2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsآسان قرآن

Ayah 2:239

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

اور اگر تمہیں (دشمن کا) خوف لاحق ہو تو کھڑے کھڑے یا سوار ہونے کی حالت ہی میں (نماز پڑھ لو) (160) پھر جب تم امن کی حالت میں آجاؤ تو اللہ کا ذکر اس طریقے سے کرو جو اس نے تمہیں سکھایا ہے جس سے تم پہلے ناواقف تھے۔

160: جنگ کی حالت میں جب باقاعدہ نماز پڑھنے کا موقع نہ ہو اس بات کی اجازت ہے کہ انسان کھڑے کھڑے اشارے سے نماز پڑھ لے البتہ چلتے ہوئے پڑھنا جائز نہیں اگر کھڑا ہونے کا بھی موقع نہ ہو تو نماز قضا کرنا بھی جائز ہے۔
Ayah 2:240

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کر جایا کریں کہ ایک سال تک وہ (ترکے سے نفقہ وصول کرنے کا) فائدہ اٹھائیں گی اور ان کو (شوہر کے گھر سے) نکالا نہیں جائے گا (161) ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو اپنے حق میں قاعدے کے مطابق وہ جو کچھ بھی کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اور اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی۔

161: آخر میں طلاق کے جو مسائل چل رہے تھے ان کا ایک تکملہ ضمنی طور پر بیان ہوا ہے جو مطلقہ عورتوں کے حقوق سے متعلق ہے، زمانہ جاہلیت میں بیوہ عورت کی عدت ایک سال ہوتی تھی ؛ لیکن اسلام نے پیچھے آیت نمبر : 234 میں عدت کی مدت گھٹا کر چار مہینے دس دن مقرر کردی، جس وقت زیر نظر آیت نازل ہوئی ہے اس وقت تک میراث کے احکام نہیں آئے تھے اور جیسا کے اوپر آیت نمبر : 180 میں گزرا لوگوں پر یہ واجب تھا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے حق میں وصیت کیا کریں کہ ان کے ترکے سے کس کو کتنا دیا جائے، لہذا اس آیت میں اسی اصول کے تحت یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگرچہ بیوہ کی عدت چار مہینے دس دن ہے، لیکن اس کے شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے حق میں یہ وصیت کرجائے کہ اسے سال بھر تک اس کے ترکے سے نفقہ بھی دیا جائے اور اس کے گھر میں رہائش بھی فراہم کی جائے، البتہ وہ خود اپنا یہ حق چھوڑدے اور چار مہینے دس دن کے بعد شوہر کے گھر سے چلی جائے تو کچھ حرج نہیں، ہاں چار مہینے دس دن سے پہلے اس کے لئے بھی شوہر کے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے، اگلے جملے میں جو کہا گیا ہے کہ ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو اپنے حق میں قاعدے کے مطابق وہ جو کچھ بھی کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، اس میں قاعدے سے مراد یہی ہے کہ وہ عدت پوری کرنے کے بعد نکلیں، پہلے نہیں، لیکن یہ سارا حکم میراث کے احکام آنے سے پہلے تھا، جب سورة نساء میں میراث کے احکام آگئے اور بیوی کا حصہ ترکے میں مقرر کردیا گیا تو سال بھر کے نفقے اور رہائش کا یہ حق ختم ہوگیا۔
Ayahs 2:241–242

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور مطلقہ عورتوں کو قاعدے کے مطابق فائدہ پہنچانا متقیوں پر ان کا حق ہے۔ (1ٍ 62)

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اللہ اپنے احکام اسی طرح وضاحت سے تمہارے سامنے بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ داری سے کام لو۔

162: مطلقہ عورتوں کو فائدہ پہنچانے کا لفظ بڑا عام ہے اس میں عدت کے دوران کا نفقہ بھی داخل ہے اور اگر ابھی مہر نہ دیا گیا ہو تو وہ بھی داخل ہے نیز اوپر آیت نمبر : 236 میں جس تحفے کا ذکر ہے وہ بھی اس میں شامل ہے۔ یہ تحفہ اس صورت میں بھی مستحب ہے کہ مطلقہ عورت کو مہر کے علاوہ یہ تحفہ بھی دیا جائے ان تمام احکام سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اول تو طلاق کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اقدام اسی وقت کرنا چاہیے جب کوئی اور صورت باقی نہ رہی ہو، دوسرے جب یہ اقدام کیا جائے تو نکاح کے تعلق کا اختتام بھی شرافت فراخ دلی اور احترام سے خوشگوار ماحول میں ہونا چاہیے، دشمنی کے ماحول میں نہیں۔
Ayahs 2:243–244

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

کیا تمہیں ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہوا جو موت سے بچنے کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے تھے، اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے ؟ چنانچہ اللہ نے ان سے کہا : مرجاؤ، پھر انہیں زندہ کیا۔ (163) حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بہت فضل فرمانے والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور اللہ کے راستے میں جنگ کرو، اور یقین رکھو کہ اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔

163: یہاں سے آیت نمبر : 260 تک دو مضمون ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں، بنیادی مقصد جہاد کی ترغیب دینا ہے لیکن بعض منافقین اور کمزور طبیعت کے لوگ جہاد میں جانے سے اس لئے کتراتے تھے کہ انہیں موت کا خوف تھا، اس لئے دوسرا مضمون ساتھ ساتھ بیان ہوا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ موت اور زندگی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو جنگ کے بغیر بھی موت دیدے اور چاہے تو شدید جنگ کے درمیان بھی انسانوں کی حفاظت کرلے ؛ بلکہ اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی انسانوں کو زندہ کردے، اس قدرت کا عمومی مظاہرہ تو آخرت میں ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی چند ایسے نمونے دنیا کو دکھادئیے ہیں جن میں بعض لوگوں کو مرنے کے بعد بھی زندہ کیا گیا ہے، اس کی ایک مثال اس آیت 243 میں دی گئی ہے، ایک اشارہ آیت نمبر : 253 میں حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف کیا گیا ہے جن کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے کئی مردوں کو زندہ کیا تیسرا حوالہ حضرت ابراہیم ؑ اور نمرود کے مکالمے (آیت نمبر : 258) میں اللہ تعالیٰ کے موت اور زندگی دینے سے متعلق ہے، چوتھا واقعہ آیت نمبر : 259 میں حضرت عزیر ؑ کا بیان فرمایا گیا ہے اور اس سے اگلی آیت (نمبر 260) میں پانچواں واقعہ حضرت ابراہیم ؑ کا ہے جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں۔ زیر نظر آیت (243) میں جو واقعہ بیان ہوا ہے اس کی تفصیل قرآن کریم نے بیان نہیں فرمائی۔ صرف اتنا بتایا ہے کہ کسی زمانے میں کوئی قوم جو ہزاروں کی تعداد میں تھی، موت سے بچنے کے لیے اپنے گھروں سے نکل کھڑی ہوئی تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں موت دے دی، اور پھر زندہ کر کے یہ دکھا دیا کہ اگر موت سے بچنے کے لیے کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی تدبیر اختیار کرے تو ضروری نہیں کہ موت سے بچ ہی جائے، اللہ تعالیٰ اسے پھر بھی موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔ یہ لوگ کون تھے ؟ کس زمانے میں تھے ؟ وہ موت کا خوف کیا تھا جس کی بنا پر یہ بھاگ کھڑے ہوئے تھے ؟ یہ تفصیل قرآن کریم نے بیان نہیں فرمائی، کیونکہ قرآن کریم کوئی تاریخ کی کتاب نہیں ہے، اس میں جو واقعات بیان ہوتے ہیں، وہ کوئی سبق دینے کے لیے ہوتے ہیں، لہذا اکثر ان کا صرف اتنا حصہ بیان کیا جاتا ہے جس سے وہ سبق مل جائے۔ اور اس واقعے سے مذکورہ بالا سبق لینے کے لیے اتنی بات کافی ہے جو یہاں بیان ہوئی ہے۔ البتہ جس انداز سے قرآن کریم نے اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قصہ اس وقت لوگوں میں مشہور و معروف تھا۔ آیت کے شروع میں یہ الفاظ کہ : ”کیا تمہیں ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہوا ؟“ اس قصے کی شہرت پر دلالت کر رہے ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن جریر طبری ؒ نے یہاں حضرت عبداللہ بن عباس اور بعض تابعین سے کئی روایتیں نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بنو اسرائیل کے لوگوں کا ہے جو ہزاروں کی تعداد میں ہونے کے باوجود یا تو کسی دشمن کے مقابلے سے کترا کر اپنا گھر بار چھوڑ گئے تھے یا طاعون کی وبا سے گھبرا کر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ جب یہ اس جگہ پہنچے جسے وہ پناہ گاہ سمجھتے تھے تو اللہ کے حکم سے موت نے وہیں ان کو آلیا۔ بعد میں جب وہ بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوگئے تو حضرت حزقیل ؑ کا وہاں سے گذر ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان ہڈیوں سے خطاب کریں، اور ان کے خطاب کے بعد وہ ہڈیاں پھر سے انسانی شکل میں زندہ ہو کر کھڑی ہوگئیں۔ حضرت حزقیل ؑ کا یہ قصہ موجودہ بائبل میں بھی مذکور ہے (دیکھئے : حزقی ایل 1:37 تا 15) اس لیے کچھ بعید نہیں ہے کہ یہ واقعہ مدینہ منورہ کے یہودیوں کے ذریعے مشہور ہوگیا ہو۔ واقعے کی یہ تفصیلات مستند ہوں یا نہ ہوں، لیکن اتنی بات قرآن کریم کے صاف اور صریح الفاظ سے واضح ہے کہ ان لوگوں کو حقیقی طور پر موت کے بعد زندہ کیا گیا تھا۔ ہمارے زمانے کے بعض مصنفین نے مردوں کے زندہ ہونے کو بعید از قیاس سمجھتے ہوئے اس آیت میں یہ تاویل کی ہے کہ یہاں موت سے مراد سیاسی اور اخلاقی موت ہے، اور دوبارہ زندہ ہونے سے مراد سیاسی غلبہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاویل قرآن کریم کے صریح الفاظ سے میل نہیں کھاتی۔ اور عربیت اور قرآن کریم کے اسلوب سے بھی بہت بعید ہے سیدھی سی بات یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان ہے تو اس قسم کے واقعات میں تعجب کی کیا بات ہے جس کی بنا پر یہ دور از کار تاویلیں کی جائیں ؟ بالخصوص یہاں سے آیت 260 تک جو سلسلہ کلام چل رہا ہے۔ اور جس کی تفصیل اوپر بیان ہوئی ہے، اس کی روشنی میں یہاں موت اور زندگی سے حقیقی معنی مراد ہونا ہی قرین قیاس ہے۔
Ayah 2:245

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کون ہے جو اللہ کو اچھے طریقے پر قرض دے، تاکہ وہ اسے اس کے مفاد میں اتنا بڑھائے چڑھائے کہ وہ بدر جہاز یا دہ ہوجائے ؟ (164) اور اللہ ہی تنگی پیدا کرتا ہے، اور وہی وسعت دیتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹایا جائے گا۔

164: اللہ کو قرض دینے سے مراد اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا ہے، اس میں غریبوں کی امداد بھی داخل ہے اور جہاد کے مقاصد میں خرچ کرنا بھی ہے، اسے قرض مجازاً کہا گیا ہے ؛ کیونکہ اس کا بدلہ ثواب کی صورت میں دیا جائے گا، اور اچھے طریقے کا مطلب یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے دیا جائے، دکھاوا یا دنیا میں بدلہ لینا مقصود نہ ہو، اور اگر جہاد کے لئے یا کسی غریب کی مدد کے طور پر قرض ہی دیا جائے تو اس پر کسی سود کا مطالبہ نہ ہو، کفار اپنی جنگی ضروریات کے لئے سود پر قرض لیتے تھے، مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ اگرچہ دنیا میں تو انہیں سود نہیں ملے گا ؛ لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ اس کا ثواب اصل سے بدرجہا زیادہ عطا فرمائیں گے، جہاں تک اس خطرے کا تعلق ہے کہ اس طرح خرچ کرنے سے مال میں کمی ہوجائے گی، اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ تنگی اور وسعت اللہ ہی کے قبضے میں ہیں، جو شخص اللہ کے دین کے خاطر اپنا مال خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو تنگی پیش آنے نہیں دیں گے بشرطیکہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرے۔
Ayahs 2:246–247

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

کیا تمہیں موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے گروہ کے اس واقعے کا علم نہیں ہوا جب انہوں نے اپنے ایک نبی سے کہا تھا کہ ہمارا ایک بادشاہ مقرر کردیجیے تاکہ (اس کے جھنڈے تلے) ہم اللہ کے راستے میں جنگ کرسکیں۔ (165) نبی نے کہا : کیا تم لوگوں سے یہ بات کچھ بعید ہے کہ جب تم پر جنگ فرض کی جائے تو تم نہ لڑو ؟ انہوں نے کہا : بھلا ہمیں کیا ہوجائے گا جو ہم اللہ کے راستے میں جنگ نہ کریں گے حالانکہ ہمیں اپنے گھروں اور اپنے بچوں کے پاس سے نکال باہر کیا گیا ہے۔ پھر (ہوا یہی کہ) جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو ان میں سے تھوڑے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب پیٹھ پھیر گئے، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ : اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔ کہنے لگے : بھلا اس کو ہم پر بادشاہت کرنے کا حق کہاں سے آگیا ؟ ہم اس کے مقابلے میں بادشاہت کے زیادہ مستحق ہیں، اور اس کو تو مالی وسعت بھی حاصل نہیں۔ نبی نے کہا : اللہ نے ان کو تم پر فضیلت دے کر چنا ہے اور انہیں علم اور جسم میں (تم سے) زیادہ وسعت عطا کی ہے، اور اللہ اپنا ملک جس کو چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔

165: یہاں نبی سے مراد حضرت سموئیل ؑ ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کے تقریباً ساڑھے تین سو سال بعد پیغمبر بنائے گئے تھے، سورة مائدہ (5: 24) میں مذکور ہے کہ فرعون سے نجات پانے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کو ان عمالقہ سے جہاد کرنے کی دعوت دی تھی جو بنی اسرائیل کے وطن فلسطین پر قابض ہوگئے تھے مگر بنی اسرائیل نے انکار کردیا، جس کی سزاء میں انہیں صحرائے سینا میں محصور کردیا گیا اور اسی حالت میں حضرت موسیٰ ؑ کی وفات ہوگئی، بعد میں حضرت یوشع ؑ کی قیادت میں فلسطین کا ایک بڑا علاقہ فتح ہوا، حضرت یوشع ؑ آخر عمر تک ان کی نگرانی کرتے رہے اور ان کے معاملات کے تصفیے کے لئے قاضی مقررکئے، تقریباً تین سو سال تک نظام اسی طرح چلتا رہا کہ بنی اسرائیل کا کوئی بادشاہ یا حکمران نہیں بلکہ قبیلوں کے سردار حضرت یوشع ؑ کے مقرر کئے ہوئے نظام کے تحت قاضی ہوا کرتے تھے، اسی لئے اس دور کو قاضیوں کا زمانہ کہا جاتا تھا، بائبل کی کتاب قضاۃ میں اسی زمانہ کی تاریخ بیان کی گئی ہے، چونکہ اس دور میں پوری قوم کا کوئی متفقہ حکمران نہیں تھا، اس لئے آس پاس کی قومیں ان پر حملہ آور ہوتی تھیں، آخر میں فلسطین کی بت پرست قوم نے ان پر حملہ کرکے انہیں سخت شکست دی اور وہ متبرک صندوق بھی اٹھا کرلے گئے جس میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کی کچھ یادگاریں، تورات کا نسخہ اور آسمانی غذا“ من ”کا مرتبان محفوظ تھا اور جسے بنی اسرائیل تبرک کے لئے جنگوں کے موقع پر آگے رکھا کرتے تھے، حالات کے اس پس منظر میں ایک قاضی حضرت سموئیل ؑ کو نبوت کا منصب عطا ہوا، ان کے دور میں بھی فلسطینیوں کا ظلم وستم جاری رہا تو بنی اسرائیل نے ان سے درخواست کی کہ ان پر کوئی بادشاہ مقرر کردیا جائے، اس کے نتیجے میں طالوت کو بادشاہ بنایا گیا جس کا واقعہ یہاں سے مذکور ہے، بائبل میں دوکتابیں حضرت سموئیل ؑ کی طرف منسوب ہیں ان میں سے پہلی کتاب میں بنی اسرائیل کی طرف سے بادشاہ مقرر کرنے کی فرمائش بھی ذکر کی گئی ہے، مگر بادشاہ کا نام طالوت کے بجائے ساؤل مذکور ہے نیز بعض تفصیلات میں فرق بھی ہے۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور ان سے ان کے نبی نے یہ بھی کہا کہ : طالوت کی بادشاہت کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق (واپس) آجائے گا جس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سکینت کا سامان ہے، اور موسیٰ اور ہارون نے جو اشیاء چھوڑی تھیں ان میں سے کچھ باقی ماندہ چیزیں ہیں۔ اسے فرشتے اٹھائے ہوئے لائیں گے (166) اگر تم مومن ہو تو تمہارے لیے اس میں بڑی نشانی ہے۔

166: جب بنی اسرائیل نے طالوت کو بادشاہ ماننے سے انکار کیا اور ان کے بادشاہ مقرر ہونے پر کوئی نشانی طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت سموئیل ؑ سے کہلوایا کہ ان کے منجانب اللہ ہونے کی نشانی یہ ہوگی کہ اشدودی قوم کے لوگ جو متبرک صندوق اٹھا کرلے گئے تھے ان کے زمانے میں، اللہ کے فرشتے وہ صندوق تمہارے پاس اٹھا کرلے آئیں گے، اسرائیلی روایات کے مطابق اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اشدودیوں نے وہ صندوق ایک مندر میں لے جاکر رکھا مگر اس کے بعد وہ طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار ہونا شروع ہوگئے، کبھی ان کے بت اوندھے پڑے ہوئے ملتے، کبھی گلٹیوں کی وبا پھیل جاتی، کبھی چوہوں کی کثرت پریشان کرتی، آخر کار ان کے نجومیوں نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ یہ ساری آفتیں اس صندوق کی وجہ سے ہیں ؛ چنانچہ انہوں نے وہ صندوق بیل گاڑیوں پر رکھ کر انہیں شہر سے باہر ہنکادیا، بائبل میں فرشتوں کے صندوق لانے کا ذکر نہیں ہے، مگر قرآن کریم نے صاف کہا ہے کہ اسے فرشتے لے کر آئیں گے، اگر بائبل کی یہ روایت درست مانی جائے کہ ان لوگوں نے خود صندوق کو باہر نکال دیا تھا تو ممکن ہے کہ بیل گاڑیوں نے اسے شہر سے باہر چھوڑدیا ہو اور وہاں سے اسے فرشتے اٹھا کر بنی اسرائیل کے پاس لے آئے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ بیل گاڑیوں پر ہنکانے کا قصہ ہی غلط ہو اور فرشتے اسے براہ راست اٹھالائے ہوں، واللہ اعلم۔
Ayahs 2:249–250

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

چنانچہ جب طالوت لشکر کے ساتھ روانہ ہوا تو اس نے (لشکر والوں سے) کہا کہ : اللہ ایک دریا کے ذریعے تمہارا امتحان لینے والا ہے، جو شخص اس دریا سے پانی پیے گا وہ میرا آدمی نہیں ہوگا، اور جو اسے نہیں چکھے گا وہ میرا آدمی ہوگا، الا یہ کہ کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے (تو کچھ حرج نہیں) (167) پھر (ہوا یہ کہ) ان میں سے تھوڑے آدمیوں کے سوا باقی سب نے اس دریا سے (خوب) پانی پیا۔ چنانچہ جب وہ (یعنی طالوت) اور اس کے ساتھ ایمان رکھنے والے دریا کے پار اترے، تو یہ لوگ (جنہوں نے طالوت کا حکم نہیں مانا تھا) کہنے لگے کہ : آج جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کرنے کی ہم میں بالکل طاقت نہیں ہے۔ (مگر) جن لوگوں کا ایمان تھا کہ وہ اللہ سے جا ملنے والے ہیں انہوں نے کہا کہ : نہ جانے کتنی چھوٹی جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں، اور اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ جالوت اور اس کے لشکروں کے آمنے سامنے ہوئے تو انہوں نے کہا : اے ہمارے پروردگار صبر و استقلال کی صفت ہم پر انڈیل دے، ہمیں ثابت قدمی بخش دے، اور ہمیں اس کافر قوم کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا فرمادے۔

167: یہ دریائے اردن تھا اور یہ امتحان بظاہر یہ دیکھنے کے لئے لیا گیا تھا کہ لشکر کے کتنے لوگ ہیں جو اپنے امیر کی اطاعت کا ایسا جذبہ رکھتے ہیں کہ اس پر اپنی خواہشات کو بھی قربان کردیں کیونکہ اس طرح کی جنگ میں ایسی مضبوط اطاعت کے بغیر کام نہیں چلتا۔
Ayah 2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

چنانچہ انہوں نے اللہ کے حکم سے ان (جالوت کے ساتھیوں) کو شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا، (168) اور اللہ نے اس کو سلطنت اور دانائی عطا کی، اور جو علم چاہا اس کو عطا فرمایا۔ اگر اللہ لوگوں کا ایک دوسرے کے ذریعے دفاع نہ کرے تو زمین میں فساد پھیل جائے، لیکن اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔

168: جالوت دشمن کی فوج کا بڑا قوی ہیکل پہلوان تھا، سموئیل ؑ کے نام پر جو پہلی کتاب بائبل میں ہے اس میں مذکور ہے کہ وہ کئی روز تک بنی اسرائیل کو چیلنج دیتا رہا کہ کوئی اس کے مقابلے کے لئے آئے، مگر کسی کو اس سے دوبدو لڑنے کی جرأت نہ ہوئی، داؤد ؑ اس وقت نوعمر نوجوان تھے، ان کے تین بھائی جنگ میں شریک تھے، مگر وہ چونکہ سب سے چھوٹے تھے اس لئے اپنے بوڑھے والد کی خدمت کے لئے ان کے پاس رہ گئے تھے، جب میدان جنگ شروع ہوئے کئی دن گزر گئے تو ان کے والد نے انہیں اپنے تین بھائیوں کی خبر لینے کے لئے میدان جنگ بھیجا، یہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ جالوت مسلسل چیلنج دے رہا ہے اور کوئی اس سے لڑنے کے لئے آگے نہیں بڑھ رہا ہے، تو انہیں غیرت آئی اور انہوں نے طالوت سے اجازت مانگی کہ وہ جالوت کے مقابلے کے لئے جانا چاہتے ہیں، ان کی نوعمری کے پیش نظر شروع میں طالوت اور دوسرے لوگوں کو بھی تردد ہوا، لیکن ان کے اصرار پر انہیں اجازت مل گئی، انہوں نے جالوت کے سامنے جاکر اللہ کا نام لیا اور ایک پتھر اس کی پیشانی پر مارا جو اس کے سر میں گھس گیا اور وہ زمین پر گرپڑا، یہ اس کے پاس گئے اور خود اسی کی تلوار لے کر اس کا سر قلم کردیا، (1۔ سموئیل، باب 17) یہاں تک بائبل اور قرآن کریم کے بیان میں کوئی تعارض نہیں ہے ؛ لیکن اس کے بعد بائبل میں یہ کہا گیا ہے کہ طالوت (یا ساؤل) کو حضرت داؤد ؑ کی مقبولیت سے حسد ہوگیا تھا ؛ چنانچہ بائبل میں ان کے خلاف بہت سی ناقابل یقین باتیں ذکر کی گئی ہیں، بظاہر یہ داستانیں ان بنی اسرائیل کی کاروائی ہے جو شروع سے طالوت کے مخالف تھے، قرآن کریم نے جن الفاظ میں طالوت کی تعریف کی ہے ان میں حسد جیسی بیماری کی گنجائش نہیں ہے، بہر حال حضرت داؤد ؑ کے اس کارنامے نے انہیں ایسی مقبولیت عطا کی کہ بعد میں وہ بنی اسرائیل کے بادشاہ بھی بنے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے بھی سرفراز فرمایا اور ان کے ذریعے پہلی بار ایسا ہوا کہ نبوت اور بادشاہت ایک ہی ذات میں جمع ہوئیں۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کے سامنے ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں، اور آپ بیشک ان پیغمبروں میں سے ہیں جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ (169)

169: طالوت بادشاہ کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک پر ان آیات کا جاری ہونا آپ کے رسول ہونے کی دلیل ہے اس لئے آپ کے پاس ان واقعات کو جاننے کا وحی کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ہے، اور ٹھیک ٹھیک کے الفاظ سے شاید اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ اہل کتاب نے ان واقعات کو بیان کرنے میں کہیں مبالغے سے کام لیا ہے اور کہیں من گھڑت قصے مشہور کردئے ہیں قرآن کریم ان میں سے صرف صحیح باتیں بیان کرتا ہے۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ پیغبر جو ہم نے (مخلوق کی اصلاح کے لیے) بھیجے ہیں، ان کو ہم نے ایک دوسرے پر فضیلت عطا کی ہے، ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام فرمایا، اور ان میں سے بعض کو اس نے بدرجہا بلندی عطا کی (170) اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے ان کی مدد فرمائی (171) اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے لوگ اپنے پاس روشن دلائل آجانے کے بعد آپس میں نہ لڑتے، لیکن انہوں نے خود اختلاف کیا، چنانچہ ان میں سے کچھ وہ تھے جو ایمان لائے اور کچھ وہ جنہوں نے کفر اپنایا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے، لیکن اللہ وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (172)

170: تلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا : مطلب یہ ہے کہ تھوڑی بہت فضیلت تو مختلف انبیاء کرام ؑ کو ایک دوسرے پر دی گئی ہے ؛ لیکن بعض انبیاء کرام ؑ کو دوسروں پر بدرجہا زیادہ فضیلت حاصل ہے اور یہ نبی کریم ﷺ کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ 171: یہ مضمون پیچھے آیت نمبر 87 میں آچکا ہے۔ تشریح کے لیے اس آیت کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔ 172: قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ تھا کہ وہ تمام انسانوں کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کردیتا اور اس صورت میں سب کا دین ایک ہی ہوجاتا اور کوئی اختلاف پیدا نہ ہوتا ؛ لیکن اس سے وہ سارا نظام تلپٹ ہوجاتا جس کے لئے یہ دنیا بنائی گئی ہے اور انسان کو اس میں بھیجا گیا ہے، انسان کو یہاں بھیجنے کا مقصد اس کا یہ امتحان لینا ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں سے ہدایت کا راستہ معلوم کرنے کے بعد کون ہے جو اس ہدایت پر اپنی مرضی سے چلتا ہے اور کون ہے جو اس کو نظر انداز کرکے اپنی من گھڑت خواہشات کو اپنا رہنما بناتا ہے، اس لئے اللہ نے زبردستی لوگوں کو ایمان پر مجبور نہیں کیا ؛ چنانچہ آگے آیت نمبر : 256 میں صراحت کے ساتھ یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے، حق کے دلائل واضح کردئے گئے ہیں، اس کے بعد جو کوئی حق کو اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے کے لئے ایسا کرے گا اور جو شخص اسے نظر اندازکرکے شیطان کے سکھائے ہوئے راستے پر چلے گا وہ اپنا نقصان کرے گا۔
Ayahs 2:254–257

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو۔ جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے وہ دن آنے سے پہلے پہلے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرلو جس دن نہ کوئی سودا ہوگا نہ کوئی دوستی (کام آئے گی) اور نہ کوئی سفارش ہوسکے گی۔ (173) اور ظالم وہ لوگ ہیں جو کفر اختیار کیے ہوئے ہیں۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو سدا زندہ ہے جو پوری کائنات سنبھالے ہوئے ہے جس کو نہ کبھی اونگھ لگتی ہے، نہ نیند۔ آسمانوں میں جو کچھ ہے (وہ بھی) اور زمین میں جو کچھ ہے (وہ بھی) سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے ؟ وہ سارے بندوں کے تمام آگے پیچھے کے حالات کو خوب جانتا ہے، اور وہ لوگ اس کے علم کی کوئی بات اپنے علم کے دائرے میں نہیں لاسکتے، سوائے اس بات کے جسے وہ خود چاہے، اس کی کرسی نے سارے آسمانوں اور زمین کو گھیرا ہوا ہے، اور ان دونوں کی نگہبانی سے اسے ذرا بھی بوجھ نہیں ہوتا، اور وہ بڑا عالی مقام، صاحب عظمت ہے۔

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہو کر واضح ہوچکا، اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ ایمان والوں کا رکھوالا ہے، وہ انہیں اندھیریوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے رکھوالے وہ شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیریوں میں لے جاتے ہیں، وہ سب آگ کے باسی ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

173: اس سے مراد قیامت کا دن ہے
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

کیا تم نے اس شخص (کے حال) پر غور کیا جس کو اللہ نے سلطنت کیا دے دی تھی کہ وہ اپنے پروردگار (کے وجود ہی) کے بارے میں ابراہیم سے بحث کرنے لگا ؟ جب ابراہیم نے کہا کہ : میرا پروردگار وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی، تو وہ کہنے لگا کہ : میں بھی زندگی دیتا ہوں اور موت دیتا ہوں۔ (174) ابراہیم نے کہا : اچھا اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم ذرا اسے مغرب سے تو نکال کر لاؤ، اس پر وہ کافر مبہوت ہو کر رہ گیا۔ اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

174: یہ بابل کا بادشاہ نمرود تھا جو خدائی کا بھی دعوے دار تھا، اس نے جو دعوی کیا کہ میں زندگی اور موت دیتا ہوں اس کا مطلب یہ تھا کہ بادشاہ ہونے کی وجہ سے جس کو چاہوں موت کے گھاٹ اتاردوں اور جس کو چاہوں موت کا مستحق ہونے کے باوجود معاف کرکے آزاد کردوں، اور اس طرح اسے زندگی دے دوں، ظاہر ہے کہ اس کا جواب قطعی طور پر غیر متعلق تھا، اس لئے کہ گفتگو زندگی اور موت کے اسباب سے نہیں ان کی تخلیق سے ہورہی تھی ؛ لیکن حضرت ابراہیم ؑ نے دیکھا کہ وہ یا تو موت اور حیات کی تخلیق کا مطلب ہی نہیں سمجھتا یا کٹ حجتی پر اترآیا ہے، اس لئے انہوں نے ایک ایسی بات فرمائی جس کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا، مگر لاجواب ہو کر حق کو قبول کرنے کے بجائے اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو قید کیا، پھر آگ میں ڈالنے کا حکم دیا، جس کا ذکر قرآن کریم نے سورة انبیاء (68 تا 71) سورة عنکبوت (24) اور سورة صافات (97) میں فرمایا ہے۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا (تم نے) اس جیسے شخص (کے واقعے) پر (غور کیا) جس کا ایک بستی پر ایسے وقت گزر ہوا جب وہ چھتوں کے بل گری پڑی تھی ؟ (175) اس نے کہا کہ : اللہ اس بستی کو اس کے مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گا ؟ پھر اللہ نے اس شخص کو سو سال تک کے لیے موت دی، اور اس کے بعد زندہ کردیا۔ (اور پھر) پوچھا کہ تم کتنے عرصے تک (اس حالت میں) رہے ہو ؟ اس نے کہا : ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ۔ اللہ نے کہا : نہیں بلکہ تم سو سال اسی طرح رہے ہو۔ اب اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ وہ ذرا نہیں سڑیں۔ اور (دوسری طرف) اپنے گدھے کو دیکھو (کہ گل سڑ کر اس کا کیا حال ہوگیا ہے) اور یہ ہم نے اس لیے کیا تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے (اپنی قدرت کا) ایک نشان بنادیں، اور (اب اپنے گدھے کی) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے ہیں، پھر ان کو گوشت کا لباس پہناتے ہیں۔ چنانچہ جب حقیقت کھل کر اس کے سامنے آگئی تو وہ بول اٹھا کہ : مجھے یقین ہے اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

175: آیت نمبر : 259 اور 260 میں اللہ تعالیٰ نے دو ایسے واقعے ذکر فرمائے ہیں جن میں اس نے اپنے دو خاص بندوں کو اس دنیا ہی میں مردوں کو زندہ کرنے کا مشاہدہ کرایا، پہلے واقعے میں ایک ایسی بستی کا ذکر ہے جو مکمل طور پر تباہ ہوچکی تھی اس کے تمام باشندے مرکھپ چکے تھے اور مکانات چھتوں سمیت گر کر مٹی میں مل گئے تھے ایک صاحب کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے دل میں سوچا کہ اللہ تعالیٰ اس ساری بستی کو کس طرح زندہ کرے گا، بظاہر اس سوچ کا منشاء خدانخواستہ کوئی شک کرنا نہیں تھا بلکہ حیرت کا اظہار تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کا مشاہدہ اس طرح کرایا جس کا اس آیت میں ذکر ہے، یہ صاحب کون تھے اور یہ بستی کونسی تھی یہ بات قرآن کریم نے نہیں بتائی، اور کوئی مستند روایت بھی ایسی نہیں ہے جس کے ذریعے یقینی طور پر ان باتوں کا تعین کیا جاسکے۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ بستی بیت المقدس تھی۔ اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب بخت نصر نے اس پر حملہ کر کے اسے تباہ کر ڈالا تھا، اور یہ صاحب حضرت عزیر یا حضرت ارمیا (علیہم السلام) تھے۔ لیکن نہ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے، نہ اس کھوج میں پڑنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کا مقصد اس کے بغیر بھی واضح ہے۔ البتہ یہ بات تقریباً یقینی معلوم ہوتی ہے کہ یہ صاحب کوئی نبی تھے، کیونکہ اول تو اس آیت میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام ہوئے، نیز اس طرح کے واقعات انبیائے کرام ہی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ دیکھئے نیچے حاشیہ 177
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور (اس وقت کا تذکرہ سنو) جب ابراہیم نے کہا تھا کہ میرے پروردگار مجھے دکھایے کہ آپ مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں ؟ اللہ نے کہا : کیا تمہیں یقین نہیں ؟ کہنے لگے : یقین کیوں نہ ہوتا ؟ مگر (یہ خواہش اس لیے کی ہے) تاکہ میرے دل کو پورا اطمینان حاصل ہوجائے۔ (176) اللہ نے کہا : اچھا تو چار پرندے لو، اور انہیں اپنے سے مانوس کرلو، پھر (ان کو ذبح کر کے) ان کا ایک ایک حصہ ہر پہاڑ پر رکھ دو ، پھر ان کو بلاؤ، وہ چاروں تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے۔ (177) اور جان رکھو کہ اللہ پوری طرح صاحب اقتدار بھی ہے، اعلی درجے کی حکمت والا بھی۔

176: اس سوال و جواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ بات صاف کردی کہ حضرت ابراہیم ؑ کی یہ فرمائش خدانخواستہ کسی شک کی وجہ سے نہیں تھی، انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر پورا یقین تھا ؛ لیکن آنکھوں سے دیکھنے کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے، اس سے نہ صرف مزید اطمینان حاصل ہوتا ہے، بلکہ اس کے بعد انسان دوسروں سے یہ کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں دلائل سے اس کا علم حاصل کرنے کے علاوہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ 177: یعنی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہر وقت مردے کو زندہ کرنے کا مشاہدہ کر اسکتی ہے، مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر ایک کو یہ مشاہدہ نہ کرایا جائے۔ اور بات دراصل یہ ہے کہ یہ دنیا چونکہ امتحان کی جگہ ہے، اس لیے یہاں اصل قیمت ایمان بالغیب کی ہے، اور انسان سے مطلوب یہ ہے کہ وہ ان حقائق پر آنکھوں سے دیکھے بغیر دلائل کی بنیاد پر ایمان لائے۔ البتہ انبیائے کرام کا معاملہ عام لوگوں سے مختلف ہے۔ وہ جب غیب کے حقائق پر غیر متزلزل ایمان لا کر یہ ثابت کرچکے ہوتے ہیں کہ ان کا ایمان نہ کسی شک کی گنجائش رکھتا ہے اور نہ وہ آنکھ کے کسی مشاہدے پر موقوف ہے تو ان کے ایمان بالغیب کا امتحان اسی دنیا میں پورا ہوجاتا ہے۔ پھر انہیں حکمت خداوندی کے تحت بعض غیبی حقائق آنکھوں سے بھی دکھا دئیے جاتے ہیں، تاکہ ان کے علم و اطمینان کا معیار عام لوگوں سے زیادہ ہو، اور وہ ڈنکے کی چوٹ یہ کہہ سکیں کہ وہ جس بات کی دعوت دے رہے ہیں اس کی حقانیت انہوں نے آنکھوں سے بھی دیکھ رکھی ہے۔ بعض وہ لوگ جو خلاف عادت باتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں، انہوں نے اس آیت میں بھی ایسی کھینچ تان کی ہے جس سے یہ نہ ماننا پڑے کہ وہ پرندے واقعۃً مر کر زندہ ہوگئے تھے۔ لیکن قرآن کریم کا پورا سیاق اور جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ان کا اسلوب ایسی تاویلات کی تردید کرتا ہے۔ جو شخص عربی زبان کے محاورات اور اسالیب سے واقف ہو وہ ان آیات کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں نکالے گا جو ترجمے میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 2:261–262

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ سات بالیں اگائے (اور) ہر بالی میں سو دانے ہوں (178) اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے (ثواب میں) کئی گنا اضافہ کردیتا ہے، اللہ بہت وسعت والا (اور) بڑے علم والا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں، وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے، نہ ان کو کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ کوئی غم پہنچے گا۔

178: اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے سات سوگنا ثواب ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کا ثواب چاہیں اور بڑھا سکتے ہیں، واضح رہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کا قرآن کریم نے بار بار ذکر کیا ہے اور اس سے مراد ہر وہ خرچ ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جائے اس میں زکوٰۃ صدقات اور خیرات سب داخل ہیں۔
Ayah 2:263

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

بھلی بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد کوئی تکلیف پہنچائی جائے (179) اور اللہ بڑا بےنیاز، بہت بردبار ہے۔

179: مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی سائل کسی سے مانگے اور کسی وجہ سے دے نہ سکتا ہو تو اس سے نرم الفاظ میں معذرت کرلینا اور اگر وہ مانگنے پر ناروا اصرار کرے تو اس کی غلطی سے درگزر کرنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان دے تو دے مگر بعد میں احسان جتلائے یا اسے ذلیل کرکے تکلیف پہنچائے
Ayahs 2:264–265

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے ایمان والو اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اس شخص کی طرح ضائع مت کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ چنانچہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنی چٹان پر مٹی جمی ہو، پھر اس پر زور کی بارش پڑے اور اس (مٹی کو بہا کر چٹان) کو (دوبارہ) چکنی بنا چھوڑے۔ (180) ایسے لوگوں نے جو کمائی کی ہوتی ہے وہ ذرا بھی ان کے ہاتھ نہیں لگتی، اور اللہ (ایسے) کافروں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے مال اللہ کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اور اپنے آپ میں پختگی پیدا کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک باغ کسی ٹیلے پر واقع ہو، اس پر زور کی بارش برسے تو وہ دگنا پھل لے کر آئے۔ اور اگر اس پر زور کی بارش نہ بھی برسے تو ہلکی پھوار بھی اس کے لیے کافی ہے، اور تم جو عمل بھی کرتے ہو اللہ اسے خوب اچھی طرح دیکھتا ہے۔

180: چٹان پر اگر مٹی جمی ہو تو یہ امید ہوسکتی ہے کہ اس پر کوئی چیز کاشت کرلی جائے ؛ لیکن اگر بارش مٹی کو بہالے جائے تو چٹان کے چکنے پتھر کاشت کے قابل نہیں رہتے، اسی طرح صدقہ خیرات سے آخرت کے ثواب کی امید ہوتی ہے ؛ لیکن اگر اس کے ساتھ ریا کاری یا احسان جتانے کی خرابی لگ جائے تو وہ صدقے کو بہالے جاتی ہے اور ثواب کی کوئی امید نہیں رہتی۔
Ayahs 2:266–271

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں (اور) اس کو اس باغ میں اور بھی ہر طرح کے پھل حاصل ہوں، اور بڑھاپے نے اسے آپکڑا ہو، اور اس کے بچے ابھی کمزور ہوں، اتنے میں ایک آگ سے بھرا بگولا آکر اس کو اپنی زد میں لے لے اور پورا باغ جل کر رہ جائے ؟ (181) اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے ایمان والو۔ جو کچھ تم نے کمایا ہو اور جو پیداوار ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہو اس کی اچھی چیزوں کا ایک حصہ (اللہ کے راستے میں) خرچ کیا کرو، اور یہ نیت نہ رکھو کہ بس ایسی خراب قسم کی چیزیں (اللہ کے نام پر) دیا کرو گے جو (اگر کوئی دوسرا تمہیں دے تو نفرت کے مارے) تم اسے آنکھیں میچے بغیر نہ لے سکو۔ اور یاد رکھو کہ اللہ ایسا بےنیاز ہے کہ ہر قسم کی تعریف اسی کی طرف لوٹتی ہے۔

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے۔ اللہ بڑی وسعت والا، ہر بات جاننے والا ہے۔

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے دانائی عطا کردیتا ہے، اور جسے دانائی عطا ہوگئی اسے وافر مقدار میں بھلائی مل گئی۔ اور نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو سمجھ کے مالک ہیں۔

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم جو کوئی خرچ کرو یا کوئی منت مانو اللہ اسے جانتا ہے۔ اور ظالموں کو کسی طرح کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم صدقات ظاہر کر کے دو تب بھی اچھا ہے، اور اگر ان کو چھپا کر فقرا کو دو تو یہ تمہارے حق میں کہیں بہتر ہے، اور اللہ تمہاری برائیوں کا کفارہ کردے گا، اور اللہ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔

181: صدقات کو برباد کرنے کی یہ دوسری مثال ہے۔ جس طرح ایک آگ سے بھرا بگولا ہرے بھرے باغ کو یکایک تباہ کر ڈالتا ہے، اسی طرح ریاکاری یا صدقہ دے کر احسان جتلانا یا کسی اور طرح غریب آدمی کو ستانا صدقے کے عظیم ثواب کو برباد کر ڈالتا ہے۔
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ان (کافروں) کو راہ راست پر لے آنا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے راہ راست پر لے آتا ہے۔ (182) اور جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو وہ خود تمہارے فائدے کے لیے ہوتا ہے جبکہ تم اللہ کی خوشنودی طلب کرنے کے سوا کسی اور غرض سے خرچ نہیں کرتے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تم پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔

182: بعض انصاری صحابہ کے کچھ غریب رشتہ دار تھے مگر چونکہ وہ کافر تھے اس لئے وہ ان کی امداد نہیں کرتے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ وہ اسلام لے آئیں تو ان کی امداد کریں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے بھی یہی ہدایت فرمائی تھی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (روح المعانی) اس طرح مسلمانوں کو بتایا گیا کہ آپ پر ان کے اسلام لانے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور اگر آپ ان غریب کافروں پر بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کچھ خرچ کریں گے تو اس کا بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔
Ayahs 2:273–274

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

(مالی امداد کے بطور خاص) مستحق وہ فقرا ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں اس طرح مقید کر رکھا ہے کہ وہ (معاش کی تلاش کے لیے) زمین میں چل پھر نہیں سکتے۔ چونکہ وہ اتنے پاک دامن ہیں کہ کسی سے سوال نہیں کرتے، اس لیے ناواقف آدمی انہیں مال دار سمجھتا ہے، تم ان کے چہرے کی علامتوں سے ان (کی اندرونی حالت) کو پہچان سکتے ہو (مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ (183) اور تم جو مال بھی خرچ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مال دن رات خاموشی سے بھی اور علانیہ بھی خرچ کرتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے، اور نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہوگا، نہ کوئی غم پہنچے گا۔

183: حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ وہ صحابہ تھے جنہوں نے اپنی زندگی علم دین حاصل کرنے کے لئے وقف کردی تھی اور آنحضرت ﷺ کے پاس مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترے پر آپڑے تھے، طلب علم کی وجہ سے وہ کوئی معاشی مشغلہ اختیار نہیں کرسکتے تھے مگر مفلسی کی سختیاں ہنسی خوشی برداشت کرتے تھے کسی سے مانگنے کا سوال نہیں تھا، اس آیت نے بتایا کہ ایسے لوگ امداد کے زیادہ مستحق ہیں جو ایک نیک مقصد سے پوری امت کے فائدے کے لئے مقید ہو کر رہ گئے ہیں اور سختیاں جھیلنے کے باوجود اپنی ضرورت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ آیت نمبر 261 سے 274 تک صدقات کی فضیلت اور اس کے احکام بیان ہوئے تھے۔ آگے آیت نمبر 280 تک اس کی ضد یعنی سود کا بیان ہے۔ صدقات انسان کے جذبہ سخاوت کی نشانی ہیں، اور سود بخل اور مال کی محبت کی علامت ہے۔