21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 21:78–112

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور داود اور سلیمان (کاحال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصل کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چرگئیں (اور اسے روندگئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کے وقت موجود تھے

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا اور ہم نے پہاڑوں کو داود کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا) اور ہم ہی ایسا کرنے والے تھے

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح کا) لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم لڑائی کے ضرر سے بچائے، پس تم کو شکر گذار ہونا چاہئے

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور دیووں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطہ مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے ولا ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے عطا فرمائے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے یہ نصیحت ہے

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا، بلاشبہ وہ نیکوکار تھے۔

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور ذو النون کو (یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے، آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے (اور) بیشک میں قصوروار ہوں

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑو اور تو سب سے بہتر وارث ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی پکار سن لی اور ان کو یحییٰ بخشا اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل بنادیا یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید اور خوف سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفت کو محفوظ رکھا تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کو ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور وہ کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ ہم (اپنے حق میں) ظالم تھے

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

(کافر اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہونگے (اور) تم (سب) اس میں داخل ہو کر رہوگے

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

وہاں ان کو چلانا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے، اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی ہر طرح کے عیش اور لطف میں) ہمیشہ رہیں گے

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا، اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں، جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے، ہم ایسا ضرور کرنے والے ہیں

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکو کار بندے ملک کے وارث ہوں گے

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور (اے محمد ! ) ہم نے تم کو تمام جہاں کے لئے رحمت (بناکر) بھیجا ہے

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرف سے) یہ وحی آئی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے، تو تم کو چاہئے کہ فرمانبردار ہوجاؤ

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم سب کو یکساں (احکام الہی) سے آگاہ کردیا ہے اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (عن) قریب (آنیوالی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

جو بات پکار کر کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

(پیغمبر نے کہا) کہ اے میرے پروردگار ! حق کے ساتھ فیصلہ کردے اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے، اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے۔

ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے کہ قول باری (نفشت فیہ غنم القوم) کا مفہوم ہے کہ لوگوں کی بکریاں کھیت میں گھس گئی تھیں۔ معمر کہتے ہیں کہ زہری نے فرمایا : نفش صرف رات کے وقت ہوتا ہے اور ھمل دن کے وقت۔ “ قتادہ کا قول ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ یہ بکریاں کھیت والے اپنے قبضے میں کرلیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے صحیح فیصلہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو سمجھا دیا ۔ جب آپ کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے فیصلے کی خبر ملی تو آپ نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ کھیت والے ان بکریوں کو پکڑ لیں گے اور انہیں ایک سال تک اپنے قبضے میں رکھ کر ا ن کے دودھ ان کے بچوں اور ان کے اون سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ابو اسحاق نے مرہ سے اور انہوں نے مسروق سے قول باری (وداودو سلیماق) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ اگنور کی بیلوں کا کھیت تھی، رتا کے وقت بکریاں اس میں پھیل گئیں۔ کھیت والوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے پاس استغاثہ دائر کردیا، آپ نے فیصلہ دیا کہ بکریاں کھیت والوں کے حوالے کردی جائیں، پھر یہ لوگ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس سے گزرے اور ان سے اس فیصلے کا ذکر کیا۔ آپ نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ بکریاں کھیت والوں کے حوالے کردی جائیں گی۔ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے، بکریوں والے کھیت میں کام کریں گے یہاں تک کہ جب اس جیسی فصل تیا رکر لیں گے جو بکریوں کے چرجانے کے وقت تھی تو بکریاں ان کے حوالے کردی جائیں گی۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی (ففھمنا ھا سلیمان) علی بن زید نے حسن سے، انہوں نے احنف سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کے اس واقعہ کے سلسلے میں اس قسم کی روایت کی ہے۔ کسی کے مویشی کسی اور کے کھیت میں چر جائیں تو کیا فیصلہ ہوگا ؟ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ بعض حضرات کا قول ہے کہ اگر رات کے وقت بھیڑ بکریاں کسی شخص کا کھیت چر جائیں اور اسے اجاڑ دیں تو ان کے مالک پر اس نقصان کا تاوان عائد ہوگا لیکن اگر دن کے وقت بھیڑ بکریاں کھیت میں گھس کر فصل کو اجاڑ دیں تو مالک پر کوئی تاوان عائد نہیں ہوگا۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک ایسا واقعہ خواہ دن کے وقت پیش آئے یا رتا کے وقت مالک پر کوئی تاوان عائد نہیں ہوگا بشرطیکہ مالک نے ان جانوروں کو خود نہ بھیجا ہو۔ جو لوگ پہلے مسلک کے قائل ہیں انہوں نے حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے اس واقعہ سے استدلال کیا ہے۔ ان دونوں حضرات نے تاوان لینے پر اتفاق کیا تھا، ان کا استدلال اس روایت سے بھی ہے جسے ہمیں ابو دائود نے بیان کیا ہے، انہیں احمد بن محمد بن ثابت مروزی نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے زہری سے، انہوں نے حرام بن محیصہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے کہ حضرت براء بن عازب کی ایک اونٹنی کسی شخص کے باغ میں داخل ہوگئی اور اسے اجاڑ دیا۔ حضور ﷺ نے اس کا فیصلہ سنایا کہ اموال کے مالکوں پر دن کے وقت ان کی حفاظت لازم ہے اور مویشیوں کے مالکوں پر رات کے وقت انہیں باندھ کر رکھنا ضروری ہے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں محمود بن خالد نے ، انہیں ا لفریابی نے زہری سے، انہوں نے حرام بن محیصہ انصاری سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب سے، وہ کہتے ہیں کہ ان کی ایک منہ زور اور بد خواونٹنی تھی ایک دن وہ ایک باغ میں گھس گئی اور وہاں تباہی مچا دی۔ انہوں نے حضور ﷺ سے اس سلسلے میں گفتگو کی۔ آپ نے یہ فصلہ سنایا کہ باغ کے مالکوں کی ذمہ داری ہے کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت کریں اور مویشیوں کے مالکوں کی ذمہ داری ہے کہ رات کے وقت انہیں سنبھلایں یعنی باندھ کر رکھیں۔ اگر رات کے وقت کوئی چوپایہ کسی کا کچھ نقصان کرے گا تو اس کے مالک پر اس کا تاوان عائد ہوگا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ پہلی حدیث میں حرام بن محیصہ نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ حضرت براء بن عازب کی ایک اونٹنی تھی اور اس حدیث میں حرام بن محیصہ نے براہ راست حضرت براء سے روایت کی ہے، پہلی حدیث میں رات کے وقت چوپائے سے پہنچنے والے نقصان کے تاوان کا ذکر نہیں ہے اس میں صرف حفاظت کا ذکر ہے۔ یہ بات متن حدیث نیز اس کی سند میں اضطراب پر دلالت کرتی ہے۔ سفیان بن حسین نے زہری سے اور انہوں نے حرام بن محیصہ سے روایت کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ نے کسی قسم کا کوئی تاوان عائد نہیں کیا آپ نے اس موقع پر آیت (وداود و سلیمان اذا بحکمان فی الحرث) کی تلاوت فرمائی تھی۔ اہل علم کے مابین اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) نے اس سلسلے میں جو فیصلہ سنایا تھا وہ اب منسوخ ہے۔ وہ اس طرح کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے بکریاں کھیت کے مالک کے حوالے کرنے کا فیصلہ دیا تھا جبکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان بکریوں سے پیدا ہونے والے بچے اور بکریوں کا اون اس کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنایا تھا اور مسلمانوں کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جس شخص کی بکریاں کسی کے کھیت میں گھس جائیں تو اس پر ان بکریوں کو نہ ان کے بچوں کو اور نہ ہی ان کا دودھ اور اون کھیت کے مالک کے حوالے کردینا واجب ہوتا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ دونوں فیصلے ہمارے نبی ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی بنا پر منسوخ ہوچکے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ واقعہ کئی احکام کو متضمن ہے، ایک یہ کہ بکریوں کے مالک پر تاوان و اجب ہوگیا، دوسرے یہ کہ تاوان کی کیفیت بیان کردی گئی۔ تاوان کی کیفیت تو منسوخ ہوگئی لیکن نفس تاوان منسو خ نہیں ہوا اس کے نسخ کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی ایک حدیث کی بنا پر تاوان کے نسخ کا ثبوت بھی مہیا ہوگیا ہے اس حدیث کو اہل علم نے قبول کر کے اس پر عمل بھی کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ اور ہزیل بن شرحبیل نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (العجاء جبار چوپائے کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کا کوئی تاوان نہیں) بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں (جرح العجماء جبار چوپائے کے لگائے ہوئے زخم کا کوئی تاوان نہیں) اس حدیث پر عمل پیرا ہونے میں فقہاء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے یعنی اگر کوئی چوپایہ رسی تڑا کر بھاگ نکلے اور کسی انسان یا مال کو نقصان پہنچا دے تو اس کے مالک پر کوئی تاوان عائد نہیں ہوگا بشرطیکہ مالک نے خود اسے نہ چھوڑا ہو جب اس حدیث پر سب کے نزدیک عمل ہوتا ہے اور اس کا عموم دن اور رات کے دوران پہنچنے والے نقصان کے تاوان کی نفی کرتا ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے واقعہ کے سلسلہ میں جس حکم کا ذکر کیا گیا ہے وہ اب منسوخ ہے نیز حضرت بزء بن عازب کے واقعہ کے سلسلے میں رات کی صورت میں تاوان کے ایجاب کا جو ذکر ہے وہ بھی منسوخ ہے۔ تاوان کے موجب تمام اسباب میں رات یا دن کے لحاظ سے تاوان کے ایجاب یا اس کی نفی کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ جب سب کا اس پر اتفاق ہوگیا کہ دن کے وقت چوپائے کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کا کوئی تاوان نہیں تو اس سے یہ ضروی ہوگیا کہ رات کے وقت کا حکم بھی ایسا ہی ہو۔ حضرت براء بن عازب کی روایت میں حضور ﷺ نے تاوان واجب کردیا تھا۔ ممکن ہے کہ آپ نے تاوان صرف اس لئے واجب کردیا ہو کہ خود مالک نے اونٹنی کو ادھر جانے کے لئے کھول دیا تھا۔ سب کو یہ بات معلوم ہے کہ رتا کے وقت مویشیوں کو فصلوں اور باغات کے درمیان ہانک کرلے جانے کی صورت میں کچھ جانوروں کا فصلوں میں گھس جانا یقینی ہوتا ہے خواہ ہانک کرے جانے والے کو اس کا علم نہ بھی ہو۔ حضور ﷺ نے اس روایت کے ذریعے ایسے ہی مویشیوں کا حکم بیان کردیا جب ان کی وجہ سے کسی کھیت اور فصل کو نقصان پہنچ گیا ہو اس روایت کا فائدہ یہ ہوا کہ اس کے ذریعے مویشیوں کو فصلوں کے بیچ سے ہانک کرلے جانے اور انہیں فصلوں میں چھوڑنے کی صورت میں تاوان واجب ہوجائے گا خواہ ہانکنے والے کو اس کا علم بھی نہ ہو، اس صورت میں علم ہوجانے اور نہ ہونے کی دونوں حالتوں کا حکم یکساں ہوگا۔ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا واقعہ بھی اسی نوعیت کا ہو کہ مالک نے رات کے وقت ان بکریوں کو چھوڑا ہو اور ہانک کرلے جا رہا ہو کہ بکریاں کھیت میں پھیل گئی ہوں اور اسے اس کا علم نہ ہوا ہو اور پھر اسی وجہ سے دونوں حضرت نے مال کپر تاوان واجب کردیا ہو۔ جب اس واقعہ میں یہ احتمال پیدا ہوگیا تو اب اختلافی نکتے پر اس کی دلالت ثابت نہیں ہوگی۔ اجتہادی فیصلے اگر کوئی مجتہد کسی پیش آمدہ واقعہ کے متعلق اپنے اجتہاد کی روشنی میں کوئی حکم بیان کرتا ہے تو اس بارے میں اختلاف کرنے والے دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک گروہ کا قول ہے کہ حق ایک ہوتا ہے جبکہ دوسرے گروہ کا قول ہے کہ اس حکم سے اختلاف کرنے والے تمام لوگوں کے اقوال حق ہوتا ہے۔ یہ گروہ نے اپنے قول کے حق میں آیت سے استدلال کیا ہے۔ وہ اس طرح کہ جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ ایک کے قول میں ہوتا ہے ان کا خیال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا (ففھمنا سلیمان) تو اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو مسئلہ کے درست فہم کے ساتھ مخصوص کردیا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بات نہیں فرمائی۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کے نزدیک حق تک رسائی حاصل کرنے والے تھے، دائود (علیہ السلام) نہیں تھے کیونکہ اگر حق دونوں حضرات کے قول میں ہوتا تو پھر صرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تخصیص نہیں ہوتی اور حضرت دائود (علیہ السلام) کو نظر انداز کر کے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تخصیص کا کوئی معنی نہ ہوتا۔ دوسرا گروہ جو ہر مجتہد کی رائے اور اس کے لگائے ہوئے حکم کو درست سمجھتا ہے اس کا کہنا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے دیئے ہوئے فیصلے پر ا ن کی تعفیف نہیں کی اور نہ ہی انہیں مخطی قرار دیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ دونوں حضرات اپنے اپنے قول میں مصیب اور حق راس تھے۔ تفہیم کے ساتھ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تخصیص اس پر دلالت نہیں کرتی کہ حضرت دائود (علیہ السلام) غلطی پر تھے۔ وہ اس طرح کہ یہ کہنا درست ہے کہ حضرت سلیمان کو مطلوب کی حقیقت تک رسائی ہوگئی تھی اس لئے تفہیم کے ساتھ ان کی تخصیص کردی گئی اس کے برعکس حضرت دائود کو عین مطلوب تک رسائی نہیں ہوئی تھی اگرچہ انہیں جس چیز کا مکلف بنایا گیا تھا اس میں وہ مصیبت اور حق رسا تھے۔ بعض لوگوں کا یہ قول ہے کہ حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) دونوں نے بطریق نص فیصلہ سنایا تھا اس میں ان کے اجتہاد کو کوئی دخل نہیں تھا لیکن حضرت دائود نے قطعیت کے ساتھ حکم نہیں لگایا تھا اور نہ ہی انہوں نے اپنے اس فیصلے کو نافذ کیا تھا یا یہ کہ آپ کا یہ قول فتوی کے طور پر تھا اس فتویٰ پر مبنی فیصلے کو نافذ کرنے کے طورپر نہیں تھا یا یہ کہ فیصلہ ایک شرط کے ساتھ مشروط تھا جس کی ابھی تفصیل بیان نہیں ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعے اس فیصلے سے آگاہ کردیا جو فیصلہ انہوں نے اس جھگڑے کے سلسلے میں سنایا تھا اور اس کے ذریعے اس حکم کو منسوخ کردیا جس کے نفاذ کا حضرت دائود (علیہ السلام) ارادہ کئے ہوئے تھے۔ ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ آیت میں اس امر پر کوئی دلالت موجود نہیں کہ ان دونوں حضرات نے رائے اور اجتہاد کی بنیاد پر اپنے اپنے فیصلے سنائے تھے۔ ان کے نزدیک قول باری (ففھمنا ھا سلیمان) کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو ناسخ حکم کی تفہیم عطا کردی تھی۔ یہ قول ان حضرات کا ہے جو اس بات کے جواز کے قائل نہیں کہ حضور ﷺ اپنے اجتہاد اور رائے کی بنیاد پر حکم دیا کرتے تھے بلکہ ان کے نزدیک آپ نص کی بنیاد پر حکم لگایا کرتے تھے۔