Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 57 of 199

1186Sunan At-Tirmidhi

خلع لینے والی عورتیں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُزَاحِمُ بْنُ ذَوَّادِ بْنِ عُلْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ لَمْ تَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ .

ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خلع لینے والی عورتیں منافق ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Thawban reported that the Prophet ﷺ said, “Woman who seek divorce are hypocrites.” [Ahmed 3369]

صحيح، الصحيحة (633)، المشکاة (3290 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1186
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے، اس کی سند قوی نہیں ہے، ٢- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے آپ نے فرمایا: جس عورت نے بلا کسی سبب کے اپنے شوہر سے خلع لیا، تو وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گی ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بطور زجر و توبیخ کہا ہے یعنی یہ عورتیں ایسی ہیں جو جنت میں دخول اوّلی کی مستحق نہیں قرار پائیں گی کیونکہ بظاہر یہ اطاعت گزار ہیں لیکن باطن میں نافرمان ہیں۔ اور یہ ارشاد بغیر کسی معقول وجہ کے خلع لینے والی عورتوں کے بارے میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٠٩٢) (صحیح) (متابعت اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” لیث بن ابی سلیم “ ضعیف، اور ” ابو الخطاب “ مجہول ہیں، ملاحظہ: صحیحہ رقم: ٦٣٢)
1187Sunan At-Tirmidhi

خلع لینے والی عورتیں

أَنْبَأَنَا بِذَلِكَ بُنْدَارٌ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے بغیر کسی بات کے اپنے شوہر سے طلاق طلب کی تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔

This hadith is reported by Muhammad ibn Bashshar from Abdul Wahab Thaqafi, from Ayyub, from Abu Qalabah and he from an unnamed man, who from Thawban and he from the Prophet ﷺ i that he said, ‘The woman who seeks divorce from her husband for no reason will not even smell the fragrance of Paradise.” [Ahmed 22442, Abu Dawud 2226, Ibn e Majah 2055] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2055)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1187
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور یہ «عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي أسماء عن ثوبان» کے طریق سے بھی روایت کی جاتی ہے، ٣- بعض نے ایوب سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ١٨ (٢٢٢٦)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢١ (٢٠٥٥)، ( تحفة الأشراف: ٢١٠٣)، مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٨٣)، سنن الدارمی/الطلاق ٦ (٢٣١٦) (صحیح)
1188Sunan At-Tirmidhi

عورتوں کے ساتھ حسن سلوک

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَرْأَةَ كَالضِّلَعِ إِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا، وَإِنْ تَرَكْتَهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا عَلَى عِوَجٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَسَمُرَةَ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت کی مثال پسلی کی ہے ١ ؎ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے یوں ہی چھوڑے رکھا تو ٹیڑھ کے باوجود تم اس سے لطف اندوز ہو گے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA)reported that Allah’s Messenger said, “Indeed, woman is like a rib. If you try to straighten it, you will break it and if you leave her alone then you will enjoy her in spite of the crookedness.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، التعليق الرغيب (3 / 72 - 73)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1188
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے اور اس کی سند جید ہے، ٢- اس باب میں ابوذر، سمرہ، اور ام المؤمنین عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عورتوں کی خلقت ہی میں کچھ ایسی بات ہے، لہٰذا جس فطرت پر وہ پیدا کی گئیں ہیں اس سے انہیں بدلا نہیں جاسکتا۔ اس لیے ان باتوں کا لحاظ کر کے ان کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں تاکہ معاشرتی زندگی سکون اور آرام و چین کی ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١٨ (١٤٦٨)، ( تحفة الأشراف: ١٣٢٤٧) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/النکاح ٧٩ (٥١٨٤)، صحیح مسلم/الرضاع (المصدر المذکور)، مسند احمد (٢/٤٢٨، ٤٤٩، ٥٣٠)، سنن الدارمی/النکاح ٣٥ (٢٢٦٨) من غیر ہذا الوجہ۔
1190Sunan At-Tirmidhi

عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے میں انڈیل لے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah said that he was aware of this hadith. The Prophet ﷺ said, “No woman should demand that her sister (co-wife) should be divorced that she fill up from her vessel (that is, appropriate her share). [Bukhari 2140, Muslim 1413, Abu Dawud 3438, Nisai 3236, Ibn e Majah 1867]

صحيح، صحيح أبي داود (1891)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1190
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام سلمہ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٤٠)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٣/٥٢)، سنن النسائی/النکاح ٢٠ (٣٢٤١)، والبیوع ١٦ (٤٤٩٦)، و ١٩ (٤٥٠٦)، و ٢١ (٤٥١٠)، مسند احمد (٢/٢٣٨)، ( تحفة الأشراف: ١٣١٢٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الشروط ٨ (٢٧٢٣)، والنکاح ٥٣ (٥١٥٢)، و القدر ٤ (٦٦٠١)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، مسند احمد (٢/٢٧٤، ٣١١، ٣٩٤، ٤١٠، ٤٨٧، ٤٨٩، ٥٠٨، ٥١٦) من غیر ہذا الوجہ و بزیادة في السیاق۔ وانظر أیضا حدیث رقم ١١٣٤، وکذا مایأتي برقم: ١٢٢٢، و ١٣٠
1191Sunan At-Tirmidhi

پاگل کی طلاق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، أَنْبَأَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ طَلَاقٍ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ، وَعَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ ضَعِيفٌ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ لَا يَجُوزُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعْتُوهًا يُفِيقُ الْأَحْيَانَ فَيُطَلِّقُ فِي حَالِ إِفَاقَتِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر طلاق واقع ہوتی ہے سوائے پاگل اور دیوانے کی طلاق کے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, Every divorce is permissible, except the divorce by an insane or an imbecile man.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف جدا، والصحيح موقوف، الإرواء (2042) // ضعيف الجامع الصغير (4240) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1191
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو ہم صرف عطاء بن عجلان کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں اور عطاء بن عجلان ضعیف اور «ذاہب الحدیث» (حدیث بھول جانے والے) ہیں، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ دیوانے کی طلاق واقع نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ وہ ایسا دیوانہ ہو جس کی دیوانگی کبھی کبھی ٹھیک ہوجاتی ہو اور وہ افاقہ کی حالت میں طلاق دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٢٤٤) (ضعیف جدا) (سند میں عطاء بن عجلان متروک الحدیث راوی ہے، صحیح ابوہریرہ کے قول سے ہے)
1192Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ وَالرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ مَا شَاءَ، أَنْ يُطَلِّقَهَا وَهِيَ امْرَأَتُهُ إِذَا ارْتَجَعَهَا وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ، وَإِنْ طَلَّقَهَا مِائَةَ مَرَّةٍ أَوْ أَكْثَرَ حَتَّى قَالَ رَجُلٌ لِامْرَأَتِهِ: وَاللَّهِ لَا أُطَلِّقُكِ فَتَبِينِي مِنِّي وَلَا آوِيكِ أَبَدًا، قَالَتْ: وَكَيْفَ ذَاكَ ؟، قَالَ: أُطَلِّقُكِ فَكُلَّمَا هَمَّتْ عِدَّتُكِ أَنْ تَنْقَضِيَ رَاجَعْتُكِ، فَذَهَبَتِ الْمَرْأَةُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا، فَسَكَتَتْ عَائِشَةُ حَتَّى جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 229، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَاسْتَأْنَفَ النَّاسُ الطَّلَاقَ مُسْتَقْبَلًا مَنْ كَانَ طَلَّقَ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ طَلَّقَ. حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ 12 أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ شَبِيبٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ لوگوں کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنی بیوی کو جتنی طلاقیں دینی چاہتا دے دینا رجوع کرلینے کی صورت میں وہ اس کی بیوی بنی رہتی، اگرچہ اس نے سویا اس سے زائد بار اسے طلاق دی ہو، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہ طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہوجائے اور نہ تجھے کبھی پناہ ہی دوں گا۔ اس نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اس نے کہا: میں تجھے طلاق دوں گا پھر جب عدت پوری ہونے کو ہوگی تو رجعت کرلوں گا۔ اس عورت نے عائشہ ؓ کے پاس آ کر انہیں یہ بات بتائی تو عائشہ ؓ خاموش رہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ آئے تو عائشہ ؓ نے آپ کو اس کی خبر دی۔ نبی اکرم ﷺ بھی خاموش رہے یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا «الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسريح بإحسان» طلاق (رجعی) دو ہیں، پھر یا تو معروف اور بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا بھلائی سے رخصت کردینا ہے (البقرہ: ٢٢٩) ۔ عائشہ ؓ کہتی ہیں: تو لوگوں نے طلاق کو آئندہ نئے سرے سے شمار کرنا شروع کیا، جس نے طلاق دے رکھی تھی اس نے بھی، اور جس نے نہیں دی تھی اس نے بھی۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated During pre-Islamic days, a man would divorce his wife as many times as he chose and he would revoke the divorce during her iddah-a hundred times ormore than that. In fact, a man said to his wife, “By Allah! I will never divorce you so that you remain with me and I will never approach you.’ She asked, ‘How is that?’ He said, “I will divorce you and every time your iddab is to end, I will take you back.’ The woman went till she met Sayyidah Ayshah and informed her (of her plight). Sayyidah Ayshah (RA) kept quiet and said nothing till the Prophet ﷺ came home and she informed him. He did not say anything till the Qur’an was revealed: “Divorce is twice then either a retention with honour or a release with kindness.” (2:229) Sayyidah Ayshah (RA) said that thereafter people kept count of the divorce those who had pronounced previously and these too who had not. --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، الإرواء (7 / 162) ضعيف، الإرواء (7 / 162)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1192 دوسری سند سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد ہشام سے اسی حدیث کی طرح اسی مفہوم کے ساتھ روایت کی ہے اور اس میں ابوکریب نے عائشہ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1192
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ یعلیٰ بن شبیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے (یعنی: مرفوع ہونا زیادہ صحیح ہے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٣٣٧) (ضعیف) (سند میں ” یعلی “ لین الحدیث ہیں) لیکن ابن عباس ؓ کی روایت سے اس کا معنی صحیح ہے (دیکھئے ارواء رقم: ٢٠٨٠) تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٩٠٣٦) (صحیح)
1193Sunan At-Tirmidhi

وہ حاملہ جو خاوند کی وفات کے بعد جنے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ بْنِ بَعْكَكٍ، قَالَ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ، أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ يَوْمًا فَلَمَّا تَعَلَّتْ، تَشَوَّفَتْ لِلنِّكَاحِ فَأُنْكِرَ عَلَيْهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ تَفْعَلْ فَقَدْ حَلَّ أَجَلُهَا .

طلق بن علی ؓ کہتے ہیں کہ سبیعہ نے اپنے شوہر کی موت کے تئیس یا پچیس دن بعد بچہ جنا، اور جب وہ نفاس سے پاک ہوگئی تو نکاح کے لیے زینت کرنے لگی، اس پر اعتراض کیا گیا، اور نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ ایسا کرتی ہے (تو حرج کی بات نہیں) اس کی عدت پوری ہوچکی ہے ۔

Sayyidina Abu Sanabil Ba’kak reported that Sayyidah Subay’ah (RA) delivered her child twenty-three or twenty-five days after her husband’s death. When she purified after post childbirth bleeding. She adorned herself seeking to remarry, but objections were raised against her. That was mentioned to the Prophet ﷺ and he said, “If she does that then she has already waited her number of days” (and is justified in marrying again). [Ahmed 18738, Nisai 2505, Ibn e Majah 2027] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2027)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1193
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٣٩)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٧ (٢٠٢٧)، مسند احمد (٤/٣٠٥) (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٣) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ سند میں انقطاع ہے جسے مولف نے بیان کردیا ہے)
1194Sunan At-Tirmidhi

وہ حاملہ جو خاوند کی وفات کے بعد جنے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، تَذَاكَرُوا الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا الْحَامِلَ تَضَعُ عِنْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَعْتَدُّ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: بَلْ تَحِلُّ حِينَ تَضَعُ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ، فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: قَدْ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِيَسِيرٍ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ؓ نے آپس میں اس حاملہ عورت کا ذکر کیا جس کا شوہر فوت ہوچکا ہو اور اس نے شوہر کی وفات کے بعد بچہ جنا ہو، ابن عباس ؓ کا کہنا تھا کہ وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو مدت بعد میں پوری ہوگی اس کے مطابق وہ عدت گزارے گی، اور ابوسلمہ کا کہنا تھا کہ جب اس نے بچہ جن دیا تو اس کی عدت پوری ہوگئی، اس پر ابوہریرہ ؓ نے کہا: میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر ان لوگوں نے (ایک شخص کو) ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس (مسئلہ معلوم کرنے کے لیے) بھیجا، تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ نے اپنے شوہر کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد بچہ جنا۔ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ سے (شادی کے سلسلے میں) مسئلہ پوچھا تو آپ نے اسے (دم نفاس ختم ہوتے ہی) شادی کرنے کی اجازت دے دی۔

Sulayman ibn Yasar reported that Sayyidina Abu Hurayrah Ibn Abbas (RA) and Abu Salamah ibn Abdur Rahman (RA) discussed about a pregnant woman whose husband had died and who delivers her child after his death. Ibn Abbas (RA) said, “The lengthier period will be her iddah (meaning, her waiting period will end on the birth of her child or completing of iddah whichever is last). Abu Salamah (RA) said, “No, she will become lawful when her child is born.” Abu Hurayrah (RA) said, “I agree with my brother, Abu Salamah.” Then, they sent (the question) to Sayyidah Umm Salamah, the noble wife of the Prophet ﷺ . She said, “Suhay’ah Aslamiyah had delivered a child a few days after her husband’s death. She enquired from Allah’s Messenger ﷺ who commanded her to get married again.” [Bukhari 4909, Muslim 1485, Nisai 3509]

صحيح، الإرواء (2113)، صحيح أبي داود تحت الحديث (1196)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1194
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الطلاق ٢ (٤٩٠٩)، صحیح مسلم/الطلاق ٨ (١٤٨٥)، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٤٢)، ٣٥٤٤)، مسند احمد (٦/٢٨٩)، سنن الدارمی/الطلاق ١١ (٢٣٢٥) (تحفة الأشراف: ١٨١٥٧ و ١٨٢٠٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الطلاق ٣٩ (٥٣١٨)، صحیح مسلم/الطلاق (المصدر المذکور)، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٣٩، ٣٥٤٠، ٣٥٤١، ٣٥٤٣، ٣٥٤٥، ٣٥٤٦، ٣٥٤٧)، مسند احمد (٦/٣١٢، ٣١٩) من غیر ہذا الوجہ، ولہ أیضا طرق أخری بسیاق آخر، انظر حدیث رقم (٢٣٠٦)، عند أبي داود و ٣٥٤٨) عند النسائي۔
1195Sunan At-Tirmidhi

جس کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ، قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ، أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ بِهِ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا .

حمید بن نافع سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے انہیں یہ تینوں حدیثیں بتائیں (ان میں سے ایک یہ ہے) زینب کہتی ہیں: میں ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کے پاس آئی جس وقت ان کے والد ابوسفیان صخر بن حرب کا انتقال ہوا، تو انہوں نے خوشبو منگائی جس میں خلوق یا کسی دوسری چیز کی زردی تھی، پھر انہوں نے اسے ایک لڑکی کو لگایا پھر اپنے دونوں رخساروں پر لگایا، پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے اس پر وہ چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی۔

Humayd ibn Nafi reported from Sayyidah Zaynab bint Abu Salamah. She spoke to him about these three ahadith. She said: I visited Umm Habibah (RA) wife of the Prophet ﷺ when her fahter Abu Sufyan (RA) ibn Harb died. She called for a perfume which had a yellowness or another substance. She applied it to a girl and then on her own cheeks, saying, “By Allah, I had no need for this except that I had heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘It not lawful for a woman who believes in Allah and the last day to mourn a dead person more than three days except that she mourn her dead husband for four months and ten days.” [Ahmed 26816, Bukhari 680, Muslim 1486]

صحيح، الإرواء (2114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1195
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣٠ (١٢٨١)، والطلاق ٤٦ (٥٣٣٤)، و ٤٧ (٥٣٣٩)، و ٥٠ (٥٣٤٥)، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٨٦)، سنن ابی داود/ الطلاق ٤٣ (٢٢٩٩)، سنن النسائی/الطلاق ٥٥ (٣٥٣٠، ٣٥٣٢) و ٦٣ (٣٥٦٣)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٤ (٢٠٨٤)، موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠١) مسند احمد (٦/٣٢٥، ٣٢٦)، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٣٠) (تحفة الأشراف: ١٥٨٧٤) (صحیح)
1196Sunan At-Tirmidhi

جس کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت

قَالَتْ قَالَتْ زَيْنَبُ: فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي فِي الطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا .

(دوسری حدیث یہ ہے) زینب کہتی ہیں: پھر میں زینب بنت جحش ؓ کے پاس آئی جس وقت ان کے بھائی کا انتقال ہوا تو انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے لگایا پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے شوہر کے، وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی ۔

صحيح، الإرواء (2114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1196
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٥٨٧٩) (صحیح)
1197Sunan At-Tirmidhi

جس کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت

قَالَتْ قَالَتْ زَيْنَبُ، وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا أَفَنَكْحَلُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: لَا . ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ أُخْتِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْنَبَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، تَتَّقِي فِي عِدَّتِهَا الطِّيبَ، وَالزِّينَةَ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

(تیسری حدیث یہ ہے) زینب کہتی ہیں: میں نے اپنی ماں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر مرگیا ہے، اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اس کو سرمہ لگا دیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں ۔ دو یا تین مرتبہ اس عورت نے آپ سے پوچھا اور آپ نے ہر بار فرمایا: نہیں ، پھر آپ نے فرمایا: (اب تو اسلام میں) عدت چار ماہ دس دن ہے، حالانکہ جاہلیت میں تم میں سے (فوت شدہ شوہر والی بیوہ) عورت سال بھر کے بعد اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی ١ ؎۔

صحيح، الإرواء (2114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1197
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- زینب کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری کی بہن فریعہ بنت مالک، اور حفصہ بنت عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم کا اسی پر عمل ہے کہ جس عورت کا شوہر مرگیا ہو وہ اپنی عدت کے دوران خوشبو اور زینت سے پرہیز کرے گی۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سال بھرکے بعد اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورت کا شوہر جب انتقال کرجاتا تو وہ ایک معمولی جھونپڑی میں جا رہتی اور خراب سے خراب کپڑا پہن لیتی تھی اور سال پورا ہونے تک نہ خوشبو استعمال کرتی اور نہ ہی کسی اور چیز کو ہاتھ لگاتی پھر کوئی جانور، گدھا، بکری، یا پرندہ اس کے پاس لایا جاتا اور وہ اس سے اپنے جسم اور اپنی شرمگاہ کو رگڑتی اور جس جانور سے وہ رگڑتی عام طور سے وہ مر ہی جاتا، پھر وہ اس تنگ و تاریک جگہ سے باہر آتی پھر اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی اس طرح گویا وہ اپنی نحوست دور کرتی اس کے بعد ہی اسے خوشبو وغیرہ استعمال کرنے اجازت ملتی۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٨٢٥٩) (صحیح)
1198Sunan At-Tirmidhi

جس آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے صحبت کرلی۔

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، قَالَ: كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ، وَمَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا وَاقَعَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، فَعَلَيْهِ كَفَّارَتَانِ وَهُوَ قَوْلُ: عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.

سلمہ بن صخر بیاضی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس ظہار ١ ؎ کرنے والے کے بارے میں جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے مجامعت کرلیتا ہے فرمایا: اس کے اوپر ایک ہی کفارہ ہے ۔

Sayyidina Salamah ibn Sakhr al-Bayadi reported about anyone having sexual intercourse before making an atonement for zihar that the Prophet ﷺ said, “Thereis only one expiation.” [Ibn e Majah 2064]

صحيح، ابن ماجة (2064)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1198
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ سفیان، شافعی، مالک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ٣- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کر بیٹھے تو اس پر دو کفارہ ہے۔ یہ عبدالرحمٰن بن مہدی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ظہار کا مطلب بیوی سے «أنت علي کظہرامي» (تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے ) کہنا ہے، زمانہ جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا، امت محمدیہ میں ایسا کہنے والے پر صرف کفارہ لازم آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو پے در پے بلا ناغہ دو مہینے کے روزے رکھے اگر درمیان میں بغیر عذر شرعی کے روزہ چھوڑ دیا تو نئے سرے سے پورے دو مہینے کے روزے رکھنے پڑیں گے، عذر شرعی سے مراد بیماری یا سفر ہے، اور اگر پے در پے دو مہینہ کے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکین کو کھانا کھلائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ١٧ (٢٢١٣)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٥ (٢٠٦٢)، ( تحفة الأشراف: ٤٥٥٥)، مسند احمد (٥/٤٣٦)، سنن الدارمی/الطلاق ٩ (٢٣١٩) (صحیح)
1199Sunan At-Tirmidhi

جس آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے صحبت کرلی۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ ظَاهَرْتُ مِنْ زَوْجَتِي فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا، قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ، فَقَالَ: وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، قَالَ: رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ، قَالَ: فَلَا تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللَّهُ بِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے اپنی بیوی سے ظہار کر رکھا تھا اور پھر اس کے ساتھ جماع کرلیا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر رکھا ہے اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں نے اس سے جماع کرلیا تو کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے کس چیز نے تجھ کو اس پر آمادہ کیا؟ اس نے کہا: میں نے چاند کی روشنی میں اس کی پازیب دیکھی (تو مجھ سے صبر نہ ہوسکا) آپ نے فرمایا: اس کے قریب نہ جانا جب تک کہ اسے کر نہ لینا جس کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a man came to the Prophet ﷺ after he had made zihar with his wife and indulged in sexual intercourse. He said, “O Messenger of Allah, I have made zihar with my wife and followed it with sexual intercourse before making an expiation.” He said, “And what compelled you to that, may Allah have mercy on you.” He said, “I glanced at her anklet in the moon light (and was overpowered).” He said, “Now, do not approach her till you have done what Allah has commanded you to do.” [Abu Dawud 2221, Nisai 3457, Ibn e Majah 2065]

حسن، ابن ماجة (2065)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1199
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ١٧ (٢٢٢١، ٢٢٢٢) (مرسلا بدون ذکر ابن عباس و موصولا بذکرہ (برقم: ٢٢٢٣)، سنن النسائی/الطلاق ٣٣ (٣٤٨٧)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٦ (٢٠٦٥)، ( تحفة الأشراف: ٦٠٣٦) (صحیح)
1200Sunan At-Tirmidhi

کفارہ ظہار کے بارے میں

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْخَزَّازُ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أن سلمان بن صخر الأنصاري أحد بني بياضة، جعل امرأته عليه كظهر أمه، حتى يمضي رمضان، فلما مضى نصف من رمضان وقع عليها ليلا، فأتى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ: لَا أَجِدُهَا، قَالَ: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، قَالَ: لَا أَجِدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَرْوَةَ بْنِ عَمْرٍو: أَعْطِهِ ذَلِكَ الْعَرَقَ وَهُوَ مِكْتَلٌ يَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعًا، إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، يُقَالُ: سَلْمَانُ بْنُ صَخْرٍ، وَيُقَالُ: سَلَمَةُ بْنُ صَخْرٍ الْبَيَاضِيُّ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ، عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ.

ابوسلمہ اور محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان کا بیان ہے کہ سلمان بن صخر انصاری ؓ نے جو بنی بیاضہ کے ایک فرد ہیں اپنی بیوی کو اپنے اوپر مکمل ماہ رمضان تک اپنی ماں کی پشت کی طرح (حرام) قرار دے لیا۔ تو جب آدھا رمضان گزر گیا تو ایک رات وہ اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھے، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم ایک غلام آزاد کرو ، انہوں نے کہا: مجھے یہ میسر نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو ، انہوں نے کہا: میں اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو آپ نے فرمایا: ساٹھ مسکین کو کھانا کھلاؤ، انہوں نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا، تو آپ ﷺ نے فروۃ بن عمرو سے فرمایا: اسے یہ کھجوروں کا ٹوکرا دے دو تاکہ یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے ، «عرق» ایک پیمانہ ہے جس میں پندرہ صاع یا سولہ صاع غلہ آتا ہے۔

Sayyidina Abu Salamah (RA) and Muhammad ibn Abdur Rahman ibn Thawban narrated: A man of Banu Biyadah, Salman ibn Sakhr Ansari compared his wife to the back of his mother till the month of Ramadan ended. Barely had half the month passed when he had sexual intercourse with her in the night. He came to the Prophet ﷺ and mentioned those things to him. Allah’s Messenger —‘ said to him, Free a slave.” He said, “I cannot do that.” He said, ‘Then keep fast for two successive months.” He said, “I am unable to do that.” He said, “Then feed sixty poor people.” He said, “I cannot.” So, Allah’s Messenger said to Farwah ibn Amr, “Give him that hag. It contains fifteen or sixteen sa enough to feed sixty poor people.” [Ahmed 16421, Abu Dawud 2213, Ibn e Majah 2062] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2062)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1200
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- سلمان بن صخر کو سلمہ بن صخر بیاضی بھی کہا جاتا ہے۔ ٣- ظہار کے کفارے کے سلسلے میں اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١١٩٨) (صحیح)
1201Sunan At-Tirmidhi

ایلاء عورت کے پاس نہ جانے کی قسم کھانا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ الْبَصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ وَحَرَّمَ، فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلَالًا، وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ مَسْلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ، رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَغَيْرُهُ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَلَيْسَ فِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مَسْلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، وَالْإِيلَاءُ: هُوَ أَنْ يَحْلِفَ الرَّجُلُ أَنْ لَا يَقْرَبَ امْرَأَتَهُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ فَأَكْثَرَ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِيهِ إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ يُوقَفُ فَإِمَّا أَنْ يَفِيءَ، وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایلاء ١ ؎ کیا اور (ان سے صحبت کرنا اپنے اوپر) حرام کرلیا۔ پھر آپ نے حرام کو حلال کرلیا اور قسم کا کفارہ ادا کردیا۔

Sayyidah Ayshah (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ took an oath of continence from his wives and made them unlawful for him. Then he made the unlawful lawful and made an expiation for his oath. --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، الإرواء (2574)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1201
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- مسلمہ بن علقمہ کی حدیث کو جسے انہوں نے داود سے روایت کی ہے: علی بن مسہر وغیرہ نے بھی داود سے (روایت کی ہے مگر) داود نے شعبی سے مرسلاً روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایلاء کیا۔ اس میں مسروق اور عائشہ کے واسطے کا ذکر نہیں ہے، اور یہ مسلمہ بن علقمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس اور ابوموسیٰ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ایلاء یہ ہے کہ آدمی چار ماہ یا اس سے زیادہ دنوں تک اپنی بیوی کے قریب نہ جانے کی قسم کھالے، ٣- جب چار ماہ گزر جائیں تو اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب چار ماہ گزر جائیں تو اسے قاضی کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، یا تو رجوع کرلے یا طلاق دیدے۔ ٤- صحابہ کرام وغیرہم میں بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب چار ماہ گزر جائیں تو ایک طلاق بائن خودبخود پڑجاتی ہے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایلاء کے لغوی معنی قسم کھانے کے ہیں، اور شرع میں ایلاء یہ ہے کہ شوہر جو جماع کی طاقت رکھتا ہو اللہ کے نام کی یا اس کی صفات میں سے کسی صفت کی اس بات پر قسم کھائے کہ وہ اپنی بیوی کو چار ماہ سے زائد عرصہ تک کے لیے جدا رکھے گا، اور اس سے جماع نہیں کرے گا، اس تعریف کی روشنی سے نبی اکرم ﷺ کا یہ ایلاء لغوی اعتبار سے تھا اور مباح تھا کیونکہ آپ نے صرف ایک ماہ تک کے لیے ایلاء کیا تھا، اور اس ایلاء کا سبب یہ تھا کہ ازواج مطہرات نے آپ سے مزید نفقہ کا مطالبہ کیا تھا، ایلاء کرنے والا اگر اپنی قسم توڑ لے تو اس پر کفارہ یمین لازم ہوگا اور کفارہ یمین دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انہیں کپڑا پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، اگر ان تینوں میں سے کسی کی طاقت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٨ (٢٠٨٢) (تحفة الأشراف: ٧٦٢١) (ضعیف) (سند میں مسلمہ بن علقمہ صدوق تو ہیں مگر ان کا حافظہ کبھی خطا کرجاتا تھا، ان کے بالمقابل ” علی بن مسہر “ زیادہ یاد داشت والے ہیں اور ان کی روایت میں ارسال “ ہے جسے مؤلف نے بیان کردیا ہے)
1202Sunan At-Tirmidhi

لعان

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمَارَةِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ: فَقُمْتُ مَكَانِي إِلَى مَنْزِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَقِيلَ لِي: إِنَّهُ قَائِلٌ: فَسَمِعَ كَلَامِي، فَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ: ادْخُلْ مَا جَاءَ بِكَ إِلَّا حَاجَةٌ، قَالَ: فَدَخَلْتُ فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْدَعَةَ رَحْلٍ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ، كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ، قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَاتِ، الَّتِي فِي سُورَةِ النُّورِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ سورة النور آية 6، حَتَّى خَتَمَ الْآيَاتِ فَدَعَا الرَّجُلَ، فَتَلَا الْآيَاتِ عَلَيْهِ، وَوَعَظَهُ، وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ، أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، فَقَالَ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا، وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا، أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، فَقَالَتْ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا صَدَقَ، قَالَ: فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ: بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ: بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا، إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کے زمانہ امارت میں مجھ سے لعان ١ ؎ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کردی جائے؟ تو میں نہیں جان سکا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ چناچہ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر ؓ کے گھر آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، بتایا گیا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے میری بات سن لی، اور کہا: ابن جبیر! آ جاؤ تمہیں کوئی ضرورت ہی لے کر آئی ہوگی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پالان پر بچھائے جانے والے کمبل پر لیٹے ہیں۔ میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کردی جائے گی؟ کہا: سبحان اللہ! ہاں، سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا۔ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کو برائی کرتے دیکھے تو کیا کرے؟ اگر کچھ کہتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے، اور اگر خاموش رہتا ہے تو وہ سنگین معاملہ پر خاموش رہتا ہے۔ ابن عمر ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ خاموش رہے اور آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر جب کچھ دن گزرے تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس (دوبارہ ) آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے آپ سے جو مسئلہ پوچھا تھا میں اس میں خود مبتلا کردیا گیا ہوں۔ تب اللہ تعالیٰ نے سورة النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» یعنی جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت زنا لگاتے ہیں اور ان کے پاس خود اپنی ذات کے علاوہ کوئی گواہ نہیں ہیں (سورۃ النور: 6) ۔ یہاں تک کہ یہ آیتیں ختم کیں، پھر آپ نے اس آدمی کو بلایا اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں، اور اسے نصیحت کی اور اس کی تذکیر کی اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔ اس پر اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے اس پر جھوٹا الزام نہیں لگایا ہے۔ پھر آپ نے وہ آیتیں عورت کے سامنے دہرائیں، اس کو نصیحت کی، اور اس کی تذکیر کی اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔ اس پر اس عورت نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، وہ سچ نہیں بول رہا ہے۔ ابن عمر ؓ کہتے ہیں: آپ نے مرد سے ابتداء کی، اس نے اللہ کا نام لے کر چار مرتبہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ گواہی دی کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر دوبارہ آپ نے عورت سے یہی باتیں کہلوائیں، اس نے اللہ کا نام لے کر چار مرتبہ گواہی دی کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے، اور پانچویں مرتبہ اس نے گواہی دی کہ اگر اس کا شوہر سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں میں تفریق کردی۔

Sayyidina Saeed ibn jubayr narrated: During the times when Mus’ab ibn Zubayr was amir, I was asked about the couple who resorted to han, whether they should be separated. I did not know what I should say, so I got up and went to Abdullah ibn Umar (RA). When I sought permission at his house, I was told that he was having a nap. He heard my voice and called out. “Ibn Jubayr, enter. You cannot have come without a reason.” I went in and he was resting on a coarse sheet which is placed on camel saddle. I said, “O Abu Abdur Rahman! Are the husband and wife who resort to han separated?” He said, “Subhan Allah (glory be to Allah)! Yes. So-and-so son of so-and-so was the first to ask this question, saying, ‘O Messenger of Allah, if one of us were to see his wife commit indecency, what should he do? If he speaks then he speaks on a majur affair and if he keeps quiet then he maintains silence on a major affair’. The Prophet ﷺ kept quiet and did not answer him. The man came back after a while and said, ‘He who had asked you about it is confronted with that problem.’ So, Allah revealed the verse that is in surah an-Nur; And those who accuse their wives and there are no witnesses for them except themselves, the testimony of one of them shall be swearing by Allah four times that he is of the truthful. (24:6-9) The Prophet ﷺ thereafter, summoned that man and recited those words to him sermonised, reminded and advised him that the punishment in this world was lighter than the punishment in the hereafter. The man said ‘By Him Who has sent you with the truth I have not accused, her falsely. ‘Then the Prophetreiterated to the woman, sermonising, reminding and informing her that the punisment of the world is softer than the punishment of the hereafter. She said, ‘No, by Him Who has sent you with the Truth, he has not spoken the truth.’ The Prophet ﷺ then began with the man and he bore witnessIour (times) testimony by Allah that he was of the truthful, and the fifth (testimony) that Allah’s curse be on him if he was of the liars. Then he repeated (the procedure) with the woman and she bore witness four testimonies by Allah that he was of the liars and the fifth that Allah’s wrath be on her if he was of the truthful. Then, the Prophet ﷺ made the two separate from one another.” [Bukhari 2164, Muslim 1493, Nisai 3470] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (1955)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1202
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سہل بن سعد، ابن عباس، ابن مسعود اور حذیفہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لعان کا حکم آیت کریمہ «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» (النور: ٦)، میں ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ عدالت میں یا کسی حاکم مجاز کے سامنے پہلے مرد چار بار اللہ کا نام لے کر گواہی دے کہ میں سچا ہوں اور پانچویں بار کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو، اسی طرح عورت بھی اللہ کا نام لے کر چار بار گواہی دے کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اگر اس کا شوہر سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو، ایسا کہنے سے شوہر حد قذف ( زنا کی تہمت لگانے پر عائد سزا ) سے بچ جائے گا اور بیوی زنا کی سزا سے بچ جائے گی اور دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لیے جدائی ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٣)، سنن النسائی/الطلاق ٤١ (٣٥٠٣)، ( تحفة الأشراف: ٧٠٥٨)، مسند احمد (٢/١٢)، سنن الدارمی/النکاح ٣٩ (٢٢٧٥) (صحیح) وأحرجہ کل من: صحیح البخاری/الطلاق ٢٧ (٥٣٠٦)، و ٣٢ (٥٣١١)، و ٣٣ (٥٣١٢)، و ٣٤ (٥٣١٣، ٥٣١٤)، و ٣٥ (٥٣١٥)، و ٥٢ (٥٣٤٩)، و ٥٣ (٥٣٥٠)، والفرائض ١٧ (٦٧٤٨)، صحیح مسلم/اللعان (المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ الطلاق ٢٧ (٢٢٥٧، ٢٢٥٨، ٢٢٥٩)، سنن النسائی/الطلاق ٤٢ (٣٥٠٤)، و ٤٣ (٣٥٠٥)، و ٤٣ (٣٥٠٥)، و ٤٤ (٣٥٠٦)، و ٤٥ (٣٥٠٧)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٦)، موطا امام مالک/الطلاق ١٣ (٣٥)، من غیر ہذا الوجہ۔ وبسیاق آخر، انظر الحدیث الآتي۔
1203Sunan At-Tirmidhi

لعان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَاعَنَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ، وَفَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْأُمِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کے ساتھ لعان کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کردی اور لڑکے کو ماں کے ساتھ کردیا۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a man observed li’an against his wife. So, the Prophet ﷺ made them separate from one another and gave to their mother, right over children. [Bukhari 2026, Muslim 1494] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2069)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1203
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ٨٣٢٢) (صحیح)
1204Sunan At-Tirmidhi

شوہر فوت ہوجائے تو عورت عدت کہاں گزارے

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، أَنْبَأَنَا مَعْنٌ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ، وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ، أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، وَأَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ، أَبَقُوا حَتَّى إِذَا كَانَ بِطَرَفِ الْقَدُومِ، لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ. قَالَتْ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْ لِي مَسْكَنًا يَمْلِكُهُ، وَلَا نَفَقَةً، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ ، قَالَتْ: فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ، أَوْ فِي الْمَسْجِدِ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَمَرَ بِي فَنُودِيتُ لَهُ، فَقَالَ: كَيْفَ قُلْتِ ؟ قَالَتْ: فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ لَهُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي، قَالَ: امْكُثِي فِي بَيْتِكِ، حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ . قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَاتَّبَعَهُ، وَقَضَى بِهِ.

زینب بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان ؓ جو ابو سعید خدری کی بہن ہیں نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس بنی خدرہ میں واپس چلی جائیں (ہوا یہ تھا کہ) ان کے شوہر اپنے ان غلاموں کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے تھے جو بھاگ گئے تھے، جب وہ مقام قدوم کے کنارے پر ان سے ملے، تو ان غلاموں نے انہیں مار ڈالا۔ فریعہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں؟ کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے اپنی ملکیت کا نہ تو کوئی مکان چھوڑا ہے اور نہ کچھ خرچ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، چناچہ میں واپس جانے لگی یہاں تک کہ میں حجرہ شریفہ یا مسجد نبوی ہی میں ابھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے آواز دی۔ (یا آپ نے حکم دیا کہ مجھے آواز دی جائے) پھر آپ نے پوچھا: تم نے کیسے کہا؟ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں ذکر کیا تھا، آپ نے فرمایا: تم اپنے گھر ہی میں رہو یہاں تک کہ تمہاری عدت ختم ہوجائے ، چناچہ میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ پھر جب عثمان ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے بلوایا اور مجھ سے اس بارے میں پوچھا تو میں نے ان کو بتایا۔ چناچہ انہوں نے اس کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ محمد بن بشار کی سند سے بھی اس جیسی اسی مفہوم کی حدیث آئی ہے۔

Sad ibn lshaq ibn Ka’b ibn Ujrah reported from his paternal aunt Zaynab bint Kab ibn Ujrah that Sayyidah Fari’ah bint Maalik ibn Sinan the sister of Abu Sa’eed Khudri informed her: I went to Allah’s Messenger ﷺ and asked him whether I should return to my family, the Banu Khudrah. My husband went out to search for his slaves and when he was in the vicinity of Qudum, he found them but they killed him. So, I asked if may I return to my folk, for, my husband had not left for me any house, that he owned or sustenance. Allah’s Messenger ﷺ said, “Yes.” So I went back but while I was yet in the room or mosque, Allah’s Messenger ﷺ called me, or ordered someone and I was summoned to him. He asked me, ‘What did you say?” I repeated to him the account I had recounted to him concerning my husband. He said, “Reside in your home till the prescribed period reaches its term.” So, I spent my iddah in it for four months and ten days. When Uthman sent for me and asked me about it, I informed him and he abided by it and ruled according to it. [Ahmed 27155, Abu Dawud 2300, Nisai 3527, Ibn e Majah 2031] --------------------------------------------------------------------------------

1204Sunan At-Tirmidhi(1205)

شبہات کو ترک کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَدْرِي كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، أَمِنَ الْحَلَالِ هِيَ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ، فَمَنْ تَرَكَهَا اسْتِبْرَاءً لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، فَقَدْ سَلِمَ، وَمَنْ وَاقَعَ شَيْئًا مِنْهَا يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ، كَمَا أَنَّهُ مَنْ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ .

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور اس کے درمیان بہت سی چیزیں شبہ والی ہیں ١ ؎ جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں کہ یہ حلال کے قبیل سے ہیں یا حرام کے۔ تو جس نے اپنے دین کو پاک کرنے اور اپنی عزت بچانے کے لیے انہیں چھوڑے رکھا تو وہ مامون رہا اور جو ان میں سے کسی میں پڑگیا یعنی انہیں اختیار کرلیا تو قریب ہے کہ وہ حرام میں مبتلا ہوجائے، جیسے وہ شخص جو سرکاری چراگاہ کے قریب (اپنا جانور) چرا رہا ہو، قریب ہے کہ وہ اس میں واقع ہوجائے، جان لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں ۔

Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The lawful is clearly defined and the unlawful is clearly defined, but between them are matters that are doubtful. Many of the people cannot decide whether they are lawful or unlawful. So, he who avoids them to guard his religion and honour has indeed, taken the safe path. And he who falls into some of it nearly falls into the unlawful, just as a shepherd who grazes his animals on the borders of a sanctuary might take them to the other side. Know that every king has a sanctuary. And know that the sanctuary of Allah is that which he has declared unlawful. [Ahmed 18375, Bukhari 52, Muslim 1599, Abu Dawud 3329, Nisai 4463, Ibn e Majah 3986]

صحيح، ابن ماجة (3984)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1205
Notes · وضاحت
١ ؎: مشتبہات (شبہ والی چیزوں) سے مراد ایسے امور و معاملات ہیں جن کی حلت و حرمت سے اکثر لوگ ناواقف ہوتے ہیں، تقویٰ یہ ہے کہ انہیں اختیار کرنے سے انسان گریز کرے، اور جو شخص حلت و حرمت کی پرواہ کئے بغیر ان میں ملوث ہوگیا تو سمجھ لو وہ حرام میں مبتلا ہوگیا، اس میں تجارت اور کاروبار کرنے والوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے کہ وہ صرف ایسے طریقے اختیار کریں جو واضح طور پر حلال ہوں اور مشتبہ امور و معاملات سے اجتناب کریں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٩ (٥٢)، والبیوع ٢ (٢٠٥١)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٠ (البیوع ٤٠)، (١٥٩٩)، سنن ابی داود/ البیوع ٣ (٣٣٢٩)، سنن النسائی/البیوع ٢ (٤٤٥٨)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٤ (٢٩٨٤)، (تحفة الأشراف: ١١٦٢٤)، مسند احمد (٤/٢٦٧، ٢٦٩، ٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٥)، سنن الدارمی/البیوع ١ (٢٥٧٣) (صحیح)
1206Sunan At-Tirmidhi

سود کھانا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے، سود دینے والے، اس کے دونوں گواہوں اور اس کے لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ cursed the receiver of interest, its payer, the witnesses (to the deal) and the scribe who writes it down. [Ahmed 3737, Abu Dawud 3333, Ibn e Majah 2777] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1206
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبداللہ بن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، علی، جابر اور ابوجحیفہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے سود کی حرمت سے شدت ظاہر ہوتی ہے کہ سود لینے اور دینے والوں کے علاوہ گواہوں اور معاہدہ لکھنے والوں پر بھی لعنت بھیجی گئی ہے، حالانکہ مؤخرالذ کر دونوں حضرات کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، لیکن صرف یک گو نہ تعاون کی وجہ سے ہی ان کو بھی ملعون قرار دے دیا گیا، گویا سودی معاملے میں کسی قسم کا تعاون بھی لعنت اور غضب الٰہی کا باعث ہے کیونکہ سود کی بنیاد خود غرضی، دوسروں کے استحصال اور ظلم پر قائم ہوتی ہے اور اسلام ایسا معاشرہ تعمیر کرنا چاہتا ہے جس کی بنیاد بھائی چارہ، اخوت ہمدردی، ایثار اور قربانی پر ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٤ (٣٣٣٣)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٨ (٢٢٧٧)، (تحفة الأشراف: ٩٣٥٦)، مسند احمد (١/٣٩٩٣، ٤٠٢) (صحیح )