29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsآسان قرآن

Ayah 29:41

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے رکھوالے بنا رکھے ہیں، ان کی مثال مکڑی کی سی ہے، جس نے کوئی گھر بنا لیا ہو، اور کھلی بات ہے کہ تمام گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے۔ کاش کہ یہ لوگ جانتے۔ (24)

24: یعنی کاش یہ لوگ جانتے کہ جن جھوٹے خداؤں پر انہوں نے بھروسہ کیا ہوا ہے وہ مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہیں، اور انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتے۔
Ayahs 29:42–44

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس جس چیز کو پکارتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے، اور وہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

ہم یہ مثالیں لوگوں کے فائدے کے لیے دیتے ہیں، اور انہیں سمجھتے وہی ہیں جو علم والے ہیں۔

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق (مقصد کے لیے) پیدا کیا ہے۔ (25) درحقیقت اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔

25: یہ کائنات اس مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے لوگوں کو آزمایا جائے، اور پھر لوگوں کے اعمال کے مطابق انہیں جزاء یا سزا ملے۔ اگر آخرت کی زندگی آنے والی نہ ہو تو کائنات کو پیدا کرنے کا یہ اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے پیغمبر) جو کتاب تمہارے پاس وحی کے ذریعے بھیجی گئی ہے اس کی تلاوت کرو، اور نماز قائم کرو۔ بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ (26) اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سب کو جانتا ہے۔

26: یعنی اگر انسان نماز کو نماز کی طرح پڑھے، اور اس کے مقصد پر دھیان دے تو وہ اسے بےحیائی اور ہر برے کام سے روکے گی، اس لئے کہ انسان نماز میں سب سے پہلے تکبیر کہہ کر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا اعلان اور اقرار کرتا ہے، جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے کسی بات کو وقعت نہیں دیتا، پھر ہر رکعت میں وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ یا اللہ ! میں آپ ہی کی بندگی کرتا ہوں، اور آپ ہی سے مدد مانگتا ہوں، لہذا جب اس کے بعد کسی گناہ کا خیال اس کے دل میں آئے تو اگر اس نے نماز دھیان سے پڑھی ہے تو اسے اپنا عہد یاد آنا چاہیے، جو یقیناً اسے گناہ سے روکے گا، نیز رکوع سجدے اور نماز کی ہر حرکت و سکون میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے زبان حال سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بناکر پیش کرتا ہے، اس لئے جو شخص نماز کو سوچ سمجھ کر اس طرح پڑھے جیسے پڑھنا چاہیے یقیناً اسے برائیوں سے روکے گی۔
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور (مسلمانو) اہل کتاب سے بحث نہ کرو، مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو۔ البتہ ان میں سے جو زیادتی کریں، ان کی بات اور ہے۔ (27) اور (ان سے) یہ کہو کہ : ہم اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے، اور اس پر بھی جو تم پر نازل کی گئی تھی، اور ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔

27: یوں تو دعوت اسلام میں ہر جگہ یہی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ شائستگی کے ساتھ ہو، لیکن خاص طور پر اہل کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں اس لئے یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ آسمانی کتابوں پر فی الجملہ ایمان رکھتے ہیں، اس لئے بت پرستوں کے مقابلے میں وہ مسلمانوں سے زیادہ قریب ہیں، تاہم اگر زیادتی ان کی طرف سے ہو تو ترکی بہ ترکی جواب دینے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
Ayahs 29:47–48

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) اسی طرح ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے، اس لیے جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ان (بت پرستوں) میں سے بھی کچھ لوگ ہیں جو اس پر ایمان لارہے ہیں، اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو کافر ہیں۔

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور تم اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے، اور نہ کوئی کتاب اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو باطل والے میں میخ نکال سکتے تھے۔ (28)

28: حضور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے امی بنایا، یعنی آپ لکھتے پڑھتے نہیں تھے۔ اس آیت میں اس کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے کہ امی ہونے کے باوجود جب آپ کی زبان مبارک پر قرآن کریم جاری ہوا تو یہ بذات خود ایک عظیم الشان معجزہ تھا کہ جس شخص نے کبھی نہ پڑھنا سیکھا، نہ لکھنا، وہ ایسا فصیح وبلیغ کلام پیش کر رہا ہے جس کی مثال پیش کرنے سے سارا عرب عاجز ہوگیا۔ قرآن کریم فرما رہا ہے کہ اگر آپ پڑھتے لکھتے ہوتے تو آپ کے مخالفین کو یہ کہنے کا کچھ نہ کچھ موقع مل جاتا کہ آپ نے کہیں سے پڑھ پڑھا کر یہ مضامین اکٹھے کرلیے ہیں۔ اگرچہ اعتراض اس پر بھی فضول ہی ہوتا، لیکن اب تو یہ کہنے کا کوئی موقع ہی باقی نہیں رہا۔
Ayahs 29:49–50

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قرآن ایسی نشانیوں کا مجموعہ ہے جو ان لوگوں کے سینوں میں بالکل واضح ہیں جنہیں علم عطا کیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو ظالم ہیں۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : ان (پیغمبر ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں ؟ (29) (اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ : نشانیاں صرف اللہ کے پاس ہیں اور میں تو ایک واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں۔

29: یعنی وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جن کی ہم فرمائش کرتے ہیں۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ کو بہت سے معجزات عطا فرمائے گئے تھے، لیکن کفار مکہ نت نئے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، جیسے سورة بنی اسرائیل : 93 میں تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ معجزات دکھانا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے، میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دار کرنے کے لیے آیا ہوں۔ نیز اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے جو ایک طالب حق کے لیے بالکل کافی ہونا چاہیے۔
Ayahs 29:51–56

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

بھلا کیا ان کے لیے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری ہے جو ان کو پڑھ کر سنائی جارہی ہے ؟ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی رحمت اور نصیحت ہے جو ماننے والے ہوں۔

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ : میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لیے اللہ کافی ہے، اسے ان تمام چیزوں کا علم ہے جو آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں۔ اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے ہیں، اور اللہ کا انکار کیا ہے، وہی ہیں جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں، اگر (عذاب کا) ایک معین وقت نہ ہوتا تو ان پر ضرور عذاب آجاتا اور وہ آئے گا ضرور (مگر) اتنا اچانک کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ تم سے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں، اور یقینا جہنم ان کو گھیرے میں لے لے گی۔

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

اس دن جب عذاب ان پر اوپر سے بھی چھا جائے گا، اور ان کے پاؤں کے نیچے سے بھی، اور کہے گا کہ : چکھو ان کاموں کا مزہ جو تم کیا کرتے تھے۔

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو جو ایمان لاچکے ہو ! یقین جانو میری زمین بہت وسیع ہے، لہذا خالص میری عبادت کرو۔ (30)

30: جیسا کہ اس سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، یہ سورت اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر ظلم وستم کی انتہا کر رکھی تھی، اور بعض صحابہ کرام ؓ اس صورت حال سے پریشان تھے، اس سورت کے شروع میں تو انہیں صبر و استقامت کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور اب اس آیت میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر مکہ مکرمہ میں دین پر عمل کرنا مشکل ہورہا ہے تو اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، ہجرت کرکے کسی اور ایسی جگہ چلے جاؤ، جہاں امن و سکون کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکو۔
Ayah 29:57

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر متنفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، پھر ہماری ہی طرف تم سب کو واپس لایا جائے گا۔ (31)

31: یعنی اگر ہجرت کرنے سے اس لئے رُکاوٹ محسوس ہو کہ اپنے عزیزوں دوستوں کو چھوڑنا پڑے گا تو یہ جدائی کبھی نہ کبھی تو ہونی ہی ہے، کیونکہ ہر انسان کو موت آنی ہے، پھر جب سب ہمارے پاس واپس آجاؤگے تو پھر کبھی جدائی نہیں ہوگی۔
Ayahs 29:58–60

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کو ہم ضرور جنت کے ایسے بالاخانوں میں آباد کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بہترین اجر ہے ان عمل کرنے والوں کا۔

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے صبر سے کام لیا، اور جو اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ انہیں بھی رزق دیتا ہے، اور تمہیں بھی (32) اور وہی ہے جو ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے۔

32: ہجرت کرنے میں ایک خوف ہوسکتا تھا کہ یہاں تو ہمارے روزگار کا ایک نظام موجود ہے، کہیں اور جاکر معلوم نہیں کوئی مناسب روزگار ملے یا نہ ملے، اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں کتنے جانور ایسے ہیں جو اپنا رزق ساتھ لئے نہیں پھرتے، بلکہ وہ جہاں کہیں جاتے ہیں اللہ تعالیٰ وہیں ان کے رزق کا انتظام فرماتا ہے، لہذا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت میں وطن چھوڑیں گے، کیا اللہ تعالیٰ ان کے رزق کا انتظام نہیں فرمائے گا ؟ البتہ رزق کی کمی اور زیادتی تمام تر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت پر موقوف ہے، لہذا وہی فیصلہ فرماتا ہے کہ کس کو کس وقت کتنا رزق دینا ہے۔
Ayah 29:61

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ : کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور سورج اور چاند کو کام پر لگایا ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : اللہ ! پھر آخر یہ لوگ کہاں سے اوندھے چل پڑتے ہیں ؟ (33)

33: یعنی اس حقیقت کا اعتراف کرنے کا منطقی تقاضا یہ تھا کہ وہ اسی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، کسی اور کی نہیں، لیکن اس کے بعد انہیں کیا ہوجاتا ہے کہ اس منطقی تقاضے پر عمل کرنے کے بجائے شرک شروع کردیتے ہیں۔
Ayahs 29:62–63

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، رزق میں کشادگی کردیتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگی کردیتا ہے، یقینا اللہ ہر چیز کا مکمل علم رکھتا ہے۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ : کون ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اسے زندگی بخشی ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : اللہ ! کہو : الحمدللہ ! (34) لیکن ان میں سے اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔

34: یعنی الحمدللہ ! کہ انہوں نے خود اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کے خالق کائنات ہونے کا اعتراف کرلیا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کے مشرکانہ عقائد بےبنیاد اور سراسر باطل ہیں۔
Ayah 29:64

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیوی زندگی کھیل کود کے سوا کچھ بھی نہیں (35) اور حقیقت یہ ہے کہ دار آخرت ہی اصل زندگی ہے، اگر یہ لوگ جانتے ہوتے۔

35: یعنی جس طرح کھیل کود میں کچھ دیر تو مزہ آتا ہے، مگر وہ کوئی پائیدار چیز نہیں ہے، ذرا دیر گذرنے کے بعد سارا تماشا ختم ہوجاتا ہے، اسی طرح دنیا کی لذتیں بھی ناپائیدار ہیں، اور کچھ ہی عرصے میں سب ختم ہوجائیں گی۔ اس کے برخلاف آخرت کی زندگی ہمیشہ کے لیے ہے، اس لیے اس کی لذتیں اور نعمتیں سدا بہار ہیں۔ اس لیے اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے۔
Ayah 29:65

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

چنانچہ جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ان کا اعتقاد خالص اسی پر ہوتا ہے۔ (36) پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو فورا شرک کرنے لگتے ہیں۔

36: مشرکین عرب کا یہ عجیب طریقہ تھا کہ جب سمندر کی موجوں میں گھر کر موت نظر آنے لگتی تو اس وقت انہیں نہ کوئی بت یاد آتا تھا، نہ کوئی دیوی یا دیوتا۔ اس وقت وہ مدد کے لیے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے۔ لیکن جب ڈوبنے سے بچ کر کنارے پہنچ جاتے تو اللہ تعالیٰ کے بجائے پھر انہی بتوں کی عبادت شروع کردیتے تھے۔
Ayahs 29:66–67

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

کرلیں یہ لوگ ناشکری اس نعمت کی جو ہم نے ان کو دی ہے، اور اڑالیں کچھ مزے۔ پھر وہ وقت دور نہیں جب انہیں سب پتہ چل جائے گا۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

بھلا کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے (ان کے شہر کو) ایک پرامن حرم بنادیا ہے، جبکہ ان کے اردگرد لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں اچک لیا جاتا ہے۔ (37) کیا پھر بھی یہ باطل پر ایمان لاتے ہیں، اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں ؟

37: پچھلی سورت یعنی سورة قصص :57 میں گذرا ہے کہ مشرکین مکہ اپنے ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ یہ پیش کرتے تھے کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو سارا عرب جو اس وقت ہماری عزت کرتا ہے، ہمارا مخالف ہوجائے گا، اور ہمیں اپنی سرزمین سے نکال کر باہر کرے گا۔ اس آیت میں اول تو اس بہانے کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی مکہ مکرمہ کو حرم بنا کر اسے اتنا پر امن علاقہ بنادیا ہے کہ وہاں کوئی قتل و غارت گری کی جرأت نہیں کرتا، حالانکہ اس کے ارد گرد اچھے خاصے لوگوں کو دن دہاڑے اچک کر قتل اور لوٹ مار کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لہذا جب تمہاری نافرمانی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ چین کی زندگی دے رکھی ہے تو جب تم اس کے فرماں بردار بن جاؤگے تو کیا وہ تمہیں اس نعمت سے محروم کردے گا ؟ دوسرے اس آیت نے اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ مکہ مکرمہ کو کیا کسی بت نے یا دیوتا نے حرم بنادیا تھا جو تم ان کی عبادت کے پیچھے پڑے ہوئے ہو ؟ یقیناً اس خطے کو یہ تقدس تو اللہ تعالیٰ ہی نے عطا فرمایا ہے۔ پھر خود سوچ لو کہ عبادت کے لائق کون ہے ؟
Ayahs 29:68–69

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے، یا جب اس کے پاس حق کی بات پہنچے تو وہ اسے جھٹلائے ؟ کیا جہنم میں (ایسے) کافروں کا ٹھکانا نہیں ہوگا ؟

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے، (38) اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

37: یہ ان لوگوں کے لئے بڑی عظیم خوشخبری ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین پر خود چلنے اور دوسروں کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں، جب تک انسان اس راستے میں کوشش جاری رکھے اور مایوس ہو کر نہ بیٹھ جائے، اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کی مدد فرما کر ضرور منزل تک پہنچادیں گے، لہذا راستے کی مشکلات سے ہار مان کر بیٹھنے کے بجائے نئے عزم وہمت کے ساتھ یہ کوشش ہمیشہ جاری رہنی چاہیے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی مکمل توفیق عطا فرمائیں، امین۔