Chapter 1 of 2
حضرت طفیل بن عمرو الدَوسی رضی اللہ عنہ
جزیرۃ العرب میں ’’تہامہ‘‘نامی ایک مشہورعلاقہ تھا ٗجس کاکچھ حصہ آجکل حجاز(سعودی عرب) میں ٗجبکہ دیگرکچھ حصہ ملکِ یمن میں ہے(۱)وہاں ’’دَوس‘‘نامی ایک قبیلہ آباد تھا، جس کی طاقت اورشان وشوکت کے بڑے چرچے تھے،طفیل بن عمرونامی شخص اس طاقتور ترین قبیلے کاسردارتھا،نیزیہ کہ زمانۂ جاہلیت میں عرب معاشرے میں جوبڑے بڑے نامی گرامی ’’شرفاء‘‘تھے ٗ جن کی سخاوت وفیاضی ٗ مہمان نوازی ٗ اورشجاعت وبہادری کے بڑے چرچے تھے ٗ اوراسی بناء پرانہیں انتہائی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتھاتھا ٗ انہی میں طفیل کاشمارہوتاتھا۔
طفیل کی سخاوت وفیاضی اورمہمان نوازی کایہ عالم تھاکہ اس کے گھرمیں چولہاکبھی نہیں بجھتا تھا،دروازہ کبھی بندنہیں کیاجاتاتھا،رات ہویادن…ہرایک کیلئے ہروقت اس کے گھرکا دروازہ کھلارہتا…اوردسترخوان سجارہتاتھا۔
مزیدیہ کہ وہ بہت ہی فصیح وبلیغ قسم کاادیب ٗ خوش بیان شاعر ٗ شعلہ انگیزخطیب ٗنیزبہت ہی باذوق ٗ سمجھدار ٗاوردانشورقسم کاسلجھاہواانسان تھا۔
ایک بارطفیل بیت اللہ کی زیارت کی غرض سے اپنے علاقے ’’تہامہ‘‘سے مکہ کی جانب روانہ ہوا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب مکہ میں رسول اللہ ﷺ اورمشرکین کے مابین کشمکش خوب عروج پرتھی، آپؐ شب وروزاورصبح وشام بستی بستی ٗنگری نگری ٗگھوم پھرکراللہ کے دین کی طرف دعوت دینے میں مشغول ومنہمک تھے،اوراس مبارک فریضے کی انجام دہی میں آپؐ کا ہتھیار تھا’’اللہ پرتوکل وایمان‘‘…جبکہ مشرکینِ مکہ اپنی تمامترقوت وتوانائی کے ساتھ آپؐ کاراستہ روکنے پرتُلے ہوئے تھے،اوراس مذموم وناپاک مقصدکی خاطران کاہتھیار تھا ’’طاقت وقوت ٗ زوراورزبردستی ٗ دھونس اوردھمکی …‘‘۔
ایسی صورتِ حال میں جب سردارانِ قریش کوطاقتورقبیلے ’’دَوس‘‘کے سردارکی تہامہ سے مکہ آمدکی اطلاع ملی توانہوں نے اس کادل جیتنے…نیزاسے رسول اللہ ﷺ سے دوررکھنے کی خاطر…نہایت گرمجوشی کے ساتھ اورخوب پُرتپاک طریقے سے اس کااستقبال کیا،خوب مہمان نوازی اورآؤبھگت کی ،اورپھررفتہ رفتہ اس کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی برائیاں شروع کیں ،اوراسے آپؐ سے متنفرکرنے کی کوششوں میں لگ گئے۔
طفیل کورسول اللہ ﷺ سے متنفرکرتے ہوئے ان مشرکینِ مکہ نے یہ بات بھی کہی کہ (نعوذباللہ)یہ شخص بہت بڑاپہنچاہواجادوگرہے…اس کے پاس ایساعجیب وغریب کلام ہے کہ اگرکوئی ایک بارسُن لے…پھروہ کسی کام کاج کے قابل نہیں رہتا…بس اسی کادیوانہ ہوکررہ جاتاہے…اس نے اپنے اسی جادوکے ذریعے ہمارے معاشرے میں پھوٹ ڈال دی ہے،ہمیں تقسیم کرکے رکھ دیاہے ، جس کی وجہ سے اب ہماری سرداری اور تمام شان وشوکت بھی بڑے خطرے سے دوچارہوچکی ہے…لہٰذاایسانہوکہ ہماری طرح تمہاری قوم بھی ٹوٹ پھوٹ کاشکارہوجائے…اورتمہاری سرداری اورشان وشوکت بھی جاتی رہے…
اس تمام صورتِ حال کی وجہ سے یہ سردار’’طفیل‘‘پریشان ہوگیا،کیونکہ یہ سب کچھ اس کیلئے بالکل اچانک اورغیرمتوقع تھا،نیزیہ کہ وہ اس کشکمکش میں فریق نہیں بنناچاہتاتھا…جبکہ مشرکینِ مکہ اسے مسلسل خوفزدہ کرتے ہی رہے…
آخرطفیل نے یہ فیصلہ کرلیاکہ وہ کسی صورت اس شخص(یعنی رسول اللہ ﷺ )سے ملاقات نہیں کرے گا،نہ ان کی کوئی گفتگوسنے گا،نہ ہی ان سے کوئی بات چیت کرے گا،ہرقیمت پر اور بہرصورت ان سے دورہی رہے گا۔
اسی سلسلے میں سردارانِ قریش کی طرف سے طفیل کورسول اللہ ﷺ سے خوفزدہ کرنے کی غرض سے خبردارکیاگیاتھاکہ آپؐ اکثروبیشتربیت اللہ کے قریب ہی نظرآیاکرتے ہیں …لہٰذا وہاں خاص احتیاط برتناضروری ہے۔
چنانچہ طفیل جب بیت اللہ کی زیارت کیلئے روانہ ہونے لگا(۱)تواحتیاطی تدبیرکے طورپراپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی،تاکہ وہاں محمد( ﷺ )اگرموجودہوئے توان کی آواز یاان کی کوئی بات اس کی سماعت سے نہ ٹکرانے پائے ،اوراس طرح یہ اُس ’’جادو‘‘سے محفوظ رہ سکے جس سے اسے خوب خوفزدہ کیاگیاتھا…بیت اللہ کے قریب پہنچنے کے بعدجو صورتِ حال پیش آئی وہ خودطفیل نے بعدمیں اپنی زبانی یوں بیان کی ہے:
’’میں نے بیت اللہ کے قریب ایک شخص کوکھڑے دیکھاجوکہ ہماری عبادت سے مختلف کسی اورہی طریقے سے عبادت(نماز)میں مشغول تھا،میں سمجھ گیاکہ یہی محمد( ﷺ )ہیں ، مجھے ان کایہ انداز ٗاورعبادت کایہ طریقہ اچھالگا،اورمیں بے اختیاران کے قریب ہوتاگیا، ان کی شخصیت میں اورسراپامیں مجھے عجیب سی کشش محسوس ہورہی تھی،لہٰذامیں مزیدقریب ہوگیا،حتیٰ کہ میرے کانوں میں ان کی تلاوتِ قرآن کی آوازآنے لگی،تب اس موقع پر پہلے تومجھے رؤسائے قریش کی باتیں اوران کی نصیحتیں یادآنے لگیں ،لہٰذامیں نے وہ روئی اپنے کانوں میں مزیداچھی طرح مضبوطی کے ساتھ ٹھونس لی،لیکن پھرجلدہی ان کاوہ شیریں کلام دوبارہ سننے کیلئے میرادل بیتاب ہونے لگا،کچھ دیریہی کشمکش جاری رہی…آخرمیرے دل سے آوازآئی ’’اے طفیل!تم کوئی معمولی انسان نہیں ہو،تم اپنی قوم کے رہنماہو،اتنے بڑے طاقتورقبیلے کے سردارہو،اورپھریہ کہ تم اس قدرپہنچے ہوئے ادیب ٗ فصیح وبلیغ خطیب ٗ اور نامی گرامی شاعربھی ہو،تمہیں اچھے اوربرے کلام کی خوب پہچان ہے…توپھر…یہ عجیب حرکت کیوں کررہے ہو کہ اپنے کانوں میں روئی ٹھونس رکھی ہے؟ تمیں کس بات کاڈرہے؟ تمہیں یہ کلام سن لیناچاہئے …اگریہ کلام اچھاہواتواپنالینا،براہواتوچھوڑدینا…‘‘
دل کی یہ آوازاورضمیرکی یہ پکارسننے کے بعدطفیل نے اپنے کانوں سے وہ روئی نکال پھینکی، اور تب خوب جی بھرکررسول اللہ ﷺ کی زبانی اللہ عزوجل کامبارک ومقدس کلام سنا،دل کی دنیابدلنے لگی،کفروشرک اورمعصیت وضلالت کی تاریکیاں چھٹنے لگیں …اورتب دل میں فوری اورپختہ عزم کرلیاکہ ضرور بضروررسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرنی ہے…لیکن اُس وقت سردارانِ قریش کی موجودگی میں یہ مناسب نہیں سمجھا،البتہ بعدمیں بہت جلدہی رسول اللہ ﷺ کے گھرمیں حاضر ہوکر وہاں شرفِ ملاقات حاصل کیا،آمدکامقصدبیان کیا،تمام ماجراکہہ سنایا…تب رسول اللہ ﷺ نے بھی انہیں کچھ سنایا…ایسا کلام سنایا جس کی تأثیر…اورجس کی حلاوت طفیل کے دل میں بہت دورگہرائیوں میں پیوست ہوتی چلی گئی…اوروہ کلام تھا : قُل ھُوَاللّہُ أحَد ، اللّہُ الصَّمَد ، لَم یَلِد وَلَم یُولَد ، وَلَم یَکُن لَہٗ کُفُواً أحَد ۔ یعنی’’کہہ دوکہ اللہ ایک ہے،اللہ بے نیازہے،نہ اس کی کوئی اولادہے ٗ نہ وہ خودکسی کی اولادہے،اورنہ ہی کوئی اس کاہمسرہے‘‘۔
رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے یہ کلامِ الٰہی سننے کے بعدطفیل زاروقطاررونے لگے، اورپھرکلمۂ حق’’أشہدأن لاالٰہ الااللہ،وأشہدأن محمداًرسول اللہ‘‘پڑھتے ہوئے دینِ برحق قبول کیا،نیزنبیٔ برحق( ﷺ )کے دستِ مبارک پربیعت کی …اوریوں ’’تہامہ‘‘ میں آباد مشہورومعروف اورطاقتورترین قبیلے ’’دَوس‘‘کایہ سردار’’طفیل‘‘اب رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدرصحابی ’’حضرت طفیل بن عمروالدَوسی رضی اللہ عنہ‘‘بن گئے۔
قبولِ اسلا م کے بعدحضرت طفیل بن عمروالدَوسی رضی اللہ عنہ کچھ عرصہ مکہ میں ہی مقیم رہے، اس دوران رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوکراللہ کادین سیکھتے رہے،نیزکچھ قرآن کریم بھی حفظ کیا۔
اورجب مکہ سے واپس اپنے علاقے ’’تہامہ‘‘کی جانب روانہ ہونے لگے توعرض کیاکہ ’’اے اللہ کے رسول!میں اپنے قبیلے کاسردارہوں ،وہاں میری اطاعت کی جاتی ہے،اس لئے میں وہاں پہنچنے کے بعداُن لوگوں کودینِ اسلام کی طرف دعوت دوں گا،لہٰذاآپ سے میری گذارش ہے کہ آپ اللہ سے میرے لئے دعاء فرمائیے کہ اللہ مجھے کوئی ’’نشانی‘‘عطاء فرمائے،تاکہ جب میں اپنی قوم کودینِ اسلام کی طرف دعوت دوں ، تواُس موقع پرمیں انہیں اس دین کی حقانیت وصداقت کی کوئی نشانی بھی دکھاسکوں ‘‘
تب رسول اللہ ﷺ نے دعاء فرمائی : اَللّھُمّ اجْعَل لَہٗ آیَۃ یعنی’’اے اللہ تواسے کوئی نشانی عطاء فرما‘‘۔
اورپھررسول اللہ ﷺ سے الوداعی ملاقات کے بعدحضرت طفیل بن عمروالدَوسی رضی اللہ عنہ مکہ سے اپنے علاقے کی جانب روانہ ہوگئے،مسلسل سفرکرتے ہوئے جب وہاں پہنچے تو ابھی اپنی بستی سے کچھ فاصلے پرہی تھے کہ اچانک ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی جگہ سے یوں روشنی پھوٹنے لگی جیسے کوئی چراغ جل رہاہو…تب یہ پریشان ہوگئے،اورسوچنے لگے کہ میری قوم جب یہ منظردیکھے گی تواس چیزکودینِ اسلام کی حقانیت کی نشانی سمجھنے اورمتأثرہونے کی بجائے وہ لوگ یوں کہیں گے کہ ’’اس نے چونکہ اپنادین بدل لیا،اپنے دین سے غداری کی ٗ لہٰذااس کی سزاکے طورپراس کی توشکل ہی بدل گئی…‘‘اورتب انہوں نے اللہ سے دعاء کی کہ یااللہ تواس نشانی کومیرے چہرے کی بجائے کہیں اورمنتقل فرمادے‘‘ تب وہ روشنی وہاں سے ہٹ گئی ،اورانہوں نے اپنے ہاتھ میں جوکوڑاتھام رکھاتھا ٗ اس کے سِرے پرآکرخوب چمکنے لگی…چونکہ وہ پہاڑی علاقہ تھا،ان پہاڑیوں کے درمیان وہ بستی کچھ نشیب میں تھی ،یعنی باہرسے بستی کی طرف آنے والاراستہ بلندی سے ڈھلان کی طرف آتاتھا،چنانچہ طفیل بن عمروالدَوسی ؓ اپنی بستی کی طرف آتے ہوئے جب اسی بلندی سے ڈھلان کی طرف اتررہے تھے…توان کے قبیلے والوں نے عجیب وغریب منظردیکھا، کہ ان کے سردارنے ہاتھ میں کوڑاتھام رکھاہے ،اوراس کے سرے پرگویاایک چمکتی ہوئی قندیل لٹکی ہوئی ہے…یہ بڑاہی عجیب وغریب منظرتھا…گویااوپرپہاڑکی بلندیوں سے ایک روشنی ان کی جانب چلی آرہی ہے…جسے دیکھ کروہ لوگ حیران وپریشان اور انگشت بدندان رہ گئے…
حضرت طفیل بن عمروالدَوسی رضی اللہ عنہ چونکہ اپنے اس قدرطاقتوراورشان وشوکت والے قبیلے کے سردارتھے ،اوراسی وجہ سے خودان کی بھی خوب شان وشوکت اوربڑی حیثیت تھی ، لہٰذااس چیزکے لازمی نتیجے کے طورپران کے مزاج میں کچھ تندی وتیزی تھی،جبکہ دعوتِ دین کے کام میں تندی یادرشتی کی بجائے حکمت ٗمحبت ٗاورنرمی ضروری ہواکرتی ہے،چنانچہ جب انہوں نے اپنے علاقے میں دعوتِ اسلام کاآغازکیاتوصورتِ حال کچھ ایسی بنی کہ سب سے پہلے توان کے والدجوکافی عمررسیدہ تھے ٗ ان کے قریب آئے،تب انہوں نے اپنے والدسے کہا’’آپ ذرہ مجھ سے دورہی رہئے ، کیونکہ اب وہ پہلے والامعاملہ نہیں رہا‘‘ والدنے بڑی حیرت سے دریافت کیا’’کیوں بیٹا؟‘‘طفیلؓ نے جواب دیا’’میں مسلمان ہوچکاہوں ،محمد ﷺ کادین اختیارکرچکاہوں ‘‘والدنے کہا’’ارے میرے بچے !کیا میر ا دین کبھی تمہارے دین سے جداہوسکتاہے؟جوتمہارادین ٗ وہی میرابھی دین‘‘تب طفیلؓ نے کہا’’ٹھیک ہے ،آپ جائیے ،نہادھوکرصاف ستھرالباس پہن کرآئیے‘‘اس پران کے والدگئے اورنہادھوکرصاف ستھرالباس پہن کرآئے،اورتب طفیلؓ نے انہیں کلمۂ حق پڑھایا ، دینِ اسلام کے بارے میں کچھ بنیادی اورضروری باتیں بتائیں …اوریوں طفیلؓ کے عمررسیدہ والد مسلمان ہوگئے۔
اس کے بعدطفیلؓ کی بیوی ملاقات اوراستقبال کی غرض سے آئیں ،انہوں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا’’تم اب مجھ سے دورہی رہو‘‘وہ انتہائی تعجب وحیرت کے ساتھ ان کی جانب دیکھتے ہوئے بولی’’کیوں ؟‘‘ انہوں نے جواب دیا’’میں مسلمان ہوچکاہوں ، ہمارے راستے جداہوچکے ہیں ،اب ہماراتمہاراکوئی تعلق نہیں ‘‘وہ کہنے لگی’’جوآپ کادین ٗ وہی میرابھی دین‘‘تب انہوں نے اسے تاکیدکرتے ہوئے کہا’’ٹھیک ہے ،جاؤ، نہا دھو کر صاف ستھرالباس پہن کرآؤ‘‘تب اس نے ایساہی کیا،جس کے بعدانہو ں نے اسے کلمۂ حق پڑھایا،اوروہ بھی مسلمان ہوگئی۔
اس کے بعدحضرت طفیلؓ نے اپنے قبیلۂ دَوس والوں کودینِ اسلام کی طرف دعوت کاسلسلہ شروع کیا…چونکہ یہ ان سبھی کے سرداراورفرمانرواتھے…جبکہ وہ سب ان کے ماتحت ٗ بلکہ ان کی رعیت تھے…لہٰذاحاکم ومحکوم کے کے مابین تخاطب اورگفتگوکاجواندازپہلے سے ہی چلاآرہاتھا،یعنی لہجے میں کچھ سختی اوردرشتی تھی،فطری اورغیراختیاری طورپروہی اندازاب دعوتِ دین کے موقع پربھی کافی حدتک برقراراوراثراندازرہا،جس کالازمی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ان کے اتنے بڑے قبیلے میں سوائے ایک شخص (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) کے باقی کسی نے ان کی بات نہیں مانی ٗ اورصاف انکارکردیا…جس پریہ کافی دلبرداشتہ ہوگئے…
آخرکچھ عرصے بعدانہوں نے دوبارہ مکہ جانے اوروہاں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکراس بارے میں مشاورت کافیصلہ کیا…
چندہی دنوں بعدحضرت طفیل رضی اللہ عنہ دوبارہ تہامہ سے مکہ کی جانب عازمِ سفرہوئے تواس بار تمام قبیلہ ٔ دَوس میں سے ان کے واحدہم مذہب اوردینی بھائی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ہمراہ تھے،دونوں حضرات مکہ پہنچے ،رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے،رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ابوہریرہؓ کی یہ پہلی اورمختصرملاقات تھی…(۱)
اس ملاقات کے موقع پررسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا : مَا وَرَائَ کَ یَا طُفیل؟ یعنی’’اے طفیل!وہاں آپ کے علاقے میں کیاصورتِ حال ہے؟‘‘(یعنی دینِ اسلام کی نشرواشاعت کے سلسلے میں …؟)
طفیل ؓ نے عرض کیا: قُلَوبٌ عَلَیھَا أکِنَّۃ ، وَکُفرٌ شَدِید ، لَقَد غَلَبَ عَلَیٰ دَوسٍ الفُسُوقُ وَالعِصْیَان … یعنی’’اے اللہ کے رسول!وہاں تودلوں پرپردے پڑے ہوئے ہیں ،شدیدقسم کاکفرچھایاہواہے،قبیلۂ دَوس والوں پرتوبس فسق وفجوراورنافرنانیوں کا غلبہ ہے…‘‘۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے سردارطفیل کی زبانی یہ بات سن کر…
رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ سے اٹھے،وضوء کیا،دورکعت نمازاداکی،اوراس کے بعددعاء کیلئے اپنے دونوں ہاتھ بلندکردئیے…میں نے جب یہ منظردیکھاتومیں بہت زیادہ خوفزدہ ہوا اور انتہائی پریشان ہوگیا،اورمیری زبان سے بے اختیاریہ الفاظ نکلے : وَا قَومَاہ… (یعنی: ہائے میری قوم) لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پریوں دعاء شروع کی : اللّھُمّ اھْدِ دَوْساً وَائتِ بِھِم یعنی ’’اے اللہ توقبیلۂ دوس والوں کوہدایت نصیب فرما،اورانہیں میرے پاس لے آ‘‘۔
مقصدیہ کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت طفیلؓ کی زبانی ان کے قبیلے والوں کے بارے میں یہ بات سنی کہ وہاں توبس کفرہی کفرہے…اس کے فوری بعدآپؐ نے اٹھ کروضوء کیا، دورکعت نمازپڑھی اورپھردعاء کیلئے اپنے ہاتھ اٹھادئیے…تویہ منظردیکھ کرحضرت ابوہریرہ ؓ یہ سمجھے کہ اب آپؐ دَوس والوں کیلئے بددعاء کریں گے،اورظاہرہے کہ نبی کی بددعاء تو رائیگاں نہیں جائے گی ،وہ توضروراثردکھائے گی…جس کے نتیجے میں اب قومِ دَوس برباد ہوکر رہ جائے گی،وہ سبھی مارے جائیں گے،اوروہ سب اگرچہ کافرومشرک ہی سہی ،لیکن بہرحال وہ ابوہریرہؓ ہی کی قوم کے لوگ تھے،ان کے ساتھ خاندانی تعلقات تھے،قربتیں تھیں ، رشتے داریوں کے سلسلے تھے…لہٰذارسول اللہ ﷺ نے جب دعاء کیلئے ہاتھ بلند کئے تویہی سب کچھ سوچ کرابوہریرہ ؓنہایت پریشان ہوگئے اورزبان سے بے اختیاریہ الفاظ نکلے’’ہائے میری قوم‘‘۔
لیکن ’’رحمۃ للعالمین‘‘ ﷺ نے اس موقع پرجب دعاء شروع کی تواس میں کسی کیلئے تباہی کا کوئی تذکرہ نہیں تھا…اس میں توبس قومِ دَوس کیلئے ہدایت کی دعاء مانگی گئی تھی،اوریہ کہ وہ سبھی لوگ ہدایت پانے کے بعدوہاں سے چلے آئیں اوررسول اللہ ﷺ کے ہمراہ دیگرتمام ٰمسلمانوں میں شامل ہوجائیں ۔
اس دعاء سے فراغت کے بعدرسول اللہ ﷺ حضرت طفیل ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اورانہیں مخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا: اِرجِع اِلَیٰ قَومِکَ ، وَارفِق بِھِم ، وَادعُھُم اِلَیٰ الاِسلَام یعنی’’اے طفیل!آپ اپنی قوم کی طرف واپس جائیے،ان کے ساتھ نرمی سے پیش آیئے،اورانہیں دینِ اسلام کی طرف دعوت دیجئے‘‘(غالباًآپؐ کواس بات کاندازہ ہو چکاتھاکہ طفیلؓکے مزاج میں اپنی قوم کی سرداری کی وجہ سے کچھ سختی ہے،اس لئے آپؐ نے انہیں اپنی قوم کے ساتھ نرمی برتنے اورپیارومحبت کے ساتھ دینِ اسلام کی طرف دعوت کی تاکیدفرمائی)۔
چنانچہ یہ دونوں حضرات مکہ سے واپس اپنے علاقے کی طرف لوٹے ،اوروہاں پہنچنے کے بعدحضرت طفیل بن عمروالدَوسی رضی اللہ عنہ اپنی قوم میں مسلسل دعوت وتبلیغ کافریضہ سرانجام دیتے رہے،اوریوں کئی سال بیت گئے،رسول اللہ ﷺ ودیگرمسلمان نبوت کے چودہویں سال کے اوائل میں مکہ سے مدینہ ہجرت کرگئے،اورپھر ۲ھمیں غزوہ ٔبدرٗ پھر ۳ھمیں غزوۂ اُحد ٗاورپھر ۵ھ میں غزوۂ خندق کے اہم ترین واقعات بھی گذرگئے،حتیٰ کہ رفتہ رفتہ ۷ھمیں جاکرجب ان کے قبیلۂ دَوس کے لوگ کافی تعدادمیں دینِ اسلام قبول کر چکے، تب حضرت طفیل ؓ اَسّی گھرانوں پرمشتمل اپنی قوم کے افرادکی قیادت کرتے ہوئے تہامہ سے مدینہ آپہنچے…انہی دنوں رسول اللہ ﷺ فتحِ خیبرکے بعدمدینہ واپس تشریف لائے تھے،آپؐ حضرت طفیلؓ اوران کے ساتھیوں کی مدینہ آمدپربہت زیادہ مسرورہوئے، نیز چونکہ یہ سب لوگ محض اپنے دین وایمان کی حفاظت کی خاطراپنے گھرباراوراپناآبائی علاقہ چھوڑ کرمدینہ چلے آئے تھے،لہٰذاان کی مددکے طورپر ٗنیزان کی دلجوئی کی خاطرآپؐ نے خیبر سے حاصل شدہ مالِ غنیمت میں سے انہیں بہت کچھ عطاء فرمایا،تاکہ اب یہ لوگ ازسرِنو یہاں مدینہ میں اپنے گھربساسکیں ۔
اس کے بعدحضرت طفیل بن عمروالدَوسی رضی اللہ عنہ مسلسل رسول اللہ ﷺ کی صحبت ومعیت میں رہے…اوراگلے ہی سال یعنی ۸ھمیں ماہِ رمضان میں فتحِ مکہ کایادگاراورتاریخی واقعہ جب پیش آیا ٗتواس موقع پریہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے۔
فتحِ مکہ کے فوری بعدجب یہ تمام حضرات ابھی مکہ میں ہی مقیم تھیٗ حضرت طفیلؓنے آپؐ کی خدمت میں عرض کیاکہ’’اے اللہ کے رسول!ہمارے علاقے[یعنی ’’تہامہ‘‘جہاں اصل میں طفیلؓ اوران کاقبیلۂ دَوس آبادتھا]میں ایک بہت بڑابت ہے،اے اللہ کے رسول! میرا جی چاہتاہے کہ میں ایک بارپھروہاں جاؤں اوراسے جلادوں (۱)آپؐ نے اجازت مرحمت فرمائی،جس پرحضر ت طفیلؓ مکہ سے اپنے اصل علاقے ’’تہامہ‘‘کی جانب مسلسل سفر کرتے ہوئے جب وہاں پہنچے توان کے قبیلے کے باقی ماندہ افرادجوابتک اپنے پرانے دین (یعنی کفروشرک)پرہی قائم تھے ٗ ان کے سامنے حضرت طفیلؓ اس بڑے بت کوجلانے کی تیاریاں کرنے لگے…تب وہاں لوگوں کاایک جمعِ غفیراکٹھاہوگیا،مرد ٗعورتیں ٗ بچے ٗ چھوٹے ٗ بڑے ٗ سبھی نہایت بے چینی کے ساتھ انتظارکرنے لگے،اورآپس میں یوں چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ بس ابھی ہمارے اس بڑے بت کاغضب طفیل پرنازل ہونے ہی والاہے…بس اب تھوڑی ہی دیرمیں یہ شخص ہماری آنکھوں کے سامنے جل کرراکھ ہو جائے گا…بربادہوجائے گا…
اورپھرحضرت طفیل ؓ نے ان سب کی نگاہو ں کے سامنے …کہ جوسالہاسال سے نسل درنسل اس بڑے بت کی پوجاکرتے چلے آرہے تھے،اوراسے اپنی قسمت کااوراپنے نفع ونقصان کا مالک سمجھتے ہوئے ہمہ وقت اس کے سامنے سجدہ ریز رہاکرتے تھے…ان سب کی نگاہوں کے سامنے اس بڑے بت کوجلاکرریزہ ریزہ کرڈالا…اورتب وہ بس دیکھتے ہی رہ گئے،اپنی کھلی آنکھوں سے جب انہوں نے اپنے اس سب سے بڑے بت کی یہ بے بسی دیکھی کہ ’’یہ توخوداپنی حفاظت بھی نہیں کرسکا‘‘تب وہ سب فوج درفوج مسلمان ہوگئے… اوریوں حضرت طفیل بن عمروالدَوسی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں جب وہ بڑابت جلا…تواس کے ساتھ ہی اس علاقے میں کفر وشرک کے باقی ماندہ اثرات بھی ہمیشہ کیلئے جل کرنیست ونابودہوگئے اوران کانام ونشان مٹ گیا۔
اس کے بعدحضرت طفیل ؓ واپس مدینہ لوٹ آئے،زندگی کاسفرپھررواں دواں ہوگیا،نہایت ذوق وشوق اوراہتمام والتزام کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی صحبت ومعیت سے مستفید و مستفیض ہوتے رہے،حتیٰ کہ آپؐ کامبارک دورگذرگیا۔آپؐ ہمیشہ تادمِ آخران سے بہت ہی مسروراورانتہائی مطمئن رہے۔