Ayah 15:41(15:41) ھذا۔ اس کا مشار الیہ اخلاص ہے۔
صراط علی مستقیم۔ صراط مستقیم موصوف صفت۔ علی بمعنی الی۔ ھذا (الاخلاص) صراط علی (ای طریق فی الوصول الی من غیر ضلال، مستقیم لا عوج فیہ اصلا (مظہری۔
یہی اخلاص (ریاء تکلف اور تصنع سے کلیۃً اجتناب) میری طرف پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے۔ اس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں ہے۔ (بحوالہ ضیاء القرآن)
تفسیر خازن میں ہے۔ قال الحسن معناہ ھذا صراط الی مستقیم یعنی میری طرف آنے کا سیدھا راستہ۔
Ayah 15:42(15:42) الغوین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر ۔ غوی واحد۔ گمراہ ۔ کج رو۔ بھٹک جانے والے۔
Ayah 15:43(15:43) موعدہم۔ مضاف مضاف الیہ موعد اسم ظرف زمان ومکان۔ ان کے وعدہ کی جگہ۔ یا وقت۔ یہاں اسم ظرف مکان ہے (جہنم) ۔
Ayahs 15:44–45(15:44) لھا۔ ھا ضمیر کا مرجع جہنم ہے۔
سبعۃ ابواب۔ دوزخ کے سات طبقے ہیں۔ ہر ایک طبقہ کا ایک ایک دروازہ ہے۔ ان سات طبقوں کے نام یہ ہیں۔ جہنم ۔ لظیٰ ۔ الحطمۃ السعیر ۔ السقر۔ الجحیم۔ الہاویہ۔
منہم میں ضمیر جمع مذکر غائب خاوین دوزخیوں کی طرف راجع ہے جن کا ذکر آیات بالا ۔ (42:43) میں اوپر آیا ہے اس صورت میں تقدیر کلام یوں ہے لکل باب جزء مقسوم منہم ہر دروازے کے لئے ان میں سے کا ایک مقسوم یعنی مخصوص حصہ یا گراہ ہوگا۔ اکثر مفسرین نے یہی صورت اختیار کی ہے۔ عبداللہ یوسف علی نے ہم کی ضمیر مرجع ابواب لیا ہے اور ترجمہ یوں کیا ہے اس جہنم کے ساتھ دروازے ہیں ان دروازوں میں سے ہر ایک دروازے کے لئے جہنمیوں کا ایک خاص ٹولہ مختص ہے۔
Ayah 15:46(15:64) ادخلوھا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب برائے جنت وعیون ہے تم سب داخل ہوجائو اس میں۔ اس سے قبل قیل لہم محذوف ہے۔ کہنے والے فرشتگان ہوں گے جو متقین کو خوش آمدید کہیں گے۔ یا یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے۔ بسلم۔ سلامتی کے ساتھ۔ سلم یسلم کا مصدر جس کے معنی ہیں عیوب و آفات سے سلامت رہنا۔ ان سے چھٹکارا پانا اور بری ہوجانا۔
امنین ۔ اسم فاعل جمع مذکر امن واحد۔ مطمئن ۔ بےخوف وخطر ۔ بےکھٹک۔ امن میں۔
Ayah 15:47(15:47) نزعنا۔ ماضی جمع متکلم۔ نزع مصدر (باب فتح) سے ہم نکال دیں گے۔ نزع الشیء کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں جیسا کہ کمان کو درمیان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جان نکالنے کو بھی نزع کہتے ہیں۔ اسی طرح محبت یا عداوت کو دل سے نکالنے کو بھی نزع کہتے ہیں۔ جیسا کہ آیت ہذا میں ہے ونزعنا ما فی صدورہم من غل۔ جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال دیں گے۔ کھینچنے اور چھیننے کے معنی میں بھی مستعمل ہے مثلاً وتنزع الملک ممن تشاء (3:36) اور تو جس سے چاہے بادشاہی چھین لے۔ اور فان تنازعتم فی شیء (4:59) اگر تم جھگڑ پرو کسی بات میں۔ یعنی تمہاری آپس میں کسی امر کے متعلق کھینچا تانی ہوجائے۔ اختلاف ہوجائے۔
غل۔ دلی کدورت ۔ قلبی عداوت۔ کینہ۔ غل یغل (باب ضرب) کسی کے متعلق دل میں کینہ رکھنا۔ غل یغل (باب نصر) الغلول خیانت کرنا ما کان للنبی ان یغل (3:161) اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر خدا خیانت کرے۔
اخوانا۔ بھائی بھائی۔ یعنی بھائیوں کی طرح۔ حال ہے ہم (فی صدورہم) سے اور بدیں وجہ منصوب ہے۔ اسی طرح علی سرر اور متقابلین بھی حال ہے یعنی وہ اس حالت میں وہاں ہوں گے۔ جیسے بھائی بھائی تختوں پر بیٹھے ہوئے اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے۔
Ayah 15:48(15:48) لا یمسہم مضارع منفی واحد مذکر غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ نہیں پہنچے گا۔ نہیں چھوئے گا ان کو۔
نصب۔ کوفت ۔ تھکن۔ مشقت۔ تکلیف۔
Ayahs 15:49–51(15:49) نبیء امر واحد مذکر حاضر۔ تنبئۃ (تفعیل) سے۔ تو آگاہ کر دے۔
Ayah 15:52(15:52) وجلون۔ صفت مشبہ۔ جمع مذکر۔ وجل واحد وجل مصدر۔ (باب سمع) خوف زدہ۔ ڈرنے والا۔ الوجل کے معنی دل ہی دل میں خوف محسوس کرنے کے ہیں۔ موجل نشیبی گڑھا۔ خوف کی جگہ۔
یہاں انا (بیشک ہم) اور وجلون جمع کے صیغے آئے ہیں۔ شاید حضرات ابراہیم (علیہ السلام) یہ خوف کی کیفیت اپنی اور اپنے اہل خانہ کی سے بتا رہے تھے۔
Ayah 15:53(15:53) لا توجل۔ ای لا تخف۔ مت ڈر۔ مت خوف کھا۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر ۔
نبشرک۔ مضارع جمع متکلم۔ بشر یبشر تبشیر ( تفعیل) ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ ہم تجھ کو خوشخبری دیتے ہیں۔
Ayah 15:54(15:54) ابشر تمونی۔ بشرتم۔ ماضی بمعنی حال جمع مذکر حاضر۔ وائو اشباع کی ہے۔ (حرف میم مضموم کی حرکت کو پوری طرح ادا کرنے کے لئے) ن وقایہ ہے اور ی ضمیر واحد متکلم ہے۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔ کیا تم مجھے بشارت دیتے ہو۔
علی ۔ یہاں بمعنی مع کے ہے (یعنی باوجودیکہ) جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے وان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمہم۔ (13:6) بیشک تیرا پروردگار صاحب مغفرت ہے لوگوں کے لئے باوجود ان کی زیادتیوں کے۔
ابشرتمونی علی ان مسنی الکبر۔ کیا تم مجھے بشارت دیتے ہو باوجودیکہ (درآں حالیکہ) مجھے بڑھاپا لاحق ہوچکا ہے۔
بم ۔ کس چیز کے ساتھ ب حرف ِجر اور ما استفہامیہ ہے۔ حرف جر کے آنے کی وجہ سے اس کے آخر سے الف حذف کردیا گیا اور فتحہ کو اپنے حال پر باقی رکھا گیا ہے تا کہ ما استفہامیہ اور ما موصولہ میں امتیاز ہو سکے۔ کیونکہ ما موصولہ میں الف کو حذف نہیں کیا جاتا۔
فبم تبشرون۔ سو تم بشارت کس چیز کی دیتے ہو۔
Ayah 15:55(15:55) القنطین ۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ القانط واحد قنوط مصدر (باب ضرب وسمع) خیر سے ناامید ہونے والے۔
Ayah 15:56(15:56) من یقنط۔ استفہام انکاری۔ کون ناامید ہوتا ہے۔ یعنی کوئی ناامید نہیں ہوتا۔ قنط یقنط۔ (باب سمع) ۔
الضالون۔ ضال کی جمع ہے ضلل سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ گمراہ بہکے ہوئے ۔
Ayah 15:57(15:57) خطبکم۔ تمہاری مہم۔ تمہارا کام۔ تمہارا معاملہ۔ المرسلون ۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ بھیجے ہوئے۔ فرستادہ۔
Ayah 15:58(15:58) ارسلنا۔ ماضی مجہول ۔ جمع متکلم۔ ہم بھیجے گئے ہیں۔ الی قوم مجرمین۔ ای لاھلاک قوم مجرمین۔ ہم مجرم قوم کی طرف (بھیجے گئے ہیں تاکہ ان کو ہلاک کردیں) ۔
Ayah 15:59(15:59) الا ال لوط۔ سوائے خاندان لوط کے۔ الا۔ حرف استثناء ال لوط مستثنیٰ ۔ اگر مستثنیٰ منہ قوم لیا جاوے تو استثناء متصل ہے کیونکہ قوم لوط میں آلِ لوط بھی شامل ہے۔ (یعنی سوائے خاندان لوط کے کہ ان کو ہلاک نہیں کیا جائے گا) ۔
انا لمنجوہم۔ انا بیشک ہم۔ لام تاکید کے لئے ہے۔
منجو اسم فاعل جمع مذکر منجی واحد اصل میں منجیون تھا۔ نون اضافت کی وجہ سے گرگیا۔ اور ی ثقل کی وجہ سے گرگئی۔ منجو مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کو بچانے والے۔ نجات دینے والے۔ مطلب یہ کہ ان کو ہم ضرور بچا لیں گے۔
Ayahs 15:60–61(15:60) الا امرأتہ۔ سوائے اس کی بیوی کے۔ اس کا مستثنیٰ منہ آل لوط (ضمیرہم) ہے یعنی خاندانِ لوط کے سارے لوگوں کو ہم بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔
قدرنا۔ ماضی جمع متکلم تقدیر (تفعیل) مصدر۔ ہم نے طے کیا ہے۔
فرشتوں کا فعل کی نسبت اپنی طرف کرنا بدیں وجہ ہوسکتا ہے کہ قرب واختصاص کے پیش نظر مصاحب اکثر مالک کے حکم کو جمع متکلم کے صیغہ سے ظاہر کرتے ہیں مثلاً بادشاہ کا سفیر جب یہ کہے کہ ہمارا یہ موقف ہے۔ تو اس کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ بادشاہ کا یہ موقف ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ طے کر رکھا ہے۔ یا اس کا مطلب ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ باامر الٰہی ہم نے طے کیا ہے۔ اور اس قسم کی مثال سورة مریم میں ہے لاھب لک غلما زکیا (19:19) تا کہ میں تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔
الغابرین۔ پیچھے رہ جانے والے۔ جس طرح قافلہ گذر جاتا ہے اور غبار پیچھے رہ جاتا ہے (حضرت لوط کو جھوٹا سمجھنے والے کافر شہر سدوم میں باقی رہے اور خدا کے نبی اپنے ساتھیوں کو (آل لوط کو) لے کر شہر سے نکل گئے۔ پیچھے رہ جانے والے مور (عذاب الٰہی ہوئے اور تباہ ہوگئے۔ حضرت لوط کی بیوی بھی ان پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی اور ان کے ساتھ ہلاک ہوگئی۔
قدرنا انھا لمن الغبرین۔ ہم نے طے کر رکھا ہے کہ وہ ضرور پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔
Ayah 15:62(15:62) منکرون۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ نا آشناء اجنبی۔ قوم منکرون ۔ اجنبی لوگ یا ایسے لوگ جن سے شرکا خوف ہو۔
Ayah 15:63(15:63) بل۔ بلکہ۔ بل یہ لفظ اضراب کے لئے آتا ہے یعنی پہلی بات کی تکذیب اور اگلی بات کی تاکید کے لئے آتا ہے۔ قالوا بل ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں (یعنی ہم اجنبی نہیں یا کسی شر سے نہیں آئے) بلکہ۔۔
یمترون۔ مضارع جمع مذکر غائب امتراء (افتعال) وہ شک کرتے ہیں وہ متردّد ہیں۔ مری مادہ ہے۔
Ayah 15:64(15:64) بالحق۔ ان کافروں کے لئے یقینی عذاب۔ اتینک بالحق۔ ہم تیرے پاس ایک اٹل حقیقت لے کر آئے ہیں۔ (یعنی ان کافروں کے لئے یقینی عذاب) ۔
Ayah 15:65(15:65) فاسر۔ امر واحد مذکر حاضر۔ اسرب تو رات کو لے کر چل۔ سری یسری (ضرب) اور اسری یسری (افعال) سریۃ وسریۃ وسرایۃ رات کو سفر کرنا۔ اور سری ب واسری ب۔ رات کو لے کر چلنا۔ فاسر باھلک سو رات کو اپنے گھروالوں کو لے چل دیں۔
بقطع من اللیل۔ رات کے کسی حصہ میں۔ رات کا آخری حصہ۔ رات کا سب سے تاریک حصہ ۔
اتبع۔ تو پیروی کر۔ تو پیچھے پیچھے چل۔ تو اتباع کر۔ امر واحد مذکر حاضر۔
ادبارہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے ادبار۔ ادبار ربر کی جمع ہے۔ ادبارہم ان کی پیٹھیں۔ ان کے پیچھے۔
لا یلتفت۔ فعل نہی واحد مذکر غائب۔ التفات (افتعال) سے لفت مادہ۔ پھیرنا۔ موڑنا۔ لا یلتفت احد کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ ثلاثی مجرد سے باب ضرب سے آتا ہے جیسے اجئتنا لتلفتنا (10:78) کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ (جس راہ پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے) ہم کو پھیر دو ۔
امضوا۔ امر۔ جمع مذکر حاضر۔ مضی یمضی (ضرب) مضی۔ مصدر ۔ تم چلے جائو۔ حیث۔ جہاں۔ جس جگہ۔
تؤ مرون۔ مضارع مجہول ، جمع مذکر حاضر۔ (جہاں کا) تمہیں حکم دیا گیا ہے۔
Ayah 15:66(15:66) قضینا۔ ماضی جمع متکلم قضاء مصدر۔ ہم نے بذریعہ وحی (اس کو) آگاہ کردیا۔
ذلک الامر۔ اس امر سے۔ ہم نے یہ فیصلہ اس کو بھیج دیا۔
القضاء کے معنی قولاً یا فعلاً کسی کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں۔ قضی الی۔ قطعی طور پر اطلاع دینا۔
دابر۔ جڑ۔ بیخ۔ بنیا۔ پچھاڑی۔ پیچھا۔ دبور سے جس کے معنی پشت پھیرنے کے ہیں۔ اس فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔
مصبحین اسم فاعل۔ صبح کرنے والے۔ صبح کرتے کرتے۔ صبح ہوتے ہی۔
ھؤلاء سے حال ہے۔
Ayah 15:67(15:67) یستبشرون۔ مضارع جمع مذکر غائب استبشار (استفعال) خوشیاں مناتے خوش خوش۔
Ayah 15:68(15:68) ضیفی۔ مضاف مضاف الیہ۔ میرے مہمان۔ ضیف اصل میں ضاف یضیف کا مصدر ہے جس کے معنی کسی شخص کے پاس مہمان بن کر آنے کے ہیں۔ پھر مہمان ہی کو یہ نام دیا گیا۔ یہ واحد۔ تثنیہ جمع کے لئے یکساں آتا ہے۔ اگرچہ کبھی اس کی جمع ضیوف اور اضیاف بھی آئی ہے۔ جیسے شعر ہے :۔
یا ضیفنا لو زرتنا لوجدتنا نحن الضیوف وانت رب المنزل
لا تفضحون۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ نون وقایہ ی ضمیر متکلم کی محذوف ہے فضح یفضح (فتح) سے تم مجھے رسوا مت کرو “ میری فضیحت مت کرو۔
Ayah 15:69(15:69) لا تخزون۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے اخزاء (افعال) مصدر۔ خزی مادّہ۔ تم مجھے رسوا مت کرو۔
Ayahs 15:70–71(15:70) اولم ننہک۔ الف استفہام انکاری کے لئے اور واو بعض کے نزدیک عبارت مقدرہ پر عطف کے لئے ہے۔ ای لم نتقدم الیک ولم ننہک عن ذلک۔ کیا ہم تمہیں پہلے نہیں کہہ چکے اور تمہیں اس سے منع نہ کرچکے۔ لم ننھک مضارع نفی حجد بلم جمع متکلم۔ نھی ینھی (فتح) سے۔ کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا تھا۔ عن العلمین۔ لوگوں سے یعنی دوسرے لوگوں کے پناہ دینے سے۔ دوسرے لوگوں کی مدافعت کرنے سے۔ ہمارے اور دوسرے لوگوں کے درمیان حائل ہونے سے۔
Ayahs 15:72–73(15:72) لعمرک۔ ل قسم کے لئے ہے۔ عمرک مضاف مضاف الیہ۔ تیری جان کی قسم۔ تیری زندگی کی قسم۔
عمرو عمر ہم معنی لفظ ہیں لیکن قسم میں یہ اکثر مفتوح استعمال ہوتا ہے کیونکہ سہل الاداء ہے۔
سکرتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی مستی۔ ان کا نشہ۔ ان کی مدہوشی۔
یعمھون۔ مضارع جمع مذکر غائب عمہ مصدر (باب فتح وسمع) سرگردانی۔ گمراہی میں حیرانی ۔ وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔
لعمرک انہم لفی سکرتہم یعمھون۔ تیری جان کی قسم یہ لوگ اپنی طاقت کے نشے میں سرگرداں مست ہیں اور بہکے بہکے پھر رہے ہیں۔
(اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے) مدارک التنزیل میں ہے کہ یہ خطاب فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) سے تھا۔ لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ خطاب حضرت رسول کریم ﷺ سے ہے۔
الصیحۃ۔ صاح یصیح (ضرب) کا مصدر ہے بمعنی آواز بلند کرنا۔ دراصل یہ صیح کے معنی آواز پھاڑنا کے ہیں اور یہ الصاح الثوب سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں کپڑا پھٹ گیا اور اس سے آواز نکلی۔ یہاں الصیحۃ بطور حاصل مصدر استعمال ہوا ہے۔ بلند آواز ۔ چیخ۔ ہولناک آواز چنگھاڑ ۔ چونکہ زور کی آواز سے آدمی گھبرا اٹھتا ہے اسلئے بمعنی گھبراہٹ اور عذاب کے بھی استعمال ہوتا ہے۔
آیۃ ہذا میں بمعنی چنگھاڑ ۔ سخت کڑک۔ ہولناک آواز ۔ آیا ہے۔
مشرقین۔ یہ اخذتہم میں ضمیر ہم کا حال ہے۔ یعنی ان کو ایک ہولناک چنگھاڑنے آلیا۔ جبکہ وہ دن میں داخل ہو ہی رہے تھے۔ یعنی جبکہ سورج نکل ہی رہا تھا۔
Ayah 15:7415:74) عالیھا۔ عالی۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ بلند۔ علو سے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع قری قوم لوط۔ قوم لوط کی بستیاں۔
سافلھا۔ سافل سفول سے اسم فاعل واحد مذکر مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ۔
فجعلنا عالیھا سافلھا۔ ہم نے ان بستیوں کو تہ و بالا کردیا۔ سجیل۔ کنکر۔ کنکریلے پتھر۔
Ayah 15:75(15:75) متوسمین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ المتوسم واحد توسم (تفعل) مصدر۔ اہل فراست۔ علامات سے اندازہ کرنے والے۔ نتیجے اخذ کرتے ہیں۔ الوسم (باب ضرب) کے معنی داغ اور نشان لگانے کے ہیں۔ اور سمۃ علامت اور نشان کو کہتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ سنسمہ علی الخرطوم۔ (68:16) ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے۔
Ayah 15:76(15:76) مقیم۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ قائم رہنے والا۔ دوامی۔ سبیل مقیم ایسا راستہ جہاں بہت آمدورفت ہو۔
انھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب قوم لوط کی بستیوں کے لئے ہے یہ سدوم اور عمورہ کے برباد شدہ شہر بحر لوط یا بحیرہ مردار کے جنوب مشرقی کنارے واقع تھے اور حجاز سے شام جاتے ہوئے یا عراق سے مصر جاتے ہوئے ان کی بربادیوں کے نشان آج بھی پائے جاتے ہیں۔
Ayahs 15:77–78(15:78) ان۔ ان کا مخفّف ہے۔ اصحب الایکۃ۔ ایکہ۔ بن۔ جنگل۔ گھنا جنگل۔ درختوں کا جھنڈ۔ جنگل کے بسنے والے یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
Ayah 15:79(15:79) انتقمنا۔ ماضی۔ جمع متکلم۔ ہم نے انتقام لیا۔ ہم نے سزا دی۔
نقم۔ (ضرب۔ سمع) من۔ سزا دینا۔ ونقم الامر علی فلان ومن فلان فلان۔ ملامت کرنا۔ عیب لگانا۔ مکروہ جاننا۔ جیسے وما نقموا منہم الا ان یؤمنوا باللہ۔ (85:8) ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے۔
انتقم۔۔ من۔ سزا دینا۔ بدلہ دینا۔ انتقام لینا۔ (افتعال) ۔
انہما۔ میں ضمیر تثنیہ مؤنث۔ قوم لوط اور اصحاب الایکہ (کی بستیوں ) کی طرف راجع ہے۔ ہر دو قوم کی بستیاں یا ہر دوقومیں امام مبین پر واقع ہے۔
امام۔ الامام اس کو کہتے ہیں کہ جس کی اقتدار کی جا وے۔ ای من یؤتم بہ (جس کا قصد کیا جاوے) چونکہ مقتدا اور رہنما کا قصد کیا جاتا ہے اسلئے اس کو امام کہتے ہیں۔ جس کی پیروی کی جائے خواہ وہ انسان ہو یا اس کا قول وفعل ہو یا کتاب ہو۔ خواہ وہ شخص جس کی پیروی کی جائے حق پر ہو یا باطل پر ہو۔ چونکہ راستہ کا بھی قصد کیا جاتا ہے اسے بھی امام کہتے ہیں اس کی جمع ائمۃ ( فعال سے افعلۃ) ہے۔
بامام مبین۔ موصوف صفت۔ کھلے راستہ پر۔ شاہراہ۔
Ayah 15:80(15:80) اصحب الحجر۔ مضاف مضاف الیہ۔ حجر والے۔ حجر کے رہنے والے ۔ تمام مفسرین کے نزدیک اور مؤرخین کے نزدیک اصحاب حجر سے مراد قوم ثمود ہے۔ لیکن مولانا سید سلیمان ندوی (رح) کی تحقیق کے مطابق یہ قوم ثمود نہیں ہے بلکہ وہ نبطی ہیں جنہوں نے حجر کو اپنا مرکز قرار دیا تھا۔ اگرچہ قوم ثمود کا دار السلطنت بھی یہی شہر تھا۔ یہ شہر اس وادی میں ہے جو حجاز اور شام کے درمیان واقع ہے۔