Chapter 3 of 10
فتحِ مکہ
غزوۂ مؤتہ کے فوری بعدمحض اگلے ہی سال یہ صورتِ حال پیش آئی کہ مسلمانوں اورمشرکینِ مکہ کے مابین ’’صلحِ حدیبیہ‘‘کے نام سے ۶ھمیں جومعروف معاہدۂ صلح ہواتھا،مشرکین کی طرف سے اس کی مسلسل خلاف ورزی کے نتیجے میں آخر اب یہ معاہدہ ختم ہوگیا،اورپھراس کے نتیجے میں ہی ۸ھ ماہِ رمضان میں ’’فتحِ مکہ‘‘کاتاریخی واقعہ پیش آیا۔
اس موقع پررسول اللہ ﷺ اپنے دس ہزارجاں نثاروں پرمشتمل لشکرکی قیادت کرتے ہوئے مدینہ سے مکہ کی جانب روانہ ہوئے ،تب وہاں پہنچنے کے بعدمکہ شہرمیں داخل ہونے سے قبل آپؐ نے جنگی حکمتِ عملی کے طورپراپنے لشکرکومختلف حصوں میں تقسیم کیا،چنانچہ اس موقع پرآپؐ نے ’’میمنہ‘‘کاسپہ سالارحضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کو ٗ اور’’میسرہ‘‘کاسپہ سالار حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ کو مقررفرمایا،جبکہ لشکرکے آگے آگے چلتے ہوئے مختلف پیادہ دستوں کی قیادت حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کوسونپی،البتہ مجموعی اورعمومی طورپرتمام لشکرکی قیادت آپؐ خودہی فرمارہے تھے۔
یہ لشکرمکہ شہرمیں داخل ہونے کے بعدمختلف گلی کوچوں سے گذرتاہواجب بیت اللہ کی جانب پیش قدمی کررہاتھا تب حضرت خالدؓکی عجیب کیفیت تھی،کیونکہ مکہ شہرکے یہی وہ گلی محلے تھے جہاں وہ کھیل کودکربڑے ہوئے تھے،اورپھرانہی گلیوں محلوں سے وہ ہمیشہ مختلف مواقع پرمشرکینِ مکہ کے لشکروں کی قیادت کرتے ہوئے روانہ ہواکرتے تھے…جبکہ آج انہی گلیوں محلوں سے وہ پیغمبرِاسلامؐکی زیرِقیادت …مزیدیہ کہ خودبھی اسلامی لشکرکے ایک بہت بڑے حصے ’’میمنہ‘‘کی قیادت کرتے ہوئے ٗاوربڑی ہی عقیدت ومحبت کے ساتھ ’’پرچمِ توحید‘‘ہاتھ میں تھامے ہوئے …گذررہے تھے۔
ماہِ رمضان ۸ھمیں ’’فتحِ مکہ ‘‘کایہ یادگارواقعہ پیش آیاتھا،اس کے فوری بعدماہِ شوال میں مکہ سے مزیدآگے طائف کے مشہورقبائل ’’ہوازن‘‘ اور’’ثقیف‘‘کے خلاف یادگار ’’غزوۂ حُنین‘‘کی نوبت آئی تھی،تب اس موقع پربھی رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کواپنے ہمراہ ہراول دستے میں ہی رکھاتھا۔