Chapter 5 of 7
فتحِ مدائن
فتحِ قادسیہ کے بعدکچھ عرصہ وہاں انتظامی اموراوردیگرمختلف معاملات کی ترتیب وتنظیم میں گذرگیا،اس کے بعدسپہ سالارِاعلیٰ حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے خلیفۂ وقت امیرالمؤمنین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے سلطنتِ فارس کے علاقوں میں مزید پیش قدمی کی اجازت طلب کی…چنانچہ خلیفۂ وقت کی طرف سے اجازت ملنے پراسلامی لشکرنے مزیدپیش قدمی کاسلسلہ شروع کیا،چھوٹے بڑے مختلف علاقے ٗ بستیاں ٗ اورشہر ٗ یکے بعددیگرے فتح ہوتے چلے گئے۔
آخر سن سولہ ہجری میں ایک دن ایسابھی آیاکہ جب حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روئے زمین کی عظیم ترین قوت ’’سلطنتِ فارس‘‘کے دارالحکومت…اوراُس دورکے انتہائی عظیم الشان اورپرشکوہ شہر’’مدائن‘‘کی فصیل کے سامنے کھڑے تھے…ہزاروں میل دورمکہ کے گلی کوچوں میں کھیل کودکرجوان ہونے والایہ انسان…وہاں مکہ میں اپنی ماں کی بھوک ہڑتال کے صدمے برداشت کرنے والایہ شخص…بدرکے میدان میں اپنے چھوٹے اوربہت ہی لاڈلے بھائی کوخوداپنے ہی ہاتھوں سپردِخاک کردینے کے انتہائی تکلیف دہ مرحلے سے گذرنے والایہ شخص…اُحدکے میدان میں دن بھرتیرچلاچلا کر ہلکان ہوجانے والایہ شخص…آج ایک عظیم ترین کارنامہ انجام دینے کی غرض سے … ایک نئی تاریخ رقم کرنے کی غرض سے…قدرت نے اسے یہاں ’’مدائن‘‘کی فصیل کے سامنے لا کھڑاکیاتھا…آج وہ یہاں اپنی آنکھوں سے عجیب وغریب مناظرکامشاہدہ کررہاتھا…گذشتہ ایک ہزارسال سے مسلسل انتہائی مطلق العنانی اوربڑے ہی جاہ وجلال کے ساتھ فارس پرحکمرانی کرنے والے ’’ساسانی‘‘خاندان کی ترقی و عروج ٗ شان وشوکت … یہ سب کچھ سمٹ کراس تاریخی شہرمدائن میں …اپنی تمامتررونقوں اوررعنائیوں کے ساتھ جلوہ افروزتھا…حدِنگاہ تک آنکھوں کوخیرہ کردینے والے شاہی محلات کاایک عجیب وغریب سلسلہ تھا…جن کے درودیوارسے صدیوں کی شان وشوکت جھلک رہی تھی، ساسانی خاندان سے تعلق رکھنے والے فارسی ’’شہنشاہوں ‘‘ کارعب اوردبدبہ جھانک رہاتھا انہی عظیم الشان شاہی محلات میں ایک محل وہ بھی تھا کہ جہاں محض دس سال قبل ٗ انتہائی غروروتکبراوربداخلاقی وبدمزاجی کامظاہرہ کرتے ہوئے کسریٰ خسروپرویزنے رسول اللہ ﷺ کانامۂ مبارک محض اس لئے چاک کر ڈالا تھا،اور پرزے پرزے کرکے پھینک دیاتھاکہ اس میں سب سے اوپراللہ عزوجل کانام تحریرتھا، کسریٰ یہ چیزبرداشت نہیں کرسکا تھا کہ اللہ کانام اوپر،اورکسریٰ کانام نیچے تحریر کیا گیا تھا ۔
حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ وہاں مدائن شہرکی فصیل کے سامنے کھڑے ہوئے ان شاہی محلات اورنظروں کوخیرہ کردینے والی ان عمارات کی جانب دیکھتے رہے … اور تب وہ بے اختیار… تصورکی دنیامیں کھوگئے… آج سے تیرہ سال قبل کاوہ منظرنگاہوں کے سامنے گھومنے لگا، جب ’’خندق‘‘کھودتے وقت ایک سخت چٹان کسی سے ٹوٹ نہیں رہی تھی … تب خودرسول اللہ ﷺ نے اس پر ایک ضرب لگائی تھی…جس سے وہ چٹان پاش پاش ہوگئی تھی، اورتب فاصلے سمیٹ دئیے گئے تھے…رسول اللہ ﷺ کی نگاہیں کسی جانب ٹک کررہ گئی تھیں ، لوگوں نے جب حیرت سے اُس جانب دیکھاتوانہیں کچھ نظرنہیں آیاتھا ، البتہ اُس موقع پراللہ عزوجل کی قدرت سے رسول اللہ ﷺ کووہاں مدینہ سے ہزاروں میل کی مسافت پرواقع سلطنتِ فارس کے عظیم بادشاہوں اورتاجداروں کے انہی عظیم الشان محلات کامشاہدہ کرایاگیاتھا…گویااللہ کی طرف سے یہ بشارت تھی کہ ’’اے ہمارے نبی! آپ نے یہ جواپنی کدال سے اس چٹان پر ضرب لگائی ہے ٗاس کے نتیجے میں محض یہی چٹان ہی نہیں ٹوٹی…بلکہ آپ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیجئے…بہت جلدروئے زمین کی اس عظیم ترین قوت کے ان عظیم بادشاہوں اورتاجداروں کے یہ بڑے بڑے عالیشان محلات، اوران کی یہ پرشکوہ عمارات آپ کی امت کے قدموں میں ہوں گی…‘‘۔اورپھراسلامی لشکرکی طرف سے یلغارہوئی…اعصاب شکن جنگ کی نوبت آئی… آخرسلطنتِ فارس کایہ دارالخلافہ اورتاریخی شہر’’مدائن‘‘مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا… شہرمیں داخل ہونے اورپھروہاں اپناقبضہ مستحکم کرلینے کے بعد سپہ سالارِاعلیٰ حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اپنے سپاہیوں اورلشکریوں سمیت وہاں ’’نمازِشکر‘‘ ادا کی ۔
اس تاریخی شہرکی فتح کے بعدوہاں صدیوں سے سلطنتِ فارس پرراج کرنے والے بڑے بڑے نامی گرامی بادشاہوں اورتاجداروں کے وہ بیش قیمت خزانے ٗ کسریٰ کاتاج ٗ اس کی پوشاک ٗاوربے حدوحساب قیمتی ترین جواہرات ونوادرات …یہ سب کچھ بہت بڑی مقدار میں بطورِغنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔
اورجب اتنی بڑی مقدارمیں یہ قیمتی ترین خزانے ٗ سوناچاندی ٗ زیورات وجواہرات ٗ کسریٰ کا تاج ٗاس کے کنگن ٗاس کی پوشاک ٗ شاہی خاندان کے نوادرات…اوربھی بہت کچھ… یہ تمام چیزیں حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے دارالخلافہ یعنی مدینہ منورہ میں خلیفۃ المسلمین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کوبھجوائیں ، تاکہ وہاں اسلامی بیت المال میں یہ سب کچھ جمع کردیاجائے…چنانچہ یہ مالِ غنیمت جب مدینہ پہنچا…حضرت عمرؓ نیزدیگراکابرصحابہ ٔ کرام نے جب یہ منظردیکھا…توانہیں اپنی آنکھوں پریقین نہیں آرہا تھا … اورتب ان سب کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اوربڑی ہی خوشگوارحیرت کااظہارکرتے ہوئے حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اوران کے ساتھیوں کے بارے میں یہ تاریخی کلمات کہے: اِنَّ قَوماً أرسَلُوا ھٰذا لَذُو أَمَانَۃٍ … یعنی’’وہ لوگ جنہوں نے یہ سب کچھ یہاں ہماری طرف بھیج دیاہے…وہ تویقینابڑے ہی امانتدارہیں …‘‘
اتفاقاًاُس وقت حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے قریب ہی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی کھڑے ہوئے تھے،انہوں نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کی زبانی جب حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اوران کے ساتھیوں کے بارے میں یہ تعریفی کلمات سنے تو اس پرتبصرہ کرتے ہوئے برجستہ نہایت ہی قیمتی اورآبِ زرسے لکھے جانے کے قابل یہ الفاظ کہے: یَا أَمِیرَ المُؤمِنِین! اِنَّکَ عَفَفْتَ، فَعَفَّتْ رَعِیَّتُکَ… یعنی’’اے امیرالمؤمنین!چونکہ آپ خودامانتدارہیں ٗ لہٰذا آپ کی رعیت بھی امانتدارہے…‘‘(۱)