Chapter 4 of 7

قادسیہ کے میدان میں

آخران جنگوں اورجھڑپوں کے بعد،جب یہ لشکر’’قادسیہ‘‘کے مقام پرپہنچا، تب زمین وآسمان کے خالق ومالک نے اپنے اس بندے ’’سعدبن ابی وقاص‘‘سے ایسے عظیم الشان کام لئے،کہ جن کی بدولت ان کانام ہمیشہ کیلئے تاریخ میں عظیم ترین شخصیت … اوربالخصوص اسلامی تاریخ کے ایک ’’روشن ستارے‘‘کی حیثیت سے محفوظ ہوگیا۔ ’’قادسیہ ‘‘کے میدان میں کیفیت یہ تھی کہ مسلمان تیس ہزارتھے…اپنے وطن اوراپنے گھرسے بہت دور…پردیس میں …اجنبی جگہ پر…جبکہ کیل کانٹے سے لیس مجوسی فوج ایک لاکھ بیس ہزارجنگجؤوں پرمشتمل تھی…ہرقسم کے سامانِ حرب وضرب کی خوب بہتات تھی…جغرافیائی صورتِ حال سے انہیں خوب واقفیت بھی تھی کہ وہ اپنے ہی وطن میں تھے…ان کے اس لشکرِجرارمیں سترجنگی تربیت یافتہ دیوپیکرہاتھی بھی تھے…ان کاسپہ سالاربڑاہی نامی گرامی پہلوان’’رُستم فرخ زاد‘‘تھاجس کا بڑارعب اوردبدبہ تھا، نیزان کے دیگربڑے ناموراورتجربہ کارجنگجواورشہسواربھی بڑی تعدادمیں اس لشکرمیں موجودتھے جن میں سے خاص طورپرمہران ٗ بہرام ٗ ہرمزان ٗ اورجالینوس ٗکی بہادر ی کے خوب چرچے تھے اوران کی بڑی دہشت تھی… یوں سن پندرہ ہجری میں …قادسیہ کے میدان میں بڑے ہی گھمسان کارَن پڑا…انتہائی تاریخی اورخطرناک ترین جنگ لڑی گئی جوکہ مسلسل تین دن تین رات جاری رہی،اس دوران مسلمان سپاہی بغیرکسی توقف کے رات دن مسلسل لڑتے ہی رہے…مسلمانوں کے گھوڑوں نے اس سے قبل کبھی ہاتھی دیکھے ہی نہیں تھے، لہٰذاگھوڑے بارباربدک جاتے، یہ بہت ہی نازک اورپریشان کُن صورتِ حال تھی…سن تیرہ ہجری میں حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں سلطنتِ روم کے خلاف لڑی جانے والی ’’جنگِ یرموک‘‘ کے بعداب یہ خطرناک ترین جنگ تھی،جوقادسیہ کے میدان میں حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں سلطنتِ فارس کے خلاف لڑی جارہی تھی۔ آخراللہ کے فضل وکرم سے مسلمانوں کویادگاراورفیصلہ کن فتح نصیب ہوئی…ایسی عظیم الشان فتح کہ جودرحقیقت روئے زمین کی عظیم ترین قوت ’’سلطنتِ فارس‘‘کے دائمی زوال کاپیش خیمہ ثابت ہوئی …نیزاس یادگارفتح کی بدولت ہمیشہ کیلئے اُس تمام خطۂ زمین کاجغرافیہ بدل گیا…بلکہ دنیاکانقشہ ہی ہمیشہ کیلئے تبدیل ہوگیا…قادسیہ کے میدان میں مجوسیوں کانامی گرامی سپہ سالار’’رستم فرخ زاد‘‘ماراگیا، جبکہ مسلمانوں کے سپہ سالارحضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہمیشہ کیلئے تاریخِ اسلام کاایک روشن باب اور’’درخشندہ ستارہ‘‘بن گئے۔ ٭…اُدھرقادسیہ سے تقریباًڈیڑھ ہزارکلومیٹر کے فاصلے پرمدینہ منورہ میں مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ ’’جنگِ قادسیہ‘‘کے نتیجے اورانجام کے بارے میں کچھ جاننے کیلئے انتہائی بیتاب تھے،انہیں کسی صورت قرارنہیں آرہاتھا،یہی وجہ تھی کہ وہ ہرروزعلیٰ الصباح مدینہ شہرسے باہرنکل کردوراس راستے پرپہنچ جایاکرتے جوملکِ فارس کی طرف سے آتاتھا…تاکہ شایداُس طرف سے آتاہواکوئی سپاہی ٗ کوئی مسافر ٗیاکوئی بھی انسان نظرآئے…اوراس سے اس بارے میں کوئی بات معلوم ہوسکے…اورپھردن بھراسی طرح انتظارکے بعدجب شام ڈھلنے لگتی تووہ واپس مدینہ لوٹ آتے… ایک روزوہ اسی طرح جب شہرسے باہرشدت سے کسی کی آمدکے منتظرتھے…اس دوران انہیں ایک اونٹ سوارنظرآیا ٗجوکہ بڑی تیزرفتاری کے ساتھ مدینہ شہرکی جانب محوِ سفر تھا … تب انہوں نے اسے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے اس سے دریافت کیاکہ ’’تم کہاں سے آرہے ہو؟‘‘اُس سوارنے رکے بغیرفقط اتناکہا’’من سعد‘‘یعنی ’’سعدکی طرف سے …‘‘ تب حضرت عمرؓنے بڑی بیقراری اوربے چینی کی کیفیت میں اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا’’یاعبداللہ حدّثنی‘‘یعنی’’اے اللہ کے بندے!مجھے کچھ بتاؤتوسہی‘‘ جواب میں اس نے فقط اتنی بات کہی’’ہزم اللہ العدو‘‘یعنی’’اللہ نے دشمن کوشکست سے دوچارکیاہے‘‘ اوراس کے ساتھ ہی فوراًاس نے اپنے اونٹ کوایڑلگائی اوردوبارہ برق رفتاری کے ساتھ مدینہ شہرکی جانب رواں دواں ہوگیا…تب حضرت عمررضی اللہ عنہ بھی مسلسل اس کے پیچھے اپنااونٹ دوڑاتے رہے…اوراسے پکارتے رہے…لیکن اس نے ایک نہ سنی… آخراسی کیفیت میں جب وہ اونٹ سوارمدینہ شہرکی حدودمیں داخل ہوا،کچھ آبادی کے آثار نظرآنے لگے…تب اس کے پیچھے پیچھے اونٹ دوڑاتے ہوئے حضرت عمرؓپرجب لوگوں کی نگاہ پڑی …تویہ لوگ(یعنی مدینہ شہرکے باشندے) حضرت عمرؓ کے ساتھ سلام ودعاء وغیرہ کرنے لگے…اس پراس شخص کوکچھ اندازہ ہونے لگاکہ شاہدیہی حضرت عمرؓ ہیں …اورتب وہ پریشان ہوگیا…اورمعذرت کرتے ہوئے کہنے لگا’’معاف کیجئے گااے امیرالمؤمنین…میں آپ کوپہچان نہیں سکا…چونکہ ہمارے سپہ سالارسعدبن ابی وقاص کاحکم یہی تھاکہ ان کی طرف سے تحریرکردہ یہ خط جلدازجلدامیرالمؤمنین تک پہنچایا جائے ، لہٰذامیں نے راستے میں آپ سے زیادہ گفتگونہیں کی،اورنہ ہی میں آپ کوپہچان سکا… اورپھراس شخص نے حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرف سے تحریرکردہ وہ مکتوب خلیفۂ وقت حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا ٗجس میں سعدؓکی طرف سے ’’فتحِ قادسیہ‘‘کے عظیم ترین واقعے کی اطلاع تحریرتھی۔ حضرت عمرؓنے نہایت بیتابی کے ساتھ وہ خط پڑھا…اورپھرفوراًہی اندرونِ مدینہ کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے بآوازِبلندیہ اعلان فرمایا’’الصلاۃ جامعۃ‘‘یعنی نمازتیارہے (مقصدیہ کہ سبھی لوگ نمازکیلئے جلدازجلد مسجدمیں جمع ہوجائیں ) اورپھراس عظیم الشان اورتاریخی فتح یعنی’’فتحِ قادسیہ‘‘کی خوشی میں خلیفۂ وقت حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی امامت میں مسجدِنبوی میں ’’نمازِشکر‘‘اداکی گئی ٗ جس میں مدینہ کے باشندوں نے بہت بڑی تعدادمیں اورنہایت جوش وجذبے کے ساتھ شرکت کی ٗ اوراس اتنی بڑی نعمت پراللہ رب العزت کے حضورسربسجودہوکربھیگی پلکوں کے ساتھ اس ربِ کریم کاشکراداکیا… ’’فتحِ قادسیہ‘‘کایادگارواقعہ دراصل مسلمانوں کیلئے آئندہ بڑی کامیابیوں اورتاریخی فتوحات کا ٗجبکہ فارس والوں کیلئے مستقل زوال وانحطاط اورشکست وہزیمت کاپیش خیمہ ثابت ہوا۔