جس وقت شراب کی حرمت نازل ہوئی تو کس قسم کی شراب بہائی گئی
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا عَلَى عُمُومَتِي إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْحُرِّمَتِ الْخَمْرُ، وَأَنَا قَائِمٌ عَلَيْهِمْ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ، فَقَالُوا: اكْفَأْهَا فَكَفَأْتُهَا، فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هُوَ، قَالَ: الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: كَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے قبیلے میں چچا لوگوں کے پاس کھڑا ہوا تھا، میں عمر میں ان سب سے چھوٹا تھا، اتنے میں ایک شخص نے آ کر کہا: شراب حرام کردی گئی، میں (اس وقت) کھڑے ہو کر لوگوں کو فضیخ شراب ١ ؎ پلا رہا تھا، لوگوں نے کہا: اسے الٹ دو، میں نے اسے الٹ دیا۔ (سلیمان کہتے ہیں) میں نے انس ؓ سے پوچھا: یہ شراب کس چیز کی تھی؟ کہا: گدر (ادھ کچی) اور سوکھی کھجور کی، ابوبکر بن انس نے کہا: اس وقت یہی ان کی شراب ہوتی تھی، اس پر انس ؓ نے انکار نہیں کیا ٢ ؎۔
Anas bin Malik (RA) said: "While I was taking care of a group of people, including my paternal uncles, and I was the youngest of them, a man came and said: Khamr has been forbidden. I was taking care of them, and was pouring Fadikh (date-wine) for them. They said: Pour it away. So I poured it away." I (the narrator) said to Anas: "What is that? He said: "Unripe dates and dried dates." Abu Bakr bin Anas said: "That was their wine in those days. And Anas did not deny that.