Chapter 2 of 2
حضرت طفیل بن عمروالدَوسی رضی اللہ عنہ عہدِنبوی کے بعد
رسول اللہ ﷺ کامبارک دورگذرجانے کے بعدخلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کادورِخلافت آیاتوحضرت طفیل بن عمروالدَوسی رضی اللہ عنہ نے خوداپنے آپ کو ٗ اپنی تلوارکو ٗ نیزاپنے جواں سال بیٹے عمروکورسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اپنایہ سبھی کچھ اللہ کے دین کی خدمت اورسربلندی کیلئے وقف کردیا۔
رسول اللہ ﷺ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کے فوری بعدبیک وقت بہت سے فتنوں نے سراٹھایا، مانعینِ زکوٰۃ کافتنہ، مرتدین کافتنہ ، جھوٹے مدعیانِ نبوت کافتنہ…وغیرہ وغیرہ ، الغرض اندرونی سازشوں اوربیرونی یلغاروں کاایک لامتناہی سلسلہ تھا…رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین اورمسلمانوں کے خلیفۂ اول کی حیثیت سے ان تمامترفتنوں کی سرکوبی اور بیخ کنی کی ذمہ داری حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے کندھوں پرآپڑی تھی ٗجسے انہوں نے بڑی ہی عزیمت واستقامت اوربے مثال شجاعت وبہادری کے ساتھ بحسن وخوبی نبھایا ،اورتمام فتنوں کاقلع قمع کیا،اوراس مقصدکیلئے متعددبڑی جنگوں کی نوبت آئی۔
ان تمام جنگوں کے موقع پرحضرت طفیلؓ اپنے جواں سال بیٹے’’عمروبن طفیل‘‘ سمیت خوب جوش وجذبے کے ساتھ شریک رہے اورہمیشہ پیش پیش رہے۔
انہی دنوں ( یعنی ۱۱ھمیں ) ان جھوٹے مدعیانِ نبوت میں سے بالخصوص مسیلمہ نے اپنے علاقے ’’یمامہ‘‘(۱)میں اس سلسلہ میں بڑافتنہ پھیلارکھاتھا،اوربہت سے مرتدقبائل اپنی تمامتر توانائیوں سمیت بہت بڑی تعدادمیں اس کے ساتھ جاملے تھے۔
اس بڑے فتنے کی سرکوبی کی غرض سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے پہلے عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ ٗ اورپھرشرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکر’’یمامہ‘‘کی جانب روانہ کیاتھا(۲)لیکن دونوں باریہ لشکراس فتنے کی سرکوبی میں ناکام رہا،اوراسی کیفیت میں واپس مدینہ لوٹناپڑا،تب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اس لشکرکی قیادت کیلئے ایک ایسے شخص کاانتخاب فرمایاجسے فنونِ حرب میں مہارت کے حوالے سے ’’طلسماتی‘‘شخصیت تصورکیاجاتاتھا…اورجواس ’’جنگِ یمامہ‘‘کے بعدبھی عرصۂ دراز تک دشمنانِ اسلام کے سروں پرقہربن کرٹوٹتارہا،جسے خودرسول اللہ ﷺ نے ’’سیف اللہ‘‘ یعنی ’’اللہ کی تلوار‘‘کے لقب سے نوازاتھا،یعنی حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ… اورجب یہ لشکرحضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کی زیرِقیادت مدینہ سے اپنی منزلِ مقصود یعنی ’’یمامہ‘‘کی جانب روانہ ہواتواس لشکرمیں حضرت طفیلؓ اپنے جواں سال بیٹے عمروسمیت شریک تھے۔
مدینہ سے روانگی کے بعدجب یہ لشکرمنزلِ مقصودکی جانب رواں دواں تھا ٗتب راستے میں ایک روز حضرت طفیلؓ جب نیندسے بیدارہوئے تواپنے ساتھیوں کومخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے’’میں نے ایک خواب دیکھاہے،ہے کوئی جومجھے اس خواب کی تعبیربتاسکے؟‘‘ان کے ساتھیوں نے کہا’’سنائیے اپناخواب‘‘تب یہ اپناخواب بیان کرتے ہوئے کہنے لگے:
’’میں نے خواب میں دیکھاہے کہ میراسرمنڈاہواہے،اوریہ کہ ایک پرندہ میرے منہ سے نکلااورفضاء میں اُڑگیا،اس کے بعدکوئی چیزمجھے نگل گئی اورمیں اس کے پیٹ میں پہنچ گیا، نیزیہ کہ میرابیٹا بڑی بے چینی کے ساتھ مجھے تلاش کرتاپھررہاہے،لیکن وہ مجھ تک پہنچ نہیں سک رہا…‘‘
حضرت طفیلؓ کی زبانی یہ خواب سن کران کے ساتھی محوِحیرت ہوگئے،اورپھران کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے یوں کہنے لگے’’اللہ خیرکرے گا‘‘
تب قدرے توقف کے بعدحضرت طفیلؓ نے کہا’’میں نے اپنے اس خواب کی تعبیرجان لی ہے…میرے منڈے ہوئے سرکامطلب یہ ہے کہ عنقریب اس جنگ میں میراسرکٹ جائے گا،جوپرندہ میرے منہ سے نکلااورفضاء میں اُڑگیاٗاس کامطلب یہ ہے کہ میری روح میرے جسم سے نکل کرپروازکرجائے گی،کسی چیزنے مجھے نگل لیااورمیں اس کے پیٹ میں جاپہنچا ٗاس کامطلب یہ ہے کہ میں قبرمیں جاپہنچوں گا،لہٰذامجھے امیدہے کہ میں اس جنگ کے موقع پرشہیدہوجاؤں گا…اورمیں نے یہ جودیکھاکہ میرابیٹامجھے تلاش کرتاپھررہاہے لیکن وہ مجھ تک پہنچ نہیں سک رہا ٗاس کامطلب یہ ہے کہ جس طرح مجھے اس جنگ کے موقع پرشہادت نصیب ہوگی ٗاسی طرح وہ بھی شہادت کی آرزوکرے گا،لیکن اس کی یہ خواہش فی الحال پوری نہیں ہوگی،البتہ بعدمیں کسی اورموقع پراس کی یہ خواہش پوری ہوجائے گی اورتب اللہ اسے مجھ سے ملادے گا‘‘۔
اس کے بعدیہ لشکرمسلسل سفرکرتاہواجب ’’یمامہ‘‘پہنچاتووہاں بڑی ہولناک قسم کی جنگ کی نوبت آئی…یہی وہ جنگ تھی جس میں ایک ہزارسے زائدجوصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہیدہوئے تھے ٗان میں سترحُفاظِ قرآن بھی تھے،جس کے نتیجے میں حضرت عمررضی اللہ عنہ خلیفۂ وقت حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے مسلسل ’’جمعِ قرآن‘‘کے بارے میں اصرارکرتے رہے تھے…اورتب پہلی بار’’جمعِ قرآن‘‘کااہم ترین کام سرانجام دیاگیاتھا (۱)
یہ بہت ہی مشکل ترین گھڑی تھی،ایسے میں حضرت طفیل بن عمروالدَوسی رضی اللہ عنہ بڑی بے جگری کے ساتھ لڑتے رہے تھے،تمام جسم زخموں سے چورتھا،لیکن پائے استقامت میں کوئی لغزش نہیں آئی تھی،آخری سانس تک میدانِ کارزارمیں بڑی بہادری کے ساتھ ڈٹے رہے تھے،آخرمسلسل لڑتے لڑتے شہیدہوگئے تھے۔
جبکہ ان کاجواں سال بیٹاعمروبن طفیل بھی اس موقع پراپنے بہادرباپ کی طرح بڑی بہادری اورانتہائی ثابت قدمی کے ساتھ لڑتارہا،تمام جسم بری طرح چھلنی اورچورچور ہوگیا، دایاں ہاتھ کٹ کرجسم سے الگ ہوگیا…’’یمامہ‘‘کے میدانِ کارزارمیں کہیں گرگیا… اور پھر ہمیشہ کیلئے بس وہیں رہ گیا…
یوں زخموں سے چوراورنڈھال …طفیلؓکاجواں سال بیٹاعمرواس جنگ کے خاتمے پرجب وہاں سے واپس لوٹنے لگاتوکیفیت یہی تھی کہ اپنے مشفق ومہربان باپ کو ٗ نیزاپنے کٹے ہوئے ہاتھ کو ٗ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے وہیں ’’یمامہ‘‘کے میدان میں چھوڑکربوجھل قدموں کے ساتھ مدینہ کی جانب روانہ ہوگیا…
اورپھرخلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کازمانۂ خلافت گذرگیا،اورخلیفۂ دوم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کازمانۂ خلافت آیا،تب ایک بارحضرت عمرؓنے اپنے کچھ ساتھیوں کوکھانے پرمدعوکیا،جوکہ انہی کی طرح اکابرصحابہ میں سے تھے،اتفاقاًاسی وقت یہ جواں سال عمروبن طفیل بھی وہاں آ پہنچا، تب حضرت عمرؓ نے اسے روک لیا،اوراصرارکیاکہ کھاناہمارے ساتھ کھاکرجانا…پھرجب کھانے کاسلسلہ شروع ہواتویہ عمروایک طرف کہیں چھپ کربیٹھ گیا،حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے استفسارفرمایا’’اے نوجوان!تم کھاناکیوں نہیں کھارہے ہمارے ساتھ؟‘‘لیکن اس نوجوان نے کوئی خاص جواب نہیں دیا،تب حضرت عمرسمجھ گئے کہ اسے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کی وجہ سے ہمارے ساتھ کھانے کھاتے ہوئے شرم محسوس ہورہی ہے…چنانچہ انہوں نے اس سے دریافت کیاکہ ’’تمہیں اپنے ہاتھ کی وجہ سے ہمارے ساتھ کھاناکھاتے ہوئے شرم محسوس ہو رہی ہے؟‘‘اس پروہ خاموش رہا،اورکچھ نہ بولا…تب حضرت عمرؓ کھانا چھوڑ کر اپنی جگہ سے اٹھے،اوراس کے قریب جاکریوں فرمانے لگے’’اللہ کی قسم !ہم میں سے کوئی اس وقت تک کھانا نہیں کھائے گاجب تک تم اپنایہ کٹاہواہاتھ ہمارے اس کھانے میں نہ لگالو…کیونکہ یہ ہاتھ تواللہ کی راہ میں کٹاہے‘‘لیکن اس کے باوجودوہ نوجوان پس وپیش کااورترددکا شکار رہا، جبکہ حضرت عمرؓاصرارکرتے رہے…آخراس نوجوان نے اپنا وہ ہاتھ اس کھانے میں لگایا(اُس دورمیں ایک ہی بڑابرتن ہواکرتاتھاجس میں سبھی ایک ساتھ کھاناکھایاکرتے تھے) تب اس نوجوان نے ٗاورساتھ ہی خلیفۂ وقت حضرت عمرؓ ودیگرتمام افرادنے کھاناکھایا…
وقت کاسفرجاری رہا…یہ نوجوان عمروبن طفیل اپنے عظیم باپ طفیل بن عمروؓ کی طرح ہمیشہ اللہ کی راہ میں شہادت کامتمنی اورموقع کامنتظررہا…
آخر ۱۵ھمیں حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کی زیرِقیادت مسلمانوں اوررومیوں کے مابین ’’یرموک‘‘کے مقام پربہت ہی یادگاراورتاریخی جنگ لڑی گئی …جس کے نتیجے میں سلطنتِ روم کازمانۂ عروج ہمیشہ کیلئے زوال پذیرہوگیا…اس جنگ کے موقع پریہ نوجوان عمروبن طفیل بن عمروالدَوسی انتہائی بہادری اوربے جگری کے ساتھ لڑتاہواشہیدہوگیا… اور یوں عظیم باپ کایہ عظیم بیٹااپنے باپ کے نقشِ قدم پرچلتے ہوئے اُس سے جاملا…
اللہ اپنی رحمتیں نازل فرمائے اپنے اس بندے طفیل پربھی ،اوراس کے بیٹے عمروپربھی(رضی اللہ عنہم اجمعین)،نیزاللہ ہمیں جنت الفردس میں اپنے حبیب ﷺ اورتمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت ومعیت کے شرف سے نوازے۔