Ayah 28:41(28:41) ایمۃ۔ پیشوا ۔ رہنما۔ قائدین۔ امام کی جمع جس کا معنی ہے وہ جس کی اقتداء کی جائے۔ نیز ملاحظہ ہو (28:5)
Ayah 28:42(28:42) اتبعنھم۔ اتبعنا ماضی جمع متکلم۔ اتباع افعال سے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم نے ان کے پیچھے لگا دیا۔ (لعنت کو)
المقبوحین۔ اسم مفعول جمع مذکر مجرور المقبوح واحد۔ قبح۔ مادہ۔ قباحۃ مصدر لازم باب کرم سے۔ وقع مصدر (متعدی) باب فتح سے قبح ایسی حالت اور شکل جس کو دیکھنے سے آنکھوں کو نفرت اور طبعیت کو کراہت ہو۔ قبیح عمل قبیح صورت بمعنی بدعمل ۔ بد صورت
Ayah 28:43(28:43) من بعد ما اہلکنا القرون الاولی۔ بعد اس کے کہ ہم نے ہلاک کردیا تھا پہلی قوموں کو (یعنی قوم نوح۔ قوم ہود۔ قوم صالح۔ قوم لوط وغیرہم)
الکتب سے مراد توریت ہے جو حضرت موسیٰ پر نازل کی گئی تھی۔
بصائر : بصیرۃ کی جمع ہے۔ بمعنی بینائی ۔ لیکن اس کا استعمال صرف دل کی بینائی کے متعلق ہوتا ہے یعنی دل کی وہ روشنی جس سے انسانی طاقت کے مطابق اشیاء کی حقیقت پر آگاہی ہوتی ہے۔
للناس : الناس سے مراد یہاں بنی اسرائیل ہے۔: بصائر۔ ھدی ۔ ورحمۃ ۔ الکتب سے حال ہیں اور الکتب ذوالحال
یتذکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب تذکر تفعل مصدر ۔ وہ نصیحت حاصل کریں (تاکہ) وہ نصیحت پکڑیں۔
Ayah 28:44(28:44) وما کنت ۔۔ یہاں قرآن مجید کے من جانب اللہ وحی ہونے کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ ولسم کے من جانب اللہ رسول ہونے کے دلائل دئیے جا رہے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے یہ جو آپ نے اپنے مخاطبین کو حضرت موسیٰ کے ساتھ بیتے ہوئے واقعات جن کو وقوع پذیر ہوئے مدت مدیر و عرصہ بعید گزر چکا ہے بیان کئے ہیں کہ اس امر کی دلیل نہیں ہیں کہ آپ کے پاس ان کے علم کا ذریعہ بجز وحی کے اور کوئی نہیں ہے اور آپ پر وحی کا نازل ہونا اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ آپ فرستادہ رب جلیل ہیں۔ یہاں تین باتیں بطور دلیل پیش کی گئی ہیں
(1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دئیے گئے آپ نہ وہاں موجود تھے اور نہ ہی شاہدین میں سے تھے۔
(2) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں تھے اور جو ان کے ساتھ وہاں گزرا آپ وہاں مقیم نہ تھے۔
(3) جب کوہ طور پر رب تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمائی آپ وہاں نہ تھے۔ لیکن اب جب وحی کے ذریعہ آپ کو بتایا گیا تو آپ نے جملہ تفصیلات مبنی برحق کھول کھول کر اپنے مخاطبین کو سنا دیں۔
وحی کے ثبوت میں قرآن مجید میں اور بھی کئی جگہ ایسے دلائل موجود ہیں مثلا :۔
(1) ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک۔۔ (3:44) یہ واقعات غیب کی خبروں میں سے ہیں ہم آپ پر ان کی وحی کر رہے ہیں
(2) ذلک من انباء الغیب نوحیہا الیک ۔۔ (11:49)
(3) ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک ۔۔ (12:102)
(4) ذلک من انباء القری نقصہ علیک ۔۔ (11:100)
یہ ان بستیوں کی بعض خبریں تھین جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں۔
وما کنت : ای وما کنت حاضرا۔ تو حاضر نہ تھا۔ تو موجود نہ تھا۔ خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے۔
بجانب الغربین۔ مضاف مضاف الیہ ۔ مغرب والی سمت۔ غربی جانب۔ یہ موصوف کی اپنی صفت کی طرف اضافت کی مثال ہے۔ جیسے مسجد الجامع۔ اصل میں الجانب الغربی تھا۔ یا موصوف محذوف ہے۔ اور صفت کو اس کا قام مقام لایا گیا اصل میں بجانب المکان الغربی تھا۔ یہاں مراد وہ جگہ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو تورات کی تختیاں دی گئیں تھیں۔
قضینا الی ۔۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم الی کے صلہ کے ساتھ اس کے معنی ہیں کہ ہم نے بھیجا تھا۔ ہم نے پہنچایا تھا۔ ہم نے دیا تھا۔ قضی الامر الیہ معاملہ کسی تک پہنچانا۔ آیت ہذا میں الامر سے مراد توریت ہے یا نبوت۔
الشاھدین۔ گواہ ۔ شہادت دینے والے۔ دیکھنے والے۔ مشاہدہ کرنے والے۔ بچشم خود دیکھنے والے۔ اشارہ یہاں ان ستر لوگوں کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ کے ہمراہ کوہ طور پر گئے تھے۔ سورة الاعراف میں ان کا ذکر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا (7:155) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ستر مرد انتخاب کئے ہمارے وقت موعود (یا جائے موعود) کے لئے۔
Ayah 28:45(28:45) انشانا۔ ماضی متکلم۔ انشا ینشی انشاء (افعال) سے بمعنی پیدا کرنا۔ پرورش کرنا۔ انشانا ہم نے پیدا کیا۔ ن ش ء مادہ
قرونا۔ جمع نکرہ بحالت نصب قرن واحد ۔ قومیں۔
انشانا قرونا : ای خلقنا بین زمانک وزمان موسیٰ قرونا کثیرۃ ہم نے تمہارے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کے مابین کئی قومیں پیدا کیں۔
فتطاول۔ میںتعقیب کی ہے تطاول ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ طول مادہ۔ (باب تفاعل۔ درازی یا وسعت کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے۔ فتطاول علیہم العمر۔ پھر ان پر لمبا عرصہ گزر گیا۔ (العمر زندگی۔ عمر) اسی معنی میں باب نصر سے اور جگہ آیا ہے۔ فطال علیہم الامد (57:16) پھر ان پر لمبا عرصہ گزر گیا۔
ثاویا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب بوجہ خبر ما کنت۔ ثوی یثوی (ضرب) ثواو ثوی مصدر۔ ثوی المکان وفیہ وبہ۔ کسی جگہ ٹھہرنا۔ آباد ہونا۔ قیام کرنا۔ المثوی قیام کرنے کی جگہ یا ٹھہرنے کی جگہ۔ منزل۔ ثاویا۔ مقیم ۔ آباد ۔ قیام پذیر۔
تتلوا علیہ ایتنا۔ (کہ) ہماری آیتیں ان لوگوں کو پڑھ کر سنا رہے ہوں یہ جملہ یا ثاویا کی ضمیر فاعل سے حال ہے یا کنت کی خبر ثانی ہے۔
ولکنا کنا مرسلین۔ لیکن بھیجنے والے ہم ہی تھے۔ اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :۔
(1) مگر (اس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں۔ (تفہیم القرآن)
(2) لیکن ہم ہی رسول بنا کر بھیجنے والے تھے۔ (ضیاء القرآن)
(3) لیکن ہم آپ ہی کو رسول بنانے والے تھے۔ (تفسیر الماجدی)
(4) لیکن ہم ہی رسول بھیجتے رہے۔ (تفسیر حقانی)
(5) لیکن ہم ہی رسول بنانے والے ہیں۔ (بیان القرآن)
(6) لیکن ہم ہی ہیں جو رسولوں کو وحی کے ساتھ بھیجتے ہیں۔ (عبد اللہ یوسف علی)
(7) لیکن ہم ہی لوگوں کے پاس رسول بھیجتے رہے۔ (پکتھال)
(8) ولکن ارسلناک واخبرناک بھا وعلمنا کہا۔ (الکشاف ، مدارک التنزیل)
لیکن ہم نے تجھے پیغمنر بنا کر بھیجا اور ان (اتینا) کی خبر تم کو دی اور ان کا علم تم کو عطا کیا۔
(9) ایاک ومخبرین لک بھا۔ اور ہم ہی تجھے (رسول بنا کر بھیجنے والے ہیں) (بیضاوی)
اور ان (آیات) کی تم کو خبر دینے والوں کو بھیجنے والے ہیں۔
Ayah 28:46(28:46) ولکن رحمۃ من ربک۔ ای رحمک ربک رحمۃ یا رسالک والوحی الیک واطلاعک علی الاخبار الغائبۃ۔ تمہیں پیغمبر بنا کر بھیج کر اور تم پر وحی ارسال کرکے اور غیب کی خبروں سے مطلع کرکے اپنی (خصوصی) رحمت سے نوازا ہے
رحمۃ بوجہ فعل محذوف کے مصدر کے منصوب ہے ای رحمک رحمۃ۔
لتنذر۔ میں لام تعلیل کا ہے تنذر واحد مذکر حاضر مضارع ۔ تاکہ تو ڈراوے ۔ انذار۔ افعال۔ مصدر۔
Ayah 28:47(28:47) لولا۔ کیوں نہ۔ امتناعیہ ہے۔ لو حرف شرط اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ اس کا جواب محذوف ہے۔ جواب کبھی شرط کے بعد آتا ہے مثلاً لولا ان من اللہ علینا لخسف بنا۔ (28:82) اگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں گاڑ دیتا۔ اور کبھی جواب شرط سے قبل بھی آتا ہے مثلا ولقد ھمت بہ وہم بھا لولا ان رابرھان ربہ (12:24) اس عورت نے اس کا قصد کیا اور وہ بھی اس عورت کا قصد کرلیتا اگر اس نے اپنے پروردگار کی دلیل کو نہ دیکھ لیا ہوتا۔
آیت ہذا میں بھی لولا امتناعیہ ہے اور جواب لولا محذوف ہے جو اس سے قبل ہے ای ما ارسلناک الیہم لولا ۔۔ ہم تجھے ان کی طرف نہ بھی بھیجتے اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ۔۔
ان تصیبھم مصیبۃ۔ میں ان مصدریہ ہے۔
بما۔ میں ب سببیہ ہے اور ما موصولہ۔ ولولا ۔۔ فیقولوا ۔۔ ہم تجھے ان کی طرف نہ بھی بھیجتے) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان پر اپنی ہی کرتوتوں کے باعث مصیبت آئے تو یہ لوگ یہ (نہ) کہہ اٹھیں ۔۔
فیقولوا۔ میںعاطفہ ہے۔
لولا۔ یہاں لولا تحضیضیہ ہے (یعنی کسی فعل پر سختی سے ابھارنا یا نرمی سے کسی کام کا طلب کرنا۔ مؤخرالذکر کو عرض بھی کہتے ہیں یہاں آیت ہذا میں عرض مراد ہے۔ یعنی اے ہمارے پروردگار کیوں نہ تو نے ہمارے پاس کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیرے اغکام کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں سے ہوتے۔
تخضیض کی مثال : لولا تستغفرون اللہ لعلکم ترحمون (27:46) تم لوگ اللہ سے مغفرت طلب کیوں نہیں کرتے شاید کہ تم پر کردیا جائے۔
Ayah 28:48(28:48) الحق : القران ۔ الامر الحق۔ امر حق۔
اوتی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ایتاء افعال مصدر۔ اسے دیا گیا۔ اسے ملا۔ وہ دیا گیا۔
سحران۔ سحر واحد کا تثنیہ۔ دوجادو۔ مراد ہے ذوا سحر دو جادو (کا علم رکھنے والے، جادو گر۔ یا جادو کا وصف رکھنے والوں کو مبالغہ کے طور پر بنفسہ جادو کہہ دیا۔ یعنی دونوں مجسم جادو تھے۔
یا یعنون ما اوتی نبینا وما اوتی موسیٰ علیہما الصلوۃ والسلام سحران۔ یعنی جو رسول کریم ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے نزال ہوا اور جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ملا ہر دو کو وہ جادو سے تشبیہ دیتے ہیں (یعنی قرآن اور تورات کو)
تظاھرا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب۔ وہ دونوں آپس میں موافق ہوئے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے مددگار بنے تظاھر (تفاعل) سے بمعنی باہم معاونت کرنا۔ ہم پشت ہونا۔ ای تعاونا ب تصدیق کل واحد منھما الاخر وتائیدہ ایاہ یعنی ایک دوسرے کی تصدیق و تائید کرتے ہیں۔ بکل یعنی ہر دو کتابوں سے۔ قرآن سے اور تورات سے۔
Ayah 28:49(28:49) اتبعہ۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب امر۔ صیغہ واحد متکلم ، میں اس کی پیروی کروں اتباع (افتعال) مصدر۔
Ayah 28:50(28:50) لم یستجیبوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ استجابۃ استفعال۔ مصدر۔ فان لم یستجیبوا۔ پھر اگر وہ (لوگ) تجھے جواب نہ دیں۔ یا ایسا نہ کرسکیں۔ یا آپ کے چیلنج قبول نہ کریں۔
اضل۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ زیادہ بےراہ۔ زیادہ گمراہ۔ ضلال مصدر
ممن۔ مرکب ہے من اور من سے۔ اس سے جو،
Ayah 28:51(28:51) لقد وصلنا۔ لام تاکید کے لئے ہے قد تحقیق کے معنوں میں ہے یا ماضی قریب کے لئے وصلنا ماضی جمع متکلم توصیل (تفعیل) سے وصل کے معنی ملانے کے ہیں۔ لیکن باب تفعیل سے اس کے معنی ہوئے کہ ہم پے در پے اپنا کلام ان کی طرف بھیجتے رہے القول سے مراد یہاں قرآن مجید ہے جو حالات کے نقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت خداوندی کے مطابق وقتا فوقتا نازل ہوتا رہا۔
لہم۔ لعلہم اور یتذکرون میں ضمیر جمع مذکر گا ئب اہل مکہ کی طرف راجع ہے ۔ جو اس وقت موجود تھے۔
لعلہم یتذکرون تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ ایمان لاویں۔
Ayah 28:52(28:52) الذین اتینھم الکتب من قبلہ۔ جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے (قرآن سے پہلے) کتاب دے رکھی تھی۔
اس سے کون لوگ مراد ہیں اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) بعض کے نزدیک اس سے مراد حبشہ کا وہ وفد جسے حبشہ کے بجاشی نے اسلام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے مکہ معظمہ بھیجا تھا ۔ انہوں نے جب حضور ﷺ سے بالمشافہ گفتگو اسلام کے بارے میں سنی اور کلام الٰہی بھی آپ کی زبان مبارک سے سماعت کیا تو وہ اتنے متاثر ہوئے کہ مسلمان ہوگئے۔
(2) بعض نے کہا ہے کہ یہ ایک یہودیوں کا وفد تھا۔
(3) بعض کے نزدیک یہ اہل انجیل میں سے ایک گروہ تھا۔ اور بعض نے اور نام لئے ہیں ۔
لیکن اس بارے میں امام رازی (رح) کا قول بہت ہی جامع ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ کسی خصوصی سبب نزول سے کیا ہوتا ہے اعتبار تو عموم عبارت کا کیا جائے گا پس جس کسی میں بھی یہ صفات پائی جائیں گی وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہوگا۔
الکتب سے مراد توریت۔ زبور۔ انجیل یا دیگر صحائف آسمانی ہیں من قبلہ میں ضمیر واحد مذکر غائب القرآن کی طرف راجع ہے۔
بہ : ای بالقران۔ ہم بہ یومنون۔ وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں ۔
Ayah 28:53(28:53) یتلی مضارع مجہول واحد مذکر غائب اس میں مفعول مالم یسم فاعلہ القرآن ہے واذا یتلی علیہم اور جب یہ (قرآن) ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے۔
مسلمین اسم فاعل جمع مذکر مسلم واحد منصوب بوجہ خبر کنا۔ ماننے والے فرماں بردار۔ ہر وہ شخص جو توحید الٰہی اور سلسلہ وحی کا قائل ہو اس کو مسلم کہا جاسکتا ہے۔
Ayah 28:54(28:54) یؤتون مضارع مجہول جمع مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر وہ دئیے جائیں گے۔ ان کو دیا جائے گا۔ اتی مادہ۔
مرتین۔ دو مرتبہ ای مرۃ علی ایمانہم بکتابھم ومرۃ علی ایمانہم بالقران ایک اجر ان کی اپنی کتاب پر ایمان لانے کا اور دوسرا اجر قرآن پر ایمان لانیکا۔
بما میں ب سببیہ ہے بما صبروا بوجہ اس امر کے کہ انہوں نے صبر کیا۔ بہ سبب ان کے صبر کرنے کے۔ یعنی بسبب اس صبر و ثابت قدمی کے جو انہوں نے توراۃ و قرآن پر ایمان رکھنے میں۔ یا قرآن پر اس کے نزول سے قبل و نزول کے بعد ایمان رکھنے میں یا مشرکین اور ان کے ہم مذہب اہل کتاب کی ایذاء دہی پر دکھائی۔
یدرء ون۔ مضارع جمع مذکر غائب درء کے معنی (نیزہ وغیرہ کے) ایک طرف مائل ہوجانے کے ہیں۔ کہا جاتا ہے قومت درء ہ میں سے اس کی کجی کو درست کردیا اور درءت عنہ می نے اس سے دفع کیا۔
یدرء ون بالحسنۃ السیئۃ وہ نیکی کے ذریعہ برائیوں کا مقابلہ کرتے ہیں یا بدی کا نیکی کے ساتھ دفعیہ کرتے ہیں یا بدی کا توڑ نیکی سے کرتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ویدرء عنھا العذاب اور عورت کو سزا سے یہ بات ٹال سکتی ہے۔
Ayahs 28:55–56(28:55) سلم علیکم مقصود اس پورے فقرہ سے سلامت روی کا اظہار ہے یہ نہیں کہ اپنے مخالفین کو سلام کرتے رہتے ہیں ۔ یہ سلام متارکت و علیحدگی کے لئے ہے سلام متعارف مراد نہیں۔ (28:55) لانبتغی مضارع منفی جمع متکلم ابتغاء افتعال مصدر۔ بغی مادہ ہم نہیں چاہتے (چوہلوں سے الجھنا) ۔
Ayah 28:57(28:57) نتبع۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان جمع متکلم (اگر) ہم پیروی کریں۔
نتخطف۔ مضارع مجہول مجزوم بوجہ جواب شرط۔ تخطف تفعل مصدر ۔ ہم کو اچک لیا جائے گا۔ یعنی لوٹ لیا جائے گا یا قتل کردیا جائے گا۔ خطف یخطف (ضرب) وخطف یخطف (سمع) خطبۃ مصدر بمعنی کسی چیز کو جلدی سے اچک لینا۔ جیسے تخطفہ الطیر (22:31) پھر اس کو پرندے اچک لے جاویں۔
اولم نمکن ہمزہ استفہامیہ واؤ عطف کا ہے لم نکمن مضارع منفی نفی جحد بلم۔ کیا ہم نے جگہ نہیں دی۔ تمکن تفعیل مصدر جس کے لغوی معنی ہیں کسی کو ایسی جگہ دینا کہ وہ اس میں جماؤ کرسکے۔ توسیع استعمال کے بعد مجازا حکومت، اور قدرت دینے کا معنی ہوگیا۔
حرما امنا۔ موصوف وصفت خطہ حرم جو پر امن ہے۔ خطہ حرم کی حدود ۔ علامہ ابن ملقن کے قول کے مطابق یہ ہیں :۔ مدینہ کی جانب سے تین میل۔ عراق اور طائف کی طرف سے سات میل۔ جدہ کی طرف سے دس میل۔ جعرانہ کی طرف سے نو میل اور یمن کی طرف سے سات میل۔
حرم کے معنی ادب کا مقام۔ پناہ گاہ۔ مکہ معظمہ کا ایک مخصوص حصہ جس کی حدود میں اللہ تعالیٰ نے اس کے ادب کی وجہ سے بعض چیزوں کو حرام کردیا ہے ! اولم نکمن لہم حرما امنا۔ کیا ہم نے نہیں بسایا ان کو حرم میں جو امن والا ہے۔
یجبی۔ مضارع مجہول۔ واحد مذکر غائب ۔ جنایۃ جباوۃ جبوۃ مصادر باب ضرب فتح ۔ جبی الماء فی الحوض۔ حوض میں پانی جمع کیا۔ جابیۃ حوض۔ اس کی جمع جواب ہے جیسا قرآن مجید میں آیا ہے وجفان کالجواب (34:13) اور لگن جیسے بڑے بڑے حوض اور جبیت الخراج حیایۃ میں نے مال خراج جمع کیا۔ یجبی الیہ اس کی طرف اکٹھے کئے جاتے ہیں ۔ اکثر مفسرین نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ اس کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں۔ یعنی وہاں آ اکٹھے ہوتے ہیں۔
باب افتعال سے الاجتباء کے معنی ہیں انتخاب کے طور پر کسی چیز کو جمع کرنا۔ یا صرف انتخاب کرنا۔ برگزیدہ کرنا۔ مثلا وکذلک یجتبیک ربک (12:6) اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ کرے گا۔ اسی سے ہے المجتبی انتخاب کیا ہوا۔ چنا ہوا۔ برگزیدہ
رزقا مصدر ثمرات سے حال ہے۔ بطور رزق کے
من لدنا۔ ہماری طرف سے۔
Ayah 28:58(28:58) کم من قریۃ۔ کتنی ہی بستیاں۔ کم خبر یہ ہے اور کثیر کے معنی دیتا ہے اور بیشتر فخر جتانے اور بڑائی ظاہر کرنے کے موقعوں پر آتا ہے جیسے آیت ہذا (کتنی ہی بستیاں تھیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا جو اپنی خوشحالی پر نازاں تھیں)
کم استفہامیہ بھی آتا ہے جیسے کم لبثت (2:259) تم کتنا عرصہ ٹھہرے رہے ہو۔
بطرت۔ ماضی واحد مؤنث غائب بطر (سمع) مصدر۔ وہ اترائی۔ وہ اکڑنے لگی۔
معیشتھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی معیشت، معیشۃ اسم مصدر۔ سامان زندگی۔ معیشۃ کا نصب اس کے بطرت کے مثل مفعول بہ ہونے کی وجہ سے ہے کیونکہ بطوت فعل متعدی کو بھی متضمن ہے۔
بطرت معیشتھا وہ (بستیاں یعنی بستیوں کے باسی) اپنی خوشحالی پر نازاں تھے۔
لم تسکن مضارع مجہول نفی جحد بلم۔ واحد مؤنث غائب سکون (باب نصر) مصدر۔ جو آباد نہ ہوئیں ۔ جن میں سکونت اختیار نہ کی گئی۔ جن میں کوئی آباد نہ ہوا۔
الا قلیلا : الازمانا قلیلا مگر بہت کم مدت کے لئے یا لم یسکنھا من بعد ہم الاقلیل من الناس۔ ان کے بعد ان می بہت کم لوگ آباد رہے۔
Ayah 28:59(28:59) مہلک القری : مہلک اسم فاعل واحد مذکر منصوب بوجہ خبر کان ۔ مضاف۔ القری (جمع قریۃ) مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر کان کی خبر۔
یبعث مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ ان مقدرہ۔ حتی یبعث تاآنکہ وہ بھیجے۔
امھا۔ مضاف مجاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب القری کی طرف راجع ہے۔ ان بستیوں کی ماں۔ یعنی بڑی بستی۔
وما کنا مہلکی القری۔ اس جملہ کا عطف جملہ ما کان ربک مہلک القری پر ہے۔ کان سے کنا کی طرف التفات (غائب سے متکلم کی طرف) عظمت شان کے لئے ہے۔ مہلکی اسم فاعل جمع مذکر منصوب بوجہ خبر کنا اصل میں مہلکن تھا اضافت کہ وجہ سے ن گرگیا۔
Ayah 28:60(28:60) اوتیتم ماضی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تم کو دیا گیا۔ تم کو ملا۔ ایتاء افعال مصدر۔
ابقی۔ افعل التفصیل کا صیغہ۔ زیادہ دیر تک رہنے والا۔ سدا رہنے والا۔ بقاء مصدر جس کے معنی باقی رہنے کے ہیں۔ یہ لفظ جب اللہ کی طرف منسوب ہوگا تو اس کے معنی سدا باقی رہنے والے کے ہوں گے ورنہ دیر تک رہنے ووالے کے۔
افلا تعقلون۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہےعاطفہ ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے یا عقل سے کام نہیں لیتے۔کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ ای الا تفکرون، فلا تعقلون۔
افمن کیا بھلا وہ شخص۔
Ayah 28:61(28:61) لاقیہ : لاقی اسم فاعل واحد مذکر مضاف ہ ضمیر مفعول واحد مذکر اس کو پانے والا۔ اس کو حاصل کرنے والا۔ لقی یلقی (سمع) لقائ۔ لقاء ۃ مصدر۔
متعنہ : متعنا ماضی جمع متکلم۔ تمتیع (تفعیل) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم نے اس کو دنیاوی سامان سے بہرہ یاب کیا۔
المحضرین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ وہ لوگ جن کو حاضر کیا جائے گا۔ ای محضرین للنار او العذاب۔ وہ دوذخ یا عذاب کے لئے حاضر کئے جائیں گے قرآن مجید میں اور جگہ انہی معنوں میں ارشاد ہے فکذبوہ انھم لمحضرون ۔ (37:127) تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ سو وہ (دوزخ میں) حاضر کئے جاویں گے اور ولولا نعمۃ ربی لکنت من المحضرین (37:57) اور اگر میرے پروردگار کی مہربانی نہ ہوئی تو میں بھی ان میں ہوتا (جو عذاب میں) حاضر کئے گئے ہیں ۔
Ayah 28:62(28:62) یوم۔ مفعول فیہ ہے فعل محذوف کا۔ ای اذکر یوم۔
ینادیہم : ینادی مضارع واحد مذکر غائب۔ نادی ینادی مناداۃ (مفاعلۃ) وہ پکارے گا۔ وہ بلائے گا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ان کو وہ ان کو پکارے گا۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے قیامت کے دن بالواسطہ یا بلاواسطہ پکارے گا (اور یہ نداء اہانت و توبیخ کی ہوگی) ۔
فیقول۔ میںعاطفہ ہے یقول کی ضمیر فاعل کا مرجع بھی اللہ تعالیٰ ہے ۔
کنتم تزعمون۔ ماضی استمراری صیغہ جمع مذکر غائب زعم (نصر) سے مصدر۔ اسی لئے قرآن مجید میں جہاں بھی زعم کا استعمال ہوا ہے وہاں کہنے والے کی مذمت ہی مقصود ہے۔ کنتم تزعمون تم دعوی کیا کتے تھے۔ تم خیال کیا کرتے تھے (کہ میرے شریک ہیں) اور جگہ اس کا استعمال زعمتم من دونہ (17:56) جنہیں تم نے اس (اللہ) کے سوا (معبود) خیال کیا۔
Ayah 28:63(28:63) حق علیہم القول جن پر (اللہ کا) قول ثابت ہوچکا۔ القول سے مراد یہاں کفروشرک پر عذاب کے متعلق آیات وعید ہیں مطلب یہ کہ جن پر ان آیات وعید کے مطابق اللہ کا فرمان عذاب ثابت ہوچکا ہوگا۔ الذین حق علیہم القول سے مراد وہ معبودان باطل ہیں جن کو مشرک لوگ شریک خداوندی خیال کرتے تھے۔: ربنا سے لے کر اخیر آیت تک ان معبودان باطل کا قول ہے۔
ھؤلائ۔ اسم اشارہ۔ جمع کا صیغہ، یہ سب۔
الذین اغوینا۔ جن کو ہم نے بہکایا۔ صیغہ جمع متکلم ۔ ماضی معروف اغواء (افعال) مصدر۔
اغوینھم۔ ہم نے ان کو گمراہ کیا۔ کما غوینا (ایسے ہی جیسے ہم خود گمراہ ہوئے یعنی نہ ہم کو کسی نے جبرا گمراہ کیا تھا بلکہ ہم خود اپنی مرضی سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ اسی طرح ہم نے ان کو بھی زبردستی گمرای نہیں کیا۔ ہم نے ان کے سامنے گمراہی کا راستہ دکھایا اور انہوں نے اپنی مرضی سے اسے اختیار کرلیا۔
تبرانا۔ ماضی جمع متکلم البرء البراء کسی مکروہ امر سے نجات حاصل کرنا۔ برات من المرض میں تندرست ہوا۔ میں نے مرض سے نجات پائی۔ برات من فلان میں فلاں سے بیزار ہوں۔ اسی طرح باب تفعل سے تبرء یتبرء تبرء بیزار ہونا۔ تبرانا ہم بیزار ہوگئے ہیں۔ ہم بیزاری کا اظہار کرتے ہیں (ماضی بمعنی حال) ای تبرانا من عبادتھم ایانا وہ جو ہماری عبادت کتے تھے ہم اس سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ الیک۔ تیرے سامنے۔
ما کانوا ایانا یعبدون۔ ای ما کانوا ایانا یعبدون انما کانوا یعبدون اھواء ھم وہ ہماری بندگی تو نہیں کرتے تھے بلکہ در حقیقت وہ ہوائے نفس کی پوجا کرتے تھے۔
یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سوال تو کریگا شریک ٹھہرانے والوں سے مگر قبل اس کے کہ وہ کچھ بولیں جواب دینے لگیں گے وہ جن کو شریک ٹھہرایا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عام مشرکین سے سوال کیا جائے گا تو ان کے پیشوا اور لیڈر محسوس کریں گے کہ اب آگئی ہماری شامت بھی۔ یہ ہمارے سابق ضرور کہیں گے کہ یہ لوگ ہماری گمراہی کے ذمہ دار ہیں۔ اس لئے پیرؤوں کے بولنے سے پہلے وہ خود سبقت کرکے اپنی صفائی پیش کرنی شروع کردیں گے۔ (تفہی القرآن)
Ayah 28:64(28:64) ادعوا فعل امر جمع مذکر غائب ۔ دعوۃ مصدر (باب نصر) تم پکارو۔ تم بلاؤ۔ خطاب شریک ٹھہرانے والوں سے ہے۔
شرکاء کم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارے شرکاء یعنی تمہارے وہ معبودان باطل جب کو تم نے اللہ کا شریک ٹھہرایا تھا۔
فدعوھم۔ پس وہ ان کو پکاریں گے۔
لم یستجیبوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ وہ جواب نہیں دیں گے ! ضمیر فاعل معبود ان باطل کی طرف راجع ہے
عاوا العذاب۔ رأوا ماضی جمع مذکر غائب ۔ (یہاں ماضی بمعنی مستقبل ہے) وہ دیکھ لیں گے۔ ضمیر فاعل شریک ٹھہرانے والوں کی طرف راجع ہے۔
لو انھم کانوا یھتدون ۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) لو حرف تمنا ہے اور جملہ کا مطلب ہے تمنوا لو کانوا مھتدین۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ ہدایت پانے والے ہوتے۔
(2) یہ جملہ معترضہ ہے اور لو حرف تمنا ہے کاش یہ لوگ ہدایت یافتہ ہوتے (دنیا میں)
(3) یہ جملہ شرطیہ ہے اور لو شرطیہ ہے اور جواب لو محذوف ہے ای لوانھم کانوا فی الدنیا مھتدین مؤمنین لما رأو العذاب اگر یہ دنیا میں ہدایت یافتہ اور ایمان والے ہوتے تو (آخرت میں) یہ عذاب نہ دیکھتے۔
Ayah 28:65(28:65) ویوم : واؤ عاطفہ ہے اور جملہ مابعد کا عطف ویوم ۔۔ آیت 62 پر ہے۔
ماذا۔ مرکب ہے ما اور ذا سے۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) ما استفہامیہ اور ذا موصولہ ہے۔ (2) ما استفہامیہ اور ذا اسم اشارہ ہے۔
(3) ما زائدہ اور ذا اسم شارہ ہے۔ (4) ما نافیہ اور ذا زائدہ ہے۔
(5) ما استفہامیہ اور ذا فصل کے لئے۔ تاکہ ما نافیہ اور ما استفہامیہ میں امتیاز ہوجائے کیا چیز ہے۔ کیا ہے۔ کیا ہے یہ۔
اجبتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ اجابۃ (افعال) مصدر۔ تم نے جواب دیا۔ جوب مادہ۔
Ayah 28:66(28:66) فعمیت علیہم الانبیائ۔ لفظی ترجمہ ہوگا۔ تو اندھی ہوجائیں گے ان پر خبریں۔
العمی۔ بصارت اور بصیرت دونوں قسم کے اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمی اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمی اور عم دونوں کا استعمال ہوتا ہے۔
مثلا ان جاء ۃ الاعمی (80:2) کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا۔ (بصارت کا اندھا پن) ومن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی (17:72) اور جو شخص اس دنیا میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ (بصیرت کا اندھا پن) ۔ عمی علیہ کا معنی ہیں کہ اس پر فلاں معاملہ اس طرح غیر واضح اور مشتبہ ہوگیا کہ گویا وہ اس سے اندھا ہے (اور وہ اسے سجھائی نہیں دیتا) پس عمیت علیہم الانباء کا مطلب ہوا کہ اس روز وہ خبروں سے اندھے ہوجائیں گے۔ یعنی ان کو کوئی جواب نہ سوجھے گا۔ (اپنے انجام کو سامنے دیکھ کر مارے ہول کے ان کی عقلیں معطل ہوجائیں گے) ۔
لایتساء لونمضارع منفی جمع مذکر غائب ۔ تشاء ل (تفاعل) مصدر۔ ایک دوسرے سے سوال کرنا۔ اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں
(1) وہ ایک دوسرے سے پوچھ گچھ بھی نہ کرسکیں گے یعنی مشورہ بھی نہ کرسکیں گے کہ کیا جواب دیں ۔
(2) وہ ایک دوسرے کا حال نہ پوچھ سکیں گے۔ باہم پرسان حال نہ ہوں گے۔
الانبائ۔ نباء کی جمع۔ خبریں۔ حقیقتیں۔
Ayah 28:67(28:67) فعسی میںتعقیب کا ہے عسی بمعنی امید ہے۔ توقع ہے۔
المفلحین اسم فاعل جمع مذکر المفلح واحد۔ فلاح پانے والے۔ کامیاب و کامران ہونے والے۔
Ayah 28:68(28:68) یختار۔ مضارع واحد مذکر اختیار بمعنی اپنی مرضی و پسند میں آزاد ہونا۔
ماکان میں مانافیہ ہے بعض کے نزدیک ما موصولہ ہے لیکن یہ تبھی ہوسکتا ہے کہ جب وقف یشاء پر ہو۔ لیکن وقف یختار پر ہے
الخیرۃ : خار یخیر ضرب کا مصدر ہے پسند کرنا۔ منتخب کرنا۔ ما کان لہم الخیرۃ۔ انہیں کچھ اختیار نہیں۔ یعنی سارے تکوینی و تشریعی اختیارات اس (اللہ) کو ہیں اور صرف اسی کو ہیں۔
تعالی۔ ماضی واحد مذکر غائب تعالیٰ (تفاعل) مصدر۔ وہ بہت ہی بلند اور برتر ہے یہاں باب تفاعل کا استعمال تکلف کے لئے نہیں بلکہ مبالغہ کے لئے آیا ہے۔
عما : عن ما۔ ما موصولہ ہے۔ جس چیز سے۔
یشرکون مضارع جمع مذکر غائب اشراک افعال مصدر۔ وہ شریک بناتے ہیں تعالیٰ عما یشرکون۔ وہ اللہ بہت ہی بلندو برتر ہے ان سے جن کو وہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ بعض نے یہاں مضارع کو مصدر کے معنی میں لیا ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ جو وہ شرک کرتے ہیں اللہ اس سے بلندو برتر ہے۔
Ayah 28:69(28:29) تکن۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ فاعل صدور چونکہ اسم ظاہر ہے اور جمع مکسر ہے اس لئے فعل کو مؤنث لایا گیا ہے اکن یکن اکنان افعال۔ کسی بات کو دل میں چھپانا۔ تکن وہ چھپاتی ہے ما تکن صدرہم جو ان کے سینے میں چھپائے ہوئے ہیں۔ جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے او اکننتم فی انفسکم (2:235) یا اپنے دلوں میں مخفی رکھو (نکاح کی خواہش کو)
یعلنون۔ مضارع جمع مذکر غائب اعلان (افعال) مصدر۔ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ علانیہ کرتے ہیں۔
Ayah 28:70(28:70) فی الاولی والاخرۃ۔ یعنی دنیا میں اور آخرت میں۔
Ayah 28:71(28:71) ارأیتم۔ لفظی معنی ہوں گے کیا تم نے دیکھا۔ الاتقان میں ہے کہ جب ہمزہ استفہام رأیت پر داخل ہوتا ہے تو اس حالت میں رویت کا آنکھوں یا دل سے دیکھنے کے معنی میں آنا ممنوع ہے۔ اور اس کے معنی اخبرنی (مجھ کو خبر دو ) کے ہوتے ہیں۔ ارأیتم۔ بھلا یہ تو بتاؤ ۔ مجھے بتاؤ تو۔
سرمدا۔ ہمیشہ۔ دائم۔ منصوب بوجہ جعل کے مفعول ثانی ہونے کے یا بوجہ الیل کے حال ہونے کے۔
افلا تسمعون۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہےکا عطف محذوف پر ہے گویا آیت کی تقدیر یوں ہے۔ الا تدبرون الا تسمعون تو کیا تم سوچتے نہیں اور سنتے نہیں۔
Ayahs 28:72–73(28:72) تسکنون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ سکون (نصر) مصدر۔ تم چین پاسکو۔ تم سکون پاسکو۔
لتبتغوا۔ لام تعلیل کی ہے تبتغوا جمع مذکر حاضر۔ لام کی وجہ سے نون اعرابی ساقط ہوگیا ہے تاکہ تم تلاش کرسکو۔ تاکہ تم تلاش کرو۔ تاکہ تم ڈھونڈھو۔
الیل والنھار اور لتسکنوا ولتبتغوا میں لف و نشر مرتب ہے۔ (علم بیان کی اصطلاح میں وہ صفت جس میں اول چند چیزوں کا ذکر کریں پھر چند اور چیزیں بیان کریں جو پہلی چیزوں سے نسبت رکھتی ہوں مگر اس طرح کہ ہر ایک کی نسبت اپنے منسوب الیہ سے مل جائے) ۔
Ayah 28:74(28:74) ملاحظہ ہو آیت 62 ۔
Ayahs 28:75–76(28:75) نزعنا۔ ماضی جمع متکلم۔ نزع (فتح) مصدر ہم نکال لیں گے (ماضی بمعنی مستقبل) نزع الشیء کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں۔ یا باہر نکال لانا۔ اس کا عطف ینادیہم پر ہے ای یوم نزعنا ۔۔
شھیدا۔ شاہد۔ گواہ۔ جو ان کے متعلق شہادت دے کر وہ کیا کرتے رہے ہیں دنیا میں ۔ مراد یہاں انبیاء (علیہم السلام) ہیں جو جو اپنی اپنی امت کے کفر پر گواہی دیں گے۔
فقلنا ھاتوا برھانکم۔ فا ضمیر جمع متکلم۔ اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور مخاطبین امتیں ہیں۔ ای فقلنا لکل من تلک الامم ان امتوں میں سے ہر ایک سے ہم کہیں گے کہ لاؤ اپنی کوئی دلیل یا عذر (یعنی اپنی صفائی میں تم بھی کوئی دلیل پیش کرو) ھاتوا۔ اسم فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاجر ۔ تم لاؤ۔ تم پیش کرو۔
ان الحق للہ کے معنی دو ہوسکتے ہیں :۔ (1) ان الحق فی الا لوھیۃ للہ۔ بیشک خدائی کا حق صرف اللہ کو ہے۔
(2) بیشک سچی بات اللہ ہی کی تھی۔
ضل عنھم ماکانوا یفترون : ضل عن گم ہوجانا۔ غائب ہوجانا۔ ضائع ہوجانا ما موصولہ ہے۔ کانوا یفترون۔ وہ افترا باندھا کرتے تھے۔ وہ دروغ باقی کیا کرتے تھے۔ وہ بہتان باندھا کرتے تھے ۔ یعنی وہ من گھڑت جھوٹے سہارے جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے۔ سب ان سے غائب ہوجائیں گے۔ اور کنارہ کر جائیں گے۔ اور کوئی بھی ان کے کام نہ آئے گا۔
فبغی علیہم : البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں میانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا خواہ وہ تجاوز ہوسکے یا نہ ۔ بغی کا استعمال محمود اور مذموم ہر دو قسم کے تجاوز کے لئے ہوتا ہے ۔ لیکن قرآن مجید میں اکثر جگہ مذموم کے معنی کے لئے استعمال ہوا ہے۔
بغی علی۔ مذموم معنی میں آیا ہے کسی پر تعدی کرنا۔ کسی کے ساتھ زیادتی کرنا۔ مثلاً فان بغت احدھما علی الاخری (49:9) اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے۔ انہی معنوں میں اس کا استعمال آیت ہذا میں ہے۔ فبغی علیہم۔ یعنی قارون نے قوم موسیٰ یعنی بنی اسرائیل (جن میں سے وہ کود بھی تھا) سے تعدی اور تکبر سے پیش آتا تھا۔
الکنوز۔ کنز کی جمع ۔ خزانے۔ بکشرت جمع کیا ہوا۔ مال۔ سونا۔ چاندی۔ کنز مصدر بھی ہے کنز یکنز (ضرب) سے۔ جس کے معنی ہیں دولت جمع کرکے اسے محفوظ رکھنا۔ یہ عربی محاورہ ہے کنزت المترفی الوعاء (میں نے کھجوروں کو برتن میں بھر کر محفوظ کرلیا۔ سے مشتق ہے۔ حدیث شریف میں ہے کل مال لا یؤدی زکوتہ فھو کنز۔ جس مال کی زکوۃ نہ دی جائے وہ کنز ہے۔
ما ان مفاتحہ۔ میں ما بمعنی الذی۔ موصولہ ہے۔ مفاتحہ ان کا اسم اور لتنوء بالعصبۃ اولی القوۃ۔ خبر ہے ان کی۔ مفاتحہ مضاف مجاف الیہ ای مفاتح صنادیقہ یہ مفتح کی جمع ہے وہ آلہ جس سے صندوق کے تالے کو کھولا جائے بمعنی مفاتیح جس کی واحد مفتاح ہے یا یہ مفتح (جمع کیا ہوا خزانہ) کی جمع ہے۔
ترجمہ : کہ جس کے تالوں کی چابیاں ّاپنے بوجھ سے) ایک طاقت ود جتھے (کی کمروں) کو جھکا دیتی تھیں۔
لتنوء ب مضارع واحد مؤنث غائب۔ ناء ینوء (نصر) نوء وتنواء سے بمعنی بھاری ہونا۔ یا بوجھ کے مارے گرے جانا۔ باء تعدیہ کے لئے ہے جیسے ذھبت بہ یعنی (اپنے بوجھ سے) جھکا دینا۔ گرا دینا۔ لام تاکید کے لئے ہے۔
العصبۃ۔ جماعت۔ گروہ۔ جتھہ۔
اولی القوۃ : اولی۔ والے ۔ بحالت نصب و جر۔ اولوا بحالت رفع۔ جمع ہے اس کا واحد نہیں آتا۔ قوت والے۔ طاقت ور۔ زور آور۔ اذ قال لہ قومہ : ای اذکر اذ قال لہ قومہ۔
لا تفرح فعل نہی۔ واحد مذکر حاضر۔ تو مت خوش ہو۔ تو مت اتراء فرح (باب سمع) مصدر۔
الفرحین : فرح کی جمع ۔ حالت نصب بوجہ مفعول۔ خوش ۔ اترانے والے۔
Ayahs 28:77–78(28:77) وابتغ۔ واؤ حرف عطف۔ ابتغ کا عطف لاتفرح پر ہے ابتغ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ تو طلب کر ۔ تو جستجو کر۔ تو حاصل کرنے کی کوشش کر۔
فیما اتک اللہ۔ میں فی یا ظرفیہ ہے یا سببیہ۔ اس کو خرچ کرکے۔ ما اسم موصول۔ اتک اللہ (جملہ خبر یہ) صلہ۔ اس (مال وزر) سے جو اللہ نے تجھے دیا ہے ۔ یعنی اسے خرچ کرکے اللہ کی راہ میں۔
الدار الاخرۃ۔ موصوف و صفت۔ ابتغ کا مفعول۔ مطلب یہ ہوا کہ جو دولت اللہ نے تجھے دی ہے اس کے ذریعہ آخرت کا گھر حاصل کرنے کی کوشش کر۔
لاتنس۔ فعل نہی۔ واحد مذکر حاضر۔ نسی ینسی (سمع) نسی نسیان ونسایۃ مصدر۔ تو مت بھول۔ نہ ترک کر۔
نصیبک۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنا حصہ۔ یعنی اس خداداد مال و دولت سے تو خود بھی حدود کے اندر رہ کر اسراف سے بچ کر اپنے آرام و آسائش کے لئے خرچ کر لیکن حقوق واجب کی ادائی پر توجہ اس سرمایہ کو تو شہ آکرت بھی بنالے۔
احسن۔ فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ تو احسان کر۔ یعنی غیر کے ساتھ نیکی کر۔
لاتبغ۔ فعل نہی واحد حاضر۔ تو مت خواہش کر۔ تو مت کوشش کر یبغی بغی (باب ضرب) مصدر سے۔
قال : ای قال قارون فی جواب کلام قومہ۔ قارون نے اپنی قوم کے کلام کے جواب میں کہا۔
اوتیتہ۔ ماضی مجہول واحد متکلم ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ میں دیا گیا ہوں (مال و دولت) یعنی یہ (مال و دولت) مجھے دی گئی ہے اوتیت ایتاء (افعال) مصدر سے ہے ۔ کسی کو کوئی چیز دینا۔ اور اسی سے ہے اتنا غداء نا (18:62) ہمارا کھانا ہمیں دو ۔
علی علم۔ میں علی سببیہ ہے ای لاجل علم بہ سبب (س) علم کے۔
عندی۔ جو میرے پاس ہے۔
اولم یعلم۔ کیا وہ نہیں جانتا تھا۔ (تنبیہا فرمایا)
اکثر جمعا : ای اکثر مالا او اکثر جماعۃ وعدوا۔ مال و دولت میں زیادہ یا جتھے کے لحاظ سے بڑے۔
ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون ۔ گنہگاروں سے تو ان کے گناہوں کے متعلق دریافت نہیں کیا جائے گا۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) گنہگاروں سے اس واسطے پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ ان کے نامہ اعمال میں ہی ان کے گناہوں کی تفصیل مندرج ہوگی۔
(2) گنہگار تو اپنے چہرے سے ہی پہچان لئے جائیں گے۔ یعرف المجرمون بسیمہم (55:41)
(3) جب مجرموں کو سزا دینا ہوتی ہے تو ان سے نہیں پوچھا جاتا کہ تمہارے گناہ کیا ہیں۔ وہ تو یہی دعوی کریں گے کہ ہم نے گناہ ہیں۔
یہ ایک الگ بات ہے کہ مجرموں پر حجت قائم کرے کے لیے ان کو خود ان کے نامہ اعمال دکھائے جائیں گے۔ یا ان کے لئے اپنے اعضاء (ہاتھ پاؤں ۔ آنکھ۔ زبان ۔ کان وغیرہ) سے ہی اعتراف جرم کرایا جائے گا۔ یہ جو اور جگہ ارشاد ہے :۔ فوربک لنسئلنھم اجمعین (15:92) سو تمہارے پروردگار کی قسم ہے ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے۔ تو یہ توبیخ و تفریع کے طور پر ہوگا نہ کہ عالم الغیب کی واقفیت کے لئے۔
Ayah 28:79(28:76) فی زینتہ۔ اپنی زیب و زینت کے ساتھ ۔ اپنے پورے ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ۔ تزک و احتشام سے۔ فکرج علی تومہ فی زینتہ اس جملہ کا عطف قال (شروع آیتہ 78) پر ہے درمیانی عبارت جملہ معترضہ ہے۔
یلیت لنا۔ اے کاش ہمارے لئے بھی ہوتا (جو قارون کو دیا گیا ہے)
ذوحظ عظیم : ذو والا۔ صاھب ۔ یہ مضاف ہے اور حظ عظیم موصوف و صفت ہوکر مضاف الیہ۔ بڑے نصیب والا۔ بڑا خوش قسمت۔
Ayah 28:80(28:80) ویلکم مضاف مجاف الیہ۔ تمہاری ہلاکتر۔ بطور کلمہ حسرت و مدامت یا کلمہ زجر استعمال ہوتا ہے۔ ویل بمعنی ہلاکت۔ عذاب۔ دوزخ کی ایک وادی۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ حیف ہے تم پر۔ تم مرو۔
ثواب اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کا ثواب۔ ثواب۔ انعام۔ جزائ۔ بدلہ۔ یہاں مراد جنت بھی ہوسکتی ہے۔
لایلقھا : لایلقی۔ مضارع منفی مجہول ۔ واحد مذکر غائب۔ نہیں دیا جائے گا کوئی شخص وہ ثواب۔ یعنی نہیں دیا جائے وہ ثواب (مگر صبر کرنے والوں کو) ۔ لقی فلان الشیئ۔ کوئی چیز کسی کی طرف پھینکنا۔ تلقیۃ (تفعیل) مصدر۔ ثواب کو اس کے مفہوم (المثوبۃ او الجنۃ) کی رعایت سے مؤنث لایا گیا ہے۔
یہ یلقی کا مفعول ثانی ہے مطلب یہ کہ یہ جزاء اور کسی کو عطا نہیں کی جائے گی (بجز صبر کرنے والوں کے)