51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 51:19–60

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (بہت) سی نشانیاں ہیں

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

تو آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم یہ (اسی طرح) قابل یقین ہے جس طرح تم بات کرتے ہو

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

بھلا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہونچی ہے ؟

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا (دیکھا تو) ایسے لوگ کہ نہ جان نہ پہچان

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

(اور کھانے کے لئے) انکے آگے رکھ دیا کہنے لگے کہ آپ تناول کیوں نہیں کرتے ؟

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

اور دل میں ان سے خوف معلوم کیا (انہوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجئے اور انکو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت بھی سنائی

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

تو ابراہیم کی بیوی چلاتی آئی اور اپنا منہ پیٹ کر کہنے لگی (اے ہے ایک تو) بڑھیا اور (دوسرے) بانجھ

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا (ہاں) تمہارے پروردگار نے یوں ہی فرمایا ہے وہ بیشک صاحب حکمت (اور) خبردار ہے

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ فرشتو ! تمہارا مدعا کیا ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم گنہگاروں کی طرف بھیجے گئے ہیں

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ ان پر کھنگر برسائیں

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جن پر حد سے بڑھ جانے والوں کے لئے تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کردیئے گئے ہیں

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

تو وہاں جتنے مومن تھے ان کو ہم نے نکال لیا

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور جو لوگ عذاب الیم سے ڈرتے ہیں ان کے لئے وہاں نشانی چھوڑ دی

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (کے حال) میں (بھی نشانی ہے) جب نے ہم اس کو فرعون کی طرف کھلا ہوا معجزہ دے کر بھیجا

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

تو اس نے اپنی قوت (کے گھمنڈ) پر منہ موڑ لیا اور کہنے لگا یہ تو جادوگر ہے یا دیوانہ

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو اور کے لشکروں کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ کام ہی قابل ملامت کرتا تھا

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد (کی قوم کے حال) میں بھی (نشانی ہے) جب ہم نے ان پر نامبارک ہوا چلائی

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

وہ جس چیز پر چلتی اس کو ریزہ ریزہ کئے بغیر نہ چھوڑتی

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور (قوم) ثمود (کے حال) میں بھی (نشانی ہے) جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھا لو

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی سو ان کو کڑک نے آپکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پھر وہ تو نہ اٹھنے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ مقابلہ کرسکتے تھے

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور اس سے پہلے (ہم) نوح کی قوم کو (ہلاک کرچکے تھے) بیشک وہ نافرمان لوگ تھے

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم سب کو مقدور ہے

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور زمین کو ہم ہی نے بچھایا تو (دیکھو) ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائی تاکہ تم نصیحت پکڑو

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

تو تم لوگ خدا کی طرف بھاگ چلو، میں اس کی طرف سے تم کو صریح راستہ بتانے والا ہوں

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور خدا کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ، میں اس کی طرف سے صریح راستہ بتانے والا ہوں

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کے پاس جو پیغمبر آتا وہ اس کو جادوگر یا دیوانہ کہتے

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا یہ لوگ ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ شریر لوگ ہیں

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

تو ان سے اعراض کرو تم کو (ہماری طرف سے) ملامت نہ ہوگی

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

میں ان سے طالب رزق نہیں، اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے (کھانا) کھلائیں

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

خدا ہی تو رزق دینے والا زور آور اور مضبوط ہے

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ ان ظالموں کے لئے بھی (عذاب کی) نوبت مقرر ہے، جس طرح ان کے ساتھیوں کی نوبت تھی تو ان کو مجھ سے (عذاب) جلدی نہیں طلب کرنا چاہئے

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

جس دن ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے، اس دن ان کے لئے خرابی ہے

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس سلسلے میں مختلف روایتیں نقل کی ہیں۔ ان روایات سے دونوں گروہوں نے اپنے حق میں استدلال کیا ہے۔ حضرت طلحہ ؓ بن عبیداللہ نے اس شخص کا قول نقل کیا ہے جس نے حضور حضور ﷺ سے یہ دریافت کیا تھا کہ اس پر کون کون سی باتیں فرض ہیں۔ آپ نے جواب میں نماز، زکوٰۃ اور روزے کا ذکر کیا۔ پھر اس نے پوچھا کہ آیامجھ پر ان کے سوا اور کوئی چیز فرض ہے ۔ حضور ﷺ نے اس کا نفی میں جواب دیا تھا۔ عمروبن الحارث نے دراج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (اذا ادیت زکوٰۃ مالک فقد قضیت ما علیک فیہ ، جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دو تو مال کے سلسلے میں تم پر جو فرض ہے اس کی ادائیگی ہوجائے گی) دراج نے ابوالہیثم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (اذدا ادیت زکوٰۃ مالک فقد قضیت الحق الذی یجب علیک، جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردو تو تم اپنے اوپر واجب حق کو ادا کردو گے) ۔ ان روایات سے ان حضرات نے استدلال کیا ہے جنہوں نے قول باری (وفی اموالھم حق معلوم) سے زکوٰۃ مراد لی ہے اور یہ کہا ہے کہ مال والے پر زکوٰۃ کے سوا اور کوئی حق نہیں ہوتا۔ ابن سیرین نے یہ استدلال کیا ہے کہ زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ اور مخالفین جن دوسرے حقوق کو واجب کرتے ہیں وہ معلوم یعنی متعین حقوق نہیں ہے۔ جو حضرات مال کے اندر زکوٰۃ کے سوا اور بھی حق واجب کرتے ہیں وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جسے شعبی نے فاطمہ بنت قیس سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ آیا مال میں زکوٰۃ کے سوا اور بھی کوئی حق ہے ؟ آپ نے جواب میں اس آیت کی تلاوت فرمائی (لیس البر ان تولوا وجوھکم قیل المشرق والمغرب) تا آخر آیت۔ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ تلاوت میں (واتی المال علی حبہ) کے بعد زکوٰۃ کا ذکر کیا۔ یہ حضرات حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی استدلال کرتے ہیں جس میں حضور ﷺ نے فرمایا : ” اونٹوں کا جو مالک تنگی اور فراخی میں ان کا حق ادا نہیں کرتا اسے ایک چٹیل ، پست اور نرم زمین میں ان اونٹوں کے سامنے لایا جائے گا اور پھر یہ اونٹ اپنے پائوں تلے اسے روند ڈالیں گے۔ “ حضرت ابوہریرہ ؓ نے اونٹوں کے ساتھ گایوں اور بھیڑ بکریوں کا بھی ذکر کیا۔ اس حدیث کو سن کر ایک بدوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا کہ اونٹوں کا حق کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔” بہت زیادہ دودھ دینے والی وانٹنی فائدہ اٹھانے کے لئے دے دو ۔ عمدہ اونٹنی کا عطیہ دو ، اونٹ سواری کے لئے عطا کرو اور دودھ پلائو۔ “ ابوالزبیر نے حضرت جائر ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے جو روایت کی ہے اس میں ذکر ہے کہ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ اونٹوں کا کیا حق ہے ؟ آپ نے جواب میں فرمایا : ” سانڈ کے ساتھ جفتی کرانا، پانی لانے کے لئے اونٹ مع ڈول عاریت کے طور پردے دینا، کوئی دودھ والی اونٹنی کسی کو فائدہ اٹھانے کے لئے دے دینا، چشمے گا گھاٹ پر دودھ دوہنا اور اللہ کی راہ میں اس پر کسی کو سوار کرانا۔ “ اعمش نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت ابوذر ؓ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے پاس پہنچا آپ اس وقت کعبہ کی دیوار کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ مجھے آتادیکھ کر آپ نے فرمایا۔ رب کعبہ کی قسم ! یہی لوگ سب سے زیادہ نقصان میں رہیں گے۔ “ میں نے عرض کیا ” کون لوگ “ آپ نے فرمایا۔ زیادہ مال ودولت والے بجز ان کے جو اتنا اتنا دیں۔ “ یہ کہتے ہوئے آپ نے دائیں بائیں اور سامنے ایک ایک لپ بھرا۔ پھر فرمایا : ” جو شخص اپنے ایسے اونٹ چھوڑ کر مرجائے جن کی اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو، قیامت کے دن اس کے یہی اونٹ اسے سینگ ماریں گے اور اپنے پائوں تل روندیں گے، جب آخری اونٹ اسے روندتا ہوا گزر جائے گا تو پہلا اونٹ واپس روندنے کے لئے آجائے گا۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کو فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ان تمام روایات پر عمل کیا جاتا ہے اور مال میں زکوٰۃ کے سوا دوسرے حقوق کے ثبوت پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ ان میں سے ایک حق وہ ہے جو بیٹے پر اپنے والدین کے اخراجات کے سلسلے میں اس پر لازم ہوتا ہے۔ جب ماں باپ ضرورت مند ہوں۔ اسی طرح رشتہ داروں کی مالی مدد بھی لازم ہوتی ہے۔ نیز بھوکے اور مجبور انسان کو اور اس شخص کو سواری کے لئے جانور دینا بھی لازم ہوتا ہے جس کا جانور ہلاک ہوگیا ہو ۔ یا اسی قسم کے دوسرے حقوق جو مذکورہ بالا صورتوں میں انسان پر لازم ہوجاتے ہیں۔ محروم کون ہے ؟ قول باری ہے (للسائل والمحروم۔ سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ (ایک روایت کے مطابق) حضرت عائشہ ؓ ، سعید بن المسیب، مجاہد (ایک روایت کے مطابق) عطاء، ابوالعالیہ، ابراہیم نخعی اور عکرمہ کا قول ہے کہ محروم (مجازف) یعنی کم نصیب کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ محروم اس شخص کو کہتے ہیں جو رزق کی تلاش میں رہتا ہے لیکن رزق اس کے پاس نہیں آتا۔ حضرت ابن عباس ؓ (ایک روایت کے مطابق) اور مجاہد کا قول ہے کہ جس شخص کا اسلام کے اندر، دوسرے الفاظ میں ” مال غنیمت میں “ کوئی حصہ نہ ہو وہ محروم ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص ہے جسے کوئی مال مالدار نہیں بناتا۔ زہری اور قتادہ کا قول ہے کہ جو شخص سوال کرنے سے پرہیز کرتا اور مفلوک الحال ہوتا ہے اسے محروم کہتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ کتے کو محروم کہتے ہیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں جن کے نزدیک محروم سے کتا مراد ہے وہ ” معلوم حق “ سے زکوٰۃ مراد نہیں لے سکتے ۔ کیونکہ زکوٰۃ کا مال کتے کو اگر کھلا دیا جائے تو اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی اس لئے ان کے نزدیک حق سے مراد وہ حق ہوگا جو زکوٰۃ کے سوا ہے۔ اس صورت میں کتے کو کھلانا ایک ثواب کا کام ہوگا۔ جیسا کہ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا (ان فی کل ذی کبد حری اجرا، برتر جگہ والے (یعنی جانور کو کھلانے پلانے) میں اجر ملے گا) آپ ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ ایک شخص نے کتے کو پانی پلایا تھا اللہ تعالیٰ نے اسی نیکی پر اس کی بخشش کردی تھی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (حق معلوم) میں زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے زکوٰۃ مراد ہے کیونکہ زکوٰۃ لا محالہ واجب ہوتی ہے اور یہ ایک معلوم حق ہے اس لئے آیت سے یہی مراد لینا واجب ہے کیونکہ اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ آیت اس پر مشتمل ہو اور آیت کے الفاظ اسی سے عبارت ہوں۔ پھر یہ بھی جائز ہے کہ سلف نے محروم کے جتنے معانی بیان کیے ہیں وہ سب کے سب اس لحاظ سے آیت میں مراد ہوں کہ ایسے تمام افراد کو زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہوتا ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر زکوٰۃ صرف ایک صنف کو دے دی جائے تو اس کی ادائیگی ہوجاتی ہے کیونکہ یہاں صرف سائل اور محروم کا ذکر ہے اور آیت صدقات میں مذکور دوسرے اصناف کا ذکر نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت کے اندر سائل اور محروم کے درمیان فرق رکھا ہے کیونکہ فقیر کبھی دست سوال دراز نہ کرکے اپنے آپ کو محروم بنا لیتا ہے اور کبھی لوگ اسے کچھ نہ دے کر محروم رکھتے ہیں اس لئے فقیر جب سوال نہیں کرے گا وہ سوال نہ کرکے اپنے آپ کو محروم رکھے گا اور پھر اس جہت سے اسے محروم کیا جائے گا کیونکہ فقیر دوجہتوں سے محروم ہوتا ہے اپنی ذات کی جہت سے اور لوگوں کی جہت سے۔ شعبی سے ان کا یہ قول منقول ہے کہ مجھے تو محروم کے مفہوم نے لاچار کردیا ہے یعنی مجھے اس کے صحیح مفہوم کا علم نہیں ہوسکا۔