40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 40:38–43

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور جو شخص ایمان لایا اس نے کہا کہ اے میری قوم میرا اتباع کرو میں تمہیں ہدایت والا راستہ بتاؤں گا

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے میری قوم یہ دنیا والی زندگی تھوڑے سے نفع کی زندگی ہے اور بلاشبہ آخرت ہی رہنے کی جگہ ہے

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جس نے کوئی بھی برائی کی تو اس کا بدلہ صرف اسی قدر دیا جائے گا اور جس نے نیک عمل کیا مرد ہو یا عورت اور حال یہ ہو کہ وہ مومن ہو تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اس میں انہیں بےحساب رزق دیا جائے گا

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے میری قوم کیا بات ہے میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو،

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک بناؤں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور میں تمہیں عزیز غفار کی طرف بلاتا ہوں،

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

یہ یقینی بات ہے کہ تم مجھے جس چیز کی دعوت دیتے ہو اس کی دعوت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں اور بلاشبہ ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور بلاشبہ جو لوگ حد سے بڑھ جانے والے ہیں وہ دوزخ والے ہیں

مرد مومن کا فناء دنیا اور بقاء آخرت کی طرف متوجہ کرنا، اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا مرد مومن کا سلسلہ کلام جاری ہے درمیان میں فرعون کی اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ اس نے اپنے وزیر ہامان کو ایک اونچی عمارت بنانے کا حکم دیا اور یوں کہا کہ میں اس عمارت پر چڑھ کر موسیٰ کے معبود کا پتہ چلاؤں گا، مرد مومن نے فرعون کی بات سنی اور قوم فرعون کو مزید نصیحت کی اول تو اس نے یہ کہا کہ تم لوگ میرا اتباع کرو میں تمہیں ہدایت کا راستہ بتاؤں گا جیسے میں موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا ایسے ہی تم بھی ایمان لاؤ اور یہ دنیا جس پر تم دل دئیے پڑے ہو اور اسی کو سب کچھ سمجھ رہے اور یہ سمجھتے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے ہماری دنیا جاتی رہے گی اس کے بارے میں تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دنیا والی زندگی تھوڑی سی ہے چند روزہ ہے اس میں جو کچھ سامان ہے وہ بھی تھوڑا سا ہے اور تھوڑے دن کام آنے والا ہے اس ذرا سی دنیا کے لیے تم اپنی آخرت برباد نہ کرو، جو شخص کفر پر مرے گا اس کے لیے وہاں دائمی عذاب ہے وہاں کے عذاب کے لیے اپنی جان کو تیار کرنا ناسمجھی کی بات ہے۔ سب کو مرنا ہے میدان آخرت میں جانا ہے جو لوگ ایمان کے ساتھ پہنچیں گے وہ وہاں جنت میں جائیں گے اور جنت ایسی جگہ ہے جو دارالقرار ہے حقیقت میں وہی رہنے کی جگہ ہے۔ مرد مومن نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نیکیوں اور برائیوں کا بدلہ دے گا برائی کا بدلہ تو اتنا ہی ملے گا جس قدر برائی کی تھی اور نیک عمل کا بدلہ بہت زیادہ ملے گا کسی بھی مرد یا عورت نے بحالت ایمان کوئی بھی نیک عمل کرلیا تو اس کے لیے اللہ نے یہ صلہ رکھا ہے کہ ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے وہاں انہیں بےحساب رزق دیا جائے گا تم لوگ اسی جنت کے لیے فکر مند بنو اور ایمان قبول کرو۔ مرد مومن نے یوں بھی کہا کہ میں تمہیں ایسے کام کی طرف بلاتا ہوں جس میں آخرت کی نجات ہے اور تم مجھے اس چیز کی طرف بلاتے ہو جو دوزخ کے داخلے کا سبب ہے میں ایمان کی دعوت دیتا ہوں اور تم مجھے یہ دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک بناؤں جبکہ شرک کے جائز ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس میں (مَا لَیْسَ لِی بِہٖ عِلْمٌ) کہا اور انہیں یہ بتادیا کہ تمہارے پاس بھی شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ بات رکھی اپنے اوپر اور سمجھا دیا ان کی قوم کو خطاب کرتے ہوئے مزید کہا (وَاَنَا اَدْعُوْکُمْ اِِلَی الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ ) یعنی میں تمہیں اپنے معبود کی طرف بلاتا ہوں وہ عزیز ہے زبردست ہے بہت مغفرت کرنے والا ہے اگر کسی کو عذاب دینا چاہے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور وہ غفار بھی ہے کوئی شخص کیسے ہی گناہ کرلے وہ معاف کرنا چاہے تو اسے کوئی بھی روکنے والا نہیں لہٰذا تم کفر سے توبہ کرلو اور بخشش کے دائرہ میں آجاؤ یہ نہ سوچو کہ ہم نے جواب تک کفر و شرک کیا ہے اور اعمال بد کا ارتکاب کیا ہے اس کی معافی کیسے ہوگی۔ مرد مومن نے یہ بھی کہا کہ تم لوگ جو مجھے کفر و شرک کی طرف بلاتے ہو یہ باطل چیز ہے اور اس میں بربادی ہے یہ جو تم شرک اور کفر کی دعوت دے رہے ہو یہ محض ایک جاہلانہ بات ہے تم نے جو بت تراش رکھے ہیں یہ تو ذرا بھی نہیں سنتے ہیں نہ ہاں کرتے ہیں نہ کسی نفع اور ضرر کے مالک ہیں یہ تو دنیا میں تمہاری دعوت کی حقیقت ہے اور آخرت میں اس کا کوئی نفع پہنچنے والا نہیں ہے۔ (قال صاحب الروح فالمعنی ان ما تدعوننی الیہ من الاصنام لیس لہ استجابۃ دعوۃ لمن یدعوہ اصلا اولیس لہ دعوۃ مستجابۃ ای لا یدعی دعا یستجیبہ لداعیہ فالکلام اما علی حذف المضاف او علی حذف الموصوف) ” تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) لکھتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جن بتوں کی طرف تم مجھے بلاتے ہو انہیں جو پکارے وہ اس کی پکار کا جواب ہرگز نہیں دے سکتے یا ان کو پکارنے والے کی کوئی دعاء مقبول نہیں ہے یعنی کوئی ایسی دعاء نہیں ہے جو مانگنے والے کے لیے قبول ہو، یہاں (لَیْسَ لَہٗ دَعْوَۃٌ) میں یا تو مضاف محذوف ہے یا موصوف محذوف ہے۔ (وَاَنَّ مَرَدَّنَا اِِلَی اللّٰہِ ) مرد مومن نے مزید کہا کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے (وَاَنَّ الْمُسْرِفِینَ ھُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ ) (اور بلاشبہ حد سے آگے بڑھ جانے والے ہی دوزخی ہوں گے) اس میں ترکیب سے یہ بتادیا کہ تم لوگ مسرف ہو حد سے آگے بڑھنے والے ہو ایمان قبول کرو تاکہ آگ کے عذاب سے بچ سکو۔
Ayah 40:44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

سو تم یاد کرو گے جو میں تم سے کہتا ہوں، اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بیشک اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہے،

(فَسَتَذْکُرُوْنَ مَا اَقُوْلُ لَکُمْ ) (سو تم عنقریب جان لو گے کہ جو میں تم سے کہتا ہوں) (وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِِلَی اللّٰہِ ) (اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں) اگر تم نے مجھے تکلیف دینے کا اردہ کیا تو میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ وہ میری حفاظت فرمائے گا۔
Ayah 40:45

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

سو اللہ نے اس شخص کو ان لوگوں کی تدبیروں کی مضرتوں سے بچالیا

مرد مومن کا قوم کی شرارتوں سے محفوظ ہوجانا اور قوم فرعون کا برباد ہونا یہاں تک مرد مومن کا کلام تھا آگے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اس کی حفاظت کا اور آل فرعون کے مبتلائے عذاب ہونے کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا (فَوَقَہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوْا) (سو اللہ نے اس کو ان لوگوں کے مکر اور تدبیر کی مصیبتوں سے محفوظ فرما دیا) (وَحَاق بآلِ فِرْعَوْنَ سَؤٓءُ الْعَذَابِ ) (اور فرعون اور آل فرعون پر برا عذاب نازل ہوگیا) یہ لوگ دریا میں غرق ہوئے اور ڈوب مرے اگر (وَحَاق بآلِ فِرْعَوْنَ ) سے اسی غرق کو مراد لیا جائے تو سیاق کلام سے بعید نہیں ہے گو صاحب روح المعانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب مرد مومن کو قتل کرنے کا فرعون نے منصوبہ بنایا (جس کا مومن ہونا بعد میں ظاہر ہوگیا تھا) تو وہ ایک پہاڑ کی طرف چلے گئے ان کے پیچھے فرعون نے ہزار آدمی بھیج دئیے ان آدمیوں نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی اور ان لوگوں کو درندے کھا گئے اور ان میں سے بعض پہاڑ میں پیاسے مرگئے اور بعض لوگ فرعون کے پاس واپس آگئے اس نے ان کو یہ کہہ کر قتل کردیا کہ تم قصداً اس شخص کو لے نہیں آئے واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 40:46

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

اور آل فرعون پر برا عذاب نازل ہوا صبح شام یہ لوگ آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی حکم ہوگا کہ آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کردو۔

آخر میں فرمایا (النَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا) (یہ لوگ صبح و شام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں) آل فرعون غرق ہوگئے، مرگئے، بزرخ میں پہنچ گئے وہاں وہ صبح شام دوزخ کی آگ پر پیش کیے جاتے ہیں اس پیش کرنے میں ان کی سزا بھی ہے آگ پر پیش کیے جاتے ہیں تو اس کی لپیٹ پہنچتی ہے اور انہیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ تمہیں اسی میں داخل ہونا ہے یہ تو بزرخ کا معاملہ ہوا اور قیامت کے دن انہیں اصلی دوزخ میں داخل کیا جائے گا ارشاد فرمایا (وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوْا آلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ) (اور جس دن قیامت قائم ہوگی فرشتوں سے کہا جائے گا کہ آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔ ) عذاب قبر کا تذکرہ کافروں اور فاسقوں کے لیے عذاب قبر میں مبتلا ہونا احادیث شریفہ سے ثابت ہے حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیت کریمہ (النَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا) اور دوسری آیت (مِمَّا خَطِیْءٰتِھِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا) سے بزرخ کا عذاب ثابت ہوتا ہے حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو صبح و شام اس پر اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے اگر اہل جنت میں سے ہوتا ہے تو جنت کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اگر اہل دوزخ میں سے ہے تو دوزخ کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے ہر ایک کا ٹھکانہ پیش کرکے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا اصلی ٹھکانہ ہے جب تک کہ اللہ تجھے قیامت کے دن اس میں داخل کرنے کے لیے نہ اٹھائے۔ (اس وقت تک یہاں رہنا ہے۔ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص 25 عن صحیحین)
Ayahs 40:47–48

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جبکہ کافر لوگ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑا کریں گے سو جو لوگ کمزور تھے وہ ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے بیشک ہم تمہارے تابع تھے تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

جو لوگ بڑے تھے وہ کہیں گے بیشک ہم سب دوزخ میں ہیں بیشک اللہ نے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا

دوزخیوں کا آپس میں جھگڑنا، چھوٹوں کا بڑوں پر الزام دھرنا دوزخی لوگ آپس میں جھگڑے بازی کریں گے جو لوگ چھوٹے تھے دنیا میں خوب بڑھ چڑھ کر اپنے بڑوں کی بات مانتے تھے اور ان کے کہنے سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے اور ان کے متبعین سے لڑتے تھے اور ان کی تکذیب کرتے تھے اور دوسروں کو بھی ایمان قبول کرنے سے روکتے تھے، جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو بڑے چھوڑئے سب آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے اور دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو یہی اتباع یعنی چھوٹے لوگ جو دنیا میں سرداروں اور لیڈروں کے کہنے اور تھپکی دینے سے حق اور اہل حق سے دشمنی کرتے تھے اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم نے تمہاری بات مانی اب تم یہاں ہمیں کچھ فائدہ پہنچا دو بالکل تو دوزخ سے کیا نکلوا سکتے آگ کا تھوڑا سا عذاب ہی ہٹوا دو ، ان کے بڑے جواب میں کہیں گے کہ بلاشبہ ہمیں اور تم کو اسی میں رہنا ہے اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا ہے یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تم بھی یہیں رہو گے اور ہم بھی یہیں رہیں گے جب یہاں رہنا ہے تو یہاں کے قانون کے مطابق رہنا ہوگا (اور قانون یہ ہے کہ کوئی دوزخی کسی کی کچھ بھی مدد نہیں کرسکتا) سورة ابراہیم میں بھی یہ مضمون مذکور ہے کہ چھوٹے وہاں اپنے بڑوں سے یہ بات کہیں گے اور وہ اس کا یہ جواب دیں گے (لَوْ ھَدٰنَا اللّٰہُ لَھَدَیْنٰکُمْ ) (اگر اللہ ہم کو کوئی راہ بتاتا تو ہم بھی تم کو وہ راہ بتا دیتے) (سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ ) ہمارے حق میں برابر ہے ہم پریشانی کا اظہار کریں یا صبر کریں ہمارے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں۔ )
Ayahs 40:49–50

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور جو لوگ دوزخ میں ہوں گے وہ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ تم اپنے رب سے دعا کردو وہ ہم سے ایک دن عذاب کا کچھ حصہ ہلکا کردے

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے کیا تمہارے پاس رسول کھلے ہوئے دلائل لے کر نہیں آئے تھے، وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں آئے تو تھے پر داروغہ ہائے دوزخ جواب دیں گے کہ پھر تو تم ہی دعا کرلو اور کافروں کی دعا محض بےاثر ہے۔

دوزخیوں کا فرشتوں سے تخفیف عذاب کے لیے عرض معروض کرنا دوزخی عذاب ہلکا کروانے کے لیے دوزخ پر مقرر فرشتوں سے بھی عرض معروض کریں گے اور ان سے کہیں گے تم اپنے رب سے دعا کردو کہ وہ ایک ہی دن ہمارا عذاب ہلکا کردے وہ سوال کریں گے کہ یہاں تمہارے آنے کا جو سبب بنا ہے وہ کیا ہے ؟ تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے تمہارے پاس رسول بھیجے تھے انہوں نے ایمان کی دعوت دی تھی وہ جب تمہارے پاس آئے تم نے ان کو جھٹلایا اور ان کی بات نہ مانی بولو کیا یہ بات ٹھیک ہے ؟ اس پر وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہاں واقعی یہ بات صحیح ہے داروغہ ہائے دوزخ کہیں گے کہ ہم ایسے لوگوں کے لیے کچھ بھی سفارش نہیں کرسکتے تم ہی دعا کرلو، وہاں ان کا دعا کرنا بیکار ہوگا ان کی دعا ضائع ہوگی، کافروں کی کوئی دعا وہاں قبول نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 40:51–54

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

بلاشبہ ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا والی زندگی میں مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے،

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کام نہ دے گی اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برے گھر میں رہنا ہے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے موسیٰ کو ہدایت دی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا،

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

یہ کتاب ہدایت اور نصیحت تھی عقل والوں کے لیے،

اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولوں اور اہل ایمان سے نصرت کا وعدہ فرمانا اور ظالمین کے ملعون ہونے کا اعلان فرمانا دو آیتوں کا ترجمہ ہے ان میں دو باتیں بتائی ہیں اول یہ کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا والی زندگی میں مدد کرتے ہیں، مدد تو ہوتی ہے بعض مرتبہ دیر لگنے میں بڑی حکمتیں ہوتی ہیں انہی حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کافروں کو مہلت دی جاتی ہے جو ان کے حق میں استدراج ہوتا ہے اور اسی استدراج کی وجہ سے اور زیادہ بڑھ چڑھ کر شرارت اور بغاوت کرتے ہیں پھر دنیا میں ان سے انتقام لے لیا جاتا ہے۔ (وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) اور ہم اس دن بھی رسولوں اور ایمان والوں کی مدد کریں گے جس دن گواہ کھڑے ہوں گے یعنی فرشتے گواہی دیں گے کہ رسولوں نے تبلیغ کی اور کافروں نے جھٹلایا۔ دوسری بات یہ واضح فرمائی کہ قیامت کے دن ظالموں کو ان کی عذر خواہی نفع نہ دے گی وہ دنیا میں بھی مستحق لعنت ہیں اور آخرت میں بھی ملعون ہوں گے۔ اور جو انہیں رہنے کا گھر ملے گا وہ برا گھر ہوگا یعنی دوزخ میں جائیں گے جو آگ والا گھر ہے۔
Ayah 40:55

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

سو آپ صبر کیجیے بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہے اور اپنے گناہ کے لیے استغفار کیجیے اور صبح شام اپنے رب کی تسبیح بیان کیجیے جو حمد کے ساتھ ہو

صبر کرنے اور استغفار کرنے اور تسبیح وتحمید میں مشغول رہنے کا حکم ان آیات میں اول تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم بنی اسرائیل کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو ہدایت دی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا۔ (یہ کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کے واسطہ سے انہیں ملی تھی جو سراپا ہدایت تھی) یہ کتاب ہدایت تھی اور عقل والوں کے لیے نصیحت بھی تھی انہوں نے (قدر دانی نہ کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ایذائیں پہنچائیں اور توریت شریف پر بھی عمل نہ کیا) جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے صبر کیا آپ بھی صبر کیجیے اور اپنے گناہ کے لیے بھی استغفار کیجیے اگر صبر میں کمی آجائے تو اس کی استغفار کے ذریعہ تلافی کردیجیے کیونکہ صبر کی کمی آپ کے شان عالی کے لائق نہیں ہے اس لیے مجازاً اس کو گناہ سے تعبیر فرمایا اور استغفار سے اس کے تدارک کا حکم دیا اور صبح شام یعنی ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل میں لگے رہیے۔
Ayahs 40:56–57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اللہ کی آیت کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو ان کے سینوں میں تکبر ہی ہے وہ کبھی بھی اس تک پہنچنے والے نہیں، سو آپ اللہ سے پناہ طلب کیجیے بلاشبہ وہ سننے والا ہے دیکھنے والا ہے۔

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

البتہ آسمانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑی بات ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،

اللہ کی آیات میں جھگڑا کرنے والوں کے سینے میں کبر ہے پھر فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر کسی دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں قرآن کو نہیں مانتے اور آپ کی تکذیب کرتے ہیں ان کے سینوں میں بس تکبر گھسا ہوا ہے وہ اپنے تکبر کی وجہ سے خیال کرتے ہیں کہ ہم غالب ہوجائیں گے حالانکہ وہ غالب ہونے والے نہیں ہیں آپ اللہ کی پناہ لیجیے بلاشبہ وہ سمیع اور بصیر ہے۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہمارا مسیح یعنی دجال آخر زمانے میں نکلے گا اس کے ذریعہ ہمارا ملک واپس مل جائے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ ان کے سینوں میں تکبر نے جگہ پکڑ رکھی ہے اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم غالب ہوجائیں گے حالانکہ وہ غالب نہیں ہوسکتے ان کے لیے تو یہ فرمایا کہ وہ جس چیز کا لالچ کر رہے ہیں اس تک نہیں پہنچ سکتے اور آپ کو حکم دیا کہ آپ اللہ کی پناہ لیں اس میں دجال سے پناہ لینا بھی داخل ہے۔
Ayahs 40:58–59

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور برابر نہیں نابینا اور دیکھنے والا اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے برے لوگوں کے برابر نہیں ہیں، لوگ کم نصیحت حاصل کرتے ہیں۔

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

بلاشبہ قیامت ضرور آنے والی ہے اور لیکن بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے۔

بینا اور نابینا اور مومنین صالحین اور برے لوگ برابر نہیں ہوسکتے ان آیات میں قیامت کا آنا ثابت فرمایا ہے اور جو لوگ وقوع قیامت کو مستبعد سمجھتے تھے ان کا استبعاد دور فرمایا قیامت کا انکار کرنے والے یوں کہتے تھے کہ قبروں سے نکل کر دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے یہ ان لوگوں کی ناسمجھی اور بیوقوفی کی بات تھی اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ دیکھو یہ آسمان اور یہ زمین اتنی بڑی بڑی چیزیں ہم نے پیدا کیں ایک سمجھ دار منصف آدمی غور کرے گا اس کی سمجھ میں یہی آئے گا کہ مردہ جسم میں جان ڈالنا خالق ارض و سماء کے لیے ذرا بھی بڑی بات نہیں ہے بات تو سیدھی سادی ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ مردوں میں روح دوبارہ آسکتی ہے مزید فرمایا کہ نابینا اور دیکھنے والا برابر نہیں ہوسکتے اس کو تو سبھی سمجھتے ہیں اہل ایمان اور اعمال صالحہ والوں کے مقابلے میں بد کردار برابر نہیں ہوسکتے جب یہ بات سمجھتے ہو تو یہ بھی سمجھو کہ اچھوں کو اچھا بدلہ ملنا ہے اور بروں کو برا بدلہ ملنا ہے لہٰذا قیامت قائم ہونا ضروری ہے تاکہ ہر ایک اپنے اپنے کیے کا بدلہ پالے حقائق سامنے رکھ دئیے جاتے ہیں لیکن تم لوگ کم نصیحت حاصل کرتے ہو بلاشبہ قیامت ضرور قائم ہوگی اس کے آنے میں ذرا شک نہیں ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 40:60

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے رب نے فرمایا کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا بلاشبہ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب بحالت ذلت جہنم میں داخل ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعا کرنے کا حکم اور قبول فرمانے کا وعدہ اس آیت کریمہ میں حکم فرمایا ہے کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا یہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کا بہت بڑا انعام اور احسان ہے کہ بندوں کو اپنی ذات عالی سے مانگنے کی اجازت دے دی اور پھر قبول کرنے کا وعدہ بھی فرمالیا دعا مانگنے میں جو کیف ہے اسے وہی بندے جانتے ہیں جو دعا کے طریقہ پر دعا کرتے ہیں دعا سراپا عبادت ہے جیسا کہ آیت کے ختم پر فرمایا (اِِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ ) بیشک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں (یعنی دعا سے منہ موڑتے ہیں) وہ عنقریب ذلیل ہونے کی حالت میں جہنم میں داخل ہوں گے۔ دعاء کی ضرورت اور فضیلت حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ الدعاء مخ العبادۃ (مشکوٰۃ المصابیح ص 194) کہ دعاء عبادت کا مغز ہے چھلکے کے اندر جو اصل چیز ہوتی ہے اسے مغز کہتے ہیں اور اسی مغز کے دام ہوتے ہیں اگر بادام کو پھوڑو تو اس میں سے گری نکلتی ہے اسی گری کی اصل قیمت ہوتی ہے اگر چھلکوں کے اندر گری نہ ہو تو بادام بےدام ہوجاتے ہیں عبادتیں بہت سی ہیں اور دعا بھی ایک عبادت ہے لیکن یہ ایک بہت بڑی عبادت ہے عبادت ہی نہیں عبادت کا مغز ہے اور اصل عبادت ہے عبادت کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ کے حضور میں بندہ اپنی عاجزی اور ذلت پیش کرے اور خشوع و خضوع یعنی ظاہر اور باطن کے جھکاؤ کے ساتھ بارگاہ بےنیاز میں پوری نیاز مندی کے ساتھ حاضر ہو اور چونکہ یہ عاجزی والی حضوری دعا میں سب عبادتوں سے زیادہ پائی جاتی ہے اس لیے دعا کو عین عبادت اور عبادت کا مغز فرمایا دعا کرتے وقت بندہ اپنی عاجزی اور حاجت مندی کا اقرار کرتا ہے اور سراپا نیاز ہو کر بارگاہ خداوندی میں اپنی حاجت پیش کرکے للچاتا اور للکتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ صرف اللہ ہی دینے والا ہے وہ داتا ہے اس کے سوا کوئی دینے والا نہیں ہے وہ قادر ہے کریم ہے جتنا چاہے دے سکتا ہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے وہ بےنیاز ہے اس کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے اور مخلوق سراسر عاجز اور محتاج ہے جب اپنے اس یقین کے ساتھ قادر وقیوم کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلا کر سوال کرتا ہے تو اس کا یہ شغل سراپا عبادت بن جاتا ہے اور یہ دعا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا مندی کا سبب بن جاتی ہے اس کے برعکس جو شخص دعا سے گریز کرتا ہے وہ اپنی حاجت مندی کے اقرار کو خلاف شان سمجھتا ہے چونکہ اس کے اس طرز عمل میں تکبر ہے اور اپنی بےنیازی کا دعویٰ ہے اس لیے اللہ جل شانہٗ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ چونکہ دعا عبادت ہی عبادت ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لَیْسَ شَیٌ اَکْرَمُ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الدُّعَاءِ (مشکوٰۃ المصایح ص 194 عن الترمذی) کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے بڑھ کر کوئی چیز بزرگ و برتر نہیں ہے۔ اور آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے : مَنْ لَمْ یَسْءَلِ اللّٰہَ یَغْضَبُ عَلَیْہِ (مشکوٰۃ المصابیح 195) جو شخص اللہ سے سوال نہیں کرتا اللہ اس سے ناراض ہوجاتا ہے۔ ) انسان اپنی بھلائی اور بہتری کے لیے جتنی تدبیریں کرتا ہے اور دکھ تکلیف نقصان اور ضرر سے بچنے کے لیے جتنے طریقے سوچتا ہے ان میں سب سے زیادہ کامیاب اور آسان اور موثر طریقہ دعا کرنا ہے نہ ہاتھ پاؤں کی محنت نہ مال کا خرچہ، بس دل کو حاضر کرکے دعا کرلی جائے، غریب امیر، بیمار اور صحت مند، مسافر اور مقیم بوڑھا اور جوان مرد ہو یا عورت مجمع ہو یا تنہائی ہر شخص دعا کرسکتا ہے حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لا تعجزوا فی الدعاء فانہ لن یھلک مع الدعاء احد (الترغیب والترہیب اللحافظ المنذری) (دعا کے بارے میں عاجز نہ بنو کیونکہ دعا کے ساتھ ہوتے ہوئے ہرگز کوئی شخص ہلاک نہ ہوگا۔ ) جو لوگ دعا سے غافل ہوتے ہیں گویا اپنے کو اللہ تعالیٰ کا محتاج نہیں سمجھتے اور ان سے بڑھ کر وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خناس گھسا ہوا ہے وہ دعا کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں آیت بالا میں فرمایا کہ جو لوگ میری عبادت سے یعنی مجھ سے دعا کرنے میں اپنی ذلت محسوس کرتے ہیں اور دعا نہ کرنے میں اپنی شان سمجھتے ہیں، ایسے لوگ ذلت کی حالت میں جہنم میں داخل ہوں گے لوگوں کا یہ طریقہ رہ گیا ہے کہ دنیاوی اسباب ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اگر دعا کرتے بھی ہیں تو بس ذرا نام کو ہاتھ اٹھا لیتے ہیں نہ دل حاضر نہ آداب دعا کا خیال، ہاتھ اٹھائے اور منہ پر پھیر لیے، یہ بھی پتہ نہیں کہ زبان سے کیا کلمات نکلے اور کیا دعا مانگی، فضائل دعا کے بارے میں ہم نے مستقل کتاب لکھ دی ہے اس کا مطالعہ کرلیا جائے۔
Ayahs 40:61–65

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے رات کو پیدا فرمایا، تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو ایسی چیز بنائی جس میں دیکھتے بھالتے ہیں، بلاشبہ اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے اور لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے،

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

یہ اللہ ہے تمہارا رب ہے ہر چیز کا پیدا فرمانے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں سو تم کہاں الٹ کر جا رہے ہو،

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح الٹے چلائے جاتے ہیں وہ لوگ جو ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے ٹھہری ہوئی چیز بنا دیا اور آسمان کو چھت بنا دیا اور تمہاری صورتیں بنائیں سو تمہاری اچھی صورتیں بنا دیں اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا یہ اللہ ہے تمہارا رب ہے۔ سو بابرکت ہے اللہ جو رب العلمین ہے

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہ زندہ ہے کوئی معبود نہیں اس کے سوا تم اسے پکارو اس طرح سے کہ خالص اس کی فرمانبرداری کرنے والے ہو سب تعریف ہے اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، لیل و نہار، ارض و سماء اسی نے پیدا فرمائے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کبیرہ اور اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائیں، ارشاد فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رات دن بنائے رات میں آرام کرتے ہو سکون اور چین سے رہتے ہو اور دن کو ایسی چیز بنا دی جس میں دیکھتے بھالتے ہو آتے جاتے ہو رزق تلاش کرتے ہو، رات اور دن دونوں اس کی بڑی نعمتیں ہیں لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رب ہے وہ ہر چیز کو پیدا فرمانے والا ہے اسی کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ان باتوں کا تقاضا ہے کہ تم اسی کی طرف متوجہ ہو اسی کی عبادت کرو اس کو چھوڑ کر کدھر جا رہے ہو تمہارا کدھر کو رخ ہے معبود برحق کی طرف سے ہٹ کر تمہارا کدھر کو جانا ہے ؟ اس کے بعد یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے وہ لوگ ہٹا دئیے جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں یہ اس کی آیات کا انکار کرنا اس بات کا ذریعہ بن جاتا ہے کہ شیاطین الانس والجن ان کو حق سے ہٹا کر دوسری طرف لے جاتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی مزید چند نعمتوں کا ذکر فرمایا، اول یہ کہ اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی جس پر آرام سے رہتے سہتے ہو وہ ہلتی جلتی نہیں ہے اور اس نے آسمان کو تمہارے لیے ایک چھت بنا دیا اوپر دیکھتے ہو تو دل خوش ہوتا ہے اور فرمایا کہ اللہ نے تمہاری صورتیں بنائیں اور اچھی صورتیں بنائیں پھر مزید یہ کرم فرمایا کہ پاکیزہ عمدہ چیزیں عطاء فرمائیں جو کھانے کی چیزیں بھی ہیں اور پہننے کی بھی ہیں اور دوسرے مواقع پر بھی استعمال ہوتی ہیں جس نے تمہیں ان چیزوں سے نوازا یہ اللہ ہے تمہارا رب ہے بابرکت ہے رب العلمین ہے وہ زندہ ہے اس کی حیات ذاتی ہے حقیقی ہے ازلی و ابدی ہے ان باتوں کو سمجھو اور یقین کرو کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے لہٰذا اسی کو پکارو اسی سے مانگو اسی کی عبادت کرو اور ایسی عبادت کرو کہ عبادت اور طاعت خالص اسی کے لیے ہو آخر میں فرمایا (اَلْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ )
Ayah 40:66

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے بلاشبہ میں اس سے منع کیا گیا کہ ان کی عبادت کروں جن کی اللہ کو چھوڑ کر تم عبادت کرتے ہو جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس واضح نشانیاں آچکی ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العلمین ہی کا فرمانبردار بنوں

میں تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کرسکتا، مجھے حکم ہوا ہے کہ رب العالمین کی فرمانبرداری کروں یہ تین آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ مشرکین سے فرما دیں کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح دلائل آچکے ہیں میں تو صرف اللہ جل مجدہٗ ہی کی عبادت کروں گا تم اللہ تعالیٰ شانہٗ کو چھوڑ کر جو غیروں کی عبادت کرتے ہو میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا مجھے اس سے منع کیا گیا ہے کہ میں شرک اختیار کروں مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ رب العالمین جل مجدہٗ کی خالص فرمانبرداری کروں یہ اعلان کرکے مشرکین کو یہ بتادیا کہ تم جو یہ امید لیے بیٹھے ہو کہ میں اپنی توحید کی دعوت کو چھوڑ دوں گا یا تمہاری طرف کچھ جھک جاؤں گا یہ تمہارا جھوٹا خیال ہے۔
Ayah 40:67

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پیدا فرمایا پھر تمہیں اس حالت میں نکالتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو پھر تاکہ اپنی طاقت کو پہنچ جاؤ تاکہ تم بوڑھے ہوجاؤ اور تم میں سے بعض کو اس سے پہلے اٹھا لیتا ہے اور تاکہ تم اجل مسمیٰ کو پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سمجھ حاصل کرو،

دوسری آیت میں انسان کی تخلیق کے مختلف ادوار بتائے اول تو یہ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا یعنی انسان کی ابتدائی تخلیق مٹی سے ہے سب سے پہلے انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرما دیا اس طرح سے ان کی پوری نسل کی اصل مٹی سے ہوگئی اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بعد ان کی نسل کی پیدائش کا اللہ تعالیٰ نے یوں سلسلہ چلایا کہ ہر فرد مرد کے نطفہ سے پیدا ہوتا ہے مرد کا نطفہ عورت کے رحم میں جاتا ہے کچھ عرصے کے بعد یہ نطفہ علقہ یعنی جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر یہ جما ہوا خون چبانے کے قابل ایک گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ وہیں رحم مادر میں اس کی صورت بنا دیتا ہے اور وہیں پر ہڈیاں بنا دیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے پھر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق وہ باہر آجاتا ہے جب باہر آجاتا ہے تو اس وقت طفل ہوتا ہے اس شان طفولیت سے ہر بچہ گزرتا ہے اس تفصیل کو (ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلًا) میں بیان فرمایا ہے۔ انسان کی تخلیق اور اس کی زندگی کے مختلف اطوار و ادوار اس تفصیل اور تفسیر کو بیان کرتے ہوئے سورة الحج کے پہلے رکوع اور سورة المومنون کے پہلے رکوع کو سامنے رکھا گیا ان دونوں جگہ اجمال کی تفصیل ہے اس کے بعد زندگی کے مزید ادوار بیان فرمائے۔ اولاً فرمایا (ثُمَّ لِتَبْلُغُوْا اَشُدَّکُمْ ) ای ثم یبقیکم لتبلغوا اشدکم یعنی اللہ نے تمہیں حالت طفلی میں پیدا فرمایا پھر تم کو اتنی زندگی دی کہ طاقت کے زمانہ یعنی جوانی کے زمانہ کو پہنچ گئے جسمانی قوت بھی دی سمجھ بھی دی عقل بھی عنایت فرمائی اور قوت گویائی بھی عطا فرمائی (ثُمَّ لِتَکُوْنُوْا شُیُوخًا) پھر تمہاری جوانی آگے بڑھتی رہی بڑھاپا قریب آتا چلا گیا حتیٰ کہ تم بوڑھے ہوگئے۔ پھر یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص جوان ہو یا ہر شخص بوڑھا ہو اللہ تعالیٰ بعض کو پہلے ہی اٹھا لیتا ہے بہت سے لوگ بڑھاپا پانے سے پہلے ہی یا جوانی آنے سے پہلے ہی اس دنیا سے اٹھالیے جاتے ہیں اور موت ان کا صفایا کردیتی ہے اس کو (وَمِنْکُمْ مَنْ یُّتَوَفّٰی مِنْ قَبْلُ ) میں بیان فرمایا پھر فرمایا (وَلِتَبْلُغُوْا اَجَلًا مُسَمًّی) یعنی مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے آخر میں سب کو مقررہ اجل یعنی قیامت کے دن تک پہنچنا ہے یعنی اس دن حاضر ہونا ہے وہاں سب کی حاضری ہوگی اور جو زندگی دی گئی تھی اس میں جو اعمال کیے ان کا محاسبہ ہوگا۔ (وَلَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ) اور تاکہ تم سمجھ لو کہ مختلف ادوار سے جو گزرتے ہو یہ کیوں گزارے جا رہے ہیں اور اس میں حکمتوں اور عبرتوں کی کیا کیا باتیں ہیں۔
Ayah 40:68

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جو زندہ فرماتا ہے اور موت دیتا ہے پھر جب وہ کسی حکم کا فیصلہ فرماتا ہے تو یہی فرما دیتا ہے کہ ہوجا لہٰذا وہ ہوجاتا ہے۔

تیسری آیت میں یہ بتایا کہ اللہ ہی موت دیتا ہے اور وہی زندہ فرماتا ہے اور اس کے حکم کو کوئی روکنے والا نہیں ہے جب کسی چیز کو وجود میں لانا ہو تو اس کا کُن (ہوجا) فرما دینا ہی کافی ہے اس کا حکم ہوا اور چیز وجود میں آئی (فَاِِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ) جو فرمایا اس میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کے پیدا فرمانے میں اسباب اور آلات کا محتاج نہیں ہے کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے اس کا ارادہ ہی کافی ہے مزید توضیح کے لیے انوار البیان ص 195: ج 1 کا مطالعہ کیا جائے۔
Ayahs 40:69–77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑا کرتے ہیں کہاں الٹے پھرے جا رہے ہیں

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے اس کتاب کو جھٹلایا اور اس چیز کو جھٹلایا جس کو ہم نے رسولوں کے واسطہ سے بھیجا سو عنقریب وہ لوگ جان لیں گے

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی وہ کھچیڑے جائیں گے

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

گرم پانی میں پھر ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ وہ معبود غیر اللہ کہاں گئے جنہیں تم شریک بناتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے کہ وہ تو ہم سے غائب ہوگئے بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی چیز کی عبادت کرتے ہی نہ تھے اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کو گمراہ فرماتا ہے

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس وجہ سے تم اکڑ مکڑ کرتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

داخل ہوجاؤ، جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہو گے سو برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

سو آپ صبر کیجیے بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے سو اگر ہم آپ کو اس میں سے بعض چیزیں دکھا دیں جس کے بارے میں ہم نے انہیں پہلے سے بتادیا ہے یا ہم آپ کو وفات دے دیں تو ہماری طرف سب لوٹائے جائیں گے۔

دوزخیوں کا طوقون اور زنجیروں میں گھسیٹا جانا، دوزخ میں داخل ہونا اور ان سے یہ سوال ہونا کہ تمہارے باطل معبود کہاں ہیں اوپر چند آیات کا ترجمہ ذکر کیا گیا ہے اولاً ان لوگوں کی وعید ذکر فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑے بازی کرتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اور اللہ کے پیغام کو جھٹلاتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ عنقریب اپنی سزا کو جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی اسی حالت میں فرشتے انہیں گھسیٹتے ہوئے کھولتے ہوئے پانی میں لے جائیں گے پھر یہ لوگ آگ میں جھونک دئیے جائیں گے وہاں ان سے دریافت کیا جائے گا کہ اللہ کے سوا تم نے جو معبود بنا رکھے تھے وہ سب کہاں گئے یہ لوگ اول تو یوں کہیں گے کہ وہ سب غائب ہوگئے ہمیں ان سے کچھ نفع نہیں پہنچا پھر کہیں گے کہ ہم تو کسی کو پوجتے ہی نہ تھے صاحب روح المعانی نے اس کے دو مطلب لکھے ہیں اول یہ کہ آج ہمیں پتہ چلا کہ ہم اللہ کے سوا جن لوگوں کی پوجا کرتے تھے وہ لوگ کچھ بھی نہ تھے معلوم ہوا کہ ہم سب غلطی پر تھے ایسی چیز کی پرستش کی جو لاشئ محض تھی دوسرا مطلب یہ لکھا ہے کہ وہ لوگ وہاں غیر اللہ کی پرستش سے انکاری ہوجائیں گے اور قصداً و ارادۃً جھوٹ بولیں گے جیسا کہ سورة انعام میں ہے کہ وہ یوں کہیں گے۔ (وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ) ان لوگوں کے جواب ذکر کرنے کے بعد فرمایا (کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الْکٰفِرِیْنَ ) اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کو گمراہ کرتا ہے یہاں اس دنیا میں جس چیز کے نافع ہونے کا خیال باندھے ہوئے ہیں اور اسی خیال سے غیر اللہ کی پوجا کرتے ہیں قیامت کے دن ان معبود ان باطلہ کو لا شئ محض قرار دے دیں گے بلکہ ان کی پوجا ہی سے منکر ہوجائیں گے حیرت اور پریشانی کی وجہ سے جھوٹ پر اتر آئیں گے (ذٰلِکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ) (یہ عذاب اس لیے ہے کہ تم ناحق زمین پر اتراتے پھرتے تھے) (وَبِمَا کُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ ) (اور اس وجہ سے یہ عذاب ہے کہ تم اکڑ مکڑ کرتے تھے) دنیا میں جو نعمتیں تمہیں دی گئیں ان میں لگ کر تم منعم حقیقی سے غافل ہوگئے اور آخرت کو بھول گئے، فرح اور مرح دونوں نے تمہارا ناس کھو دیا (ادْخُلُوْا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا) (تم دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ اس میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے) (فَبِءْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ ) (سو برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا جب تمہارے سامنے حق آتا تھا توحید پیش کی جاتی تھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تمہارے پاس دعوت حق لے کر آتے تھے تو تم ان کی بات قبول کرنے میں اپنی ہیٹی سمجھتے تھے اور انسلٹ جانتے تھے آج اس تکبر کا بدلہ چکھ لو جہنم میں عذاب بھی ہے اور ذلت بھی۔ اوپر جو (یُسْحَبُوْنَ فِی الْحَمِیْمِ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَ ) فرمایا ہے اس پر بعض اہل علم نے یہ اشکال کیا ہے کہ سورة دخان کی آیت (ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَاْسِہِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِ ) سے معلوم ہوتا ہے کہ جحیم کا عذاب حمیم سے پہلے ہے حقیقت میں اس میں کوئی تعارض اور تنافی نہیں ہے کیونکہ سورة زمر کی آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ بالکل ابتداء میں داخل جحیم سے پہلے حمیم کا عذاب ہوگا دوزخ میں داخل ہونے کے بعد کبھی حمیم ہو کبھی جحیم ہو اس طرح تقدم اور تاخر ہوتا رہے اس میں کوئی اشکال کی بات نہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو صبر کی تلقین فرمائی (فَاصْبِرْ اِِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ) آپ صبر کیجیے بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے کفر پر جو کافروں کو عذاب ہوگا وہ یقینی ہے (فَاِِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ ) ہم ان سے جس عذاب کا وعدہ کر رہے ہیں اگر ہم آپ کے سامنے اس میں سے کچھ حصہ آپ کو دکھلا دیں آپ کی حیات میں اس کا نزول اور ظہور ہوجائے یا اس کے نزول سے پہلے ہی ہم آپ کو وفات دے دیں تو یہ دونوں باتیں ہوسکتی ہیں جو بھی صورت ہو بہرحال ان سب کو ہمارے ہی پاس آنا ہے لہٰذا ہم ان کو آخرت میں کفر کی سزا دے دیں گے۔