29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 29:36

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور ہم نے مدین والوں کے پاس ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، سو انہوں نے کہا کہ اے میرے قوم اللہ کی عبادت کرو اور آخرت کے دن کی توقع رکھو، اور زمین میں فساد مت پھیلاؤ،

اہل مدین اور فرعون، ہامان، قارون کی ہلاکت کا تذکرہ ان آیات میں اجمالی طور پر بعض گذشتہ اقوام کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے، پہلی اور دوسری آیت میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے جو علاقہ مدین میں رہتے تھے، ان لوگوں کو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی، اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا اور فرمایا کہ آخرت کا دن بھی واقع ہوگا وہاں کفر کی اور اعمال بد کی سزا ملے گی، تم یہ نہ سمجھو کہ دنیا ہی سب کچھ ہے بلکہ موت کے بعد حساب کتاب ہے، پیشی ہے، اس کے واقع ہونے کا یقین رکھو اور اس کے مطابق عمل کرو اور زندگی گزارو، جو برے افعال کرتے ہو ان کو چھوڑو یہ لوگ ناپ تول میں کمی کرتے تھے جیسا کہ سورة ہود اور سورة الشعراء میں مذکور ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں تنبیہ فرمائی کہ زمین میں فساد مت پھیلاؤ ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بات نہ مانی لہٰذا اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور ایسا زلزلہ آیا کہ ان سب کو جھنجھوڑ کر اور تباہ کرکے رکھ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے منہ گرے ہوئے رہ گئے جیسا کہ سورة ہود میں ذکر فرمایا ہے، ان پر چیخ کا عذاب بھی آیا اور زلزلے نے بھی دبایا اور یہ دونوں چیزیں ہلاکت کا ذریعہ بن گئیں۔ تیسری آیت میں قوم عاد اور ثمود کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ان کی ہلاکت کے نشانات تمہاری نظروں کے سامنے ہیں، جب تم سفر میں جاتے ہو تو ان کے برباد شدہ گھروں کے پاس سے گزرتے ہو، یہ عبرت کی جگہ ہے غور کرو اور کفر سے توبہ کرو۔ (وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطَانُ اَعْمَالَہُمْ ) (اور شیطان نے ان کے اعمال بد اور کفر و معاصی کو ان کے سامنے مزین کرکے پیش کیا) یعنی انہیں سمجھایا کہ تم اچھی زندگی گزار رہے ہو۔ (فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ ) (سو انہیں راہ حق سے ہٹادیا) (کَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَ ) (حالانکہ وہ لوگ صاحب بصیرت تھے، سمجھدار تھے) لیکن شیطان کے کہنے میں آگئے عقل سے کام نہ لیا، دنیاوی لذتوں کو سامنے رکھا اور اللہ تعالیٰ نے جو سمجھ دی تھی اسے استعمال نہ کیا اور شیطان کی تزیین اور تحسین کی وجہ سے مدہوش ہوگئے۔ چوتھی آیت میں قارون فرعون اور ہامان کی بربادی کا تذکرہ فرمایا سورة عنکبوت سے پہلے سورة قصص میں ان لوگوں کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف مبعوث فرمایا، وہ ان کے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے لیکن ان لوگوں نے آپ کی بات نہ مانی اور کفر پر جمے رہے، انکار پر مصر رہے، اور انکار کا سبب ان کا استکبار تھا یعنی یہ کہ وہ اپنے کو زمین میں بڑا سمجھتے تھے اور ایمان قبول کرنے میں اپنی خفت محسوس کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تو یہ ہم سے اونچے ہوجائیں گے۔ سورۃ المؤمنین میں ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ (اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُہُمَا لَنَا عَابِدُوْنَ ) (کیا ہم ایسے دو شخصوں کی (موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) پر ایمان لائیں جو ہمارے ہی جیسے ہیں اور حال یہ ہے کہ ان کی قوم ہماری فرمانبردار ہے) سورة الزخرف میں ہے کہ فرعون نے کہا (اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ مَہِیْنٌ وَّلاَ یَکَادُ یُبِیْنُ ) (بلکہ میں افضل ہوں اس شخص سے جو کہ کم قدر ہے اور قوت بیانیہ بھی نہیں رکھتا) بہرحال ان لوگوں کو ان کا کفر اور کبر لے ڈوبا، فرعون اپنے لشکروں کے ساتھ ڈوب گیا۔ (فَغَشِیَھُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَھُمْ ۔ وَمَا کَانُوْا سَابِقِیْنَ ) (اور یہ لوگ ہم سے آگے بڑھنے والے نہ تھے) یعنی ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ ہمارے عذاب سے بچ کر نکل جاتے اور کہیں فرار ہو کر امن کی جگہ پہنچ جاتے۔ پانچویں آیت میں مذکورہ بالا اقوام کی ہلاکت کی طرف اجمالی اشارہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا ( فَکُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْبِہٖ ) (سو ہم نے ان میں سے ہر ایک کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا) (فَمِنْھُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا) (سو بعض پر ہم نے تیز ہوا بھیج دی) جو کہ آندھی کی صورت میں آئی اور اس نے انہیں ہلاک کردیا۔ یہ قوم عاد کے ساتھ ہوا، یہ ہوا ان پر سات رات اور آٹھ دن مسلط رہی جیسا کہ سورة الحاقہ میں بیان فرمایا ہے : (وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ ) (اور بعض کو چیخ نے پکڑ لیا) اس سے قوم ثمود مراد ہے (کما فی سورة ھود (علیہ السلام ) ۔ پھر فرمایا : (وَ مِنْھُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ ) (اور ہم نے بعض کو زمین میں دھنسا دیا) اس میں قارون کی ہلاکت کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة قصص کے ختم کے قریب گزر چکا ہے۔ (وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا) (اور بعض کو ہم نے غرق کردیا) اس میں فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کا ذکر ہے۔ (وَ مَا کَان اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ ) (اور اللہ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم فرماتا) یعنی اس نے کسی کو بغیر گناہ کے عذاب نہیں دیا۔ (وَ لٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلَمُوْنَ ) (اور لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے) یعنی وہ حق قبول نہیں کرتے تھے کفر پر جمے رہتے تھے، گناہوں پر مصر رہتے تھے۔
Ayahs 29:37–41

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا لہٰذا انہیں زلزلہ نے پکڑ لیا اور وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے ہوئے رہ گئے۔

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور ہم نے عاد اور ثمود کو ہلاک کیا اور حال یہ ہے کہ تمہیں ان کے رہنے کی جگہوں سے ان کا حال معلوم ہوچکا ہے، اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے اچھا کرکے دکھایا سو اس نے انہیں راستہ سے روک دیا، اور وہ صاحب بصیرت تھے۔

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور ہم نے قارون کو اور فرعون کو اور ہامان کو ہلاک کیا۔ اور یہ واقعہ ہے کہ موسیٰ ان کے پاس کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آئے سو انہوں نے اپنے کو بڑا سمجھا اور وہ آگے بڑھنے والے نہ تھے۔

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

سو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیا، سو بعض پر ہم نے سخت ہوا بھیج دی اور بعض کو چیخ نے پکڑلیا اور بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور بعض کو غرق کردیا، اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان پر ظلم فرماتا اور لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر کارساز بنا رکھے ہیں ان کی مکڑی جیسی مثال ہے کہ اس نے گھر بنایا اور بلاشبہ سب گھروں میں کمزور ترگھر مکڑی کا ہے اگر وہ جان لیتے تو ایسا نہ کرتے۔

مشرکین اپنے معبودوں سے جو امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اس کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی عبادت ہمارے لیے فائدہ مند ہوگی اور یہ ہمارے مددگار ہوں گے۔ ان لوگوں کی جہالت اور گمراہی کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کے اعتقاد کی ایسی مثال ہے جیسے مکڑی کا گھر ہو، مکڑی جالا بن کر اس میں بیٹھی رہتی ہے اور اس جال کے ذریعہ مکھی کو شکار کرتی ہے۔ جانوروں کے جتنے بھی چھوٹے بڑے گھر گھونسلہ وغیرہ کی صورت میں ہوتے ہیں مکڑی کا گھر ان میں سب سے زیادہ بودا اور کمزور ہوتا ہے، یہی حال ان لوگوں کا ہے جو غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اور ان پر اعتقاد کرتے ہیں اور اپنا مددگار سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ اعتقاد اور بھروسہ کرنا مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہے جو انہیں کوئی فائدہ دینے والا نہیں ہے، اگر سمجھ رکھتے تو ایسی بیہودہ حرکت نہ کرتے اور معبود حقیقی کو چھوڑ کر مخلوق کی پرستش میں نہ لگتے۔
Ayah 29:42

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ جانتا ہے جس کو بھی وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ زبردست ہے حکمت والا ہے،

(اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْءٍ ) (یہ لوگ اللہ کے سوا جس جس کی بھی عبادت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو ان سب کا علم ہے) یہ چیزیں نہایت ضعیف ہیں۔ (وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) (اور وہ غلبہ والا حکمت والا ہے)
Ayah 29:43

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں، ان کو بس علم والے ہی سمجھتے ہیں۔

(وَ تِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا للنَّاسِ ) (اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں) (وَ مَا یَعْقِلُھَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ ) (اور ان مثالوں کو بس علم والے ہی سمجھتے ہیں) جو لوگ سمجھنا ہی نہیں چاہتے علم سے دور رہنے کو ہی پسند کرتے ہیں یہ لوگ ان سے مستفید نہیں ہوتے۔
Ayah 29:44

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ نے پیدا فرمایا آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ، بلاشبہ اس میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

(خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بالْحَقِّ ) (اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا) ان کے پیدا کرنے میں بڑی حکمت ہے، جو منکر ہیں وہ بھی مانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں لیکن ایمان نہیں لاتے۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ) (بلاشبہ اس میں مومنین کے لیے نشانیاں ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل ہیں۔ دلائل تو سب ہی کے لیے ہیں لیکن ان سے اہل ایمان ہی متنفع ہوتے ہیں، جنہیں ایمان قبول کرنا نہیں وہ جانتے بوجھتے منکر بنے ہوئے ہیں اور انکار پر تلے ہوئے ہیں۔
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے آپ اس کی تلاوت فرمائیے اور نماز قائم کیجیے، بلاشبہ نماز بےحیائی سے اور برے کاموں سے روکتی ہے اور البتہ اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ جانتا ہے۔

قرآن مجید کی تلاوت کرنے اور نماز قائم کرنے کا حکم اس آیت کریمہ میں دو حکم ہیں، پہلا حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب آپ کو دی ہے آپ اس کی تلاوت کرتے رہیں۔ تنہائی میں تلاوت کرنا، نمازوں میں قرآن مجید پڑھنا، لوگوں کے سامنے پڑھنا اور اس کی تعلیم دینا الفاظ کا عموم ان سب کو شامل ہے دوسرا حکم یہ ہے کہ آپ نماز قائم کریں۔ دیگر آیات میں بھی نماز قائم کرنے کا حکم وارد ہوا ہے، سورة بنی اسرائیل میں ارشاد ہے (اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ ) اور سورة ہود میں فرمایا ہے (وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ ) ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے، اور یہ حکم جہاں آپ ﷺ کو ہے وہاں آپ کی امت کو بھی ہے اور امت کو علیحدہ خطاب بھی ہے۔ سورة بقرہ میں فرمایا (وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ) علماء نے فرمایا ہے کہ لفظ اقامۃ الصلوٰۃ اپنے مفہوم کے اعتبار سے بہت زیادہ عام ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کو پڑھنے کی طرح پڑھو اس میں سنتوں اور مستحبات کا اہتمام اور نماز باجماعت کی ادائیگی اور خشوع و خضوع سے پڑھنا سب آجاتا ہے۔ نماز بےحیائی سے روکتی ہے پھر نماز کا خاصہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ (اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِ ) (بلاشبہ نماز بےحیائی سے اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ ) درحقیقت نماز کو نماز کی طرح پڑھا جائے تو وہ گناہوں کے چھڑانے کا سبب بن جاتی ہے، نماز میں قرأت قرآن بھی ہے اور تسبیح بھی تکبیر بھی ہے تحمید بھی، رکوع بھی ہے سجود بھی، خشوع بھی ہے خضوع بھی، اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا اظہار بھی ہے اور اپنی عاجزی اور فروتنی کا تصور بھی، ان سب امور کا دھیان کرکے نماز پڑھی جائے تو بلاشبہ نمازی آدمی بےحیائی کے کاموں اور گناہوں سے رک جائے گا، جس شخص کی نماز جس قدر اچھی ہوگی اسی قدر گناہوں سے دور ہوگا اور جس قدر نماز میں کمی ہوگی اسی قدر گناہوں کے چھوٹنے میں دیر لگے گی، آدمی اگرچہ گنہگار ہی کیوں نہ ہو بہرحال نماز پڑھتا رہے کبھی نہ کبھی اس کی نماز انشاء اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو چھڑا ہی دے گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا کہ فلاں شخص رات کو نماز پڑھتا ہے اور صبح ہوتی ہے تو چوری کرلیتا ہے، آپ نے فرمایا کہ اس کا نماز پڑھنے والا عمل اسے اس عمل سے روک دے گا جسے تو بیان کر رہا ہے۔ (ذکرہ صاحب الروح وعزاہ الیٰ احمد وابن ابی حاتم والبیھقی 21) دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگ گناہوں میں بھی مشغول رہتے ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں اس پر جو اشکال ہوتا ہے اس کا جواب ہمارے بیان میں گزر چکا ہے اور بعض حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ نماز تو بلاشبہ برائیوں سے روکتی ہے لیکن روکنے کی وجہ سے رک جانا ضروری نہیں، آخر واعظ بھی تو وعظ کرتے ہیں، برائیوں کی وعیدیں سناتے ہیں، پھر جو رکنا چاہتا ہے وہی رک جاتا ہے اور جو رکنا نہیں چاہتا وہ گناہ کرتا رہتا ہے۔ اور بعض علماء نے جواب دیا ہے کہ نماز کم از کم اتنے وقت تک تو گناہوں سے روکتی ہی ہے جتنی دیر نماز میں مشغول رہتا ہے۔ بعض گناہ ایسے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے انسان نماز نہیں پڑھ سکتا نمازی آدمی اس سے ضرور بچے گا۔ مثلاً پیشاب کرکے یوں ہی اٹھ جائے اور استنجا نہ کرے، نمازی سے یہ نہیں ہوسکتا، اور کوئی نمازی ستر کھول کر رانیں دکھاتا ہوا نہیں پھر سکتا، اور نماز کو جاتے ہوئے راستہ میں گناہ نہیں کرسکتا۔ اور اسی طرح کی بہت سی باتیں ہیں جو غور کرنے سے سمجھ میں آسکتی ہیں۔ ذکر اللہ کے فضائل : نماز کی اہمیت بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ لَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ ) (اور اللہ کا ذکر البتہ بہت بڑی چیز ہے) درحقیقت اللہ کا ذکر ہی پورے عالم کی جان ہے، جب تک دنیا میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے آسمان و زمین قائم ہیں اور دوسری مخلوق بھی موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی جب تک زمین میں ایک مرتبہ بھی اللہ اللہ کہا جاتا رہے گا۔ (رواہ مسلم ص 84: ج 1) نماز بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لیے ہے جو سراپا ذکر ہے، سورة طٰہٰ میں فرمایا : (وَ اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ ) کہ میری یاد کے لیے نماز قائم کیجیے، نماز میں اول سے آخر تک ذکر ہی ذکر ہے نمازی آدمی تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک برابر اللہ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے، اس کی زبان بھی ذکر اللہ میں مشغول رہتی ہے اور دل بھی۔ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان فرمایا (کَانَ یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْ کُلِّ اَحْیَانِہٖ ) (کہ آپ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہتے تھے۔ ) (رواہ مسلم باب ذکر اللہ تعالیٰ حال الجنابۃ وغیرھا) یوں تو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کا ہر عمل اللہ کے ذکر میں شامل ہے لیکن دیگر اعمال ایسے ہیں کہ ہر وقت ان کی ادائیگی کے مواقع نہیں ہوتے اور ذکر اللہ ایسی چیز ہے جو وضو بےوضو ہر وقت حتیٰ کہ ناپاکی کی حالت میں بھی ہوسکتا ہے، البتہ غسل فرض ہو تو تلاوت کرنا ممنوع ہے۔ تلاوت قرآن مجید، تسبیح وتحمید، تکبیر، تہلیل، دعا یہ سب اللہ کا ذکر ہے، درود شریف بھی اللہ کے ذکر میں شامل ہے، اس میں حضور نبی کریم ﷺ کے لیے اللہ سے رحمت کی دعا مانگی جاتی ہے، وہ لوگ مبارک ہیں جو دل سے بھی اللہ کو یاد کرتے ہیں، اس کی نعمتوں کے شکر گزار ہوتے ہیں، اس کی کتاب کی تلاوت میں مشغول رہتے ہیں اور اس کی حمد وثناء بیان کرتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید کی تلاوت کی فضیلت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ کی کتاب میں سے ایک حرف پڑھے اس کی وجہ سے اسے ایک نیکی ملے گی اور ہر نیکی دس گنا ہو کر ملے گی۔ (رواہ الترمذی وقال حسن صحیح) اور تسبیح وتحمید وغیرہ کے بارے میں فرمایا ہے کہ اگر میں ایک بار (سُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ ) کہہ لوں تو یہ مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج نکلتا ہے۔ (رواہ مسلم کما فی المشکوٰۃ ص 200) رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں ترازو میں بھاری ہوں گے، رحمن کو محبوب ہیں اور وہ یہ ہیں (سُبْحَانَ الِلّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیْمِ ) (رواہ البخاری وھو آخر الحدیث من کتابہ) حضرت جابر ؓ سے رایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے (سُبْحَانَ الِلّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ ) کہا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جائے گا۔ (رواہ الترمذی) حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات کی، انہوں نے فرمایا کہ اے محمد اپنی امت کو میرا سلام کہہ دینا اور بتادینا کہ جنت کی اچھی مٹی ہے اور میٹھا پانی ہے اور وہ چٹیل میدان ہے اور اس کے پودے یہ ہیں (سُبْحَانَ لِلّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ ) (رواہ الترمذی وقال حسن غریب اسناداً ) مطلب یہ ہے کہ جنت میں ہے تو سب کچھ مگر اسی کے لیے ہے جو یہاں سے کچھ کرکے لے جائے، جو عمل سے خالی ہاتھ گیا اس کے لیے تو چٹیل میدان ہی ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک ایسے درخت پر گزر ہوا جس کے پتے سوکھے ہوئے تھے، آپ نے اس میں اپنی عصا کو مارا تو پتے جھڑنے لگے آپ نے فرمایا کہ (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور سُبْحَان اللّٰہِ اور لاآالٰہَ الاَّ اللّٰہُ اور اللّٰہُ اَکْبَرُ ) بندہ کے گناہوں کو اس طرح گرا دیتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے گر رہے ہیں۔ (رواہ الترمذی) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (اَفْضَلُ الذِّکْرِ لاآاِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاَفْضَلُ الدُّعَآءِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ) یعنی سب سے بڑی فضیلت والا ذکر (لاآاِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ ) ہے اور سب سے بڑی فضیلت دعا (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ) ہے۔ (رواہ الترمذی) حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتادوں ؟ میں نے عرض کیا ارشاد فرمائیے ! فرمایا (لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِ ) ہے۔ (رواہ البخاری) جب ذکر اللہ کی اس قدر فضیلت ہے تو اسی میں لگا رہنا چاہیے، ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہونے دیں، بہت سے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ کوئی کام کاج نہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد بس بیس سال گزار دیتے ہیں، دکانوں میں لڑکے اور ملازم کام کرتے ہیں اور اتنی بڑی قیمتی زندگی فضول گفتگو میں، اخبار پڑھنے میں، دنیا کے ملکوں کا تذکرہ کرنے میں بلکہ غیبتوں میں گزار دیتے ہیں، یہ بڑے نقصان کا سودا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھے جس میں انہوں نے اللہ کا ذکر کیا تو یہ مجلس ان کے لیے نقصان کا باعث ہوگی، پھر اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو مغفرت فرما دے۔ (رواہ الترمذی) ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ اسلام کی چیزیں تو بہت ہیں آپ مجھے ایک ایسی چیز بتلا دیجیے کہ میں اسی میں لگا رہوں، آپ نے فرمایا (لاَ یَزَالُ لِسَانُکَ رَطَبًا مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص 198، الترمذی وغیرہ) (کہ تیری زبان ہر وقت اللہ کی یاد میں تر رہے) ایک اور شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ فضیلت کے اعتبار سے سب سے بڑا عمل کون سا ہے ؟ فرمایا وہ عمل یہ ہے کہ تو دنیا سے اس حال میں جدا ہو کہ تیری زبان اللہ تعالیٰ کی یاد میں تر ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 198 عن الترمذی وغیرہ) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ذکر اللہ کے علاوہ زیادہ باتیں نہ کیا کرو کیونکہ اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ بولنے سے دل میں قساوت یعنی سختی آجاتی ہے اور اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ دور وہی شخص ہے جس کا دل سخت ہو۔ (رواہ الترمذی) نیز حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر چیز کے لیے صاف کرنے کی ایک چیز ہوتی ہے اور دلوں کو صاف کرنے والی چیز اللہ کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دینے والی کوئی چیز نہیں، صحابہ ؓ نے عرض کیا کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اس قدر جہاد کرے کہ مارتے مارتے اس کی تلوار ٹوٹ جائے تو یہ عمل بھی عذاب سے بچانے میں ذکر اللہ سے بڑھ کر نہیں ہے۔ (رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر کما فی المشکوٰۃ ص 199) آخر میں فرمایا (وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ ) (اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو) ہر شخص کے اعمال خیر اور اعمال شر کا اس کو علم ہے، وہ اپنی حکمت کے مطابق اصحاب اعمال کا بدلہ دے گا، عمل کرنے والے اس چیز کا مراقبہ کرتے رہیں کہ ہمارے اعمال پیش ہوں گے اور ان کا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور اہل کتاب سے بحث مت کرو مگر ایسے طریقہ پر جو اچھا طریقہ ہو، مگر وہ لوگ جو ان میں سے بےانصاف ہیں، اور یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف نازل ہوا اور اس پر جو تمہاری طرف نازل ہوا اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں،

اہل کتاب سے مجادلہ اور مباحثہ کرنے کا طریقہ ان آیات مبارکہ میں اللہ رب العزت نے اہل کتاب سے مباحثہ کرنے کے بارے میں نصیحت فرمائی ہے، ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ سے جب گفتگو کرنے کا موقع آجائے تو ان سے اچھے طریقے پر بحث کرو۔ یہود و نصاریٰ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے اور اب بھی مانتے ہیں، اور یہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے اس لیے ان سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور پیغمبروں کی رسالت کے بارے میں کوئی بحث کرنے کی ضرورت نہ تھی، البتہ خاتم الانبیاء والمرسلین جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے جو منکر تھے ان سے اس بارے میں بحث کرنے کی ضرورت تھی، اور ان لوگوں نے جو اپنے دین میں تحریف کرلی تھی اور اپنی کتابوں کو بدل دیا تھا اور یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنا دیا۔ ان کی اس گمراہی پر بھی تنبیہ کرنا ضروری تھا۔ یہودی پہلے سے مدینہ منورہ میں رہتے تھے، جب رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں سے واسطہ پڑا، ان سے دینی امور میں مباحثہ ہوتا رہتا تھا اور ایک مرتبہ نجران کے نصاریٰ بھی حاضر ہوئے ان سے بھی بحث ہوئی اور سورة آل عمران کے شروع کی تقریباً اسی آیات نازل ہوئیں جن میں مباہلہ کی دعوت بھی ہے جو آیت کریمہ (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَ اَبْنَآءَ کُمْ وَ نِسَآءَ نَا وَ نِسَآءَ کُمْ ) (الایہ) میں مذکور ہے۔ اہل مکہ مشرک تھے ان سے بھی بحث ہوتی رہتی تھی۔ سورة نحل میں تمام انسانوں سے دعوت حق کا خطاب کرنے کے لیے ارشاد فرمایا : (اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) اور یہاں سورة عنکبوت میں خصوصیت کے ساتھ اہل کتاب سے اچھے طریقے پر بحث کرنے کا حکم فرمایا ہے، اچھے طریقہ پر بحث کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سخت بات کا جواب نرمی کے ساتھ اور غصہ کا جواب بردباری کے ساتھ اور جاہلانہ شورو شغب کا جواب باوقار گفتگو کے ساتھ دیا جائے، حق کی تبلیغ ہو اور نرمی اور بردباری کے ساتھ ہو تو وہ زیادہ نافع ہوتی ہے، ہاں جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ لی ہو تو وہ خوش اخلاقی سے پیش آنے والے داعی کی بات بھی قبول نہیں کرتے لیکن داعی کو چاہیے کہ ہر حال میں حلم اور وقار، سنجیدگی اور نرمی پر قائم رہے مذکورہ بالا نصیحت کے ساتھ (اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) بھی فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ بےانصافی پر ہی اتر آئیں اور بھونڈے طریقہ پر گفتگو کرنے لگیں تو تم بھی انہیں ایسا جواب دے سکتے ہو جس سے ان کی بدتمیزی اور بیوقوفی کا کاٹ ہوتا ہو۔ صاحب روح المعانی نے حضرت مجاہد تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ الاَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ سے وہ اہل کتاب مراد ہیں جنہوں نے اللہ کے لیے بیٹا تجویز کیا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرایا یا جنہوں نے یوں کہا کہ (اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ) یا یوں کہا (یَدُاللّٰہِ مَغْلُوْلَۃٌ) ایسی باتیں سن کر مومن آدمی کو زیادہ غصہ آجاتا ہے، اس غصہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور عظمت ثابت کرتے ہوئے کوئی سخت بات نکل جائے تو اس کی گنجائش ہے۔ اس کے بعد فرمایا : (وَ قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بالَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ اِلٰھُنَا وَ اِلٰھُکُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ) (اور یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف نازل ہوا اور اس پر جو تمہاری طرف نازل ہوا اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں) اس خطاب میں اہل کتاب سے بات کرنے کا طریقہ بتایا ہے اور وہ یہ کہ تم اہل کتاب سے یوں کہو کہ ہم تو قرآن کریم پر بھی ایمان لاتے ہیں جو ہم پر نازل ہوا اور ان کتابوں پر بھی ایمان لاتے ہیں جو تم پر نازل ہوئیں یعنی تورات اور انجیل، اور ہمارا اور تمہارا معبود بھی ایک ہی ہے پھر تم دین اسلام سے دور کیوں بھاگتے ہو ؟ اگر تمہاری کتابوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب نہ مانتے اور ہمارا تمہارا معبود ایک نہ ہوتا تو اختلاف کرنے اور دور بھاگنے کی کوئی وجہ بھی تھی، جب کوئی وجہ اختلاف نہیں ہے تو آجاؤ اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آؤ، اختلاف ختم ہم تم ایک، جو کچھ انکار ہے تمہاری طرف سے ہے، اصحاب کتاب ہو کر اللہ کی آخری کتاب سے کیوں منہ موڑتے ہو ؟ دیکھو ہم تو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں تم بھی فرمانبردار ہوجاؤ اور اس کے آخری نبی ﷺ پر ایمان لے آؤ۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اہل کتاب تورات کو عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور مسلمانوں کے سامنے عربی میں اس کی تفسیر بیان کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (لا تصدقوا اھل الکتب ولا تکذبوھم وَ قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بالَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَ اِلٰھُنَا وَ اِلٰھُکُمْ وَّاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ) (اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب کرو اور یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف نازل ہوا اور اس پر جو تمہاری طرف نازل ہوا اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں) جب ہمیں معلوم نہیں کہ وہ سچ کہہ رہے ہیں یا جھوٹ تو ان کی تکذیب یا تصدیق کیسے کرسکتے ہیں۔ بعض صحابہ ؓ نے یہود سے جو بعض روایات لی ہیں (اور تفسیر کی کتابوں میں بھی نقل ہوگئی ہیں) وہ صرف تاریخی حیثیت سے لے لی گئی ہیں احکام شرعیہ اور حلال و حرام میں ان کا اعتبار نہیں کیا گیا۔
Ayah 29:47

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی، سو جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں، اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو اس پر ایمان لے آتے ہیں، اور کافر لوگ ہی ہماری آیتوں کا انکار کرتے ہیں

(وَ کَذٰلِکَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ ) اور جس طرح ہم نے پہلی کتابیں نازل کیں اسی طرح ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب نازل فرمائی یعنی قرآن مجید (فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ) (جن لوگوں کو ہم نے آپ سے پہلے کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں) اس سے وہ اہل کتاب مراد ہے جنہوں نے حق ظاہر ہوتے ہی حق کو قبول کیا اور اسلام لے آئے جیسے عبد اللہ بن سلام، سلمان فارسی اور حبشہ کے نصاریٰ (وَ مِنْ ھٰٓؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِہٖ ) (اور ان لوگوں میں سے یعنی قریش مکہ اور دیگر قبائل اہل عرب میں سے بعض لوگ قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں) (وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ اِلَّا الْکٰفِرُوْنَ ) (اور ہماری آیات کا وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو کافر ہیں) حق کو چھپاتے ہیں باطل پر جمے رہتے ہیں۔
Ayah 29:48

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور اس سے پہلے آپ کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو اہل باطل شک میں پڑجاتے۔

رسالت محمدیہ پر ایک واضح دلیل : اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایک واضح دلیل بیان فرمائی اور وہ یہ کہ آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، اہل مکہ میں آپ نے پورے چالیس سال گزارے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا، مکہ والے جانتے تھے کہ آپ بالکل امی ہیں کسی سے آپ نے کچھ بھی نہیں پڑھا، آپ نہ پڑھنا جانتے تھے نہ لکھنا۔ اہل کتاب بھی اپنی کتابوں میں جو آپ کی صفات پاتے ان میں یہ واضح طور پر موجود تھا کہ آپ امی ہوں گے۔ مکہ معظمہ میں آپ نے نبوت کے بعد تیرہ سال گزارے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی کتاب سنائی تو انہوں نے ضد اور عناد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہونے سے انکار کردیا اور یوں کہنے لگے کہ (اٍنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ) (انہیں ایک آدمی سکھاتا ہے) جب ان سے کہا گیا کہ تم اس جیسی ایک سورت بنا کر لاؤ تو بالکل عاجز رہ گئے حالانکہ وہ فصحاء اور بلغاء تھے، جس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ یہ کتاب آپ کی بنائی ہوئی نہیں ہے، آپ نے کسی سے پڑھا نہیں اور یہ کسی دوسرے بشر کی سکھائی اور پڑھائی ہوئی کتاب نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو لوگ اس جیسا کلام بنا کرلے آتے، خصوصاً جبکہ وہ شخص عجمی ہے جس کے بارے میں کہتے ہو کہ وہ آپ کو سکھاتا ہے ایک امی شخص جس نے کسی سے بھی نہیں پڑھا اس کا ایسی فصیح وبلیغ کتاب پیش کردینا جس کے مقابلہ سے بڑے بڑے فصحاء عاجز رہ گئے، اس کی نبوت کی صاف صریح اور واضح دلیل ہے۔ پھر جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں پہلے سے اہل علم یعنی یہود موجود تھے انہوں نے آپ کو پہچان لیا کہ یہ وہی نبی ہیں جن کی تشریف آوری کا ہمیں انتظار تھا، وہ لوگ آپ کی نشانیاں جانتے تھے اور اپنے اسلاف سے سنتے آ رہے تھے، ان نشانیوں میں یہ بھی تھا کہ آپ امی ہوں گے، امی ہوتے ہوئے آپ نے حضرات انبیاء سابقین اور ان کی امتوں کے واقعات بتائے اور جامع شریعت پیش کی، عقائد صحیحہ سے واقف کیا، یہود و نصاریٰ کی تحریفات سے آگاہ فرمایا، ان کی گمراہیوں پر مطلع کیا، یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ وہ علوم دے دئیے جو کسی کو نہیں دئیے۔ اس تمہید کے بعد اب آیت کا مفہوم سمجھیں، ارشاد فرمایا : (وَ مَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِہٖ مِنْ کِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ) (اور اس سے پہلے آپ کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے کتاب کو لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو باطل والے شک کرتے) یعنی انہیں شک کرنے اور یوں بات بنانے کا موقع مل جاتا کہ یہ تو پڑھے لکھے آدمی ہیں، اپنے پاس سے لکھ لیتے ہیں پھر یوں کہہ دیتے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے، لیکن جب آپ پڑھنا لکھنا جانتے ہی نہیں تو خود سے لکھنے کا احتمال ہی نہیں، لہٰذا اب یہ بات کہنے کا موقع نہیں رہا کہ انہوں نے یہ کتاب لکھ لی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردی ہے۔ (العیاذ باللہ)
Ayah 29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ قرآن بذات خود بہت سے واضح دلائل کا مجموعہ ہے ان لوگوں کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا، اور ہماری آیتوں کا انکار بےانصاف لوگ ہی کرتے ہیں۔

پھر فرمایا : (بَلْ ھُوَ اٰیٰتٌ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ) بلکہ بات یہ ہے کہ یہ کتاب یعنی (قرآن شریف) اگرچہ ایک کتاب ہے لیکن بہت سے معجزات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بہت بڑی دلیل ہے جو اپنی قوت و عظمت کی وجہ سے بہت سی واضح دلیلوں کا مجموعہ بنا ہوا ہے اور ان لوگوں کے دلوں میں ہے جن کو علم عطا کیا گیا ہے، (وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ ) (اور ہماری آیتوں کا انکار صرف بےانصاف لوگ ہی کرتے ہیں) باوجودیکہ قرآن معجزہ ہے اور اس کا اعجاز سب پر ظاہر ہے پھر بھی ظالم لوگ انکار پر تلے ہوئے ہیں۔ فائدہ : سورة اعراف میں خاتم النبیین ﷺ کے بارے میں (اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ ) فرمایا ہے، اور یہاں یوں فرمایا ہے کہ آپ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اور آپ کا یہ معجزہ تھا کہ امی ہوتے ہوئے آپ نے علوم کے سمندر بہا دئیے، یہ امتیازی صفت بطور معجزہ آخر تک باقی رہی جو ایک فضل و کمال کی بات ہے۔ بعض علماء نے یوں کہا ہے کہ آخر میں آپ لکھنا پڑھنا جان گئے، ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر صلح نامہ لکھا جا رہا تھا تو اس میں آپ کے کاتب حضرت علی ؓ نے ھٰذا ما قاضیٰ علیہ رسول اللہ ﷺ لکھ دیا مشرکین مکہ کے نمائندہ سہیل بن عمرو نے یوں کہا کہ محمد رسول اللہ نہ لکھا جائے بلکہ محمد بن عبد اللہ لکھا جائے اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مانتے ہوتے تو کوئی جھگڑے والی بات ہی نہ تھی نہ آپ سے قتال کرتے اور نہ آپ کو بیت اللہ سے روکتے، حضرت علی ؓ سے آپ نے فرمایا کہ محمد بن عبد اللہ لکھ دو ، اس وقت ان پر ادب کی شان غالب تھی اس لیے انہوں نے عذر کردیا، اس پر آنحضرت ﷺ نے ان کے ہاتھ سے ورقہ لے لیا اور خود ھذا ما قاضیٰ علیہ محمد بن عبد اللہ لکھ دیا، صحیح مسلم کی بعض روایات میں اسی طرح سے ہے۔ (صحیح مسلم جلد 2: ص 105) (یہ وہ دستاویز ہے جس پر اللہ کے رسول ﷺ نے معاہدہ کیا ہے۔ ) لیکن بعض علماء نے فرمایا کہ آپ نے حضرت علی ؓ کے علاوہ کسی دوسرے صحابی کو لفظ محمد بن عبد اللہ لکھنے کا حکم دیا اور اس حکم فرمانے کو راوی نے اس طرح تعبیر کیا کہ آپ نے لکھ دیا۔ درحقیقت یہ تاویل نہ بھی کی جائے تب بھی آپ کی طرف کتاب کی نسبت کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کے امی ہونے کی صفت باقی نہیں رہی کیونکہ بطور معجزہ کوئی چیز لکھ دینا دوسری بات ہے اور باقاعدہ پوری طرح کاتب ہونا یہ دوسری بات ہے بلکہ کتاب نہ جانتے ہوئے آپ کا لکھ دینا یہ مستقل معجزہ ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ آپ بعد میں کتابت سے واقف ہوگئے تھے اس میں اس سے زیادہ فضیلت نہیں ہے کہ آپ نے امی ہوتے ہوئے بھی لکھ دیا۔
Ayah 29:50

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں، آپ فرما دیجیے کہ نشانیاں اللہ کے اختیار میں ہیں، اور میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔

اس کے بعد فرمایا : (وَ قَالُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ) (اور انہوں نے کہا کہ ان پر نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں) ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ ہم جن معجزات کی فرمائش کرتے ہیں انہیں کیوں ظاہر نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرما دیا (قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِ ) (آپ فرما دیجیے کہ نشانیاں اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں) میرے اختیار کی چیزیں نہیں ہیں، (وَ اِنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ) (اور میں تو صرف واضح طریقہ پر ڈرانے والا ہوں) تمہارے فرمائشی معجزات لانا میرے اختیار میں نہیں ہے۔
Ayah 29:51

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا یہ بات انہیں کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جو ان پر پڑھی جاتی ہے، بلاشبہ اس میں رحمت ہے اور نصیحت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔

(اَوَ لَمْ یَکْفِھِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْھِمْ ) (کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی ان لوگوں پر تلاوت کی جاتی ہے) یہ کتاب سراپا معجزہ ہے اس کا اعجاز سب کے سامنے ہے، اگر کوئی منصف قبول حق کا ارادہ کرے تو اس کے لیے یہی قرآن بطور نشانی اور معجزہ کافی ہے (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَرَحْمَۃً وَّ ذِکْرٰی لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) (بلاشبہ اس قرآن میں بڑی رحمت ہے اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں) جن کو ایمان لانے سے گریز ہے وہ اس سے دور رہتے ہیں اور نصیحت حاصل کرنے سے کتراتے ہیں۔
Ayah 29:52

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ بس ہے، وہ ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اللہ کے منکر ہوگئے یہی لوگ نقصان والے ہیں۔

اہل باطل کی تکذیب اور تکذیب پر تعذیب رسول اللہ ﷺ کی باتوں پر منکرین کو یقین نہیں تھا، حالانکہ آپ کے معجزات ظاہر ہوتے رہتے تھے، اور سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ کافی ہے، تم مانو یا نہ مانو وہ میری رسالت کا گواہ ہے، آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ ان سب کو جانتا ہے، میں جو تم پر حق پیش کرتا ہوں اسے اس کا بھی علم ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو یعنی انکار اور تکذیب کے ساتھ پیش آتے ہو اسے اس کا بھی علم ہے، تمہیں حرکتوں کی سزا ضرور ملے گی اور تم بہت بڑے خسارہ میں پڑو گے۔ اسی کو فرمایا : (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بالْبَاطِلِ وَ کَفَرُوْا باللّٰہِ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ) (جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اللہ کے ساتھ کفر کیا یہی لوگ نقصان والے ہیں) نقصان بھی کتنا بڑا ؟ (خَسِرُوْا اَنْفُسَہُمْ وَاَھْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) قیامت کے دن اپنی جانوں سے بھی گئے اور گھر والوں سے بھی، جب جان دوزخ میں گئی تو جان کہنے کے لائق نہ رہی اور نہ کوئی اپنا رہا، عذاب سے چھوٹنے کا کوئی راستہ نہیں، یہ کتنا بڑا خسارہ ہے، منکرین کو سمجھ لینا چاہیے۔
Ayah 29:53

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور وہ لوگ آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور اگر مقررہ اجل نہ ہوتی تو ضرور ان کے پاس عذاب آجاتا، اور البتہ ان پر اچانک عذاب آپہنچے گا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔

منکرین اپنے کفر کو جرم نہیں سمجھتے تھے اور عذاب آجانے کی بات سنتے تھے تو اس کا یقین نہیں کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ عذاب آنا ہے تو جلد آجائے، اور ان کی مانگ کے مطابق فوراً عذاب نہ آنے کی وجہ سے آنحضرت سرور عالم ﷺ کی رسالت میں شک کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَ لَوْ لَآ اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآءَ ھُمُ الْعَذَابُ ) (اگر اللہ کے علم میں عذاب آنے کی میعاد مقرر نہ ہوتی تو ان پر عذاب آجاتا) جب اجل مقررہ کا وقت آجائے گا ان پر عذاب دفعۃً آجائے گا جس کی انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔ یہ عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے اور کافر کی موت کے وقت سے ہی عذاب شروع ہوجاتا ہے، موت کے وقت بھی عذاب، موت کے بعد برزخ میں بھی عذاب، قیامت کے دن بھی عذاب، دوزخ کا داخلہ وہاں عذاب اور دائمی عذاب، اوپر سے بھی عذاب اور نیچے سے بھی عذاب، دوزخ کافروں کو گھیرے گی ہر طرف سے عذاب ہی عذاب ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ تم جو عمل کیا کرتے تھے اس کا مزہ چکھ لو اور سزا بھگت لو۔
Ayahs 29:54–56

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ لوگ آپ سے جلدی عذاب آنے کا تقاضا کر رہے ہیں، اور بلاشبہ جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن ان کے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے ان پر عذاب چھا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ چکھ لو جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے وہ بندہ جو ایمان لائے ہو بلاشبہ میری زمین کشادہ ہے سو تم میری ہی عبادت کرو،

ہجرت کی اہمیت اور ضرورت معالم التنزیل (جلد 3 ص 472) میں علامہ بغوی ؓ نے لکھا ہے کہ آیت (یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا) (الآیۃ) ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مکہ معظمہ میں رہتے ہوئے اسلام قبول کرلیا تھا وہاں کے مقامی حالات کی وجہ سے (جو کافروں کی طرف سے دکھ تکلیف کی صورت میں پیش آتے رہتے تھے) اپنا ایمان ظاہر کرنے سے قاصر تھے، اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ میری زمین وسیع ہے فراخ ہے یہاں سے ہجرت کر جاؤ، دشمنوں کے خوف کی وجہ سے میری عبادت نہیں کرسکتے ہو تو اس شہر کو چھوڑ دو اور میری عبادت میں لگو۔ اس وقت مدینہ منورہ دارالہجرۃ تھا، رسول اللہ ﷺ اور بہت سے صحابہ مدینہ منورہ پہنچ گئے تھے اور اس سے پہلے بہت سے صحابہ حبشہ کی طرف ہجرت کرچکے تھے، کوئی شخص اللہ کے لیے وطن چھوڑ کر ہجرت کرنے کو آمادہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی ہے اور رہنے کا ٹھکانہ ملتا ہے، جیسا کہ سورة نساء میں فرمایا : (وَ مَنْ یُّھَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً ) (اور جو شخص اللہ کے لیے وطن چھوڑے وہ زمین میں جانے کی بہت سی جگہ پائے گا اور اسے کشادگی سے جگہ ملے گی) چونکہ وطن کو مستقل طریقہ پر چھوڑ دینا دنیاوی حالات کے اعتبار سے ایک مشکل چیز ہے اس لیے بعض لوگ ہجرت کرنے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے ان سے فرمایا کہ میری زمین بہت وسیع ہے ہجرت کرو اور میری عبادت کرو۔ ہجرت کرنے میں دو طرح کی تکلیفیں پیش آنے کا خطرہ ہوتا ہے، اول موت کا خطرہ (کافروں کی طرف سے حملہ آور ہونے کا قوی احتمال) اور دوسرے بھوکے مرجانے کا خطرہ۔ انسان سوچتا ہے کہ یہاں اپنے گھر میں کمائی کرتا ہوں، بیٹے بھی کماتے ہیں، تجارت چالو ہے، اپنی کھیتی باڑی ہے، وطن سے باہر نکلتا ہوں تو کھانے کو کہاں سے ملے گا ؟
Ayah 29:57

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے، پھر تم ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے۔

ہر جان کو موت چکھنی ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے دونوں باتوں کا جواب دے دیا، اول تو یہ فرمایا (کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِ ) کہ ہر جان کو موت چکھنی ہے کہیں بھی رہو موت اپنے مقرر وقت پر آجائے گی پھر موت سے کیا ڈرنا اور اس کے لیے ہجرت کو چھوڑنے کے کیا معنی ؟ (ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ) (پھر موت کے بعد ہمارے پاس آؤ گے) اگر ہجرت کرلی تو اس کا اجر پاؤ گے، اور اگر بالفرض ہجرت نہ کی تو سزا ملے گی۔
Ayah 29:58

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ہم انہیں ضرور ضرور جنت کے بالاخانوں میں ٹھکانہ دیں گے ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا۔

اس کے بعد اہل ایمان کے اجر وثواب کا تذکرہ فرمایا : (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) (الآیۃ) (اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ضرور ضرور ہم انہیں جنت کے بالا خانوں میں ٹھکانہ دیں گے، جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا) اتنی بڑی جنت کا چھوٹا سا گھر اور وطن مالوف چھوڑنے کے عوض مل جانا بہت بڑی کامیابی ہے۔
Ayahs 29:59–60

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے صبر کیا اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور کتنے ہی چوپائے ہیں جو اپنا رزق نہیں اٹھاتے اللہ انہیں اور تمہیں رزق دیتا ہے، اور وہ سننے والا ہے جاننے والا ہے۔

رزق مقدر ضرور ملے گا دوسری بات کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ کَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لَّاتَحْمِلُ رِزْقَھَا اَللّٰہُ یَرْزُقُھَا وَ اِیَّاکُمْ ) (زمین پر چلنے والے بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق نہیں اٹھاتے، اللہ ان کو رزق دیتا ہے) اس کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ جانور اپنا رزق ساتھ لیے نہیں پھرتے جہاں ہوتے ہیں اللہ ان کا رزق دے دیتا ہے، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ ذخیرہ نہیں رکھتے، جو ملا کھالیا آگے کی فکر نہیں کرتے نہ ان کے یہاں رزق جمع کرنے کا انتظام ہے نہ تحصیل رزق کی کوشش، وہ اسباب کے پیچھے نہیں پڑتے اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے رزق عطا فرماتا ہے، اسی طرح جب تم ہجرت کرو گے تو وہ تمہیں رزق دے گا اب تک جس نے کھلایا پلایا ہجرت کے بعد بھی وہی کھلائے پلائے گا۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم اللہ پر توکل کرتے جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق دیتا جیسے پرندوں کو رزق دیتا ہے، وہ صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ، مشکوٰۃ المصابیح ص 452) حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ رزق بندہ کو اس طرح طلب کرلیتا ہے جیسے اسے موت طلب کرلیتی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح 454) آخر میں فرمایا : (وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) (اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے) وہ سب کی باتیں سنتا ہے اور سب کے احوال جانتا ہے، جو شخص اخلاص کے ساتھ ہجرت کرے، سچے دل سے اللہ پر توکل کرے، اور جو شخص عذر کی وجہ سے ہجرت کرنے سے رکے، اور جو شخص محض دنیاوی مفاد کے پیش نظر ہجرت کے لیے نکلے، اللہ تعالیٰ کو ان سب کے احوال و اقوال معلوم ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو بہت سے لوگ مکہ معظمہ میں رہ گئے ان میں اصحاب عذر بھی تھے اور وہ لوگ بھی تھے جن کے لیے واقعی عذر نہ تھا، وہ ہجرت کرسکتے تھے، اس زمانے میں مدینے کے لیے ہجرت کرنا فرض تھا، جو شخص ہجرت نہ کرتا اس کا ایمان معتبر نہ سمجھا جاتا تھا، جب مکہ معظمہ فتح ہوگیا تو ہجرت کی فرضیت منسوخ ہوگئی، لیکن مختلف احوال کے اعتبار سے ہمیشہ ایسے احوال مسلمانوں کے لیے پیش آتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے ایمان اور اعمال باقی رکھنے کے لیے ہجرت کرنا فرض ہوجاتا ہے لیکن گھر بار، مال، جائیداد اور رشتہ داروں کی محبت میں وطن نہیں چھوڑتے، ایسی جگہوں میں رہتے ہیں جہاں اذان بھی نہیں دے سکتے، نماز بھی نہیں پڑھ سکتے مگر دنیا کی محبت انہیں ہجرت نہیں کرنے دیتی، ایسے لوگ تارک فرض ہوتے ہیں۔ (تفصیل کے لیے سورة نساء کا مطالعہ کیجیے) (انوار البیان ج 2)
Ayah 29:61

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور چاند اور سورج کو کس نے مسخر کیا تو ضرور جواب دیں گے کہ اللہ نے، سو وہ پھر کہاں الٹے جا رہے ہیں۔

توحید کے دلائل جو لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو بھی شریک کرتے تھے ان کے بارے میں فرمایا کہ اے نبی ﷺ اگر آپ ان لوگوں سے دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور چاند اور سورج کو کس نے مسخر کیا اور انہیں ایک طریقہ خاص پر کس نے کام میں لگایا تو یہ لوگ اس کا یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ کیا ہے، جب اقرار بھی ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ نے ہی کیا ہے تو پھر کہاں الٹے پاؤں جا رہے ہیں، یعنی توحید کو چھوڑ کر شرک کو کیوں اختیار کررہے ہیں ؟ خالقیت میں جس طرح اللہ کا کوئی شریک نہیں اسی طرح صفت رزاقیت میں بھی کوئی شریک نہیں، وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے رزق وسیع کردے یعنی رزق میں فراخی دیدے اور جس کے لیے چاہے رزق تنگ کردے، بہت سے لوگ بڑی بڑی محنتیں کرتے ہیں، مشقتیں اٹھاتے ہیں مگر ان کا رزق تنگ ہی رہتا ہے، اور بہت سے لوگ کچھ بھی نہیں کرتے انہیں بہت زیادہ وسعت کے ساتھ رزق ملتا ہے، اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ رزق سے زیادہ کسی کو کچھ نہیں ملتا۔ اس کے بعد سبب رزق کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اگر آپ ان سے سوال کریں کہ بتاؤ آسمان سے کس نے پانی اتارا ؟ پھر اس پانی کے ذریعہ کس نے زمین کو زندہ کردیا جبکہ زمین مرچکی تھی یعنی خشک ہونے کی وجہ سے کوئی چیز اگانے کے قابل نہ تھی، تو یہی جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی نے کیا ہے۔ (قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ ) (آپ فرما دیجیے کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے) پیدا بھی اسی نے فرمایا اور نعمتیں بھی اس نے دیں رزق بھی وہی دیتا ہے زمین بھی وہی زندہ فرماتا ہے جب وہی فاعل مختار ہے، خالق ومالک ہے اور رزاق بھی وہی ہے تو پھر عبادت بھی صرف اسی کی کرنا لازمی ہے، یہ ان سب باتوں کا اقرار کرتے ہیں لیکن عقل سے کام نہیں لیتے، غور و فکر نہیں کرتے، تھوڑے سے ہی افراد ہیں جو سمجھ سے کام لیتے ہیں، اسی لیے فرمایا (بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ )
Ayahs 29:62–64

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردیتا ہے بلاشبہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ کس نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر زمین کی موت کے بعد پانی کے ذریعہ اس کو زندہ کیا تو وہ ضرور ضرور جواب دیں گے کہ اللہ نے، آپ فرما دیجیے کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، بلکہ ان میں اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا والی زندگی نہیں ہے مگر لہو و لعب، اور بلاشبہ آخرت والا گھر ہی زندگی ہے، کاش لوگ جانتے ہوتے۔

دنیا والی زندگی لہو و لعب ہے، حقیقی زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے اس آیت کریمہ میں دنیا کی فنا اور آخرت کی بقا کو اجمالی طور پر بیان فرمایا ہے اور مشرکین و کافرین کی ناسمجھی اور نادانی اور بےعقلی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی جتنی بھی دراز ہوجائے اور اس میں جتنی بھی نعمتیں مل جائیں سب ہیچ ہیں۔ کیونکہ انسان کی اصل ضرورت آخرت کی ضرورت ہے جہاں دوام ہے اور ابدی زندگی ہے، وہاں کی دائمی زندگی اور ابدی نعمتوں کے سامنے یہ فنا ہونے والی دنیا جو وہاں کچھ بھی کام نہ کرے گی بالکل لہو و لعب ہے، جیسے بچے آپس میں کھیلتے ہیں، ہوٹل بھی کھولتے ہیں، دکاندار بن کر بھی بیٹھتے ہیں، کھانے پینے کی چیزیں بھی بیچتے ہیں، پھر جب بھوک لگتی ہے تو اپنی ماں کے پاس آجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امی جان کھانا دے دیجیے، اگر والدہ ان سے پوچھے کہ تم تو ابھی ہوٹل کھولے ہوئے تھے، روٹی سالن فروخت کر رہے تھے اسی میں سے کھالیتے، اب مجھ سے کیوں مانگ رہے ہو ؟ تو بچے جواب دیں گے کہ وہ تو ایک کھیل تھا حقیقت نہیں تھی۔ اسی طرح اہل دنیا کا حال ہے کہ دنیا میں لگتے ہیں اسی کے لیے جیتے ہیں اسی کے لیے مرتے ہیں، مال بھی جمع کرتے ہیں، جائیدادیں بھی بناتے ہیں پھر موت کے وقت سب کچھ یہیں چھوڑ جاتے ہیں، اس مال و جائیداد سے جو یہاں کی تھوڑی بہت حاجت پوری ہوجاتی ہے آخرت کی حاجتوں کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں، وہاں پہنچیں گے تو یہاں کی جائیداد اور مال و اولاد کچھ بھی کام نہ آئیں گے وہاں تو ایمان اور اعمال صالحہ کی قیمت لگے گی اور یہاں وہاں کی اصل ضرورت پورا کرنے کا ذریعہ بنیں گے، وہاں کی ضرورت دوزخ سے بچنا ہے (یہ دفع مضرت ہے) اور جنت میں داخل ہونا ہے (جو جلب منفعت ہے) وہاں کی ان دونوں ضرورتوں کے لیے جب دنیاوی چیزیں کام نہ آئیں تو ساری دنیا کھیل ہی ہوئی جس سے واقعی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں، اگر دوزخ کے دائمی عذاب سے بچنے کا انتظام کرکے دنیا نہ سدھارے اور خدانخواستہ وہاں عذاب میں گرفتار ہوئے تو اس وقت سمجھ میں آئے گا کہ دنیا واقعی لہو ولعب تھی، وہاں حسرت اور افسوس کے سوا کچھ نہ ہوگا جو کچھ کرنا ہے یہیں سے لے کر جانا ہے۔ دنیا کو لہو و لعب بتانے کے بعد یوں فرمایا (وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ ) (اور بلاشبہ دار آخر ہی زندگی ہے) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو جنت کا داخلہ ملے گا، وہ ہمیشہ نعمتوں میں رہیں گے، نہ کبھی موت آئے گی نہ نعمتیں چھینی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان سے راضی رہے گا۔ درحقیقت وہی زندگی کہنے کے قابل ہے۔ کافر کی نہ دنیاوی زندگی کہنے کے قابل ہے کیونکہ فانی ہے اور مکروہات، مشکلات، مکدرات، مصائب و آلام، امراض و اسقام سے بھری ہوئی ہے، اور نہ اس کی آخرت کی زندگی زندگی ہے کیونکہ وہاں تو عذاب ہی عذاب ہے۔ سورة الاعلیٰ میں فرمایا ہے (ثُمَّ لاَ یَمُوْتُ فِیْہَا وَلاَ یَحْیٰی) (پھر وہ اس میں نہ مرے گا نہ جئے گا) دوزخ کی بھی کوئی زندگی ہے ؟ آخر میں فرمایا (لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ) اگر یہ حیات دنیویہ اور دار آخرت کو جان لیتے اور دونوں میں جو فرق ہے اسے سمجھ لیتے تو دنیا کو زندگی کا مقصد نہ بناتے۔
Ayah 29:65

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

سو جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خوب خالص اعتقاد کرکے اللہ کو پکارنے لگتے ہیں، پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو اچانک شرک کرنے لگتے ہیں

مشرکین کی ناشکری اور ناسپاسی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ آڑے وقت میں تمام باطل معبودوں کی طرف سے ذہن ہٹا لیتے ہیں اور خالص اعتقاد کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مصیبت دفع کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ یہاں بطور مثال ان کی حالت بیان فرمائی ہے اور وہ یہ کہ جب کشتی میں سوار ہوں اور تیز ہوا چلنے لگے جس سے کشتی ڈگمگانے لگے اور ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہوجائے تو صرف اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ : (لَءِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ ھٰذِہٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ ) (اگر آپ نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے) جب مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو بڑے سچے وعدے کرتے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ مصیبت سے نجات دے دیتا ہے تو پھر وہی ناشکری اور کفر و شرک اختیار کرلیتے ہیں۔ اسی کو فرمایا (فَلَمَّا نَجّٰھُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَا ھُمْ یُشْرِکُوْنَ ) (سو جب اللہ انہیں نجات دے کر خشکی میں لے آتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں) (لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰھُمْ ) (تاکہ وہ ان نعمتوں کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں دی ہیں) (وَ لِیَتَمَتَّعُوْا) (اور تاکہ مزے اڑاتے رہیں) دنیا کے اشغال اور لذات اور مزوں کے کاموں میں لگے رہیں، مصیبت ٹل جانے پر سارے وعدہ بھول جاتے ہیں، (فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) (سو عنقریب جان لیں گے کہ کفر و شرک اختیار کرنے اور اپنے وعدہ کو بھول بھلیاں کرنے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے) یہ نتیجہ عذاب کی صورت میں سامنے آجائے گا۔
Ayahs 29:66–67

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ ان چیزوں کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں دی ہیں اور تاکہ مزے اڑالیں، سو وہ عنقریب جان لیں گے،

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا ہے اور ان کے گردو پیش کے لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔

اہل مکہ پر امن وامان کا خصوصی انعام اہل مکہ بھی شرک میں مبتلا تھے، اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام فرمایا تھا کہ وہ امن و چین سے اپنے شہر میں رہتے تھے جبکہ عرب کے دوسرے علاقوں میں لڑائیاں رہتی تھیں قتل خون لوت مار غارٹ گری کا سلسلہ قبائل عرب میں جاری تھا۔ اہل عرب اگرچہ مشرک تھے لیکن حرم مکہ کو محترم جانتے تھے اور اہل مکہ پر کوئی حملہ نہیں کرتے تھے، اہل مکہ پر اس کی قدر دانی کرنا لازم تھا، جب نبی کریم ﷺ نے توحید کی دعوت دی تو انہیں سب سے پہلے مسلمان ہونا چاہیے تھا، ان پر لازم تھا کہ انہیں امن وامان سے رکھنے پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نبی مبعوث ہوا جو کہ انہیں میں سے تھا اس پر ایمان لے آتے لیکن وہ حسب سابق باطل معبودوں کی پرستش میں لگے رہے جن کی عبادت میں پہلے سے مشغول تھے۔ اسی کو فرمایا (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا) (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو امن والی جگہ بنادیا) (وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِھِمْ ) (اور ان کے آس پاس لوگوں کو اچک لیا جاتا ہے) (اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ ) (کیا باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوتے ہیں) (وَ بِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَکْفُرُوْنَ ) (اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ) مشرکین کا عجیب حال تھا اور اب بھی ہے کہ پیدا تو اللہ نے فرمایا اور وہی رزق دیتا ہے اور پرورش فرماتا ہے اور حاجتیں پوری فرماتا ہے جس کا اقرار بھی کرتے ہیں لیکن پھر بھی کفر و شرک اختیار کیے رہتے ہیں۔
Ayah 29:68

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب وہ اس کے پاس آجائے، کیا دوزخ کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے،

مشرکین کا یہ کہنا کہ اللہ کے لیے شریک ہے، یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت ہے اور افتراء ہے، اسی کو یہاں فرمایا ہے (وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہٗ ) (اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق آجانے پر اس کو جھٹلائے) (اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ ) (کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے) یہ استفہام تقریری ہے مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اس کو استفہام کی صورت میں بیان کیا تاکہ خوب سوچ لیں اور اپنا انجام اور واقعی واصلی ٹھکانہ جان لیں۔