عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا جو کسی مرد یا کسی عورت کی دبر میں صحبت کرے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Allah will not look at a man who has intercourse with a man, or a woman through the anus”.
حسن، المشکاة (3195)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1165
میمونہ بنت سعد ؓ کہ جو نبی اکرم ﷺ کی خادمہ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہوگا ۔
Sayyidah Maymunah bint Sa’dL(RA) the maid-servant of the Prophet ﷺ said that Allah’s Messenger ﷺ said, “The example of the woman who struts and swags with adornment before others than her husband is like darkness on the Day of Resurrection with no ray of light for her”. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، الضعيفة (1800) // ضعيف الجامع الصغير (5236) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1167
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، وہ صدوق ہیں، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے۔ ٣- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٨٠٨٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” موسیٰ بن عبیدہ “ ضعیف ہیں)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کو غیرت آتی ہے اور مومن کو بھی غیرت آتی ہے، اللہ کی غیرت اس پر ہے کہ مومن کوئی ایسا کام کرے جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Allah has modesty and the Believer also has modesty. Allah’s modesty arises when the Believer perpetrates what is forbidden to him”. [Ahmed 9038, Bukhari 2143, Muslim 2761]
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اور یہ حدیث یحییٰ بن ابی کثیر (اس طریق سے بھی) سے مروی ہے «عن أبي سلمة عن عروة عن أسماء بنت أبي بکر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں، ٣- حجاج صواف ہی حجاج بن ابی عثمان ہیں۔ ابوعثمان کا نام میسرہ ہے اور حجاج کی کنیت ابوصلت ہے۔ یحییٰ بن سعید نے ان کی توثیق کی ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ وہ تین دن ١ ؎ یا اس سے زائد کا سفر کرے اور اس کے ساتھ اس کا باپ یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم نہ ہو ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day that she travel (alone) on a journey of three days except that she is accompanied by her father, her brother, her husband, her son or a mahram (besides them). [Ahmed 41515, Muslim 1340, Abu Dawud 17, Ibn e Majah 2898]
صحيح، ابن ماجة (2898)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1169
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: عورت ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر کسی محرم کے بغیر نہ کرے۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ عورت کے لیے درست نہیں سمجھتے کہ محرم کے بغیر سفر کرے۔ اہل علم کا اس عورت کے بارے میں اختلاف ہے کہ جو حج کی استطاعت رکھتی ہو لیکن اس کا کوئی محرم نہ ہو تو وہ حج کرے یا نہیں؟ بعض اہل علم کہتے ہیں: اس پر حج نہیں ہے، اس لیے کہ محرم بھی اللہ تعالیٰ کے ارشاد «من استطاع إليه سبيلا» میں استطاعت سبیل میں داخل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اس کا کوئی محرم نہ ہو تو وہ استطاعت سبیل نہیں رکھتی۔ یہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب راستہ مامون ہو، تو وہ لوگوں کے ساتھ حج میں جاسکتی ہے۔ یہی مالک اور شافعی کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں تین دن کا ذکر ہے، بعض روایتوں میں دو اور بعض میں ایک دن کا ذکر ہے، اس لیے علماء نے لکھا ہے کہ ایک یا دو یا تین دن کا اعتبار نہیں اصل اعتبار سفر کا ہے کہ اتنی مسافت ہو جس کو سفر کہا جاسکے اس میں تنہا عورت کے لیے سفر کرنا جائز نہیں۔ ٢ ؎: محرم سے مراد شوہر کے علاوہ عورت کے وہ قریبی رشتہ دار ہیں جن سے اس کا کبھی نکاح نہیں ہوسکتا، جیسے باپ، بیٹا، بھائی، بھتیجا اور بھانجا اور اسی طرح رضاعی باپ، بیٹا، بھائی، بھتیجا اور بھانجا ہیں، داماد بھی انہیں میں ہے، ان میں سے کسی کے ساتھ بھی اس کا سفر کرنا جائز ہے، ان کے علاوہ کسی کے ساتھ سفر پر نہیں جاسکتی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٤ (١٣٤٠)، سنن ابی داود/ المناسک ٢ (١٧٢٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢ (١٧٢٣)، مسند احمد (٢/٣٤٠، ٤٩٣) (تحفة الأشراف: ١٤٣١٦)، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٦ (٢٧٢٠) (صحیح) وأخرجہ: صحیح البخاری/فضل الصلاة في مسجد مکة والمدینة ٦ (١١٩٧)، وجزاء الصید ٢٦ (١٨٦٤)، والصوم ٦٧ (١٩٩٥)، من غیر ہذا الوجہ وبلفظ ” سفر یومین “
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی عورت ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے ۔
Savyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A woman must not undertake a journey of a day and night without a mahram accompanying her. [Ahmed 7418, 9636, 81088, Muslim 1339, Abu Dawud 1723, Ibn e Majah 2899]
صحيح، ابن ماجة (2899)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1170
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج (١٣٣٩)، سنن ابی داود/ المناسک ٢ (١٧٢٣)، مسند احمد (٢/٣٤٠، ( تحفة الأشراف: ١٤٣١٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٤ (١٠٨٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧ (٢٨٩٩)، موطا امام مالک/الاستئذان ١٤ (٣٧)، مسند احمد ٢/٢٣٦، ٣٤٧، ٤٢٣، ٤٤٥) من غیر ہذا الوجہ۔
عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں کے پاس خلوت (تنہائی) میں آنے سے بچو ، اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! دیور (شوہر کے بھائی) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: دیور موت ہے ۔
Sayyidina Uqbah ibn Aamir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, Refrain from visiting women’. A man of the Ansar asked, “O Messenger of Allah, what do you say about hamu?” He said, “The hamu are death”. [Ahmed 17352, Muslim 2172]
صحيح غاية المرام (181)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1171
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عقبہ بن عامر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، جابر اور عمرو بن العاص ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- عورتوں کے پاس خلوت (تنہائی) میں آنے کی حرمت کا مطلب وہی ہے جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت (تنہائی) میں ہوتا ہے تو اس کا تیسرا شیطان ہوتا ہے ، ٤- «حمو» شوہر کے بھائی یعنی دیور کو کہتے ہیں، گویا آپ نے دیور کے بھاوج کے ساتھ تنہائی میں ہونے کو حرام قرار دیا ہے۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ ایسی عورتوں کے گھروں میں داخل نہ ہو، جن کے شوہر گھروں پر نہ ہوں، اس لیے کہ شیطان تم میں سے ہر ایک کے اندر ایسے ہی دوڑتا ہے جیسے خون جسم میں دوڑتا ہے ، ہم نے عرض کیا: آپ کے بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں میرے بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد کی ہے، اس لیے میں (اس کے شر سے) محفوظ رہتا ہوں ۔
Sayyidina Jabir reported that the Prophet ﷺ said, “Do not visit women whose husbands are not at home, for, the devil circulates in each of you as blood circulates. They asked, And in you, too? He said, “In me, too, but Allah has helped me over him, so that I am safe. [Ahmed 14329]
صحيح - الطرف الأول يشهد له ما قبله وسائره فی الصحيح -، ابن ماجة (1779)، تخريج فقه السيرة (6)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1172
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ بعض لوگوں نے مجالد بن سعید کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے، ٢- سفیان بن عیینہ نبی اکرم ﷺ کے قول «ولکن اللہ اعانني عليه فاسلم» لیکن اللہ نے میری مدد کی ہے اس لیے میں محفوظ رہتا ہوں کی تشریح میں کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ میں اس شیطان سے محفوظ رہتا ہوں ، نہ یہ کہ وہ اسلام لے آیا ہے (کیونکہ) : شیطان مسلمان نہیں ہوتا، ٣- «ولاتلجوا علی المغيبات» میں «مغیبة» سے مراد وہ عورت ہے، جس کا شوہر موجود نہ ہو، «مغيبات»، «مغيبة» کی جمع ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٣٤٩) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” مجالد بن سعید “ کے اندر کچھ کلام ہے، صحیح سنن ابی داود ١١٣٣، ١١٣٤، تخریج فقہ السیرة ٦٥)
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت (سراپا) پردہ ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ahdullah reported the Prophet ﷺ as saying, “A woman must observe the veil because when she comes out, the devil seeks an opportunity to tempt her.
صحيح، المشکاة (3109)، الإرواء (273)، التعليق علی ابن خزيمة (1685)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1173
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد المؤلف بہذا الشق بہذا السند، وأخرج أبوداود الصلاة (٥٤/٥٧٠) بہذا السند الشق الأول، لہذا الحدیث فقط ” صلاة المرأة في بیتہا…الخ ( تحفة الأشراف: ٩٥٢٩) (صحیح)
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو عورت بھی اپنے شوہر کو دنیا میں تکلیف پہنچاتی ہے تو (جنت کی) بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: تو اسے تکلیف نہ دے۔ اللہ تجھے ہلاک کرے، یہ تو ویسے بھی تیرے پاس بس مسافر ہے، قریب ہے کہ یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے ۔
Sayyidina Mu’adh ibn Jabal (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “When a wife hurts her husband in this world, his wife in Paradise, from among the hural-ayn says “Do not hurt him. May Allah destroy you! He is only an alien with you and will soon separate from you to come to us”. [Ibn e Majah 2014, Ahmed 22162] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2014)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1174
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٢- اسماعیل بن عیاش کی روایتیں جنہیں انہوں نے اہل شام سے روایت کی ہیں بہتر ہے، لیکن اہل حجاز اور اہل عراق سے ان کی روایتیں منکر ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٦٢ (٢٠٤١)، ( تحفة الأشراف: ١١٣٥٦) (صحیح)
طلق بن علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ہو تو انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو پہچانتے ہو؟ انہوں نے بھی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی، عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے رجوع کرلیں ، یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا یہ طلاق شمار کی جائے گی؟ کہا: تو اور کیا ہوگی؟ (یعنی کیوں نہیں شمار کی جائے گی) ، بھلا بتاؤ اگر وہ عاجز ہوجاتا یا دیوانہ ہوجاتا تو واقع ہوتی یا نہیں؟ ١ ؎۔
Yunus ibn Jabayr said that he asked Ibn Umar (RA) about a man who divorced this wife while she was menstruating. He asked him, “Do you know Abdullah ibn Umar? He had divorced his wife while she was menstruating. So Umar asked the Prophet ﷺ (about it) and he commanded him to (revoke and) take her back. Umar asked him if (the pronouncement of) the divorce would be counted and the Prophet ﷺ said: Quiet! What, if he were helpless and mad (would that not have been reckoned)?’ [Bukhari 5252, Muslim 1741, Abu Dawud 2183, Nisai 3399, Ibn e Majah 2022]
صحيح، ابن ماجة (2022)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1175
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب رجعت سے عاجز ہوجانے یا دیوانہ و پاگل ہوجانے کی صورت میں یہ طلاق شمار کی جائے گی تو رجعت کے بعد بھی ضرور شمار کی جائے گی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجائے گی کیونکہ اگر وہ واقع نہ ہو تو آپ کا «مره فليراجعها» کہنا بےمعنی ہوگا، جمہور کا یہی مسلک ہے کہ اگرچہ حیض کی حالت میں طلاق دینا حرام ہے لیکن اس سے طلاق واقع ہوجائے گی اور اس سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا، لیکن ظاہر یہ کا مذہب ہے کہ طلاق نہیں ہوتی، ابن القیم نے زادالمعاد میں اس پر لمبی بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوگی، ابوداؤد کی ایک روایت ( رقم: ٢١٨٥) کے الفاظ ہیں «لم يرها شيئاً»، محتاط یہی ہے کہ طلاق کے ضمن میں حالت حیض میں ظاہر یہ کے مسلک کو اختیار کیا جائے تاکہ طلاق کھیل نہ بن جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٢ (٥٢٥٢)، و ٤٥ (٥٣٣٣)، صحیح مسلم/الطلاق ١ (١٤٧١)، سنن ابی داود/ الطلاق ٤ (٢١٨٣، ٢١٨٤)، سنن النسائی/الطلاق ١ (٣٤١٨)، و ٧٦ (٣٥٨٥)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢ (٢١٠٩)، ( تحفة الأشراف: ٨٥٧٣)، مسند احمد (٢/٤٣، ٥١، ٧٩) (صحیح) و أخرجہ کل من: صحیح البخاری/تفسیر سورة الطلاق ١ (٤٩٠٨)، والطلاق ١ (٥٢٥١)، و ٤٤ (٥٣٣٢)، والأحکام ١٣ (٧١٦٠)، صحیح مسلم/الطلاق (المصدر المذکور) سنن ابی داود/ الطلاق ٤ (٢١٧٩-٢١٨٢)، موطا امام مالک/الطلاق ٢١ (٥٣)، سنن الدارمی/الطلاق ١ (٢٣٠٨)، من غیر ہذا الوجہ۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، ان کے والد عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرلے، پھر طہر یا حمل کی حالت میں طلاق دے ۔
Saalim reported from his father that he (the father) divorced his wife while she was menstruating. So, Sayyidina Umar (RA) asked he Prophet ﷺ about it. He said, “Command him to take her back, afterwards divorce her when she has purified, or is pregnant.”
صحيح، ابن ماجة (2023)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1176
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یونس بن جبیر کی حدیث جسے وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں، حسن صحیح ہے۔ اور اسی طرح سالم بن عبداللہ کی بھی جسے وہ ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں، ٢- یہ حدیث کئی اور طرق سے بھی ابن عمر ؓ سے مروی ہے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ طلاق سنّی یہ ہے کہ آدمی طہر کی حالت میں جماع کیے بغیر طلاق دے، ٤- بعض کہتے ہیں کہ اگر اس نے طہر کی حالت میں تین طلاقیں دیں، تو یہ بھی طلاق سنّی ہوگی۔ یہ شافعی اور احمد بن حنبل کا قول ہے، ٥- اور بعض کہتے ہیں کہ تین طلاق طلاق سنی نہیں ہوگی، سوائے اس کے کہ وہ ایک ایک طلاق الگ الگ کر کے دے۔ یہ سفیان ثوری اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٦- اور یہ لوگ حاملہ کے طلاق کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اسے جب چاہے طلاق دے سکتا ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٧- اور بعض کہتے ہیں: اسے بھی وہ ہر ماہ ایک طلاق دے گا۔
رکانہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتّہ) دی ہے۔ آپ نے فرمایا: تم نے اس سے کیا مراد لی تھی؟ ، میں نے عرض کیا: ایک طلاق مراد لی تھی، آپ نے پوچھا: اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے فرمایا: تو یہ اتنی ہی ہے جتنی کا تم نے ارادہ کیا تھا ۔
Abdullah ibn Yazid ibn Rukanah reported on the authority of his father from his grandfather that he said that he went to the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah! ﷺ I have divorced my wife (the divorce) albattah.” He asked. “What did you intend by that?” He said, ‘One pronouncement.” He asked, “By Allah?” He answered, “(Yes), by Allah!” So, the Prophet ﷺ said, “And that is as you had intended.” (only one is reckoned). [Abu Dawud 2208, Ibn e Majah 2051]
ضعيف، ابن ماجة (2051) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (444)، ضعيف أبي داود (479 / 2206)، الإرواء (2063) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1177
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں اضطراب ہے، عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں، ٣- اہل علم صحابہ کرام وغیرہم میں سے عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے طلاق بتہ کو ایک طلاق قرار دی ہے، ٤- اور علی ؓ سے مروی ہے انہوں نے اسے تین طلاق قرار دی ہے، ٥- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں آدمی کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ اگر اس نے ایک کی نیت کی ہے تو ایک ہوگی اور اگر تین کی کی ہے تو تین ہوگی۔ اور اگر اس نے دو کی نیت کی ہے تو صرف ایک شمار ہوگی۔ یہی ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے، ٦- مالک بن انس قطعی طلاق (بتّہ) کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر عورت ایسی ہے کہ اس کے ساتھ دخول ہوچکا ہے تو طلاق بتّہ تین طلاق شمار ہوگی، ٧- شافعی کہتے ہیں: اگر اس نے ایک کی نیت کی ہے تو ایک ہوگی اور اسے رجعت کا اختیار ہوگا۔ اگر دو کی نیت کی ہے تو دو ہوگی اور اگر تین کی نیت کی ہے تو تین شمار ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ١٤ (٢٢٠٨)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٩ (٢٠٥١) سنن الدارمی/الطلاق ٨ (٢٣١٨)، ( تحفة الأشراف: ٣٦١٣) (ضعیف) (سند میں زبیر بن سعید اور عبد اللہ بن علی ضعیف ہیں، اور علی بن یزید بن رکانہ مجہول ہیں، نیز بروایتِ ترمذی بقول امام بخاری: اس حدیث میں سخت اضطراب ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے: الارواء (رقم ٢٠٦٣)
حماد بن زید کا بیان ہے کہ میں نے ایوب (سختیانی) سے پوچھا: کیا آپ حسن بصری کے علاوہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں، جس نے «أمرک بيدك» کے سلسلہ میں کہا ہو کہ یہ تین طلاق ہے؟ انہوں نے کہا: حسن بصری کے۔ علاوہ مجھے کسی اور کا علم نہیں، پھر انہوں نے کہا: اللہ! معاف فرمائے۔ ہاں وہ روایت ہے جو مجھ سے قتادہ نے بسند «كثير مولی بني سمرة عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ آپ نے فرمایا: یہ تین طلاقیں ہیں ۔ ایوب کہتے ہیں: پھر میں کثیر مولی بنی سمرہ سے ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا مگر وہ اسے نہیں جان سکے۔ پھر میں قتادہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا: وہ بھول گئے ہیں۔
Ali ibn Nasr ibn Ali reported on the authority of Sulyman ibn Harb on the authority of Hammad ibn Zayd that he said to Ayyub, “Do you know of anyone besides Hasan who said that a man’s saying to his wife, ‘Your affairs are in your hands’ implied three pronouncements of divorce?’ He said, “None, except Hasan.” Then he said, “O Allah, forgive! Only that Qatadah narrated to me from Kathir, the freedman of Banu Samurah, from Abu Salamah, from Abu Hurayrah from the Prophet ﷺ that he said that three divorces were (thus) effective.” So Ayyub said further, “1 met Kathir, the freedman of Banu Samurah and asked him but he did not know it, so I returned to Qatadah and informed him of it, and he said that (Kathir) had forgotten.’ [Abu Dawud 2204, Nisai 3407]
ضعيف، لكنه عن الحسن قوله: صحيح، ضعيف أبي داود (379)، صحيح أبي داود (1914)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1178
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف سلیمان بن حرب ہی کی روایت سے جانتے ہیں انہوں نے اسے حماد بن زید سے روایت کیا ہے، ٣- میں نے اس حدیث کے بارے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا انہوں نے اسے حماد بن زید سے روایت کیا ہے اور یہ ابوہریرہ سے موقوفاً مروی ہے، اور وہ ابوہریرہ کی حدیث کو مرفوع نہیں جان سکے، ٤- اہل علم کا «أمرک بيدك» کے سلسلے میں اختلاف ہے، بعض صحابہ کرام وغیرہم جن میں عمر بن خطاب، عبداللہ بن مسعود ؓ بھی ہیں کہتے ہیں کہ یہ ایک (طلاق) ہوگی۔ اور یہی تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے کئی اہل علم کا بھی قول ہے، ٥- عثمان بن عفان اور زید بن ثابت کہتے ہیں کہ فیصلہ وہ ہوگا جو عورت کہے گی، ٦- ابن عمر ؓ کہتے ہیں: جب شوہر کہے کہ اس کا معاملہ اس (عورت) کے ہاتھ میں ہے ، اور عورت خود سے تین طلاق قرار دے لے۔ اور شوہر انکار کرے اور کہے: میں نے صرف ایک طلاق کے سلسلہ میں کہا تھا کہ اس کا معاملہ اس کے ہاتھ میں ہے تو شوہر سے قسم لی جائے گی اور شوہر کا قول اس کی قسم کے ساتھ معتبر ہوگا، ٧- سفیان اور اہل کوفہ عمر اور عبداللہ بن مسعود ؓ کے قول کی طرف گئے ہیں، ٨- اور مالک بن انس کا کہنا ہے کہ فیصلہ وہ ہوگا جو عورت کہے گی، یہی احمد کا بھی قول ہے، ٩- اور رہے اسحاق بن راہویہ تو وہ ابن عمر ؓ کے قول کی طرف گئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ١٣ (٢٢٠٤)، سنن النسائی/الطلاق ١١ (٣٤٣٩) (ضعیف) (سند میں کثیر لین الحدیث ہیں مگر حسن کا قول صحیح ہے، جس کی روایت ابوداود (برقم ٢٢٠٥) نے بھی کی ہے)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا (چاہیں تو ہم آپ کے نکاح میں رہیں اور چاہیں تو نہ رہیں) ہم نے آپ کو اختیار کیا۔ کیا یہ طلاق مانی گئی تھی؟ ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA)said, “Allah’s Messenger ﷺ gave us option (to divorce or stay with him). So we chose (to stay with) him, Is that then a divorce?” [Ahmed 25761, Bukhari 5263, Muslim 1477, Nisai 3200] --------------------------------------------------------------------------------
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ مجھے میرے شوہر نے نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں تین طلاقیں دیں ١ ؎ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں نہ «سکنی» (رہائش) ملے گا اور نہ «نفقہ» (اخراجات) ۔ مغیرہ کہتے ہیں: پھر میں نے اس کا ذکر ابراہیم نخعی سے کیا، تو انہوں نے کہا کہ عمر ؓ کا کہنا ہے کہ ہم ایک عورت کے کہنے سے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو ترک نہیں کرسکتے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اسے یہ بات یاد بھی ہے یا بھول گئی۔
Shahi reported that Sayyidah Fatimah bint Qays (RA) said that her husband divorced her with three pronouncements in the times of the Prophet ﷺ Allah’s Messenger said, “No shelter and no provision for you.” Mughirah said that he mentioned this hadith to Ibrahim who reported that Sayyidina Umar (RA) said, “We cannot give up the Book ul Allah and the sunnah of our Prophet ﷺ for the word of a woman of whom we do not know whether she remembers or has forgotten.” Hence, Sayyidina Umar used to place upon the husband responsibility for shelter and provision during the iddah of the divorced woman. Sha’hi narrated I visited Fatimah bint Qays and asked her about the judgement of Allah’s Messenger ﷺ in her case. She said, “My husband divorced me the divorce al-battah. So I wrangled with him for shelter and provision, but the Prophet ﷺ did not get me these thing.” In the hadith of Dawud, she is also quoted as saying, “He commanded me to pass my iddah at the house of Ibn Umm Maktum.” [Ahmed 27415, Muslim 1480. Abu Dawud 2288, Nisai 3400, Ibn e Majah 2024] --------------------------------------------------------------------------------
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابن آدم کے لیے ایسی چیز میں نذر نہیں جس کا وہ اختیار نہ رکھتا ہو، اور نہ اسے ایسے شخص کو آزاد کرنے کا اختیار ہے جس کا وہ مالک نہ ہو، اور نہ اسے ایسی عورت کو طلاق دینے کا حق حاصل ہے جس کا وہ مالک نہ ہو ۔
Amr ibn Shu’ayb reported from his father, from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “The son of Aadam may make no vow about what he does not possess, and he need not set free what he does not possess, and he may not divorce what he does not possess. [Ahmed 7009, Abu Dawud 2190, Ibn e Majah 2047] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، ابن ماجة (2047)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1181
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، معاذ بن جبل، جابر، ابن عباس اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور یہ سب سے بہتر حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے، ٣- یہی صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا قول ہے۔ اور علی بن ابی طالب، ابن عباس، جابر بن عبداللہ، سعید بن المسیب، حسن، سعید بن جبیر، علی بن حسین، شریح، جابر بن زید ؓ، اور فقہاء تابعین میں سے بھی کئی لوگوں سے یہی مروی ہے۔ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے، ٤- اور ابن مسعود سے مروی ہے انہوں نے منصوبہ ١ ؎ کے سلسلہ میں کہا ہے کہ طلاق ہوجائے گی، ٥- اور اہل علم میں سے ابراہیم نخعی اور شعبی وغیرہ سے مروی ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب وہ کسی وقت کی تحدید کرے ٢ ؎ تو طلاق واقع ہوجائے گی۔ اور یہی سفیان ثوری اور مالک بن انس کا بھی قول ہے کہ جب اس نے کسی متعین عورت کا نام لیا، یا کسی وقت کی تحدید کی یا یوں کہا: اگر میں نے فلاں محلے کی عورت سے شادی کی تو اسے طلاق ہے۔ تو اگر اس نے شادی کرلی تو اسے طلاق واقع ہوجائے گی، ٦- البتہ ابن مبارک نے اس باب میں شدت سے کام لیا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو میں یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ اس پر حرام ہوگی، ٧- اور احمد کہتے ہیں: اگر اس نے شادی کی تو میں اسے یہ حکم نہیں دوں گا کہ وہ اپنی بیوی سے علاحدگی اختیار کرلے، ٨- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میں ابن مسعود کی حدیث کی رو سے منسوبہ عورت سے نکاح کی اجازت دیتا ہوں، اگر اس نے اس سے شادی کرلی، تو میں یہ نہیں کہتا کہ اس کی عورت اس پر حرام ہوگی۔ اور غیر منسوبہ عورت کے سلسلے میں اسحاق بن راہویہ نے وسعت دی ہے، ٩- اور عبداللہ بن مبارک سے منقول ہے کہ ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جس نے طلاق کی قسم کھائی ہو کہ وہ شادی نہیں کرے گا، پھر اسے سمجھ میں آیا کہ وہ شادی کرلے۔ تو کیا اس کے لیے رخصت ہے کہ ان فقہاء کا قول اختیار کرے جنہوں نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے؟ تو عبداللہ بن مبارک نے کہا: اگر وہ اس معاملے میں پڑنے سے پہلے ان کے رخصت کے قول کو درست سمجھتا ہو تو اس کے لیے ان کے قول پر عمل درست ہے اور اگر وہ پہلے اس قول سے مطمئن نہ رہا ہو، اب آزمائش میں پڑجانے پر ان کے قول پر عمل کرنا چاہے تو میں اس کے لیے ایسا کرنا درست نہیں سمجھتا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض نسخوں میں منصوبہ سین سے ہے یعنی «منسوبہ»، اور یہی صحیح ہے اس سے مراد وہ عورت ہے جو کسی قبیلے یا شہر کی طرف منسوب ہو یا «منصوبہ» سے مراد متعین عورت ہے۔ مثلاً کوئی خاص عورت جس سے ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی ہے یہ کہے کہ اگر میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو اس کو طلاق تو نکاح کے بعد اس پر طلاق پڑجائے گی، حالانکہ فی الوقت یہ طلاق اس کی ملکیت میں نہیں ہے۔ ٢ ؎: مثلاً یوں کہے «إن نکحت اليوم أو غداً» اگر میں نے آج نکاح کیا یا کل نکاح کروں گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٧ (٢٠٤٧) (تحفة الأشراف: ٨٧٢١)، مسند احمد (٢/١٩٠) (حسن صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الطلاق ٧ (٢١٩٠)، سنن النسائی/البیوع ٦٠ (٤٦١٦)، مسند احمد (٢/١٨٩) من غیر ہذا الوجہ۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو ہی طلاق ہے اور اس کی عدت دو حیض ہے ۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, The divorce of a slave woman is to pronounce it twice and her iddah is two (monthly) courses.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (2080) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (452)، ضعيف أبي داود (475 / 2189)، المشکاة (3289)، الإرواء (2066)، ضعيف الجامع الصغير (3650) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1182
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے مظاہر بن اسلم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور مظاہر بن اسلم کی اس کے علاوہ کوئی اور روایت میرے علم میں نہیں، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے خیالات کو جو دل میں آتے ہیں معاف فرما دیا ہے جب تک کہ وہ انہیں زبان سے ادا نہ کرے، یا ان پر عمل نہ کرے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ‘ said, “Allah disregards from my ummah the thoughts that come to their minds as long as they do not speaks them out or act thereon.” [Ahmed 9503, Bukhari 5269, Muslim 127, Abu Dawud 2209, Nisai 3433, Ibn e Majah 2040] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2040)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1183
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب اپنے دل میں طلاق کا خیال کرلے تو کچھ نہیں ہوگا، جب تک کہ وہ منہ سے نہ کہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور گزرنے والے وسوسے مواخذہ کے قابل گرفت نہیں، مثلاً کسی کے دل میں کسی لڑکی سے شادی یا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا خیال آئے تو محض دل میں خیال آنے سے یہ باتیں واقع نہیں ہوں گی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے کرنا بھی سنجیدگی ہے اور ہنسی مذاق میں کرنا بھی سنجیدگی ہے نکاح، طلاق اور رجعت ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, Three things take place when done seriously, but they also take place when done in jest. They are marriage, divorce and taking back a wife (after revoking divorce).” [Abu Dawud 2194, Ibn e Majah 2039]
حسن، ابن ماجة (2039)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1184
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٣- عبدالرحمٰن، حبیب بن اردک مدنی کے بیٹے ہیں اور ابن ماہک میرے نزدیک یوسف بن ماہک ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سنجیدگی اور ہنسی مذاق دونوں صورتوں میں ان کا اعتبار ہوگا۔ اور اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ ہنسی مذاق میں طلاق دینے والے کی طلاق جب وہ صراحت کے ساتھ لفظ طلاق کہہ کر طلاق دے تو وہ واقع ہوجائے گی اور اس کا یہ کہنا کہ میں نے بطور کھلواڑ مذاق میں ایسا کہا تھا اس کے لیے کچھ بھی مفید نہ ہوگا کیونکہ اگر اس کی یہ بات مان لی جائے تو احکام شریعت معطل ہو کر رہ جائیں گے اور ہر طلاق دینے والا یا نکاح کرنے والا یہ کہہ کر کہ میں نے ہنسی مذاق میں یہ کہا تھا اپنا دامن بچا لے گا، اس طرح اس سلسلے کے احکام معطل ہو کر رہ جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ٩ (٢١٩٤)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٣ (٢٠٣٩)، ( تحفة الأشراف: ١٤٨٥٤) (حسن) (آثار صحابہ سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ عبدالرحمن بن اردک ضعیف ہیں)
ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں خلع لیا تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا (یا انہیں حکم دیا گیا) کہ وہ ایک حیض عدت گزاریں۔
Sayydah Rubayyi bint Muawwiz ibn Afra (RA) reported that she sought dissolution of her marriage in the times of the Prophet ﷺ So, the Prophet ﷺ commanded her to observe iddah till she got her menses once. [Nisai 3495, Ibn e Majah 2058]
صحيح، ابن ماجة (2058)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1185
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ربیع کی حدیث کہ انہیں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا گیا صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔