Chapter 1 of 2

حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ

حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ کاتعلق مکہ میں قبیلۂ قریش سے تھا،یہ’’السابقین الأولین‘‘یعنی ان عظیم ترین شخصیات میں سے تھے جنہوں نے دینِ اسلام کے بالکل ابتدائی دورمیں دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے دینِ اسلام قبول کیاکہ جب مسلمان بہت زیادہ مشکلات سے دوچارتھے۔ مشرکینِ مکہ کی طرف سے مسلسل ایذاء رسانیوں کے جوسلسلے تھے ،خندہ پیشانی سے یہ انہیں برداشت کرتے رہے اورراہِ حق میں ان کے قدموں میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ نبوت کے پانچویں سال جب مشرکینِ مکہ کی طرف سے ایذاء رسانیوں کاسلسلہ عروج پر تھا، تب رسول اللہ ﷺ نے اپنے جان نثارصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوملکِ حبشہ کی جانب ہجرت کامشورہ دیاتھا،جس پر بہت سے صحابۂ کرام اپناوطن ٗاپناگھربار ٗاپناآبائی شہرمکہ ٗ اوراپناسبھی کچھ چھوڑچھاڑکرمکہ سے ملکِ حبشہ کی جانب ہجرت کرگئے تھے ،اورانہی مہاجرینِ حبشہ میں حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اورپھرنبوت کے تیرہویں سال کے بالکل آخرمیں جب ہجرتِ مدینہ کاحکم نازل ہوا،جس کے نتیجے میں رسول اللہ ﷺ نیز تمام مسلمان مکہ سے مدینہ ہجرت کرگئے،تب ملکِ حبشہ میں موجودمسلمان بھی رفتہ رفتہ حبشہ سے مدینہ منتقل ہوگئے،اوریوں حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ بھی مدینہ آپہنچے۔ ٭…مدنی زندگی میں جب صورتِ حال تبدیل ہوئی اورمشرکینِ مکہ ودیگرمشرکین ومخالفین کے ساتھ مختلف مواقع پرمسلح تصادم اورمتعددغزوات کی نوبت آئی…تب ایسے ہرموقع پرحضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے تلے ہمیشہ ہی پیش پیش رہے اوربے مثال شجاعت وبہادری کے خوب جوہردکھاتے رہے۔ ٭…حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ اُس دورکے عام انسانوں کی طرح ایک عام قسم کے سیدھے سادھے انسان ہی تھے،لیکن ان کے نصیب میں یہ بات لکھی تھی کہ اُس زمانے میں تمام روئے زمین پرجودوانتہائی طاقتورترین اورعظیم سلطنتیں آبادتھیں …یعنی سلطنتِ فارس ٗاورسلطنتِ روم ٗ جن کااُس زمانے میں بہت زیادہ رعب اوردبدبہ تھا، خوب شان وشوکت اوربڑی ہیبت تھی…اسی مناسبت سے ظاہرہے کہ ان دونوں سلطنتوں کے جوبادشاہ تھے ان کی بھی بڑی حیثیت اوربہت زیادہ ہیبت تھی۔ عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ جیسابالکل سیدھاسادھا صحرانشین ٗبلکہ بوریانشین قسم کاانسان جسے شاہی آداب کی قطعاًکوئی خبرہی نہیں تھی ،اس سیدھے سادھے انسان کے نصیب میں ان دونوں عظیم ترین سلطنتوں کے عظیم فرمانرواؤں سے ملاقات لکھی تھی،اورپھر یہ کہ صرف ملاقات ہی نہیں …بلکہ دونوں فرمانرواؤں کے ساتھ اس قدرعجیب وغریب قسم کے حالات میں ملاقات…اورپھراس ملاقات کے موقع پرپیش آنے والے عجیب وغریب اورہمیشہ کیلئے سبق آموزقسم کے حالات وواقعات…اورپھراس ملاقات کے دوررس نتائج وثمرات…یہ وہ چیزتھی کہ جس کی بناء پراس سیدھے سادھے اورعام سے انسان کانام تاریخ میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوگیا۔ ٭…اس کاپس منظرکچھ اس طرح ہے کہ ۶ھ؁میں رسول اللہ ﷺ اورمشرکینِ مکہ کے مابین ’’صلحِ حدیبیہ‘‘کے نام سے طے پانے والے مشہورتاریخی معاہدۂ صلح کے نتیجے میں آپ ﷺ کومشرکینِ مکہ کی طرف سے کسی حدتک جب بے فکری نصیب ہوئی …تب اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپؐ نے دینِ اسلام کی تبلیغ اور نشرواشاعت کے مبارک سلسلے کومزیدوسعت دینے کافیصلہ فرمایا…کیونکہ (گذشتہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے برعکس)آپؐ کی بعثت ورسالت زمان ومکان کی تمام حدودوقیودسے بالاترتھی ،آپؐ کو قیامت تک تمام دنیائے انسانیت کیلئے رہبرورہنمابناکربھیجاگیاتھا،جیساکہ قرآن کریم میں ارشادِربانی ہے:{قُل یَا أیُّھَا النّاسُ اِنِّي رَسُولُ اللّہِ اِلَیکُم جَمِیعاً…}(۱) یعنی ’’(اے نبیؐ)آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو!میں تم سبھی کی طرف بھیجاہوااللہ کارسول ہوں …‘‘ چنانچہ اپنے رب کی طرف سے تبلیغِ دین کے اس حکم کی تعمیل کے طورپرآپؐ نے ۶ھ؁میں مشرکینِ مکہ کے ساتھ کئے گئے اس ’’معاہدۂ صلح ‘‘سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف فرمانرواؤں ٗ امراء وسلاطین ٗ والیانِ ریاست ٗ سربراہانِ مملکت ٗاوررؤسائے قبائل کے نام دعوتِ اسلام کے سلسلے میں خطوط تحریرفرمائے۔ ٭…ان خطوط کودوردرازکے علاقوں میں ان فرمانرواؤں تک پہنچانابہت ہی مشکل اورخطرناک ترین معاملہ تھا،کیونکہ مسافت بہت زیادہ تھی،اورپھریہ کہ انجان راستے،اَن دیکھی منزل ، نہ کوئی ساتھی ،نہ کوئی ہمسفر…راستے میں قدم قدم پرجان کاخطرہ،چوروں اورلٹیروں کی طرف سے خطرہ،ویرانوں ٗبیابانوں میں جنگلی جانوروں اوردرندوں کی طرف سے خطرہ… مزیدیہ کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بطورِقاصدیہ خطوط لے جانے والے افراد جن علاقوں کی طرف روانہ ہونے والے تھے،ان کی زبان سے ناواقفیت ،ان کے مزاج ٗرسم و رواج ٗ اورآداب سے بے خبر،اورپھریہ کہ وہاں پہنچنے کے بعدکسی عام انسان سے ملاقات مقصودنہیں ہے،بلکہ ان کے بادشاہ سے ملاقات مقصودہے،اسے مکتوب پہنچاناہے،اور سب سے بڑھ کرخطرناک اورنازک معاملہ یہ کہ اسے اپنا ٗاوراپنے آباؤاجدادکادین ترک کرکے نیادین (دینِ اسلام)قبول کرنے کی دعوت دینی ہے… اس دنیامیں انسان کسی بھی بات پرصبروتحمل کامظاہرہ کر سکتاہے …لیکن ’’دین‘‘اور ’’مذہب‘‘کامعاملہ اس قدرحساس اورنازک ترین ہے کہ کوئی بھی شخص خواہ کتناہی گیا گذرا کیوں نہو،لیکن وہ اپنے مذہب کے خلاف کچھ سننے کیلئے کسی صورت آمادہ نہیں ہوسکتا…چہ جائیکہ کسی بادشاہ کویاسربراہِ مملکت کوجاکربزبانِ حال یوں کہاجائے کہ ’’جناب!آپ اپنااوراپنے آباؤاجدادکاوہ دین جس پرآپ کاپوراخاندان صدیوں سے نسل درنسل قائم ہے…آپ اس دین سے کنارہ کشی اختیارکرلیجئے …اوربس ہمارادین اپنالیجئے…‘‘ اورپھربادشاہ بھی اُس دورکے …مکمل مطلق العنان…جس کسی سے خوش ہوگئے تواس پرآناًفاناًنوازشات کی بارش برسادی،فرش سے اٹھاکرعرش پرپہنچادیا،اورجس کسی سے بگڑگئے توبیک جنبشِ قلم اس کاسرہی قلم کرڈالا…ایسے سرپھرے بادشاہ…جن کیلئے نہ کوئی قاعدہ تھا،نہ کوئی قانون…اورنہ ہی کوئی روک ٹوک…لہٰذاایسے بادشاہ کاکیا بھروسہ ؟ کب بگڑجائے؟اورنہ جانے کیاسلوک کرڈالے؟ لہٰذایہ اس قدرخطرناک مہم تھی کہ اس مہم پر…اوراس سفرپرجانے والے کے بارے میں گویااس بات کاقوی اندیشہ موجودتھاکہ شایدوہ پلٹ کرنہیں آسکے گا،اوراگرزندہ سلامت واپس آگیاتوگویااسے نئی زندگی نصیب ہوگی(یہ کوئی محض مفروضہ نہیں تھا،بلکہ واقعاتی طورپراورحقیقت کی دنیامیں یہ واقعہ پیش بھی آیاکہ آپؐ کانامۂ مبارک لئے ہوئے حضرت حارث بن عمیرالأزدی رضی اللہ عنہ جب محوِسفرتھے تب ملکِ شام میں بلقاء کے مقام پر شرحبیل الغسانی نے انہیں نہایت بیدردی کے ساتھ قتل کرڈالا،اورپھراس کے نتیجے میں ہی غزوۂ مؤتہ کی نوبت آئی تھی)۔ ایسی ہی صورتِ حال میں ایک روزرسول اللہ ﷺ نے اللہ عزوجل کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعداپنے جان نثارصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کومخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’لوگو!میں تمہیں مختلف فرمانرواؤں کی جانب روانہ کرناچاہتاہوں …‘‘اس پرسبھی نے بیک زبان عرض کیا’’اے اللہ کے رسول!آپ ہمیں جہاں بھیجناچاہیں بھیج دیں ، ہم حاضر ہیں ‘‘ ۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے چھ افرادکومنتخب فرمایا،تاکہ آپؐ کے قاصدکی حیثیت سے یہ افرادمختلف فرمانرواؤں تک دعوتِ اسلام کے سلسلے میں یہ خطوط پہنچاسکیں ۔ انہی چھ افرادمیں حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے،جنہیں سلطنتِ فارس کے بادشاہ کسریٰ خسرپرویزتک آپؐ کامکتوبِ گرامی پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ٭…حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ نے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس سفرکی تیاری شروع کردی…اورپھرآخرایک روزوہاں مدینہ میں …اپنی شریکۂ حیات اوراپنے بچوں کوالوداع کہا…اورروانہ ہوگئے،ان کی منزل بہت دورتھی،یعنی ’’مدائن‘‘ سلطنتِ فارس کادارالحکومت(۱)،اس طویل سفرمیں کوئی ان کاہمسفرنہیں تھا،کوئی ساتھی نہیں تھا،بس بالکل یکہ وتنہا…اپنے اللہ پربھروسہ کئے ہوئے چل دئیے۔ مسلسل سفرکرتے ہوئے …طویل مسافت طے کرنے کے بعدسلطنتِ فارس کی حدود میں جاپہنچے،اورپھروہاں مختلف علاقوں ٗشہروں ٗاوربستیوں سے گذرتے ہوئے آخران کے دارالحکومت’’مدائن‘‘جاپہنچے،شاہی دربارکارُخ کیا،وہاں پہنچنے کے بعدشاہی درباریوں سے ملاقات کی،آمدکامقصدبیان کیا،جس پرپہریداروں نے اندرجانے کی اجازت دیدی۔ شاہی دربارکے اندربادشاہ خسروپرویزبڑے ہی جاہ وجلال کے ساتھ اپنے تخت پرجلوہ افروزتھا،درباریوں ٗمشیروں ٗسرکاری افسروں ٗودیگرمعززین کی بڑی تعدادبھی وہاں موجودتھی…ایسے میں رسول اللہ ﷺ کے یہ جا ن نثارصحابی حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ اپنے بالکل ہی سیدھے سادھے حلیے میں ٗاورانتہائی سیدھی سادھی پوشاک پہنے ہوئے …(مزیدیہ کہ مدینہ سے مدائن تک اس قدرطویل سفرکی وجہ سے تولباس اورحلیہ مزیدمتأثرہوچکاہوگا)اس شاہی دربارمیں کسریٰ خسروپرویزکے سامنے پہنچے… حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ نے یہ رعب ودبدبہ ،اوریہ شاہی جاہ وجلال اگرچہ اس سے قبل زندگی میں کبھی نہیں دیکھاتھا…لیکن اس کے باوجودان کے دل میں اپنے اللہ پرجو مضبوط اورغیرمتزلزل ایمان تھا…وہ اللہ جواحکم الحاکمین ہے… جو بادشاہوں کابادشاہ ہے…لہٰذااسی ایمانی کیفیت کانتیجہ تھاکہ اس شاہی دربارمیں تمامتر ظاہری شان وشوکت ٗجاہ وجلال ٗاورچمک دمک کاان پرکوئی اثرنہیں ہوا،کسی گھبراہٹ یا پریشانی کی بجائے یہ مکمل طورپرپرسکون اورمطمئن ہی رہے۔ ٭…اس شاہی دربارکے جوآداب ومراسم تھے ان کے مطابق ایک شخص نے آگے بڑھ کران سے کہا’’یہ خط مجھے دے دو‘‘لیکن انہوں نے انکارکرتے ہوئے کہا’’رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ نامۂ مبارک تمہارے بادشاہ تک پہنچانے کی غرض سے میرے حوالے کیا گیاہے…لہٰذایہ نامۂ مبارک میں فقط تمہارے بادشاہ ہی کودوں گا‘‘۔ کسریٰ نے جب یہ صورتِ حال دیکھی تودرباریوں سے کہا’’اسے میرے پاس آنے دو‘‘ تب حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمیؓکسریٰ کی جانب بڑھے،اس کے قریب پہنچ کرامانت کے تقاضے کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے خوداپنے ہاتھ سے وہ نامۂ مبارک کسریٰ کے حوالے کیا۔ کسریٰ نے مترجم کوطلب کیا،اوراسے یہ نامۂ مبارک کھولنے اورپڑھنے کاحکم دیا،مترجم نے پڑھناشروع کیا’’بسم اللہ الرحمن الرحیم ، من محمدرسول اللہ،الیٰ کسریٰ عظیم فارس…‘‘ کسریٰ نے جب یہ کیفیت دیکھی اورمترجم کی زبانی یہ عبارت سنی …کہ اس مکتوب میں پہلے بسم اللہ…اس کے بعد’’من محمدرسول اللہ‘‘اورپھراس کے بھی بعدکسریٰ کانام تحریرکیا گیا ہے …تب وہ انتہائی غضبناک اورآگ بگولہ ہوگیا،اوریوں کہنے لگا(نعوذباللہ)’’اس شخص کی اتنی جرأت کہ میرے نام سے پہلے اس نے اللہ کانام ٗاس کے بعداپنانام ٗاور پھر اس کے بھی بعدمیرانام لکھاہے…؟‘‘ اورپھراسی جنونی کیفیت میں اس نے رسول اللہ ﷺ کا نامۂ مبارک چاک کرکے پرزے پرزے کرڈالا…اورپھینک دیا۔ اس کے بعداس نے اپنے درباریوں کوحکم دیاکہ اس شخص(رسول اللہ ﷺ کے قاصد حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ )کودھکے دے کردربارسے نکال باہرکیا جائے۔ چنانچہ حکم کی فوری تعمیل کی گئی…لیکن تب بھی کسریٰ کاغصہ ٹھنڈانہ ہواتوکچھ وقت گذرنے کے بعداپنے درباریوں کویوں کہنے لگا’’ہم نے اسے دربارسے نکال کربڑی غلطی کی ہے…اسے تویہیں قتل کردیناچاہئے تھا‘‘اورپھراس نے حکم دیاکہ اس قاصدکو فوری طورپرتلاش کرکے دوبارہ حاضرکیاجائے،اوریہاں میرسے سامنے اس کاسرقلم کیاجائے… چنانچہ برق رفتاری کے ساتھ کسریٰ کے کارندے ہرطرف پھیل گئے،اورحضرت عبداللہ بن حذافہ السہمیؓکی تلاش میں سرگرداں ہوگئے۔ ٭…حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ کوجب کسریٰ خسروپرویزکے شاہی دربار سے نکالاگیاٗتب وہ سوچ رہے تھے کہ ابھی فی الحال توفوری طورپراشتعال اورغصے کی کیفیت کی وجہ سے ان لوگوں نے مجھے دربارسے نکال باہرکیاہے…لیکن ان لوگوں کا کیا بھروسہ؟ کیامعلوم یہ سرپھرے لوگ میرے تعاقب میں چلے آئیں …؟نہ جانے میں یہاں ان کے ملک سے اب زندہ سلامت نکل بھی سکوں گا؟یایہ کہ مجھے قتل کردیاجا ئیگا؟ انہی خیالات میں گم سم وہ چلے جارہے تھے…لیکن پھروہ سوچنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو کام میرے ذمے لگایاتھا…یعنی آپؐ کانامۂ مبارک کسریٰ خسروپرویزتک پہنچانا…وہ کام تومیں انجام دے ہی چکاہوں …لہٰذااب میں زندہ بچوں …یاان کے ہاتھوں ماراجاؤں …اب اس بارے میں فکرمندہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے…انہی سوچوں میں گم وہ تیزی کے ساتھ محوِسفرہوگئے۔ جبکہ کسریٰ کے کارندے اب دیوانہ وارہرطرف ان کی تلاش میں خوب سرگرم ہوچکے تھے…لیکن اس دوران وہ مسلسل سفرکرتے ہوئے ان کی دسترس سے دورنکل چکے تھے ، اورتلاشِ بسیارکے باوجودکسریٰ کے کارندوں کوان کاکوئی سراغ نہیں مل سکاتھا۔ ٭…حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ سلطنتِ فارس کے دارالحکومت ’’مدائن‘‘ سے روانگی کے بعدیکہ وتنہامسلسل سفرکرتے ہوئے …بہت ہی طویل مسافت طے کرنے کے بعدآخربخیروعافیت واپس مدینہ پہنچ گئے…رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضرہوکرتمام صورتِ حال بیان کی،اوریہ بھی بتایاکہ کسریٰ نے انتہائی بداخلاقی وبدمزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپؐ کے نامۂ مبارک کومحض اس لئے چاک کرڈالاکہ اس میں اللہ عزوجل کا ٗنیزآپؐ کانام کسریٰ کے نام سے پہلے لکھاہواتھا…یہ سننے کے بعدآپؐ نے بس اتنافرمایا: مَزَّقَ اللّہُ مُلکَہ … یعنی’’اللہ کرے اس کی بادشاہت بھی اسی طرح پرزے پرزے ہوجائے…‘‘ ٭…اُدھرکسریٰ خسروپرویزکوجب اپنی غلطی کااحساس ہواکہ اس نے آپؐ کے قاصد (حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ)کوزندہ سلامت کیوں جانے دیا؟اور پھرتلاشِ بسیارکے باوجوداس قاصدکاکوئی سراغ بھی نہیں مل سکا…تواپنی اس ناکامی پروہ شرمندہ اورکھسیاناہونے لگا…غصے کی آگ اب اس کے دل ودماغ میں مزیدشدت کے ساتھ بھڑکنے لگی…اورتب اس نے ملکِ یمن میں اپنے ماتحت حکمران ’’باذان‘‘کے نام یہ حکم نامہ ارسال کیاکہ’’ حجازمیں یہ جوشخص ہے جس نے نبوت کادعویٰ کیاہے (یعنی رسول اللہ ﷺ )بہرصورت اسے اولین فرصت میں گرفتارکرکے میرے روبروپیش کیاجائے‘‘۔ اس پرباذان نے اپنے کچھ کارندے یمن سے حجازکی جانب روانہ کئے،یہ کارندے راستے میں جب طائف شہرسے گذررہے تھے تب وہاں اتفاقاًمشرکینِ مکہ میں سے چندافرادسے ان کی ملاقات ہوئی،دوران گفتگوان مشرکینِ مکہ کویہ بات معلوم ہوئی کہ باذان کے یہ کارندے کسریٰ خسروپرویزکی طرف سے جاری کردہ فرمان کی تعمیل کے طورپر (نعوذباللہ) رسول اللہ ﷺ کوگرفتارکرنے کی غرض سے مدینہ کی طرف محوِسفرہیں … تب ان مشرکینِ مکہ کی خوشی کاکوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا،اورانہوں نے طائف سے مکہ واپس پہنچنے پرتمام مکہ والوں کویہ بڑی’’ خوشخبری ‘‘سنائی ،تب وہ سب بھی نہایت خوشیاں منانے لگے۔ ٭…دوسری جانب باذان کے کارندے سفرکرتے ہوئے جب مدینہ پہنچے تورسول اللہ ﷺ سے ان کی ملاقات ہوئی ،یمن کے بادشاہ باذان کاخط آپؐ کے حوالے کرتے ہوئے اپنی آمدکامقصدبیان کیا،اورپھریوں کہنے لگے’’ہمارے بادشاہ کاحکم آپ مان لیجئے، ہمارے ساتھ یمن چلئے،وہاں ہوسکتاہے کہ ہمارے بادشاہ کوآپ پررحم آجائے ،اوروہ آپ کی جان بخشی کیلئے کچھ کوشش کرے…کسریٰ کے سامنے آپ کی سفارش کرے،اورتب شایدکسریٰ اپنایہ حکم واپس لے لے…لیکن اگرآپ ہمارے ساتھ نہیں گئے،توپھرکسریٰ کے جاہ وجلال اوراس کے غضب سے توآپ بخوبی واقف ہیں …ایسے میں نہ صرف یہ کہ وہ آپ کومارڈالے گا…بلکہ آپ کی پوری قوم کواورتمام مسلمانوں کوہمیشہ کیلئے نیست ونابودکرڈالے گا…‘‘ رسول اللہ ﷺ ان کی یہ گفتگوسن کرمحض مسکرائے…اورپھرقدرے توقف کے بعدفرمایا ’’ابھی تم لوگ اپنی اقامت گاہ کی طرف واپس لوٹ جاؤ،کل آنا‘‘ اس پروہ کارندے سمجھے کہ رسول اللہ ﷺ شایدان کے ہمراہ ملکِ یمن کی جانب سفرکیلئے تیاری کی غرض سے کچھ مہلت طلب کررہے ہیں …اوریہ کہ کل وہ ان کے ہمراہ روانہ ہوجائیں گے۔چنانچہ دوسرے روزیہ کارندے دوبارہ آگئے،اورآتے ہی پوچھنے لگے ’’کیاآپ نے سفرکیلئے ضروری تیاری کرلی ہے؟‘‘اس پرآپؐ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا’’آج کے بعدتم کسریٰ کی شکل نہیں دیکھ سکوگے ،کیونکہ وہ جو تمہارا خدا بنا پھر تا تھا، اللہ کے حکم سے وہ ماراگیا،اورخوداپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں ماراگیا‘‘۔ یعنی جس طرح کسریٰ نے رسول اللہ ﷺ کانامۂ مبارک چاک کرڈالاتھا ٗجس پرآپ ؐ نے فرمایاتھا: مَزَّقَ اللّہُ مُلکَہ … یعنی’’اللہ کرے اس کی بادشاہت بھی اسی طرح پرزے پرزے ہوجائے…‘‘تواللہ کی شان ملاحظہ ہوکہ واقعی بعینہٖ ایساہی ہوا…کسریٰ خسرو پرویزجیساعظیم ترین بادشاہ جوخودکو’’شہنشاہ‘‘یعنی بادشاہوں کابادشاہ کہلایاکرتاتھا ٗ بالکل ہی غیرمتوقع طورپرماراگیا…اوراس سے بھی بڑی بدبختی یہ ہوگئی کی خوداپنے ہی لاڈلے بیٹے اوراپنے ولی عہدِسلطنتِ فارس ٗیعنی’’شیرویہ‘‘کے ہاتھوں ماراگیا…جوکہ اپنے باپ کسریٰ کوقتل کرڈالنے کے بعدزبردستی تخت وتاج اورتمام سلطنت کامالک بن بیٹھاتھا۔ ٭…چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے باذان کے ان کارندوں نے جب یہ بات سنی تووہ انتہائی حیرت زدہ رہ گئے،اورکہنے لگے ’’آپ کوکچھ خبرہے کہ آپ یہ کیاکہہ رہے ہیں ؟‘‘آپؐ نے جواب میں فرمایا’’ہاں مجھے خوب خبرہے،آج رات وہ ماراگیاہے، تم اپنے بادشاہ باذان کے پاس واپس ملکِ یمن جاؤ،اوراسے بھی یہ خبرسناؤ،اوریہ بھی کہوکہ عنقریب دینِ اسلام ہراس جگہ پہنچنے والاہے جہاں آج تک کسریٰ کی حکومت تھی،لہٰذااگرتم دینِ اسلام قبول کرلوتوتمہاراملکِ یمن ہم بدستورتمہارے تصرف میں ہی رہنے دیں گے، ورنہ تم نقصان اٹھاؤگے‘‘۔(۱) چنانچہ باذان کے یہ کارندے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ جوابی پیغام لئے ہوئے مدینہ سے اب واپس ملکِ یمن کی طرف روانہ ہوگئے،ان کے وہاں پہنچنے سے قبل ہی باذان کو شیرویہ کی طرف سے باقاعدہ سرکاری حکمنامہ موصول ہوچکاتھا،جس میں اسے کسریٰ خسروپرویزکی موت کی اطلاع ٗنیزشیرویہ کی تخت نشینی کی خبردی گئی تھی …نیزباذان کواب شیرویہ کی اطاعت وفرمانبرداری کی تاکیدکی گئی تھی۔ باذان کوشیرویہ کی طرف سے موصول شدہ اس سرکاری خط کے ذریعے کسریٰ کی موت کے بارے میں آگاہی کے بعد…اب مزیدیہ کہ مدینہ سے واپس آنے والے اپنے ان کارندوں کے ذریعے جب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بھی یہی خبرموصول ہوئی تووہ انتہائی حیرت کااظہارکرتے ہوئے فوری طورپرمسلمان ہوگیا…اوریوں کہنے لگاکہ ’’غیب کی یہ خبرتوفقط بذریعۂ وحی ہی کسی کومعلوم ہوسکتی ہے،لہٰذااس کایقینی مطلب یہ ہواکہ محمد( ﷺ )واقعی اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں ‘‘۔ غورطلب بات ہے کہ یہ محض اپنااپنانصیب ہے…کسریٰ کودعوتِ اسلام کے سلسلے میں خط تحریرکیاگیا،مگراس خط کے ساتھ بدسلوکی کی وجہ سے اس کاکس قدربرااوربھیانک انجام ہوا…جبکہ باذان کوتوایساکوئی خط نہیں لکھاگیاتھا…لیکن اس کے باوجودکسریٰ کے اس انجام کی وجہ سے اوراس سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دی گئی اس خبرکی وجہ سے وہ مسلمان ہوگیا…نصیب اپنااپنا… ٭یہاں تک توقصہ تھاحضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کاسلطنتِ فارس کے بادشاہ کسریٰ خسروپرویزکے ساتھ ملاقات ٗاورپھراس کے نتیجے میں پیش آنے والے تاریخی حالات وواقعات سے متعلق…جس کے انتہائی اہم اورتاریخی نتائج یہ ظاہرہوئے تھے کہ کسریٰ جیساشان وشوکت اورجاہ وجلال والابادشاہ خوداپنے ہی لاڈلے بیٹے اورولی عہدِ سلطنت کے ہاتھوں ماراگیا،کسریٰ کی طرف سے مقررکردہ ملکِ یمن کابادشاہ باذان اسی واقعے کے نتیجے میں مسلمان ہوگیا،فارس کے شاہی دربارمیں کسریٰ کی موت کے بعدبڑی افراتفری اوربے چینی کاماحول پیداہوگیا، تمام سلطنتِ فارس میں تشویش اوراضطراب کی لہر دوڑگئی،ہرطرف اکھاڑپچھاڑ کاسلسلہ چل نکلا،اوریہ سب کچھ بہت جلدروئے زمین کی اس عظیم ترین قوت یعنی سلطنتِ فارس کے ہمیشہ کیلئے زوال وانحطاط کاپیش خیمہ ثابت ہوا ۔