کاتبین کہتے ہیں ۔ (الماجدی)
قضی ماضی مجہول واحد مذکر غائب یہاں ماضی بمعنی مستقبل استعمال ہوا ہے۔ فیصلہ کردیا جائے گا۔ قضی ماضی معروف قضاء مصدر۔ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ پورا کرنا۔ عزم کرنا فیصلہ کرنا۔ حکم جاری کرنا۔ حکم دینا۔ قطعی وحی بھیج کر اطلاع دینا۔ مقرر کرنا۔ حاجت پوری کرکے قطع تعلق کرلینا۔ فارغ ہونا۔ مرجانا۔ مار ڈالنا وغیرہ۔
قضی بینھم بالحق اور ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا۔
Ayah 39:70(39:70) وقیت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب توفیۃ (تفعیل) مصدر۔ پورا پورا دیا جائے گا۔ (ماضی بمعنی مستقبل)
الوافی مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے اوفیت الکیل والوزن۔ میں نے باپ یا تولکو پورا پورا دیا۔ یا جیسے قرآن مجید میں ہے واوفوا الکیل اذا کلتم (17:35) اور جب (کوئی چیز) ماپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھر کر دو ۔
وھو اعلم : میں ھو ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔
Ayah 39:71(39:71) سیق۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب سوق وسیاقۃ ومساق (باب نصر) مصدر ہانکنا۔ ہانک لے جانا۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل ہے وہ ہانک لے جائے جائیں گے۔
زمرا جھتے جھتے، گروہ گروہ۔ جوق در جوق۔ زمرۃ کی جمع ۔ جس کے معنی تھوڑی تھوڑی جماعت کے ہیں۔ نوجہ حال منصوب ہے۔
جاء وھا : الوابھا۔ خزنتھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جہنم ہے۔
منکم ای من جنسکم۔ تمہاری ہی جنس سے۔ تم میں سے ہی۔ تمہاری نوع میں سے۔
الم یاتکم : استفہام تقریری ہے ۔
یتلون مضارع جمع مذکر غائب تلاوۃ مصدر باب نصر۔ پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔
ینذرونکم : ینذرون مضارع جمع مذکر غائب انذار افعال مصدر بمعنی ڈرانا کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر تم کو ڈرایا کرتے تھے
لقاء یومکم ھذا : یومکم مضاف مضاف الیہ۔ ھذا متعلق یوم مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ لقاء مضاف۔ تمہارے اس دن کی پیشی۔ لقاء حاصل مصدر ہے لقی یلقی (سمع) لقی ولقاء ۃ مصدر سے بمعنی ملنا۔ سامنے آنا۔ پیش ہونا۔ ینذرون کا مفعول ثانی ہے ینذرونکم لقاء یومکم ھذا کو تمہارے اس دن کی پیشی سے ڈرایا کرتے تھے۔
یومکم ھذا۔ سے مراد یوم قیامت ہے یا کافروں کے جہنم میں داخل ہونے کا وقت۔
بلی۔ ہاں ۔ بیشک استفہام تقریری کے جواب میں۔ ای قالوا بلی قد اتانا رسل منا تلوا علینا ایت ربنا وانذرونا لقاء یومنا ھذا۔ وہ کہیں گے ہاں بیشک ہم میں سے ہی (خدا کی طرف سے) رسول ہماری طرف آئے تھے ہمارے رب کی آیات کو انہوں نے پڑھ پڑھ کر سنایا اور ہمیں اس دن کی پیشی سے ڈرایا۔
حقت ماضی واحد مؤنث غائب ضمیر فاعل واحد مؤنث کا مرجع کلمۃ ہے۔ ٹھیک پڑی۔ ثابت ہوئی۔
کلمۃ العذاب مضاف مضاف الیہ۔ عذاب کا حکم۔ کافروں کے لئے عذاب کا حکم جو علم ازلی میں ان کے اعمال پر مرتب ہوکر لوح محفوظ میں درج ہے یا اس کا اشارہ قول الٰہی کی طرف ہے۔ لاملئن جنھم منک وممن تبعک منہم اجمعین ۔ (38:85) کہ میں تجھ سے اور ان میں سے جو تیرا ساتھ دیں ان سب سے دوزخ کو ضرور بھر دوں گا۔
ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکفرین۔ لیکن عذاب کا حکم (آخر) کافروں پر سچا ثابت ہوکر ہی رہا۔ یا کافروں کے خلاف عذاب کا حکم (آخر) پورا ہو کر ہی رہا۔
Ayah 39:72(39:72) خلدین ۔ ہمیشہ رہنے والے۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر منصوب بوجہ حال ۔
فیہا : ای فی جہنم۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جھنم ہے۔
بئس۔ برا ہے۔ فعل ذم ہے۔ اس کی گردن نہیں آتی۔ بئس اصل میں بئس تھا۔ (بروزن فعل باب سمع) عین کلمہ کی اتباع میں اس کے فاء کلمہ کو کسرہ دیا گیا۔ پھر تخفیف کیلئے عین کلمہ کو ساکن کردیا بئس ہوگیا۔
مثوی المتکبرین۔ مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل ہے بئس کا۔ مثوی۔ ظرف مکان۔ فرودگاہ۔ نیز ملاحظہ ہو 39:60 متذکرہ بالا۔ المتکبرین۔ میں الف لام جنس کا ہے۔ تکبر کرنے والے۔ حق کو حقیر سمجھ کر قبول نہ کرنے والے۔ فبئس مثوی المتکبرین۔ پس تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ بہت برا ہے۔