37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 37:102–140

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو (ابراہیم نے) کہا بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تم کو ذبح کر رہا ہوں تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ابا جو آپ کو حکم ہوا ہے وہی کیجئے، خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائیے گا

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم !

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

تو نے خواب کو سچ کر دکھایا ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بلا شبہ یہ صریح آزمائش تھی

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور پیچھے آنے والوں میں ابراہیم کا (ذکر خیر باقی) چھوڑ دیا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

کہ ابراہیم پر سلام ہو

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

نیکو کاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی (کہ وہ) نبی (اور) نیکو کاروں میں سے (ہوں گے)

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر اور اسحاق پر برکتیں نازل کی تھیں اور ان دونوں کی اولاد میں سے نیکو کار بھی ہیں اور اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والے (یعنی گنہگار) بھی ہیں

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی احسان کئے

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اور ان کو اور ان کی قوم کو مصیبت عظیمہ سے نجات بخشی

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اور ان کی مدد کی تو وہ غالب ہوگئے

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

اور ان دونوں کو کتاب واضح (المطالب) عنایت کی

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

اور ان کو سیدھا راستہ دکھایا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (خیر باقی) چھوڑ دیا

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

بیشک ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھے

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل کو پکارتے (اور اسے پوجتے) ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

(یعنی) خدا کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا سو وہ (دوزخ میں) حاضر کئے جائیں گے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

ہاں خدا کے بندگان خاص (مبتلائے عذاب) نہیں ہوں گے

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور ان کا ذکر (خیر) پچھلوں میں (باقی) چھوڑ دیا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

کہ الیاسین پر سلام ہے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

جب ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں (کو سب کو) عذاب سے نجات دی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور تم دن کو بھی (ان کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے رہتے ہو

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو بھی تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جب بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں پہنچے

ابراہیم کے بیٹے کی قربانی قول باری ہے (انی اری فی المنام انی اذ بحک فانظرما ذا تری قال یا ابت افعل ماتومر۔ میں نے خوب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ وہ بولے، اے میرے باپ ! آپ کو ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے) تاقول باری (وفدیناہ بذبح عظیم اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا تھا اور وہ اس پر مامور تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ذبح کا حکم، ذبح کے عمل کو متضمن تھا، اس ذبح کو متضمن نہیں تھا جس سے موت واقع ہوجاتی ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ذبح کا حکم اس صورت کے ساتھ ہی پورا ہوگیا تھا کہ حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو بیابان میں لے جاکر انہیں ذبح کرنے کے لئے لٹا دیا تھا۔ نیز انہوں نے اس کو فدیہ کے طور پر کوئی چیز پیش نہیں کی تھی۔ حالانکہ اگر وہ فدیہ کے طور پر کوئی چیز دینا چاہتے تو یہ فدیہ بیٹے کے قائم مقام بن جاتا۔ ظاہر آیت امر کا مقتضی تھا اس پر قول باری (افعل ماتومر) نیز (وفدیناہ بذبح عظیم) دلالت کرتا ہے۔ اگر ظاہر آیت ذبح کے حکم کا مقتضی نہ ہوتا تو فرماں بردار بیٹا اپنے والدمحترم سے یہ نہ کہنا کہ آپ کو جو حکم ملا ہے اس کر ڈالیے اور اس ذبح کے فدیہ کے طور پر ایک متوقع ذبیحہ نہ دیا جاتا۔ ایک روایت کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں بیٹا عطا کرے گا تو وہ اسے اللہ کے نام پر ذبح کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایک اور روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ذبح کے حکم کی ابتداء اس طور پر کی تھی جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم وارد ہوا تھا۔ آپ نے اسے ذبح بھی کردیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی روح نکلنے سے پہلے ہی شاہ رگ کو جو ڑدیا اور بیٹے کی زندگی کی بقاء کے لئے فدیہ دے دیا گیا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کی جس طرح بھی تاویل کی جائے بہرحال یہ بات واضح ہے کہ بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم انجام کار ایک بکری ذبح کرنے کے ایجاب کو متضمن تھا، جب اس امر کا موجب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں ایک بکری کے ذبح کے ایجاب پر منتج ہو اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کا حکم دیا۔ (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفا۔ پھر ہم نے آپ کو وحی بھیجی کہ ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو جو حنیف تھا) ۔ نیز فرمایا (اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے پس ان کی ہدایت کی پیروی کرو) تو اس سے یہ بات ضروری ہوگئی کہ جو شخص اپنے بیٹے کے ذبح کی نذر مانے گا اس پر ایک بکری کی قربانی واجب ہوجائے گی۔ بیٹے کی نذر کیسے پوری کی جائے ؟ اس مسئلے میں سلف کے مابین اور ان کے بعد آنے والے فقہاء امصار کے مابین اختلاف رائے ہے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ اگر کوئی اپنے بیٹے کے متعلق یہ کہے کہ وہ اسے نحر (ذبح) کردے گا تو اس پر ایک مینڈھے کی قربانی واجب ہوگی جس طرح حضرت ابواہیم نے حضرت اسحق (علیہ السلام) کا فدیہ دیا تھا۔ سفیان نے منصور سے انہوں نے حکم سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے اس شخص کے متعلق روایت کی ہے جو اپنے بیٹے کے نحر کی نذر مان لیتا ہے کہ وہ ایک بدنہ (قربانی کا اونٹ وغیرہ) بطور ہدی لے جائے گا یا اس کی دیت دے گا۔ راوی کو اس میں شک ہوگیا ہے۔ مسروق سے حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی طرح روایت منقول ہے۔ شعبہ نے حکم سے اور انہوں نے ابراہیم نخعی سے روایت کی ہے کہ یہ شخص حج کرے گا اور اپنے ساتھ بدنہ لے جائے گا جسے حرم میں جاکر ذبح کرے گا۔ دائود بن ابی ہند نے عامر سے اس شخص کے متعلق روایت کی ہے جو اپنے بیٹے کو نحر کرنے کی قسم کھا لیتا ہے کہ بعض حضرات کے قول کے مطابق وہ سو اونٹ قربان کرے گا اور بعض کے قول کے مطابق ایک مینڈھا دے گا۔ جیسا کہ حضرت اسحق (علیہ السلام) کے فدیہ میں مینڈھا ذبح کیا گیا تھا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا قول ہے کہ ایسے شخص پر ایک بکری ذبح کرنا واجب ہوگا۔ امام ابویوسف کا قول ہے کہ اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ اگر اس نے اپنا غلام ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو اس پر کوئی چیز واجب نہ ہوگی۔ جبکہ امام محمد کا قول ہے اس پر ایک بکری ذبح کرنی واجب ہوگی۔ ظاہر آیت بیٹے کے ذبح کے مسئلے میں امام ابوحنیفہ کے قول پر دلالت کرتا ہے کیونکہ یہ فقرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں بکری کے ایجاب سے عبارت ہے۔ اس لئے اس کے حکم کا اس وقت تک باقی رہناواجب ہے جب تک اس کے نسخ کا ثبوت نہ مل جائے۔ امام ابویوسف نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جس کے راوی ابوقلایہ ہیں، انہوں نے ابوالمہلب سے اس کی روایت کی ہے اور انہوں نے حضرت عمر ان بن حسین ؓ سے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (لا وفاء لنذر فی معصیۃ اللہ ولا فیما لا یملک ابن ادم۔ ایسی نذر کا پورا کرنا ضروری نہیں جس سے اللہ کی معصیت لازم آتی ہو یا جو ابن آدم کے قبضے میں نہ ہو) حسن نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (لا نذر فی معصیۃ وکفارتہ کفارۃ یمین اللہ کی نافرمانی میں کوئی نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کے کفارہ کی طرح ہے) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ بات قول کے قائلین پر لازم نہیں آتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نذر ماننے والے کا یہ قول کہ ” مجھ پر اپنے بیٹے کی ذبح لازم ہے۔ “ جب ایک بکری کے ذبح کے ایجاب سے عبارت تسلیم کرلیا گیا تو اس کی حیثیت نذر ماننے والے کے اس قول جیسی ہوگئی کہ ” مجھ پر ایک بکری کا ذبح کرنا لازم ہے۔ “ اس کا یہ قول کسی معصیت کو مستلزم نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ نے غلام کو ذبح کرنے کی نذر کی صورت میں نذر ماننے والے پر کوئی چیز لازم نہیں کی کیونکہ یہ فقرہ ظاہری طور پر معصیت کو مستلزم ہے اور شریعت میں یہ فقرہ بکری کے ذبح کے ایجاب سے عبارت تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس لئے اس فقرے کو نذر معصیت قرار دیا جائے گا۔ دوسری طرف سب کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو قتل کرنے کی نذر مانتا ہے تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں آئے گی کیونکہ ظاہری طور پر یہ فقرہ ایک معصیت کو مستلزم ہے اور شریعت میں اس بکری کے ذبح سے عبارت تسلیم کرنا ثابت نہیں ہے۔ یزید ہارون نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے اپنے بیٹے کو نحر کرنے کی نذر مانی ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے اس عورت سے فرمایا کہ اپنے بیٹے کو نحر نہ کرو بلکہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کردو۔ پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے یہ سن کر عرض کیا، حضرت ! معصیت والی نذر کو پورا کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ “ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ سن کر فرمایا۔” ٹھہرو ! اللہ تعالیٰ نے ظہار میں جو حکم دیا ہے وہ تم نے سن لیا ہے اور اس میں وہ کفارہ واجب کردیا ہے جس کا اس نے ذکر فرمایا ہے۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عباس ؓ کا جو قول پہلے نقل کیا ہے یہ قول اس کے مخالف نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کے پہلے قول کے مطابق ایسی نذر میں ایک مینڈھا ذبح کرنا واجب ہے۔ ان دونوں اقوال میں اختلاف نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ممکن ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کا مسلک یہ ہو کہ اگر نذر ماننے والے نے قسم کا ارادہ کیا ہو تو اس پر کفارہ یمین اور مینڈھے کی ذبح دونوں لازم ہیں جس طرح امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا قول ہے کہ ایک شخص اگر یہ کہتا ہے کہ ” مجھ پر اللہ کے لئے کل روزہ رکھنا لازم ہے۔ “ پھر وہ اگلے دن روزہ نہیں رکھتا اور اس نے اس فقرے سے قسم کا ارادہ کیا ہو تو اس صورت میں اس پر قسم کا کفارہ اور روزے کی قضاء دونوں چیزیں لازم ہوں گی۔ اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) میں سے ذبیح اللہ کون تھے ؟ حضرات ابراہیم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت اسحق میں سے ذبیح کون تھا اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت کعب ؓ ، حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ حضرت اسحاق تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، سعید بن المسیب اور محمد بن کعب القرظی سے مروی ہے کہ یہ حضرت اسماعیل تھے۔ حضور ﷺ سے دونوں قول مروی ہیں۔ جو لوگ حضرت اسماعیل کو ذبیح کہتے ہیں وہ اس قول باری سے استدلال کرتے ہیں جو ذبح کے ذکر کے بعد وارد ہوا ہے (وبشرنا ہ باسحق نبیا۔ اور ہم نے اسے اسحق (علیہ السلام) نبی کی بشارت دی) جب یہ بشارت ذبح کے بعد دی گئی تھی تو اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ حضرت اسماعیل ذبیح تھے۔ دوسرے حضرات نے یہ استدلال کیا ہے کہ آیت میں حضرت اسحق کی ولادت کی بشارت نہیں دی گئی ہے بلکہ ان کی نبوت کی بشارت دی گئی ہے کیونکہ ارشاد باری ہے (وبشرناہ باسحق نبیا)