ابوعمرو شیبانی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن مسعود ؓ سے پوچھا: کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا ۔ میں نے عرض کیا: اور کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ، میں نے عرض کیا: (اس کے بعد) اور کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔
Abu Amr Shaybani reported, that a man asked Sayyidina Ibn Masud (RA), "Which deed was the best"? He said, "I had put the same question to Allahs Messenger ﷺ and he said, "To offer Salah during the mustahabb time for it." Then I asked him, what was besides that and he said that it was to serve parents. When I asked him about anything besides, he said it was to wage jihad in Allahs path."
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 173
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی نماز اس کے آخری وقت میں دو بار نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی۔
Sayyidah Aisha (RA) said that apart from two times, Allahs Messenger ﷺ never offered Salah at its last hour, till he died
حسن، المشکاة (608)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 174
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند متصل نہیں ہے، ٢- شافعی کہتے ہیں: نماز کا اول وقت افضل ہے اور جو چیزیں اول وقت کی ا فضیلت پر دلالت کرتی ہیں من جملہ انہیں میں سے نبی اکرم ﷺ، ابوبکر، اور عمر ؓ کا اسے پسند فرمانا ہے۔ یہ لوگ اسی چیز کو معمول بناتے تھے جو افضل ہو اور افضل چیز کو نہیں چھوڑتے تھے۔ اور یہ لوگ نماز کو اول وقت میں پڑھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٩٢٢) (حسن) (سند میں اسحاق بن عمر ضعیف ہیں، مگر شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابوذر! میرے بعد کچھ ایسے امراء (حکام) ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے ١ ؎، تو تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا ٢ ؎ نماز اپنے وقت پر پڑھ لی گئی تو امامت والی نماز تمہارے لیے نفل ہوگی، ورنہ تم نے اپنی نماز محفوظ کر ہی لی ہے ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "O Abu Dharr! There will be rulers after me who will make Salah a dead thing (that is, neglect it). You should observe Salah at its proper time. If you have offered it at its time then (your) Salah (with the ruler) will be supererogatory, otherwise you have (at least) preserved your Salah.
صحيح، ابن ماجة (1256)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 176
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عبداللہ بن مسعود اور عبادہ بن صامت ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابوذر ؓ کی حدیث حسن ہے، ٣- یہی اہل علم میں سے کئی لوگوں کا قول ہے، یہ لوگ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی نماز اپنے وقت پر پڑھ لے جب امام اسے مؤخر کرے، پھر وہ امام کے ساتھ بھی پڑھے اور پہلی نماز ہی اکثر اہل علم کے نزدیک فرض ہوگی ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے دیر کر کے پڑھیں گے۔ ٢ ؎: یہی صحیح ہے اور باب کی حدیث اس بارے میں نص صریح ہے، اور جو لوگ اس کے خلاف کہتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ ٣ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام جب نماز کو اس کے اول وقت سے دیر کر کے پڑھے تو مقتدی کے لیے مستحب ہے کہ اسے اول وقت میں اکیلے پڑھ لے، ابوداؤد کی روایت میں «صل الصلاة لوقتها فإن أدركتها معهم فصلها فإنها لک نافلة» تم نماز وقت پر پڑھ لو پھر اگر تم ان کے ساتھ یہی نماز پاؤ تو دوبارہ پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے نفل ہوگی، ظاہر حدیث عام ہے ساری نمازیں اس حکم میں داخل ہیں خواہ وہ فجر کی ہو یا عصر کی یا مغرب کی، بعضوں نے اسے ظہر اور عشاء کے ساتھ خاص کیا ہے، وہ کہتے ہیں فجر اور عصر کے بعد نفل پڑھنا درست نہیں اور مغرب دوبارہ پڑھنے سے وہ جفت ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤١ (٦٤٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٠ (٤٣١)، سنن النسائی/الإمامة ٢ (٧٧٩)، و ٥٥ (٨٦٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٠ (١٢٥٦)، ( تحفة الأشراف: ١١٩٥٠)، مسند احمد (٥/١٦٨، ١٦٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٦ (١٢٦٤) (صحیح)
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے نماز سے اپنے سو جانے کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: سو جانے میں قصور اور کمی نہیں۔ قصور اور کمی تو جاگنے میں ہے، (کہ جاگتا رہے اور نہ پڑھے) لہٰذا تم میں سے کوئی جب نماز بھول جائے، یا نماز سے سو جائے، تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے ۔
Sayyidina Abu Qatadah (RA) said that the sahabah asked the Prophet ﷺ about being asleep at the time of prayer. He said, "Indeed there is no squandering in sleep. Only when one is awake is there negligence (if one does not offer Salah). So, if anyone forgets a Salah or oversleeps then he must observe it when he remembers it."
صحيح، ابن ماجة (698)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 177
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود، ابومریم، عمران بن حصین، جبیر بن مطعم، ابوجحیفہ، ابوسعید، عمرو بن امیہ ضمری اور ذومخمر (جنہیں ذومخبر بھی کہا جاتا ہے، اور یہ نجاشی کے بھتیجے ہیں) ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کے درمیان اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جو نماز سے سو جائے یا اسے بھول جائے اور ایسے وقت میں جاگے یا اسے یاد آئے جو نماز کا وقت نہیں مثلاً سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے پڑھ لے جب جاگے یا یاد آئے گو سورج نکلنے کا یا ڈوبنے کا وقت ہو، یہی احمد، اسحاق بن راہویہ، شافعی اور مالک کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جب تک سورج نکل نہ جائے یا ڈوب نہ جائے نہ پڑھے۔ پہلا قول ہی راجح ہے، کیونکہ یہ نماز سبب والی (قضاء) ہے اور سبب والی میں وقت کی پابندی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨١)، (في سیاق طویل)، سنن ابی داود/ الصلاة ١١ (٤٣٧)، سنن النسائی/المواقیت ٥٣ (٦١٦)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٠ (٦٩٨)، ( تحفة الأشراف: ١٢٠٨٥)، مسند احمد (٥/٣٠٥) (صحیح)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص نماز بھول جائے تو چاہیئے کہ جب یاد آئے پڑھ لے ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, "If anyone forgets to offer salah then he must offer it on remembering it.
صحيح، ابن ماجة (696)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 178
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سمرہ اور ابوقتادہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کی جاتی ہے کہ انہوں نے اس شخص کے بارے میں جو نماز بھول جائے کہا کہ وہ پڑھ لے جب بھی اسے یاد آئے خواہ وقت ہو یا نہ ہو۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، اور ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ عصر میں سو گئے اور سورج ڈوبنے کے وقت اٹھے، تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی جب تک کہ سورج ڈوب نہیں گیا۔ اہل کوفہ کے کچھ لوگ اسی طرف گئے ہیں۔ رہے ہمارے اصحاب یعنی محدثین تو وہ علی بن ابی طالب ؓ ہی کے قول کی طرف گئے ہیں۔
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو خندق کے دن چار نمازوں سے روک دیا۔ یہاں تک کہ رات جتنی اللہ نے چاہی گزر گئی، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی، پھر اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ظہر پڑھی، پھر بلال ؓ نے اقامت کہی تو آپ نے عصر پڑھی، پھر بلال ؓ نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ ﷺ نے عشاء پڑھی۔
Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA) said that on the day of the Battle of Trench the idolators prevented Allahs Messenger ﷺ from offerIng four prayers till as much of the night had passed away as Allah willed. He then commanded Sayyidina Bilal (RA) to call Adhan and the iqamah. He offered Zuhr, the iqamah was called and he offered Asr, the iqamah was called out and he offered Maghrib and then after the iqamah, the Isha was offered.
ضعيف، الإرواء (239)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 179
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابوسعید اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کی سند میں کوئی برائی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ابوعبیدہ نے اپنے باپ عبداللہ بن مسعود ؓ سے نہیں سنا ہے، ٣- اور چھوٹی ہوئی نمازوں کے سلسلے میں بعض اہل علم نے اسی کو پسند کیا ہے کہ آدمی جب ان کی قضاء کرے تو ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہے ١ ؎ اور اگر وہ الگ الگ اقامت نہ کہے تو بھی وہ اسے کافی ہوگا، اور یہی شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت ہی راجح ہے کیونکہ ابن مسعود اور ابو سعید خدری ؓ کی حدیثوں سے اس کی تائید ہوتی ہے، سب کے لیے ایک ہی اقامت محض قیاس ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المواقیت ٥٥ (٦٢٣)، والأذان ٢٢ (٦٦٣)، و ٢٣ (٦٦٤)، ( تحفة الأشراف: ٩٦٣٣) (حسن) (سند میں ابو عبیدہ اور ان کے باپ ابن مسعود کے درمیان انقطاع ہے، نیز ابو الزبیر مدلس ہیں اور ” عنعنہ “ سے روایت کیے ہوئے ہیں، مگر شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن صحیح ہے/دیکھئے نسائی حدیث رقم ٤٨٣، ٥٣٦ اور ٦٢٢)
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے خندق کے روز کفار قریش کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسول! میں عصر نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے اسے (اب بھی) نہیں پڑھی ہے ، وہ کہتے ہیں: پھر ہم وادی بطحان میں اترے تو رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے سورج ڈوب جانے کے بعد پہلے عصر پڑھی پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔
Sayyidina Jabir (RA) ibn Abdullah reported than on the day of the Trenches, Umar ibn al-Khattab(RA) reviled the disbelieving Quraysh and said, "O Messenger of Allah ﷺ I could not offer the Salah of Asr till the sun was about to set." He said, "By Allah! I could not offer the Salah of Asr till the sun was about to set.” He said, “By Allah! I too have not offered it." The narrator said that they then stopped at Bathan where the Prophet ﷺ made ablution and then they made ablution and he offered the Asr and then he offered the Maghrib.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 180
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عمر ؓ کی اس حدیث میں مذکور واقعہ ابن مسعود والے واقعہ کے علاوہ دوسرا واقعہ ہے، یہاں صرف عصر کی قضاء کا واقعہ ہے اور وہاں ظہر سے لے کر مغرب تک کی قضاء پھر عشاء کے وقت میں سب کی قضاء کا واقعہ ہے جو دوسرے دن کا ہے، غزوہ خندق کئی دن تک ہوئی تھی۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ said, "Salat ul-wusta is the Salah of Asr."
صحيح، المشکاة (634)
صحيح (بما قبله)، المشکاة (634)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 181
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 182
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
١- «صلاة وسطیٰ» کے سلسلہ میں سمرہ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عائشہ، حفصہ، ابوہریرہ اور ابوہاشم بن عقبہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ (ابن المدینی) کا کہنا ہے: حسن بصری کی حدیث جسے انہوں نے سمرہ بن جندب سے روایت کیا ہے، صحیح حدیث ہے، جسے انہوں نے سمرۃ سے سنا ہے، ٤- صحابہ کرام اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، زید بن ثابت اور عائشہ ؓ کا کہنا ہے کہ «صلاة وسطیٰ» ظہر کی صلاۃ ہے، ابن عباس اور ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ «صلاة وسطیٰ» صبح کی صلاۃ (یعنی فجر) ہے
Notes · وضاحت
١ ؎: «وسطیٰ» یہ اس لیے ہے کہ یہ دن اور رات کی نمازوں کی بیچ میں واقع ہے۔
١ ؎: «صلاۃ وسطیٰ» سے کون سی صلاۃ مراد ہے اس بارے میں مختلف حدیثیں وارد ہیں صحیح قول یہی ہے کہ اس سے مراد صلاۃ عصر ہے یہی اکثر صحابہ اور تابعین کا مذہب ہے، امام ابوحنیفہ، امام احمد بھی اسی طرف گئے ہیں۔ ٢ ؎: امام مالک اور امام شافعی کا مشہور مذہب یہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٦ (٦٢٨)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٦ (٦٨٦)، ( تحفة الأشراف: ٩٥٤٨)، مسند احمد (١/٤٠٤، ٤٥٦)، (ویأتی عند المؤلف فی تفسیر البقرة (٢٩٨٥) (صحیح)
تفرد بہ المؤلف، ویأتی عندہ فی تفسیر البقرة (٢٩٨٣)، ( تحفة الأشراف: ٤٦٠٢) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے، حسن بصری کے سمرہ ؓ سے سماع میں اختلاف ہے، نیز قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے صحابہ کرام ؓ میں سے کئی لوگوں سے (جن میں عمر بن خطاب بھی ہیں اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں) سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کے بعد جب تک کہ سورج نکل نہ آئے ١ ؎ اور عصر کے بعد جب تک کہ ڈوب نہ جائے نماز ٢ ؎ پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said, “I heard from many Sahaba (RA) among whom is Umar ibn al-Khattab who is the dearest to me that Allah’s Messenger ﷺ disallowed us to offer Salah after Fajr till the sun had risen and after Asr till the sun had set.
صحيح، ابن ماجة (1250)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 183
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث جسے انہوں نے عمر سے روایت کی ہے، حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، ابن مسعود، عقبہ بن عامر، ابوہریرہ، ابن عمر، سمرہ بن جندب، عبداللہ بن عمرو، معاذ بن عفراء، صنابحی (نبی اکرم ﷺ سے انہوں نے نہیں سنا ہے) سلمہ بن اکوع، زید بن ثابت، عائشہ، کعب بن مرہ، ابوامامہ، عمرو بن عبسہ، یعلیٰ ابن امیہ اور معاویہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر فقہاء کا یہی قول ہے کہ انہوں نے فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے کو مکروہ جانا ہے، رہیں فوت شدہ نمازیں تو انہیں عصر کے بعد یا فجر کے بعد قضاء کرنے میں کوئی حرج نہیں، ٤- شعبہ کہتے ہیں کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف تین چیزیں سنی ہیں۔ ایک عمر ؓ کی حدیث جس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ سورج نہ ڈوب جائے، اور فجر کے بعد بھی جب تک کہ سورج نکل نہ آئے، اور (دوسری) ابن عباس ؓ کی حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: تم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اور (تیسری) علی ؓ کی حدیث کہ قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بخاری کی روایت میں «حتی ترتفع الشمس» ہے، دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ اس حدیث میں طلوع سے مراد مخصوص قسم کا طلوع ہے اور وہ سورج کا نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنا ہے۔ ٢ ؎: مذکورہ دونوں اوقات میں صرف سبب والی نفلی نمازوں سے منع کیا گیا ہے، فرض نمازوں کی قضاء، تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضو، طواف کی دو رکعتیں اور نماز جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، اس لیے کہ آپ کے پاس کچھ مال آیا تھا، جس کی وجہ سے آپ کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتیں پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا تو آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھا پھر آپ نے انہیں دوبارہ نہیں پڑھا ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Mughaffal (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There is a Salah between two Adhan. So, whoso wishes may offer it."
ضعيف الإسناد، وقوله: ثم لم يعد لهما منكرصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 184
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ام سلمہ، میمونہ اور ابوموسیٰ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- دیگر کئی لوگوں نے بھی نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے عصر بعد دو رکعتیں پڑھیں یہ اس چیز کے خلاف ہے جو آپ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، ٤- ابن عباس والی حدیث جس میں ہے کہ آپ نے دوبارہ ایسا نہیں کیا، سب سے زیادہ صحیح ہے، ٥- زید بن ثابت سے بھی ابن عباس ہی کی حدیث کی طرح مروی ہے، ٦- اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی کئی حدیثیں مروی ہیں، نیز ان سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بھی ان کے یہاں عصر کے بعد آتے دو رکعتیں پڑھتے، ٧- نیز انہوں نے ام سلمہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعد جب تک نکل نہ آئے نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔ ٨- اکثر اہل علم کا اتفاق بھی اسی پر ہے کہ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعد جب تک نکل نہ آئے نماز پڑھنا مکروہ ہے سوائے ان نمازوں کے جو اس سے مستثنیٰ ہیں مثلاً مکہ میں عصر کے بعد طواف کی دونوں رکعتیں پڑھنا یہاں تک سورج ڈوب جائے اور فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے رخصت مروی ہے، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے یہی کہا ہے۔ اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم نے عصر اور فجر کے بعد مکہ میں بھی نماز پڑھنے کو مکروہ جانا ہے، سفیان ثوری، مالک بن انس اور بعض اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ام المؤمنین عائشہ ؓ سے مروی روایات «ما ترک النبي صلی اللہ عليه وسلم السجدتين بعد العصر عندي قط»، «ما تركهما حتی لقی الله»، «وما کان النبي صلی اللہ عليه وسلم يأتيني في يوم بعد العصر إلا صلی رکعتين» کے معارض ہے ان میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے اولاً یہ کہ ابن عباس کی یہ حدیث سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، یا کم از کم عائشہ کی حدیث سے کم تر ہے، دوسرے یہ کہ ابن عباس نے یہ نفی اپنے علم کی بنیاد پر کی ہے کیونکہ آپ اسے گھر میں پڑھتے تھے اس لیے انہیں اس کا علم نہیں ہوسکا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٥٧٣) (ضعیف الإسناد) (سند میں عطاء بن السائب اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، جریر بن عبدالحمید کی ان سے روایت اختلاط کے زمانہ کی ہے، لیکن صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ پھر نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد ان دو رکعتوں کو ہمیشہ پڑھا اسی لیے ” ثم لم يعد لهما “ ” ان کو پھر کبھی نہیں پڑھا “ کا ٹکڑا منکر ہے)
عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو نفلی نماز پڑھنا چاہے اس کے لیے ہر دو اذان ١ ؎ کے درمیان نماز ہے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Mughaffal (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There is a Salah between two Adhan. So, whoso wishes may offer it."
صحيح، ابن ماجة (1162)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 185
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن مغفل ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن زبیر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام کے درمیان مغرب سے پہلے کی نماز کے سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے، ان میں سے بعض کے نزدیک مغرب سے پہلے نماز نہیں، اور صحابہ میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ وہ لوگ مغرب سے پہلے اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے، ٤- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی انہیں پڑھے تو بہتر ہے، اور یہ ان دونوں کے نزدیک مستحب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہر دو اذان سے مراد اذان اور اقامت ہے، یہ حدیث مغرب کی اذان کے بعد دو رکعت پڑھنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے، اور یہ کہنا کہ یہ منسوخ ہے قابل التفات نہیں کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں، اسی طرح یہ کہنا کہ اس سے مغرب میں تاخیر ہوجائے گی صحیح نہیں کیونکہ یہ نماز بہت ہلکی پڑھی جاتی ہے، مشکل سے دو تین منٹ لگتے ہیں جس سے مغرب کے اول وقت پر پڑھنے میں کوئی فرق نہیں آتا اس سے نماز مؤخر نہیں ہوتی ( صحیح بخاری کی ایک روایت میں تو امر کا صیغہ ہے مغرب سے پہلے نماز پڑھو )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤ (٦٢٤)، و ١٦ (٦٢٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٥٦ (٨٣٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٠٠ (١٢٨٣)، سنن النسائی/الأذان ٣٩ (٦٨٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٠ (١١٦٢)، ( تحفة الأشراف: ٩٦٥٨)، مسند احمد (٤/٨٦)، و (٥/٥٤، ٥٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٥ (١٤٨٠) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے عصر پالی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet, ﷺ said, "If anyone is able to offer one rakaah of Fajr before sunrise then he has offered the fair Salah. And, if anyone has offered one rakaah of Asr before sunset then he has offered the Asr Salah."
صحيح، ابن ماجة (699 و 670)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 186
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- ہمارے اصحاب، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، یہ حدیث ان کے نزدیک صاحب عذر کے لیے ہے مثلاً ایسے شخص کے لیے جو نماز سے سو گیا اور سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت بیدار ہوا ہو یا اسے بھول گیا ہو اور وہ سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت اسے نماز یاد آئی ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی وجہ سے وہ اس قابل ہوگیا کہ اس کے ساتھ باقی اور رکعتیں ملا لے اس کی یہ نماز ادا سمجھی جائے گی قضاء نہیں، یہ مطلب نہیں کہ یہ رکعت پوری نماز کے لیے کافی ہوگی، اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نماز کے دوران سورج نکلنے سے اس کی نماز فاسد ہوجائے گی وہ اس روایت کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ اگر اسے اتنا وقت مل گیا جس میں وہ ایک رکعت پڑھ سکتا ہو تو وہ نماز کا اہل ہوگیا اور وہ نماز اس پر واجب ہوگئی مثلاً بچہ ایسے وقت میں بالغ ہوا ہو یا حائضہ حیض سے پاک ہوئی ہو یا کافر اسلام لایا ہو کہ وہ وقت کے اندر ایک رکعت پڑھ سکتا ہو تو وہ نماز اس پر واجب ہوگی، لیکن نسائی کی روایت جس میں «فليتم صلاته» کے الفاظ وارد ہیں اس تاویل کی نفی کرتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٢٨ (٥٧٩)، و ٢٩ (٥٨٠)، صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٥ (٤١٢)، سنن النسائی/المواقیت ١١ (٥١٦، ٥١٨)، و ٢٨ (٥٥١)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١١ (١١٢٢)، ( تحفة الأشراف: ١٢٢٠٦، و ١٣٦٤٦، و ١٤٢١٦)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١ (٥)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٣٤٨، ٢٥٤، ٢٦٠، ٢٨٢، ٣٩٩، ٤٦٢، ٤٧٤، ٤٨٩، ٤٩٠، ٥٢١)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٨) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بغیر خوف اور بارش ١ ؎ کے مدینے میں ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا ٢ ؎۔ ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا کہ نبی اکرم ﷺ کا اس سے کیا منشأ تھی؟ کہا: آپ ﷺ کا منشأ یہ تھی کہ آپ اپنی امت کو کسی پریشانی میں نہ ڈالیں۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) , (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ offered together the Zuhr and Asr, and the Maghrib and Isha in Madinah although there was no fear or rainfall. Sayyidina Ibn Abbas (RA) , (RA) was asked what his intention in that was and he said, "His intention was that his ummah should not be put to difficulty.
صحيح، الإرواء (579 / 1)، صحيح أبي داود (1096)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 187
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٢- ابن عباس ؓ کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے، ابن عباس ؓ سے اس کے خلاف بھی مرفوعاً مروی ہے ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداؤد کی روایت میں «في غير خوف ولا سفر» ہے، نیز مسلم کی ایک روایت میں بھی ایسا ہی ہے، خوف، سفر اور مطر ( بارش ) تینوں کا ذکر ایک ساتھ کسی روایت میں نہیں ہے مشہور «من غير خوف ولا سفر» ہے۔ ٢ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنا بوقت ضرورت حالت قیام میں بھی جائز ہے، لیکن اسے عادت نہیں بنا لینی چاہیئے۔ ٣ ؎: جسے امام ترمذی آگے نقل کر رہے ہیں، لیکن یہ روایت سخت ضعیف ہے، اس لیے دونوں حدیثوں میں تعارض ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ اس حدیث سے استدلال جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١٢ (٥٤٣)، (بدون قولہ ” فی غیر خوف ولا مطر “ ) ، صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٥، ٧٠٦)، (وعندہ في روایة ” ولاسفر “ ) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٧٤ (١٢١٠، ١٢١١)، سنن النسائی/المواقیت ٤٤ (٥٩٠)، ( تحفة الأشراف: ٥٤٧٤)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ١ (٤)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٣، ٢٨٣) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے بغیر عذر کے دو نمازیں ایک ساتھ پڑھیں وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں سے میں ایک دروازے میں داخل ہوا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that the Prophet ﷺ r ﷺ said, "If anyone combines two prayers at a time without a valid reason then he has entered door of the doors of the Kabair (grave sins).”
١- حنش ہی ابوعلی رحبی ہیں اور وہی حسین بن قیس بھی ہے۔ یہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہے، احمد وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے، ٢- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سفر یا عرفہ کے سوا دو نمازیں ایک ساتھ نہ پڑھی جائیں، ٣- تابعین میں سے بعض اہل علم نے مریض کو دو نمازیں ایک ساتھ جمع کرنے کی رخصت دی ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٤- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ بارش کے سبب بھی دو نمازیں جمع کی جاسکتی ہیں۔ شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ البتہ شافعی مریض کے لیے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کرنے کو درست قرار نہیں دیتے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سفر میں دو نمازوں کے درمیان جمع کرنے کو ناجائز ہونے پر احناف نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے، لیکن یہ روایت حد درجہ ضعیف ہے قطعاً استدلال کے قابل نہیں، اس کے برعکس سفر میں جمع بین الصلاتین کی جو احادیث دلالت کرتی ہیں، وہ صحیح ہیں ان کی تخریج مسلم وغیرہ نے کی ہے اور اگر بالفرض یہ حدیث صحیح بھی ہوتی تو عذر سے مراد سفر ہی تو ہے، نیز دوسرے عذر بھی ہوسکتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٠٢٥) (ضعیف جداً ) (سند میں حسین بن قیس المعروف بہ حنش ضعیف بلکہ متروک ہے)
عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نے (مدینہ منورہ میں ایک رات) صبح کی تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور میں نے آپ کو اپنا خواب بتایا ١ ؎ تو آپ نے فرمایا: یہ ایک سچا خواب ہے، تم اٹھو بلال کے ساتھ جاؤ وہ تم سے اونچی اور لمبی آواز والے ہیں۔ اور جو تمہیں بتایا گیا ہے، وہ ان پر پیش کرو، وہ اسے زور سے پکار کر کہیں ، جب عمر بن خطاب ؓ نے بلال ؓ کی اذان سنی تو اپنا تہ بند کھینچتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے، میں نے (بھی) اسی طرح دیکھا ہے جو انہوں نے کہا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے، یہ بات اور پکی ہوگئی ۔
Muhammad ibn Abdullah ibn Zayd reported his father as saying that when it was morning they went to Allah’s Messenger ﷺ and told him about the dream. He said, “This is a true dream. Stand up with Bilal (RA) . He has a louder voice than you. Teach him that which you were told and he will call that out. “When Umar ibn al-Khattab (RA) heard Bilal (RA) ’s call to prayer, he came to Allah’s Messenger ﷺ dragging his garment along and he said, “O Messenger of Allah! ﷺ By Him who sent you with Truth, I have seen the like of what he says. “So, Allah’s Messenger ﷺ said, “All praise belongs to Allah, and that is confirmed”
حسن، ابن ماجة (706)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 189
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن زید ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اور ابراہیم بن سعد نے یہ حدیث محمد بن اسحاق سے اس سے بھی زیادہ کامل اور زیادہ لمبی روایت کی ہے۔ اور اس میں انہوں نے اذان کے کلمات کو دو دو بار اور اقامت کے کلمات کو ایک ایک بار کہنے کا واقعہ ذکر کیا ہے، ٤- عبداللہ بن زید ہی ابن عبدربہ ہیں اور انہیں ابن عبدرب بھی کہا جاتا ہے، سوائے اذان کے سلسلے کی اس ایک حدیث کے ہمیں نہیں معلوم کہ ان کی نبی اکرم ﷺ سے کوئی اور بھی حدیث صحیح ہے، البتہ عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی کی کئی حدیثیں ہیں جنہیں وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، اور یہ عباد بن تمیم کے چچا ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے درمیان ایک رات نماز کے لیے لوگوں کو بلانے کی تدابیر پر گفتگو ہوئی، اسی رات عبداللہ بن زید ؓ نے خواب دیکھا اور آ کر آپ ﷺ سے بیان کیا ( دیکھئیے اگلی حدیث )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٨ (٤٩٩)، سنن ابن ماجہ/الأذان ١ (٧٠٦)، ( تحفة الأشراف: ٥٣٠٩)، مسند احمد (٤/٤٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٣ (١٢٢٤) (حسن)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جس وقت مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو کر اوقات نماز کا اندازہ لگاتے تھے، کوئی نماز کے لیے پکار نہ لگاتا تھا، ایک دن ان لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی ١ ؎ چناچہ ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: نصاریٰ کے ناقوس کی طرح کوئی ناقوس بنا لو، بعض نے کہا کہ تم یہودیوں کے قرن کی طرح کوئی قرن (یعنی کسی جانور کا سینگ) بنا لو۔ ابن عمر ؓ کہتے ہیں: اس پر عمر بن خطاب ؓ نے کہا: کیا تم کوئی آدمی نہیں بھیج سکتے جو نماز کے لیے پکارے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلال اٹھو جاؤ نماز کے لیے پکارو ۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 190
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث ابن عمر ؓ کی (اس) روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ (جسے بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے) ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ گفتگو مدینہ میں صحابہ کرام سے ہجرت کے پہلے سال ہوئی تھی، اس میں بعض لوگوں نے نماز کے لیے ناقوس بجانے کا اور بعض نے اونچائی پر آگ روشن کرنے کا اور بعض نے «بوق» بگل استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا، اسی دوران عمر کی یہ تجویز آئی کہ کسی کو نماز کے لیے پکارنے پر مامور کردیا جائے، چناچہ نبی اکرم ﷺ کو یہ رائے پسند آئی اور آپ نے بلال کو باواز بلند «الصلاة جامعة» کہنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد عبداللہ بن زید ؓ نے خواب میں اذان کے کلمات کسی سے سیکھے اور جا کر خواب بیان کیا، اسی کے بعد موجودہ اذان رائج ہوئی۔ ٢ ؎: دیکھئیے صحیح البخاری حدیث ٦٠٤ وصحیح مسلم حدیث ٨٣٧۔
ابو محذورہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بٹھا کر اذان کا ایک ایک لفظ سکھایا۔ ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبدالملک بن ابی محذورہ کہتے ہیں: اس طرح جیسے ہماری اذان ہے۔ بشر کہتے ہیں تو میں نے ان سے یعنی ابراہیم سے کہا: اسے مجھ پر دہرائیے تو انہوں نے ترجیع ١ ؎ کے ساتھ اذان کا ذکر کیا۔
Sayyidina Abu Mahdhurah (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ made him sit down and taught him the Adhan, word by word. Ibrahim said, Bishr says like our Adhan and I said to him to repeat and he repeated it with Tarji.”
صحيح، ابن ماجة (708)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 191
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اذان کے سلسلے میں ابو محذورہ والی حدیث صحیح ہے، کئی سندوں سے مروی ہے، ٢- اور اسی پر مکہ میں عمل ہے اور یہی شافعی کا قول ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اذان میں شہادتین کے کلمات کو پہلے دو مرتبہ دھیمی آواز سے کہنے پھر دوبارہ دو مرتبہ بلند آواز سے کہنے کو ترجیع کہتے ہیں۔ ٢ ؎: اذان میں ترجیع مسنون ہے یا نہیں اس بارے میں ائمہ میں اختلاف ہے، صحیح قول یہ ہے کہ اذان ترجیع کے ساتھ اور بغیر ترجیع کے دونوں طرح سے جائز ہے اور ترجیع والی روایات صحیحین کی ہیں اس لیے راجح ہیں، اور یہ کہنا کہ جس صحابی سے ترجیع کی روایات آئی ہیں انہیں تعلیم دینا مقصود تھا اس لیے کہ ابو محذورہ ؓ جنہیں آپ نے یہ تعلیم دی پہلی مرتبہ اسے دھیمی آواز میں ادا کیا تھا پھر دوبارہ اسے بلند آواز سے ادا کیا تھا، درست نہیں، کیونکہ ابو محذورہ مکہ میں برابر ترجیع کے ساتھ اذان دیتے رہے اور ان کے بعد بھی برابر ترجیع سے اذان ہوتی رہی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأذان ٣ (٦٣٠)، ( تحفة الأشراف: ١٢١٦٩) (صحیح) (ابو محذورہ ؓ کی اس روایت میں الفاظ اذان کا ذکر نہیں ہے، لیکن مجملاً یہ ذکر ہے کہ اذان کو ترجیع کے ساتھ بیان کیا، جب کہ اسی سند سے نسائی میں وارد حدیث میں اذان کے صرف سترہ کلمات کا ذکر ہے، اور اس میں ترجیع کی صراحت نہیں ہے، اس لیے نسائی والا سیاق منکر ہے، کیونکہ صحیح مسلم، سنن نسائی اور ابن ماجہ (٧٠٨) میں اذان کے کلمات انیس آئے ہیں، دیکھیں مؤلف کی اگلی روایت (١٩٢) اور نسائی کی روایت رقم ٣٠ ٦، ٦٣١، ٦٣٢، ٦٣٣)