زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمْ تُقْطَعْ يَدُ سَارِقٍ فِي أَدْنَى مِنْ حَجَفَةٍ أَوْ تُرْسٍ وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذُو ثَمَنٍ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ حجفہ یا ترس یعنی ڈھال سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ان میں سے ہر ایک چیز قیمت والی ہے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The hand of the thief should not be cut off for anything less than a Hajafah or a Turs (two kinds of shields)," each of which was worth a (decent) price.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4941
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ١٤ (٦٧٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٧٠) (صحیح )