Chapter 12 of 15

جھوٹے مُدعیانِ نبوت

رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے فوری بعدملکِ عرب کے اطراف واکناف میں آبادمختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے متعددافرادنے نبوت کادعویٰ کردیا۔ ظاہرہے کہ ان لوگوں کا مقصدحصولِ اقتدار اورمسلمانوں میں افتراق وانتشارپیداکرناتھا…قوم پرستی اورقبائلی تعصب کی بنیادپربہت جلددیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں افرادان کے ہمنوا بن گئے۔ یوں یہ فتنہ ہرگذرتے دن کے ساتھ شدت اختیارکرتاچلاگیا۔ اس قدرنازک ترین صورتِ حال میں کہ جب ان فتنوں نے تمام ملکِ عرب کوہلاکررکھ دیاتھا، اور یوں محسوس کیاجانے لگاتھاکہ خدانخواستہ دینِ اسلام کی کشتی ہچکولے کھانے لگی ہے، اوریہ کہ مسلمانوں کاشیرازہ ہی بکھراجارہاہے… یہی وجہ تھی کہ اس موقع پربڑے بڑے صحابۂ کرام ’’مصلحت‘‘سے کام لینے کامشورہ دے رہے تھے…لیکن صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے پائے استقامت میں ذرہ برابرلغزش نہ آسکی۔ چنانچہ انہوں نے اس موقع پرانتہائی استقامت اوربے مثال جرأت وشجاعت کامظاہرہ کرتے ہوئے ان تمامترفتنوں کی سرکوبی کافریضہ بحسن وخوبی انجام دیا۔