Chapter 2 of 3

’’مُتبنّیٰ ‘‘یعنی منہ بولابیٹابنانے کی ممانعت

رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل مکہ شہرمیں زیدکوآپؐ کے بیٹے کے طورپرپہچاناجاتاتھا،لیکن آپؐ کی بعثت کے بعدقرآن کریم میں ’’تَبَنِّی‘‘کی حرمت کاحکم نازل ہوا،تب آپؐ نے بھی اس حکمِ ربانی کی تعمیل میں زیدکے بارے میں یہی معاملہ اپنایاکہ یہ میر ابیٹانہیں ہے، ہاں البتہ آپؐ کی طرف سے زیدکیلئے وہی پرانی عنایتیں اورشفقتیں بدستورجاری رہیں ۔ اس سلسلے میں قرآنی تعلیم یہ ہے کہ: وَمَا جَعَلَ أدعِیَائَ کُم أبنَائَ کُم ، ذلِکُم قَولُکُم بِأفوَاھِکُم ، وَاللّہُ یَقُولُ الحَقَّ وَھُوَ یَھدِي السَّبِیلَ (۱) یعنی’’اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کوتمہارابیٹانہیں بنایا،یہ توتمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں ،جبکہ اللہ توحق بات بتاتاہے اورسیدھی راہ سجھاتاہے) اس کے بعدمزیدارشادِربانی ہوا: أُدعُوھُم لِآبَائِھِم ھُوَ أَقسَطُ عِندَاللّہ…(۲) یعنی’’تم ان [اپنے منہ بولے بیٹوں ]کوپکاروان کے حقیقی باپوں کی طرف نسبت کرکے‘‘۔ یعنی ان آیات میں منہ بولابیٹا(یابیٹی) بنانے کی حرمت کاحکم نازل ہوا،اوریہ تاکیدکی گئی کہ ہرانسان کواس کے حقیقی باپ کابیٹاکہہ کرہی بلایاجائے اوراسی کی طرف نسبت کی جائے،نہ کہ کسی اورکی طرف۔ دینِ اسلام کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دینِ فطرت ہے ،لہٰذااسلام کاہرحکم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کے عین کے مطابق ہے۔ ’’تبنِّی‘‘یعنی کسی کومتبنّیٰ یامنہ بولابیٹا(یابیٹی)بنانے میں قدم قدم پرایسی قباحتیں ہیں جواللہ کی بنائی ہوئی انسانی فطرت سے مکمل طورپرمتصادم ہیں ۔ چنانچہ جب کوئی میاں بیوی کسی پرائے بچے کوگودلیتے ہیں ،اورپھردنیاکے سامنے ٗنیزاس بچے کے سامنے بھی ہمیشہ یہی ظاہرکرتے ہیں کہ وہ ان کاحقیقی بچہ ہے ،اوروہ اس کے حقیقی ماں باپ ہیں …اسی کیفیت میں وہ بچہ پروان چڑھتاہے ،حتیٰ کہ بڑاہوجاتاہے۔ لیکن قانونِ قدرت یہی ہے کہ حقیقت ہرگزہرگزچھپ نہیں سکتی…چنانچہ اس بارے میں جب حقیقت منکشف ہوتی ہے تویہ چیزاس شخص (یعنی منہ بولی اولاد) کیلئے بہت زیادہ ذہنی کرب اورنفسیاتی صدمے کاباعث بنتی ہے،اس کی شخصیت بری طرح ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے،جنہوں نے اسے پال پوس کربڑاکیاٗ کسی قابل بنایا ٗ اب اس کے دل میں ان کیلئے وہ عزت باقی نہیں رہتی ،وہ جذباتی تعلقِ خاطرچکناچورہوجاتاہے…کیونکہ اب وہ اس حقیقتِ حال کوجان چکاہوتاہے کہ میراتوان کے ساتھ دراصل کوئی رشتہ نہیں ہے،ابتک جو کچھ تھاوہ محض ایک فریب تھا… مزیدیہ کہ …دوسری طرف…جواس کے اصل والدین ہیں ،اب وہ ان کی تلاش میں سرگرداں رہنے لگتاہے ،یہی فکرہمہ وقت اس کے دل ودماغ پرچھائی رہتی ہے کہ کاش کسی طرح میں ان کاکوئی کھوج لگاسکوں ، کسی طرح ان کے بارے میں کچھ جان سکوں کہ وہ کون ہیں اورکہاں ہیں ؟ان کی محبت اسے پریشان کئے رکھتی ہے ،اوراس کے ساتھ ہی اس کے دل میں ان کے خلاف نفرت کے جذبات بھی پروان چڑھنے لگتے ہیں کہ انہوں نے مجھیکیوں چھوڑا؟ کیاماں باپ ایسے ہواکرتے ہیں کہ اپنی ہی اولادکوکسی دوسرے کی جھولی میں ڈال دیں …یازمانے کے رحم وکرم پرچھوڑدیں …؟ لہٰذابیک وقت اس کے دل میں اپنے حقیقی والدین کیلئے محبت اورتڑپ ٗ نیزان کے خلاف نفرت وعداوت کے جذبات کی یہ جنگ اس کے دل ودماغ میں جاری رہتی ہے… ظاہر ہے کہ اس جنگ اوراس کشمکش سے کسی اورپرتوکوئی اثرنہیں پڑتا، البتہ خودوہی بے چارہ بس سلگتارہتاہے، نفسیاتی صدموں کے شکنجے میں پھنستاچلاجاتاہے،اوریوں اس کی تمام زندگی اس کیلئے ایک بہت بڑی الجھن بن کررہ جاتی ہے۔ یہی وہ اسباب ہیں جن کی بناء پردینِ اسلام میں کسی کو’’مُتبنّیٰ‘‘یعنی منہ بولابیٹا (یابیٹی) بنانے کی ممانعت ہے۔ ٭…رسول اللہ ﷺ کی عظیم شخصیت ٗبلنداخلاق ٗاورپاکیزہ سیرت وکردارسے انتہائی متأثرہونے کی وجہ سے اس نوعمر(زیدبن حارثہ)نے اپنے والدین کے ساتھ جانے کی بجائے آپؐ کے ساتھ رہناپسندکیا،اُ سوقت زیدکے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ جس شخصیت کوانہوں نے اپنے’’ آقا‘‘کے طورپرپسندکیاہے ٗ اوراپنے ماں باپ ٗ اپنا خاندان ٗ اپنے بھائی بہن ٗ سبھی پرجس شخصیت کی صحبت ومعیت کوترجیح دی ہے ٗ وہ تودراصل صرف زیدکے آقاہی نہیں …بلکہ انہیں تواللہ نے تمام جہان والوں کاآقابنایاتھا،اوراللہ کی طرف سے تمام دنیائے انسانیت کی رہبری ورہنمائی کیلئے انہیں منتخب کیاگیاتھا۔ زیدکے تصورمیں بھی یہ بات نہیں تھی کہ عنقریب آسمان سے ایک نیااورآخری دین نازل ہوگا، اورپھراس دین کی بنیادپراس زمین میں ایک نئی دنیاوجودمیں آئیگی ،ایک نیامعاشر ہ تشکیل پائیگا،ایک نیانظام قائم ہوگا،اورتب اس نئی دنیامیں ٗ نئے معاشرے میں ٗ وہ گنے چنے چندافرادجنہیں بڑی اہمیت اوربنیادی حیثیت حاصل ہوگی …ان میں زیدبھی ہوں گے، بلکہ سرِفہرست ہوں گے،اورانہیں اس نئی عمارت میں سنگِ بنیادکی حیثیت حاصل ہوگی، کیونکہ اس واقعے کے بعدجب محض چندسال ہی گذرے تھے کہ اللہ عزوجل کی طرف سے تمام دنیائے انسانیت کی رہبری ورہنمائی کی خاطررسول اللہ ﷺ کوآخری نبی بناکربھیجاگیا، اور تب آپؐ کے گھرانے کے ایک فردکی حیثیت سے زیدنے سب سے پہلے دینِ اسلام قبول کیا۔(۱) ٭…جس طرح زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت ومعیت میں رہنے کی خاطراپناگھربارچھوڑا،اپنے ماں باپ کوچھوڑا،نیزجس طرح ان کے دل کی گہرائیوں میں رسول اللہ ﷺ کیلئے محبت وعقیدت اورعزت واحترام کے جذبات خوب راسخ ہوچکے تھے …بعینہٖ اسی طرح رسول اللہ ﷺ بھی ہمیشہ زیدپربہت زیادہ شفقت وعنایت فرماتے رہے،آپؐ نے زیدکوہمیشہ اپنے گھرکافردسمجھا،گھرکے دیگرافرادکے ساتھ آپؐ کاجورویہ وسلوک تھاٗوہی رویہ زیدکے ساتھ بھی تھا ٗ نیزگھرکے کسی بھی فردکوجوحیثیت اور اہمیت حاصل تھی ٗ وہی زیدکوبھی حاصل تھی۔ حضرت زیدرضی اللہ عنہ اگرکبھی کسی سفرکے موقع پرگھرسے دورجاتے تورسول اللہ ﷺ اداس ہوجاتے،زیدؓواپس آتے توآپؐ بھی مسرورومطمئن ہوجاتے، خوب والہانہ انداز میں مسرت کااظہارفرماتے،اوراس طرح گرمجوشی کے ساتھ زیدکااستقبال فرماتے کہ یہ سعادت کسی اورکونصیب نہیں ہوسکی۔اسی کیفیت میں مکہ میں وقت گذرتارہا… ٭…نبوت کے تیرہویں سال کے آخرمیں جب ہجرتِ مدینہ کاحکم نازل ہواتب اس حکم کی تعمیل کے طورپررسول اللہ ﷺ ودیگرتمام مسلمان رفتہ رفتہ مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کرگئے،اورپھرچندہی روزبعدجب زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے ، تب فرطِ مسرت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی جوکیفیت تھی اس کی منظرکشی کرتے ہوئے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں : ’’زیدبن حارثہ جب مدینہ پہنچے اُس وقت رسول اللہ ﷺ میرے گھرمیں تشریف فرماتھے، اوراس وقت آپؐ نے محض ایک تہبندباندھ رکھی تھی، زیدنے جب گھرکادروازہ کھٹکھٹایا تو آپؐ اسی کیفیت میں اپنی تہبندتھامے ہوئے دروازے کی طرف لپکے،زیدکوگلے سے لگایا اوربوسہ بھی دیا،میں نے آپؐ کواس کیفیت میں دروازے پرجاتے ہوئے نہ کبھی اس سے قبل دیکھاتھااورنہ کبھی اس کے بعددیکھا‘‘۔(۱) ٭…ہجرت کے بعداب یہاں مدینہ میں وقت کاسفرجاری رہا…رسول اللہ ﷺ کیلئے زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ گھرکے فردکی مانندتوپہلے ہی تھے…اب مزیدہردم اورہرلمحہ یہ تعلق مضبوط سے مضبوط ترہوتاچلاگیا… مدنی زندگی میں مخالفین ومشرکین کی طرف سے مسلمانوں کومسلسل جارحیت کاسامناکرناپڑا ٗ جس کے نتیجے میں متعددغزوات کی نوبت آئی،ایسے میں ہرغزوے کے موقع پرزیدؓ رسول اللہ ﷺ کی زیرِقیادت شریک رہے ٗبلکہ پیش پیش رہے ،اوربے مثال شجاعت وجرأت کا خوب مظاہرہ کرتے رہے۔