42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsآسان قرآن

Ayahs 42:40–46

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور کسی برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے۔ (8) پھر بھی جو کوئی معاف کردے، اور اصلاح سے کام لے تو اس کا ثواب اللہ نے ذمے لیا ہے۔ یقینا وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں ہے۔

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور یہ حقیقت ہے کہ جو کوئی صبر سے کام لے، اور درگزر کر جائے تو یہ بڑی ہمت کی بات ہے۔

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جسے اللہ گمراہ کردے تو اس کے بعد کوئی نہیں ہے جو اس کا مددگار بنے۔ اور جب ظالموں کو عذاب نظر آجائے تو تم انہیں یہ کہتا ہوا دیکھیں گے کہ : کیا واپس جانے کا بھی کوئی راستہ ہے ؟

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تم انہیں دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے انہیں اس طرح پیش کیا جائے گا کہ وہ ذلت کے مارے جھکے ہوئے کن انکھیوں سے دیکھ رہے ہوں گے، اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں وہ کہہ رہے ہوں گے کہ : واقعی اصل خسارے میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈال دیا۔ یاد رکھو کہ ظالم لوگ ایسے عذاب میں ہوں گے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور ان کو ایسے کوئی مددگار میسر نہیں آئیں گے جو اللہ کو چھوڑ کر ان کی کوئی مدد کریں۔ اور جسے اللہ گمراہ کردے، اس کے لیے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

8: یعنی اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی جائے تو مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اتنی ہی تکلیف ظالم کو پہنچا دے جتنی اس نے پہنچائی تھی لیکن آگے اس بات کی بڑی فضیلت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ انسان بدلہ لینے کے بجائے صبر کر کے معاف کردے۔
Ayahs 42:47–50

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

(لوگو) اپنے پروردگار کی بات اس دن کے آنے سے پہلے پہلے مان لو جسے اللہ کی طرف سے ٹالا نہیں جائے گا، اس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی، اور نہ تمہارے لیے پوچھ گچھ کا کوئی موقع ہوگا، (9)

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ لوگ اگر پھر بھی منہ موڑیں تو ہم نے تمہیں ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا ہے، تم پر بات پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے، اور (انسان کا حال یہ ہے کہ) جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتا ہے، اور اگر خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے ایسے لوگوں کو کوئی مصیبت پیش آجاتی ہے تو وہی انسان پکا ناشکرا بن جاتا ہے۔

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

سارے آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے، وہ جو چاہتا ہے، پیدا کرتا ہے، وہ جس کو چاہتا ہے، لڑکیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے۔

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا پھر ان کو ملا جلا کر لڑکے بھی دیتا اور لڑکیاں بھی اور جس کو چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے۔ یقینا وہ علم کا بھی مالک ہے قدرت کا بھی مالک۔

9: یعنی کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ سے یہ پوچھ سکے کہ اس شخص کو یہ سزا کیوں دی گئی ہے، کیونکہ تمام انسانوں پر حجت پہلے ہی تمام ہوچکی ہوگی۔
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ اس سے (روبرو) بات کرے۔ (10) سوائے اس کے کہ وہ وحی کے ذریعے ہو، یا کسی پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام لانے والا (فرشتہ) بھیج دے، اور وہ اس کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کا پیغام پہنچا دے۔ یقینا وہ بہت اونچی شان والا، بڑی حکمت کا مالک ہے۔

10: اس دنیا میں کسی انسان سے اللہ تعالیٰ روبرو ہو کر ہم کلام نہیں ہوتا، البتہ تین طریقوں سے کوئی طریقہ اختیار فرماتا ہے، ایک کو وحی سے تعبیر فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو بات فرمانا چاہتا ہے، وہ کسی کے دل میں ڈال دیتا ہے، دوسرے کو پردے کے پیچھے سے تعبیر فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی صورت نظر آئے بغیر کوئی بات کانوں کے ذریعے ہی سنادی جاتی ہے، جیسے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ہوا تھا، اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنا کلام کسی فرشتے کے ذریعے کسی پیغمبر کے پاس بھیجا جاتا ہے۔
Ayahs 42:52–53

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہارے پاس اپنے حکم سے ایک روح بطور وحی نازل کی ہے۔ (11) تمہیں اس سے پہلے نہ یہ معلوم تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے، لیکن ہم نے اس (قرآن) کو ایک نور بنایا ہے جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تم لوگوں کو وہ سیدھا راستہ دکھا رہے ہو۔

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

جو اللہ کا راستہ ہے، وہ اللہ جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ جو زمین میں ہے۔ یاد رکھو کہ سارے معاملات آخر کار اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے۔

11: روح سے مراد قرآن کریم اور اس کے احکام ہیں، کیونکہ وہ انسان کے لئے روحانی زندگی کا باعث ہیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ روح سے مراد حضرت جبرئیل ؑ ہوں جنہیں روح القدس بھی کہا جاتا ہے اور قرآن کریم کے نزول کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہی کو واسطہ بنایا ہے۔