Ayah 39:35(لِیُکَفِّرَ اللّٰہُ عَنْہُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَیَجْزِیَہُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (تاکہ اللہ ان کے برے کاموں کا کفارہ کردے اور انہیں ان اعمال کا اچھے سے اچھا اجر دے جو وہ کیا کرتے تھے) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کا انعام جو پہلے ہی سے اس دنیا میں بتادیا ہے یہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر یقین رکھتے ہوئے اچھے اچھے کام کریں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے بموجب ان کے برے اعمال کا کفارہ فرما دے اور ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دیدے۔ قال صاحب الروح ای وعدھم اللّٰہ جمیع مایشآء ونہ من زوال المضار و حصول المسار لیکفر عنھم بموجب ذلک الوعد اسوأ الذی عملوا۔۔ الخ
” صاحب روح المعانی نے کہا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس سے ہر تکلیف کو دور کرنے اور ہر راحت کا حصول جسے وہ چاہتے ہیں سب کچھ کا وعدہ کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدہ کے ذریعہ ان کے برے اعمال کا بدلہ کردے۔ “
Ayah 39:36بندہ کو اللہ کافی ہے، اللہ کے سوا تکلیف کو کوئی دور نہیں کرسکتا اور اس کی رحمت کو کوئی روک نہیں سکتا
جب رسول اللہ ﷺ مشرکین کو توحید کی دعوت دیتے تھے وہ لوگ برا مانتے تھے ایک دن ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ دیکھو ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو ورنہ ہم اپنے معبودوں سے کہیں گے کہ تمہیں ایسا کردیں کہ تمہارے ہوش و حواس قائم نہ رہیں، اس پر آیت کریمہ (اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہُ ) نازل ہوئی۔
اور بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خالد بن لید ؓ کو بھیجا تھا کہ عزیٰ بت کو توڑ دیں جب یہ وہاں پہنچے تو وہاں کے بت خانہ کا جو ذمہ دار بنا ہوا تھا اس نے کہا دیکھو میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں اس بت کی طرف سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے گی۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے اس کی کوئی بات نہ مانی آگے بڑھے اور جو کلہاڑا لے کر گئے تھے وہ اس بت کی ناک پر مار کر تیا پانچا کردیا اس پر (وَیُخَوِّفُوْنَکَ بالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ) کا نزول ہوا۔ (ذکرھما فی الدر المنثور عن قتادۃ )
مشرکین خود تو اپنے معبودوں سے ڈرتے ہی ہیں مومن بندوں کو بھی ڈراتے ہیں اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا (اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہُ ) (کیا اللہ اپنے بندہ کے لیے کافی نہیں ہے) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی ہے جو ہر شر اور ضرر اور آفت و مصیبت سے بچائے گا بت تو بےجان ہے ان سے کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی جو انسان اور جن کچھ اختیار رکھتے ہیں وہ بھی کسی نفع اور ضرر کے مالک نہیں۔
(وَمَنْ یُّضْلِلْ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ھَادٍ ) (اور اللہ جسے گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا ہے ؟ )
Ayah 39:37(وَمَنْ یَّہْدِی اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّضِلٍّ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِعَزِیْزٍ ذِیْ انْتِقَامٍ ) (اور جسے اللہ ہدایت دیدے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ عزت والا بدلہ لینے والا نہیں ہے ؟ ) جو لوگ بت پرست ہیں وہ اپنے معبودوں کے ضرر پہنچانے سے ڈرتے ہیں اللہ کے قادر اور کافی اور عزیز (غالب) ہونے اور انتقام لینے کی قدرت ہونے پر ان کی نظر نہیں، جو باطل نے خود تجویز کر رکھے ہیں اپنی گمراہی سے ان میں نفع و ضرور سمجھتے ہیں اور ان سے خود بھی ڈرتے ہیں اور دوسروں کو بھی ڈراتے ہیں۔
Ayah 39:38اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیے کہ یہ بتاؤ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ اس سوال کا جواب ان کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے جب وہ جواب دے دیں (زبان حال سے یا قال سے) تو آپ ان سے فرمائیں کہ اب یہ بتاؤ کہ تم نے جو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں کیا انہیں ایسی قدرت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ضرر پہنچانا چاہے تو یہ اسے دور کردیں یا اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر رحمت فرمانا چاہے تو یہ اس کی رحمت کو روک دیں، اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دکھ تکلیف کو اس کے سواء کوئی دور نہیں کرسکتا اور اس کی رحمت کو کوئی نہیں روک سکتا، جب یہ بات ہے تو تمہارے معبودوں سے میں کیوں ڈروں ؟ مجھے صرف اللہ کافی ہے صحیح معنی میں توکل کرنے والے صرف اسی پر توکل کرتے ہیں اور میرا بھی اسی پر توکل ہے۔
Ayahs 39:39–40(قُلْ یَاقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ ) (آپ فرما دیجیے کہ تم اپنی جگہ پر عمل کیے جاؤ میں اپنے طور پر عمل کر رہا ہوں۔ ) تم اپنا مشرکانہ طرز عمل نہیں چھوڑتے اور مجھے تو اپنا دین بہرحال چھوڑنا ہی نہیں ہے۔ تم جو مجھے غلطی پر سمجھ رہے ہو تو تمہیں جلدی معلوم ہوجائے گا کہ وہ کون ہے جس پر عذاب آنے والا ہے جو اسے رسوا کردے گا اور جس پر ایسا عذاب نازل ہوگا جو دائمی ہوگا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے مشرکین کا بدر میں مقتول ہونا مراد ہے، بدر کے مقتولین نے دنیا میں بھی سزا پائی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی ان کے لیے دائمی عذاب ہے اور ہر کافر کے لیے عذاب دائمی ہی ہے۔
قال صاحب الروح فان الاول اشارۃ العذاب الدنیوی وقدرنا لھم یوم بدر والثانی اشارۃ الی العذاب الأخروی فان العذاب المقیم عذاب النار
” صاحب روح المعانی ؓ فرماتے ہیں پہلے عذاب سے دنیوی عذاب کی طرف اشارہ ہے جو ہم نے ان کے لیے بدر کے دن میں مقرر کیا تھا اور دوسرے عذاب سے مراد آخرت کا عذاب ہے کیونکہ عذاب مقیم جہنم ہی کا عذاب ہے۔ “
Ayah 39:41آخر میں فرمایا (اِِنَّا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ للنَّاس بالْحَقِّ ) (بےشک ہم نے آپ پر لوگوں کے لیے حق کے ساتھ کتاب نازل کی) (فَمَنْ اھْتَدَی فَلِنَفْسِہٖ ) (سو جو ہدایت پر آجائے یہ اس کی اپنی جان کے لیے ہے) (وَمَنْ ضَلَّ فَاِِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَا) (اور جو شخص گمراہی اختیار کرے سو وہ اسے اپنی جان کو ضرر پہنچانے کے لیے اختیار کرتا ہے) (وَمَا اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکِیلٍ ) (اور آپ ان پر مسلط بنا کر نہیں بھیجے گئے) اس میں آپ کو تسلی دی ہے مطلب یہ ہے کہ آپ کے ذمہ یہ نہیں کیا گیا کہ لوگوں کو زبردستی دین پر لائیں اور اپنی بات منوائیں آپ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے۔ عمل کرنا نہ کرنا ان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ آپ ان کی وجہ سے غمگین نہ ہوں۔
Ayah 39:42اللہ تعالیٰ جانوں کو قبض فرماتا ہے، سفارش کے بارے میں صرف اسی کو ختیار ہے، مشرکین کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل منقبض ہوتے ہیں
یہ تین آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں اللہ جل شانہٗ نے اپنے ان تصرفات کا تذکرہ فرمایا جو انسانوں کی جانوں سے متعلق ہیں، ارشاد فرمایا کہ انسانوں کی جانوں کو اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت قبض فرما لیتا ہے اور یہ قبض کامل ہوتا ہے اس کے بعد جسم انسانی میں کوئی حس و حرکت باقی نہیں رہتی، اور جب بنی آدم سو جاتے ہیں تو اس وقت بھی اللہ ان کی جانوں کو قبض فرما لیتا ہے لیکن چونکہ قبض کامل نہیں ہوتا روح باقی رہتی ہے (اگرچہ افعال و حرکات پر ارواح کا قبضہ نہیں رہتا) اس لیے ان کی موت کا مقررہ وقت آنے تک سونے والوں کی جانوں کو اللہ تعالیٰ چھوڑ دیتا ہے یعنی جو ہوش گوش اور حس و حرکت اور اختیار والی زندگی عارضی طور پر جاچکی تھی اسے واپس لوٹا دیتا ہے، ان تصرفات میں اللہ بالکل مختار مطلق ہے کسی کو اس میں کوئی دخل نہیں دیکھنے والے دیکھتے ہیں اور روزانہ اس کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے، اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں انسان کو ہر سونے اور جاگنے کے وقت سوچنا چاہیے کہ میں ایسا ضعیف ہوں کہ سونے جاگنے تک پر مجھے قدرت نہیں اگر انسان اپنی عاجزی پر غور کرے تو سمجھ میں آجائے گا کہ واقعی مجھے جس نے پیدا فرمایا ہے میں صرف اسی کا بندہ ہوں۔
Ayah 39:43دوسری آیت میں مشرکین کی اس بےوقوفی کو بیان فرمایا کہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود تجویز کر رکھے ہیں ان شرکاء کو شُفَعَاءَ سے تعبیر فرمایا کیونکہ مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ جن کو ہم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا ہے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور میں شفاعت کرکے ہماری بخشش کرا دیں گے پہلے تو غیر اللہ کو معبود بنانے کی نکیر فرمائی پھر فرمایا کہ جن کو تم نے سفارشی سمجھا ہے انہیں تو کچھ بھی قدرت نہیں اور کچھ بھی سمجھ نہیں یہ تو پتھر کی مورتیاں ہیں نہ انہیں کچھ قدرت ہے، نہ کسی بات کا علم ہے یہ کیا جانیں کہ سفارش کیا ہوتی ہے اور یہ کہ سفارش کس کی کی جائے اور کس سے سفارش کی جائے جب ان کی عجز اور جہل کا یہ حال ہے تو کیا سفارش کرسکتے ہیں ؟
Ayahs 39:44–45یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سفارش کے بارے میں ہر طرح کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے وہ جسے چاہے گا اور جس کے لیے چاہے گا سفارش کرنے کی اجازت دے گا، اس کے یہاں مشرک اور کافر کی بخشش نہیں۔ اس لیے جو بندے اس کے نزدیک شفاعت کرنے کے اہل ہیں انبیاء کرام اور ملائکہ عظام انہیں کافروں اور مشرکوں کی سفارش کرنے کی اجازت نہ دی جائے گی لہٰذا شرک و کفر میں مبتلا رہنا اور اپنے معبودوں کی سفارش کا بخشش کے لیے سہارا لینا یہ سراپا جہالت اور حماقت اور گمراہی ہے، اس بیان سے مشرکین کے اس سوال کا جواب بھی واضح ہوگیا ہے کہ ہم نے تو فرشتوں کو اور بعض پیغمبروں کو بھی الوہیت میں شریک کر رکھا ہے وہ تو شفاعت کے اہل ہیں اوپر کے بیان میں واضح ہوگیا کہ جس کی بخشش نہیں اس کے لیے نہ کوئی سفارش کرے گا نہ اس کے لیے سفارش کی اجازت دی جائے گی اور بلا اجازت کسی کو سفارش کا اختیار نہیں سورة بقرہ میں فرمایا (مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ) (کون ہے جو اس کی بارگاہ میں سفارش کرے مگر اس کی اجازت سے) اور سورة طٰہٰ میں فرمایا (یَوْمَءِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَہٗ قَوْلًا) (اس روز سفارش نفع نہ دے گی مگر ایسے شخص کو جس کے واسطے اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی ہو اور اس شخص کے واسطے بولنا پسند کرلیا ہو) اور سورة الانبیاء میں فرشتوں کے بارے میں فرمایا (وَلَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی) (اور وہ بجز اس کے جس کے لیے اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو اور کسی کی سفارش نہیں کرسکتے) مزید فرمایا (لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) (اسی کے لیے ملک ہے آسمانوں کا اور زمین کا) (ثُمَّ اِِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) اس میں یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ ہی مالک الملک ہے دنیا و آخرت سب اسی کی مملوک ہیں اور ہر طرح کا پورا اختیار اور اقتدار اسی کا ہے۔ تیسری آیت میں مشرکین کا مزاج بتایا اور وہ یہ کہ شرک ان کے دلوں میں اس درجہ گھر کرگیا ہے اور انہیں توحید اس قدر ناگوار ہے کہ جب ان کے سامنے صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے جس میں لا الہ الا اللّٰہ کی دعوت بھی ہے تو ان لوگوں کے دل منقبض ہوتے ہیں جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے انہیں یہ بات ناگوار معلوم ہوتی ہے کہ ہمارے تجویز کردہ شرکاء کے بغیر اللہ کا نام کیوں لیا گیا، اور ان لوگوں نے اللہ کے سواء جو دوسرے معبود تجویز کر رکھے ہیں جب ان کا تنہا ذکر ہوتا ہے تو اس سے خوش ہوتے ہیں اللہ کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں یوں نہیں کہتے کہ اللہ کا ذکر کیے بغیر ان کو کیوں یاد کیا گیا ان کے دلوں میں اس درجہ شرک رچ بس گیا ہے کہ تنہا اللہ کا ذکر ہو تو انہیں بہت ناگواری ہوتی ہے اور جو باطل معبود انہوں نے تجویز کر رکھے ہیں ان کا ذکر ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ ہو تو اس وقت ان کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی (قال صاحب الروح فان الا ستبشار أن یمتلی القلب سرورا حتی ینبسط لہ بشرۃ الوجہ، والا شمئزاز أن یمتلی غیظا وغما ینقبض عنہ ادیم الوجہ کما یشاھد فی وجہ العابس المحزون)
” تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں استبشار یہ ہے کہ دل خوشی سے بھر جائے یہاں تک کہ دل کی اس خوشی سے چہرہ پر خوشگوار اثرات ظاہر ہوجائیں اور اشمئزاز یہ ہے کہ دل غصہ اور غم سے بھر جائے جس سے چہرہ منقبض ہوجائے جیسا کہ غمگین غصہ کرنے والے کے چہرے پر دیکھا جاتا ہے۔ “
یہی حال ان مبتدعین و مشرکین کا ہے جو مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے ذکر کی اور اتباع سنت کی تلقین کی جاتی ہے تو انہیں اچھی نہیں لگتی بدعتوں کا بیان کیا جائے اور پیروں فقیروں کی جھوٹی کرامات اور خود تراشیدہ قصے بیان کیے جائیں تو اس سے خوش ہوتے ہیں راتوں رات قوالی سنتے ہیں، ہارمونیم اور طبلہ کی آواز پر انہیں وجد آتا ہے اور اسی رات کے اختتام پر جب فجر کی اذان ہوتی ہے تو مسجد کا رخ کرنے کی بجائے بستروں کی طرف رخ کرتے ہیں اور گھروں میں جا کر سو جاتے ہیں۔
قال صاحب الروح وقد رأینا کثیراً من الناس علی نحو ھذہ الصفۃ التی وصف اللّٰہ تعالیٰ بھا المشرکین یھشون لذکر اموات یستغیثون بھم ویطلبون منھم ویطربون من سماع حکایات کاذبۃ عنھم توافق ھوا ھم واعتقادھم فیھم ویعظمون من یحکی لھم ذلک وینقبضون من ذکر اللّٰہ تعالیٰ وحدہ، (الی أن قال) وقد قلت یوما لرجال یستغیث فی شدۃ ببعض الاموات وینادی یا فلان اغثنی فقلت لہ قل باللّٰہ فقد قال سبحانہ ” واذا سالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان “ فغضب وبلغنی انہ قال فلان منکر علی الاولیاء وسعمت عن بعضھم انہ قال الولی اسرع اجابۃ من اللّٰہ عزوجل وھذا من الکفر بمکان نسأل اللّٰہ تعالیٰ أن یعصمنا من الزیغ والطغیان (ص 11: ج 24)
” تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے بہت سارے لوگوں کو ایسی ہی حالت پر دیکھا جو حالت اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی بیان فرمائی ہے کہ وہ فوت شدہ لوگوں کے ذکر پر خوش ہوتے ہیں ان سے مدد مانگتے ہیں ان سے سوال کرتے ہیں اور ان کے بارے میں اپنی خواہشات نفس اور اپنے اعتقاد کے موافق جھوٹے قصے سن کر خوش ہوتے ہیں جو لوگ اسی طرح کی قصہ خوانی کرتے ہیں یہ ان کو عزت و احترام دیتے ہیں اور اکیلے اللہ کے ذکر سے منہ بناتے ہیں مصنف (رح) نے یہ بھی فرمایا کہ ایک آدمی جو مصیبت میں بعض مردوں سے مدد مانگتا تھا اور ” اغثنی یا فلان “ کہہ کر پکارتا تھا ایک دن میں نے اس سے کہا یا اللہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” جب میرا کوئی بندہ مجھ سے سوال کرے تو میں قریب ہوں جب مجھے کوئی پکارے تو میں اس کی پکار سنتا ہوں “ تو وہ آدمی غضبناک ہوگیا اور مجھے یہ بات پہنچی کہ اس نے کہا فلاں آدمی اولیاء پر نکیر کرتا ہے بعض لوگوں سے میں نے سنا کہ وہ کہتے ہیں اللہ کی نسبت ولی جلدی دعاء قبول کرتا ہے یہ کفر ہے اور ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں گمراہی و سرکشی سے محفوظ رکھے۔ “
Ayahs 39:46–48رسول اللہ ﷺ کو ایک خاص دعا کی تلقین، انسان کی بدخلقی اور بدحالی کا تذکرہ
یہ سات آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو تلقین فرمائی کہ آپ یوں دعا کریں :
(اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ) (اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے غیب اور شہادۃ کے جاننے والے آپ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے ان باتوں کے بارے میں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں) رسول اللہ ﷺ کے مخاطبین جو رویہ اختیار کرتے، تکلیف پہنچاتے، اور تکذیب کرتے تھے اس سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی، تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ دعا سکھائی آپ کے توسط سے امت کو بھی یہ دعا معلوم ہوگئی جس کسی کو دین کے دشمنوں سے تکلیف پہنچے یہ دعا پڑھے اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ ہے اسے سب کا حال معلوم ہے وہ اپنے علم کے مطابق جزا و سزا دے گا اور لوگوں میں جو اختلاف ہے حق بات نہیں مانتے اور باطل ہی کو حق سمجھتے ہیں اس بات کا آخرت کے دن فیصلہ ہوجائے گا اہل کفر دوزخ میں اور اہل ایمان جنت میں چلے جائیں گے۔
دوسری آیت میں اہل کفر کی قیامت کے دن کی بدحالی بیان فرمائی اور فرمایا کہ زمین میں جو کچھ ہے اگر کسی کافر کے پاس یہ سب کچھ ہوا اور اس کے علاوہ اور بھی اسی قدر ہو تو قیامت کے دن کے عذب سے بچنے کے لیے اس سب کو جان کے بدلہ دینے کو تیار ہوجائے گا اس سے ان کی بدحالی معلوم ہوگئی نہ وہاں کسی کے پاس کچھ ہوگا نہ جان کا بدلہ قبول ہوگا (وَّلَا یُقْبَلُ مِنْھَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُھَا شَفَاعَۃٌ وَّلَا ھُمْ یُنْصَرُوْن) (نہ کسی کی طرف سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ کسی کو کوئی سفارش مفید ہوگی اور نہ ان لوگوں کی مدد کی جائے گی۔ )
یہ لوگ جب دنیا میں تھے تو قیامت قائم ہونے ہی کے منکر تھے دوزخ پر اجمالی ایمان لانے کو تیار نہ تھے وہاں کی عقوبات اور سزاؤں کی تفصیل کو کیا جانتے اب جب وہاں طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہوں گے تو عذاب کی وہ چیزیں ان کے سامنے آجائیں گی جن کا انہیں خیال بھی نہ تھا لہٰذا جان کا فدیہ دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے لیکن وہاں کچھ پاس نہ ہوگا اور اگر بالفرض کچھ پاس ہو تو قبول نہ ہوگا۔
تیسری آیت میں یہ فرمایا کہ دنیا میں جو انہوں نے برے عمل کیے وہ وہاں ظاہر ہوجائیں گے اور جس چیز کا مذاق اڑایا کرتے تھے یعنی عذاب جہنم وہ ان کو وہاں گھیر لے گا۔
چوتھی آیت میں انسان کا مزاج بیان فرمایا اور وہ یہ کہ اسے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہربانی ہوجاتی ہے اور نعمت نصیب ہوجاتی ہے تو یوں نہیں کہتا کہ یہ نعمت مجھے اللہ نے دی ہے بلکہ اس میں بھی اپنا کمال ظاہر کرتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ میں نے اپنے علم کو استعمال کیا اپنے ہنر کو کام میں لایا تدبیریں سوچیں مال۔۔ گر سیکھئے یہ نعمت مجھے اسی کے ذریعہ ملی ہے۔
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ارشاد فرمایا (بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ) یہ بات نہیں ہے کہ یہ مال اسے اس کے علم اور ہنر سے ملا یہ مال اللہ نے دیا ہے جب اس کے پاس مال نہیں تھا اس وقت بھی تو علم اور ہنر والا تھا اس وقت کیوں مال حاصل نہیں کرسکا یہ مال جو ہم نے دیا ہے یہ فتنہ ہے یعنی امتحان ہے کہ مال ملنے پر شکر گزار ہوتا ہے یا ناشکری اختیار کرتا ہے لیکن ان میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو نہیں پہچانتے، شکر کی ضرورت نہیں سمجھتے، ناشکری پر ہی جمے رہتے ہیں اور امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 39:49–52قولہ تعالیٰ (اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلٰمٍ بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ) ذکرا لضمیر الاول لان النعمۃ بمعنی الانعام۔۔ المراد بھا المال وأنت الضمیر الثانی لرجوعھا الی النعمۃ واختیر لفظھا کما ختیر فی الال المعنی۔۔ )
اللہ تعالیٰ کا ارشاد (اِنَّمَآ اُوتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلٰمٍ بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ) اس میں پہلی ضمیر کو مذکر اس لیے لایا گیا ہے انعام کے معنی میں ہے اور بعض نے کہا اس لیے کہ یہاں نعمۃ سے مراد مال ہے اور دوسری ضمیر کو اس لیے مونث لایا نعمۃ کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہاں نعمۃ کا لفظ مراد ہے جیسا کہ پہلی ضمیر لوٹانے کے وقت نعمۃ کا معنی مراد لیا گیا ہے۔
پانچویں آیت میں یہ بیان فرمایا کہ یہ جملہ ایسے شخص نے کہا ہے جسے مال دے کر نوازا گیا اس سے پہلے بھی لوگ اس طرح کہتے رہے ہیں اور اسے زبان پر لاتے رہے ہیں وہ سمجھتے تھے کہ ہمارا یہ مال ہمیں فائدہ پہنچا دے گا لیکن یہ مال نہ دنیا کے عذاب سے بچا سکا اور نہ انہیں آخرت کے عذاب میں اس سے کوئی فائدہ پہنچے گا۔
چھٹی آیت میں فرمایا ان لوگوں نے جو برے اعمال کیے انہیں کا بدلہ مل گیا اور جو موجودہ لوگ ہیں ان میں جو ظالم ہیں وہ بھی عنقریب اپنے اعمال کا بدلہ پالیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی چناچہ بدر میں سرداران قریش میں سے ستر آدمی مقتول ہوئے اور ستر قیدی ہوئے اور جو زندہ بچ گئے تھے بڑی ذلت اور رسوائی کے ساتھ واپس ہوئے، ساتھ ہی (وَمَا ھُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ) بھی فرمایا یعنی ہم جن لوگوں کو عذاب دینا چاہیں عذاب دے دیں گے ایسا نہیں ہے کہ مشرکین کافرین میں سے کوئی شخص کہیں بھاگ کر چلا جائے اور ہمارے قبضہ قدرت سے نکل جائے۔
ساتویں آیت میں فرمایا کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے یہ سب اس کی مشیت اور حکمت پر مبنی ہے ہنر مند کو بھی دیتا ہے اور بےہنر کو بھی، علم والے تنگی اٹھاتے ہیں اور جاہل جٹ سیٹھ جی بنے رہتے ہیں جس کے پاس جو کچھ ہے اللہ کے فضل سے ہے اس میں اپنے کسب اور ہنر کا دخل نہ جانیں۔
بناداناں چناں روزی رساند
کہ دانا اندراں حیراں بماند
Ayah 39:53اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ کا اعلان، انابت الی اللہ کا حکم، مکذبین اور متکبرین کی بدحالی
اللہ تعالیٰ حکیم ہے، سمیع ہے، بصیر ہے، علیم ہے، خبیر ہے، قہار ہے، غفار ہے، وہ گناہوں پر مواخذہ بھی فرماتا ہے اور معاف بھی فرما دیتا ہے اس کی مغفرت بہت بڑی ہے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی شان غفاریت کا عام اعلان کیا اور فرمایا۔
(قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ) (آپ میرے ان بندوں سے فرما دیجیے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں) کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میں تو بہت بڑا گنہگار ہوں میری بخشش کیسے ہوگی جتنا بڑا بھی جو شخص گنہگار ہو اللہ تعالیٰ مغفرت فرما دے گا۔ حضرت علی ؓ نے ارشاد فرمایا کہ قرآن کریم میں آیت شریفہ (قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِہِمْ ) سے بڑھ کر کوئی دوسری آیت نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کا اعلان ہو۔ (روح المعانی)
البتہ کافر اور مشرک کی مغفرت ہونے کے لیے اسلام قبول کرنا شرط ہے کفر پر برقرار رہتے ہوئے معافی اور مغفرت نہیں ہوسکتی جیسا کہ سورة النساء میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَمَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا) (بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں جس کے لیے منظور ہوگا اس کے گناہ بخش دیں گے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے وہ بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا) اور سورة آل عمران میں فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ ھُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْ ءُ الْاَرْضِ ذَھَبً وَّلَوِ افْتَدٰی بِہٖ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْن) (بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور وہ مرگئے حالت کفر ہی میں سو ان میں سے کسی کا زمین بھر سونا قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ معاوضہ میں اس کو دینا بھی چاہے ان لوگوں کو درد ناک سزا ہوگی اور ان کے حامی بھی نہ ہوں گے) کوئی کتنا ہی بڑا کافر و مشرک ہو اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کا دروازہ کھلا ہوا ہے بشرطیکہ توبہ کرلے یعنی اسلام قبول کرلے۔ مشرکین میں سے بہت سے لوگوں نے بہت سارے قتل کیے تھے اور اس میں بہت زیادہ آگے بڑھ گئے تھے اور ان میں سے بہت سے لوگوں سے زنا بھی کثرت سے صادر ہوا تھا یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ آپ جس چیز کی دعوت دیتے ہیں وہ تو اچھی چیز ہے لیکن ہمیں یہ تو بتائیے کہ ہم نے جو بڑے بڑے گناہ کیے ہیں کیا ان کا کفارہ ہوسکتا ہے اس پر سورة فرقان کی آیت کریمہ (وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰہًا آخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِِلَّا بالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ ) اور سورة زمر کی آیت (یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ) نازل ہوئی۔ (صحیح البخاری ص 710: ج 2)
جب کسی شخص نے اسلام قبول کرلیا کفر و شرک سے توبہ کرلی تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہوگئے البتہ حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر کرے اور جو شخص پہلے سے مسلمان ہے وہ کتنے ہی گناہ کرلے جب توبہ کرلے گا اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہ معاف کردے گا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں البتہ حقوق العباد کی تلافی کریں یہ بھی توبہ کا جز ہے اگر توبہ سچی ہو اور صحیح ہو تو ضرور قبول ہوتی ہے۔ حضرت اسماء بنت یزید ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت شریفہ (قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا) کی تلاوت کی پھر فرمایا ولا بالی کہ اللہ تعالیٰ کچھ پرواہ نہیں کرتا (وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس بڑے گناہ کو بخش دے اور جتنے بڑے گنہگار کو بخش دے اس کے لیے کچھ بھاری نہیں ہے اور اس کے کرم اور فضل اور رحمت اور مغفرت سے اسے کوئی روکنے والا نہیں) صحیح طریقہ یہی ہے کہ برابر توبہ کرتے رہیں اگر توبہ ٹوٹ جائے پھر کرلیں توبہ ٹوٹتی رہے، بار بار کرتے رہیں۔ سورة زمر کی مذکورہ بالا آیت بندوں کے لیے بہت بڑی ڈھارس ہے اور اس میں بندوں کو حکم دیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کروڑوں گناہ بھی اللہ کی رحمت اور مغفرت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے سورة یوسف میں ارشاد ہے۔
(وَلَا تَایْءَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِنَّہٗ لَا یَایْءَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ ) اور اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو بیشک اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔ اور سورة حجر میں ارشاد ہے : (قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖٓ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ ) (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے گفتگو فرماتے ہوئے) کہا کہ گمراہ لوگوں کے سوا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے۔
صغیرہ گناہوں کی مغفرت اور ان کا کفارہ تو اعمال صالحہ سے بھی ہوتا رہتا ہے لیکن کبیرہ گناہوں کی یقینی طور پر مغفرت ہوجانا تو بہ کے ساتھ مشروط ہے اگر توبہ نہ کی اور اسی طرح موت آگئی تو بشرط ایمان مغفرت تو پھر بھی ہوجائے گی لیکن یہ کوئی ضروری نہیں کہ بلا عذاب کے مغفرت ہوجائے، اللہ تعالیٰ بلا توبہ بھی مغفرت فرما سکتا ہے اور اسے یہ بھی اختیار ہے کہ گناہوں کی سزا دینے کے لیے دوزخ میں ڈال دے پھر عذاب کے ذریعہ پاک و صاف کرکے جنت میں بھیجے چونکہ عذاب کا خطرہ بھی لگا ہوا ہے اس لیے پکی توبہ اور استغفار کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ مغفرت کی امید رکھیں اس کی رحمت سے ناامید کبھی نہ ہوں تاکہ اس حال میں موت آئے کہ توبہ کے ذریعہ سب کچھ معاف ہوچکا ہو۔
وفادار بندوں کا یہ شعار نہیں کہ مغفرت کا وعدہ سن کر بےخوف ہوجائیں بلکہ مغفرتوں کی بشارتوں کے بعد اور زیادہ گناہوں سے بچنے اور نیکیوں میں ترقی کرنے کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے حضور اقدس ﷺ سے بڑھ کر کسی کے لیے بشارتیں نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی سب لغزشوں کی مغفرت فرما دی جس کا اعلان سورة الفتح کے شروع میں فرما دیا اس کے باوجود آپ راتوں رات نمازیں پڑھتے تھے جس کی وجہ سے آپ کے قدم مبارک سوج گئے تھے جب کسی نے عرض کیا کہ آپ عبادت میں اتنی محنت فرماتے ہیں حالانکہ اللہ پاک نے آپ کا سب کچھ اگلا پچھلا (لغزش والا عمل) معاف فرما دیا اس پر آپ نے ارشاد فرمایا اَفَلاَ اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا (کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ ) (رواہ البخاری ص 152) مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے اتنی بڑی مہربانی فرمائی کہ میرا سب کچھ معاف فرما دیا تو اس کی شکر گزاری کا تقاضا یہ ہے کہ میں مزیدا طاعت اور عبادت کے ذریعہ اللہ کے قرب میں ترقی کرتا چلا جاؤں۔
کتنے ہی صحابہ ؓ ایسے تھے جن کو حضور اقدس ﷺ نے اسی دنیا میں خوشخبری دے دی تھی کہ وہ جنتی ہیں عشرہ مبشرہ (دس جنتی) تو مشہور ہی ہیں عموماً ان کو سب جانتے ہیں اور غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے حضرات کو اللہ جل شانہٗ کی طرف سے حضور اقدس ﷺ نے یہ خوشخبری دی کہ اعملوا ما شئتم فقد غفرت لکم یعنی تم جو چاہو کرو میں نے تم کو بخش دیا۔
ان حضرات کے علاوہ اور بھی صحابہ ؓ ہیں جن کو حضور اقدس ﷺ نے جنت کی بشارت دی لیکن ان حضرات نے اس کا یہ اثر بالکل نہیں لیا کہ گناہ کرتے چلے جائیں اور فرائض کو ضائع کرتے رہیں بلکہ یہ حضرات برابر گناہوں سے پرہیز کرتے رہتے تھے اور نیکیوں میں ترقی کے لیے کوشاں رہتے تھے اور معمولی سا گناہ ہوجانے پر فکر مند ہوجاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے ہم کو انہی حضرات کا اتباع کرنا لازم ہے۔ سورة طٰہٰ میں فرمایا (وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی) (اور میں ایسے لوگوں کے لیے بڑا بخشنے والا ہوں جو توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عمل کرتے رہیں پھر راہ پر قائم رہیں) یعنی مزید عمل صالح پر مداومت کریں۔
معلوم ہوا کہ ایمان اور عمل صالح اور توبہ پر استقامت ضروری ہے یہ تفصیل اس لیے لکھی گئی ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور عموم مغفرت کی بات سن کر گناہوں میں ترقی نہ کرتا چلا جائے اور توبہ میں دیر نہ لگائے کیونکہ احادیث صحیحہ اور صریحہ سے یہ بات ثابت ہے کہ بہت سے اہل ایمان بھی اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوں گے پھر عذاب بھگت کر حضرات ملائکہ کرام اور حضرات انبیاء عظام اور دیگر اہل ایمان کی شفاعت سے اور محض ارحم الراحمین جل مجدہٗ کی رحمت سے دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کردئیے جائیں گے۔ (کما فی مشکوٰۃ المصابیح 490، 491)
Ayah 39:54پھر فرمایا (وَاَنِیبُوْا اِِلٰی رَبِّکُمْ ) (اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ اس سے پہلے کہ تمہارے پاس عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے) اس آیت میں اللہ کی طرف رجوع ہونے اور اس کا فرمانبردار بننے کا حکم دیا اور فرمایا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے گا تو اس وقت مدد نہ کی جائے گی۔ لفظ ” وَاَنِیبُوْا “ اِنَابَۃٌ سے مشتق ہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ انابۃ اور توبہ میں یہ فرق ہے کہ توبہ کرنے والا عذاب کے ڈر سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتا ہے اور انابت کرنے والا اللہ تعالیٰ کے کرم اور فضل سے متاثر ہو کر شرما جاتا ہے اور یہ حیاء اسے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے پر آمادہ کرتی ہے پھر (وَاَسْلِمُوْا لَہٗ ) کا مطلب بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کی اطاعت میں اخلاص کے ساتھ لگا رہے۔
Ayah 39:55(وَاتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَا اُنْزِلَ اِِلَیْکُمْ مِّنْ رَبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّاَنْتُمْ لاَ تَشْعُرُوْنَ ) (اور اپنے رب کے پاس سے آئے ہوئے اچھے اچھے حکموں پر چلو قبل اس کے تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تم کو خیال بھی نہ ہو) اس آیت میں قرآن کریم کا اتباع کرنے کا حکم دیا ہے لفظ احسن اسم تفضیل کا صیغہ ہے اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ حسن کے معنی ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے عزائم مراد ہیں جو رخصتوں اور اجازتوں کے مقابلے میں اختیار کیے جاتے ہیں اور ان کا ثواب زیادہ ہوتا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر عبادت میں جو افضل ترین اعمال ہیں ان پر عمل کرکے ثواب حاصل کرنے کا حکم دیا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ جو احکام منسوخ ہیں ان کی جگہ اس حکم پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے جو منسوخ نہیں ہے حضرت عطا بن یسار ؓ نے بیان فرمایا کہ قُلْ یٰعِبٰدِیَ سے لے کر وَّاَنْتُمْ لاَ تَشْعُرُوْنَ تک تینوں آیات مدینہ منورہ میں وحشی بن حرب ؓ اور ان کے جیسے افراد کے بارے میں نازل ہوئیں (وحشی بن حرب ؓ وہی ہیں جنہوں نے بحالت کفر غزوۂ احد کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب ؓ کو شہید کیا تھا۔ )
آیات بالا کا مضمون سامنے رکھنے سے معلوم ہوا کہ کتنا بھی کوئی بڑا گناہ کرے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہو اس کی رحمت اور مغفرت کا یقین رکھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو۔ احکام قرآنیہ پر عمل کرتے رہیں اور اس بات سے ڈرتے رہیں کہ گناہوں کی وجہ سے عذاب نہ آجائے انیبوا واسلموا میں بتادیا کہ باوجود وعدہ مغفرت کے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اور اعمال خیر میں لگے رہیں۔
Ayahs 39:56–60(اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ) (الآیات الثلاث) ان آیات میں یہ بتادیا کہ اسی دنیا میں اپنے اعمال درست کرلیے جائیں گناہوں سے پرہیز کیا جائے تاکہ قیامت کے دن کوئی شخص پچھتاتے ہوئے یوں نہ کہے کہ ہائے ہائے میں نے کیا کیا اللہ تعالیٰ شانہٗ کے احکام کے بارے میں تقصیر کی اب مجھے یہاں اس کی سزا مل رہی ہے اور نہ صرف یہ کہ میں نافرمان تھا بلکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کے دین کا مذاق بنانے والوں میں سے تھا اور اس کے نیک بندوں کی ہنسی اڑاتا تھا اور کوئی شخص میدان قیامت میں یوں نہ کہنے لگے کہ اے اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں متقیوں میں سے ہوتا یعنی گناہ نہ کرتا (اللہ تعالیٰ نے رسول بھیج دیا قرآن نازل فرما دیا ایمان کی دعوت دے دی اور اس کی جزا بھی بتادی اور کفر کا جرم عظیم ہونا بیان کردیا اور اس کی سزا بھی بتادی اب یوں کہنا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت دیتا تو میں متقیوں میں سے ہوتا اس بات کے کہنے کا موقعہ نہیں رہا۔ )
قیامت کے دن کسی کے لیے یہ بات کہنے کا موقعہ نہیں رہا کہ مجھے واپس لوٹا دیا جائے اگر مجھے واپسی مل جائے تو دنیا میں جاکر خوب نیک بن جاؤں، جس نے پہلی زندگی ضائع کردی اب دوسری زندگی میں کیا ہدایت قبول کرے گا جبکہ اس مرتبہ بھی اموال اور اولاد کا فتنہ موجود ہوگا اسی لیے سورة الانعام میں فرمایا (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَانُھُوْا عَنْہُ وَاِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ ) (اور اگر انہیں واپس کردیا جائے تو ضرور پھر ہی عمل کریں گے جس سے منع کیا گیا اور بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (بَلٰی قَدْ جَاءَتْکَ اٰیٰتِیْ فَکَذَّبْتَ بِہَا وَاسْتَکْبَرْتَ وَکُنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ ) (وہاں تیرے پاس میری آیات آئیں سو تو نے انہیں جھٹلا دیا اور تو کافروں میں سے تھا۔ )
اس کے بعد قیامت کے دن کی بدحالی بیان فرمائی جو کافروں کو پیش ہوگی، فرمایا تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا کفر اختیار کیا اور وہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیں جن سے وہ بری اور بیزار ہے ان کے چہرے سیاہ ہوں گے ہدایت سامنے آجانے کے بعد ہدایت کو قبول نہ کرنا چونکہ تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی کافر آدمی حق کو اس لیے قبول نہیں کرتا کہ میری قوم اور سوسائٹی کے لوگ کیا کہیں گے اس لیے فرمایا (اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِلْمُتَکَبِّرِیْنَ ) (کیا جہنم میں تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا نہیں ہے) یعنی اہل تکبر کا تکبر انہیں لے ڈوبے گا جس نے دنیا میں ایمان قبول نہ کرنے دیا، تکبر کی وجہ سے یہ لوگ دوزخ میں جائیں گے۔
Ayah 39:61اس کے بعد اہل ایمان کا ثواب بیان فرمایا (وَیُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اتَّقَوا) (الآیۃ) ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا کفر اور شرک سے بھی بچے اور گناہوں سے بھی، اللہ تعالیٰ انہیں ان کی کامیابی کے ساتھ نجات دے گا اور اہل تکبر کے ٹھکانہ یعنی دوزخ سے بچالے گا انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔
Ayah 39:62(اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ ) (اللہ تعالیٰ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے) چونکہ ہر چیز کو اس نے پیدا فرمایا ہے ہر چیز میں اس کا تصرف بھی پورا پورا ہے۔
Ayah 39:63(لَہٗ مَقَالِید السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) (اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں) وہ تصرف کرنے والا بھی ہے اور محافظت فرمانے والا بھی ہے۔
(وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْخَاسِرُوْنَ ) (اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا یہ لوگ تباہ ہونے والے ہیں۔ )
Ayahs 39:64–65آپ فرما دیجیے کہ اے جاہلو میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرسکتا
مفسر ابن کثیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مشرکین نے اپنی جہالت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو دعوت دی کہ ہمارے معبودوں کی عبادت کرنے لگو اگر ایسا کرو گے تو ہم بھی تمہارے ساتھ تمہارے معبود کی عبادت کرنے لگیں گے، اس پر آیت کریمہ (قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ ) آخر تک نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آپ کو حکم دیا ان مشرکوں سے کہہ دیجیے کہ اے جاہلو ! کیا مجھے حکم دے رہے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے لگوں ؟ مزید فرمایا (وَلَقَدْ اُوحِیَ اِِلَیْکَ ) کہ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیجی ہے کہ اگر بالفرض اے مخاطب تو نے شرک اختیار کرلیا تو اللہ جل شانہٗ تیرا عمل حبط فرما دے گا یعنی بالکل اکارت کردیا جائے گا جس پر ذرا بھی ثواب نہ ملے گا (وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ) (اور تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائے گا) یعنی اعمال کا بھی کچھ نہ ملے گا اور جان بھی ضائع ہوگی اس کی کچھ قیمت نہ ملے گی، جان کی مکمل بربادی ہوگی، کیونکہ دوزخ میں داخلہ ہوگا۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تو گناہوں سے بھی معصوم تھے شرک اور کفر کا ارتکاب ان سے ہو ہی نہیں سکتا لیکن برسبیل فرض اگر کسی نبی نے بھی شرک کرلیا تو اس کی بھی جان بخشی نہ ہوگی غیروں کا تو سوال ہی کیا ہے، حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو خطاب کرکے ان کی امتوں کو بتادیا کہ دیکھو شرک ایسی بری چیز ہے کہ اگر کسی نبی سے بھی صادر ہوجائے تو اس کے اعمال صالحہ برباد ہوجائیں گے اور وہ تباہ و برباد ہوگا لہٰذا امتیوں کو تو اور زیادہ شرک سے دور رہنا اور بیزار رہنا لازم ہے۔
Ayah 39:66(بَلْ اللّٰہَ فَاعْبُدْ ) (بلکہ آپ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں) (وَکُنْ مِنْ الشَّاکِرِیْنَ ) (اور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں) اللہ تعالیٰ نے آپ کو شرک کے ماحول میں پیدا فرمایا لیکن شرک سے بچایا موحد بنایا توحید کی دعوت کا کام آپ کے سپرد کیا لہٰذا آپ پر شکر ادا کرنا فرض ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کیجیے اور اس کا شکر بھی ادا کرتے رہیے یہ لوگ جو آپ کو اپنے معبودوں کی عبادت کی دعوت دے رہے ہیں ان کی طرف متوجہ نہ ہوجائیے اور ان کی باتوں میں نہ آئیے اللہ کی عبادت کرانے کے لیے خود غیر اللہ کی عبادت کرنا جائز نہیں ہے جو لوگ حق قول نہیں کرتے ان کا وبال ان پر پڑے گا۔
Ayah 39:67وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ
اللہ تعالیٰ شانہٗ کی ذات بہت بڑی ہے اس کو اس دنیا میں دیکھا نہیں جاسکتا لیکن اس کی صفات کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے اس کی صفت خالقیت کو سب عقل مند جانتے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ سب کچھ اسی نے پیدا کیا ہے اس کا حق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے جن لوگوں نے کسی کو اس کا ساجھی ٹھہرایا اور عبادت میں شریک بنایا اور نہ صرف یہ کہ خود مشرک بنے بلکہ اس کے رسول کو بھی شرک کی دعوت دے دی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وہ تعظیم نہیں کی جس تعظیم کا وہ مستحق ہے اس کی ذات پاک کے لیے شریک تجویز کرنا بہت بڑی حماقت اور ضلالت ہے، دنیا میں اس کی قدرت کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے اور قیامت کے دن ایک مظاہرہ اس طرح سے ہوگا کہ ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور سارے آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے وہ ہر عیب سے پاک ہے اور ان لوگوں کے شرکیہ اقوال و افعال سے بھی پاک ہے۔
چونکہ سورة شوریٰ میں ارشاد فرمایا ہے کہ (لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ) (اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں ہے) اس لیے اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسم سے اور اعضاء سے پاک ہے اگر آیت کریمہ کا معنی ہاتھ کی مٹھی لیا جائے اور بیمینہ سے داہنا ہاتھ مراد لیا جائے تو اس سے جسمیت اور مثلیت لازم آتی ہے اس لیے علماء کرام نے فرمایا ہے کہ آیت شریفہ کے مضمون کے بارے میں یوں عقیدہ رکھو کہ اس کا جو بھی مطلب اللہ کے نزدیک ہے وہ حق ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کا معنی اور مفہوم اسی کی طرف تفویض کرتے ہیں بعض علماء نے تاویل بھی کی ہے لیکن محققین تاویل کے بجائے تفویض کو اختیار کرتے ہیں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جسم سے اور اعضاء سے پاک ہے اور جو کچھ بھی قرآن و حدیث میں آیا ہے وہ سب حق ہے اس کا مطلب اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے ہم اپنی طرف سے مطلب تجویز نہیں کرتے اس طرح کا مضمون جہاں کہیں بھی آئے اس کے معنی کی تفویض بھی اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ ایک یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ اے محمد ﷺ بلاشبہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر، اور زمینوں کو ایک انگلی پر، اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور درختوں کو ایک انگلی پر، اور (باقی) ساری مخلوق کو ایک انگلی پر روک لے گا پھر فرمائے گا اَنَا الْمَلِکُ (میں بادشاہ ہوں) یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کو ہنسی آگئی یہاں تک کہ آپ کی مبارک ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں اس کے بعد آپ نے آیت بالا (وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ ) تلاوت فرمائی آپ کا ہنسنا اس یہودی کی تصدیق کے طور پر تھا۔ (صحیح بخاری 1102، 1103)
Ayah 39:68قیامت کے دن صور پھونکے جانے کا تذکرہ
پھر فرمایا (وَنُفِخَ فِی الصُّورِ ) (الآیۃ) (اور صور میں پھونک ماری جائے گی تو جو بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب بےہوش ہوجائیں گے مگر جنہیں اللہ چاہے پھر صور میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے) جب قیامت قائم ہوگی تو اس کی ابتداء صور پھونکے جانے سے ہوگی اور دو مرتبہ صور پھونکا جائے گا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اسرافیل (علیہ السلام) کان لگائے ہوئے ہیں اور پیشانی کو جھکائے ہوئے انتظار میں ہیں کہ کب صور پھونکنے کا حکم ہو آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صور ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 482)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ البتہ قیامت ضرور اس حالت میں قائم ہوگی کہ دو شخصوں نے اپنے درمیان (خریدو فروخت کے لیے) کپڑا کھول رکھا ہوگا ابھی معاملہ طے کرنے اور کپڑا لپیٹنے بھی نہ پائیں گے کہ قیامت قائم ہوجائے گی (پھر فرمایا کہ) البتہ قیامت ضرور اس حال میں قائم ہوگی کہ ایک انسان اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کرلے جا رہا ہوگا اور پی بھی نہ سکے گا اور قیامت یقیناً اس حال میں قائم ہوگی کہ انسان اپنا حوض لیپ رہا ہوگا اور ابھی اس میں مویشیوں کو پانی پلانے بھی نہ پائے گا اور واقعی قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ انسان اپنے منہ کی طرف لقمہ اٹھائے گا اور اسے کھا بھی نہ سکے گا۔ (رواہ البخاری)
پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ زندہ ہوں گے وہ مرجائیں گے اور ان پر بیہوشی طاری ہوجائے گی اور جو اس سے پہلے مرچکے تھے وہ بےہوش ہوجائیں گے آسمانوں میں اور زمینوں میں جو لوگ ہوں گے سب پر بےہوشی طاری ہوجائے گی پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہوں گے، قبروں سے نکل کر موقف (یعنی حساب کی جگہ) کی طرف چل دیں گے، دونوں بار جو صور پھونکا جائے گا ان کے درمیان کتنا فاصلہ ہوگا حضرت ابویرہ ؓ نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہوئے چالیس کا عدد ذکر کیا حاضرین نے عرض کیا اے ابوہریرہ کیا چالیس دن کا فاصلہ ہوگا ؟ فرمایا مجھے پتہ نہیں عرض کیا گیا کہ چالیس مہینے کا فاصلہ ہوگا ؟ فرمایا مجھے پتہ نہیں، عرض کیا گیا چالیس سال کا فاصلہ ہوگا ؟ فرمایا مجھے پتہ نہیں۔
اِِلَّا مَنْ شَآء اللّٰہُ کا استثناء
(اِِلَّا مَنْ شَآء اللّٰہُ ) میں کن حضرات کا استثناء ہے اس کے بارے میں احادیث مرفوعہ صحیحہ میں کوئی واضح بات نہیں ملتی البتہ ایک حدیث میں یوں ہے جو حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی کے درمیان کچھ گالی گلوچ ہوگئی، باتوں باتوں میں مسلمانوں نے یوں کہہ دیا کہ قسم اس ذات کی جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کو سارے جہانوں پر فضیلت دی ہے یہ سن کر یہودی نے یوں کہا قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سارے جہانوں پر فضیلت دی ہے یہ سن کر اس مسلمان نے یہودی کے منہ پر طمانچہ مار دیا وہ یہودی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں چلا گیا اور واقعہ بیان کیا نبی اکرم ﷺ نے اس مسلمان کو بلایا جس نے طمانچہ مار دیا تھا اور اس سے صورت حال معلوم کی، اس نے صورت حال بیان کردی تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) پر فضیلت نہ دو (یعنی اس طرح کی کوئی بات نہ کہو جس سے ان کے مرتبہ کی تنقیص ہوتی ہو) کیونکہ قیامت کے دن سب لوگ بیہوش ہوجائیں گے اور میں بھی ان کے ساتھ بیہوش ہوجاؤں گا پھر سب سے پہلے مجھے ہی ہوش آئے گا میں دیکھوں گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) عرش کی جانب کو پکڑے کھڑے ہیں، میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ ان لوگوں میں ہوں گے جو بےہوش ہوگئے تھے اور انہیں مجھ سے پہلے ہوش آگیا یا وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کا استثناء کیا گیا ہے یعنی (اِِلَّا مَنْ شَآء اللّٰہُ ) کے عموم میں وہ بھی شامل ہوں گے اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں نہیں جانتا کہ طور پر انہیں جو بیہوشی طاری ہوئی تھی اس کو اس وقت کی بیہوشی کے حساب میں لگا دیا گیا (اور ان پر بیہوشی ہی نہ ہو) یا بےہوش تو ہوں گے لیکن مجھ سے پہلے ہوش میں آچکے ہوں گے۔ (رواہ البخاری ص 485: ج 1، ص 965: ج 2، ص 688: ج 2)
چونکہ اس کی تصریح نہیں ہے کہ (اِِلَّا مَنْ شَآء اللّٰہُ ) کا مصداق کون ہے اس لیے مفسرین میں سے کسی نے یوں کہا کہ جو حضرات بےہوش نہ ہوں گے ان سے جبرائیل، اسرافیل اور میکائیل اور ملک الموت مراد ہیں اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے حاملین عرش مراد ہیں اور یوں بھی لکھا ہے کہ پہلی بار صور پھونکے جانے پر جو حضرات بیہوشی سے محفوظ رہیں گے بعد میں ان کو بھی موت آجائے گی۔
Ayah 39:69(وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّہَا) (اور زمین روشن ہوجائے گی اپنے رب کے نور سے) یعنی شمس و قمر کے بغیر محض اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین میں روشنی پھیل جائے گی۔
(وَوُضِعَ الْکِتٰبُ ) (اور کتاب رکھ دی جائے گی) یعنی اعمال نامے سامنے آجائیں گے اور عمل کرنے والوں کے ہاتھوں میں ان کے اعمالنامے رکھ دئیے جائیں گے (وَجِیء بالنَّبِیِّینَ ) (اور نبیوں کو لایا جائے گا) تاکہ وہ اپنی امتوں کے بارے میں گواہی دیں اور خود ان سے تبلیغ کے بارے میں سوال کیا جائے جیسا کہ سورة الاعراف میں فرمایا (فَلَنَسْءَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْھِمْ وَ لَنَسْءَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ )
(وَالشُّہَدَاءِ ) (اور شہداء کو لایا جائے گا) لفظ الشہداء کا عموم تمام گواہی دینے والوں کو شامل ہے جن میں تمام امتوں کے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور اعمالنامے لکھنے والے فرشتے اور انسانوں کے اپنے اعضاء ہاتھ پاؤں اور زبانیں سب داخل ہیں۔ (وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بالْحَقِّ ) (اور بندوں کے درمیان حق کے ساتھ یعنی انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا) (وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ) (اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ )
Ayah 39:70(وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ ) (اور ہر جان کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا) (وَھُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ ) (اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ لوگ کرتے ہیں) یعنی اسے سب کے اعمال معلوم ہیں وہ اپنی حکمت کے مطابق جزا و سزا دے گا، یہ جو فرمایا کہ ہر شخص کو پورا بدلہ دیا جائے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے بدلے میں کمی نہ ہوگی البتہ نیکیوں میں اضافہ کرکے ثواب میں اضافہ کردیا جائے گا جیسا کہ (مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا) میں بیان فرمایا ہے اور برے اعمال کا پورا بدلہ دینے کا یہ مطلب ہے کہ جس قدر برے عمل ہوں گے ان کے بقدر عذاب دیا جائے گا اور ان کی جزائے موعود میں اضافہ نہ کیا جائے گا جس کو (وَمَنْ جَآء بالسَّیِّءَۃِ فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَھَا) اور (وَجَزٰٓؤُا سَیِّءَۃٍ سَیِّءَۃٌ مِّثْلُھَا) میں بیان فرمایا ہے۔