Chapter 4 of 10
حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ عہدِنبوی کے بعد
۷ھمیں غزوۂ مؤتہ کے موقع پررسول اللہ ﷺ نے حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کو ’’سیف اللہ‘‘یعنی ’’اللہ کی تلوار‘‘کے عظیم ترین لقب سے نوازاتھا،اس کے بعد’’اللہ کی یہ تلوار‘‘تادمِ آخراللہ کے دشمنوں پربجلی بن کرگرتی رہی اورخوب گھن گرج کے ساتھ ان کے سروں پر کڑکتی رہی…
حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ ماہِ صفر ۸ھمیں جب مکہ سے سفرکرتے ہوئے مدینہ پہنچے تھے ،دینِ برحق قبول کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پربیعت کی تھی… اس کے بعدوقت کاسفرجاری رہا…حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کامبارک دورگذرگیا۔
اورپھرصورتِ حال یہ پیش آئی کہ آپؐ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کے فوری بعدبیک وقت بہت سے فتنوں نے سراٹھایا، مانعینِ زکوٰۃ کافتنہ، مرتدین کافتنہ ، جھوٹے مدعیانِ نبوت کافتنہ…وغیرہ وغیرہ…الغرض اندرونی سازشوں اوربیرونی یلغاروں کاایک لامتناہی سلسلہ تھا…رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین اورمسلمانوں کے خلیفۂ اول کی حیثیت سے ان تمامترفتنوں کی سرکوبی اوربیخ کنی کی ذمہ داری حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے کندھوں پرآپڑی تھی ٗجسے انہوں نے بڑی عزیمت واستقامت اوربے مثال شجاعت وبہادری کے ساتھ بحسن وخوبی نبھایا…اورتمام فتنوں کاقلع قمع کیا،اوراس مقصد کیلئے متعددبڑی جنگوں کی نوبت آئی۔
جنگوں کے اس پے درپے سلسلے کے موقع پرابتداء میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ خود ہی اسلامی لشکرکی قیادت کیاکرتے تھے،لیکن اس دوران کبارِصحابہ کی طرف سے مسلسل یہ اصرارجاری رہاکہ ’’اے خلیفۃ المسلمین!آپ کیلئے یوں باربارطویل عرصے تک دور دراز علاقوں کاسفر…اورمدینہ شہرسے دوری کسی صورت مناسب نہیں ہے،لہٰذاآپ مدینہ شہرمیں رہتے ہوئے انتظامی امورسنبھالئے ،اورسپہ سالاری کے فرائض کسی دوسرے کے حوالے کردیجئے‘‘
تب اس مسلسل اصرارکی بناء پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ازسرِنومتعدد لشکر ترتیب دئیے،متعددشخصیات کوان لشکروں کی قیادت کی ذمہ داری سونپی،اورانہیں مختلف علاقوں کی جانب روانہ کیا… اس موقع پرسب سے بڑی ٗ انتہائی خطرناک ٗاوراہم ترین ذمہ داری نبھانے کیلئے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی نظرِانتخاب ’’سیف اللہ خالدبن الولیدرضی اللہ عنہ‘‘پرپڑی…اور…یہی وہ نقطۂ آغازتھاکہ جہاں سے خالدؓکے عروج کااوربے مثال کامیابیوں کاایک لامتناہی سلسلہ چل نکلا…چشمِ فلک نے یہ منظردیکھاکہ …یکے بعد دیگرے… مسلسل اورپے درپے ایک میدان سے دوسرے میدان کی طرف ٗ ایک کامیابی سے دوسری کامیابی کی طرف ٗایک منزل سے دوسری منزل کی طرف ٗ ایک معرکے سے دوسرے معرکے کی طرف ٗ ایک فتح سے دوسری فتح کی طرف ٗخالدؓ کے قدم بس بڑھتے ہی چلے گئے… ہرروز نئے طلوع ہونے والے سورج کے ساتھ خالدؓ کسی نئے میدان میں فتح ونصرت کے جھنڈے گاڑرہے ہوتے…اوریوں وہ بے مثال جرأت وبہادری اورشاندار کامیابی وکامرانی کی لازوال داستانیں رقم کرتے چلے گئے۔(۱)