نجش کی ممانعت
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ النَّجْشِ.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade artificially inflating prices.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4505
Notes · وضاحت
١ ؎: نجش: ایک چیز کا خریدنا مقصود نہ ہو لیکن دوسرے کو ٹھگانے کے لیے قیمت بڑھا دینا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیل ٦ (٦٩٦٣)، صحیح مسلم/البیوع ٤ (١٥١٦)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٤ (٢١٧٣)، (تحفة الأشراف: ٨٣٤٨)، موطا امام مالک/البیوع ٤٥ (٩٧)، مسند احمد (٢/٧، ٦٣، ٩١، ١٥٦)، سنن الدارمی/البیوع ٣٣ (٢٦٠٩) (صحیح )