کن باتوں کی وجہ سے مسلمان کا خون حلال ہوجاتا ہے؟
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا عَمَّارُ، أَمَا إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ، لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ مَا أُحْصِنَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: عمار! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے تین صورت کے: جان کے بدلے جان، یا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو، اور پھر انہوں نے آگے (یہی) حدیث بیان کی۔
It was narrated that Amr bin Ghalib said: "Aishah said: O Ammar! Do you not know that it is not permissible to shed the blood of a Muslim except in three cases: a life for a life, a man who commits adultery after being married.