زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
وَأَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْأَيْمَنَ، قَالَ: لَمْ يَقْطَعِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّارِقَ إِلَّا فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ، وَثَمَنُ الْمِجَنِّ يَوْمَئِذٍ دِينَارٌ.
ایمن کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا مگر ایسی چیز میں جو ڈھال کی قیمت کے برابر ہو اور اس وقت ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی۔
It was narrated that Ayman said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) did not cut off the (hand of) the thief except for the value of a shield, and the value of a shield in those days was a Dinar." (Daif)
منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4943
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٤٩)، وأعادہ بالأرقام التالیة: ٤٩٤٧-٤٩٥٢ (منکر) (اس کے راوی ” ایمن “ صحابی نہیں ہیں، ایک مجہول تابعی ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف اور صحیح حدیث کی مخالف بھی ہے، اس لیے منکر ہے )