Chapter 2 of 2

حضرت خبّاب بن الأرت رضی اللہ عنہ عہدِنبوی کے بعد

رسول اللہ ﷺ کامبارک زمانہ گذرجانے کے بعدحضرت خبّاب بن الأرت رضی اللہ عنہ نے چاروں خلفائے راشدین کامبارک دوردیکھا،اوراس دورمیں بھی اس معاشرے میں ہمیشہ انہیں خاص عزت واحترام اورقدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھاجاتارہا۔ ایک بارجب خلیفۂ دوم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کازمانۂ خلافت چل رہاتھا ٗتب حضرت خبّابؓ رضی اللہ عنہ ان سے ملاقات کیلئے آئے،حضرت عمررضی اللہ عنہ نے نہایت گرمجوشی کے ساتھ ان کا استقبال کیا،اوربہت زیادہ احترام سے پیش آئے،اورپھروہاں موجوددیگرمعززین اورشرکائے محفل کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا’’حقیقت یہ ہے کہ یہ جوہماری طرف سے اس قدرعزت واحترام کااظہارہے اوراس قدرپرُجوش استقبال ہے…اس کے مستحق بس دوہی افرادہیں ، ایک تویہی خبّاب ،اوردوسرے بلال‘‘(۱) اس کے بعدجب پرانے وقتوں کی باتیں ہونے لگیں ،اوربہت سی پرانی یادیں تازہ ہونے لگیں ،تب حضرت عمرؓ نے حضرت خبّابؓ سے دریافت فرمایاکہ’’مشکلات سے بھرپوراُس ابتدائی دورمیں آپ کے ساتھ پیش آنے والا سب سے زیادہ اذیت ناک اورتکلیف دہ واقعہ کیاتھا؟‘‘ اس پرحضر ت خباب رضی اللہ عنہ نے کچھ ترددکااظہارکیا،کچھ جھجھک محسوس کرنے لگے،لیکن جب حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اصرارکیاتوحضرت خباب رضی اللہ عنہ نے زبان سے کچھ کہنے کی بجائے خاموشی کے ساتھ اپنی کمرسے کپڑاہٹادیا…اورتب حضرت عمررضی اللہ عنہ ودیگرحاضرینِ محفل نے جومنظردیکھاتووہ سب لرزکررہ گئے۔ تب حضرت عمررضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایاکہ ’’یہ کس طرح ہوا؟‘‘اس پرحضرت خباب رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ ’’دینِ اسلام کے ابتدائی زمانے میں وہاں مکہ میں ایک باراُن لوگوں نے مجھے اذیت پہنچانے کی خاطرآگ روشن کی،لکڑیاں جلائیں ،جب وہ لکڑیاں خوب انگاروں کی طرح دہکنے لگیں …توان ظالموں نے میرے کپڑے اتارے،اورمجھے ان دہکتے ہوئے انگاروں پرلٹادیا،یہانتک کہ میری کمرسے گوشت پگھل پگھل کرہڈیوں سے الگ ہونے لگا…انگارے اسی طرح دہکتے رہے، آخر یہ ہواکہ میرے جسم سے پگھل کرپانی اورچربی کے جوقطرات مسلسل ان انگاروں پرٹپک رہے تھے…ان کی وجہ سے یہ آگ بجھ گئی… حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کے اخلاص کی یہ کیفیت تھی کہ یہ اس قدردردناک واقعہ بھی انہوں نے محض ان حضرات کی طرف سے اصرارکے نتیجے میں سنایا…ورنہ وہ توکبھی راہِ حق میں اپنے ساتھ پیش آنے والے اس قسم کے واقعات کاکوئی تذکرہ بھی پسند نہیں کیاکرتے تھے، تاکہ نام ونموداورریاکاری سے دوررہ سکیں ۔ ٭…دینِ اسلام کے ابتدائی دورمیں حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ نے بہت مشکل ترین وقت گذاراتھا،مشرکینِ مکہ کے ہاتھوں ٗ اوربالخصوص اِن کی جومالکہ تھی اُم اَنمار ٗ نیزاس کاجوظالم وجابراورانتہائی سنگدل قسم کابھائی تھاٗخاندانِ بنوخزاعہ کاسردارسِباع بن عبدالعزیٰ،اس کے ہاتھوں حضرت خبابؓ نے یہ جوتمامترتکلیفیں اوراذیتیں برداشت کی تھیں … حقیقت یہ ہے کہ یہ توجسمانی تکلیفیں تھیں …جبکہ اس سے قبل زمانۂ طفولیت سے ہی وہ توبہت زیادہ ذہنی ونفسیاتی صدمات بھی اٹھاتے چلے آئے تھے…بچپن کے دور میں یہ وہاں ’’نجد‘‘میں قبیلۂ بنوتمیم میں اپنے والدین کے زیرِسایہ ہنسی خوشی زندگی بسر کررہے تھے کہ اچانک دشمن قبیلے نے حملہ کردیاتھا،اورپھرلوٹ ماراورقتل وغارتگری کاوہی بھیانک سلسلہ چلاتھاکہ جواُس معاشرے کی خاصیت تھی…اورپھراُس دورکے رسم ورواج کے مطابق انہیں قیدی بناکرفروخت کردیاگیاتھا،تب یہ مختلف آقاؤں کے ہاتھوں سے ہوتے ہوئے آخرمکہ میں اُم انمارکی غلامی کے شکنجے میں جاپھنسے تھے،یوں اس قبائلی جنگ اورفتنہ وفسادکے نتیجے میں بہت بچپن میں ہی یہ غلامی کی زنجیروں میں ناحق جکڑے گئے تھے،ورنہ اصل میں تویہ ایک آزادانسان تھے،اورمعززخاندان سے ان کاتعلق تھا۔ مقصدیہ کہ بچپن سے ہی غلامی کایہ اذیت ناک سلسلہ شروع ہوچکاتھا…اورپھربالکل نوعمرہی تھے جب مکہ میں دینِ اسلام کاسورج طلوع ہوااورتب انہوں نے بلاتردددعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے جب دینِ برحق قبول کیاتواب غلامی کی تکلیفوں کے علاوہ مزیدیہ کہ مشرکینِ مکہ کی طرف سے بھی ایذاء رسانیوں اوربدسلوکیوں کے انتہائی جان لیوا اور المناک سلسلے چلتے رہے …آخران جسمانی وروحانی صدمات اورپریشانیوں سے حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کوہجرتِ مدینہ کے بعدہی نجات نصیب ہوسکی تھی۔ الغرض مکی زندگی میں سلگتی ہوئی لُوکے جوگرم تھپیڑے چل رہے تھے…اس کی بجائے اب یہاں مدنی زندگی میں توٹھنڈی ہواؤں کے خوشگوارجھونکے تھے…یوں ہجرتِ مدینہ کے بعدسبھی مسلمانوں کے حالات بدلے،حضرت خبّابؓ کے حالات بھی بدلے،نہ صرف یہ کہ مشرکینِ مکہ کی ایذاء رسانیوں کے وہ سلسلے اب ختم ہوئے ،بلکہ مزیدیہ کہ رفتہ رفتہ فقروفاقے اورمحتاجی کی بجائے خوشحالی آتی چلی گئی…آخرایک وقت ایسابھی آیا کہ حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ خوب مالداراورخوشحال ہوگئے۔ البتہ اب اس مالداری وخوشحالی کے باوجودان کے طورطریقوں ٗتقویٰ وپرہیزگاری میں کوئی فرق نہیں آیا،وہی خشیتِ الٰہیہ اورپرہیزگاری کاجذبہ ،وہی تواضع وانکسار…اورپھرخاص بات یہ کہ اللہ کے دئیے ہوئے اس مال ودولت کوخفیہ تجوریوں میں بندکرنے ٗیاکسی خفیہ مقام پرچھپاکررکھنے کی بجائے خوب سخاوت وفیاضی کے ساتھ فقراء ومساکین میں تقسیم کیاکرتے تھے،دل کھول کرضرورتمندوں اورناداروں کی مددواعانت کیاکرتے تھے۔ بلکہ اس سلسلے میں ان کی ایک خاص بات یہ تھی کہ روزانہ بڑی مقدارمیں نقدی اپنے گھرمیں ایک کھلی جگہ پررکھ دیاکرتے تھے،ضرورتمندوں کواس جگہ کے بارے میں علم تھا،اورانہیں کھی آزادی تھی کہ ہرضرورتمندبلاکسی روک ٹوک کے اپنی ضرورت کے مطابق خودوہاں سے نقدی لے لے…چنانچہ فقراء ومساکین وہاں آتے اورہرکوئی اپنی ضرورت کے مطابق اس جگہ سے اپنے لئے کچھ رقم اٹھالیتا…قابلِ غورہے یہ بات کہ ان فقراء ومساکین میں بھی کس قدرامانت ودیانت کاجذبہ تھاکہ کھلی چھوٹ ہونے کے باوجودہرکوئی محض اپنی ضرورت کے مطابق ہی وہاں سے رقم اٹھاتاتھا…جس طرح رقم دینے والے کادل جذبۂ ایمانی سے معمور…بعینہٖ اسی طرح رقم وصول کرنے والوں کے دل بھی جذبۂ ایمانی سے معمور تھے۔ ٭…اس قدردریادلی کے ساتھ انفاق فی سبیل اللہ ٗصدقہ وخیرات ٗاوربڑے پیمانے پر خدمتِ خلق کے باوجودحضرت خبّاب بن الأرت رضی اللہ عنہ ہمیشہ اللہ کے سامنے احساسِ جوابدہی کی وجہ سے لرزاں وترساں رہاکرتے تھے،ہروقت یہی خوف دامنگیررہتاکہ اللہ کی طرف سے کوئی گرفت نہوجائے… ایک بارحضرت خبّابؓ کے کچھ دوست ملاقات کیلئے جب ان کے گھرآئے ہوئے تھے تب اتفاقاًوہاں کچھ فقراء ومساکین بھی موجودتھے،اُس موقع پران دوستوں نے یہ منظردیکھاکہ حضرت خبّابؓ ان فقراء کویوں کہہ رہے ہیں کہ’’یہ دیکھ لوتم سب ،آج یہاں اس تھیلی میں نقداسّی ہزاردرہم رکھے ہوئے ہیں ،دیکھواس تھیلی کامنہ کھلاہواہے،تم میں سے جوکوئی ضرورتمندہے وہ اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق رقم لے لے…‘‘ حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ فقروفاقے اوررنج وغم سے بھرپوراپنی زندگی کے اُس دورکے بعد اب اِس مالداری وخوشحالی کے دنوں میں اکثربے اختیاررونے لگتے تھے…ایک بارکسی نے اس کی وجہ دریافت کی توجواب یہ دیا’’میرے سبھی ساتھی اس دنیاسے فقروفاقے کی کیفیت میں ہی چلے گئے…شایداللہ نے ان کیلئے تمام اجروثواب آخرت کیلئے محفوظ کر رکھا تھا،جبکہ مجھے اب یہ اس قدرخوشحالی نصیب ہوگئی ہے…لہٰذامیں ڈرتاہوں کہ کہیں اللہ نے مجھے میراحصہ دنیامیں ہی دے کرفارغ نہ کردیاہو…اوروہاں آخرت میں اب میرے لئے کوئی اجروثواب نہو…‘‘ ٭…خلیفۂ چہارم امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پرمدینہ سے کوفہ منتقل ہوگئے تھے ،تب انہی دنوں حضرت خبّاب بن الأرت رضی اللہ عنہ بھی مدینہ سے کوفہ منتقل ہوگئے تھے ٗوہیں مستقل رہائش اختیارکرلی تھی ،یوں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام کوفہ میں گذارے۔ رفتہ رفتہ وہاں کوفہ میں وقت گذرتارہا،آخرحضرت خبّابؓ بیمارپڑگئے،اُن دنوں اتفاقاً خلیفۂ وقت حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کوفہ میں موجودنہیں تھے ،بلکہ’’صفین‘‘کے مقام پرپیش آنے والی مشہوراورنہایت افسوسناک اندرونی جنگ کے موقع پروہاں گئے ہوئے تھے،اسی دوران کوفہ میں حضرت خبّاب بن الأرت رضی اللہ عنہ کاانتقال ہوگیا،اوریوں رسول اللہ ﷺ کے یہ جلیل القدرصحابی ۳۷ھ؁میں کوفہ میں دنیائے فانی سے کوچ کرتے ہوئے اپنے اللہ سے جاملے،اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلندفرمائیں ۔چندروزبعدحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب ’’صفین‘‘سے واپس کوفہ پہنچے توفوری طورپرپہلے حضرت خبّاب بن الأرت رضی اللہ عنہ کی قبرپرگئے اورتادیروہاں ان کیلئے دعائے خیرکرتے رہے۔