55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 55:35–45

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم دونوں پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا سو تم اسے ہٹا نہ سکو گے،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

تو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر جب آسمان پھٹ جائیگا سو ایسا ہوجائے گا جیسے سرخ چمڑا ہو،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:39 in the Quran reader

سو اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:40 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ Open ayah 55:41 in the Quran reader

مجرم لوگ اپنی نشانی کے ذریعے پہچانے جائیں گے۔ سو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:42 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ Open ayah 55:43 in the Quran reader

یہ جہنم ہے جسے مجرمین جھٹلاتے ہیں۔

یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ Open ayah 55:44 in the Quran reader

دوزخ کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر لگائیں گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:45 in the Quran reader

سو اے انس وجن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

قیامت کے دن کفار انس و جانّ کی پریشانی، مجرمین کی خاص نشانی، پیشانی اوراقدام پکڑ کر دوزخ میں ڈالا جانا ان آیات میں قیامت کے دن کا کچھ حال بتایا ہے اور مجرموں کا دوزخ میں داخلہ اور وہاں جو ان کی بدحالی ہوگی اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان حالات کا پیشگی اطلاع دینا بھی نعمت ہے تاکہ لوگ کفر سے اور بداعمالیوں سے بچیں اور قیامت کے دن بدحالی اور دوزخ کے داخلہ سے بچیں اس لیے ہر آیت کے ختم پر ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا۔ اول تو یہ فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو تم دونوں پر آگ کے شعلے پھینکے جائیں گے اور دھواں بھی پھینکا جائے گا یہ دھواں بھی آگ ہی سے نکلا ہوا ہوگا چونکہ اس میں روشنی نہ ہوگی اس لیے اسے نحاس یعنی دھویں سے تعبیر فرمایا، اس کے سخت گرم ہونے میں تو کوئی شک نہیں سورة المرسلات میں فرمایا ہے : ﴿اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ0030 لَّا ظَلِيْلٍ وَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ اللَّهَبِؕ0031 اِنَّهَا تَرْمِيْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ0032 كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ0033 وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 0034﴾ (چلو ایک سائبان کی طرف جس کی تین شاخیں ہیں جو سایہ والا نہیں ہے اور نہ وہ گرمی سے بچاتا ہے، بیشک وہ دوزخ بڑے بڑے انگارے پھینک رہا ہے جسے بڑے بڑے محل ہوں گویا کہ وہ کالے کالے اونٹ ہیں، اس روز جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہوگی) ۔ سورة المرسلات کی آیات میں بتادیا کہ دوزخ سے جو دھواں نکلے گا بظاہر ایک سائبان معلوم ہوگا، دنیا میں جو سائبان ہوتے ہیں وہ دھوپ اور سردی سے بچنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ لیکن وہ دھواں اگرچہ تاریک ہوگا لیکن سخت گرم ہوگا اس دھویں سے بچ نہ سکو گے نہ کوئی شخص اپنی مدد کرسکے گا نہ کسی دوسرے کی۔ پھر آسمان کے پھٹنے کا تذکرہ فرمایا کہ جب وہ پھٹ جائے گا تو رنگت کے اعتبار سے ایسا سرخ ہوجائے گا جیسے لال رنگ کا چمڑا ہوتا ہے، سورة الفرقان میں فرمایا ہے ﴿ وَ يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآء بالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا 0025﴾ (اور جس دن آسمان ایک بدلی پر سے پھٹ پڑے گا اور بکثرت فرشتے اتارے جائیں گے) یہ قیامت کا دن ہوگا جس میں اعمال کا محاسبہ ہوگا۔ پھر فرمایا اس دن کسی انسان اور جن سے اس کے جرم کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ (مجرم سے سوال کبھی تحقیق حال کے لیے ہوتا ہے کیونکہ پوچھنے والے کو پوری طرح صورت حال معلوم نہیں ہوتی اور کبھی اسے بتانے اور جتانے کے لیے ہوتا ہے کہ تم نے ایسا ایسا کیا، اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے ہر چیز کی ہمیشہ سے اسے خبر ہے، بندوں کو پیدا فرمانے سے پہلے ہی ان کے احوال سے باخبر ہے، جو بھی مجرمین قیامت کے دن حاضر ہوں گے اسے اپنے علم میں لانے کے لیے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس آیت میں اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ مجرمین سے ان کے اعمال کا سوال اس لیے نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کا جرم آجائے، سورة القصص کی آیت ﴿ وَ لَا يُسْـَٔلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ 0078﴾ میں بھی یہی بات بتائی اور دوسری قسم کا پوچھنا جو اقرار کرنے اور جتانے کے لیے ہوتا ہے قیامت کے دن اس کا وقوع ہوگا جسے سورة الاعراف کی آیت کریمہ ﴿فَلَنَسْـَٔلَنَّ۠ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَ لَنَسْـَٔلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَۙ006﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ پھر فرمایا کہ مجرموں کو ان کی علامت اور نشانیوں سے پہچانا جائے گا۔ ان نشانیوں کا تذکرہ فرماتے ہوئے سورة الاسراء میں فرمایا ہے ﴿وَ نَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا ﴾ (اور ہم قیامت کے روز ان کو اندھا اور گونگا اور بہرہ کرکے منہ کے بل چلائیں گے) اور سورة طہٰ میں فرمایا ﴿وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ زُرْقًاۚۖ00102 يَّتَخَافَتُوْنَ۠ بَيْنَهُمْ﴾ (اور ہم اس روزمجرم لوگوں کو اس حالت میں جمع کریں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی، چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے ہوں گے) کافروں کا چہروں کے بل چلنا پھر اندھا گونگا اور بہرا ہونا اور آنکھیں نیلی ہونا یہ سب ان کی پہچان کی نشانیاں ہوں گی ان کے ذریعے کافروں کو پہچان لیا جائے گا اور ان کے قدموں اور پیشانی کے بال پکڑ کر گٹھڑی سی بنا کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ جب جہنم میں ڈالے جانے لگیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے مجرمین جھٹلاتے تھے اب جب دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے تو مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کیے جائیں گے دوزخ کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر لگاتے ہوں گے۔ جہنم تو آگ ہی آگ ہے اور آگ کے علاوہ بھی اس میں طرح طرح کے عذاب ہیں انہی عذابوں میں سے ﴿ عَذَابِ الْحَمِيْمِ﴾ یعنی گرم پانی کا عذاب بھی ہے گرم پانی ان کے سروں پر بھی ڈالا جائے گا جیسا کہ سورة الحج میں فرمایا ﴿ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُۚ0019﴾ اور پینے کے لیے پانی طلب کریں گے تو گرم پانی دیا جائے گا جیسا کہ سورة الکہف میں فرمایا ﴿ وَ اِنْ يَّسْتَغِيْثُوْا۠ يُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوْهَ ﴾ (اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا، وہ چہروں کو بھون ڈالے گا) ۔ اور سورة محمد میں فرمایا ﴿ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ 0015﴾ (اور ان کو گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا) اور سورة المومن میں فرمایا ہے ﴿يُسْحَبُوْنَۙ0071 فِي الْحَمِيْمِ 1ۙ۬ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَۚ0072﴾ (وہ لوگ گرم پانی میں کھیچیڑے جائیں گے پھر انہیں آگ میں جلایا جائے گا) ۔ یہاں سورة رحمن میں فرمایا ﴿ يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَ بَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍۚ0044﴾ (وہ دوزخ کے اور سخت گرم پانی کے درمیان چکر لگائیں گے) مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ کبھی انہیں آگ میں ڈال کر عذاب دیا جائے گا اور کبھی گرم پانی کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ سورة الصافات کی آیت ﴿ ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِيْمِ 0068﴾ سے معلوم ہوتا ہے کہ گرم پانی پلانے کے لیے انہیں گرم پانی کی جگہ لے جایا جائے گا پھر واپس جحیم یعنی آگ کی جگہ واپس لوٹادیا جائے گا۔ بعض علماء نے آیت کے ظاہری الفاظ لے کر یہ کہا ہے کہ حمیم یعنی گرم پانی کی جگہ جحیم سے باہر ہوگی لیکن چونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ دخول جہنم کے بعد پھر خروج ہو اس لیے دیگر علماء نے یہ فرمایا ہے کہ گرم پانی کی جگہ بھی دوزخ ہی کی حدود میں اندر ہی ہوگی۔ گرم پانی پی کر واپس اپنے ٹھکانہ پر لائے جائیں گے جو آگ ہی میں ہوگا حدود جہنم سے باہر جانا مراد نہیں ہے واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ لفظ اٰنٍ اسم فاعل کا صیغہ ہے جو حمیم کی صفت ہے اس کا مادہ انیی ہے مفسرین نے اس کا ترجمہ بتاتے ہوئے لکھا ہے قدانتھی حرہ یعنی وہ انتہائی حرارت کو پہنچ چکا ہوگا۔
Ayahs 55:46–53

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:46 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو باغ ہیں ،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:47 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ Open ayah 55:48 in the Quran reader

یہ دونوں باغ بہت سی شاخوں والے ہوں گے،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:49 in the Quran reader

سو اے انس وجن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ Open ayah 55:50 in the Quran reader

ان دونوں باغوں میں دو چشمے جاری ہونگے،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:51 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ Open ayah 55:52 in the Quran reader

ان دونوں باغوں میں ہر میوہ کی دو دو قسمیں ہونگی،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:53 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

اہل تقویٰ کی دو جنتیں اور اس کی صفات ان آیات میں اہل جنت کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور ہر نعمت بیان کرنے کے بعد ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے کہ اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے، پہلے رکوع میں دنیاوی جنتوں کا تذکرہ فرمایا اور تیسرے رکوع میں آخرتک جنت کا تذکرہ کیا اور دوسرے رکوع میں جنات اور انسانوں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جس میں قیامت کے دن اور اس کے بعد دوزخ میں مجرمین مبتلا ہوں گے۔ مذکورہ بالا آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ جو شخص اپنے رب کے حضور میں کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغ ہوں گے، جنت خود بہت بڑا باغ ہے پھر اس باغ میں الگ الگ باغ ہوں گے جو حسب اعمال جنتیوں کو دیئے جائیں گے۔ جو حضرات گناہوں سے بچتے ہیں آخرت کے دن کے حساب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے خوشخبری ہے کہ ان میں سے ہر شخص کو دو باغ ملیں گے آخرت کا خوف انسان سے گناہوں کو چھڑا دیتا ہے اور طاعات اور عبادات پر لگائے رکھتا ہے سورة النازعات میں فرمایا : ﴿وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى ۙ0040 فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰى ؕ0041﴾ (اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہشوں سے روکا سو اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا) ۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ نے آیت کریمہ ﴿ وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ0046﴾ تلاوت کی پھر فرمایا کہ دو جنتیں سونے کی ہیں جو سابقین کے لیے ہیں اور دو جنتیں چاندی کی ہیں جو ان لوگوں کی ہوں گی جو ان کے تابع ہوں گے۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک لہ والذھبی فی التلخیص (م) ای ہو علی شرط مسلم) مذکورہ بالا دونوں جنتوں کی تین صفات بیان فرمائیں : اول یہ کہ ان میں جو درخت ہوں گے انکی شاخیں خوب زیادہ ہوں گی جو ہری بھری ہوں گی دیکھنے میں خوب اچھی اور پھیلی ہوں گی ظاہر ہے کہ جب شاخیں اور ٹہنیاں خوب زیادہ ہوں گی تو پھل بھی خوب زیادہ ہوں گے، دوسری صفت یہ بتائی کہ ان دونوں باغوں میں دو چشمے جاری ہوں گے، یہ چشمے روانی کے ساتھ بہتے ہوں گے، دیکھنے سے آنکھیں لطف اندوز ہوں گی، اہل جنت کے چشموں کا ذکر سورة الدھر اور سورة التطفیف میں بھی فرمایا ہے سورة الدھر میں ایک چشمہ کا نام سلسبیل بتایا ہے اور سورة التطفیف میں ایک چشمہ کا نام تسنیم بتایا ہے، سورة الدھر میں یہ بھی فرمایا ہے ﴿اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ005 عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَاد اللّٰهِ يُفَجِّرُوْنَهَا۠ تَفْجِيْرًا 006﴾ (جو نیک ہیں وہ ایسے جام شراب سے پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی یعنی ایسے چشمہ سے جس سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے جس کو وہ بہا کرلے جائیں گے) ۔ متقیوں کے دونوں باغوں کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ ان میں ہر میوہ کی دو دو قسمیں ہوں گی ایک قسم معروف یعنی جانی پہچانی ہوگی جسے دنیا میں دیکھا اور دوسری قسم نادر ہوگی جسے پہلے نہیں جانتے تھے، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ایک قسم رطبا یعنی تازہ اور دوسری قسم یا بس یعنی خشک ہوگی اور لذت میں دونوں برابر ہوں گی اور حضرت ابن عباس ؓ سے منقتول ہے کہ دنیا میں جتنے بھی پھل ہیں میٹھے اور کڑوے سب جنت میں موجود ہوں گے حتیٰ کہ حنظل بھی ہوگا اور جو پھل یہاں کڑوا تھا وہاں میٹھا ہوگا۔ (روح المعانی صفحہ 117: ج 27)
Ayahs 55:54–55

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ١ؕ وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ Open ayah 55:54 in the Quran reader

ان جنتوں میں رہنے والے لوگ ایسے بستروں پر تکیہ لگائے ہوئے ہونگے جن کے استر دبیز ریشم کے ہونگے اور دونوں جنتوں کے پھل قریب ہونگے،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:55 in the Quran reader

سو اے انس وجن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

متقی حضرات کے بستر : متقی حضرات کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ان کے بستروں اور بیویوں کا بھی تذکرہ فرمایا، بستروں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ ایسے بستروں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جس کا استر یعنی اندر کا کپڑا استبرق یعنی دبیز ریشم کا ہوگا، دنیا میں جو بستر بچھائے جاتے ہیں ان میں ایک استر اوپر کا اور ایک استر نیچے کا ہوتا ہے اوپر والا نقش و نگار والا خوبصورت ہوتا ہے اور نیچے والا نقش و نگار والا نہیں ہوتا قیمتاً بھی اوپر والے کی نسبت گھٹیا ہوتا ہے، آیت میں اہل جنت کے بستروں کے نیچے والے حصے کے بارے میں بتایا کہ وہ دبیز یعنی موٹے ریشم کے ہوں گے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ تمہیں جنت کے بستروں کے نیچے والے استروں کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ دبیز یعنی موٹے ریشم کے ہوں گے اسی سے سمجھ لو کہ اوپر والے استر کیسے خوش نما اور آرام دہ ہوں گے۔ (رواہ الحاکم وقال صحیح علی شرط الشیخین واقرالذھبی فی تلخیصہ) ۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ سے سوال کیا گیا کہ اندرونی بستر استبرق کے ہوں گے اوپر کے بستروں کا کیا حال ہوگا تو اس کے جواب میں سورة الم سجدہ کی یہ آیت سنادی ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ﴾ (کسی نفس کو معلوم نہیں کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپایا گیا ہے) مطلب یہ تھا کہ اس کے بارے میں دیکھے بغیر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ جنت میں دیکھ کر ہی پتہ چلے گا کہ وہ کیسے ہیں ؟ دونوں جنتوں کے پھل قریب ہوں گے : ﴿وَ جَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانٍۚ0054﴾ (اور دونوں جنتوں کے پھل قریب ہوں گے) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اولیاء اللہ جنت میں ہوں گے اگر چاہیں گے کھڑے ہو کر پھل توڑ لیں گے اور اگر چاہیں گے بیٹھے بیٹھے توڑ لیں گے اور اگر چاہیں تو لیٹے لیٹے لے لیں گے ہر حال میں درخت ان کے قریب آجائیں گے۔ (روح المعانی) قولہ جنی ھو ما یجتنی من الثمار بالالف المقصورة اصلہ یائٌ فی آخرہ، ودانٍ اسم فاعل من دنایدنو۔
Ayahs 55:56–59

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ١ۙ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:56 in the Quran reader

ان باغوں میں ایسی عورتیں ہونگی جو نیچی نگاہ رکھنے والی ہونگی، ان کو ان سے پہلے کسی انسان یا کسی جن نے استعمال نہ کیا ہوگا،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:57 in the Quran reader

سو اے انس وجن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:58 in the Quran reader

گویا کہ وہ یاقوت اور مرجان ہیں،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:59 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

اہل جنت کی بیویاں : اس کے بعد اہل جنت کی بیویوں کا تذکرہ فرمایا یہ بیویاں دنیا والی بھی ہوں گی اور وہ حورعین بھی ہوں گی جن سے وہاں نکاح کیا جائے گا، ان سب کا حسن و جمال بھی بہت زیادہ ہوگا، وہ اپنی آنکھوں کو نیچے رکھیں گی اپنے شوہروں کے علاوہ کسی کو ذرا سی نظر بھی اٹھا کر نہ دیکھیں گی۔ مزید فرمایا ﴿ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ0056﴾ ان کے جنتی شوہروں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے ان کو اپنے رجولیت والے کام میں استعمال نہیں کیا ہوگا وہ بالکل بکر یعنی کنواری ہوں گی کسی مرد نے انہیں ہاتھ نہ لگایا ہوگا اور ہر مرتبہ ان کے پاس جائیں گے تو کنواری ہی پائیں گے۔ قال صاحب الروح : واصل الطمث خروج الدم ولذلک یقال للحیض طمث ثم اطلق علی جماع الابکار لما فیہ من خروج الدم ثم عمم لکل جماع وھو المروی ھنا عن عکرمة والی الاول ذھب الکثیر، وقیل ان التعبیر بہ للاشارة الی انھن یوجدن ابکارًا کلما جو معن (صفحہ 199: ج 27) پھر ان بیویوں کا حسن و جمال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ0058﴾ (گویا کہ وہ یاقوت ہیں اور مرجان ہیں) یہ دونوں موتیوں کی قسمیں ہیں مرجان کا تذکرہ گزر چکا ہے، حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا کہ یاقوت کی صفائی اور لولو کی سفیدی سے تشبیہ دی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ چہرے کی سرخی کو یاقوت سے اور باقی جسم کو موتیوں کی سفیدی سے تشبیہ دی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہوگی ان کی صورتیں ایسی ہوں گی جیسے چودھویں رات کا چاند ہوتا ہے۔ پھر جو دوسری جماعت جنت میں داخل ہوگی ان کے چہرے ایسے روشن ہوں گے جیسے کوئی خوب روشن ستارہ آسمان میں نظر آتا ہو، ان میں سے ہر شخص کے لئے حورِعین میں سے دو بیویاں ہوں گی ان کی پنڈلیوں کے اندر کا گودہ حسن کی وجہ سے ہڈی اور گوشت کے باہر سے نظر آئے گا۔ (یہ صحیح بخاری کی روایت ہے صفحہ 461: ج 1) اور سنن ترمذی کی روایت میں یوں ہے کہ ہر بیوی پر ستر جوڑے ہوں گے اس کی پنڈلی کا گودا باہر نظر آئے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 497) حدیث بالا میں دو بیویوں کا ذکر ہے جو کم سے کم ہر شخص کو دی جائیں گی اور ان کے علاوہ جتنی زیادہ جس کو ملیں وہ مزید اللہ تعالیٰ کا کرم بالائے کرم ہوگا۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے کم درجہ کے جنتی کو اسی ہزار خادم اور بہتر (72) بیویاں دی جائیں گی۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 499 از ترمذی) ملا علی قاری (رح) مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں کہ دنیا والی عورتوں میں سے دو بیویاں اور حورعین سے ستر بیویاں ملیں گی۔ (واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب)
Ayahs 55:60–61

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ Open ayah 55:60 in the Quran reader

کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ بھی ہے،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:61 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

احسان کا بدلہ احسان : ﴿ هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ0060﴾ (کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ ہے) یعنی جس بندہ نے اچھی زندگی گزاری اچھے عمل کیے موحدر ہاشرک سے بچا ایمان لایا اعمال صالحہ میں لگا رہا اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اچھا ہی ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت نصیب فرمائے گا اور وہاں کی نعمتوں سے نوازے گا جن میں سے بعض کا تذکرہ اوپر کیا جا چکا ہے۔ حدیث شریف میں جو احسان کے بارے میں ان تعبداللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک فرمایا ہے اس کے مضمون کو بھی آیت بالا کا مضمون شامل ہے۔ (صحیح مسلم صفحہ 27: ج 1) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ احسان کیا ہے آپ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی اس طرح عبادت کرے جیسے کہ تو اسے دیکھ رہا ہو سو اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے) ۔
Ayahs 55:62–63

وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:62 in the Quran reader

اور ان دو باغوں سے کم درجے کے اور دو باغ ہیں،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:63 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

دوسرے درجہ کی جنتوں اور نعمتوں کا تذکرہ گزشتہ آیات میں دو جنتوں کا ذکر فرمایا، اب یہاں سے دوسری دو جنتوں کا ذکر شروع ہو رہا ہے، یہ دونوں جنتیں پہلی دو جنتوں سے مرتبہ اور فضیلت میں کم ہوں گی یہ جن بندوں کو دی جائیں گی وہ اپنے احوال اور اعمال کے اعتبار سے ان حضرات سے کم درجے کے ہوں گے جن کو پہلی دو جنتیں دی جائیں گی گو صفت ایمان سے سب متصف ہوں گے، آئندہ سورت واقعہ میں سابقین اولین اور اصحاب یمین جنت میں جانے والی دو جماعتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ پہلی دو جنتیں سابقین اولین کے لیے اور بعد والی دو جنتیں (جن کا یہاں ذکر ہو رہا ہے) اصحاب یمین کے لیے ہوں گی جو درجہ کے اعتبار سے سابقین اولین سے کم ہوں گے۔
Ayahs 55:64–65

مُدْهَآ مَّتٰنِۚ Open ayah 55:64 in the Quran reader

یہ دونوں باغ گہرے سبز رنگ کے ہوں گے،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:65 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

لفظ مُدْهَآمَّتٰنِكی تحقیق : مُدْهَآمَّتٰنِۚ0064 (یہ دونوں جنتیں بہت گہرے سبز رنگ والی ہوں گی) یہ کلمہ لفظ ادھیمام باب افعیلال سے اسم فاعل مونث کا تثنیہ کا صیغہ ہے جو لفظ دھمة سے مشتق ہے۔ دھمت سیاسی کو کہتے ہیں جب سبزی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے تو سیاہی کی طرف مائل ہوجاتی ہے اس لیے مُدْهَآمَّتٰنِ فرمایا جس کا ترجمہ سبز گہرے رنگ کا کیا گیا، قرآن مجید میں یہی ایک آیت ہے جو کلمہ واحدہ پر مشتمل ہے۔
Ayahs 55:66–67

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ Open ayah 55:66 in the Quran reader

ان دونوں باغوں میں خوب جوش مارتے ہوئے دو چشمے ہونگے،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:67 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

خوب جوش مارنے والے چشمے : ﴿فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ0066﴾ (ان دونوں باغوں میں خوب جوش مارتے ہوئے دو چشمے ہوں گے) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ دونوں چشمے اہل جنت پر خیر اور برکت نچھاور کرتے رہیں گے اور حضرت ابن مسعود اور حضرت انس بن مالک ؓ نے فرمایا کہ یہ چشمے اہل جنت کے گھروں میں خوشبوؤں کی چیزیں پہنچاتے رہیں گے، جیسے بارش کی چھینٹیں ہوتی ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان دو چشموں سے جوش مارتا ہوا پانی جاری ہوگا جو برابر جاری رہے گا۔ (معالم التنزیل)
Ayahs 55:68–69

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ Open ayah 55:68 in the Quran reader

ان دونوں میں میوے اور کھجوریں اور انار ہونگے،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:69 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

﴿فِيْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ0068﴾ (ان دونوں میں میوے اور کھجوریں اور انار ہوں گے) یہ سب چیزیں وہاں کی ہوں گی دنیا کی چیزوں پر قیاس نہ کیا جائے۔ بعد والی دو جنتوں کی نعمتوں کے تذکرہ میں بھی ہر آیت کے بعد ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے، مذکورہ بالا آیات میں کھانے کی چیزوں کا تذکرہ تھا ان کے بعد بیویوں کا تذکرہ ہے ان کی خوبی اور خوبصورتی بیان کرتے ہوئے بھی ہر آیت کے ختم پر ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے۔
Ayahs 55:70–73

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ Open ayah 55:70 in the Quran reader

ان باغوں میں اچھی عورتیں ہوں گی،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:71 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم رپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ Open ayah 55:72 in the Quran reader

وہ عورتیں حوریں ہونگی جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:73 in the Quran reader

سو اے انس و جن تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

جنتی بیویوں کا تذکرہ : ﴿فِيْهِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌۚ0070﴾ (ان چاروں جنتوں میں اچھی اور خوبصورت عورتیں ہوں گی) معالم التنزیل میں حضرت ابن سلمہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ﴿ خَيْرٰتٌ حِسَانٌۚ0070﴾ کا مطلب بتائیے۔ آپ نے بتایا خیرات الاخلاق حسان الوجوہ یعنی وہ اچھے اخلاق والی اور خوبصورت چہروں والی ہوں گی مزید فرمایا ﴿ حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِي الْخِيَامِۚ0072﴾ (وہ عورتیں حوریں ہوں گی جو خیموں میں محفوظ ہوں گی) یہ خوبصورت عورتیں پردوں میں چھپی ہوئی ہوں گی۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت کی عورتوں میں سے اگر کوئی عورت زمین کی طرف کو جھانک لے تو زمین و آسمان کے درمیان جتنی جگہ ہے اس سب کو روشن کر دے اور سب کو خوشبو سے بھردے، اور فرمایا کہ اس کے سرکا دوپٹہ ساری دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے ان سب سے بہتر ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 495: عن البخاری) جنت کے خیموں کے بارے میں حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں مومن کے لیے ایک ہی موتی سے بنایا ہوا خیمہ ہوگا جو اندر سے خالی ہوگا اس کی چوڑائی (اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی لمبائی) ساٹھ میل کی مسافت تک ہوگی اس کے ہر گوشے میں اس کے اہل ہوں گے جنہیں دوسرے گوشہ والے نہ دیکھ پائیں گے۔ مومن بندہ اپنے اہل کے پاس آنا جانا کرتا رہے گا۔ مومنین کے لیے دو جنتیں ایسی ہوں گی جن میں برتن اور ان کے علاوہ جو کچھ ہے سب چاندی کا ہے اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی جن کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہے اہل جنت اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف رداء الکبریا حاجب ہوگی یہ سب کچھ جنت عدن میں ہوگا۔ (رواہ البخاری و مسلم کمافی المشکوٰۃ صفحہ 495)
Ayah 55:74

لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:74 in the Quran reader

ان سے پہلے کسی انسان یا جن نے انہیں استعمال نہ کیا ہوگا،

﴿لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ0074﴾ (ان سے پہلے کسی انسان یا جن نے ان حوروں کو استعمال نہ کیا ہوگا) ۔ بیویوں کی خوبی اور ان کا حسن و جمال بیان کرنے کے بعد فرمایا ﴿ مُتَّكِـِٕيْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِيٍّ حِسَانٍۚ0076﴾ (ان جنتوں میں داخل ہونیوالے لوگ سبز رنگ کے نقش و نگار والے خوبصورت بستروں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے) لفظ عبقری کی شرح میں متعدد اقوال ہیں ایک قول کے مطابق اس کا ترجمہ نقش و نگار والا کیا گیا ہے صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو عمدہ اور بڑھیا فخر کے قابل ہو اہل عرب اسے عبقری کہتے ہیں اس اعتبار سے رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کے بارے میں فرمایا عبقریا یفری فریہ۔ تبرک اسم ربک ذی الجلال والاکرام (بڑا بابرکت ہے آپ کے رب کا نام جو عظمت اور احسان والا ہے) یہ سورة الرحمن کی آخری آیت ہے جو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اکرام کے بیان پر ختم ہو رہی ہے پہلے رکوع کے ختم پر بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ذوالجلال والا کرام بیان فرمائی ہے وہاں اس کی تفسیر لکھ دی گئی ہے۔