2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsآسان قرآن

Ayahs 2:121–122

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی، جبکہ وہ اس کی تلاوت اس طرح کرتے ہوں جیسا اس کی تلاوت کا حق ہے، تو وہ لوگ ہی (درحقیقت) اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ (78) اور جو اس کا انکار کرتے ہوں تو ایسے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں ْ

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ! میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم کو عطا کی تھی، اور یہ بات (یاد کرو) کہ میں نے تم کو سارے جہانوں پر فضیلت دی تھی۔

78: بنی اسرائیل میں جہاں سرکش لوگ بڑی تعداد میں تھے وہاں بہت سے لوگ ایسے مخلص بھی تھے جنہوں نے تورات اور انجیل کو صرف پڑھا ہی نہیں تھا ؛ بلکہ اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے حق کی ہر بات کو قبول کرنے کے لئے اپنے سینوں کو کشادہ رکھا تھا، چنانچہ جب ان کو آنحضرت ﷺ کی دعوت پہنچی تو انہوں نے کسی عناد کے بغیر اسے قبول کیا، اس آیت میں ان حضرات کی تعریف کی گئی ہے اور سبق یہ دیا گیا ہے کہ کسی آسمانی کتاب کی تلاوت کا حق یہ ہے کہ اس کے تمام احکام کو دل سے مان کر ان کی تعمیل کی جائے، درحقیقت تورات پر ایمان رکھنے والے وہی ہیں جو اس کے احکام کی تعمیل میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لاتے ہیں۔
Ayah 2:123

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص بھی کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا، نہ کسی سے کسی قسم کا فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ اس کو کوئی سفارش فائدہ دے گی اور نہ ان کو کوئی مدد پہنچے گی۔ (79)

79: بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور ان کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا جو ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے اس کا آغاز آیت 47 اور 48 میں تقریباً انہی الفاظ سے کیا گیا تھا، اب سارے واقعات تفصیل سے یاد دلانے کے بعد پھر وہی بات ناصحانہ انداز میں ارشاد فرمائی گئی ہے کہ ان سب باتوں کو یاد دلانے کا اصل مقصد تمہاری خیر خواہی ہے اور تمہیں ان واقعات سے اس نتیجے تک پہنچ جانا چاہیے۔
Ayah 2:124

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم کو ان کے پروردگار نے کئی باتوں سے آزمایا، اور انہوں نے وہ ساری باتیں کیں، اللہ نے (ان سے) کہا : میں تمہیں تمام انسانوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ ابراہیم نے پوچھا : اور میری اولاد میں سے ؟ اللہ نے فرمایا میرا (یہ) عہد ظالموں کو شامل نہیں ہے۔ (80)

80: یہاں سے حضرت ابراہیم ؑ کے کچھ حالات و واقعات شروع ہورہے ہیں اور پچھلی آیتوں سے ان واقعات کا دو طرح گہرا تعلق ہے، ایک بات تو یہ ہے کہ یہودی عیسائی اور عرب کے بت پرست یعنی تینوں گروہ جن کا ذکر اوپر آیا ہے حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا پیشوا مانتے تھے، مگر ہر گروہ یہ دعوی کرتا تھا کہ وہ اسی کے مذہب کے حامی تھے، لہذا ضروری تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں صحیح صورت حال واضح کی جائے، قرآن کریم نے یہاں یہ بتلایا ہے کہ ان کا تینوں گروہوں کے باطل عقائد سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان کی ساری زندگی توحید کی تبلیغ میں خرچ ہوئی اور انہیں اس راستے میں بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا جن میں وہ پورے اترے، دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے دوبیٹے تھے، حضرت اسحاق ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ ، حضرت اسحاق ؑ ہی کے بیٹے حضرت یعقوب ؑ تھے جن کا دوسرا نام اسرائیل تھا، نبی کریم ﷺ سے پہلے نبوت کا سلسلہ انہی کی اولاد یعنی بنی اسرائیل میں چلا آرہا تھا، جس کی بنا پر وہ یہ سمجھتے تھے کہ دنیا بھر کی پیشوائی کا حق صرف انہی کو حاصل ہے، کسی اور نسل میں کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو ان کے لئے واجب الاتباع ہو، قرآن کریم نے یہاں یہ غلط فہمی دور کرتے ہوئے یہ واضح فرمایا ہے کہ دینی پیشوائی کا منصب کسی خاندان کی لازمی میراث نہیں ہے اور یہ بات خود حضرت ابراہیم ؑ سے صریح لفظوں میں کہہ دی گئی تھی انہیں جب اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے آزمالیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر بڑی سے بڑی قربانی کے لئے ہمیشہ تیار ہیں، تب اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا بھر کی پیشوائی کا منصب دینے کا اعلان فرمایا، اسی موقع پر جب انہوں نے اپنی اولاد کے بارے میں پوچھا تو صاف طور پر بتلادیا گیا کہ ان میں جو لوگ ظالم ہوں گے یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے اپنی جانوں پر ظلم کریں گے وہ اس منصب کے حق دار نہیں ہوں گے بنی اسرائیل کو صدیوں آزمانے کے بعد ثابت یہ ہوا کہ وہ اس لائق نہیں ہیں کہ قیامت تک پوری انسانیت کی دینی پیشوائی ان کو دی جائے اس لئے نبی آخرالزمان ﷺ اب حضرت ابراہیم ؑ کے دوسرے صاحبزادے یعنی حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں بھیجے جارہے ہیں جن کے لئے حضرت ابراہیم ؑ نے دعا کی تھی کہ وہ اہل مکہ میں سے بھیجے جائیں۔ اب چونکہ دینی پیشوائی منتقل کی جارہی ہے اس لئے اب قبلہ بھی اس بیت اللہ کو بنایا جانے والا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل ؑ نے تعمیر کیا تھا اس مناسبت سے آگے تعمیر کعبہ کا واقعہ بھی بیان فرمایا گیا ہے یہاں سے آیت نمبر 152 تک جو سلسلہ کلام آرہا ہے اس کو اس پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔
Ayahs 2:125–126

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ایسی جگہ بنایا جس کی طرف وہ لوٹ لوٹ کر جائیں اور جو سراپا امن ہو۔ (81) اور تم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو۔ (82) اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو یہ تاکید کی کہ : تم دونوں میرے گھر کو ان لوگوں کے لیے پاک کرو جو (یہاں) طواف کریں اور اعتکاف میں بیٹھیں اور رکوع اور سجدہ بجا لائیں۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا تھا کہ : اے میرے پروردگار ! اس کو ایک پر امن شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائیں انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمایے۔ اللہ نے کہا : اور جو کفر اختیار کرے گا اس کو بھی میں کچھ عرصے کے لیے لطف اٹھانے کا موقع دوں گا، (مگر) پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف کھینچ لے جاؤں گا۔ اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔

81: اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی یہ حرمت رکھی ہے کہ نہ صرف مسجد حرام میں بلکہ اس کے ارد گرد کے وسیع علاقے میں جسے حرم کہا جاتا ہے، نہ کسی انسان کو قتل کیا جاسکتا ہے نہ شدید دفاعی ضرورت کے بغیر جنگ کرنا جائز ہے، نہ کسی جانور کا شکار حلال ہے، نہ کوئی خود رو پودا اکھاڑنے کی اجازت ہے، نہ کسی جانور کو قید رکھا جاسکتا ہے، اس طرح یہ صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں حیوانات اور نباتات کے لئے بھی امن کی جگہ ہے۔ 82: مقام ابراہیم اس پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ تعمیر کیا تھا، یہ پتھر آج بھی موجود ہے اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو بیت اللہ کا طواف کرے سات چکر لگانے کے بعد اس پتھر کے سامنے کھڑا ہو کر بیت اللہ کا رخ کرے اور دو رکعتیں پڑھے ان رکعتوں کا اسی جگہ پڑھنا افضل ہے۔
Ayahs 2:127–128

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور اس وقت کا تصور کرو جب ابراہیم بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (83) اور اسماعیل بھی (ان کے ساتھ شریک تھے، اور دونوں یہ کہتے جاتے تھے کہ) اے ہمارے پروردگار ! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے۔ بیشک تو اور صرف تو ہی، ہر ایک کی سننے والا، ہر ایک کو جاننے والا ہے۔

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم دونوں کو اپنا مکمل فرمانبردار بنا لے اور ہماری نسل سے بھی ایسی امت پیدا کر جو تیری پوری تابع دار ہو اور ہم کو ہماری عبادتوں کے طریقے سکھا دے اور ہماری توبہ قبول فرما لے۔ بیشک تو اور صرف تو ہی معاف کردینے کا خوگر (اور) بڑی رحمت کا مالک ہے۔

83: بیت اللہ جسے کعبہ بھی کہتے ہیں درحقیقت حضرت آدم ؑ کے وقت سے تعمیر چلاآتا ہے لیکن حضرت ابراہیم ؑ کے دور میں وہ حوادث روزگار سے منہدم ہوچکا تھا، حضرت ابراہیم ؑ کو اسے از سر نو انہی بنیادوں پر تعمیر کرنے کا حکم ہوا تھا جو پہلے سے موجود تھیں اور اللہ تعالیٰ نے بذریعۂ وحی آپ کو بتادی تھیں، اسی لئے قرآن کریم نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ وہ بیت اللہ تعمیر کررہے تھے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی بنیادیں اٹھا رہے تھے
Ayahs 2:129–130

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اور ہمارے پروردگار ! ان میں ایک ایسا رسول بھی بھیجنا جو انہی میں سے ہو، جو ان کے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، اور ان کو پاکیزہ بنائے۔ (84) بیشک تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل۔

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

اور کون ہے جو ابراہیم کے طریقے سے انحراف کرے ؟ سوائے اس شخص کے جو خود اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کرچکا ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے دنیا میں انہیں (اپنے لیے) چن لیا تھا، اور آخرت میں ان کا شمار صالحین میں ہوگا۔

84: دل سے نکلی ہوئی اس دعا کی تاثیر کسی ترجمے کے ذریعے دوسری زبان میں منتقل نہیں کی جاسکتی چنانچہ ترجمہ صرف اس کا مفہوم ہی ادا کرسکتا ہے یہاں اس دعا کو نقل کرنے کا مقصد ایک تو یہ دکھانا ہے کہ انبیاء اپنے بڑے بڑے کارنامے پر بھی مغرور ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور اور زیادہ عجز ونیاز کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے کارنامے کا تذکرہ کرنے کے بجائے اپنی ان کوتاہیوں پر توبہ کرتے ہیں جو اس کام کی ادائیگی میں ان سے سرزد ہونے کا امکان ہو دوسرے ان کا ہر کام صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے ہوتا ہے لہذا وہ اس پر مخلوق سے تعریف کرانے کی فکر کے بجائے اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا مانگتے ہیں۔ تیسرے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری حضرت ابراہیم ؑ کی دعا میں شامل تھی اور اس طرح خود حضرت ابراہیم ؑ نے یہ تجویز دی تھی کہ آپ بنی اسماعیل میں سے مبعوث ہوں نہ کہ بنی اسرائیل میں سے۔ اس دعا میں حضرت ابراہیم ؑ کی زبان سے حضور نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کے بنیادی مقاصد بھی بیان فرمادیئے ہیں ان مقاصد کو قرآن کریم نے کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے اور ان کی تشریح انشاء اللہ آگے اسی سورت کی آیت 151 میں آئے گی۔
Ayahs 2:131–132

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

جب ان کے پروردگار نے ان سے کہا کہ : سر تسلیم خم کردو ! (85) تو وہ (فورا) بولے : میں نے رب العالمین کے (ہر حکم کے) آگے سر جھکا دیا۔

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور اسی بات کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی، اور یعقوب نے بھی (اپنے بیٹوں کو) کہ : اے میرے بیٹو ! اللہ نے یہ دین تمہارے لیے منتخب فرما لیا ہے، لہذا تمہیں موت بھی آئے تو اس حالت میں آئے کہ تم مسلم ہو۔

85: یہاں سر تسلیم خم کرنے کے لئے قرآن کریم نے ”اسلام“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کے لفظی معنی سر جھکانے اور کسی کے مکمل تابع فرمان ہوجانے کے ہیں۔ ہمارے دین کا نام اسلام اسی لئے رکھا گیا ہے کہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول و فعل میں اللہ تعالیٰ ہی کا تابعدار بنے۔ حضرت ابراہیم ؑ چونکہ شروع ہی سے مومن تھے اس لئے یہاں اللہ تعالیٰ کا مقصد ان کو ایمان لانے کی تلقین کرنا نہیں تھا اسی لئے یہاں اس لفظ کا ترجمہ اسلام لانے سے نہیں کیا گیا البتہ اگلی آیت میں حضرت ابراہیم ؑ کی جو وصیت اپنی اولاد کے لئے مذکور ہے وہاں اسلام کے مفہوم میں دونوں باتیں داخل ہیں، دین برحق پر ایمان رکھنا بھی اور اس کے بعد اللہ کے ہر حکم کی تابعداری بھی۔ اس لئے وہاں لفظ ”مسلم“ ہی استعمال کیا گیا ہے۔
Ayahs 2:133–137

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

کیا اس وقت تم خود موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا تھا۔ (86) جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ ان سب نے کہا تھا کہ : ہم اسی ایک خدا کی عبادت کریں گے جو آپ کا معبود ہے اور آپ کے باپ دادوں ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کا معبود ہے۔ اور ہم صرف اسی کے فرمانبردار ہیں۔

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

وہ ایک امت تھی جو گزر گئی، جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کا ہے اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے۔

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور یہ (یہودی اور عیسائی مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ : تم یہودی یا عیسائی ہوجاؤ راہ راست پر آجاؤ گے۔ کہہ دو کہ : نہیں بلکہ (ہم تو) ابراہیم کے دین کی پیروی کریں گے جو ٹھیک ٹھیک سیدھی راہ پر تھے، اور وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

(مسلمانو) کہہ دو کہ : ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس کلام پر بھی جو ہم پر اتارا گیا اور اس پر بھی جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر اتارا گیا، اور اس پر بھی جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور اس پر بھی جو دوسرے پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے عطا ہوا۔ ہم ان پیغمبروں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے، اور ہم اسی (ایک خدا) کے تابع فرمان ہیں۔

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

اس کے بعد اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو تو یہ راہ راست پر آجائیں گے۔ اور اگر یہ منہ موڑ لیں تو درحقیقت وہ دشمنی میں پڑگئے ہیں۔ اب اللہ تمہاری حمایت میں عنقریب ان سے نمٹ لے گا، اور وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے۔

86: بعض یہودیوں نے کہا تھا کہ حضرت یعقوب (اسرائیل) ؑ نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی کہ وہ یہودیت کے دین پر رہیں، یہ آیت اس کا جواب ہے۔ اس آٰیت کو سورة آل عمران کی آیت 65 کے ساتھ ملاکر پڑھا جائے تو بات اور زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔
Ayahs 2:138–139

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

(اے مسلمانوں ! کہہ دو کہ) ہم پر تو اللہ نے اپنا رنگ چڑھا دیا ہے اور کون ہے جو اللہ سے بہتر رنگ چڑھائے ؟ اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ (87)

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

کہہ دو کہ : کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں حجت کرتے ہو ؟ حالانکہ وہ ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار (یہ) اور (بات ہے کہ) ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں، اور تمہارے عمل تمہارے لیے۔ اور ہم نے تو اپنی بندگی اسی کے لیے خالص کرلی ہے۔

87: اس میں عیسائیوں کی رسم بپتسمہ (Baptisma) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جسے اصطباغ (رنگ چڑھانا) بھی کہا جاتا ہے، کسی شخص کو عیسائی بنتے وقت وہ اسے غسل دیتے ہیں جو بعض اوقات رنگا ہوا پانی ہوتا ہے، ان کے خیال میں اس طرح اس پر عیسائی مذہب کا رنگ چڑھ جاتا ہے، یہ بپتسمہ پیدا ہونے والے بچوں کو بھی دیا جاتا ہے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق ہر بچہ ماں کے پیٹ سے گنہگار پیدا ہوتا ہے اور جب تک وہ بپتسمہ نہ لے گا گنہگار رہتا ہے اور یسوع مسیح کے کفارے کا حق دار نہیں ہوتا، قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ اس بےسر وپا خیال کی کوئی حقیقت نہیں، رنگ چڑھانا ہے تو اللہ کا رنگ چڑھاؤ جو توحید خالص کا رنگ ہے۔
Ayahs 2:140–141

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

بھلا کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولادیں یہودی یا نصرانی تھیں ؟ (مسلمانو ! ان سے) کہو : کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو ایسی شہادت کو چھپائے جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے پہنچی ہو ؟ (88) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

(بہرحال) وہ ایک امت تھی جو گزر گئی۔ جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کا ہے، اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے ؟

88: یہ حقیقت دراصل ان کو بھی معلوم ہے کہ یہ تمام انبیاء کرام توحید خالص کا درس دیتے رہے ہیں اور ان بےبنیاد عقیدوں سے انبیاء کرام کا کوئی تعلق نہیں ہے خود ان کی کتابوں میں یہ حقیقت واضح طور پر لکھی ہوئی موجود ہے اور ان میں نبی آخرالزمان ﷺ کی بشارتیں بھی موجود ہیں جو ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی شہادت کا درجہ رکھتی ہیں، مگر یہ ظالم ان کو چھپائے بیٹھے ہیں۔
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

اب یہ بیوقوف لوگ کہیں گے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جس نے ان (مسلمانوں) کو قبلے سے رخ پھیرنے پر آمادہ کردیا جس کی طرف وہ منہ کرتے چلے آرہے تھے ؟ آپ کہہ دیجیے کہ مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کی ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت کردیتا ہے (89)

89: یہاں سے قبلے کی تبدیلی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کا تفصیلی بیان شروع ہورہا ہے، واقعات کا پس منظر یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں آنحضرت ﷺ بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے، جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کو بیت المقدس کا رخ کرنے کا حکم دیا گیا، جس پر آپ تقریباً سترہ مہینے تک عمل کرتے رہے، اس کے بعد دوبارہ بیت اللہ شریف کو قبلہ قراردے دیا گیا، تبدیلی کا یہ حکم آگے آیت نمبر : 144 میں آرہا ہے، یہ آیت پیشینگوئی کررہی ہے کہ یہودی اور عیسائی اس تبدیلی پر بڑے اعتراضات کریں گے ؛ حالانکہ یہ حقیقت اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے ہر شخص کے لئے کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ قبلہ کی کوئی خاص سمت مقرر کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ قبلے کی سمت میں تشریف فرما ہیں، وہ تو ہر سمت اور ہر جگہ موجود ہے اور مشرق ہو یا مغرب شمال ہو یا جنوب، یہ ساری جہتیں اسی کی بنائی ہوئی ہیں ؛ البتہ چونکہ مصلحت کا تقاضہ یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرتے وقت تمام مومنوں کے لئے کوئی ایک سمت مقرر کردی جائے، اس لئے یہ مقصود ہے، جو کچھ تقدس کسی قبلہ یا اس کی سمت میں آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے آتا ہے ؛ چنانچہ وہ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہے جس سمت کو چاہے قبلہ قرار دے سکتا ہے، ایک مومن کا سیدھا راستہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ کر اللہ کے ہر حکم کے آگے سرتسلیم خم کردے، آیت کے آخر میں سیدھی راہ کا جو ذکر ہے اس سے مراد اسی حقیقت کا ادراک ہے۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور (مسلمانو) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنے (90) اور جس قبلے پر تم پہلے کار بند تھے، اسے ہم نے کسی اور وجہ سے نہیں، بلکہ صرف یہ دیکھنے کے لیے مقرر کیا تھا کہ کون رسول کا حکم مانتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھرجاتا ہے (91) ؟ اور اس میں شک نہیں کہ یہ بات تھی بڑی مشکل، لیکن ان لوگوں کے لیے (ذرا بھی مشکل نہ ہوئی) جن کو اللہ نے ہدایت دے دی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع کردے۔ (92) درحقیقت اللہ لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

90: یعنی جس طرح ہم نے اس آخری زمانے میں دوسری جہتوں کو چھوڑ کر کعبہ کی سمت کو قبلہ بننے کا شرف عطا فرمایا اور تمہیں اسے دل وجان سے قبول کرنے کی ہدایت دی، اسی طرح ہم نے تم کو دوسری امتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ معتدل اور متوازن امت بنایا ہے (تفسیر کبیر) چنانچہ اس امت کی شریعت میں ایسے مناسب احکام رکھے گئے ہیں جو قیام قیامت تک انسانیت کی صحیح رہنمائی کرسکیں، معتدل امت کی یہ خصوصیت بھی اس آیت میں بیان فرمائی گئی ہے کہ اس امت کو قیامت کے دن انبیاء کرام کے گواہ کے طور پر پیش کیا جائے گا، اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ جب پچھلے انبیاء کرام کی امتوں میں سے کافر لوگ صاف انکار کردیں گے کہ ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا تھا تو امت محمدیہ کے لوگ انبیائے کرام کے حق میں گواہی دیں گے کہ انہوں نے رسالت کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی اپنی امتوں کو پوری طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیا تھا اور اگرچہ ہم خود اس موقع پر موجود نہیں تھے ؛ لیکن ہمارے نبی کریم ﷺ محمد مصطفیٰ ﷺ نے وحی سے باخبر ہو کر ہم کو یہ بات بتلادی تھی اور ہمیں ان کی بات پر اپنے ذاتی مشاہدے سے زیادہ اعتماد ہے۔ دوسری طرف رسول کریم ﷺ اپنی امت کی اس بات کی تصدیق فرمائیں گے، نیز مفسرین نے امت محمدیہ کے گواہ ہونے کے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ شہادت سے مراد حق کی دعوت و تبلیغ ہے اور یہ امت پوری انسانیت کو اسی طرح حق کا پیغام پہنچائے گی جس طرح آنحضرت ﷺ نے ان کو پہنچایا تھا۔ باتیں دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہیں اور ان میں کوئی تعارض بھی نہیں۔ 91: مطلب یہ ہے کہ پہلے کچھ عرصے کے لئے بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا جو حکم ہم نے دیا تھا اس کا مقصد یہ امتحان لینا تھا کہ کون قبلے کی اصل حقیقت کو سمجھ کر اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور کون ہے جو کسی ایک قبلے کو بذات خود ہمیشہ کے لئے مقدس مان کر اللہ کے بجائے اسی کی عبادت شروع کردیتا ہے، قبلے کی تبدیلی سے یہی واضح کرنا مقصود تھا کہ عبادت بیت اللہ کی نہیں اللہ کی کرنی ہے، ورنہ اس میں اور بت پرستی میں کیا فرق رہ جاتا ہے ؟ اگلے جملے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرمادیا کہ جو لوگ صدیوں سے بیت اللہ کو قبلہ مانتے چلے آرہے تھے ان کے لئے اچانک بیت المقدس کی طرف رخ موڑ دینا کوئی آسان بات نہ تھی ؛ کیونکہ صدیوں سے دلوں پر حکمرانی کرنے والے اعتقادات کو یکایک بدل لینا بڑا مشکل ہوتا ہے ؛ لیکن جن لوگوں کو اللہ نے یہ سمجھ عطا فرمائی کہ کسی بھی چیز میں کوئی ذاتی تقدس نہیں اور اصل تقدس اللہ تعالیٰ کے حکم کو حاصل ہے ان کو نئے قبلے کی طرف رخ کرنے میں ذرا بھی دقت پیش نہیں آئی ؛ کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ ہم پہلے بھی اللہ کے بندے اور اس کے تابع فرمان تھے اور آج بھی اسی کے حکم پر ایسا کررہے ہیں۔ 92: اس سلسلہ کلام میں اس جملے کا ایک مطلب تو حضرت حسن بصری ؒ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگرچہ نئے قبلے کو اختیار کرلینا مشکل تھا ؛ لیکن جن لوگوں نے اپنی قوت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اسے بےچون وچرا مان لیا اللہ تعالیٰ ان کے اس ایمانی جذبے کو ضائع نہیں کرے گا ؛ بلکہ انہیں اس کا عظیم اجر ملے گا (تفسیر کبیر) دوسرے یہ جملہ ایک سوال کا جواب بھی ہے جو بعض صحابہ کے دل میں پیدا ہوا تھا اور وہ یہ کہ جو مسلمان اس وقت انتقال فرماگئے تھے جب قبلہ بیت المقدس تھا تو کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کی وہ نمازیں جو انہوں نے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے پڑھی تھیں قبلے کی تبدیلی کے بعد ضائع اور کالعدم ہوجائیں ؟ آیت نے جواب دے دیا کہ نہیں چونکہ انہوں نے اپنے ایمانی جذبے کے تحت وہ نمازیں اللہ ہی کے حکم کی تعمیل میں پڑھی تھیں اس لئے وہ نمازیں ضائع نہیں ہوں گی۔
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم تمہارے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ چنانچہ ہم تمہارا رخ ضرور اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جو تمہیں پسند ہے (93) لو اب اپنا رخ مسجد حرام کی سمت کرلو، اور (آئند ہ) جہاں کہیں تم ہو اپنے چہروں کا رخ (نماز پڑھتے ہوئے) اسی کی طرف رکھا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہی بات حق ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے آئی ہے (94) اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔

93: جب بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا تو آنحضرت ﷺ کو یہ اندازہ تھا کہ یہ حکم عارضی ہے اور چونکہ بیت اللہ بیت المقدس کے مقابلے میں زیادہ قدیم بھی تھا اور اس سے حضرت ابراہیم ؑ کی یادیں بھی وابستہ تھیں، اس لئے آپ کی طبعی خواہش بھی یہی تھی کہ اسی کو قبلہ بنایا جائے، چنانچہ آنحضرت ﷺ قبلے کی تبدیلی کے انتظار اور اشتیاق میں کبھی کبھی آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیکھتے تھے، اس آیت میں آپ کی اسی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔ 94: یعنی اہل کتاب اچھی طرح جانتے ہیں کہ قبلے کی تبدیلی کا جو حکم دیا گیا ہے وہ بالکل برحق ہے، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ لوگ حضرت ابراہیم ؑ کو مانتے تھے اور یہ بات تاریخی طور پر ثابت تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکہ میں کعبہ تعمیر کیا تھا بلکہ بعض مورخین نے خود تورات کے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی تمام اولاد (بشمول حضرت اسحاق ؑ) کا قبلہ کعبہ ہی تھا۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اگر تم ان کے پاس ہر قسم کی نشانیاں لے آؤ تب بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے۔ اور نہ تم ان کے قبلے پر عمل کرنے والے ہو، نہ یہ ایک دوسرے کے قبلے پر عمل کرنے والے ہیں (95) اور جو علم تمہارے پاس آچکا ہے اس کے بعد اگر کہیں تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کرلی تو اس صورت میں یقینا تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔

95: وَمَا أَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ، میں یہ اعلان کردیا گیا کہ اب قیامت تک کے لئے آپ کا قبلہ بیت اللہ ہی رہے گا، اس سے یہود و نصاری کے ان خیالات کا قطع کرنا مقصود تھا کہ مسلمانوں کے قبلہ کو تو کوئی قرار نہیں۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ ، یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو بطور فرض محال کے ہے جس کے وقوع کا کوئی احتمال نہیں، اور دراصل سنانا امت محمدیہ کو ہے کہ اس کی خلاف ورزی نہ کریں۔
Ayahs 2:146–147

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو اتنی اچھی طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں (96)۔ اور یقین جانو کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے حق کو جان بوجھ کر چھپا رکھا ہے۔

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

اور حق وہی ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، لہذا شک کرنے والوں میں ہرگز شامل نہ ہوجانا۔

96: اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو بحیثیت رسول پہچاننے کی تشبیہ اپنے بیٹوں کو پہچاننے کے ساتھ دی گئی ہے، کہ یہ لوگ جس طرح اپنے بیٹوں کو پوری طرح پہچانتے ہیں، ان میں کبھی شبہ و اشتباہ نہیں ہوتا، اسی طرح تورات و انجیل میں جو رسول اللہ ﷺ کی بشارت اور آپ ﷺ کی واضح علامات و نشانات کا ذکر آیا ہے، اس کے ذریعے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو بھی یقینی طور سے جانتے پہچانتے ہیں ان کا انکار محض عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے۔
Ayah 2:148

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر گروہ کی ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے ،۔ لہذا تم نیک کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم جہاں بھی ہوگے اللہ تم سب کو (اپنے پاس) لے آئے گا۔ (97) یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

97: جو لوگ قبلے کی تبدیلی پر اعتراض کررہے تھے ان پر حجت تمام کرنے کے بعد مسلمانوں کو یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ ہر مذہب کے لوگوں نے اپنے اپنے قبلے الگ الگ بنارکھے ہیں اور تمہارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس دنیا میں ان کو کسی ایک قبلے پر جمع کرسکو، لہذا اب ان لوگوں سے قبلے کی بحث میں پڑنے کے بجائے تمہیں اپنے کام میں لگ جانا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ اپنے نامہ اعمال میں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا اضافہ کرو اور اس کام میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو، آخری انجام یہ ہوگا کہ تمام مذہبوں والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے پاس بلائے گا اور اس وقت ان سب کی ترکی تمام ہوجائے گی وہاں سب کا قبلہ ایک ہی ہوجائے گا، کیونکہ سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
Ayah 2:149

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور تم جہاں سے بھی (سفر کے لیے) نکلو، اپنا منہ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف کرو، اور یقینا یہی بات ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آئی ہے (98) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔

98: اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام کی طرف رخ کرنے کا حکم ان آیتوں میں تین مرتبہ دہرایا ہے، اس سے ایک تو حکم کی اہمیت اور تاکید جتلانی مقصود ہے، دوسرے یہ بھی بتانا ہے کہ قبلے کا رخ کرنا صرف اس حالت میں نہیں ہے جب کوئی شخص بیت اللہ کے سامنے موجود ہو ؛ بلکہ جب مکہ مکرمہ سے نکلا ہوا ہو تب بھی یہی حکم ہے اور کہیں دور چلا جائے تب بھی یہ فریضہ ختم نہیں ہوتا، البتہ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمت کا لفظ استعمال فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا ہے کہ کعبے کا رخ کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان کعبے کی سوفیصد سیدھ میں ہو بلکہ اگر سمت وہی ہے تو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم پورا ہوجائے گا اور انسان اس معاملے میں اتنا ہی مکلف ہے کہ وہ اپنے بہترین ذرائع استعمال کرکے سمت صحیح متعین کرلے ایسا کرلینے کے بعد اس کی نماز ہوجائے گی۔
Ayah 2:150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور جہاں سے بھی تم نکلو، اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو، اور تم جہاں کہیں ہو اپنے چہرے اسی کی طرف رکھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف حجت بازی کا موقع نہ ملے (99) البتہ ان میں جو لوگ ظلم کے خوگر ہیں (وہ کبھی خاموش نہ ہوں گے) سو ان کا کچھ خوف نہ رکھو، ہاں میرا خوف رکھو اور تاکہ میں تم پر اپنا انعام مکمل کردوں اور تاکہ تم ہدایت حاصل کرلو۔

99: اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بیت المقدس قبلہ تھا، یہودی یہ حجت کرتے تھے کہ دیکھو ہمارا دین برحق ہے، اسی لے یہ لوگ ہمارے قبلے کو اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور مشرکین مکہ یہ بحث کرتے تھے کہ مسلمان اپنے آپ کو حضرت ابراہیم ؑ کا متبع کہتے ہیں مگر انہوں نے ابراہیمی قبلے کو چھوڑ کر ان سے سنگین انحراف کرلیا ہے، اب جبکہ قبلے کی تبدیلی میں جو مصلحت تھی وہ حاصل ہوگئی اور اس کے بعد مسلمان ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ قراردے کر اس پر عمل پیرا ہوں گے تو ان دونوں کی حجتیں ختم ہوجائیں گی، البتہ وہ کٹ حجت لوگ جنہوں نے اعتراض کرتے رہنے کی قسم ہی کھا رکھی ہے ان کی زبانیں کوئی نہیں روک سکتا ؛ لیکن مسلمانوں کو ان سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں اللہ کے سوا کسی سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
Ayahs 2:151–152

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

(یہ انعام ایسا ہی ہے) جیسے ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہارے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاکیزہ بناتا ہے، اور تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے (100)

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔ لہذا مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔

100: حضرت ابراہیم ؑ نے کعبے کی تعمیر کے وقت دو دعائیں کی تھیں، ایک یہ کہ ہماری نسل سے ایسی امت پیدا فرمائیے جو آپ کی مکمل فرمانبردار ہو، اور دوسری یہ کہ ان میں ایک رسول بھیجئے (دیکھئے پیچھے آیات 128۔ 129) اللہ تعالیٰ نے پہلی دعا اس طرح قبول فرمائی کہ امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) کو معتدل امت قرار دے کر پیدا فرمایا (دیکھئے آیت 143) اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کی دعا قبول کرتے ہوئے تم پر یہ انعام فرمایا کہ تمہیں معتدل امت بناکر آئندہ ہمیشہ کے لئے انسانیت کی رہنمائی تمہیں عطا کردی، جس کی ایک اہم علامت یہ بھی ہے کہ ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ بنادیا گیا ہے، اسی طرح ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کی دوسری دعا قبول کرتے ہوئے رسول اکرم ﷺ کو تمہارے درمیان بھیج دیا ہے، جو انہی خصوصیات اور فرائض منصبی کے حامل ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ نے ان کے لئے مانگے تھے، ان میں سے پہلا فریضہ تلاوت آیات ہے، اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کی آیات کو تلاوت کرنا بذات خود ایک مقصد اور ایک نیکی ہے، خواہ تلاوت آیات بغیر سمجھے کی جائے، کیونکہ قرآن کے معنی کی تعلیم آگے ایک مستقل فریضے کے طور پر بیان کی گئی ہے، دوسرا مقصد قرآن کریم کی تعلیم ہے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے بغیر قرآن کریم کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ممکن نہیں ہے، اور یہ کہ صرف ترجمہ پڑھ لینے سے قرآن کریم کی صحیح سمجھ حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ اہل عرب عربی زبان سے خوب واقف تھے، انہیں ترجمہ سکھانے کے لئے کسی استاذ کی ضرورت نہیں تھی، تیسرے آپ کا فریضہ یہ بتایا گیا ہے کہ آپ حکمت کی تعلیم دیں، اس سے معلوم ہوا کہ حکمت و دانائی اور عقلمندی وہی ہے جو آنحضرت ﷺ نے تلقین فرمائی، اس سے نہ صرف آپ کی احادیث کا حجت ہونا معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر آپ کا کوئی حکم کسی کو اپنی عقل کے لحاظ سے حکمت کے خلاف محسوس ہو تو اعتبار اس کی عقل کا نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی سکھائی ہوئی حکمت کا ہے، چوتھا فریضہ یہ بتایا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو پاکیزہ بنائیں اس سے مراد آپ کی عملی تربیت ہے، جس کے ذریعے آپ نے صحابہ کرام کے اخلاق اور باطنی صفات کو گندے جذبات سے پاک کرکے انہیں اعلی درجے کی خصوصیات سے آراستہ فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ قرآن وسنت کا صرف کتابی علم بھی انسان کی اصلاح کے لئے کافی نہیں ہے، جب تک اس نے اس علم کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی عملی تربیت نہ لی ہو، آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو اپنی صحبت سے سرفراز فرما کر ان کی تربیت فرمائی، پھر صحابہ نے تابعین کی اور تابعین نے تبع تابعین کی اسی طرح تربیت کی، اور یہ سلسلہ صدیوں سے اسی طرح چلا آتا ہے، باطنی اخلاق کی اسی تربیت کا علم علم احسان یا تزکیہ کہلاتا ہے اور تصوف بھی در حقیقت اسی علم کا نام تھا اگرچہ بعض نااہلوں نے اس میں غلط خیالات کی ملاوٹ کرکے بعض مرتبہ اسے خراب بھی کردیا ؛ لیکن اس کی اصل یہی تزکیہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم نے یہاں فرمایا ہے، اور ہر دور میں تصوف کی اصل حقیقت کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے والے ہمیشہ موجود رہے ہیں۔
Ayahs 2:153–155

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو (101) بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوں ان کو مردہ نہ کہو، دراصل وہ زندہ ہیں مگر تم کو (ان کی زندگی کا) احساس نہیں ہوتا

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔

101: اس سورت کی آیت نمبر 40 سے بنی اسرائیل سے متعلق جو سلسلہ کلام شروع ہوا تھا وہ پورا ہوگیا اور آخر میں مسلمانوں کو ہدایت کردی گئی کہ وہ فضول بحثوں میں الجھنے کے بجائے اپنے دین پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی طرف متوجہ ہوں، چنانچہ اب مختلف اسلامی عقائد اور احکام کا بیان شروع ہورہا ہے، اس بیان کا آغاز صبر کی تاکید سے ہوا ہے ؛ کیونکہ یہ دور وہ ہے جس میں مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل اور اس کی تبلیغ میں دشمنوں کی طرف سے طرح طرح کی رکاوٹیں پیش آرہی تھیں، اسی زمانے میں جنگوں کا سلسلہ بھی جاری تھا اور بہت سی سختیاں برداشت کرنی پڑرہی تھیں، جنگوں میں اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست شہید بھی ہورہے تھے یا ہونے والے تھے۔ لہذا اب مسلمانوں کو تلقین کی جارہی ہے کہ دین حق کے راستے میں یہ آزمائشیں تو پیش آنی ہیں، ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر راضی رہ کر صبر کا مظاہرہ کرے، واضح رہے کہ صبر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کسی تکلیف یا صدمہ پر روئے نہیں، صدمے کی بات پر رنج کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے اس لئے شریعت نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی، جو رونا بےاختیار آجائے وہ بھی بےصبری میں داخل نہیں، البتہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ صدمے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہ ہو ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر انسان عقلی طور پر راضی رہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر آپریشن کرے تو انسان کو تکلیف تو ہوتی ہے اور بعض اوقات اس تکلیف کی وجہ سے انسان بیساختہ چلا بھی اٹھتا ہے ؛ لیکن اسے ڈاکٹر سے شکایت نہیں ہوتی ؛ کیونکہ اسے یقین ہے کہ وہ جو کچھ کررہا ہے اس کی ہمدردی میں اور اس کی مصلحت کی خاطر کررہا ہے۔
Ayahs 2:156–157

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ“ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (102)

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔

102: اس فقرے میں پہلے تو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ چونکہ ہم سب اللہ کی ملکیت میں ہیں اس لئے اسے ہمارے بارے میں ہر فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور چونکہ ہم اس کے ہیں اور کوئی بھی اپنی چیز کا برا نہیں چاہتا، اس لئے ہمارے بارے میں اس کا ہر فیصلہ خود ہماری مصلحت میں ہوگا، چاہے فی الحال ہمیں وہ مصلحت سمجھ میں نہ آرہی ہو، دوسری طرف اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ایک دن ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے پاس اسی جگہ جانا ہے جہاں ہمارا کوئی عزیز یا دوست گیا ہے، لہذا یہ جدائی عارضی ہے ہمیشہ کے لئے نہیں ہے اور جب ہم اس کے پاس لوٹ کرجائیں گے تو ہمیں اس صدمے یا تکلیف پر انشاء اللہ ثواب بھی ملنا ہے، جب یہ اعتقاد دل میں ہو تو اسی کا نام صبر ہے، خواہ اس کے ساتھ ساتھ بےاختیار آنسو بھی نکل رہے ہوں۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، لہذا جو شخص بھی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس کے لیے اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ ان کے درمیان چکر لگائے (103) اور جو شخص خوشی سے کوئی بھلائی کا کام کرے تو اللہ یقینا قدر دان (اور) جاننے والا ہے۔

103: صفا اور مروہ مکہ مکرمہ میں دوپہاڑیاں ہیں، جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ ؓ کو اپنے دودھ پیتے صاحبزادے اسماعیل ؑ کے ساتھ چھوڑ کرگئے تو حضرت ہاجرہ ؓ پانی کی تلاش میں ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑی تھیں، حج اور عمرے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان سعی کرنا واجب قراردیا ہے، اگرچہ سعی واجب ہے مگر یہاں“ کوئی گناہ نہیں ”کے الفاظ اس لئے استعمال فرمائے گئے ہیں کہ زمانہ ٔ جاہلیت میں یہاں دو بت رکھ دئے گئے تھے جو اگرچہ بعد میں ہٹالئے گئے مگر بعض صحابہ کو یہ شک ہوا کہ شاید ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا جاہلیت کی نشانی ہونے کی وجہ سے گناہ ہو، آیت نے یہ شک دور کردیا۔