36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsانوار البیان

Ayah 36:41

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا

(36:41) انا۔ بیشک ہم۔ حرف مشبہ بفعل ہے ان اور نا ضمیر جمع متکلم سے مرکب ہے۔ ذریتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی ذریت یعنی ان کی اولاد۔ اصل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کا نام ذریت ہے۔ مگر عرف میں چھوٹی اور بڑی اولاد سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصل میں جمع ہے لیکن واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے، ذریۃ کے بارہ میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) یہ ذرء سے مشتق ہے جس کے معنی پیدا کرنے اور پھیلانے کے ہیں اور اس کا ہمزہ متروک ہوگیا ہے جیسے کہ رویۃ اور بریۃ میں۔ (2) اس کی اصل ذرویۃ بروزن فعلیۃ ہے۔ اور ذر سے مشتق ہے۔ جیسے قریۃ قر سے۔ الفلک المشحون۔ موصوف وصفت، بھری ہوئی کشتی۔ الشحن کشتی یا جہاز میں سامان لادنا یا بھرنا۔ المشحون اسم مفعول واحد مذکر شحن (باب فتح۔ نصر۔ سمع) بھرنا۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ ایک نشان ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا یہاں کشتی سے مراد خاص کشتی نہیں ہے بلکہ جنس کشتی مراد ہے ۔ بعض کے نزدیک اس سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی طرف اشارہ ہے وقیل المراد فلک نوح (علیہ الصلوۃ والسلام) (بیضاوی) ۔ الفائدہ : جیسا کہ آیت (36:33) میں بیان ہوچکا ہے کہ خطاب کفار مکہ سے چلا آرہا ہے یہاں بھی ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ ہی ہیں۔
Ayah 36:42

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ان کے کے لئے ویسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں

(36:42) من مثلہ۔ من بیانیہ بھی ہوسکتا ہے اور تبعیضیہ بھی۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الفلک ہے مثل۔ مانند، اسی طرح کے، اس جیسے، یعنی کشتی کی طرح کے کشتی کی مانند۔ شکل وساخت کے لحاظ سے یا استعمال کے لحاظ سے مثلاً بحری جہاز ، پرانی ونئی قسم کے ۔ بادبانوں سے چلنے والے یا انجنوں سے چلنے والے۔ پانی میں چلنے والے یا ہوا میں اڑنے والے۔ ہوائی جہاز وغیرہ یا خشکی پر چلنے والے موٹر۔ ریل گاڑی وغیرہ۔ من مثلہ سے مراد کل ما یرکب۔ ہر وہ چیز جان دار یا بےجان ، تیرنے والی اڑنے والی، زمین پر چلنے والی جو ساری یا سامان کی نقل و حرکت کے کام آسکے۔ ما یرکبون ” ما “ موصولہ ہے یرکبون مضارع جمع مذکر غائب۔ جن پر وہ سوار ہوتے ہیں :۔
Ayah 36:43

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور ہم اگر چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو اور نہ ان کو رہائی ملے

(36:43) وان نشا نغرقہم واو عاطفہ ہے ان شرطیہ نشا مضارع مجزوم بوجہ عمل ان۔ جمع متکلم ۔ اور اگر ہم چاہیں ۔ شیء ومشیۃ مصدر (باب فتح) ۔ نغرقہم نغرق مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) صیغہ جمع متکلم۔ اغراق (افعال) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ان کو ہم غرق کردیں۔ فلا۔ برفا برائے عطف وتقیب لا نفی جنس کے لئے ہے۔ صریخ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ صرخ یصرخ (نصر) سے مصدر ہے جس کے معنی فریاد کرنا۔ چلانا۔ مدد کے لئے پکارنا کے ہیں۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ پس وہ کوئی فریاد نہ کرسکیں گے۔ اور اگر یہ بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے تو یہ اضداد میں سے ہے اور اس کے معنی ہوں گے فریاد رس (فریاد کو پہنچنے والا) یا فریاد دی ، (فریاد کرنے والا) اس کی جمع صرخاء ہے۔ فلا صریخ لہم۔ پس ان کے لئے کوئی فریاد سننے والا یا فریاد رس نہ ہوگا۔ ولاہم ینقذون۔ وائو عاطفہ ۔ لا ینقذون مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب، ہم ضمیر جمع مذکر غائب کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے ۔ اور نہ ہی وہ (ڈوبنے سے ) بچائے جائیں گے۔ ینقذون انقاذ (افعال) مصدر سے ہے بمعنی خطرہ ، یا ہلاکت سے خلاصی پانا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وکنتم علی شفا حفرۃ من النار فانقذکم منھا۔ (3:102) اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا۔
Ayah 36:44

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں

(36:44) الا۔ حرف استثناء (استثناء مفرغ) ۔ الا رحمۃ منا ومتاعا الی حین۔ ای ولا ینقذون الا لرحمۃ منا ولتمتیع بالحیاۃ الی انقضاء الاجل۔ اور نہ وہ چھٹکارا پاسکیں گے مگر ہماری رحمت سے اور ایک مقررہ وقت تک زندگی کا فائدہ اٹھانے کے لئے۔ حین ایک مقررہ وقت تک۔ مراد مدت حیات جو اللہ نے مقرر کر رکھی ہے۔ رحمۃ اور متاعا بوجہ مفعول لہ ہونے کے منصوب ہیں۔
Ayah 36:45

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو تمہارے آگے اور جو تمہارے پیچھے ہے اس سو ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

(36:45) اتقوا۔ فعل امر، جمع مذکر حاضر ، تم ڈرو، پرہیزگاری اختیار کرو، اتقاء (افتعال) مصدر۔ وقی مادہ۔ (لفیف مفروق) افتعلوا کے وزن پر اصل میں او تقیوا تھا۔ وائو کو ت میں بدلا۔ ت، ت میں مدغم ہوئی یا مضموم ما قبل مکسور، یا کا ضمہ ق کو دیا پھر یاء اجتماع ساکنین سے گرگئی اتقوا ہوگیا۔ ما بین ایدیکم (جو تمہارے سامنے ہے) وما خلفکم (اور جو تمہارے پیچھے ہے) اس کے مندرجہ ذیل معانی ہوسکتے ہیں :۔ (1) اس دنیا کا عذاب اور آخرت کا عذاب۔ یا اس کے برعکس۔ (2) سماوی وارضی بلیات، جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے : اولم یروا الی ما بین ایدیہم وما خلفہم من السماء والارض (34:9) (3) قتادہ کا قول ہے ما بین ایدیہم سے مراد وہ بربادی اور تباہی کے واقعات جو گذشتہ امتوں کو پیش آئے۔ اور ما خلفہم سے مراد ہے عذاب آخرت، (4) بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد اگلے پچھلے گناہ ہیں۔ (5) وہ عذاب جو تمہارے سامنے ہے اور وہ جو تمہیں مستقبل میں ملے گا۔ کچھ بھی ہو مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو اور ان اعمال سے پرہیز کرو جن پر یہ عذاب مرتب ہوتا ہے۔ لعلکم ترحمون۔ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یہ غایت ہے اتقوا کی۔ آیت میں ما موصولہ ہے۔ الفائدہ : اذا قیل کا جواب محذوف ہے، یعنی جب ان سے یہ بات کہی جاتی ہے تو وہ منہ پھیر لیتے ہیں۔ اگلی متصل آیت اس جواب کو محذوف قرار دینے کا قرینہ ہے۔
Ayah 36:46

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نہیں آئی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

(36:46) وما تاتیہم من ایۃ من ایت ربہم۔ وائو عاطفہ ہے ما نافیہ ہے تاتی مضارع واحد مؤنث غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب جس کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ من زائدہ ہے۔ اور تاکید کے لئے لایا گیا ہے من ایت میں من تبعیضیہ ہے ایت مضاف ہے ربہم مضاف مضاف الیہ مل کر ایت کا مضاف الیہ ہے ان کے رب کی آیات ترجمہ ہوگا : اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی بھی نشانی (ایسی ) ان کے پاس آئی۔ الا کانوا عنھا معرضین۔ الا حرف استثناء کانوا معرضین ماضی استمراری معرضین اسم فاعل جمع مذکر منصوب بوجہ خبر کانوا۔ عنھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع ایۃ ہے ! مگر یہ کہ وہ اس سے روگردانی ہی کیا کرتے تھے۔ آیت ہذا سابق آیت کی علت غایت کے طور پر ذکر کی گئی ہے۔ آیت (6:4) میں بھی یہی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔
Ayah 36:47

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو رزق تم کو خدا نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرو تو کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ بھلا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں جن کو اگر خدا چاہتا تو خود کھلا دیتا تم تو صریح غلطی میں ہو

(36:47) انطعم میں الف ہمزہ استفہامیہ ہے نطعم مضارع کا صیغہ جمع متکلم ہے کیا ہم کھلائیں ۔ کیا ہم کھانے کو دیں۔ من موصولہ ہے بمعنی الذی۔ لو یشاء اللہ۔ جملہ شرطیہ ہے اطعمہ جواب شرط۔ جس کو اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خود کھلا دیتا۔ ان انتم الا فی ضلل مبین۔ ان نافیہ الا حرف شرط۔ ضلل مبین موصوف وصفت کھلی گمراہی۔ تم تو صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ یہ جملہ بھی کافروں کے قول کا تتمہ ہے۔ اگرچہ بعض نے اسے اللہ کی طرف سے کافروں کی بات کا جواب کہا ہے لیکن سیاق وسباق سے قول اول ہی زیادہ صحیح ہے !
Ayah 36:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا ؟

(36:48) ھذا الوعد۔ یہ وعدہ ۔ یعنی یہ قیامت کے آنے کا وعدہ۔ ان کنتم صدقین۔ ان شرطیہ ہے ای ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین کوئی دلیل لائو اگر تم سچے ہو کہ قیامت ضرور آئے گی
Ayah 36:49

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ تو ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو ان کو اس حال میں کہ باہم جھگڑتے ہوں گے آپکڑے گی

(36:49) ما ینظرون۔ ای ما ینتظرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب وہ انتظار نہیں کر رہے ہیں۔ صیحۃ واحدۃ۔ چیخ۔ کڑک، ہولناک آواز، چنگھاڑ۔ صاح یصیح (ضرب) کا مصدر۔ بمعنی حاصل مصدر بھی آتا ہے۔ اصل میں لکڑی کے چرونے یا کپڑے کے پھٹنے سے جو زور کے جھراٹے کی آواز پیدا ہوتی ہے اس آواز کے نکلنے کو الصیاح کہتے ہیں۔ صیحۃ اسی سے ہے چونکہ زور کی آواز سے آدمی گھبرا اٹھتا ہے اسی لئے بمعنی گھبراہٹ اور عذاب کے بھی استعمال ہوتا ہے (نیز ملاحظہ ہو (36:29) ۔ یہاں صیحۃ سے مراد النفخۃ الاولی پہلی مرتبہ صور کا پھونکا جانا ہے جب سب کے سب ہلاک ہوجائیں گے۔ صیحۃ واحدۃ موصوف وصفت ہیں اور صیحۃ منصوب بوجہ ینظرون کے مفعول ہونے کے ہے۔ اور اس کی تنوین اظہار عظمت اور جلالت کے لئے ہے۔ تاخذہم۔ مضارع واحد مؤنث غائب، ضمیر فاعل صیحۃ کی طرف راجع ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ وہ ان کو آ لے گی۔ وہ ان کو آپکڑے گی۔ وہم یخصمون۔ وائو حالیہ ہے یخصمون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے اصل میں یختصمون تھا (افتعال) مصدر سے۔ تا کو ساکن کیا پھر تاء کو صاد میں بدلا۔ پھر صاد کو صاد میں مدغم کیا۔ خاء پر اجتماع ساکنین کی وجہ سے کسرہ دیا گیا یخصمون ہوگیا۔ دراں حالیکہ وہ اپنے معاملات میں جھگڑ رہے ہوں گے یعنی وہ بیخبر اپنے کسی کام میں منہمک ہوں گے کہ یکایک صور پھونکی جائے گی۔ اور سب کچھ تباہ ہوجائے گا۔ الخصم کے معنی جھگڑنے کے لئے۔ کہا جاتا ہے خصمتہ وخاصمتہ مخاصمۃ وخصا کسی سے جھگڑا کرنا۔ قرآن مجید میں ہے وھو الد الخصام (2:204) اور وہ سخت جھگڑالو ہے۔ الاختصام (افتعال) ایک دوسرے سے جھگڑنا۔
Ayah 36:50

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر نہ تو وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاسکیں گے

(36:50) لا یستطیعون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر طوع مادہ یستطیع اصل میں یستطوع تھا وائو کا کسرہ ما قبل کو دیا اب وائو ساکن ما قبل مکسور وائو کو یاء میں بدلا۔ یستطیع ہوگیا۔ لا یستطیعون وہ طاقت نہیں رکھنے ہیں، وہ قدرت نہیں رکھتے ہیں۔ الاستطاعۃ کے اصل معنی ہیں کسی کام کو سرانجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجود ہونا۔ مگر محققین کے نزدیک استطاعۃ نام ہے ان اسباب و ذرائع اور صلاحیتوں کا جن کے ذریعے انسان کو کسی کام کے کرنے پر قدرت ہوجائے۔ اس کی ضد عجز ہے۔ توصیۃ وصیت کرنا۔ بروزن تفعلۃ باب تفعیل کا مصدر ہے منصوب بوجہ یستطیعون کے مفعول بہ ہونے کے ہے۔
Ayah 36:51

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور (جس وقت) صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے

(36:51) ونفخ فی الصور۔ ھی نفخۃ ثانیۃ اس سے مراد صور کا دوسری دفعہ پھونکا جانا ہے جب سب دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ۔ نفخ (ماضی مجہول واحد مذکر غائب) ماضی کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ صور کا پھونکا جانا ایک یقینی امر ہے گویا کہ پھونکا ہی گیا ہے نفخہ اول اور نفخہ ثانی میں چالیس سال کا فاصلہ ہوگا۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ فاذا۔ فا تعقیب کا ہے اذا مفاجاتیہ ہے۔ تو یکا یک، سو فورا۔ الاجداث قبریں۔ جدث واحد۔ ینسلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ نسل ینسل نسلا (باب ضرب) النسل کے معنی کسی چیز سے الگ ہوجانے کے ہیں جیسے نسل الوبر عن البعیر اون اونٹ سے الگ ہوگئی۔ النسل اولاد کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی اپنے باب سے جدا ہوئی ہوتی ہے۔ اور کہتے ہیں انسلت الابل اونٹوں کی اون جھڑنے کا وقت آگیا اسی سے نسل ینسل نسلانا ہے جس کے معنی تیز دوڑنے کے ہیں۔ جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے وہم من کل حدب ینسلون۔ (21:96) اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں گے۔ نسل ونسلان الاسراع فی المشی چلنے میں تیزی کرنا تیز چلنا۔ فاذاہم من الاجداث الی ربہم ینسلون۔ (دوسری دفعہ صور پھونکے جانے پر) وہ فورا قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کی طرف تیزی سے چلنے لگیں گے۔
Ayahs 36:52–53

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے (جگا) اٹھایا ؟ یہ تو وہی ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

صرف ایک زور کی آواز کا ہونا ہوگا کہ سب کے سب ہمارے روبرو آحاضر ہوں گے

(36:52) یویلنا۔ یا حرف ندا ویل۔ جہنم میں ایک وادی کا نام ہے ۔ بمعنی عذاب شدت عذاب۔ افسوس ، کم بختی، ویل مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ اے ہماری کم بختی۔ یہ کلمہ حسرت و ندامت ہے۔ من بعثنا۔ بعث ماضی واحد مذکر غائب نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ من استفہامیہ ہے۔ بعث یبعث بعث (باب فتح) جی اٹھنا۔ دوبارہ زندہ کرنا۔ اٹھا کھڑا کرنا۔ بھیجنا یہاں اٹھا کھڑا کرنے کے معنی میں ہے۔ کس نے ہم کو (دوبارہ زندہ کر کے ) اٹھا کھڑا کیا۔ من مرقدنا۔ مرقد ظرف مکان مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ ہماری خواب گاہ (قد یرقد) (باب نصر) رقاد ورقود، خوشگوار اور ہلکی سی نیند سونا۔ مرقد سونے کی جگہ۔ سورة الکہف میں ہے :۔ وہم رقود (18:18) حالانکہ وہ (اصحاب کہف) سوئے ہوئے ہیں۔ (یہاں رقود راقد کی جمع ہے مصدر نہیں ہے) اصحاب کہف کی گہری اور لمبی نیند کو رقود کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ نیند خواہ کتنی ہی گہری اور لمبی کیوں نہ ہو موت کے مقابلہ میں وہ نوم خفیف کی حیثیت رکھتی ہے۔ لوگوں کو یقین ہوچکا تھا کہ اصحاب کہف مرچکے ہیں لیکن ان کو رقود کہہ کر موت کی نفی کردی ہے۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ اہل حقیقت کہتے ہیں کہ کافر جب جہنم کے گوناگوں عذاب کو دیکھیں گے تو عذاب جہنم کے مقابلہ میں ان کو قبر کا عذاب خواب کی طرح محسوس ہوگا۔ اس وقت کہیں گے کہ ہم کو خواب سے کس نے اٹھایا ؟ صدق۔ ماضی واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے لئے مستعمل ہے) اس نے سچ کہا۔ یعنی رسولوں نے سچ کہا تھا۔ صدق یصدق (باب نصر) صدق سچ کہنا۔ سچ کردکھانا۔ ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) یہ کلام کفار کہیں گے یعنی یہ بعث بعد الموت وہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا اور اللہ کے پیغمبر جو کہتے تھے سچ کہتے تھے (لیکن ہم ہی کم بخت تھے کہ سمجھ نہ سکے) ۔ (2) یہ کفار کے سوال من بعثنا من مرقدنا کے جواب فرشتے یہ جواب دیں گے ! ما کی بھی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔ (1) ما موصولہ ہے ای ھذا الذی وعدہ الرحمن والذی صدقہ المرسلون۔ یہ ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ اور جو سچ کہا تھا مرسلین نے۔ (2) ما مصدریہ ہے ای ھذا وعد الرحمن وصدق المرسلین یہ ہے اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور مرسلین کے پیغام کی صداقت۔
Ayah 36:54

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو بدلا ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے

(36:54) فالیوم سے مراد یوم قیامت ہے منصوب بوجہ الظرف یا مفعول فیہ ہونے کے۔ شیئا۔ شاء یشائ۔ شیء ومشیئۃ ومشاء ۃ (باب فتح) مصدر۔ ارادہ کرنا۔ چاہنا۔ شیء چیز ۔ کچھ ۔ جو چیز جانی پہچانی جائے اور اس کی خبر دی جاسکے شیء کہلاتی ہے اس کی جمع اشیاء ہے نصب بوجہ مصدر کے ہے۔ لا تجزون مضارع منفی مجہول جمع مذکر حاضر۔ جزاء (باب ضرب) مصدر تم جزا دئیے جائو گے۔ تم بدلہ دئیے جائو گے۔ تمہیں بدلہ ملے گا۔ ما۔ موصولہ ہے بطور مضاف الیہ ہے جس کا مضاف محذوف ہے اور مضاف الیہ ہی قائم مقام مضاف کے ہے۔ ای الاجزاء ما کنتم تعملونہ فی الدنیا علی الاستمرار۔ یعنی سوائے اس عمل کے بدلہ کے جو تم دنیا میں کرتے رہے تھے۔ کنتم تعلمون ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ یہ بات ہے جو روز قیامت اللہ کی طرف سے ہر نفس کو کہی جائے گی۔
Ayah 36:55

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

اہل جنت اس روز عیش و نشاط کے مشغلے میں ہوں گے

(36:55) الیوم۔ اس روز۔ قیامت کے دن۔ شغل واحد ہے اس کی جمع اشغال وشغول ہے۔ مشغلہ ایسی مصروفیت جس کی وجہ سے انسان دوسرے کاموں کی طرف توجہ نہ دے سکے شغل تنوین تنکیر اظہار عظمت کے لئے ہے یعنی ایسی عظیم الشان خوشی کہ نہ احاطہ فہم میں آسکے اور نہ الفاظ میں بیان کی جاسکے۔ فکھون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ فاکھۃ واحد آرام پانے والے۔ راحت پانے والے فرحاں و شاداں۔ فکہ یف کہ (سمع) فکاھۃ مصدر سے۔ ہنسنے ہنسانے خوش طبعی والا ہونا۔
Ayah 36:56

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ بھی اور ان کی بیویاں بھی سایوں میں تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے

(36:56) ہم۔ ای اصحب الجنۃ۔ ظلل سائے۔ ظل کی جمع ہے۔ علامہ راغب لکھتے ہیں :۔ یہ الضح کی ضد ہے اور فییء سے زیادہ عام ہے کیونکہ (مجازا) الظل کا لفظ تو رات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے نیز ہر وہ جگہ جہاں دھوپ نہ پہنچے اسے ظل کہا جاتا ہے مگر فیئی صرف اس سایہ کو کہتے ہیں جو زوال آفتاب سے ظاہر ہوتا ہے۔ عزت و حفاظت اور ہر قسم کی خوشحالی کو بھی ظل سے تعبیر کرلیتے ہیں۔ سایہ کے معنوں میں قرآن مجید میں آیا ہے وظللنا علیکم الغمام (2:57) اور ہم نے بادلوں کا تم پر سایہ کئے رکھا۔ اور عزت و حفاظت کے معنوں میں ان المتقین فی ظلال (77:41) پرہیزگار ہر طرح عزت و حفاظت میں ہوں گے۔ انہی معنوں میں آیت ہذا میں استعمال ہوا ہے ہم وازواجہم فی ظلل وہ بھی اور ان کی بیویاں ہر قسم کی خوشحالیوں میں (ہوں گی) ۔ سورج کی وجہ سے جو سایہ ہوتا ہے جنت میں اس کا تصور تک نہیں ہوسکتا کیونکہ وہاں تو سورج ہوگا ہی نہیں لہٰذا یہاں سایہ سے مراد ایسی جگہ لی جاسکتی ہے جہاں نہ گرمی ہو اور نہ سردی۔ ظلل ظلۃ کی بھی جمع ہوسکتی ہے جیسے غلاب غلبۃ کی جمع ہے (راغب) ۔ الارائک۔ اریکۃ کی جمع ہے پردے دار مسہریاں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے سریر۔ (تخت یا مسہری) جب تک پردہ کے اندر نہ ہو اس وقت تک لفظ اریکۃ اس کے لئے نہیں بولا جاتا۔ اور اگر صرف پردہ ہی ہو اور اندر سریر نہ ہو اس کو بھی اریکۃ نہیں کہا جاتا۔ سریر مع پردہ کے ہو تو اس کو اریکۃ کہتے ہیں ۔ لیکن الزہری کا قول ہے کل ما ات کی علیہ فھو اریکۃ جس چیز پر ٹیک لگائی جائے وہ اریکۃ ہے۔ سو الارائک سے مراد ایسے تخت یا مسرہیاں جو پردہ کے اندر ہوں۔ مادہ ارک ہے۔ متکئون۔ اسم فاعل، جمع مذکر۔ متکیء واحد اتکاء (افتعال) مصدر وکاء مادہ۔ ٹیک لگانا۔ سہارا لگانا قرآن مجید میں ہےھی عصای اتو کا علیھا (20) 18) یہ میری لاٹھی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں متکئون ٹیک لگانے والے۔ تکیہ لگا کر بیٹھنے والے۔ ہم وازواجہم فی ظلل علی الارائک متکئون۔ ہم مبتدا ازواجہم مضاف مضاف الیہ مل کر ہم کا معطوف۔ متکئون خبر فی ظلل جار مجرور اور علی الارائک جار مجرور دونوں متعلق خبر۔ وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں (یا بتمام عزت و حفاظت) مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔
Ayah 36:57

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

وہاں ان کے لئے میوے اور جو چاہیں گے (موجود ہوگا )

(36:57) ولہم ما یدعون۔ وائو عاطفہ ہے ما مبتدا موخر ما موصولہ ہے۔ اور بعد کا جملہ اس کا صلہ ہے لہم خبر مقدم یدعون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے ادعاء (افتعال) مصدر یدعون اصل میں ید تعیون تھا (بروزن یفتعلون) یا کا ضمہ ماقبل کر دے دیا یا اور وائو دو ساکن اکٹھے ہوگئے اجتماع ساکنین کی وجہ سے یا گرگئی تا کو دال سے بدلا اور دال کو دال میں مدغم کیا یدعون ہوگیا۔ الادعاء کے معنی کسی چیز کے متعلق دعوی کرنے کے ہیں کہ یہ میری ہے اور جنگ میں ادعاء کے معنی اپنے کو کسی کی طرف منسوب کرنے کے ہیں (کہ میں فلاں قوم سے ہوں یا فلاں کا بیٹا ہوں وغیرہ) ۔ یہاں یدعون بمعنی یدعون (افتعل بمعنی فعل استعمال ہوا ہے ) ای ما یدعون یاتیہم۔ جو چیز وہ اپنے لئے مانگیں گے ان کو ملے گی۔ یا یدعون بمعنی ادع علی ما شئت (اپنے لئے مجھ سے مانگ جو تجھے چاہیے) سے ماخوذ ہے یعنی جس چیز کی ان کو تمنا ہوگی وہ ان کو ملے گی۔ ای ما یدعون بمعنی ما یتمنونہ جس کی وہ تمنا کریں گے۔
Ayah 36:58

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

پروردگار مہربان کی طرف سے سلام (کہا جائے گا )

(36:58) سلام۔ سلامتی۔ امان ۔ سلام، یہ سلم یسلم (سمع) کا مصدر ہے سلامۃ بھی مصدر ہے۔ سلم من عیب او افۃ کسی عیب یا آفت سے محفوظ ہونا۔ قولا من رب رحیم۔ قولا مفعول مطلق (فعل محذوف کا اور جملہ من رب رحیم ، قولا کی صفت ہے ای سلام یقال لہم قولا من جھۃ رب رحیم۔ سلام۔ تم پر سلامتی ہو۔ یہ قول ان کو کہا جائے گا اپنے رب رحیم کی طرف سے۔ صاحب تفسیر حقانی تحریر فرماتے ہیں :۔ ان اصحب الجنۃ ۔۔ الخ نیک لوگ بہشت میں عیش و آرام کریں گے۔ یہ جنت جسمانی کی طرف اشارہ ہے قولا من رب رحیم یہ روحانی جنت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کو سلام پہنچے گا ان پر تجلی ہوگی اور دیدار سے سرفرازی بخشی جائے گی جو سرور ابدی ہے۔
Ayah 36:59

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور گنہگارو آج الگ ہوجاؤ

(36:59) امتازوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر امتیاز (افتعال) مصدر، جس کے معنی الگ ہونے اور ممیز ہوجانے کے ہیں۔ تم الگ ہو جائو۔ یعنی اوپر جو اہل جنت اور ان کے انعامات کا ذکر ہے اب مجرموں سے مخاطب ہو کر فرمایا جا رہا ہے۔ اے مجرمو ! تم ادھر الگ آجائو۔ الیوم۔ آج۔ آج کے دن ۔ منصوب بوجہ مفعول ہے۔
Ayah 36:60

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد ہم نے تم کو کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

(36:60) الم اعھد الیکم۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہے لم اعھد مضارع نفی حجد بلم (بمعنی ماضی منفی ہے ) عھد (سمع) مصدر۔ عھد فلان الی فلان۔ کسی سے عہدو پیمان لے کر اسے اسی پر قائم رہنے کی تاکید کرنا۔ الم اعھد الیکم۔ کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کردی تھی۔ العھد کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہداشت اور خبر گیری کرنا۔ اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عہد کہا جاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو۔ قرآن مجید میں ہے : ولقد عھدنا الی ادم (20:115) اور ہم نے (حضرت) آدم (علیہ السلام) سے پختہ عہد لیا تھا۔ ان۔ مصدریہ ہے۔ ان لا تعبدوا الشیطن۔ کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ یعنی شیطان کے کہنے میں آکر اللہ کی نافرمانی نہ کرنا انہ لکم عدو مبین بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ یہ حکم سابق کی علت ہے یعنی اس لئے شیطان کے کہنے میں آکر گناہ نہ کرنا کہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔
Ayah 36:61

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے

(36:61) ھذا صراط۔ یعنی شیطان کے ورغلانے سے ارتکاب گناہ سے اجتناب اور اللہ ہی کی عبادت کرنا صراط مستقیم (سیدھا راستہ) ہے۔ صراط کی تنوین مبالغہ کے لئے یا اظہار عظمت کے لئے یا تبعیض کے لئے کیونکہ توحید سیدھے راستے پر چلنے کا ایک حصہ ہے اور تکمیل تو تمام فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے اجتناب کا مل سے ہوتی ہے۔
Ayah 36:62

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور اس نے تم میں بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے ؟

(39:62) لقد اضل۔ اضل ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ اضلال (افعال) مصدر۔ بمعنی گمراہ کرنا۔ سیدھے راستہ سے ہٹانا۔ اس نے گمراہ کیا۔ اس نے بہکایا۔ اس نے بھٹکایا۔ ضمیر فاعل شیطان کی طرف راجع ہے لقد میں لام تاکید کے لئے ہے قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کے معنی دیتا ہے اور تقریب کا فائدہ بھی دیتا ہے گویا قد اضل ماضی قریب کا صیغہ ہے۔ لقد اضل تحقیق اس نے گمراہ کردیا۔ یا گمراہ کیا۔ جبلا کثیرا۔ موصوف وصفت مل کر اضل کا مفعول۔ جبلا۔ خلق، بڑی جماعت، جبل (پہاڑ) کے معنی میں چونکہ بڑھائی اور عظمت کا تصور موجود ہے اس لئے بڑی جماعت کو جبل کہنے لگے۔ یعنی ایسی جماعت جو کہ اپنی بڑھائی میں مثل پہاڑ کے ہو۔ افلم تکونوا تعقلون۔ ہمزہ استفہامیہ ہے (زجرو توبیح کے معنوں میں آیا ہے) فا عطف کے لئے ہے (معطوف علیہ مقدر ہے۔ ایء کنتم تشاھدون ھلاک الامم الخالیۃ بطاعۃ ابلیس فلم تکونوا تعقلون شیئا اصلا کیا تم نے شیطان کی پیروی کی وجہ سے کئی سابقہ امتوں کی ہلاکت دیکھی اور تم نے اس سے کوئی سبق نہ سیکھا۔ یہ ماضی منفی استمراری کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔
Ayah 36:63

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جس کی تمہیں خبر دی جاتی ہے

(36:63) کنتم توعدون۔ ماضی استمراری جمع مذکر حاضر ہے۔ (جس کا) تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
Ayah 36:64

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

(سو) جو تم کفر کرتے رہے اس کے بدلے آج اس میں داخل ہوجاؤ

(36:64) اصلوھا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر صلی (سمع) مصدر۔ جس کے معنی آگ میں جلنے اور اس میں جا پڑنے کے ہیں۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جہنم کی طرف راجع ہے۔ اصلوھا اس میں جا پڑو۔ اس کے اندر چلے جائو، اس میں داخل ہو جائو۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے حسبہم جہنم یصلونھا۔ (58:8) ان کو دوزخ ہی کی سزا کافی ہے (یہ) اسی میں داخل ہوں گے۔ اسی مادہ صلی سے باب تفعیل وافتعال سے بمعنی آگ تاپنا ہے مثلاً قرآن مجید میں ہے ساتیکم منھا بخبر او اتیکم بشھاب قبس لعلکم تصطلون (27:7) میں ابھی وہاں سے کوئی خبر لے کر آتا ہوں یا تمہارے پاس آگ کا شعلہ لکڑی وغیرہ میں لگا ہوا لاتا ہوں تاکہ تم تاپ سکو ! بما۔ با سببیہ ہے اور ما موصولہ ہے۔
Ayah 36:65

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤں (اس کی) گواہی دیں گے

(36:65) تکلمنا ہم سے باتیں کریں گے ! ہم سے کلام کریں گے۔ ہم سے بولیں گے ! تکلم۔ مضارع واحد مؤنث غائب نا ضمیر جمع متکلم۔ عربی کا قاعدہ ہے کہ جب فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل کو واحد لاتے ہیں خواہ فاعل بصیغہ جمع ہی ہو اور جمع مکسر کا حکم مؤنث غیر حقیقی کا حکم ہے کہ اس کے لئے مذکر اور مؤنث دونوں کا صیغہ استعمال کیا جاسکتا ہے، اگرچہ مؤنث کے صیغہ کا استعمال زیادہ فصیح ہے۔ یہاں چونکہ تکلم کا فاعل ایدی ہے ید کی جمع۔ اس لئے فعل کو مؤنث لایا گیا ہے تکلم تکلیم (تفعیل) مصدر سے ہے۔ تشھد۔ مضارع واحد مؤنث غائب شھادۃ (سمع) مصدر سے، وہ شہادت دیں گے۔ وہ گواہی دیں گے۔ نیز اوپر تکلمنا ملاحظہ ہو۔ کانوا یکسبون۔ یکسبون جمع مذکر غائب مضارع کسب مصدر سے ابتدا میں کانوا (جمع مذکر غائب) بڑھانے سے ماضی استمراری کا صیغہ بن گیا (جو ) وہ کمائی کیا کرتے تھے۔ (جو ) وہ کمایا کرتے تھے۔
Ayah 36:66

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر (اندھا کر) دیں پھر یہ راستے کو دوڑیں تو کہاں دیکھ سکیں گے

(36:66) لو نشائ۔ جملہ شرطیہ۔ نشاء مضارع کا صیغہ جمع متکلم ہے شیء اور مشیئۃ مصدر (باب فتح) ہم چاہیں یا ہم چاہتے ہیں۔ لو نشاء اگر ہم چاہیں۔ اگر ہم چاہتے۔ لطمسنا۔ لام لو کے جواب میں آیا ہے طمس (باب ضرب) واطمس (افعال) علی طمس وطماسۃ مصدر۔ ہلاک کرنا۔ برباد کرنا۔ کسی چیز کا نشان مٹا دینا۔ کسی چیز کو جڑ سے مٹا دینا۔ ملیا میٹ کردینا۔ (اگر ہم چاہتے ) تو (ان کی آنکھوں کو) ملیا میٹ کردیتے (ایسا کہ ان کا نشان تک مٹا دیتے) ۔ طمس فعل لازم ومتعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے (باب ضرب ونصر) سے (طموس مصدر) فنا کرنا یا فنا ہونا۔ مٹنا یا مٹانا۔ ستاروں کا اپنی چمک کھو دینا۔ جیسے واذا النجوم طمست (77:8) سو جس وقت کہ ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ لطمسنا علی اعینہم کی تفسیر میں علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔ ان ظاہری آنکھوں کو ایسا مٹا دیتے کہ نہ پپوٹا کا نشان رہتا نہ آنکھوں کا شگاف۔ طمس کا یہی معنی ہے۔ الطمس۔ ازالۃ الاثر بالمحو۔ یعنی کسی چیز کو یوں مٹا دینا کہ اس کا نشان باقی نہ رہے۔ فاستبقوا الصراط فا عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف لطمسنا پر ہے الصراط کا نصب بوجہ نزع الخافض (جر دینے والے حرف کو حذف کرنا) ہے اصل میں استبقوا الی الصراط تھا۔ الی حرف جار کی وجہ سے جر تھی الی کے حذف ہونے پر کسرہ بھی گرگیا۔ اتصال فعل کی وجہ سے الصراط منصوب ہوگیا۔ الصراط کا نصب بوجہ ظرفیت نہیں کیونکہ الطریق کی طرح الصراط ایک مکان مختص ہے اور ایسی صورت میں الظرفیۃ کی وجہ سے نصب نہیں آتا۔ اگر استبقوا بمعنی ابتدروا (باہم سبقت کرنا) لیا جائے تو الصراط کا بوجہ مفعول بہ ہونے کے منصوب ہونا جائز ہے فاستبقوا ماضی جمع مذکر غائب استباق (افتعال) مصدر سے وہ سبقت کرتے وہ دوڑتے الصراط ایک خاص راستہ۔ یعنی وہ راستہ جس پر چلنے کے وہ عادی تھے۔ فاستبقوا الصراط۔ پھر وہ راستہ کی طرف دوڑتے۔ فانی یبصرون۔ انی استفہامیہ ہے بمعنی کیف ، یہاں بطور استفہام انکاری کے آیا ہے۔ کیونکر ۔ کیسے۔ یبصرون مضارع جمع مذکر غائب ابصار (افعال) مصدر بمعنی دیکھنا۔ پھر وہ کیسے دیکھ سکیں گے۔ دیکھ پائیں گے راستہ کو۔ مراد یہ کہ وہ نہیں دیکھ سکیں گے۔ ای فکیف یبصرون الطریق۔ ای لا یبصرون۔ انی جب بطور اسم ظرف زمان آئے تو بمعنی متی ہوتا ہے (جب) جس وقت کب، کس وقت) ۔ مثلاً فاتوا حرثکم انی شئتم۔ (2:223) سو تم اپنی کھیت میں آئو جب چاہو۔ اور جب بطور ظرف زمان کے آئے تو بمعنی این (جہاں، کہاں) آتا ہے مثلاً قال یمریم انی لک ھذا (3:37) حضرت زکریا (علیہ السلام) نے کہا) اے مریم یہ (کھانا) تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے ؟
Ayah 36:67

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں پھر وہاں سے نہ آگے جاسکیں اور نہ (پیچھے) لوٹ سکیں

(36:67) لمسخنہم : لام جواب شرط کے لئے ہے (لو کے جواب میں) مسخنا ماضی جمع متکلم مسخ (باب فتح) مصدر نا ضمیر جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم ان کی صورت بگاڑ دیں۔ یا ہم ان کی صورتیں بگاڑ دیتے ۔ ان کی صورتیں مسخ کردیتے۔ علی مکانتہم۔ علی حرف جار مکانتہم مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ ان کی جگہوں پر ہی۔ ان کے گھروں میں۔ جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔ فما استطاعوا۔ الفاء للتعقیب استطاعوا ماضی منفی صیغہ جمع مذکر غائب۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر۔ وہ نہ کرسکیں، ان سے نہ ہو سکے۔ وہ استطاعت نہ رکھیں ۔ مضیا۔ مضی یمضی کا مصدر ہے مضی یہ اصل میں مضوی تھا وائو ساکن اور یاء اکٹھے ہوئے وائو کو یاء میں بدلا اور یاء کو یاء میں مدغم کیا ضاد کے ضمہ کو تخفیف کے لئے اور یاء کی مناسبت کی وجہ سے کسرہ سے بدلا۔ مضی ہوگیا۔ استطاعوا کا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ مضی گذر جانا۔ گذرنا۔ ولا یرجعون۔ وائو عاطفہ ہے اور اس جملہ کا عطف مضیا پر ہے۔ فما استطاعوا ۔۔ لا یرجعون۔ ای فلم یقدروا علی ذھاب ولا مجیی او مضیا امامہم ولا یرجعون خلفہم یعنی وہ جانے آنے پر کوئی قدرت نہ رکھ سکیں یا نہ آگے جاسکیں اور نہ پیچھے مڑ سکیں۔ فائدہ : آیت ہذا و آیت سابقہ کا مطلب یہ ہے کہ عہد شکنی اور کفر کی وجہ سے یہ لوگ مستحق تو اسی بات کے تھے کہ ان کی بینائی ختم کردی جاتی اور ان کی شکلیں مسخ کردی جاتیں لیکن اللہ تعالیٰ کی عمومی رحمت سے دنیا میں ان کے ساتھ ایسا نہیں کیا اور اس کے باقتضا حکمت ان کو مہلت دے رکھی ہے۔
Ayah 36:68

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے ہیں ؟

(36:68) من نعمرہ۔ من موصولہ شرطیہ ہے نعمر مضارع صیغہ جمع متکلم ہے اور مجزوم بوجہ شرط ہے تعمیر (تفعیل) مصدر۔ بمعنی عمر دینا۔ عمر کو زیادہ کرنا۔ طویل عمر دینا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے، جس کو ہم طویل عمر دیتے ہیں۔ جس کی عمر ہم زیادہ کردیتے ہیں۔ یہ جملہ شرطیہ ہے : ننکسہ فی الخلق : جواب شرط۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) جمع متکلم۔ تنکیس (تفعیل) مصدر۔ ہم الٹا کردیتے ہیں۔ ہم کبڑا کردیتے ہیں۔ نکس ضعف پیری سے ایک جگہ پڑا رہنے والا۔ نکس سست اور کمزور آدمی۔ انک اس جمع ہ ضمیر مفعول واحد مذکرغائب کا مرجع من ہے۔ فی الخلق (اس کی ) خلقت میں۔ اس کی طبعی قوتوں کے لحاظ سے۔ مراد یہ ہے کہ بڑھاپے میں آدمی کی حالت پلٹ کر بچوں کی سی ہوجاتی ہے وہ بچوں کی طرح چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتا ہے اور دوسروں کا سہارا ڈھونڈھتا ہے کھانے پینے میں بھی بچوں کی طرح دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے اور بچوں ہی کی طرح ناسمجھی باتیں کرنے لگتا ہے۔ افلا یعقلون۔ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ جو بندا اس قدر تغیر پر قادر ہے وہ آنکھوں کو نابود کرنے اور شکلوں کو مسخ کرنے پر بھی قادر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ تغیرات تدریجی ہوتے ہیں (اور اگر مسخ ہوتا تو یک دم ہوتا)
Ayah 36:69

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایان ہے یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پراز حکمت) ہے

(36:69) علمنہ۔ علمنا ماضی جمع متکلم ۔ تعلیم (تفعیل) مصدر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب ما نفی کا ہے۔ ہم نے اس کو نہیں سکھایا۔ ہم نے اس کو تعلیم نہیں دی۔ الشعر۔ الشعر بال کو کہتے ہیں اسی کی جمع اشعار ہے مثلاً :۔ ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا۔ (16:80) اور ان کے اون اور ان کے پشم اور ان کے بالوں سے۔ مفردات راغب میں ہے : شعرت کے معنی بالوں پر مارنے کے ہیں اسی سے شعرت کذا مستعار ہے جس کے معنی بال کی طرح باریک علم حاصل کرلینے کے ہیں اور شاعر کو بھی اس کی فطانت اور لطافت نظر کی وجہ سے شاعر کہا جاتا ہے۔ شعر اصل میں لطیف علم کا نام ہے لیکن عرف عام میں موزوں اور مقفی کلام کو شعر کہا جانے لگا۔ اور شعر کہنے والے کو شاعر کہا جاتا ہے۔ لیکن بعض حقیقت شناش لوگوں نے کہا ہے کہ :۔ حضور ﷺ پر شاعر ہونے کی تہمت لگانے سے کفار کا مقصد منظوم اور مقفی کلام بنانے کی تہمت لگانا نہیں تھا کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ قرآن اسلوب شعری سے مبرا ہے اور اس حقیقت کو عجمی عوام بھی سمجھ سکتے ہیں پھر فصحا عرب کا کیا ذکر ہے ۔ بلکہ وہ تو آپ پر (نعوذ باللہ) جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے کیونکہ عربی زبان میں شعر بمعنی کذب اور شاعر بمعنی کاذب استعمال ہوتا ہے۔ حتی کہ جھوٹے دلائل کو ادلۃ شعریۃ کہا جاتا ہے اسی لئے قرآن نے شعرا کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے :۔ والشعراء یتبعہم الغاون (26:224) اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں۔ اور شعر چونکہ جھوٹ کا پلندہ ہوتا ہے اس لئے مقولہ مشہور ہے کہ :۔ احسن الشعر اکذبہ۔ سب سے بہتر شعر وہ ہے جو سب سے زیادہ جھوٹ پر مشتمل ہو۔ اور کسی حکیم نے کہا ہے کہ :۔ میں نے کوئی متدین اور راست گو انسان ایسا نہیں دیکھا جو شعر گوئی میں ماہر ہو۔ وما ینبغی لہ۔ اور نہ وہ آپ کے شایاں ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (36:40) ۔ ان ھو : میں ان نافیہ ہے۔ ذکر : ذکر یذکر (نصر) کا مصدر ہے۔ بمعنی ذکر، پندو نصیحت، وعظ۔
Ayah 36:70

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا راستہ دکھائے اور کافروں پر بات پوری ہوجائے

(36:70) لینذر۔ میں لام، لام کی ہے۔ اس کے بعد ان مقدرہ ہے تاکہ : ینذر مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ لام کی۔ ضمیر فاعل کا مرجع القران بھی ہوسکتا ہے اور الرسول (علیہ الصلوٰۃ والسلام ) بھی۔ تاکہ وہ ڈرائے۔ من کان حیا۔ ای مؤمنا حیی القلب الان الکافر کامیت الذی لا یتدبر ولا یتفکر۔ ایسے مومن شخص کو جس کا دل زندہ ہو (حق کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہو) کیونکہ کافر مردہ کی مانند ہے جو تدبروتفکر سے عاری ہے۔ حیا صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ زندہ۔ بوجہ خبر کان منصوب ہے۔ ویحق القول۔ وائو عاطفہ ہے اس کا عطف جملہ سابقہ لینذر پر ہے ای ولیحق۔ یحق فعل مضارع واحد مذکر غائب منصوب حق سے (باب ضرب) تاکہ ثابت ہوجائے، بات پوری ہوجائے۔ واجب ہوجائے۔ القول۔ ای کلمۃ العذاب۔ عذاب کی حجت۔ ویحق القول علی الکفرین۔ اور تاکہ عذاب کی حجت کافروں پر ثابت ہوجائے حیا کے مقابلہ میں الکافرین استعمال ہوا ہے یہ بتانے کے لئے کہ کافر حقیقت میں مردہ ہے ۔
Ayah 36:71

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لئے چار پائے پیدا کر دئیے اور یہ ان کے مالک ہیں

(36:71) اولم یروا۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے وائو عاطفہ ہے جس کا عطف جملہ منفیہ مقدرہ پر ہے ای الم یعلموا علما یقینا ولم یروا۔ کیا انہیں پختہ یقین نہ تھا اور انہوں نے دیکھا نہیں۔ خلقنالہم۔ ای خلقنا لاجلہم وانتفاعہم۔ ہم نے پیدا کیا ان کے لئے اور ان کے فائدہ کے لئے۔ مما۔ من تبعیضیہ اور ما موصول سے مرکب ہے عملت ایدینا (جو) ہمارے ہاتھوں نے بنایا (یعنی بلا شرکت غیرے) مما عملت ایدینا۔ ہمارے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے۔ بنانے کی نسبت ہاتھوں کی طرف بطور استعارہ ہے جس سے تخلیق میں انفرادیت خداوندی اور بلا شرکت اللہ کے ساتھ ساری چیزوں کی وابستگی پیدائش پرزور طور پر ظاہر ہو رہی ہے۔ انعام۔ چوپائے ، مویشی۔ مراد الازواج الثمانیۃ جیسا کہ فرمایا وانزل لکم من الانعام ثمنیۃ ازواج (39:6) اور پیدا کئے تمہارے لئے جانوروں میں سے آٹھ جوڑے۔ انعاما خلقنا کا مفعول ہے۔ فہم۔ فاء تفریع کے لئے ہے (فرع یفرع تفویع : قاعدہ یا دلیل سے فروعی مسائل کا نکالنا۔ یا یہ الفرع فی المسائل سے ہے مسائل قیاسیہ یعنی وہ مسائل جو کسی دوسری چیز پر مبنی ہوں اور اس پر ان کو قیاس کیا گیا ہو۔ اس کے مقابل اصل ہے) ۔ یا سببیہ ہے ای خلقنا ہم انعاما وملکنا ھاہم فہم بسب ذلک مالکون لھا۔ ہم نے ان کے لئے مویشی پیدا کئے اور ان مویشیوں کو ان کے قابو میں دیا۔ اور بدین سبب وہ ان کے مالک بن گئے) ۔ مالکون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مالک واحد ۔ قابو رکھنے والے، ہر قسم کا تصرف کرنے والے۔
Ayah 36:72

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ان کو ان کے قابو میں کردیا تو کوئی تو ان میں سے ان کی سواری ہے اور کسی کو یہ کھاتے ہیں

(36:72) ذللنا ھالہم۔ ذللنا ماضی جمع متکلم تذلیل (تفعیل) مصدر ذلیل کرنا۔ رام کرنا۔ فرمانبردار کرنا۔ تابع کرنا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب انعاما کی طرف راجع ہے۔ ہم نے ان (مویشیوں ) کو ان کا تابع بنادیا۔ فمنھا۔ الفاء تفریع کے لئے ہے من تبعیضیہ ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث انعام کی طرف راجع ہے۔ سو ان میں سے بعض۔ رکوبہم۔ مضاف مضاف الیہ رکوب بروزن فعول بمعنی مفعول ہے۔ ای مرکوب جس پر سواری کی جائے۔ اس کی مثال حصور بمعنی محصور (گھیرا ہوا) ۔ فمنھا رکوبہم۔ سو ان میں سے بعض ان کی سواریاں ہیں۔ ومنھا یاکلون۔ وائو عاطفہ ۔ من تبعیضیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب انعام کی طرف راجع ہے اور ان میں سے بعض کو وہ کھاتے ہیں۔ جملہ ہذا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔
Ayah 36:73

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان میں ان کے لئے (اور) فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں تو یہ شکر کیوں نہیں کرتے ؟

(36:73) ولہم فیھا۔ ای فی الانعام۔ منافع۔ اسم جمع منتہی الجموع ۔ منفعۃ واحد۔ فائدے۔ مثلاً زمین جوتنا۔ بوجھ اٹھانا۔ ان کی کھالوں اور بالوں کا استعمال وغیرہم۔ مشارب۔ اسم جمع منتہی الجموع۔ مشربۃ واحد۔ یہ اسم ظرف مکان بھی ہوسکتا ہے اور ظرف زمان بھی۔ یعنی پینے کی جگہ تھن۔ یا پینے کے اوقات۔ اور یہ مصدر میمی بھی ہے بمعنی پینا۔ بغوی نے مشربۃ سے مشروب یعنی پینے کی چیز لیا ہے ۔ یعنی دودھ، دہی وغیرہ ۔ منافع ومشارب بوجہ جمع منتہی الجموع ہونے کے غیر منصرف ہے لہٰذا ان پر تنوین نہیں آتی۔ افلا یشکرون۔ ہمزہ استفہام انکاری کا ہے۔ فاء عطف کا ہے اور اس کا فعل محذوف پر ہے ای یشاھدون ہذہ النعم فلا یشکرون المنعم بھا۔ ان نعمتوں کو دیکھتے ہیں اور ان نعمتوں کے دینے والے کا شکر ادا نہیں کرتے۔
Ayah 36:74

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا کے سوا (اور) معبود بنا لئے ہیں کہ شاید (ان سے) ان کو مدد پہنچے

(36:74) اتخذوا ماضی جمع مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے اختیار کیا۔ ضمیر فاعل کا مرجع مشرکین ہیں۔ الھۃ۔ الہ کی جمع۔ معبود ۔ من دون اللہ الھۃ (خدا کو چھوڑ کر اور خدا یا معبود) سے مراد نہ صرف بت ہیں بلکہ دیگر عناصر قدرت (آگ، پانی، ہوا ، بادل، بجلی ، وغیرہ) ۔ اور حیوان (از قسم گائے وغیرہ) اور انسان (پیران باطل جو اپنے آپ کو خدا کی خدائی میں شریک بتلاتے ہیں یا ان کے مرید ان کو ایسا سمجھتے ہیں) سب شامل ہیں۔ لعلہم ینصرون۔ شاید (ان معبودان باطل کے ذریعہ ) ان کی (یعنی مشرکین کی) مدد کی جائے گی !
Ayah 36:75

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

(مگر) وہ ان کی مدد کی (ہر گز) طاقت نہیں رکھتے اور وہ ان کی فوج ہو کر حاضر کئے جائیں گے

(36:75) لا یستطیعون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر طوع مادہ۔ وہ طاقت نہیں رکھتے۔ وہ قدرت نہیں رکھتے۔ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ولا یستطیعون لہم نصرا ولا انفسہم ینصرون۔ (7:192) اور وہ نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں : نصرہم۔ مضاف مضاف الیہ ضمیر ہم مشرکین کی طرف راجع ہے ۔ یعنی وہ معبو دان باطل ان کی (مشرکین کی) مدد کی طاقت نہیں رکھتے۔ مدد نہیں کرسکتے۔ ای لا تقدر الہتہم علی نصرہم۔ وہم لہم جند محضرون۔ محضرون اسم مفعول جمع مذکر۔ وہ لوگ جن کو حاضر کیا جائے گا۔ اس جملہ کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔ (الف) کفار اپنے معبودوں کے لئے فریق بنے ہوئے دنیا میں ان کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کی نگرانی کے لئے تیار رہتے ہیں باوجودیکہ وہ معبود ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے اور نہ کسی شر سے ان کو بچاتے ہیں۔ یعنی ہم ضمیر مشرکین کی طرف اور لہم معبودان باطل کی طرف راجع ہے۔ جند محضرون، موصوف وصفت متعلقہ ہم ہے۔ (ب) بعض علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن کافروں کے معبودوں کو طلب کیا جائے گا اور ان کے ساتھ ان کے پرستاروں کو بھی لایا جائے گا گویا وہ سب ایک فوج ہوں گے جن کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ اس صورت میں جند محضرون معبودان باطل کے متعلق ہے۔ (2) صاحب کشاف لکھتے ہیں :۔ (الف) وہ اپنے معبودان باطل کے لئے (دنیا میں) ایک حاضر خدمت فوج بنے رہتے ہیں ان کی حفاظت و خدمت کے لئے۔ اور یہ معبودان باطل ہیں کہ ان کو مدد کرنے کی استطاعت اور قدرت ہی نہیں ہم ضمیر مشرکین کی طرف لہم ضمیر معبودان باطل کی طرف راجع ہے (ب) کہ مشرکین ان کو اپنا معبود اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ وہ قیامت کے روز اللہ کے ہاں ان کی مدد کریں گے اور شفاعت کریں گے لیکن حقیقت الامر اس کے خلاف ہے قیامت کے روز یہ (الھۃ ہم) اپنے پرستاروں (لہم) کے سامنے اکٹھے کر کے لائے جائیں گے تاکہ ان کے عذاب کو دیکھیں جو اس روز دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ (3) تقریباً صاحب روح المعانی رقمطراز ہیں :۔ (ہم) للالہۃ وضمیر (لہم) للمشرکین ای وان الالہۃ معدون محضرون لعذاب اولئک المشرکین یوم القیامۃ لانہم یجعلون وقود النار ہم ضمیر الھۃ کی طرف اور لہم میں ضمیر ہم مشرکین کی طرف راجع ہے یعنی معبودان باطل قیامت کے روز مشرکین کے عذاب کو دیکھنے کے لئے حاضر کئے جائیں گے کیونکہ وہ دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ یا محضرون عند حساب الکفرۃ اظھارا لعجزہم واقناطا للمشرکین عن شفاعتہم یعنی معبودان باطل کو کفار کے حساب کے وقت حاضر کیا جائے گا۔ ان کی بےبسی کو ظاہر کرنے کے لئے اور ان کی شفاعت کے بارہ میں مشرکین کی مایوسی کے اظہار کے لئے۔ (4) وہم لہم جند محضرون۔ وائو حالیہ ہے۔ ہم (الھۃ) کی طرف راجع ہے اور لہم مشرکین کی طرف راجع ہے۔ ای الاصنام جند للعابدین اکدھا بانہم لا یستطیعون نصرہم حال ما یکونون جند لہم ومحضرون لنصرتہم “ اصنام (بت) اپنے بوجنے والوں کی فوج (ہیں) اور اس کی تاکید یہ کہ وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے۔ خواہ وہ ایک پوری فوج ہوں اور ان کی مدد کے لئے آحاضر ہوں۔ (رازی) علاوہ ازیں اور بھی متعدد اقوال ہیں۔
Ayah 36:76

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

تو ان کی باتیں تمہیں غمناک نہ کردیں یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے

(36:76) فلا یحزنک قولہم میں الفاء للسببیۃ۔ ای اذا کان ھذا حالہم مع ربہم عزوجل فلا تحزن بسبب قولہم علیک۔ جب کا اپنے رب عزوجل کے ساتھ یہ حال ہے تو اپنے متعلق ان کی باتوں سے رنجیدہ خاطر مت ہوں۔ لا یحزنک فعل نفی واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ حزن مصدر (باب نصر) سے۔ تجھے غمگین نہ کرے۔ قولہم مضاف مضاف الیہ لا یحزن کا فاعل ۔ ان کا قول۔ ان کا کہنا۔ (کہ آپ شاعر ہیں) ۔ ما یسرون : ما موصولہ ہے یسرون مضارع جمع مذکر غائب اسرار (افعال) مصدر۔ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں۔ ما یعلنون۔ ما موصولہ یعلنون مضارع جمع مذکر غائب اعلان (افعال) مصدر سے جو وہ ظاہر کرتے ہیں جو وہ علانیہ کرتے ہیں
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ تڑاق پڑاق جھگڑنے لگا

(36:77) اولم یر : میں ہمزہ استفہام انکاری ہے اور تعجب کے لئے ہے۔ وائو عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ مقدرہ پر ہے۔ ای الم یتفکر الانسان ولم یعلم انا خلقنہ من نطفۃ۔ کیا انسان نے غور نہیں کیا اور نہیں جانا کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ فاذا ھو : فاء تعقیب کا ہے اور اذا مفاجاتیہ ہے۔ سو وہ یکایک۔ خصم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ بہت جھگڑا کرنے والا۔ کثیر المخاصمت، سخت جھگڑالو۔ اس کی جمع اخصام۔ خصمائ۔ خصمان ہے۔ مبین۔ اسم فاعل واحد مذکر، کھلا، صریح۔ ظاہر۔ ظاہر کرنے والا۔ ابانۃ (افعال) مصدر۔ بین مادہ ابواب : افعال (ابانۃ) تفعیل (تبیین) تفعل (تبین) سے لازم ومتعدی ہر دو طرح مستعمل ہے۔ یعنی ظاہر ہونا۔ ظاہر کرنا۔ فاذا ھو خصیم مبین (یعنی ہم نے اسے ایک حقیر بدبودار قطرہ منی سے پیدا کیا۔ (اور اب یہ اپنی وقعت کو یک لخت بھول کر) ایک صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہوگیا ہے۔
Ayah 36:78

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا کہنے لگا کہ (جب) ہڈیا بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا ؟

(36:78) وضرب لنا مثلا۔ ضرب مثلا۔ مثال بیان کرنا۔ لنا ہمارے لئے۔ ہمارے بارے میں ۔ وہ ہمارے بارے میں ایک مثال بیان کرتا ہے (وہ مثال آگے آتی ہے : قال من یحی العظام وھی رمیم) ۔ نسی۔ ماضی واحد مذکر غائب، نسیان مصدر سمع سے۔ وہ بھول گیا۔ اس نے بھلا دیا ہے۔ خلقہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر نسی کا مفعول ہے۔ اپنی خلقت، اپنی پیدائش ۔ رمیم۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے واحد مذکر رم یرم (ضرب) رمۃ ورمیم سے۔ ہڈی کا بوسیدہ ہونا۔ اس کی جمع ارماء اور رمام ہے رمیم بمعنی استخوان بوسیدہ ۔ گلی ہوئی ہڈی۔ مؤنث کے لئے بھی رمیم ہی استعمال ہوتا ہے۔ آیت سابقہ اور آیت ہذا کا مطلب یہ ہے کہ :۔ کیا انسان اس حقیقت کو نہیں جانتا کہ ہم نے اس کو ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے (اور اس کی یہ جرات) کہ یک دم کھلم کھلا اور بےباک جھگڑا لو بن گیا ہے اور طرح طرح کے اعتراضات گھڑ رہا ہے) وہ ہمارے بارے میں ایک مثال بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے حال یہ ہے کہ وہ اپنی خلقت کو بھول بیٹھا ہے (کہ ہم اسے عدم سے ایک حقیر قطرہ منی سے کیسے وجود میں لائے) اگر وہ یہ نہ بھولتا تو ایسی حماقت و گستاخی نہ کرتا کیونکہ جو ذات ابدا پر قادر ہے وہ اعادہ پر اور زیادہ قادر ہے۔ الانسان سے بعض نے ایک مخصوص آدمی لیا ہے بعض کے نزدیک یہ شخص عاص بن وائل ہے بعض کے نزدیک ابی بن خلف جمحی مراد ہے۔ لیکن صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ کفار قریش کی ایک جماعت جس میں ابی بن خلف الجمحی، ابو جہل، عاص بن وائل، ولید بن مغیرہ شامل تھے باتیں کر رہے تھے کہ ابی بن خلف نے کہا کہ کیا تمہیں علم ہے کہ محمد ﷺ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے گا۔ لات وغری کی قسم میں ان سے بات کرتا ہوں چناچہ وہ ایک بوسیدہ ہڈی لے کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے محمد ﷺ کیا اللہ اس ہڈی کو جب کہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہے دوبارہ زندہ کر دے گا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : ہاں اور وہ تم کو بھی دوبارہ زندہ کرے گا اور دوزخ میں ڈالے گا۔ بہرکیف اس کا اطلاق ہر اس انسان پر ہے جو بعث بعد الموت پر شک کرتا ہے۔
Ayah 36:79

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

کہہ دو کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار ان کو پیدا کیا تھا اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے

(36:79) قل : ای قل یا محمد ﷺ آپ کہئے یا جواب دیجئے۔ یحییھا۔ یحییٰ مضارع واحد مذکر غائب احیاء (افعال) مصدر، وہ زندگی دیتا ہے ۔ وہ زندہ کردیتا ہے۔ وہ جان ڈال دیتا ہے۔ ھا ضمیر واحد مذکر غائب اس کا مرجع العظام ہے۔ وہ زندہ کر دے گا ان ہڈیوں کو۔ انشاھا۔ انشا ماضی واحد مذکر غائب ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع بھی العظام ہے (جس نے) ان کو پیدا کیا تھا۔ اول مرۃ۔ مضاف مضاف الیہ۔ پہلی بار۔ پہلی مرتبہ۔ مرۃ ایک بار۔ اس کی جمع مرار ومرات ہے۔ وھو، میں وائو حالیہ ہے۔ کل خلق مضاف مضاف الیہ (کل حرف جار باء کی وجہ سے مجرور ہے) خلق بمعنی مخلوق ۔ کل خلق۔ ہر قسم کی مخلوق، تمام مخلوقات۔ وھو بکل خلق علیم وہ سب طرح پیدا کرتا خوب جانتا ہے۔ یعنی مخلوقات کی تفصیل اور کیفیت تخلیق کو خوب جانتا ہے ۔ اور اجسام کے منتشر ومتفرق اجزا کے اصول، مواقع اور امتیاز کے طریقوں اور سابق کے طرز پر ان کو باہم جوڑنے اور گذشتہ اعراض اور قوتون کو لوٹا کر لانے یا از سر نو پیدا کرنے سے بخوب واقف ہے۔
Ayah 36:80

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

(وہی) جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس (کی ٹہنیوں کو رگڑ کر ان) سے آگ نکالتے ہو

(36:80) الشجر الاخضر۔ سبز درخت، ہرا بھرا درخت، موصوف وصفت ۔ فاذا انتم منہ توقدون۔ اور پھر تم اس سے (اور ) آگ سلگا لیتے ہو۔ منہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الشجر الاخضر ہے توقدون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم آگ سلگاتے ہو، تم آگ روشن کرتے ہو۔ ایقاد (افعال) مصدر۔ وقد مادہ۔ وقود ایندھن کی لکڑیاں جن سے آگ جلائی جائے۔ آگ کا شعلہ۔ الشجر الاخضر سے آگ کے مہیا ہونے کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں ! (1) اللہ تعالیٰ کسی چیز کی ہیئت کو منقلب کرسکتا ہے ” فرمایا کہ تم غور کرو کہ پانی سے میں نے درخت اگائے جو سرسبز و شاداب ہرے بھرے اور پھل دار ہوئے۔ پھر وہ سوکھ گئے اور ان کی لکڑیوں میں سے میں نے آگ نکالی۔ کہاں وہ تری اور ٹھنڈک اور کہاں یہ خشکی اور گرمی پس مجھے کوئی چیز بھاری نہیں “ (ابن کثیر) ۔ (2) یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے مرخ اور عفار کے درخت ہیں جو حجاز میں ہوتے ہیں ان کی سبز ٹہنیوں کو آپس میں رگڑنے سے چمق کی طرح آگ نکلتی ہے “ (ابن کثیر) ۔ اس سلسلہ میں علامہ عبداللہ یوسف علی نے لین Lane کی لغات العربیہ سے نقل کیا ہے ! فولاد کو چقماق پر مار کر آگ جلانے سے زیادہ پرانا اور قدیم طریقہ درخت کی ٹہنیوں کو ایک دوسرے سے رگڑ کر آگ حاصل کرنے کا ہے “ برٹش انسائیکلو پیڈیا چودھواں ایڈیشن جلد 9 کے صفحہ 262 پر ایک تصویر ہے جس میں برٹش کی آنا کے لڑکے دکھائے گئے ہیں جو زمین پر پڑے ہوئے ایک لکڑی کے بڑے ٹکڑے میں ایک گول سراخ میں آگ لینے کے لئے ایک لکڑی کے ڈنڈے کو رگڑ رہے ہیں۔ عرب ایک چوبی آلہ استعمال کرتے تھے جس کو زناد کہتے ہیں۔ یہ دو ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ جو ایک دوسرے کے ساتھ رگڑے جاتے تھے ۔ او پر والا حصہ عفار یا زند کہلاتا تھا اور زیریں حصہ کو مرخ کہتے تھے۔ مرخ ایک ایسے درخت کی شاخ تھی جو پھیلائو کے رخ زیادہ بڑھتا ہے۔ اسے CYNANCHUM. VIMLANE کہتے ہیں اس کی شاخیں بغیر پتوں اور کانٹوں کے ہوتی ہیں جب یہ آپس میں الجھ جائیں تو تیز ہوا چلنے سے رگڑ کھا کر آگ دیتی ہیں۔