Chapter 2 of 2

قیصرِروم کے ساتھ ملاقات

حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ کی اُس دورمیں روئے زمین کی دوسری بڑی سلطنت ’’روم‘‘کے بادشاہ کے ساتھ ملاقات اوراس موقع پرپیش آنے والے حالات وواقعات کامختصرتذکرہ درجِ ذیل ہے: خلیفۂ دوم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کادور مسلمانوں کی ترقی اورعروج ٗ عدل وانصاف وغیرہ …غرضیکہ ہرلحاظ سے …اوربالخصوص فتوحات کے نہایت وسیع وعریض سلسلے کی وجہ سے بہت ہی تاریخی اورمثالی دورتھا،اسی دورمیں روئے زمین کی دونوں عظیم ترین قوتوں یعنی سلطنتِ فارس اورسلطنتِ روم کابیک وقت ان مٹھی بھرصحرانشین مسلمانوں کے ہاتھوں ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہوگیاتھا۔ فتوحات کے انہی سلسلوں کے دوران ۱۹ھ؁میں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک لشکرسلطنتِ روم کے کسی علاقے کی جانب روانہ کیاتھا،اس لشکرمیں حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ بھی موجودتھے۔ ان دنوں چونکہ بیک وقت متعددمحاذوں پرمسلمان اوررومی باہم برسرِ پیکارتھے،لہٰذاجنگی حکمتِ عملی کے طوپرایک دوسرے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ باخبررہنے اورمعلومات حاصل کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کی جاتی تھی،انہی کوششوں کے نتیجے میں سلطنتِ روم کے بادشاہ ’’قیصرِروم‘‘تک اپنے سپاہیوں ٗجاسوسوں ٗاورمخبروں کے ذریعے مسلمانوں کی انتہائی شرافت ٗامانت ودیانت ٗ نیزاپنے مذہب کے ساتھ والہانہ اورمخلصانہ وابستگی کے بارے میں خبریں پہنچتی رہتی تھیں ،جنہیں سن کروہ انتہائی حیران ہواکرتاتھا،اور سوچا کرتا تھا کہ آخریہ مسلمان کس قسم کے انسان ہیں ؟اوریہ کس دنیاکی مخلوق ہیں ؟ بالخصوص ایک بات جواس کیلئے بہت ہی زیادہ باعثِ حیرت بنی رہتی تھی ،وہ یہ کہ مسلمان اپنے دین کے ساتھ اس قدرمخلص ہیں کہ دین کی سربلندی کی خاطربوقتِ ضرورت بالکل بلاجھجھک اوربغیرکسی خوف یاترددکے اپنی جان تک قربان کردینے سے دریغ نہیں کرتے۔ چنانچہ ایک باراس نے اپنے سپاہیوں اورجاسوسوں کوتاکیدکرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی طرح کوئی مناسب موقع دیکھ کرکسی مسلمان سپاہی کوزندہ گرفتارکرکے اس کے سامنے پیش کیا جائے …تاکہ وہ بذاتِ خوداسے آزماسکے۔ چنانچہ رومی سپاہی اس مقصدکیلئے متعددمقامات پربڑی منصوبہ بندیاں کرتے رہے،آخر ایک روزکسی مقام پرانہوں نے مکروفریب اورحیلے بازی کے ذریعے چندمسلمان سپاہیوں کو اپنی گرفت میں لے لیا،جن میں حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اورپھران مسلمانوں کوقیصرِروم کے سامنے پیش کیاگیا،تب اس موقع پراس کے سپاہیوں نے تعارف کراتے ہوئے بطورِخاص یہ بات بھی بتائی کہ ان مسلمانوں میں ایک بہت اہم ترین انسان بھی ہے،کیونکہ وہ ان کے نبی( ﷺ )کے ساتھیوں (یعنی صحابۂ کرام)میں سے ہے،اورابتدائی زمانے کااصلی اورپکامسلمان ہے،اس پرقیصرنے بڑی مسرت کااظہار کیا، کیونکہ اسے اپنی خواہش کے عین مطابق ایک اصلی اورحقیقی مسلمان کوجانچنے اورپرکھنے کاموقع مل گیاتھا۔ چنانچہ ان قیدیوں کوقیصرکے روبروپیش کیاگیا،تب وہ ان تمام قیدیوں میں سے بطورِخاص حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ کی شخصیت کابغورجائزہ لینے لگا…کچھ دیرٹکٹکی باندھے ان کی جانب دیکھتارہا،اورپھرانہیں مخاطب کرتے ہوئے یوں گویاہوا : ٭قیصر: ’’اے قیدی!ہماری طرف سے تمہارے لئے ایک پیشکش ہے‘‘ ٭عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ:’’ کیاہے وہ پیشکش؟‘‘ ٭قیصر: تم دینِ اسلام ترک کرکے نصرانی بن جاؤ،تب ہم تمہیں اس قیدسے رہابھی کردیں گے،مزیدیہ کہ تم اپنی باقی تمام زندگی بڑی عزت کے ساتھ نہایت راحت وآرام میں بسرکروگے‘‘ ٭عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ:’’جس چیزکی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہواُس سے مجھے موت زیادہ پسندہے‘‘ ٭قیصر: تم مجھے بہادراورخوددارقسم کے انسان دکھائی دیتے ہو،اس لئے میں چاہتاہوں کہ تم میری یہ پیشکش قبول کرلو،میں تمہیں اپنی اس اتنی بڑی سلطنت میں حصے داربنالوں گا…‘‘ ٭تب زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس قیدی (عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ)نے جواب دیا’’اللہ کی قسم!اگرتم اپنی تمامترسلطنت بھی میرے حوالے کردو،تب بھی میں لمحہ بھرکیلئے بھی محمد ﷺ کے دین سے دستبرداری قبول نہیں کروں گا‘‘۔ ٭قیصر:’’ تب میں تمہیں قتل کرڈالوں گا‘‘ ٭عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ:’’ٹھیک ہے ،جوچاہوکرو‘‘ تب قیصرکے حکم پرحضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ کوپھانسی دینے کی غرض سے سولی تیارکی گئی،اورپھرانہیں سولی پرچڑھانے کے بعدگلے میں پھنداڈالنے سے قبل قیصر نے اپنے سپاہیوں کوحکم دیاکہ’’ اس قیدی کے بازؤوں کے قریب نشانہ باندھ کر تیر چلاؤ‘‘ جس پرحکم کی فوری تعمیل کی گئی،تیران کے بازؤوں کوچھوتے ہوئے مسلسل گذرتے رہے، اس دوران قیصربارباروہی پیشکش دہراتارہاکہ ’’ہمارادین اختیارکرلو،تمہیں رہا کردیا جائیگا‘‘لیکن قیدی مسلسل انکارکرتارہا،تب ان کی ٹانگوں کے قریب تیربرسائے جانے لگے، قیصر کی طرف سے وہی اصرار…قیدی کی طرف سے وہی انکار…جبکہ اس دوران مسلسل تیران کی ٹانگوں کوچھوتے ہوئے گذرتے رہے۔ اس کے بعدقیصرنے یہ سلسلہ موقوف کرکے ایک بڑی دیگ میں تیل بھرکراسے تیزآگ پرچڑھانے کاحکم دیا،حکم کی فوری تعمیل کی گئی،تیل جب خوب کھولنے لگاتوحضرت عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص کوحاضرکیاگیااورتمام لوگوں کی نظروں کے سامنے اس کھولتے ہوئے تیل میں اسے زندہ ڈال دیاگیا،تب عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ ودیگرتمام لوگوں نے اپنی آنکھوں سے رونگٹے کھڑے کردینے والایہ منظردیکھاکہ کھولتے ہوئے اس تیل میں گرتے ہی اس شخص کاگوشت ہڈیوں سے الگ ہوگیا،اوراس کی چمکتی ہوئی ہڈیاں نظرآنے لگیں …اورتب رومیوں کے بادشاہ قیصرنے معنیٰ خیزنگاہوں سے اس قیدی(عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ)کی جانب دیکھا،گویاآنکھوں ہی آنکھوں میں یہ جتلانا چاہتا ہوکہ ابھی تمہارابھی یہی انجام ہونے والاہے…لہٰذااس موقع پراس نے ایک بارپھرانہیں دینِ نصرانیت قبول کرلینے کی پیشکش کی،لیکن انہوں اب بھی انکارہی کیا،تب اس نے اپنے سپاہیوں کوحکم دیاکہ’’ اب اس قیدی کوبھی اسی طرح اس دیگ میں کھولتے ہوئے تیل میں پھینک دیاجائے‘‘۔ شاہی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سپاہی فوراًاس قیدی (عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ)کی جانب لپکے،اورخوب مضبوطی کے ساتھ اسے دبوچے ہوئے اس دیگ کی طرف بڑھنے لگے، اس کیفیت میں یہ قیدی جب دیگ کے قریب پہنچاتواس کی آنکھوں سے کچھ آنسوبہہ نکلے۔ یہ منظردیکھ کربادشاہ (قیصرِروم)نہایت خوش ہونے لگا،اوریوں سمجھنے لگاکہ آخرجیت میری ہی ہوئی،اوریہ مسلمان ڈرگیا،اپنابھیانک انجام دیکھ کریہ اب خوفزدہ ہوگیاہے،اس نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے،دنیابھرمیں یہ جوبات مشہورچلی آرہی ہے کہ ’’مسلمان کبھی موت سے نہیں ڈرتا‘‘ہم نے یہ بات آج غلط ثابت کردکھائی ہے،ہماری نگاہوں کے سامنے یہ مسلمان…بلکہ یہ مسلمانوں کے پیغمبرکاساتھی…یہ صحابی…آخراس نے آج ہمارے سامنے ہتھیارڈال دئیے…اورآنسوبھی بہارہاہے… قیصرسمجھاکہ معاملہ یہ ہے…رونے کی وجہ بھی یہی ہے…تب اس نے سپاہیوں کوحکم دیاکہ ’’رُک جاؤ…دیکھویہ رورہاہے…اسے میرے پاس لاؤ‘‘چنانچہ قیدی کوواپس لایاگیا،تب اسے مخاطب کرتے ہوئے قیصرکہنے لگا’’آخرتم ڈرگئے…چلواب تم نصرانی بن جاؤ،ہمارادین اختیارکرلو…‘‘ لیکن تب قیصریہ منظردیکھ کرانتہائی حیرت زدہ رہ گیاکہ اس بار تو قیدی نے پہلے سے بھی زیادہ جوش وخروش اورعزم بالجزم کے ساتھ اس پیشکش کویکسرٹھکرادیا…تب نہایت تعجب کے عالم میں اس نے قیدی سے دریافت کیا’’اب بھی وہی انکار…توپھرتم روکیوں رہے تھے…؟‘‘ اس پرقیدی نے جواب دیا’’میں تواس لئے رورہاتھاکہ میں کتنے ہی دنوں سے تمہاری قید میں جکڑاہوابے بس اورلاچارانسان…اپنی یہ کمزورسی جان اللہ کی راہ میں پیش کررہا ہوں ،کاش میرے جسم پرجتنے بال ہیں ،میری اتنی ہی جانیں ہوتیں ،اورمیں اپنی وہ تمام جانیں اللہ کی راہ میں قربان کرسکتا…‘‘ قیدی (یعنی حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ)کی زبانی یہ عجیب وغریب بات سن کروہ سرکش اورمغرورومتکبربادشاہ حیران وپریشان رہ گیا…اوراس سوچ میں پڑگیاکہ کیسی بات کہہ رہاہے یہ قیدی…؟اللہ کی راہ میں اتنی زیادہ جانیں قربان کردینے کی آرزوکررہاہے…حالانکہ ابھی کچھ ہی دیرقبل اپنے ساتھی کادردناک انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ چکاہے؟ آخربادشاہ(قیصرِروم)نے سوچاکہ یہ توواقعی موت سے ڈرتاہی نہیں ،حالانکہ موت سے زیادہ خوفناک چیزاورکیاہوسکتی ہے؟وہ بھی ایسی موت؟ مگراسے توقطعاًکوئی فکرہی نہیں ہے، کوئی اثرہی نہیں ہورہااس پر،لہٰذااسے ستانے اورپریشان کرنے کیلئے ’’سزائے موت‘‘کی بجائے کوئی اورترکیب سوچناہوگی… اورپھرقدرے توقف کے بعد…اورکچھ غوروفکرکے بعدوہ کہنے لگا’’کیاتمہیں یہ بات منظورہے کہ تم میرے سرکوبوسہ دو…؟اس کے بدلے میں تمہیں آزادکردوں گا‘‘ تب حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت فرمایا’’کیاتم میرے تمام ساتھیوں کوبھی رہاکردوگے؟‘‘ قیصرنے کہا’’ہاں …تمہارے تمام ساتھی قیدیوں کوبھی رہاکردوں گا‘‘ تب حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی ؓ نے اپنے دل میں سوچاکہ ’’اگرچہ یہ شخص (قیصرِروم) یقینااللہ کااوراس کے دین کادشمن ہے،لیکن اگراس کی اس پیشکش کوقبول کرتے ہوئے میں ابھی اس کاسرچوم لیتاہوں …اوراس کے عوض صرف مجھے ہی نہیں …بلکہ میرے تمام ساتھیوں کوبھی اس قیدسے رہائی نصیب ہوجائے گی…اورہم سبھی کی جان بچ جائے گی… تواس میں کوئی قباحت نہیں ہے‘‘ اورتب حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کراس بادشاہ (یعنی قیصر روم)کے سرکوبوسہ دیا…تب بادشاہ نے فوری طورپرتمام قیدیوں کی رہائی اور آزادی کا حکم دیتے ہوئے انہیں حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ کے حوالے کیا…اوران سبھی کواپنی مرضی سے جہاں وہ چاہیں …چلے جانے کی اجازت دی… تب یہ تمام حضرات طویل سفرطے کرنے کے بعدسلطنتِ روم کے اُس علاقے سے جب مدینہ واپس پہنچے …توانہوں نے خلیفۂ وقت حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کواس تمام واقعے سے مطلع کیا۔ حضر ت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے بڑے ہی انہماک ٗخوب توجہ اوردلچسپی کے ساتھ تمام واقعہ سنا…جس پروہ انتہائی متأثرہوئے ،اور بطورِخاص اس بات پربڑی مسرت کا اظہار کیا کہ عبداللہ بن حذافہ السہمی ؓ نے کس طرح دانشمندی سے کام لیتے ہوئے بادلِ ناخواستہ اُس مغروربادشاہ کے سرکوبوسہ دیا…اوریوں اپنے تمام ساتھیوں کوزندہ سلامت لئے ہوئے آخرواپس مدینہ آپہنچے… اورپھرحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کچھ دیرتک قیصرکی قیدسے رہائی پاکرزندہ سلامت آنے والے ان افرادکی جانب بغوردیکھتے رہے…اورپھر حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ کی جانب بغوردیکھتے ہوئے فرمایا: حَقٌّ عَلَیٰ کُلِّ مُسلِمٍ أن یُقَبِّلَ رَأسَ عَبدِ اللّہِ بن حُذَافَۃ … یعنی’’یقینا ہرمسلمان پرعبداللہ بن حذافہ کایہ حق بنتاہے کہ وہ ان کے سرکوبوسہ دے…‘‘ اورپھرفوراًہی مزیدفرمایا: وَأنَا أبدَأُ بِذَلِکَ … یعنی’’اس کام کی ابتداء میں خودکرتاہوں …‘‘ اورپھرسب سے پہلے خودخلیفۃ المسلمین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کرحضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ کے سرکوبوسہ دیا…اس کے بعداُس وقت وہاں موجوددیگرتمام حضرات نے بھی ان کے سرکوبوسہ دیا…کیونکہ اِنہوں (یعنی حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ)نے اُس ظالم وجابراورمغرورومتکبربادشاہ(قیصرِروم) کے سرکو بوسہ دے کراپنے ان تمام مسلمان ساتھیوں کی جان بچائی تھی…لہٰذایہ یقینااس اعزاز اور قدرافزائی کے مستحق تھے کہ سبھی مسلمان اب ان کے سرکوبوسہ دیں ۔ ٭…یہ ہے داستان اس شخص کی جومکہ شہرمیں دوسرے سبھی عام لوگوں کی طرح پلابڑھا…جس کی شخصیت میں بظاہرایسی کوئی خاص بات نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ کیلئے تاریخی اوریادگارشخصیت بن جائے…لیکن اللہ کویہی منظورتھا…کہ مکہ کے گلی کوچوں میں پرورش پانے والایہ عام اورسیدھاسادھاانسان …ہمیشہ کیلئے تاریخی شخصیت بن جائے…چنانچہ اللہ کی مشیت ومرضی سے ہی اُس وقت تمام روئے زمین کی دوعظیم ترین سلطنتوں کے انتہائی طاقتور ٗمطلق العنان ٗ ظالم وجابر ٗاورمغرورومتکبربادشاہوں سے ان کی ملاقات ہوئی،اورپھراس حوالے سے کس قدراہم ٗیادگار ٗاورسبق آموزحالات وواقعات بھی پیش آئے،یہی وہ سبب تھاجس کی بناء پریہ سیدھاسادھااور’’عام انسان‘‘اللہ کی مرضی سے ہمیشہ کیلئے ’’عظیم انسان‘‘بن گیا…یہاں تک کہ خلیفۃ المسلمین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ جیسے عظیم ترین انسان (جنہیں دنیا’’فاروقِ اعظم‘‘کے لقب سے یادکرتی ہے)نے خودآگے بڑھ کراس عظیم انسان کے سرکوبوسہ دیا…نیزاُس وقت وہاں موجوددوسرے تمام مسلمانوں کو بھی یہی حکم دیاکہ ہرکوئی آگے بڑھ کران کے سرکوبوسہ دے… ٭…رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دعوتِ اسلام کے سلسلے میں مختلف فرمانرواؤں کے نام خطوط تحریرکئے جانے کاواقعہ ۶ھ؁میں پیش آیاتھا،تب آپؐ کی طرف سے سلطنتِ فارس کے بادشاہ کسریٰ خسروپرویزکے نام تحریرفرمودہ نامۂ مبارک حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ نے پہنچایاتھا…چنانچہ ۶ھ؁میں رسول اللہ ﷺ کے قاصدکی حیثیت سے ان کی ملاقات کسریٰ خسروپرویزکے ساتھ ہوئی تھی۔ جبکہ اس کے تقریباًتیرہ سال بعد ۱۹ھ ؁میں خلیفۂ دوم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کے دوران سلطنتِ روم کے بادشاہ قیصرکے ساتھ ان کی ایک قیدی کی حیثیت سے ملاقات کاواقعہ پیش آیاتھا۔ اس کے بعدخلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کے دوران حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ (فاتحِ مصر)کی زیرِقیادت جب یہ مصرمیں اسلامی لشکر میں خدمات انجام دے رہے تھے…تب ان کی طبیعت ناسازہوگئی،رفتہ رفتہ مرض شدت اختیارکرتاگیا،آخروہیں مصرمیں ہی ان کاانتقال ہوگیا،اوروہیں انہیں سپردِخاک کیا گیا ۔ یوں رسول اللہ ﷺ کے یہ صحابی حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ اس دنیائے فانی سے کوچ کرتے ہوئے اپنے اللہ سے جاملے… اللہ تعالیٰ جنت الفردس میں ان کے درجات بلندفرمائیں ۔