قافلہ سے آگے جا کر ملاقات کرنے کی ممانعت سے متعلق
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ؟، قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارٌ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی آگے جا کر تجارتی قافلے سے ملے، اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے، (راوی طاؤس کہتے ہیں:) میں نے ابن عباس سے کہا: اس قول کوئی شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: یعنی شہری دلال نہ بنے۔
It was narrate from Ibn Tawus, from his father, that Ibn Abbas said; "The Messenger of Allah ﷺ forbade meeting the riders, and for a town-dweller." I said to Ibn Abbas: "What does a town-dweller (selling) for a desert-dweller mean?" he said: "He should not act as a broker for him.