Ayahs 53:33–4133۔ 41۔ تفسیر مقاتل تفسیر ابن جریر 3 ؎ تفسیر خازن وغیرہ میں جو مجاہد وغیرہ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص ولید بن مغیرہ اسلام کی طرف مائل ہوگیا تھا اس کا یہ حال دیکھ کر مشرکین مکہ نے اس کو طرح طرح سے بہکایا اور ان میں سے ایک شخص نے ولید سے یہ بھی کہا کہ تو مجھ کو اتنے روپے دے دے اور اسلام سے پھر جا۔ اگر قیامت سچ ہوئی اور اسلام سے پھرجانے کے بدلہ میں تیرے اوپر کچھ عذاب ہوا تو وہ عذاب میں اپنے ذمہ لے لوں گا اس بہکانے سے ولید اسلام سے پھر گیا اور اس بہکانے والے شخص سے جس قدر روپے ٹھہرے تھے اس میں سے کچھ تو اس شخص کو دیئے اور کچھ روک رکھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اور پہلے تو ولید کے حق میں فرمایا اے رسول ﷺ اللہ کے اس شخص کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ راہ راست پر آ کر اپنی بےوقوفی سے اس سے پھر گیا اور پھر وہ بیوقوفی بھی ادھوری چھوڑ دی کہ اس جھوٹے قرار داد کے روپے بھی پورے ادا نہیں کئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس قرار داد کی رو سے بھی اس نے اپنے آپ کو عذاب سے پورا سبکدوش نہیں کیا اس کے بعد اس بہکانے والے شخص کے حق میں فرمایا کہ کیا اس کو علم غیب ہے کہ ایک شخص کا عذاب دوسرا شخص اپنے ذمہ لے لے تو یہ ذمہ داری صحیح ہوجاتی ہے۔ شریعت محمدی کے تو اہل مکہ منکر تھے لیکن سوائے شریعت محمدی کے اہل مکہ کے نزدیک اس زمانہ میں دو شریعتیں مشہور تھی ایک تو توارۃ کے موافق شریعت موسوی دوسرے مشرکین مکہ برائے نام اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اس لئے فرمایا کہ ان دونوں مشہور شریعتوں میں بھی اس طرح کی ذمہ داری کے صحیح ہونے کا کہیں پتا نہیں ہے بلکہ اس کے برخلاف ان دونوں شریعتوں میں یہ ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کے گناہوں کا بوجھ دوسرا نہ اٹھائے گا۔ ہر شخص اپنا کیا خود بھگتے گا اور اپنے کئے کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری پوری پوری کی۔ اس لئے ابراھیم الذی ونی فرمایا۔ ابوجعفر ابن 1 ؎ جریر نے دنی کے یہی معنی قتادہ وغیرہ کی روایت سے بیان کئے ہیں جن کا ذکر کیا گیا۔ مفسروں نے وان لیس للانسان الا ما سعی کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت میں کافر انسان مقصود ہے۔ کلمہ گو گناہ گاروں کی شفاعت کے باب میں جو صحیح حدیثیں ہیں ان سے اور اس قسم کی اور آیات اور حدیثوں سے اس تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے۔ اس لئے یہی تفسیر صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس تفسیر سے تمام آیات اور احادیث میں مطابقت اچھی طرح ہوجاتی ہے مثلاً اس آیت اور حدیث ابوہریرہ سے جو سب 2 ؎ صحاح کی کتابوں میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو آپ کی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت اللہ تعالیٰ نے دی اور استغفار کی اجازت نہیں دی اور آیت والذین جاء وا من بعدھم یقولون ربنا اغفرلنا ولا خواننا الذین سبقونا بالایمان اور حدیث بریدہ جو صحیح 3 ؎ مسلم مسند امام احمد اور ابن ماجہ میں ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو قبرستان کی زیارت کے وقت اہل ایمان صاحب قبور کے لئے مغفرت کی دعا کی اجازت دی ہے ان سب آیات اور حدیثوں کو ایک جگہ کیا جائے تو ان میں ایک طرح کا اختلاف پیدا ہوجاتا ہے لیکن مغفرت کی دعا کی آیات اور حدیثیں اہل اسلام کے حق میں اور ممانعت کی آیات اور حدیثیں غیر اہل اسلام کے حق میں سمجھی جائیں تو پھر یہ اختلاف رفع ہوجاتا ہے اور سب آیات اور احادیث میں مطابقت پیدا ہوجاتی ہے اور حاصل مطلب یہ ٹھہرتا ہے کہ اہل اسلام کو مرنے کے بعد دوسرے شخص کے نیک عمل کا فائدہ پہنچتا ہے غیر اہل اسلام کو نہیں پہنچتا کیونکہ اس کے کفر کے سب سے خود اس کی ذات کے نیک عمل کا نہ کچھ ثواب اس کو ملتا ہے نہ دوسرے شخص کے عمل کا۔ چناچہ سورة فرقان میں گزر چکا ہے کہ قیامت کے دن اہل کفر اور ریا کاروں کے عمل کچھ کام نہ آئیں گے۔
(3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 129 ج 6۔ )
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 129 ج 6۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم فصل فی جواز زیارۃ جواز زیارۃ قبور المشرکین الخ ص 314 ج 1۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم فصل فی جواز زیارۃ جواز زیارۃ قبور المشرکین الخ ص 314 ج 1۔ )
Ayahs 53:42–5542۔ 55۔ تیرے رب کی طرف پہنچتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا یہ سب تو ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے ہے اب جبکہ دنیا میں ہر صاحب عقل مثلاً مکان کا بنانا باغ کا لگانا اور اس قسم کے جو کام کرتا ہے وہ کسی نتیجہ کو پیش نظر رکھ کر کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمت سے یہ بعید ہے کہ اس نے دنیا کے اتنے بڑے کارخانہ کو بغیر کسی نتیجہ کے یوں ہی بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا سارا کارخانہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے نیک و بد کے حساب اور جزا و سزا کے لئے تمام مخلوق کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑا ہونا پڑے گا تاکہ دنیاکا پیدا کیا جانا بےٹھکانے نہ رہے ‘ جو لوگ اس کے منکر ہیں ان کی عقل ٹھکانے نہیں ہے مسند بزار اور 1 ؎ طبرانی کی معاذ بن جبل ؓ کی صحیح حدیث اوپر گزر چیک ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ عمر اور جوانی کس کام میں صرف کی عمل کیا کیا کئے۔ روپیہ پیسہ کیونکر کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ ان باتوں کے جواب کے لئے ہر ایک انسان کو ضرور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑا ہونا پڑے گا۔ یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے وہی ہنساتا رلاتا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خوشی اور غمی کے سبب ایسے پیدا کئے ہیں جن سے اس کی بہت بڑی قدرت ظاہر ہوتی ہے اور انسان کو ان سے اللہ تعالیٰ کے پہچاننے کا بڑا موقع ملتا ہے مثلاً بڑے سے بڑے امیر شخص کو عزیروں کے مرنے یا کسی سخت مرض وغیرہ کے سبب سے کبھی ایسا رنج و غم پیش آجاتا ہے کہ ہر گھڑی اسے رونے سے کام رہتا ہے اس کا مال اس کے یار و مددگار اس کے ہنسی خوشی رہنے کی کوئی صورت نہیں نکال سکتے اور کبھی غریب سے غریب آدمی کو ایسی ہنسی خوشی سے رہنے کا ایسا سامان غیب سے پیدا ہوجاتا ہے کہ جو بیان سے باہر ہے مگر اتنی بات ہے کہ خود دنیا ناپائیدار اور اس کی خوشی اور رنج یہ سب ہری بھری چھائوں ہے وہ شخص بڑے ٹوٹے میں ہے جس نے یہاں کے عارضی ہنسی خوشی سے رہنے کے خیال میں عقبیٰ کا ہمیشہ کا رونا مول لیا۔ ابن 2 ؎ ماجہ میں انس بن مالک ؓ سے اور مستدرک 3 ؎ حاکم میں عبد اللہ بن قیس سے جو روایتیں ہیں۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب روتے روتے اہل دوزخ کے آنسو سوکھ جائیں گے تو آنسوئوں کی جگہ ان کی آنکھوں سے خون بہنے لگے گا مگر وہاں کا رونا کچھ کام نہ آئے گا۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی یزید بن ابان رقاشی ہے جس کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن ابن معین اور ابن عدی نے اس کو ثقہ کہا ہے۔ وہی ہے مارتا اور جلاتا کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کی عمر پوری ہوجانے کے بعد اس کا مرنا اور اس میں انسان کا لاچار ہونا یہ تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے پھر جس کی قدرت میں یہ ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مرنے کے بعد نیک و بد کے حساب و کتاب کے لئے انسان کو پھر دوبارہ پیدا کرے۔ جو لوگ اس کے منکر ہیں وہ خدا کو جھٹلاتے ہیں۔ قیامت کے دن جس کا خمیازہ بھگتیں گے ابوہریرہ ؓ 1 ؎ کی صحیح حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسان نے مجھ کو جھٹلایا میں نے اپنے کلام میں اس کے دوبارہ پیدا کرنے کی خبر دی اور وہ اس کا منکر ہے۔ ایک قطرہ منی عورت کے رحم میں جا کر کبھی اس سے لڑکا پیدا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی یہ بھی اللہ کی ایک قدرت ہے جس میں انسان کا کچھ اختیار نہیں ورنہ جو لوگ لڑکی کے پیدا ہونے کو اچھا نہیں سمجھتے ہیں وہ لڑکی کے نہ پیدا ہونے کا ضرور کوئی علاج کرتے۔ اس پر لازم ہے دوسرا اٹھانا کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اللہ پر کوئی چیز لازم نہیں لیکن جب اس نے اپنے کلام میں انسان کے دوبارہ پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے تو اس پر اس وعدہ کا پورا کرنا لازم ہے۔ اسی نے دولت دی اور پونجی کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں امیر و غریب بھی اللہ کی قدرت کی ایک نشانی ہے کہ کسی کے پاس حد سے زیادہ دولت ہے اور کوئی غریبانہ پونجی گزر کے قابل رکھتا ہے لیکن دنیا کا وہ امیر بڑا بےنصیب ہے جس نے یہاں کی امیری کے نشہ میں اپنی عقبیٰ خراب کرلی۔ کیونکہ عقبیٰ کی تکلیف کے آگے دنیا کی امیری کی راحت تو کبھی یاد بھی نہ آئے گی اور عقبیٰ کی ناقابل برداشت تکلیف اس نشہ کے طفیل سے ایسے لوگوں کو اٹھانی پڑے گی۔ چناچہ صحیح مسلم 2 ؎ کی انس ؓ بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے امیر جو دنیا کی راحت میں پھنس کر عقبیٰ سے غافل رہے اور آخر کو دوزخی قرار پائے۔ دوزخ کے پہلے ہی جھونکے میں دنیا کی سب راحت بھول جائیں گے وہی ہے رب شعریٰ کا۔ شعری ایک بہت بڑا تارا ہے جس کو عرب کے بعض قبیلے اسلام سے پہلے پوجا کرتے تھے۔ اس تارہ کی چال اور تاروں سے الگ ہے اور تاروں کی چال آسمان کی چوڑائی میں ہے اور یہ تارہ آسمان کی لمبائی کو طے کرتا ہے اس نادر بات کو اس تارے میں دیکھ کر ایک شخص ابو کبشہ نے عرب میں اس تارے کی پرستش کا رواج پھیلایا۔ جس طرح ابو کبشہ نے شعری کی پرستش کا ایک نیا رواج عرب میں پھیلایا اسی طرح اسلام کو ایک نیا رواج خیال کرکے اہل مکہ آنحضرت ﷺ کو ابن ابی کبشہ کہا کرتے تھے۔ 1 ؎ یہ ابو کبشہ آنحضرت ﷺ کی کئی پشت پرے کا نانا ہے جو قبیلے شعری کی پوجا کرتے تھے ان کو اس آیت میں یہ تنبیہ فرمائی کہ جس کی قدرت میں شعریٰ کا پیدا کرنا اس کا طلوع و غروب اس کی انوکھی چال کا مقرر کرنا ہے عبادت کے قابل وہ وحدہ لاشریک ہے۔ شعریٰ کو خدا کی خدائی میں کچھ دخل نہیں جو اس کو خدا کا شریک قرار دیا جائے۔
اب آگے چند پچھلی قوموں کے عذاب میں پکڑے جانے اور ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر قریش کو یہ تنبیہ فرمائی کہ اگر یہ لوگ اپنی سرکشی اور اللہ کے رسول کی مخالفت سے باز نہ آئیں گے تو ان ہی قوموں کا سا انجام ان کا ہوگا ان قوموں کے قصے تفصیل سے اوپر گزر چکے ہیں۔ فبای الاء ربک تتماری میں پچھلی امتوں کی ہلاکت کے ذکر کو نعمت شمار کرنے کا یہ مطلب ہے کہ پچھلے لوگوں کی بری عادت سے حال کے لوگوں کو آگاہ کردینا بھی حال کے لوگوں کے لئے ایک بےبہا نصیحت کی نعمت ہے۔
(1 ؎ الترغیب والترہیب فصل فی ذکر الحساب وغیرہ ص 756 ج 4۔ )
(2 ؎ الترغیب والترہیب فصل فی بکاء ھم و شھیقہم ص 918 ج 4۔ )
(3 ؎ الترغیب والترہیب فصل فی بکاء ھم و ثھیقہم ص 919 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة قل ہو اللہ احد۔ ص 743 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة قل ہو اللہ احد۔ ص 743 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب کیف کان بدا الوحی الخ ص 5 ج 1۔
Ayahs 53:56–6256۔ 62۔ مشرکین مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول اور صحف ابراہیمی کو وحی آسمانی اور اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا پابند جانتے تھے اس لئے فرمایا کہ جب تم لوگ انسان کا اللہ کا رسول ہونا اور اس پر اللہ کے کلام کا نازل ہونا مانتے ہو تو پھر نبی آخر الزمان کے رسول اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں تم لوگوں کو تعجب کس بات کا ہے۔ اللہ کے انتظام میں ہر چیز کی دنیا میں عمر مقرر ہے اس لئے دنیا کی جو عمر مقرر کی گئی ہے وہ اب ختم ہونے کو ہے اور اس کے ختم پر قیامت آنے والی ہے جس طرح اس وقت دنیا کے کاروبار میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں اس طرح لگے رہیں گے کہ ایک دفعہ ہی دنیا کے اجڑنے کا صور پھونک دیا جائے گا۔ عقبہ بن عامر کی حدیث معتبرسند سے طبرانی 2 ؎ میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خریدو فروخت کے لئے کپڑے کے جو تھان بازار میں دکان دار کھول کر پھیلائے گا اس کو لپیٹنا اور دودھ والے جانوروں کا دودھ دوھ کر اس کا پینا اور آب نوشی اور آپ پاشی کے ذریعوں کی مرمت کرکے ان کے پانی کا برتنا نصیب نہ ہوگا کہ آن واحد میں قیامت قائم ہوجائے گی۔ قیمت کی سختیاں جب سر پر آجائیں گی تو سوا اللہ تعالیٰ کے ان کو کوئی ٹال نہ سکے گا مشرک کے لئے خدا کا وعدہ ہے کہ اس دن اس کی کوئی سختی نہ ٹالی جائے گی۔ ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر اہل مکہ نے گھر گھر جو بٹ پرستی کا شرک پھیلا رکھا ہے اس کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے نبی آخر الزمان کو آخری شریعت دے کر بھیجا ہے مگر ازلی کم بختوں کی کم بختی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ اللہ کی شریعت کو ہنسی کھیل میں اڑاتے ہیں پھر جو لوگ راہ راست پر آگئے تھے ان کو فرمایا کہ ان ازلی کم بختوں کو بتوں کے آگے سر جھکانے دو تم خالص دل سے اللہ کے آگے سر جھکاؤ بدنی مالی ہر طرح کی عبادت میں نیت کا خالص رکھنا نہ چھوڑو صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن مسعود ؓ اور عبد اللہ بن عباس کی جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سورة النجم پڑھی اور اس کے آخر پر سجدہ کیا۔ اور اس وقت جو مسلمان آپ ﷺ کے پاس موجود تھے سب نے سجدہ کیا فقط قریش میں کے ایک عمر رسیدہ شخص نے بجائے سجدہ کے اپنی ہتھیلی پر ذرا سی مٹی لے کر اس مٹی پر اپنی پیشانی ٹکص لی۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ یہ شخص حالت کفر میں مارا گیا۔ بخاری 2 ؎ کی عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ سجدہ کی سورتوں میں و النجم پہلی سورت ہے اور جس شخص نے سجدہ نہیں کیا وہ امیہ بن خلف تھا۔ صحیحین 3 ؎ میں زبد بن ثابت سے روایت ہے کہ میں نے سورة النجم آنحضرت ﷺ کو پڑھ کر سنائی اور آپ نے سورة کے آخر پر سجدہ نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس سورة میں سجدہ کا جو حکم ہے وہ سجدہ تلاوت کا حکم ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے۔ بخاری کی 4 ؎ عبد اللہ بن عباس کی روایت میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ مشرکین مکہ کے سجدہ کرنے کا جو ذکر ہے اس کا تفصیلی قصہ سورة حج میں گزر چکا ہے۔ 5 ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت سورة النجم مکہ میں نازل ہوئی اور آنحضرت ﷺ نے سورة کو مشرکین کے رو برو پڑھا اور اس آیت تک پہنچنے جس میں لاۃ غزی اور مناۃ بتوں کا نام ہے تو شیطان نے آنحضرت ﷺ کی قرأت کے سکتہ کے وقت کچھ کلمے ایسے پڑھ دیئے جن سے ان بتوں کی تعریف اور ان کی شفاعت کا ذکر نکلتا تھا مشرکین مکہ نے جب اپنے بتوں کی تعریف سنی تو اس سے خوش ہو کر آخر سورة پر آنحضرت ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا۔ اس کے بعد فوراً حضرت جبرئیل اللہ تعالیٰ کے حکم سے آئے اور انہوں نے شیطان کی اس شرارت کا حال کھول دیا۔ شیطان کی یہ شرارت ایسی تھی جیسے اس نے جنگ احد میں آنحضرت ﷺ کے شہید ہوجانے کی خبر لوگوں کے کان میں پھونک دی تھی۔ محی الدین ابن عربی ‘ قاضی عیاض اور بعض علماء نے اگرچہ اس قصہ کے صحیح ہونے میں کلام کیا ہے مگر اس قصے کو کئی سندوں سے معتبر راویوں نے مرسل طور پر روایت کیا ہے بغیر صحابی کے ذکر کے تابعی شخص آنحضرت ﷺ سے کوئی روایت کرے تو اس کو مرسل کہتے ہیں اس مرسل روایت کے تین طریقہ صحیح کی شرط پر ہیں جس سبب سے ایک روایت کو دوسری روایت سے تقویت ہو کر اس قصہ کو بےاصل نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
(2 ؎ الترغیب والترہیب فصل فی النفح فی الصور الخ ص 727 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة النجم ص 721 ج 2 و صحیح مسلم باب سجود التلاوۃ ص 215 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة النجم ص 721 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم۔ باب سجود التلاوۃ ص 215 ج 1‘ و صحیح بخاری باب من قرأ السجدۃ ولم یسجد ص 146 ج 1۔ )
(4 ؎ دیکھئے صفحہ گزشتہ )
(5 ؎ تفسیر ہذا جلد 4 ص 84)