Sunan An Nasai 4891

چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ

4891Sunan An Nasai

کونسی چیز محفوظ ہے اور کونسی غیر محفوظ (جسے چرانے پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاسکتا)

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ امْرَأَةً مَخْزُومِيَّةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ، فَتَجْحَدُهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت لوگوں کا سامان مانگ لیتی تھی، پھر مکر جاتی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, that a Makhzumi woman used to borrow things then deny that she had borrowed them, so the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) ordered that her hand be cut off.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4887
Notes · وضاحت
١ ؎: عاریت ( روزمرہ برتے جانے والے سامانوں کی منگنی ) کے انکار کردینے پر نبی اکرم ﷺ نے مخزومیہ عورت کا ہاتھ کاٹ دیا، اس سے بعض علماء عاریت کے انکار کو بھی چوری مانتے ہیں۔ ( اس حدیث کی بعض روایات کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس فعل کو چوری سے تعبیر فرمایا ) اور بعض علماء کہتے ہیں کہ عاریت کے انکار پر آپ نے اس لیے ہاتھ کاٹا کہ ایسا نہ ہو کہ عاریت دینے کا چلن ہی سماج اور معاشرے سے ختم ہوجائے تو لوگ پریشانی میں مبتلا ہوجائیں۔ بہرحال عاریت کے انکار پر ہاتھ کاٹنا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ١٥ (٤٣٩٥)، (تحفة الأشراف: ٧٥٤٩) مسند احمد (٢/١٥١) (صحیح )