Chapter 1 of 2

حضرت خبّاب بن الأرت رضی اللہ عنہ

اُم اَنمارالخُزاعیہ نامی عورت کواپنے گھریلوکام کاج کیلئے کسی کمسن غلام کی ضرورت محسوس ہوئی،لہٰذاوہ کسی غلام کی تلاش میں ایک روزمکہ میں اُس بازارکی جانب روانہ ہوئی جہاں غلاموں کی خریدوفرخت ہواکرتی تھی ٗاورجسے اُس زمانے میں ’’سوق النخّاسین‘‘کے نام سے یادکیاجاتاتھا۔ وہاں پہنچنے کے بعداسے متعددکمسن غلام نظرآئے جوبرائے فروخت اُس بازارمیں موجود تھے،سب پرسرسری نگاہ ڈالی،آخرایک کمسن غلام پراس کی نگاہ ٹک گئی،جس کے سراپامیں اسے خاندانی شرافت ونجابت کے آثارنمایاں نظرآرہے تھے۔ چنانچہ اس نے قیمت اداکی اوراسے خریدلیا،اورپھراسے ہمراہ لئے ہوئے اپنے گھرکی جانب چلتی بنی۔ راستے میں اس نے پلٹ کراس کمسن غلام کی جانب دیکھا،اورپھراس سے پوچھا : مَا اسمُکَ یَا غُلَام؟ یعنی’’اے لڑکے!تمہارانام کیاہے؟‘‘لڑکے نے جواب دیا’’خبّاب‘‘ ام انمارنے پھرپوچھا: وَمَا اسمُ أبِیکَ؟ یعنی’’تمہارے باپ کاکیانام ہے؟‘‘لڑکے نے کہا’’الأرت‘‘ پھروہ بولی : وَمِن أینَ أنتَ؟ ’’تم کہاں کے رہنے والے ہو؟‘‘ لڑکابولا: ’’نجدکارہنے والاہوں ‘‘تب وہ بولی ’’اس کامطلب یہ ہواکہ تم خالص عربی ہو‘‘ لڑکے نے کہا’’جی …بلکہ مزیدیہ کہ میں توقبیلۂ بنوتمیم سے ہوں ‘‘تب عورت نے حیرت سے اس کی جانب پلٹ کردیکھا،اوربولی’’قبیلۂ بنوتمیم سے؟توپھرتم غلاموں کی خرید وفروخت کے اس بازارمیں کیسے پہنچ گئے؟‘‘لڑکے نے جواب دیا’’ایک رات دشمن قبیلے نے ہم پراچانک حملہ کردیا،ہمیں شکست ہوگئی،تب وہ دشمن بڑی تعدادمیں ہمارے جانور اور مویشی وغیرہ ہنکالے گئے…بہت سی عورتوں اوربچوں کوقیدی بنالیا،اسی مالِ غنیمت میں دیگربچوں کے ہمراہ میں بھی شامل تھا،اس کے بعدمجھے فروخت کردیاگیا،اورپھریکے بعددیگرے مسلسل مختلف لوگوں کے ہاتھوں بکتابکاتاآخریہاں مکہ پہنچ گیا…اورآج مکہ کے اس بازارسے آپ نے مجھے خریدلیاہے۔ یہ نوعمرغلام اپنی مالکہ ام انمارکے گھرمیں خدمت انجام دیتارہا،چندروزجب اسی طرح گذرگئے تواس عورت نے اپنے اس غلام کے بارے میں محسوس کیاکہ یہ توکافی سمجھدار معلوم ہوتاہے،فہم وفراست ٗعقلمندی اورذہانت کے آثاراس میں نمایاں ہیں …تب ام انمارنے فیصلہ کیاکہ اس قابل اورسمجھدارغلام سے محض گھریلوکام کاج لینے کی بجائے اسے کسی ایسے اچھے کام میں لگاناچاہئے جومیرے لئے مالی فائدے کاذریعہ بن سکے۔ چنانچہ ام انمارنے اپنے اس نوعمرغلام خبّاب کومکہ شہرکے ایک مشہورلوہارکے حوالے کیا جو اپنی بھٹی پرلوہے سے تلواریں تیارکیاکرتاتھا،اُس معاشرے میں ’’تلوار‘‘کی بہت بڑی اہمیت اوربہت زیادہ مانگ تھی،لہٰذااس شخص کایہ کاروبارخوب عروج پرتھا،یہی وجہ تھی کہ ام انمار نے اپنے اس نوعمرغلام کواس لوہارکے حوالے کیا،تاکہ یہ اس کاہاتھ بھی بٹائے اوروہاں رہتے ہوئے یہ کام بھی سیکھ لے…اورپھراس لوہارکی طرح ام انماربھی ایساہی منافع بخش کاروبار کرسکے… چنانچہ اس لوہارکے پاس رہتے ہوئے خبّاب نے بہت جلد’’تلوارسازی کے اس کام میں خوب مہارت حاصل کرلی،تب ام انمارنے کرائے پرایک دکان حاصل کی،تلوارسازی ٗ نیزتلواروں کی خریدوفروخت سے متعلق ضروری سازوسامان کاانتظام کیا،اوریہ دکان اپنے اس نوعمر غلام ’’خبّاب‘‘کے حوالے کردی۔ خباب نے جب اس دکان میں کام کاآغازکیاتودیکھتے ہی دیکھتے تمام شہرمکہ میں اس کی شہرت ہوگئی،اوراس کاکاروبارخوب ترقی کرنے لگا،جس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ خبّاب میں وہ تمام خوبیاں موجودتھیں جوترقی کیلئے ضروری ہوتی ہیں ، یعنی خوب محنت اوردل لگاکرکام کرنا،اپنے کام میں خوب مہارت پیداکرناوغیرہ…مزیدیہ کہ امانت ودیانت اورہمیشہ راست بازی…اورپھریہ کہ اس نوعمری کے باوجوداس کے مزاج میں پختگی اورمتانت تھی،وہ ہمیشہ سنجیدہ اورباوقارنظرآیاکرتاتھا…نوعمری کے باوجوداس میں عمررسیدہ اورتجربہ کار دانشوروں کی خوبیاں تھیں ،یعنی ہمت نوجوانوں جیسی ،جبکہ فہم وفراست اورحکمت ودانش عمررسیدہ اورجہاں دیدہ لوگوں جیسی… خَبّاب کودن بھرکی محنت ومشقت کے بعدجب فرصت کے چندلمحات میسرآتے اورلمحہ بھرکیلئے خلوت نصیب ہوتی تووہ اس سوچ میں کھوجاتاکہ آخراس معاشرے کاانجام کیاہوگاکہ جس میں ہرکوئی سرسے پاؤں تک ہرقسم کی برائیوں میں غرق ہے،یہ معاشرہ جس طرح جہالت اورگمراہی کے اندھیروں میں ڈوباہواہے …کیایہاں کبھی کوئی امیدکی کرن بھی طلوع ہوگی یانہیں …؟انہی سوچوں میں غرق نوجوان خباب کے دل میں بے اختیار یہ حسرت پیداہوتی کہ کاش مجھے اتنی زندگی نصیب ہوجائے کہ میں اپنی آنکھوں سے ان اندھیروں کی جگہ روشنی کوطلوع ہوتادیکھ سکوں … نوعمرخباب کی یہ بڑی خوش نصیبی تھی کہ اسے اس مقصدکیلئے زیادہ عرصہ انتظارنہیں کرناپڑا، ایک روزاسے خبرملی کہ خاندانِ بنوہاشم کاوہ چشم وچراغ جس کی شرافت اورامانت ودیانت کے چہارسوچرچے ہیں اورجس کانام محمدبن عبداللہ ( ﷺ )ہے ،اس کی مبارک زبان سے آجکل ایسے کلمات نکل رہے ہیں کہ گویاظلمتوں کے درمیان روشنی کی کرنیں پھوٹ رہی ہوں … اورتب اس نوعمرخباب کو محمدبن عبداللہ( ﷺ )سے ملاقات کی تمنابے چین کرنے لگی… آخرایک روزاسی تمناکے ہاتھوں مجبورہوکرملاقات کیلئے نکل کھڑاہوا…نہایت بیتابی کے ساتھ خدمتِ اقدس میں حاضری دی،پہلی ملاقات میں ہی دل نے گواہی دی کہ محمدبن عبداللہ توواقعی اب اللہ کے رسول ( ﷺ )ہیں …چنانچہ نہایت توجہ سے آپؐ کی مبارک گفتگوسنی،تب خباب کویوں محسوس ہونے لگاگویاد ل کی دنیامیں کوئی گلشن کِھل اٹھاہو… اورپھرنہایت بے صبری کے ساتھ عرض کیا’’اے اللہ کے رسول!آپ اپناہاتھ بڑھائیے، تاکہ میں آپ کے دستِ مبارک پربیعت کرسکوں ‘‘ تب آپ ﷺ نے دستِ مبارک بڑھایا،جس پرفوراًہی خبّاب نے کلمۂ حق’’أشہدأن لاالٰہ الااللہ،وأشہدأنّ محمداًرسول اللہ‘‘پڑھتے ہوئے آپؐ کے دستِ مبارک پربیعت کی… اور یوں یہ نوجوان خبّاب اب رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدرصحابی’’ حضرت خبّاب بن الأرت رضی اللہ عنہ ‘‘بن گئے… جن دنوں خبّابؓ نے دینِ اسلام قبول کیاٗ تب دینِ اسلام کابالکل ابتدائی دورچل رہاتھا، اُس وقت تک صرف پانچ افرادمشرف باسلام ہوئے تھے،اوران کے بعداب چھٹے خوش نصیب خبّابؓ تھے۔ خبّابؓ کی ایک خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کے باوجوداپنے قبولِ اسلام کوکسی سے چھپایانہیں ،لہٰذا انہیں جب بھی موقع ملتا ٗرسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوجاتے اورقرآن سیکھتے…اس سے بھی بڑھ کریہ کہ دوسروں کوبھی دینِ اسلام قبول کرنے کامشورہ دیاکرتے،جوکوئی نیانیامسلمان ہوتایہ خودچل کراس کے گھرجاتے اوراسے قرآن کی تعلیم دیاکرتے…یوں ان کے قبولِ اسلام کی خوب شہرت ہوگئی(۱)اوریہ خبرجلدہی اُمِ انمارالخُزاعیہ تک بھی پہنچ گئی،جس پروہ انتہائی غضبناک ہوگئی ، اورکہنے لگی کہ ’’میرے غلام کی یہ جرأت ٗکہ میرادین چھوڑکراس نے کوئی اوردین اختیار کرلیا؟‘‘ تب وہ سیدھی اپنے بھائی سِباع بن عبدالعزیٰ کے پاس پہنچی ،صورتِ حال سے اسے مطلع کیا،اورپھردونوں نے اپنے قبیلے’’خُزاعہ‘‘کے کچھ اوباش اورآوارہ قسم کے نوجوانوں کوہمراہ لیااورخبّابؓ کی دکان کی طرف چل دئیے۔ وہاں پہنچنے کے بعدانہوں نے حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کولوہے کی بھٹی پراپنے کام (تلوارسازی)میں مشغول پایا،اورتب سباع نے نہایت غصے کے عالم میں اورانتہائی حقارت آمیزاندازمیں انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا’’اے غلام!تمہارے بارے میں ہم نے ایسی خبرسنی ہے جس کے بارے میں ہمیں ابھی تک یقین نہیں آرہا‘‘اس پرخبّابؓ نے کہا:’’کیاہے وہ خبر؟‘‘تب سباع بولا: ’’ہم نے سناہے کہ تم بے دین ہوگئے ہواوربنوہاشم کے اُس آدمی کے دین پرچل پڑے ہو؟‘‘ تب خبّابؓ نے کسی گھبراہٹ کے بغیرمکمل سکون واطمینان کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا’’میں بے دین نہیں ہوا،بلکہ میں نے اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ پرسچے دل سے ایمان قبول کرلیاہے،تمہارے بتوں سے لاتعلقی اختیارکرلی ہے،اورسچے دل سے یہ گواہی دی ہے کہ محمد( ﷺ ) اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں ‘‘ خبّابؓ کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ سِباع اوراس کے آوارہ ساتھیوں کے دلوں پربجلی بن کرگرے،اورانتہائی غضبناک حالت میں وہ سب ایک ساتھ خبّابؓ پرٹوٹ پڑے،پہلے لاتوں اورمکوں سے خوب زدوکوب کیا،پھراس لوہے کی بھٹی میں لوہا ٗسریا ٗہتھوڑا ٗ جوچیزبھی ان کے ہاتھ لگی …اس سے نہایت بے رحمی کے ساتھ اورانتہائی وحشیانہ طریقے سے دیر تک خبّابؓ پرخوب تشدداورمارپیٹ کرتے رہے…یہانتک کہ خبّابؓ بیہوش ہوکرزمین پرگرپڑے۔ اس واقعے کے بعدجلدہی تمام شہرمکہ میں جنگل کی آگ کی طرح یہ خبرپھیل گئی …ہرکوئی یہی کہنے لگاکہ ’’ذرہ خبّاب کی جرأت دیکھو،غلام ،بے بس اورلاچار…مکہ شہرمیں نہ اس کا قبیلہ ہے نہ خاندان ، نہ کوئی نصرت وحمایت کرنے والا،نہ مدافعت کرنے والا…مگراس کے باوجوداتنی بڑی جرأت …کہ اپنے مالکوں اورآقاؤں کے استفسارپرکچھ بھی چھپایا نہیں ،سب صاف صاف بتادیا…علیٰ الاعلان اپنے قبولِ اسلام کااقرارواعتراف کیا، مزیدیہ کہ اپنے آقاؤں اوران کے آباواجدادکے دین کوغلط اورباطل بھی قراردیا…‘‘ تب سردارانِ قریش باہم یوں کہنے لگے کہ ’’اس نئے دین کے بارے میں جب ایک بے بس ٗکمزوراورلاچارغلام کی جرأت کایہ حال ہے… توآگے نہ جانے کیابنے گا؟ لہٰذایہ تو ہمارے لئے بڑے خطرے کی گھنٹی ہے‘‘۔ سردارانِ قریش کایہ خوف اوریہ اندیشہ غلط اوربے جانہیں تھا،کیونکہ حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کی اس بیباکی اورجرأت وہمت کانتیجہ یہ ظاہرہواکہ انہی دنوں دیکھتے ہی دیکھتے یکے بعد دیگرے متعددافرادنے دینِ اسلام قبول کرلیااورپھراس کااظہارواقراربھی کرتے رہے۔ اس نئی صورتِ حال کی وجہ سے سردارانِ قریش کی راتوں کی نینداُڑنے لگی،لہذااس بارے میں غوروفکراوراس خطرے کے سدِباب کی غرض سے انہوں نے ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں ابوجہل سمیت بڑے بڑے سردارانِ قریش شریک ہوئے،اورباہم مشاورت کے بعدطے کیاکہ اس بڑھتے ہوئے طوفان کوبہرصورت ابھی سے لگام دینے کیلئے ٹھوس اور فوری اقدامات کئے جائیں ۔ چنانچہ ایک فوری فیصلہ یہ کیاگیاکہ آئندہ اگرکوئی شخص آباؤاجدادکے دین کوچھوڑکردینِ اسلام قبول کرے گاتواس کے خاندان کے سربراہ پریہ ذمہ داری عائدہوگی کہ کسی بھی طرح وہ اس شخص کاکوئی بندوبست کرے… چنانچہ اس نئے قانون کے تحت اب اُم انمارکے قبیلے ’’بنوخزاعہ‘‘کے سربراہ کی حیثیت سے اس کے بھائی سباع بن عبدالعزیٰ کی یہ ذمہ داری قرارپائی کہ کسی بھی طرح خبّابؓ سے نپٹناہے…یاتوخبّابؓ دینِ اسلام سے دستبرداری اختیارکرلیں …یاجان سے ہاتھ دھوبیٹھیں … تیسراکوئی راستہ نہیں ۔ چنانچہ سخت گرمی کے موسم میں تپتی ہوئی دوپہرمیں جب سورج خوب آگ برسارہا ہوتا ، اور زمین شعلے اُگل رہی ہوتی …ایسے میں سباع اپنے آوارہ ساتھیوں کے ہمراہ حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کوہمراہ لئے ہوئے کھلی جگہ کی طرف کہیں نکل جاتا،اورپھریہ لوگ اس دہکتی ہوئی پتھریلی زمین پرخبّاب کولٹادیتے،ان کے جسم سے کپڑے بھی اتاردئیے جاتے، مزیدیہ کہ ان کے برہنہ جسم پرلوہے کی زنجیریں اورزرہیں وغیرہ لپیٹ دیاکرتے تاکہ سلگتا اور تپتاہوا لوہاان کیلئے مزیدتکلیف کاباعث بن سکے،اسی کیفیت میں جب خبّابؓ کی حالت زیادہ بگڑنے لگتی تویہ لوگ یوں کہتے’’بولوخباب!محمدکے بارے میں اب تم کیاکہتے ہو؟‘‘ تب خبّابؓ جواب دیتے: ’’وہ تواللہ کے رسول ہیں ( ﷺ )،اللہ کی طرف سے دینِ برحق لائے ہیں تاکہ اس کے ذریعے ہمیں گمراہی کے اندھیروں سے نکال کرہدایت کی روشنی تک لے جائیں ‘‘۔ تب وہ مزیدزدوکوب کرتے،اورجب تھک جاتے توکہتے کہ ’’اچھاخبّاب!ہمارے ان بتوں لات اورعزیٰ کے بارے میں تم کیاکہتے ہو؟‘‘ تب خبّابؓ جواب دیتے: اِنّھمَا صَنَمَان ، أصَمّان ، أبکَمَان ، لَایَضُرّان ولَا ینفَعَان… یعنی’’یہ دونوں توبس پتھرکے بت ہیں ،گونگے بہرے…نہ توکسی کوکوئی فائدہ پہنچاسکتے ہیں ،اورنہ ہی کسی کاکچھ بگاڑسکتے ہیں …‘‘۔ خبّاب کی طرف سے اپنے بتوں کے بارے میں یہ جواب سن کران کے غصے کی آگ مزیدبھڑک اٹھتی …اورتب وہ خبّابؓ کے خلاف اپنے ان مظالم کی آگ کوبھی مزید بھڑکانے میں لگ جاتے،اوراکثران دنوں وہ پہاڑی سنگریزوں کوآگ میں خوب تپاکر انہیں خبّاب ؓ کی کمرکے نیچے رکھ دیاکرتے ،تاکہ اس طرح ان دہکتے ہوئے سنگریزوں کی وجہ سے خبّاب رضی اللہ عنہ مستقل تکلیف میں مبتلارہیں ۔ انہی دنوں حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کوستانے اورپریشان کرنے کی غرض سے مشرکینِ مکہ کو ایک نئی شرارت یہ سوجھی کہ وہ لوگ حسبِ سابق ان کی دکان سے مال توخریدلیاکرتے ، لیکن اب ادائیگی نہیں کیاکرتے تھے ،خبّابؓ ساراسارادن ان کے پیچھے گھومتے،ان سے رقم کاتقاضاکرتے ،مگران کے کانوں پرجوں تک نہ رینگتی،خبّاب کی مالکہ ام انمارانہیں برا بھلا کہتی اورجلدازجلدپیسے وصول کرکے اس کے حوالے کرنے کاحکم دیتی، اوریوں یہ سارادن ایک طرف اپنی مالکہ ٗاوردوسری طرف ان گاہکوں کے ہاتھوں پریشان رہاکرتے تھے۔ انہی دنوں ایک بارسردارانِ قریش میں سے ایک نامی گرامی شخص جس کانام عاص بن وائل تھا،خبّاب ؓ کوتنگ کرنے کی غرض سے اس نے بھی یہی حرکت کی…چنانچہ خبّاب کئی روز مسلسل اس سے رقم کاتقاضاکرتے رہے،آخرایک روزوہ کہنے لگا’’اے خبّاب !جب تک تم محمد( ﷺ )کے ساتھ کفرنہیں کروگے اُس وقت تک میں تمہیں یہ رقم ادانہیں کروں گا۔ اس پرخبّابؓ نے جواب دیاکہ ’’اے عاص! تم مرکردوبارہ زندہ ہوجاؤتب بھی میں یہ کام کرنے والانہیں ہوں ‘‘اس پرعاص بولا’’اچھاتوپھرایساہی سہی،جب مجھے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیاجائے گااوریہاں کی زندگی کی طرح وہاں کی زندگی میں بھی مجھے خوب مال واولادسے نوازاجائے گا ٗتب میں یہ رقم تمہیں وہاں اداکردوں گا‘‘ عاص بن وائل کی زبانی یہ جواب سن کرمجبوروبے بس خبّابؓ خاموش رہ گئے…تب اللہ سبحانہ ٗ وتعالیٰ کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں : {أفَرَأیتَ الَّذِي کَفَرَ بِاٰیَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَیَنَّ مَالاً وَّوَلَداً أطَّلَعَ الغَیبَ أمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحمٰنِ عَھداً کَلّا سَنَکتُبُ مَا یَقُولُ وَنَمُدُّ لَہٗ مِنَ العَذَابِ مَدًاً وَنَرِثُہٗ مَا یَقُولُ وَیَأتِینَا فَرداً}(۱) یعنی’’بھلاتم نے اس شخص کوبھی دیکھاجس نے ہماری آیتوں کوماننے سے انکارکیاہے، اور یہ کہاہے کہ مجھے آل واولاد[آخرت میں ] بھی ضرورملیں گے،کیااُس نے عالَمِ غیب میں جھانک کردیکھ لیاہے؟یااس نے خدائے رحمن سے کوئی عہدلے رکھاہے؟ہرگزنہیں !جوکچھ یہ کہہ رہاہے ہم اسے بھی لکھ رکھیں گے،اوراس کے عذاب میں اضافہ کردیں گے،اورجس [مال واولاد]کایہ حوالہ دے رہاہے ،اس کے وارث ہم ہوں گے،اوریہ ہمارے پاس تنِ تنہاآئے گا‘‘۔ اسی کیفیت میں مکہ میں وقت گذرتارہا…شب وروزبس یہی داستان تھی ظلم وستم کی… سباع بن عبدالعزیٰ اوراس کے سرپھرے ساتھیوں کی طرف سے وحشیانہ مظالم اورزدوکوب کے جوسلسلے تھے ٗان کے علاوہ مزیدیہ کہ خوداُم انماربھی اس مارپیٹ میں کسی سے پیچھے رہنے والی نہیں تھی،چنانچہ وہ اکثرلوہے کی اس بھٹی پرجایاکرتی اورخبّابؓ کے قبولِ اسلام پرانہیں خوب برابھلاکہتی ،اورتب بھی اس کی تسلی نہوتی تواس بھٹی میں جہاں ہرطرف لوہے کی سلاخیں بکھری رہتی تھیں اورہروقت آگ روشن رہتی تھی…وہاں سے وہ کوئی لوہے کی سلاخ اٹھاتی،اوراسے آگ میں خوب تپاکراس سے خبّابؓ کے جسم کوداغتی،اکثروہ دہکتی ہوئی سلاخ ان کے سرپررکھ دیاکرتی ،جس کی گرمی ٗبدبو اوردھوئیں کی تکلیف کی وجہ سے خبّاب بیہوش ہوکرگرجایاکرتے…ایسے میں اکثربے خودی ٗغنودگی ٗاورنیم بیہوشی کی کیفیت میں خبّابؓ کے منہ سے بے اختیاراُم انماراوراس کے بھائی سباع بن عبدالعزیٰ کیلئے بددعائیں نکلتیں …تب ان لوگوں کاغصہ مزیدبڑھ جاتا۔ ٭…اسی کیفیت میں وقت کاسفرجاری رہا،حتیٰ کہ نبوت کے تیرہویں سال کے بالکل آخرمیں جب ہجرت کاحکم نازل ہواتودیگرمسلمانوں کی طرح حضرت خبّاب بن الأرت رضی اللہ عنہ بھی سفرِہجرت کیلئے تیاریوں میں مشغول ہوگئے،تب انہوں نے دیکھاکہ یہ دونوں ظالم وجابربھائی بہن یعنی اُم انماراوراس کابھائی سباع جوکہ سالہاسال سے ان کے ساتھ بغیرکسی قصورکے انتہائی وحشیانہ سلوک کرتے چلے آرہے تھے…اب زمین وآسمان کے مالک کی طرف سے ان کی گرفت کاسلسلہ شروع ہوچکاتھا…خبّابؓ نے دیکھاکہ اب اللہ کاانصاف حرکت میں آچکاہے…ان کی زبان سے ان دونوں ظالموں کیلئے جو بددعائیں نکلاکرتی تھیں ٗاب ان کااثرنظرآنے لگاتھا… چنانچہ خبّابؓ نے مکہ سے روانگی سے قبل ہی اپنی آنکھوں سے یہ منظردیکھ لیاکہ اُن دنوں اُم انمارکوشدیدسردردکی تکلیف رہنے لگی،دردبھی ایساعجیب وغریب کہ جب اس پراس درد کا دورہ پڑتاتووہ کتوں کی طرح بھونکتے لگتی…اس کے بھائی اس کے علاج کیلئے مارے مارے پھرتے رہے…آخرکسی پہنچے ہوئے ماہرطبیب نے اس بیماری کاعلاج یہ تجویز کیا کہ جب بھی اس پراس قسم کادورہ پڑے تواس کے سرکولوہے کی گرم سلاخ سے داغا جائے ، چنانچہ سالہاسال تک جس طرح یہ اُم انمارمجبورولاچارخبّابؓ کے سرکوگرم سلاخ سے داغا کرتی تھی،اب اسی طرح خوداس کے سرکوداغاجانے لگا…مزیدیہ کہ غلام کی حیثیت سے یہ خدمت اکثروبیشترخبّابؓ ہی کوانجام دیناپڑتی تھی…چنانچہ جب اس کے سرکوگرم سلاخ سے داغاجاتاتواگرچہ اسے تکلیف توبہت محسوس ہوتی تھی،لیکن اس شدیداورجان لیوا دردِ سر سے نجات کاکوئی اورطریقہ بھی نہیں تھا۔ ٭…انہی دنوں دیگرمسلمانوں کی طرح آخرخبّاب رضی اللہ عنہ بھی مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ جاپہنچے…جہاں اب ایک نئی زندگی تھی،نیاماحول تھا،نئی جگہ تھی،یہاں اس نئی زندگی میں ٗاوراس نئی جگہ پر’’انصارِمدینہ‘‘جیسے عظیم انسانوں اوربے مثال میزبانوں کی رفاقت اور صحبت میں پرسکون اورخوشگوارزندگی کاآغازہوا،اس سے بھی بڑھ کریہ کہ یہاں اب رسول اللہ ﷺ کی صحبت ومعیت ٗ کسبِ فیض اورعلمی استفادے کے وہ مبارک سلسلے تھے…کوئی روک ٹوک نہیں تھی،کوئی خوف ودہشت نہیں تھی…یہاں توبس رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ٗنیزانصارِمدینہ کی طرف سے ملنے والی محبتیں اورعنایتیں تھیں ،غرضیکہ مشرکینِ مکہ سے دور اب یہاں مدینہ میں خوف ودہشت کی بجائے امن وامان اورسکون واطمینان سے بھرپورایک بدلی ہوئی اور خوشگوارزندگی تھی۔ مسلمانوں کی یہی نئی خوشگوارزندگی مشرکینِ مکہ کوپسندنہ آئی،تب محض اگلے ہی سال یعنی ۲ھ؁ میں وہ اپنالشکرجرار…نیزاپنے مذموم عزائم لئے ہوئے آدھمکے…’’بدر‘‘کے میدان میں حق وباطل کے درمیان اولین معرکہ پیش آیا،اہلِ حق کوغلبہ نصیب ہوا،جبکہ شکست ورسوائی اہلِ باطل کامقدربنی،تب محض اگلے ہی سال یعنی ۳ھ؁ میں اہلِ باطل دوبارہ چلے آئے،جس کے نتیجے میں ’’غزوۂ اُحد‘‘کی نوبت آئی،غزوۂ بدراورپھرغزوۂ اُحددونوں ہی تاریخی اوریادگارمواقع پرحضرت خباب بن الأرت رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے تلے حاضررہے،بلکہ پیش پیش رہے اورشجاعت وبہادی کے بے مثال جوہر دکھاتے رہے۔ اُمِ انمارکاوہ ظالم وجابراورسنگدل بھائی جس کی مکہ میں بڑی دہشت تھی،بڑاہی رعب اور دبدبہ تھا،مکہ کے بڑے بڑے ناموربہادروں اورشہسواروں میں اس کاشمارہوتا تھا، نیز وہاں مکہ میں غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے بے بس ولاچارانسان یعنی خبّابؓ پرظلم وستم کے پہاڑتوڑنے میں یہی سباع ہمیشہ پیش پیش رہاکرتاتھا،بلکہ دوسرے آوارہ صفت لوگوں کوبھی خوب ورغلایاکرتاتھا…آج یہاں اُحدکے میدان میں جب معرکہ اپنے عروج پرتھا…ایسے میں اچانک اس کی نگاہ اللہ کے شیرحضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ پر پڑی …اورجب اس نے انہیں انتہائی بہادری وشجاعت کے ساتھ اللہ کے دشمنوں پرقہربن کرٹوٹتے ہوئے…اور انہیں جہنم رسیدکرتے ہوئے دیکھا…تووہ بس ان کی شجاعت کے یہ مناظردیکھتاہی رہ گیا…اورپھراس سے صبرنہیں ہوسکا،برق رفتاری کے ساتھ اپنا گھوڑا دوڑاتے ہوئے حضرت حمزہؓ کے قریب پہنچااوربآوازِبلندانہیں للکارتے ہوئے چلایا: بَارِزنِي یا حَمزۃ… یعنی’’اے حمزہ ذرہ مجھ سے مقابلہ کرو…‘‘ وہ گھوڑے پر سوار تھا، جبکہ حضرت حمزہ ؓپیدل تھے،اس کے باوجودحضرت حمزہؓ بجلی کی ماننداُس پرلپکے،اورشیرکی طرح اُس پرجھپٹے…اورپھر ایک ہی بھرپوروارمیں اُس کاکام تمام کرڈالا،اورپلک جھپکتے میں وہ غروروتکبرکاپتلازمیں بوس ہوگیا…(۱) مشرکینِ مکہ میں سے جن لوگوں نے حضرت حمزہؓ کی یہ بے مثال شجاعت وبہادری ٗنیزان کے ہاتھوں سباع بن عبدالعزیٰ جیسے نامی گرامی شہسواراوربہادرانسان کایہ عبرتناک انجام دیکھا ٗان پرگویالرزہ طاری ہوگیا…اتفاق سے اُس وقت میدانِ کارزارمیں اسی جگہ حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ بھی موجودتھے،انہوں نے یہ تمام منظراپنی آنکھوں سے دیکھا،اورتب ان کے تصورمیں وہ مناظرتازہ ہوگئے جب وہ مکہ میں لوہے کی بھٹی پرکام کاج اورمحنت ومزدوری کررہے ہوتے تھے،ایسے میں یہی دونوں ظالم وسرکش بھائی بہن ٗ یعنی سباع بن عبدالعزیٰ اورام انماربنت عبدالعزیٰ آیاکرتے ،لوہے کی اس بھٹی سے کوئی سریالے کراسے آگ میں گرم کرکے ان کے سرپرلگایاکرتے تھے…تب یہ ان دونوں کوخوب بددعائیں دیاکرتے تھے…اُم انمارکاانجامِ بدتوانہوں نے مکہ میں ہی دیکھ لیا تھا کہ کس طرح اسے شدیدسردردکے دورے پڑنے لگے تھے …اورتب اس کے منہ سے بے اختیارکتے کے بھونکنے جیسی آوازیں نکلنی لگتی تھیں ،اوراس دورے کاواحدعلاج یہ تھاکہ اس کے سرپرتپتاہواگرم سریا لگایاجائے… جبکہ آج یہاں اُحدکے میدان میں خبّابؓ نے اپنے دوسرے مجرم یعنی سباع کایہ انجامِ بد بھی دیکھا…اپنی آنکھوں کے سامنے اسے تڑپتے اورپھردم توڑتے اورواصلِ جہنم ہوتے ہوئے دیکھ لیا،یوں خبّابؓ کے ان دونوں مجرموں (بہن بھائی)کواللہ نے دنیامیں ہی ٗ اور خبّابؓ کی نگاہوں کے سامنے عبرتناک سزادی۔ غزوۂ اُحدکے بعددیگرتمام غزوات کے موقع پربھی حضرت خبّاب بن الأرت رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی زیرِقیادت ہمیشہ شریک رہے اورشجاعت وجرأت کے بے مثال جوہر دکھاتے رہے،نیزآپؐ سے علمی استفادہ ٗکسبِ فیض ٗ اورآپؐ کی علمی وتربیتی مجالس میں شرکت وحاضری کامبارک سلسلہ بھی مکمل ذوق وشوق اورپابندی کے ساتھ چلتارہا،حتیٰ کہ اسی کیفیت میں رسول اللہ ﷺ کامبارک دورگذرگیا،آپؐ تادمِ آخرخبّابؓ سے انتہائی مسرور ومطمئن رہے۔