Ayahs 38:40–41(38:40) وان لہ : ای وان مع ذلک المال والملک یعنی اس ملک اور سلطنت اور ان میں بہمہ نوع اختیارات تصرف دینے کے علاوہ ان کو بارگاہ الٰہی میں قرب اور حسن مآب (جنت کی خوشخبری) ہے۔
زلفی وحسن ماب۔ ملاحظہ ہو 38:25 ۔ متذکرہ بالا۔
واذکر ۔۔ کا عطف واذکر عبدنا داؤد پر (آیۃ : 17) پر ہے۔
عبدنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا بندہ۔ منصوب بوجہ مفعول اذکر۔
ایوب : عبدنا کا عطف بیان ہے یا اس کا بدل ہے۔
اذ نادی ربہ : عبدنا یا ایوب کا بدل اشتمال ہے۔ جب اس نے اپنے رب کو پکارا۔
انی : ای بانی۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ی ضمیر واحد متکلم ۔ کہ بیشک میں ۔
مسنی۔ مس ماضی واحد مذکر غائب مس باب نصر سے۔ ن وقایہ ی ضمیر متکلم مفعول۔ اس نے مجھے پہنچائی۔
نصب۔ اسم۔ مضرت۔ تکلیف۔ دکھ۔
Ayah 38:42(38:42) ارکض : ای فقلنا لہ ارکض۔ ہم نے اس کو کہا ارکض۔ رکض باب نصر مصدر سے جس کے معنی اصل میں ٹانگ کو حرکت دینے کے ہیں۔
اگر سوار کے متعلق بولا جائے تو رکضت الفرس کے معنی ہوں گے۔ میں نے گھوڑے کو تیز دوڑنے کے لئے ایڑ لگائی۔ پیادہ آدمی کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی پاؤں کے ساتھ زمین کو روندنا کے ہی۔ جیسے لا ترکضوا (21:13) مت بھاگو۔
ارکض امر کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ تو اپنی ٹانگ زمین پر مار۔
ھذا مغتسل باردو شراب۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔ فقلنا لہ ارکض فرکض فنبعت عین فقلنا لہ ھذا مغتسل بارد تغتسل بہ وتشرب منہ فیبرأ ظاھرک وباطنک۔
جب ہم نے اسے حکم دیا کہ زمین پر پاؤں مارو تو اس نے زمین پر پاؤں مارا پس اس سے ایک چشمہ پھوٹ نکلا ۔ ہم نے اسے کہا کہ یہ نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے تو اس نے نہائے گا اور پئے گا تو اس سے تیرا ظاہر اور باطن درست ہوجائے گا۔
Ayah 38:43(38:43) وھبنا لہ۔ وھبنا ماضی جمع متکلم۔ وھب وھبۃ (باب فتح) سے مصدر ۔ ہم نے اسے بخشا۔
مثلہم معہم۔ ان کی طرح۔ ان کی مانند۔
یعنی ہم نے ان کو ان کے گھر والے بھی واپس کر دئیے (جو اگر مرچکے تھے تو دوبارہ زندہ کرکے واپس کر دئیے یا اگر وہ ان کی طویل علالت کی وجہ سے ان کو چھوڑ کر چلے گئے تھے تو ان کی صحت یابی پر واپس پلٹ آئے) اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کئے۔
یعنی پہلی آل و اولاد کے علاوہ اتنے ہی اور بھی عطا کئے۔ اہلہ ومثلہم میں اہل اور مثل بوجہ مفعول ہے منصوب ہے۔
رحمۃ منا۔ ہماری طرف سے بطور رحمت (حضرت ایوب (علیہ السلام) پر رحمت کے طور پر) مفعول لہ ہے۔ اسی طرح ذکری مفعول لہ ہے۔ اور اہل عقل کی نصیحت کے لئے۔
Ayah 38:44(38:44) ضغثا۔ خشک گھاس یا شاخیں جو انسان کی مٹھی میں آجاویں۔ اس کی جمع اضغاث۔ وہ خواب جو ملتبس سا ہو اور اس کا مطلب واضح نہ ہو۔ اس کو اضغاث کہا جاتا ہے۔ جیسے قالوا اضغاث احلام (12:44) انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ تنکوں کا مٹھا۔ جھاڑو۔
لاتحنث۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر تو قسم نہ توڑ۔ حیث یحنث حنثا قسم توڑنا۔
صاحب ضیاء القرآن فرماتے ہیں :۔
ابتلاء و آزمائش کے اس طویل اور ہوشربا دور میں جب کہ سب لوگوں نے آپ سے منہ پھیرلیا آپ کی وفا شعار بیوی آپ کی خدمت میں سرگرم رہی۔ ان کی زبان سے کوئی ایسی بات نکل گئی جو آپ کی غیرت ایمانی کے خلاف تھی۔ اور آپ کو سخت ناگوار گزری آپ نے فرمایا کہ میں تجھے سو کوڑے لگاؤں گا۔ جب آپ صحت یاب ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ایسی ترکیب بتائی کہ قسم بھی نہ ٹوٹے۔ اور اس خدمت گزار اور نیک سرشت بیوی کو تکلیف بھی نہ پہنچے۔ ارشاد باری ہوا کہ گھاس کا ایک مٹھا لو جس میں سوتیلیاں ہوں اس سے مارو دونوں مطلب پورے ہوجائیں گے۔
نعم العبد انہ اواب۔ ملاحظہ ہو 38:30 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 38:45(38:45) واذکر عبدنا ۔۔ الخ اس کا عطف واذکر عبد نا ایوب پر ہے۔ اور یاد کر ہمارے بندوں کو۔۔
ابراہیم واسحق و یعقوب : عبدنا کا عطف بیان ہے یا بدل ۔
اولی الایدی والابصار۔ ہاتھوں والے اور آنکھوں والے۔ الایدی القوۃ سے مجاز مرسل ہے۔ سبب کو ذکر کرکے مسبب مراد لیا گیا ہے (اکثر اعمال ہاتھوں ہی سے کئے جاتے ہیں اور مضبوط ہاتھ ہی قوت کا سبب بنتے ہیں)
ابصار جمع بصر کی ہے بمعنی آنکھ لیکن یہاں مراد بصیرت لی گئی ہے کیونکہ آنکھیں ہی خدا شناسی کا بہترین ذریعہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ تینوں بندے اللہ کے خاص بندے اطاعت خداوندی میں مستعد اور طاقت ود اور دین و معرفت الٰہیہ میں صاحب بصیرت تھے یعنی عملی اور علمی قوتوں کے مالک تھے۔
اور اس کے برعکس جاہلوں کو اپاہج اور اندھا کہیں گے کہ اطاعت خداوندی میں لولے اور حقیقت کو دیکھنے میں کورے۔
Ayah 38:46(38:46) اخلصنہم بخالصۃ۔ اخلصنا۔ اخلاص (افعال) سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اور اس کا مرجع حضرت ابراہیم و حضرت استحق و حضرت یعقوب علیہم الصلوٰۃ والتسلیم ہیں)
بخالصۃ باء سببیہ ہے خالصۃ اسم فاعل واحد مؤنث اور اس کی تنوین تفخیم (تعظیم و تکریم) کے لئے ہے۔ ای خصلۃ خالصۃ جلیلۃ الشان لاشوب فیہا۔ ایک عظیم الشان اور ہر قسم کی آلائش یا ملاوٹ سے پاک خصلت۔
ترجمہ ہوگا :۔ ہم نے ان کی ایک عظیم الشان اور ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک خصلت کی وجہ سے ان کو (اپنے لئے) مخصوص کرلیا۔ ای جعلنا ہم خالصین لنا بسب خصلۃ خالصۃ جلیلۃ الشان لاشوب فیہا۔
ذکری الدر۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) یہ خالصۃ کا بیان ہے مضاف مضاف الیہ ہے یعنی الدر کا۔ کی یاد۔
(2) یہ ضمیر مقدر کی خبر ہے ای ہی ذکری الدار (اور یہ خصلت) الدار کی یاد ہے۔
ذکری مصدر ہے بمعنی ذکر کرنا۔ یاد کرنا۔ نصیحت کرنا۔ الدار میں الف لام عہد کا ہے بمعنی الدار الاخرۃ۔ دار آخرت ۔ ذکری الدار۔ دار آخرت کی یاد۔
Ayahs 38:47–48(38:47) المصطفین الاخیار۔ المصطفین اسم مفعول جمع مذکر المصطفی واحد۔ اصطفاء (افتعال) مصدر ص کے بعد کے تاء کو طاء سے بدل دیا گیا ہے۔ صفو مادہ۔ برگزریدہ۔ منتخب۔ الاخیار خیر کی جمع ۔ خیر صفت مسبہ کا صیغہ ہے۔ نیک لوگ : یونی (یہ ہمارے نزدیک) بہترین برگزیدہ (بندوں) میں سے تھے۔
Ayah 38:49(38:49) ھذا ذکر۔ (1) ھذا : اشارۃ الی ما تقدم من اموروہم یعنی یہ اشارہ ہے مقدم الذکر واقعات انبیاء کی طرف۔ ذکر۔ شرف لہم۔ (جو) ان کے لئے ایک شرف تھا۔ (بیضاوی۔ علامہ پانی پتی (رح))
(3) ھذا ذکر۔ یہ ہے ذکر۔ یعنی جو طریقہ مندرجہ بالا اخیار نے حرزجان بنا رکھا تھا شرف و عزت حاصل کرنے کا وہی طریقہ ہے۔
(4) ذکر کو تمام کرنے کے لئے عرب میں ھذا کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس بات کو یاد رکھو۔ یا اصل بات یہ ہے (تفسیر حقانی)
اسی معنی میں ہے ذلک للانتقال من نوع من الکلام الی اخر۔ (روح المعانی) ایک نوع کلام سے دوسری نوع کی طرف انتقال کے وقت یہ لکھ دیتے ہیں۔ اس کی مثال آگے چل کر اسی سورت کی آیت 55 میں ہے۔ متقین کے لئے انعام و اکرام بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔ ھذا اوان للطغین لشرماب (38:55) متقین کی بات تو ہوچکی اور بیشک سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے۔
(5) ایک مضمون نصیحت کا تو یہ ہوچکا اور پرہیزگاروں کے لئے اچھا ٹھکانا ہے (بیان القرآن ، مظہری)
حسن ماب۔ عمدہ لوٹنے کی جگہ۔ ملاحظہ ہو 38:25 ۔
Ayah 38:50(38:50) جنت عدن : عدن کو بعض علماء علم قرار دیتے ہیں۔ اور اس کو جنت میں ایک خاص مقامکا نام دیتے ہیں۔ اور دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں۔ جنت عدن ن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب (19:61) کیونکہ یہاں معرفہ کو اس کی صفت لایا گیا ہے۔
اور بعض دوسرے اس کو جنت کی صفت بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ عدن کے اصل معنی استقرار و ثبات کے ہیں۔ محاورہ ہے عدن بالمکان اس نے اس جگہ قیام کیا ۔ اور عدن سے مراد دائمی طور پر رہنا بسنا ہے۔ لہٰذا جنت عدن ہمیشہ رہنے کے باغات۔ پہلی صورت میں عدن کے باغات۔ منصوب حسن ماب کا عطف بیان ہونے کی وجہ سے ہے۔
مفتحۃ۔ اسم مفعول ۔ واحد مؤنث کھولے گئے ۔ کھلے ہوئے ۔ تفتیح (تفعیل) سے فتح مادہ۔ الابواب مفتحۃ کا نائب فاعل ہے۔ مفتحۃ لہم الابواب ای مفتحۃ لہم ابوابھا (ای ابواب الجنۃ) جملہ حالیہ ہے درآں حالیکہ جنت عدن کے دروازے ان (متقین) کے لئے کھلے ہوئے ہوں گے۔
Ayah 38:51(38:51) متکئین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب مت کی واحد۔ اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگائے ہوئے۔ پیچھے کو گاؤ تکیہ کا سہارا لگائے ہوئے۔ یہ حال ہے ضمیر لہم سے۔
یدعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ دعوۃ ودعاء مصدر باب نصر۔ وہ طلب کرتے ہیں۔ وہ بلاتے ہیں۔ وہ بلائیں گے۔
یدعون فیہا بفاکہۃ کثیرۃ وشراب۔ یہ جملہ بھی لہم کی ضمیر سے حال ہے درآں حالیکہ وہ ان باغات میں بہت سے میوے اور پینے کی خبریں منگوائیں گے۔ شراب کے بعد کثیر محذوف ہے۔
Ayah 38:52(38:52) قصرت الطرف۔ نگاہ کو نیچی رکھنے والیاں۔ بکز اپنے مرودوں کے اور کسی پر نظر نہ ڈالنے والیاں حوران جنت کی غایت عفت کی صفت ہے۔ قصرت الطرف مضاف مضاف الیہ۔ قصرت اسم فاعل جمع مؤنث۔ قصرۃ واحد نظر کو روکنے والیاں۔ الطرف۔ نگاہ ۔ نظر ۔ طرف العین کہتے ہیں آنکھ کی پلک کو اور طرف کے معنی ہیں پلک چھپکانے کے۔ پلک جھپکانے کو لازم ہے نگاہ۔ اس لئے خود نگاہ اور نظر کے لئے بھی طرف استعمال ہوتا ہے۔
اتراب۔ ترب کی جمع ہے ہم سن عورتیں۔ التراب مٹی کو کہتے ہیں۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ان خلقکم من تراب۔ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ اسی مادہ ترب سے تربیۃ (جمع ترائب) سینہ کی پسلی کو کہتے ہیں قرآن مجید میں ہے یخرج من بین الصلب والترائب۔ (86:7) جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں سے نکلتا ہے۔ اتراب کے معنی ہم عمر کہ انہوں نے اکٹھی تربیت پائی ہوگی۔ گویا کہ وہ عورتیں اپنے خاوندوں کی اس طرح مساوی اور مماثل یعنی ہم مزاج ہوں گی جیسے سینے کی ہڈیوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔
بعض نے اتراب بمعنی ہم سن کی وجہ سے یہ بتائی ہے کہ وہ اکٹھی ایک ساتھ مٹی میں کھیلتی رہی ہیں۔
اثراب سے محض ہم عمری یا سن و سال میں مطابقت مقصود نہیں بلکہ شوق و پسند میں ہم آہنگی، عادات و جذبات میں یکسانیت۔ غرض ہر ایسی باہمی مناسبت مراد ہے جو کہ ازدیاد لطف وموانست کا باعث بن سکے۔
Ayahs 38:53–54(38:53) ھذا۔ اشارہ ہے ان نعمتوں کی طرف جو اوپر بیان ہوئیں۔
توعدون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر وعد (باب ضرب) مصدر سے تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ لیوم الحساب میں لام اجلیہ ہے حساب کے دن کی وجہ سے ہی تو مذکورہ نعمتوں تک رسائی ہوی۔ یا لام بمعنی فی ہے یعنی روز حساب میں۔
Ayah 38:55(38:55) ملاحظہ ہو 38:49 ۔ متذکرہ بالا۔ شرماب کی ترکیب حسن ماب (38:25) کی مانند ہے۔
Ayah 38:56(38:56) جھنم۔ ماب کا بدل ہے۔ شرماب یعنی جہنم۔
یصلونھا : یصلون۔ مضارع جمع مذکر غائب صلی (باب سمع) مصدر سے۔ وہ داخل ہوں گے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جہنم ہے۔ یعنی وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔
فبئس المھاد۔ المھاد والمھد گہوارہ جو بچے کے لئے تیار کیا جائے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے کیف نکلم من کان فی المھد صبیا۔ (19:29) ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیوں کر بات کریں۔
المھد والمھاد ہموار اور دست کی گئی زمین ہی کو کہتے ہیں اور فرش یا بچھونا کے معنی میں بھی آتا ہے مثلا الذی جعل لکم الارض مھدا (20:53) وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنادیا۔ یا الم نجعل الارض مھدا (78:6) کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا۔ اور یہ بھی فرمایا جعل لکم الارض فراشا (2:22) اور جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔
فبئس المھاد۔ تو بہت برا یہ بچھونا ہے (بطور کنایہ جہنم کو بچھونا فرمایا) ۔
اور جگہ ارشاد ہے :۔ لہم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش (7:41) ان کے لئے دوزخ ہی کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا ہوگا۔
Ayah 38:57(38:57) ھذا۔ خبر ہے مبتدا محذوف کی۔ ای العذاب ھذا یہ ہے عذاب ۔
فلیذوقوہ۔تعقیب کا ہے۔ لیذوقوا فعل امر جمع مذکر غائب۔ چاہیے کہ وہ چکھیں ہ ضمیر واحد مذکر غائب العذاب محذوف کی طرف راجع ہے۔
حمیم کھولتا ہوا پانی۔ سخت گرم پانی۔ حمیم گہرے دوست کو بھی کہتے ہیں جو اپنے دوست کی حمایت میں گرم ہوجائے۔ غساق بروزن فعال کے معنی مختلف طور پر کئے گئے ہیں :۔
(1) برفیلی ٹھنڈک جو کہ دوزخیوں کو اس طرح جلا دے گی جس طرح آگ اپنی گرمی سے جلائیگی ۔ (ابن عباس ؓ
(2) جس چیز کی برودت انتہائی درجہ کی ہو وہ غساق ہے۔ (مجاہد)
(3) غساق کے معنی صباب یعنی سیال۔ (بہنے والی چیز) جس طرح کہتے ہیں غسقت وہ چیز بہہ گئی۔ اور یہاں مراد وہ پیپ اور کچ لہو ہے جو دوزخیوں کی کھال اور گوشت اور زانیوں کی شرم گاہوں سے بہے گا۔ (قتادہ)
(4) غساق سے مراد سیال کچھ لہو ہے۔ (عطیہ)
(5) غساق جہنم کے اندر ایک چشمہ ہے جس میں زہریلے جانوروں کا زہر جمع کردیا جائے گا۔ پھر دوزخیوں کو اس میں غوطہ دیا جائے گا جس سے ان کی کھال اور گوشت ہڈیوں سے الگ ہوکر ٹخنوں میں جاپڑیں گے۔ اور دوزخی اس کو کھینچے پھرے گا۔ (ابن ابی حاتم۔ ابن ابی الدنیا۔ ضیاء بحوالہ کعب)
حمیم و غساق خبر ہے مبتداء محزوف کی۔ ای ھو حمیم و غساق وہ عذاب کھولتا ہوا پانی اور پیپ ہوگا ۔
Ayah 38:58(38:58) واخر ای عذاب اخر۔ من شکلہ ای من شکل ھذا العذاب اس عذاب کی مانند۔ اس عذاب کی طرح کا۔ ازواج ہم مثل۔ اور ایک اور عذاب ہوگا مذکورہ حمیم و غساق کی طرح کا (لیکن) قسم قسم کا۔
Ayah 38:59(38:59) مقتحم۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ہولناک مقام میں گھس پڑنے والا۔ اقتحام (افتعال) مصدر۔ فعل لازم۔ کسی خوفناک مقام میں یا چیز میں گھس پڑنا۔
قحم الفرس فارسہ۔ تقحیم (تفعیل) مصدر سے متعدی۔ گھوڑا سوار کو لے کر خطر ناک مقام میں گھس پڑا۔ قحم نفسہ۔ قحم (فتح) مصدر۔ فعل متعدی۔ اس نے اپنے آپ کو بغیر سوچے سمجھے کسی کام میں ڈال دیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔
فلا اقتحم العقبۃ (90:11) مگر وہ شخص بےدھڑک اور جوش کے ساتھ (دین کی) گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا۔
مرحبا۔ خوش آمدید۔ لامرحبا بھم۔ ان کو کوئی خوش آمدید نہیں ۔ دور ہوں یہ۔
صالوا النار مضاف مضاف الیہ۔ آگ میں گھسنے والے۔ آگ میں داخل ہونے والے۔ آگ میں جلنے والے۔ صلی یصلی صلی (باب سمع) سے مصدر۔ اور صلی یصلی صلی (باب ضرب) فلانا النار۔ آگ میں ڈالنا۔ صالوا اصل میں صالون تھا۔ بوجہ اضافت نون جمع گرگیا۔
Ayah 38:60(38:60) قالوا بل انتم ای قالوا بل انتم لامرحبابکم۔ بل حرف اضراب ہے۔ جملہ کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔
(1) قالوا بل انتم یعنی انتم پر وقف ہے۔ وہ کہیں گے ہم نہیں بلکہ تم آگ میں جھلس رہے ہو۔ ای قالوا بل انتم صالوا النار۔
(2) دوسری صورت میں اگر وقف بکم پر کیا جائے تو مطلب ہوگا۔ قالوا بل انتم احق بما قلتم لنا۔ وہ کہیں گے۔ یہ نہیں بلکہ جو تم ہمارے بارے میں کہتے ہیں تم خود اس کے زیادہ حقدار ہو۔ یعنی تم نے جو لامرحبا بہم کہہ کر ہمارے خلاف نفرت کا اظہار کیا ہے تم اس نفرت اور عدم خوش آمدید کے زیادہ مستحق ہو۔
قد متموہ لنا : قد متم ماضی جمع مذکر تقدیم (تفعیل) مصدر۔ آگے لانا۔ سامنے کرنا۔ سامنے لانا۔ واؤ جمع کی ہے یا صالوا کے مصدر الصلی کے لئے ہے ای دخول النار لنا (ہمارا جہنم میں پھینکا جانا) یعنی تم ہی تو ہو جو یہ مصیبت (عذاب یا دوزخ) ہمارے آگے لائے ہو (یعنی تم ہی نے تو یہ سامان ہمارے لئے کیا ہے ہم کو دنیا میں دھوکہ سے کفر کی طرف ورغلاکر)
بئس برا ہے۔ فعل ذم سے۔ اس کی گردان نہیں آتی۔ بئس اصل میں بئس تھا۔ بروزن فعل سمع سے۔ عین کلمہ کی اتباع میں اس کے فاء کو کسرہ دیا پھر تخفیف کے لئے عین کلمہ کو ساکن کردیا گیا۔ بئس ہوگیا۔
القرار۔ قرارگاہ۔ ٹھکانا ۔ قر (باب ضرب) مصدر سے بمعنی ظرف ہے نیز مصدر بمعنی ٹھہرنا بھی ہے فبئس القرار۔ پس (جہنم) بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 38:61(38:61) ضعفا۔ دوگنا۔ علامہ ازہری فرماتے ہیں کہ ضعف کے اصلی معنی کلام عرب میں مثل کے ہیں اور اصل تو یہی ہے۔ پھر ضعف کا استعمال مثل میں بھی کیا گیا اور اس سے زیادہ کے لئے بھی اور زیادتی کی کوئی حد نہیں ہے۔
Ayah 38:62(38:62) قالوا۔ اس میں ضمیر فاعل کا مرجع کون ہے اس میں مختلف قول ہیں :۔
(1) یہ ضمیر سرکش جہنمیوں کے لئے ہے یعنی سردار ان اور ان کے پیروکاروں سب کے لئے۔ الضمیر للطاغین عند جمع (روح المعانی) ۔ الضمیر للطاغین (کشاف) قالوا ای الطاغوت (بیضاوی) آپس میں خوب الجھنے کے بعد وہ ادھر ادھر دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے دریافت کریں گے۔ (ضیاء القرآن)
(2) ضمیر سرداران کے لئے ہے جنہوں نے کہا تھا ھذا فوج مقتحم ۔۔ الخ وقالوا۔ یعنی کفار قریش وصنا دیدھم واشراقھم وہم فی النار۔ یعنی کفار قریش۔ ان کے سرداران اور ان کے اشراف کہیں گے۔ (الخازن) الضمیر لرؤساء الکفرۃ۔ ضمیر رؤسائے کفار کے لئے ہے ۔ (مدارک التنزیل)
(3) یہ ضمیر پیروکاروں کے لئے ہے۔ وقالوا ۔۔ وہ لوگ (یعنی متبوعین یا سب دوزخی آپس میں کہیں گے ) ۔ (بیان القرآن)
مطلب یہ ہے کہ وہ حیران ہو ہوکر ہر طرف دیکھیں گے کہ اس جہنم میں ہم اور ہمارے پیشوا تو موجود ہیں مگر ان لوگوں کو یہاں کہیں پتہ نشان تک نہیں ہے جن کی ہم دنیا میں برائیاں بیان کرتے تھے ۔۔ الخ۔ تفہیم القرآن۔
ما لنا ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم ۔۔ کیا وجہ ہے کہ ہم ۔۔ کیا بات ہے کہ ہم ۔۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ مال ھذا الرسول ۔۔ (25:7) یہ کیسا رسول ہے کہ ۔۔ کیا وجہ ہے کہ یہ رسول ۔۔ کیا بات ہے کہ یہ رسول ۔۔ (کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ مالنا لا نری ۔۔ کیا وجہ ہے کہ ہم دیکھ نہیں رہے ۔۔
کنا نعدہم ۔۔ ماضی استمراری جمع متکلم۔ عد (باب نصر) سے مصدر۔ عدو مادہ۔ شمار کرنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ جس کا مرجع رجالا ہے۔ جنہیں ہم شمار کیا کرتے تھے (دنیا میں)
اشرار۔ برے لوگ شریر کی جمع ۔ شرارت کرنے والے۔ برے لوگ۔ کنا نعدہم من الاشرار۔ یہ صفت ہے رجالا کی۔
Ayah 38:63(38:63) اتخذنھم سخریا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے اس کی وجہ سے ہمزہ وصل ساقط ہوگیا ہے۔ أ اتخذنھم ہم نے ان کو ٹھہریا ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔
سخریا۔ یہ سخر (باب سمع و سخر سے اسم ہے بمعنی ٹھٹھا۔ ہنسی، دل لگی۔ اور سخر یسخر (فتح) سخری سے مصدر بحالت نصب بھی۔ جس کے معنی مسخر ہونے اور بس میں آنے کے ہیں۔ لیکن یہاں اول الذکر ہی زیادہ موزوں ہے۔
سخریا۔ اتخذھم کا مفعول ثانی ہے ہم ضمیر جمع مذکر گا ئب مفعول اول ہے۔ اس لئے منصوب ہے۔
اتخذنھم سخریا جن کو ہم نشانہ تضحیک بنایا کرتے تھے ۔ جن کی ہم نے ہنسی بتا رکھی تھی۔ اور ہمزہ استفہامیہ کے ساتھ۔ کیا ہم نے یونہی ان کی ہنسی بنا رکھی تھی۔ (ان کا مذاق بنا رکھا تھا) ۔
ام۔ یا۔ بلکہ۔
زاغت۔ ماضی واحد مؤنث غائب زیغ (باب ضرب) بمعنی کج ہونا۔ چوک جانا۔ پھرجانا۔ الابصار۔ ای ابصارنا۔ ہماری نظریں (ان سے) چوک گئی ہیں۔
اتخذنھم ۔۔ الابصار کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ مثلاً :۔
(1) اتخذنا استفہام توبیخی تعجبی ہے اور ایک جملہ محذوف ہے پوری عبارت اس طرح تھی (مالنا لاندی رجالا) اتخذنا ہم سخریا (الیسوا فیہا) ام زاغت الابصار (فلا نداھم) کیا بات ہے کہ ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جن کا ہم نے مذاق بنایا تھا کہ وہ یہاں نہیں ہیں یا ہماری نظریں چوک رہی ہیں اس لئے ہم ان کو نہیں دیکھتے۔ اس صورت میں ام بمعنی ” یا “ ہے۔
(2) یا أتخذنھم استفہام انکاری ہے اور ام بمعنی بل (حرف اضراب ہے) اس صورت میں ام کے ماقبل سے اعراض اور مابعد کی تصحیح مقصود ہے یعنی یہ نہیں کہ ہم ان کو یہاں اس لئے نہیں دیکھ رہے کہ ہم دنیا میں ان کا یوں ہی مذاق بنایا تھا۔ بلکہ بات یہ ہے کہ وہ یہاں موجود ہیں صرف ہماری نظریں اپنی چوک کی وجہ سے ان کو نہیں دیکھ رہیں ۔ مالنا لانراھم فی النار الیسوا فیہا فلذلک لانراھم بل ازاغت عنھم ابصارنا فلا نراھم وہم فیہا۔
فائدہ : آیات 59 تا 63 میں کونسا کلام کس کا ہے ؟۔ آیت 59 یہ جہنمی لوگ (گمراہ کرنے والے پیشوا اور اکابر کفار) اپنے تابعین کے ایک گروہ کو جہنم کی طرف آتا دیکھ کر آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے اس میں ضمیر جمع مذکر حاضر ان کے اپنے ساتھیوں کے لئے ہے اور ضمیر جمع مذکر غائب آنے والی جماعت کے افراد کے لئے۔
آیت 60:۔ آنے والی جماعت کا خطاب ہے پیشوا یا ن بالا سے۔
آیت 61:۔ یہ آنے والی جماعت کی اپنے رب سے اپنے پیشوایان بالا کے برخلاف بددعا ہے۔
آیت 62:63: یہ آنے والی جماعت کا کلام ہے یا ان کا اور ان کے پیشوایان متذکرہ بالا سب کا کلام ہے۔
Ayah 38:64(38:64) تخاصم اہل النار : اہل النار مضاف مضاف الیہ مل کر تخاصم (مضاف) کا مضاف الیہ۔
اہل دوزخ کا باہمی رگڑا جھگڑا۔ تخاصم بروزن تفاعل مصدر ہے۔ ایک دوسرے سے لڑنا جھگڑنا۔
علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تشریح میں رقمطراز ہیں :۔
ان ذلک بیشک یہ جو کچھ دوزخیوں کے متعلق ہم نے بیان کیا لحق بلاشبہ صحیح ہے وہ ضرور ایسی گفتگو کریں گے۔ تخاصم یہ حق سے بدل ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے (ای ھو تخاصم) دوزخیوں کے باہم سوال و جواب اور آپس کی گفتگو فریقین معاملہ کی گفتگو کے مشابہ ہوگی۔ اس لئے اس کو تخاصم (باہمی جھگڑا رگڑا) فرمایا۔
Ayah 38:65(38:65) قل ای قل یا محمد ( ﷺ ) ۔
ما من میں ما نافیہ ہے اور من زائدہ تاکید کے لئے ہے۔
القھار : قھر یقھر (باب فتح) قھرا مصدر۔ قاھر اسم فاعل قھار صیغہ مبالغہ ہے۔ سب پر غالب۔ ایسا غالب کہ جس کے مقابلہ میں سب ہیچ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی سے ہے۔
Ayah 38:66(38:66) اب السموت والارض ۔۔ الواحد ۔ القھار ۔ رب (السموت والارض وما بینھما) العزیز ۔ الغفار۔ سب اللہ کے صفاتی اسماء حسنی ہیں۔
Ayah 38:67(38:67) قل کو مکرریہ بتانے کے لیے لایا گیا ہے کہ جو بات کہی جا رہی ہے وہ ایک عظیم الشان اور جلیل القدر امر ہے۔
ھو : ای ما انباتکم بہ من کوئی رسولا منذرا وان اللہ تعالیٰ واحدا لا شریک لہ۔ یعنی جو میں اپنے رسول من اللہ ہونے اور ڈرانے والا ہونے کیء متعلق اور اللہ کے واحد لاشریک ہونے کے متعلق تم کو بتارہا ہوں وہ (ایک عظیم خبر ہے) یعنی یہ مضمون رسالت و توحید ۔ بعض کے نزدیک ھو کا مرجع قرآن کریم ہے۔
نبؤ اعظیم موصوف وصفت۔ ای خبر ذو فائدہ عظمیۃ جدا لاریب فیہ اصلا ایک بہت بڑے فائدہ کی خبر میں ہرگز کوئی شک نہیں۔ بعض کے نزدیک ھو سے مراد روز قیامت ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے عم یتساء لون عن النبا العظیم (78:1-2) یہ لوگ کسی چیز کی نسبت پوچھتے ہیں کیا بڑی خبر کی نسبت (یعنی کیا یہ روز قیامت کی نسبت پوچھتے ہیں۔ بعض نے اس سے مراد بھی قرآن لیا ہے۔
Ayah 38:68(38:68) معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر اعراض (افعال) ۔ مصدر سے منہ پھیرنے والے۔ روگردانی کرنے والے۔ (تم اس سے منہ موڑے ہوئے ہو) ۔
Ayah 38:69(38:69) الملا الاعلی : م ل ء مادہ۔ الملا وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حسن و جمال سے اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھر دے۔ ملا یملا ملا وملاۃ مصدر (باب فتح) کسی چیز کو کسی چیز سے بھرنا۔
مل پیمانہ یا برتن بھرنے کی مقدار ۔ مثلا قرآن مجید میں ہے فلن یقبل من احدھم مل الارض ذھبا (3:91) سو ان میں سے کسی سے بھی ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا زمین بھر سونا۔
قوم کے سردار اہل الرائے اشخاص اپنی رائے کی خوبی اور ذاتی محاسن سے لوگوں کی خواہش کو بھر دیتے ہیں یا آنکھوں میں روشنی اور دلوں میں ہیبت بھر دیتے ہیں۔ اسی لئے ان کو ملا کہتے ہیں۔
الملا الاعلی موصوف و صفت الملا اسم جمع ہے اس لئے اس کی صفت بھی مفرد آئی ہے۔ الاعلی سب سے اوپر۔ برتر۔ علو سے جس کے معنی بلندو برتر ہونے کے ہیں۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے الملا الاعلی سرداران عالی قدر۔
صاحب ضیاء القرآن تحریر فرماتے ہیں :۔ یہاں ملا اعلی سے مراد فرشتوں کی جماعت ہے جو اپنے شرف و عزت کے علاوہ عالم بالا کے مکین ہیں۔ ان کے ذریعہ سے احکام کو نیہ کی تنقید ہوتی ہے اور تدابیر خداوندی کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے اس لئے ان میں اپنے متعلقہ فرائض کو انجام دینے کے لئے قبل و قال اور بحث کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور امور جو وہاں زیر بحث آتے ہیں ان میں تخلیق آدم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی ہے۔
اذ ظرف زمان متعلق کا واقعہ بھی ہے۔
یختصمون مضارع جمع مذکر غائب اختصام (افتعال) مصدر سے وہ جھگڑا رہے تھے۔ (ای اذکانوا یختصمون) وہ بحث و گفتگو کر رہے تھے۔ وہ مستفیدانہ گفتگو کر رہے تھے (جب کہ وہ (تخلیق آدم کے بارے میں جس کی تفصیل آگے آتی ہے مستفیدانہ اللہ تعالیٰ سے) گفتگو کر رہے تھے۔ بیان القرآن) ضمیر جمع ملا کے اسم جمع ہونے کی رعایت سے آئی ہے۔
Ayah 38:70(38:70) ان یوحی الی الا انما انا نذیر مبین : ان نافیہ ہے۔ یوحی مضارع مجہول واحد مذکر غائب ایحاء افعال مصدر سے۔ وحی مادہ۔ وحی کی جاتی ہے۔ الا حرف استثناء انما میں ان حرف مشبہ بالفعل ہے ما کافہ ہے حصر کے معنی دیتا ہے اور ان کو عمل سے روکتا ہے۔ بیشک ، تحقیق بجز اس کے نہیں۔ انا میں ضمیر واحد متکلم نذیر مبین موصوف و صفت۔ کھلا ڈرانے والا۔
انما انا نذیر مبین۔ یا تو یوحی کا نائب فاعل ہے یعنی نہیں آتی میرے پاس وحی مگر یہ کہ میں (تم کو اللہ کے عذاب سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یا یہ فقرہ مفعول لہ ہے اور علت ہے وحی کے آنے کی۔ یعنی نہیں آتی میرے پاس وحیہ مگر اس سبب (یا وجہ) سے کہ میں (تم کو اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والا ہوں۔
Ayah 38:71(38:71) اذ قال : اذ یختصمون کا بدل ہے یہ اس اختصام کی تفصیل ہے جس کا اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ اذ سے پہلے فعل اذکر محذوف ہے۔
طین۔ گارا۔ مٹی، پانی اور مٹی کا آمیزہ۔ خلق آدم کا مادہ کہیں طین آیا ہے کہیں تراب اور کہیں صلصال من حما مسنون ان میں کوئی کچھ بھی توارض نہیں۔ کہیں مادہ قریبہ بتلا دیا کہیں مادہ بعید۔ (حضرت تھانوی (رح) )
المادۃ البعیدۃ ھو التراب واقرب منہ الطین واقرب منہ الحماء مسنون واقرب منہ الصلصال فثبت انہ لامنافاۃ بین الکل (تفسیر کبیر)
Ayah 38:72(38:72) سویتہ : سویت ماضی واحد متکلم تسویۃ (تفعیل) مصدر سے برابر کرنا ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب اس کا مرجع بشرا ہے۔ (جب) میں اس کو برابر کر دوں یعنی مکمل کر چکوں (ماضی بمعنی مستقبل)
نفخت ماضی واحد متکلم نفخ (باب نصر) مصدر۔ پھونکنا۔ پھونک مارنا۔ (جب) میں (اس میں) پھونک دوں (ماضی بمعنی مستقبل) ۔ ونفخت فیہ من روحی : ای احیینہ بنفخ الروح فیہ اور اس میں جان پھونک کر اسے زندہ کردوں۔ یعنی جب میں اس میں اپنی طرف سے جان ڈال دوں۔
من روحی میں یا تو اضافت تملی کی ہے یعنی ہماری مملوک و مخلوق خاص۔ یا اضافت تشریفی یعنی وہ روح جو ہماری نسبت سے مشرف و مکرم ہے یا تنصیصی یعنی وہ زندگی یا جان جس میں ہمارے سوا کوئی دوسرا تعلق نہیں ہے۔
امام رازی (رح) نے فرمایا ہے :۔ کہ من روحی میں اللہ نے روح کو اپنی جانب نسبت دے کر اس امر کو ظاہر کردیا ہے کہ روح ایک جو ہر شریف و معظم ہے (تفسیر ماجدی سے) اضافت خربیت اور بعضیت کی نہیں بلکہ تشریف کی ہے یعنی وہ روح جس کو میں نے اپنی خاص قدرت سے بنایا ہے۔ (ضیاء القرآن)
فقعود : الفاء جواب شرط کے لئے ہے۔ قعوا۔ وقع یقع (مثال وادی۔ باب فتح) وقوع مصدر سے ۔ فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ تم گرپڑنا۔ وقوع کے معنی ثابت اور واجب ہونا۔ عدم سے وجود میں آجانا کے بھی ہیں۔ یہاں گرپڑنا کے معنی میں آیا ہے۔
لہ یعنی اس بشر کے روبرو۔
مساجدین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب ضمیر فاعل قعوا سے حال ہے۔
Ayah 38:73(38:73) فسجد الملئکۃ : ای فخلقہ فسواہ فنفخ فیہ الروح فسجد لہ الملئکۃ۔ یعنی جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو تخلیق کیا۔ اور اسے مکمل بنا لیا او اس میں جان ڈال دی تو فرشتوں نے اس کو سجدہ کیا۔
کلہم۔ سب کے سب۔ یعنی ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا۔ جس نے سجدہ نہ کیا ہو۔
اجمعون : سب کے سب اجتماع کے لئے آیا ہے یعنی مجموعا۔ یعنی کوئی کسی کے پیچھے نہ رہا۔ تاکید کے لئے آیا ہے۔ سب کے سب فورا اکٹھے سجدے میں گرگئے۔
Ayah 38:74(38:74) الا ابلیس اسکتبر وکان من الکفرین : استکبر ماضی واحد مذکر غائب استکبار (استفعال) مصدر سے ۔ وہ بڑا مغرور ہوگیا ۔ یعنی کسی استحقاق کے گھمنڈ میں آگیا۔ کان کے دو معنی ہوسکتے ہیں :۔
(1) کان بمعنیصار۔ یعنی ہوگیا۔ یعنی اللہ کے حکم کے مقابلہ میں اس نے غرور کیا اور اطاعت حکم سے اس نے اپنے آپ کو اونچا سمجھا اور اس طرح کافروں میں سے ہوگیا۔
(2) کان بمعنی تھا۔ یعنی اللہ کے علم میں وہ پہلے ہی کافروں میں سے تھا۔
اگر معنی نمبر (1) لئے جاویں تو الا ابلیس مستثنیٰ متصل ہوگا۔ اور وہ ملائکہ کے زمرہ میں (بحیثیت جنس کے نہیں بحیثیت مصاحبت) شمار ہوگا۔ اور اگر معنی نمبر (2) لئے جاویں تو استثناء منقطع ہوگا تو استثناء منقطع ہوگا۔
(الا حرف استثناء اور ابلیس مستثنی الملئکۃ مستثنی منہ)
Ayah 38:75(38:75) قال ای قال اللّٰہ تعالیٰ ۔
ما منعک ان تسجد : ما موصولہ ہے اور ان مصدریہ ای من السجود۔
لما خلقت بیدی۔ میں ما موصولہ ہے ای للذی خلقتہ۔ جسے میں نے پیدا کیا۔ بیدی (میرے دونوں ہاتھوں سے) میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے یعنی اپنی قدرت کاملہ سے بلا توسط ماں باپ کے۔ تثنیہ کا استعمال تاکید کے لئے۔
استکبرت۔ اصل میںء استکبرت تھا۔ ہمزہ استفہام انکاری کے آنے سے ہمزہ وصل ساقط ہوگیا۔ ای أتکبرت میں غیر استحقاق کیا بغیر استحقاق کے تو تکبر میں آگیا یعنی فی الواقع تو بڑا نہیں تھا لیکن اپنے آپ کو بڑا سمجھ لیا۔ اپنے آپ ہی بڑا بن رہا ہے۔
ام کنت من العالین : ام بمعنی۔ یا۔ عالین اسم فاعل جمع مذکر عالی واحد علو سے ۔ بلندمرتبے والے۔ یا واقعی تو اونچے درجے کا استحقاق رکھنے والوں میں سے ہے۔
مطلب یہ ہے کہ تو جان بوجھ کر یہ جانتے ہوئے کہ تو ایسا نہیں ہے بڑا بن رہا ہے۔ یا فی الواقع تو سمجھ رہا ہے کہ تو اونچے درجے والوں میں سے ہے۔ دونوں صورتوں میں استفہام توبیخی و انکاری ہے یعنی سچ یہ ہے کہ تو کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی تو بڑا بننے کا استحقاق رکھتا ہے اور نہ ہی فی الواقع تو بڑا ہے۔
Ayah 38:76(38:76) قال : ای قال ابلیس۔
Ayah 38:77(38:77) قال : ای قال اللّٰہ تعالیٰ ۔
فاخرج منھا۔ الفاء للترتیب۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الجنۃ کی طرف راجع ہے جہاں وہ دوسرے ملائکہ کے ساتھ رہتا تھا ۔ ابن عباس ؓ سے ہے کہ وہ جنت عدن میں نہ کہ جنت خلد میں رہتا تھا۔
یا ھا ضمیر کا مرجع زمرۃ الملائکہ ہے جن کے ساتھ وہ رہتا تھا۔ یا جیسا کہ حسن اور ابو العالیہ نے کہا ہے :۔ اس بناوٹ (اور خوبصورت تخلیق سے) نکل جا جس میں تو بنایا گیا ہے۔ چناچہ اس حکم کے بعد ابلیس کا رنگ سیاہ ہوگیا اور خوبصورتی بدصورتی میں بدل گئی۔
فانک رجیم۔ یہ فقرہ حکم خروج کی علت ہے (یعنی تجھے نکل جانے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اب تو راندہ درگاہ ہوگیا ہے)
رجیم۔ ملعون ۔ راندہ ہوا۔ مردود۔ رجم (رجم یرجم باب نصر سے مصدر) سے فعیل بمعنی مفعول یعنی مرجوم ہے۔ سنگسار کرنا۔ لعنت کرنا۔ برا بھلا کہنا۔ دھتکارنا۔ پھٹکارنا۔
شیطان چونکہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے راندہ ہوا اور مردود ہے اس لئے یہ اس کی مخصوص صفت ہے اور قرآن مجید میں جہاں بھی یہ لفظ آیا ہے اسی کی صفت میں آیا ہے۔
Ayah 38:78(38:78) یوم الدین۔ روز قیامت۔ روز جزا و سزا۔
Ayah 38:79(38:79) رب فانظرنی الی یوم یبعثون۔ رب : ای یا ربی اے میرے رب فانظرنی۔ فاء سببیہ ہے اور جملہ سابقہ اس جملہ کا سبب ہے۔ آدم کی دشمنی کی وجہ سے راندہ درگاہ ہوجانا ہی اس مہلت طلبی کا سبب تھا۔ تاکہ وہ بنی آدم کو اغوا (گمراہ) کرسکے۔
انظرنی امر کا صیغہ ہے واحد مذکر حاضر، ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ تو مجھ کو مہلت دے تو مجھ کو ڈھیل دے۔ انظار (افعال) مصدر سے جس کے معنی مہلت دینے اور ڈھیل دینے کے ہیں۔
یبعثون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب بعث (باب فتح) مصدر سے۔ وہ اٹھائے جائیں گے (یعنی جس دن لوگوں کو زندہ کرکے قبروں سے اٹھایا جائے گا) روز قیامت۔