Chapter 1 of 3

حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ

بہت پہلے کی یہ بات ہے،ملکِ عرب میں ’’بنی مَعن‘‘نامی ایک مشہورقبیلہ تھا،اس قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک عورت تھی جس کانام’’سُعدیٰ بنت ثعلبہ‘‘تھا۔ ایک روزوہ حسبِ معمول اپنے گھرمیں کام کاج میں مشغول تھی،اورپھردن بھرکے اس کام کاج اورمحنت ومشقت کے بعدجب اسے کچھ فرصت میسرآئی اورگھڑی بھرکیلئے سستانے کی غرض سے وہ اپنے گھرکے آنگن میں بیٹھی …تواسے اپنے میکے کی یادستانے لگی،ماں باپ اوربھائی بہنوں سے ملاقات کیلئے دل مچلنے لگا…اورپھراس کا شوہر ’’حارثہ‘‘جوکام کاج کے سلسلے میں گھرسے باہرگیاہواتھا،شام کے وقت جب وہ واپس گھرلوٹاتوسُعدیٰ نے اس کے سامنے اس خواہش کااظہارکیا…جس پرشوہرنے اسے چند دنوں کیلئے میکے چلے جانے کی اجازت دے دی۔ تب ایک روزسُعدیٰ اپنے محلے کی دیگرچندمسافرعورتوں کے ہمراہ اس علاقے کی جانب روانہ ہوئی جہاں اس کامیکہ آبادتھا،اس سفرمیں اس کاکمسن لختِ جگر’’زید‘‘بھی ہمراہ تھا، جس کی عمراُس وقت آٹھ سال تھی۔ دورانِ سفرراستے میں کچھ لٹیروں نے حملہ کردیا،مال واسباب بھی لوٹا،اورکچھ لوگوں کوقیدی بناکراپنے ہمراہ لے گئے،جن میں سُعدیٰ کاکمسن لختِ جگر’’زید‘‘بھی شامل تھا…سُعدیٰ بیچاری ممتاکی ماری اس ناگہانی آفت پر بس روتی اورسرپیٹتی رہ گئی…پہلے آنسوبہاتی ہوئی اپنے میکے پہنچی ،انہیں بھی خوب رُلایا،اورپھراپنے گھرچلی آئی…حارثہ نے جب اپنی بیوی کوتنہاآتے دیکھاتووہ پریشان ہوگیا،سُعدیٰ نے اسے تمام ماجراکہہ سنایا…تب وہ ہوش و حواس گنوابیٹھا،سارادن بیٹے کے غم میں دردناک اشعارگنگناتا…اس کی تلاش میں نگری نگری…بستی بستی…ماراماراپھرتا… اُس دورکے دستورکے مطابق اس بچے کوغلام بنالیاگیا،اورپھرکچھ ہی عرصے بعدجب ’’عُکاظ‘‘کامشہورسالانہ میلہ لگاتوان لٹیروں نے اس کمسن نوجوان کووہاں اس میلے میں فروخت کی غرض سے پیش کیا،اُس وقت اس میلے میں قریشِ مکہ کے ناموراورخوشحال تاجروں میں سے چندافرادخریداری کی غرض سے وہاں موجودتھے،انہی میں سے ’’حکیم بن حزام بن خویلد‘‘(ام المؤمنین حضرت خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ عنہاکے بھتیجے)نامی تاجر نے عکاظ کے اس میلے میں چندکمسن غلام خریدے ٗجن میں حارثہ اوراس کی بیوی سُعدیٰ کایہ گمشدہ نورِنظر’’زید‘‘بھی شامل تھا۔ حکیم بن حزام (بعدمیں مسلمان ہوگئے تھے ٗ لہٰذا’’رضی اللہ عنہ‘‘)ان غلاموں کوہمراہ لئے ہوئے واپس مکہ پہنچے ،ان کی پھوپھی خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہاکوجب اپنے بھتیجے کی آمدکی اطلاع ملی،تووہ ملاقات ٗ نیزخیریت دریافت کرنے کی غرض سے آئیں ،تب حکیم نے انہیں بتایاکہ’’پھوپھی جان!میں نے عکاظ کے میلے سے چندغلام خریدے ہیں ،جوکہ کم سن ہیں ، کیونکہ کم سن غلام کی خودتربیت کی جائے توآئندہ چل کراس کے ساتھ مفاہمت اور تعامل میں سہولت رہتی ہے…‘‘اورپھرحکیم نے مزیدکہا’’پھوپھی جان ان میں سے کوئی ایک غلام میری طرف سے آپ کیلئے ہدیہ ہے،آپ کی خدمت انجام دے گا،گھریلوکام کاج کردیاکرے گا…لہٰذاآپ خودپسندکرلیجئے‘‘ تب خدیجہ نے ان سب غلاموں پرسرسری نظرڈالی توانہیں ’’زید‘‘کی شخصیت اورسراپامیں خاندانی شرافت ونجابت کے آثارنمایاں دکھائی دئیے،لہٰذاانہوں نے زیدکوپسندکرلیا،اور اسے اپنے بھتیجے کی طرف سے بطورِہدیہ قبول کرتے ہوئے اپنے گھرلے آئیں ۔ اس کے بعدکچھ عرصہ ہی گذراتھاکہ خدیجہ (رضی اللہ عنہا)کی شادی تمام بنی نوعِ انسان میں اشرف ترین ٗ اورصادق وامین ٗیعنی محمد( ﷺ )کے ساتھ ہوگئی(جن کی ابھی تک من جانب اللہ بعثت نہیں ہوئی تھی) اس شادی کے بعدخدیجہ نے اپنے شوہرِنامدارکی دلجوئی کی غرض سے کچھ ہدایاوتحائف انہیں پیش کئے ،جن میں یہ کم سن غلام (زید)بھی شامل تھا۔ یوں اب زیدکے شب وروزمحمدبن عبداللہ( ﷺ )کی صحبت ومعیت میں گذرنے لگے،کہ جنہیں اُس وقت قبیلۂ قریش میں ٗاورتمام شہرمکہ میں انتہائی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا…بلکہ عنقریب جنہیں اللہ کی طرف سے نبوت ورسالت سے سرفرازکیاجانے والا تھا،اورصرف قریش ہی کیا…؟تمام بنی آدم ٗبلکہ تمام مخلوق میں سب سے افضل وبہتر قرار دیا جانااللہ کومقصودتھا۔ دوسری طرف بیٹے کی جدائی اورگم شدگی کے باعث اس کی ماں صدمے سے نڈھال تھی، مسلسل روتے روتے اس کابراحال ہوگیاتھا،آنسوتھے کہ تھمتے ہی نہیں تھے،دل میں ایسی آگ لگی تھی جوکسی صورت بجھتی نہیں تھی،جوبات اسے مزیداداس اورپریشان کئے رکھتی تھی وہ یہ کہ کاش کسی طرح اسے کم ازکم اتناہی معلوم ہوجائے کہ اس کانورِنظراورلختِ جگر زندہ ہے …یامرچکاہے؟ اگرزندہ ہے تواس سے دوبارہ ملنے کی امیدباندھ لے، اور اگر مر چکا ہے توبس رودھوکرخاموش ہوجائے۔ جبکہ اس بچے کاغمزدہ باپ ’’حارثہ‘‘ توبیٹے کی جدائی میں ہوش وحواس ہی تقریباً کھو بیٹھا،کسی کام کاج کے قابل نہیں رہا ،کام کاج کی بجائے دن بھربیٹے کی تلاش میں چہارسو مارا مارا پھرتا، ہرآنے جانے والے کوروک روک کراس سے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھتا، دن بھربے خودی ولاچاری کی کیفیت میں اشعارگنگناتاپھرتا،جن کامفہوم کچھ اس طرح ہے: ’’اے میرے بیٹے زید!تیری یادمیں میں کتنارویاہوں ،میری سمجھ میں کچھ نہیں آتاکہ میں آخرکیاکروں ؟ مجھے کیسے پتہ چل سکے گی یہ بات کہ تواب تک زندہ ہے ٗلہٰذامیں تجھ سے دوبارہ ملنے کی امیدقائم کرلوں …یایہ کہ تواب اس دنیامیں نہیں رہا ٗ لہذامیں دل پرپتھررکھ لوں …تجھے زمین نگل گئی ہے؟یاآسمان کھاگیاہے؟کیاتجھے موت نے اُچک لیاہے؟ یاان ظالم پہاڑی راستوں میں توہمیشہ کیلئے کہیں کھو گیا ہے؟ ہرصبح طلوع ہوتاہوایہ سورج مجھے تیری یاددلاتاہے،اورپھرہرشام غروب ہوتاہوایہ سورج مجھے پھرتیری ہی یاددلاتا ہے، اورتب ڈوبتے ہوئے سورج کے ساتھ میرادل بھی ڈوبنے لگتاہے،اورمجھے موت اپنی طرف بڑھتی ہوئی محسوس ہونے لگتی ہے‘‘(۱) ٭…اسی کیفیت میں وقت گذرتارہا،آتے جاتے موسموں کاسفرجاری رہا…آخرایک بارموسمِ حج کے موقع پردوردرازکے علاقوں سے جب بڑی تعدادمیں لوگ مکہ آئے ہوئے تھے،زیدکے قبیلے کے کچھ لوگ بھی آئے تھے،انہی دنوں ایک روز بیت اللہ کے طواف کے دوران ان میں سے کچھ لوگوں کااچانک زیدکے ساتھ آمناسامناہوگیا،ملاقات ہوئی، صورتِ حال کے بارے میں آگاہی ہوئی،اورپھران لوگوں نے حج سے فراغت کے بعد واپس اپنے علاقے میں جاکرزیدکے والدین کواس بارے میں مطلع کیا،تب زیدکے باپ حارثہ نے نہایت عجلت میں مکہ روانگی کیلئے سواری کاانتظام کیااپنے بھائی کعب کوبھی ہمراہ لیا، کچھ مال بھی ساتھ لیا،تاکہ مکہ پہنچنے کے بعدزیدکے آقاکویہ مال بطورِفدیہ پیش کرکے اپنے نورِنظرکوآزادکرایاجاسکے… دونوں نہایت بے چینی کے ساتھ سفرکرتے ہوئے مکہ پہنچے ، وہاں لوگوں سے زیدکے آقایعنی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں معلومات حاصل کیں ،اورپھرآپؐ سے ملاقات کی ، آمدکامقصدبیان کرتے ہوئے کہا: یا ابن عبدالمطّلب ، أنتم جیران اللّہ ، أنتم تفُکّون العاني ، وتُطعِمون الجائع ، وتُغِیثون الملھوف … یعنی’’اے عبدالمطلب کے گھرانے والو! تم اللہ کے پڑوسی ہو،تم لوگ توقیدیوں کورہائی دلایا کرتے ہو،بھوکے کوکھاناکھلایاکرتے ہو،پریشان حال کی دستگیری کیاکرتے ہو… اورلمحہ بھرکے توقف کے بعدنہایت دردبھرے لہجے میں کہا: وقد جئناکَ في ابننا الّذي عندکَ ، وحَمَلنا الَیکَ مِنَ المَالِ ما یفي بہٖ ، فامنُن علینا ، وفادِہٖ لَنا بما تشاء… ہم آپ کے پاس آئے ہیں اپنے بیٹے کے سلسلے میں جوکہ آپ کے پاس ہے،ہم اپنے ہمراہ کچھ مال بھی لائے ہیں جواس کی قیمت کے طور پرکافی ہوجائے گا، پس آپ ہم پریہ احسان کردیجئے ،اوراس کے فدیہ کے طورپرآپ جوچاہیں ہم سے تقاضا کر لیجئے … اس پررسول اللہ ﷺ نے قدرے حیرت کے ساتھ دریافت فرمایا’’میرے پاس تمہارابیٹا ، کون ہے وہ؟‘‘ وہ بولے ’’آپ کانوعمرخادم ، زیدبن حارثہ‘‘ اس پررسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’کیامیں تمہیں ایک ایسی تجویزدوں جوتمہارے لئے اس فدیہ سے زیادہ مناسب رہے گی؟‘‘ وہ بولے’’ضرورفرمائیے…کیاہے وہ تجویز؟‘‘ آپؐ نے فرمایا’’ میں ابھی اسے یہاں بلاتاہوں ،تم اسے اختیاردیناکہ یاوہ تمہارے ساتھ جاناپسندکرلے ،اورتب میں تم سے اس کاکوئی فدیہ وصول نہیں کروں گا(یعنی مفت میں تمہارے حوالے کردوں گا) اوریاوہ میرے ساتھ رہناپسندکرلے،اورتب میں بھی اس سے بے رُخی نہیں برتوں گا(یعنی اگروہ میرے ساتھ رہناپسندکرلیتاہے تومیں اسے زبردستی خودسے دورنہیں کروں گا) وہ کہنے لگے’’بے شک آپ نے بہت ہی انصاف کی بات کی ہے‘‘ اورتب رسول اللہ ﷺ نے زیدکوبلوایا،زیدکی آمدکے بعدآپ نے ان دونوں افراد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے زیدسے دریافت فرمایا’’یہ دونوں کون ہیں ،تم انہیں جانتے ہو؟‘‘ زیدنے کہا’’جی ہاں …یہ میرے والدہیں حارثہ بن شُراحیل ،اوردوسرے میرے چچاہیں کعب بن شُراحیل‘‘ تب آپؐ نے زیدکومخاطب کرتے ہوئے فرمایا’’میری طرف سے تمہیں اختیارہے کہ اگر چاہو تومیرے پاس ہی رہو،اوراگرچاہو توان کے ہمراہ چلے جاؤ‘‘ زیدنے کسی ترددیاتأمل کے بغیرفوری طورپرجواب دیا’’میں توآپ کے پاس ہی رہوں گا‘‘ تب وہ دونوں (زیدکے والداورچچا)انتہائی حیرت زدہ رہ گئے،اورزیدکویوں کہنے لگے ’’زید تمہیں کیاہوگیا؟ یہ تم کیاکہہ رہے ہو؟ کیاتم اپنے ماں باپ کے ساتھ رہنے کی بجائے یہاں غلامی کی زندگی کوپسندکررہے ہو؟‘‘ زیدنے جواب دیا’’میں نے ان کا(یعنی رسول اللہ ﷺ کا)جوحسنِ اخلاق دیکھاہے ٗ اس کی وجہ سے میں انہیں چھوڑکرکہیں نہیں جاسکتا‘‘ تب زیدکے والداورچچاخوب اصرارکرتے رہے کہ ’’زیدہمارے ساتھ چلو‘‘جبکہ زیدکی طرف سے مسلسل انکارکاسلسلہ جاری رہا… رسول اللہ ﷺ نے جب یہ عجیب وغریب صورتِ حال دیکھی توآپؐ اپنی جگہ سے اٹھے ، اورزیدکوہمراہ لئے ہوئے سیدھے بیت اللہ کے قریب پہنچے جہاں اُس وقت حسبِ معمول قریش کے معززافرادبڑی تعدادمیں موجودتھے،آپؐ نے وہاں پہنچنے کے بعدان تمام سردارانِ قریش کومخاطب کرتے ہوئے بآوازِبلندیوں کہا’’اے جماعتِ قریش گواہ رہنا، آج سے یہ زیدمیرابیٹاہے‘‘ زیدکے باپ اورچچانے جب یہ منظردیکھاتویہ سوچ کرکافی مطمئن ہوگئے کہ ’’ہمارابیٹا زید یہاں مکہ میں معززترین خاندانِ بنوہاشم میں پرورش پائے گا…مزیدیہ کہ جب وہ خود یہاں خوش ہے ،توپھرہمیں اورکیاچاہئے ؟‘‘ اوریوں وہ دونوں مسرورومطمئن اورہنسی خوشی مکہ سے واپس اپنے علاقے کی جانب روانہ ہوگئے،اورپھراپنے علاقے میں پہنچنے کے بعدزیدکی ماں کوبھی یہ کہہ کرخوب مطمئن کردیاکہ ہمارا بیٹاوہاں مکہ میں بہت خوش ہے ، وہاں ایک بہت ہی معززترین اورانتہائی شریف النفس انسان نے اسے اپنامنہ بولابیٹابنالیاہے،مزیدیہ کہ اب وہ گم شدہ تونہیں ہے ،بلکہ ہمیں اب اس کاٹھکانہ معلوم ہے ،لہٰذاجب ہماراجی چاہے گاہم وہاں جاکراس سے مل لیاکریں گے۔ اِدھرمکہ شہرمیں بیت اللہ کے قریب تمام سردارانِ قریش کی موجودگی میں رسول اللہ ﷺ نے جب اپنے اس نوعمرغلام (زید)کواپنامنہ بولابیٹابنانے کااعلان کیاتھا،تبھی سے تمام شہرمکہ میں لوگ اسے ’’زیدبن محمد‘‘کے نام سے پکارنے لگے تھے۔ اسی کیفیت میں وقت گذرتارہا…حتیٰ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے اپنے حبیب ﷺ کو تمام دنیائے انسانیت کی رہبری ورہنمائی کی غرض سے مبعوث فرمایاگیا۔