Sunan An Nasai 4680

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4680Sunan An Nasai

ایک شخص ایک شے خریدے پھر اس کی قیمت دینے سے قبل مفلس ہوجائے اور وہ چیز اسی طرح موجود ہو اس سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا امْرِئٍ أَفْلَسَ ثُمَّ وَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَهُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا، فَهُوَ أَوْلَى بِهِ مِنْ غَيْرِهِ.

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص (سامان خریدنے کے بعد) مفلس ہوگیا، پھر بیچنے والے کو اس کے پاس اپنا مال بعینہ ملا تو دوسروں کی بہ نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If a person becomes bankrupt, then a man finds the goods that he sold to him with him, he has more right to them than anyone else.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4676
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث کی روشنی میں علماء نے کچھ شرائط کے ساتھ ایسے شخص کو اپنے سامان کا زیادہ حقدار ٹھہرایا ہے جو یہ سامان کسی ایسے شخص کے پاس بعینہٖ پائے جس کا دیوالیہ ہوگیا ہو، وہ شرائط یہ ہیں :( الف ) سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو۔ ( ب ) پایا جانے والا سامان اس کے قرض کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہو۔ ( ج ) سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی نہ لیا گیا ہو۔ ( د ) کوئی ایسی رکاوٹ حائل نہ ہو جس سے وہ سامان لوٹایا ہی نہ جاسکے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستقراض ١٤ (٢٤٠٢)، صحیح مسلم/المساقاة ٥ (البیوع ٢٦) (١٥٥٩)، سنن ابی داود/البیوع ٧٦(٣٥١٩، ٣٥٢٠)، سنن الترمذی/البیوع ٢٦ (١٢٦٢)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٦ (٤٣٥٨، ٢٣٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦١)، موطا امام مالک/البیوع ٤٢ (٨٨)، مسند احمد (٢/٢٢٨، ٢٤٧، ٢٤٩، ٢٥٨، ٤١٠، ٤٦٨، ٤٧٤، ٥٠٨)، سنن الدارمی/البیوع ٥١ (٢٦٣٢) (صحیح )