26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاحسن البیان

Ayahs 26:116–120

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے نوح ! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا۔

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

آپ نے کہا اے میرے پروردگار ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا۔

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے باایمان ساتھیوں کو نجات دے۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

چناچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی۔

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

بعد ازاں باقی تمام لوگوں کو ڈبو دیا 1

120-1یہ تفیصلات کچھ پہلے بھی گزر چکی ہیں اور کچھ آئندہ بھی آئیں گی کہ حضرت نوح ؑ کی ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ کے باوجود ان کی قوم کے لوگ بد اخلاقی اور اعراض پر قائم رہے، بالآخر حضرت نوح ؑ نے بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا اور اس میں مومن انسانوں، جانوروں اور ضروری سازو سامان رکھنے کا حکم دیا اور یوں اہل ایمان کو بچا لیا گیا اور باقی سب لوگوں کو حتٰی کہ بیوی اور بیٹے کو بھی، جو ایمان نہیں لائے تھے، غرق کردیا گیا۔
Ayahs 26:121–123

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے تھے بھی نہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار البتہ وہی ہے زبردست رحم کرنے والا۔

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا 1

123-1عاد، ان کے جد اعلٰی کا نام تھا، جس کے نام پر قوم کا نام پڑگیا۔ یہاں عاد قبیلہ تصور کر کے کَذَّبَتْ (صیغہ مؤنث) لایا گیا ہے۔
Ayah 26:124

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود 1 نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں ؟۔

124-1ہود ؑ کو بھی عاد کا بھائی اس لئے کہا گیا ہے کہ ہر نبی اسی قوم کا ایک فرد ہوتا ہے، جس کی طرف اسے مبعوث کیا جاتا تھا اور اسی اعتبار سے انھیں اس قوم کا بھائی قرار دیا گیا۔ جیسا کہ آگے بھی آئے گا اور انبیاء ورسل کی یہ بشریت بھی ان کی قوموں کے ایمان لانے میں رکاوٹ بنی رہی ہے ان کا خیال تھا کہ نبی کو بشر نہیں، مافوق البشر ہونا چاہیے آج بھی اس مسلمہ حقیقت سے بیخبر لوگ پیغمبر اسلام حضرت نبی کریم ﷺ کو مافوق البشر باور کرانے پر تلے رہتے ہیں حالانکہ وہ بھی خاندان قریش کے ایک فرد تھے جن کی طرف اولا ان کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا۔
Ayahs 26:125–128

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو !۔

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا ثواب تو تمام جہان کے پروردگار کے ہی پاس ہے۔

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشہ یادگار (عمارت) بنا رہے ہو 1۔

128-1ریع، ریعۃ، کی جمع ہے۔ ٹیلہ، بلند جگہ، پہاڑ، درہ یا گھاٹی یہ ان گزر گاہوں پر کوئی عمارت تعمیر کرتے جو بلندی پر ایک نشانی مشہور ہوتی۔ لیکن اس کا مقصد اس میں رہنا نہیں ہوتا بلکہ صرف کھیل کود ہوتا تھا۔ حضرت ہود ؑ نے منع فرمایا کہ یہ تم ایسا کام کرتے ہو، جس میں وقت اور وسائل کا بھی ضیاع ہے اور اس کا مقصد بھی ایسا ہے جس سے دین اور دنیا کا کوئی مفاد وابستہ نہیں بلکہ صرف کھیل کود ہوتا ہے بیکار محض بےفائدہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔
Ayah 26:129

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے 1

129-1اسی طرح وہ بڑی مضبوط اور عالی شان رہائشی عمارتیں تعمیر کرتے تھے، جیسے وہ ہمیشہ انہی محلات میں رہیں گے۔
Ayah 26:130

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو سختی اور ظلم سے پکڑتے ہو 1

130-1یہ ان کے ظلم و تشدد اور قوت و طاقت کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 26:131

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو 1

131-1جب ان کے اوصاف قبیحہ بیان کیئے جو ان کے دنیا میں انہماک اور ظلم و سرکشی پر دلالت کرتے ہیں تو پھر انھیں دوبارہ تقویٰ اور اپنی اطاعت کی دعوت دی۔
Ayahs 26:132–135

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم نہیں جانتے۔

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اولاد سے۔

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

باغات اور چشموں سے۔

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے 1۔

135-1یعنی اگر تم نے اپنے کفر پر اصرار جاری رکھا اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ان کا شکر ادا نہ کیا، تو تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پا جاؤ گے۔ یہ عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے اور آخرت تو ہے ہی عذاب وثواب کے لئے۔ وہاں تو عذاب سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں ہوگا۔
Ayahs 26:136–137

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ آپ وعظ کہیں یا وعظ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم یکساں ہیں۔

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے 1

137-1یعنی وہی باتیں ہیں جو پہلے بھی لوگ کرتے آئے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ ہم جس دین اور عادات و روایات پر قائم ہیں، وہ وہی ہیں جن پر ہمارے آباء و اجداد کار بند رہے، مطلب دونوں سورتوں میں یہ ہے کہ ہم آبائی مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے۔
Ayah 26:138

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیئے جائیں گے 1

138-1جب انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ ہم تو اپنا آبائی دین نہیں چھوڑیں گے، تو اس میں عقیدہ آخرت کا انکار بھی تھا۔ اس لئے انہوں نے عذاب میں مبتلا ہونے کا بھی انکار کیا۔ کیونکہ عذاب الٰہی کا اندیشہ تو اسے ہوتا ہے جو اللہ کو مانتا اور روز جزا کو تسلیم کرتا ہے۔
Ayah 26:139

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لئے ہم نے انھیں تباہ کردیا 1 یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بےایمان تھے۔

139-1قوم عاد، دنیا کی مضبوط ترین اور قوی ترین قوم تھی، جس کی بابت اللہ نے فرمایا (الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ) 89۔ الفجر :8) ' اس جیسی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی ' یعنی جو قوت اور شدت و جبروت میں اس جیسی ہو۔ اس لئے یہ کہا کرتی تھی (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً) 41۔ فصلت :15) ' کون قوت میں ہم سے زیادہ ہے ' لیکن جب اس قوم نے بھی کفر کا راستہ چھوڑ کر ایمان وتقویٰ اختیار نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کی صورت میں ان پر عذاب فرمایا جو مکمل سات راتیں اور آٹھ دن ان پر مسلط رہا۔ باد تند آتی اور آدمی کو اٹھا کر فضا میں بلند کرتی اور پھر زور سے سر کے بل زمین پر پٹخ دیتی۔ جس سے اس کا دماغ پھٹ اور ٹوٹ جاتا اور بغیر سر کے ان کے لاشے اس طرح زمین پر پڑے ہوتے گویا وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ انہوں نے پہاڑوں، کھوؤں اور غاروں میں بڑی بڑی مضبوط عمارتیں بنا رکھی تھیں۔ پینے کے لئے گہرے کنوئیں کھود رکھے تھے، باغات کی کثرت تھی۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو کوئی چیز ان کے کام نہ آئی اور انھیں صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا گیا۔
Ayahs 26:140–141

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

بیشک آپ کا رب وہی ہے غالب مہربان۔

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

ثمودیوں 1 نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔

141-1ثمود کا مسکن حضر تھا جو حجاز کے شمال میں ہے، آجکل اسے مدائن صالح کہتے ہیں۔ (ایسر التفاسیر) یہ عرب تھے۔ نبی ﷺ تبوک جاتے ہوئے ان بستیوں سے گزر کر گئے تھے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayahs 26:142–146

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

ان کے بھائی صالح نے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

تو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت تو بس پروردگار عالم پر ہی ہے۔

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا ان چیزوں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیئے جاؤ گے 1

146-1یعنی یہ نعمتیں کیا تمہیں ہمیشہ حاصل رہیں گی، نہ تمہیں موت آئے گی نہ عذاب ؟ استفہام انکاری اور توبیخی ہے یعنی ایسا نہیں ہوگا بلکہ عذاب یا موت کے ذریعے سے، جب اللہ چاہے گا، تم ان نعمتوں سے محروم ہوجاؤ گے اس میں ترغیب ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ اور اگر ایمان و شکر کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تباہی و بربادی تمہارا مقدر ہے۔
Ayahs 26:147–148

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

یعنی ان باغوں اور ان چشموں۔

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں 1۔

148-1یہ ان نعمتوں کی تفصیل ہے جن سے وہ بہرہ ور تھے، طلع، کھجور کے اس شگوفے کو کہتے ہیں جو پہلے پہل نکلتا یعنی طلوع ہوتا ہے، اس کے بعد کھجور کا یہ پھل بلح، پھر بسر، پھر رتب اور اس کے بعد تمر کہلاتا ہے۔ (ایسر التفاسر) باغات میں دیگر پھلوں کے ساتھ کھجور کا پھل بھی آجاتا ہے لیکن عربوں میں چونکہ کھجور کی بڑی اہمیت ہے اس لیے اس کا خصوصی طور پر بھی ذکر کیا ھضیم کے اور بھی کئی معانی بیان کیے گئے ہیں مثلا لطیف اور نرم ونازک۔ تہ بہ تہ وغیرہ
Ayah 26:149

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو 1

149-1فَارِھِیْنَ یعنی ضرورت سے زیادہ فنکارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا فخرو غرور کرتے ہوئے، جیسے آجکل لوگوں کا حال ہے۔ آج بھی عمارتوں پر غیر ضروری آرائشوں اور فنکارانہ مہارتوں کا خوب خوب مظاہرہ ہو رہا ہے اور اس کے ذریعے سے ایک دوسرے پر برتری اور فخرو غرور کا اظہار بھی۔
Ayahs 26:150–151

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

بےباک حد سے گزر جانے والوں کی 1 اطاعت سے باز آجاؤ۔

151-1مُسْرِفِیْنَ سے مراد وہ رؤسا اور سردار ہیں جو کفر و شرک کے داعی اور مخالفت میں پیش پیش تھے۔
Ayahs 26:152–155

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

وہ بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے۔

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تو تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اگر تو سچوں سے ہے تو کوئی معجزہ لے آ۔

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقررہ دن کی باری پانی پینے کی تمہاری 1۔

155-1یہ وہی اونٹنی تھی جو ان کے مطالبے پر پتھر کی ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر ہوئی تھی ایک دن اونٹنی کے لئے اور ایک دن ان کے لئے پانی مقرر کردیا گیا تھا، اور ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ جو دن تمہارا پانی لینے کا ہوگا، اونٹنی گھاٹ پر نہیں آئے گی اور جو دن اونٹنی کے پانی پینے کا ہوگا، تمہیں گھاٹ پر آنے کی اجازت نہیں ہے۔